اقبال مجید کی افسانہ نگاری کا تخلیقی تجزیہ،مضمون نگار: ریاض توحیدی کشمیری

January 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

’’تخلیقی عمل کی طرح تخلیقی مطالعہ بھی ہوتا ہے۔‘‘
(آرڈبلیو ایمرسن)
تخلیقی کام جتنا معیاری ہوگا اتنا ہی اس کا تجزیہ تخلیقی نوعیت کا ہونا چاہیے کیونکہ ایک ناقد تخلیقی تجزیے کے دوران تخلیق کے فنی و موضوعاتی اسرار و رموز کی توضیح کرتے ا ور جائزہ لیتے ہوئے اپنی فکر ودانش، تجربہ و مشاہدہ اور معلومات کو بھی شامل کردیتا ہے تاکہ اس تخلیق کی فنی و معنوی جہات کی روشن کرنیں جگمگا اٹھیں، اور اقبال مجید جیسے تخلیقی فنکار (Creative Artist)کی معیاری تخلیقات ،تخلیقی تجزیے کا علمی و فنی تقاضا کرتی ہیں۔ اقبال مجید (جولائی – 1934 جنوری2019) طویل عرصے تک جہانِ فکشن کو اپنی تخلیقات سے نوازتے رہے اور اس طویل تخلیقی دورانیے (Creative space) میں، ان کے جتنے بھی افسانے سامنے آئے ان میں کہیں بھی موضوع کو دہرانے کا عمل نظر نہیں آتا ہے بلکہ انھوں نے ہمیشہ اپنی تخلیقات میں تخلیقی و فکری اور موضوعاتی گہرائی و گیرائی (Depth and hold)کو تازہ رکھا جس کی وجہ سے ،ترقی پسند فکر کا حامل ہونے کے باوجود ان کی فکشن نگاری میں موضوعاتی یکسانیت دکھائی نہیں دیتی ہے یا کئی لوگوں کی طرح فقط لفظوں کی کھوکھلی بیساکھی کے سہارے آگے نہیں بڑھے، بقول حسن شکیل مظہری ؎
نہ جذبوں میں کوئی شدت نہ گیرائی نہ گہرائی
فقط لفظوں کی بیساکھی پہ ہے ساری شناسائی
تخلیقی جوہر کی یہی خوبی اقبال مجید کو کسی مخصوص ادبی یا سیاسی نظریے کے اندر محدود نہیں رکھتی ہے بلکہ وہ ایک حقیقی تخلیق کار کی حیثیت سے ادبی افق پر چھائے ہوئے ہیں۔اقبال مجید کی تخلیقی بصیرت کا احاطہ کرتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی رقمطراز ہیں:
’’۔۔۔اقبال مجید کی مجموعی بصیرت جس میں ان کی فنی استعداد بھی شامل ہے ہمیں خاص طور پر متوجہ کرتی ہے اور اپنے ہم عصروں میں وہ ہمیں اس لیے بھی ممتاز دکھائی دیتے ہیں کہ ایک تو ان کی تخلیقی سرگرمی پچھلے چند برسوں میں پہلے سے بڑھی ہوئی ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے تخلیقی ضبط میں بھی اضافہ ہواہے۔وہ اب کہانی کو پھیلانے سے زیادہ اس کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے تجزیے کی مفصل تشریح سے زیادہ اس کی تخلیقی تعبیر پر توجہ صرف کرتے ہیں۔‘‘
(بحوالہ کتاب ’اقبال مجید کی ادبی کائنات: مرتبہ راشدہ حیات، ص 98)
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابتدا میں اقبال مجید کے افسانوں کا پلاٹ توضیحی نوعیت کا تھایعنی وہ موضوع کو پیش کرتے ہوئے اس کو اس طرح کھولتے رہتے تھے کہ فنی چابکدستی ڈھیلی پڑ جاتی تھی تاہم رفتہ رفتہ ان کا تخلیقی اپروچ بدلتا گیا۔ انھوں نے توضیحی اسلوب کے بجائے فنی اسلوب کی طرف رخ کرلیا۔ بقول شمیم حنفی ’تخلیقی تعبیر پر توجہ‘ دیتے رہے۔اقبال مجید کے افسانوی نشیب وفراز کی یہ مثالیں ان کے درجہ ذیل افسانوی مجموعوں میں دیکھی جاسکتی ہیں:
’دو بھیگے ہوئے لوگ‘ (1970)، ’ایک حلفیہ بیان‘ (1980)، شہربدنصیب‘ (1970)، ’تماشا گھر‘(2003)، ’آگ کے پاس بیٹھی عورت‘ (2010)، ’قصۂ رنگ شکستہ۔۔۔ منتخب افسانے‘ (2011)، ’خاموش مکالمہ‘ (2017)۔
فکشن میں زیادہ تر خارجی مشاہدے کو داخلی جذبے کا حصہ بناکر تخلیق کرنا پڑتا ہے تو ہی ایک تخلیقی فن پارہ وجود میں آتا ہے،بجائے اس کے کہ اگر صرف خارجی مشاہدے کو من وعن تھوڑا بہت واقعاتی رنگ میں رنگ کر پیش کیا جائے تو اس میں افسانوی فسوں (Fiction Enchantment) زائل ہی ہوجائے گا۔ فکشن میں فسوں آمیز کیفیت تخلیقی شعور سے پیدا ہوجاتی ہے اور اقبال مجید کا بالیدہ تخلیقی شعور فکشن میں فسوں آمیز کیفیت پیدا کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے کیونکہ ان کے بیشتر افسانوں کی یہ فسوں آمیز کیفیت ہی ان کے فنی معیار کو بلندی عطا کرنے میں کلیدی رول نبھاتی ہے اور انھیں اردو کے معتبر فکشن نگاروں میں شامل کردیتی ہے ،جیسا کہ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی، ان کے افسانوں میں تخلیقی شعور کی بالیدگی کو سراہتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ان کے فکشن میںخارجی دنیا کا شعور ان کے تخلیقی شعور پر حاوی نہیں ،بلکہ وہ خارجی دنیا کو اپنے تخلیقی شعور کے ہی ذریعے سے پرکھتے اور پہچانتے ہیں۔‘‘
یہ تخلیقی شعور کی بلندی اور فنی و تکنیکی تجربہ کاری، اقبال مجید کے کئی افسانوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جیسے ’دو بھیگے ہوئے لوگ‘، ’سرنگیں‘، ’کھنڈر قندیلیں ‘اور ’خاموشی‘، ’میراث، ’پیٹ کاکیچوا‘، ’آخری پتہ‘، ’ملک یاقوت کا نوحہ‘، ’آگ کے پاس بیٹھی عورت‘، ’حکایت ایک نیزی کی‘، ’شہرِ بدنصیب‘، ’نقد بھکتان‘، ’سڑی ہوئی مٹھائی ’پیشاب گھر آگے ہے‘، ’ہائی وے پہ ایک درخت‘، ’جنگل کٹ رہے ہیں‘، ’آخری پتہ‘،’تماشہ گھر‘وغیرہ۔
اقبال مجید کا افسانوی سفر ترقی پسند افسانہ اور جدیدیت کے علامتی و تجریدی ہنگامہ خیزدور میں شروع ہوااور دونوں کے اثرات قبول کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے افسانوں میں فن اور موضوع کو افسانوی اسلوب میں ہی پیش کیا نہ کہ جدید بننے کی رواروی میں فن کو ہی نظرانداز کردیا۔ البتہ اطلاعاتی اسلوب (Informative style) یعنی خبریہ انداز کے برعکس فنی لوازمات کا خیال رکھتے ہوئے علامتی واستعاراتی اسلوب کے ساتھ ساتھ رمز و کنایہ کو بھی استعمال میں لائے جس سے ان کے افسانوں کاافسانوی رنگ برقرار رہا ہے۔ افسانہ’دو بھیگے ہوئے لوگ‘ کی شروعات بظاہر اچانک ہونے والی برسات سے ہوتی ہے اور جب افسانے کے دو کردار ’میں‘ اور ’وہ‘ بارش سے بچنے کے لیے سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی چھت کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اس دوران دونوں کے درمیان تھوڑا بہت مکالمہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک افسانہ بظاہر راست بیانیہ میں موسم کی اچانک خرابی، بارش کے برسنے سے دونوں کرداروں کی الجھن اور چھت کے نیچے بیٹھ کر بارش رکنے کا انتظار وغیرہ منظر اور بارش سے بھیگنے کے ذہنی تناؤ کا ماجرہ ہی سامنے آتا ہے لیکن یہ سب صورت حال اس وقت علامتی اور رمزیہ صورت اختیار کرجاتی ہے جب یہ دونوں دوبارہ چائے کی ایک دکان پر ملتے ہیں اور پھر دونوں کی گفتگو افسانے کے تھیم اور بنیادی پیغام کو سامنے لاتی ہے۔ مرکزی کردار پہلے اس کردار پر بارش کے باوجود چھت سے اس کے ساتھ نہ نکلنے پر طنز کرتا ہوا ’کاہل،کوڑھ مغز ،پست ہمت اور مردہ کہتا ہے جب کہ خود کوجدید دور کا آدمی ثابت کرتے ہوئے ’کاوش‘ ’Exploration،اور تلاش کا رسیا ظاہر کرتا ہے۔دوسرا آدمی اس کی باتیں سن کر مسکراتا رہتا ہے لیکن یہ خود غصے کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ بالآخر افسانہ تکنیکی سطح پر اس وقت پہلے والے موضوعاتی منظرکو ایک جھٹکے میں بدل دیتا ہے جب پہلا کردار کافی ہاوس(جدید تہذیب)کے برعکس روایتی قسم کی سرخ انگاروں والی بھٹی (قدیم تہذیب) کے نزدیک اپنے بھیگے کپڑے سکھانے کے لیے فرحت محسوس کرتا ہے اور دوسرا کردار بھی وہاں آتاہے اور مکالمہ شروع ہوجاتا ہے۔ پہلاکردار جب اسے کپڑے بھیگنے کے ڈر سے چھت سے باہر نہ آنے پر طنز کرتا ہے تو دوسرا کردار سب کچھ سننے کے باوجود صبر سے کام لیتا ہے اور دونوں کے درمیان مکالمہ شروع ہوجاتا ہے جو افسانے کے بنیادی مقصد کو سامنے لاتا ہے:
’’آپ کے پاس جوتے ،قمیص ،ریزگاری کے علاوہ کوئی چیز نہیں لیکن میرے پاس ہے،آپ کے لیے اگر جوتے، قمیص، پتلون اور ریزگاری بھی بھیگ جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن میں جوتے اورکپڑوں کے بھیگ جانے پر بھی اس چیز کو بچانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کس چیز کو؟‘‘ میں طیش میں آکر چیخ پڑا۔
’’وہی چیز جو میرے پاس ہے، آپ کے پاس نہیں۔‘‘
یہی جواب پہلے کردار کو حیران کردیتا ہے کیونکہ دوسرے کردار کے پاس تہذیب و تمدن، انسانیت واخوت، اپنائیت اور ہمدردی و محبت کا روایتی سرمایہ موجود ہوتا ہے جو وہ جدید دور کی چکاچوند زندگی پر فریفتہ ہوکر گنوانا نہیں چاہتا تھا جبکہ پہلا کردار سب کچھ گنوا کر بس زندگی جینے کے بجائے زندگی کاٹ رہا تھا اس طرح افسانہ زندگی کے فطری سرمایے اور جدید دور کے مصنوعی ماحول کو سبق آموز پیغام کے ساتھ اجاگر کرتا ہے۔ افسانے کے بظاہر دوکردار ہونے کے باوجود جیسے یہ ایک ہی انسان کے دوروپ نظرآتے ہیں، جو قدیم اور جدید زندگی کی رساکشی کا اشاریہ بن جاتا ہے اور تکنیکی طور پر ایک ہی کردار کی فکر کے دوہرے احساسات (Dual feelings) کوفنی قالب میں ڈھالا گیا ہے۔
فکشن کی کئی اقسام ہیں جن میں ہارر فکشن بھی شامل ہے جو کہ’Speculative’ fiction کے زمرے میں آتا ہے۔ ہارر فکشن میں ایک ایسی کہانی پیش کی جاتی ہے جس میں خوف انگیز ماحول خلق کیا جاتا ہے جو کہ عموماً مافوق الفطرت مخلوق(Supernatural Beings) جیسے بھوت پریت، جنات وغیرہ کرداروں پرمشتمل ہوتی ہے۔روایتی ادب میں ہارر فکشن زیادہ تر لوک کہانیوں(Folk tales) یا داستانوں کا حصہ رہا ہے، تاہم فکشن میں بھی یہ رائج ہوکر ادب کا حصہ بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہارر فکشن میں جنگوں کی خوفناک صورت حال کے دل دہلانے والے مناظر بھی پیش کیے جاتے ہیں۔انگریزی فکشن کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ہارر فکشن لکھا گیا ہے۔ اقبال مجید کا ایک افسانہ ’کھنڈر، قندیلیں اور خاموشی‘ ہارر فکشن کی اچھی عکاسی کرتا ہے کیونکہ نیم داستانی اسلوب کا حامل یہ افسانہ اپنی پرُاسرار فضابندی میں خوف انگیز ماحول تشکیل دینے میں کامیاب نظرآتا ہے اور ابتدائی حصے میں سرائے کے تصوراتی ہارر اور پھر ایک پہاڑی قبیلے کے لوگوں کے ساتھ فوج اور دوسری ایجنسیوں کے دہشت ناک برتاؤ کے خوف کا دوسرا منظر سامنے لاتا ہے۔ابتدائی توہم آمیز خوف کی عکاسی افسانے کے شروعات میں اس طرح سے ہوئی ہے:
’’عجیب پُراسرار اور بھید بھرا علاقہ تھا وہ۔ایک طرف پہاڑیاں اور دوسری جانب گھناطویل جنگل۔
پہاڑوں کی وادی میں کچھ تاریخی اجڑے ہوئے خاندانوں کے تقریباََ ایک ہزار گھروں کی ایک عجیب وغریب بستی تھی۔‘‘
تو ابتدا ہارر تکنیک سے شروع ہوجاتی ہے اور راوی بصورت صیغہ واحد مرکزی کردارکاتقرر اس دور افتادہ پہاڑی علاقے کے ایک خیراتی اسپتال میں بطور سرجن ہوا تھا۔اسپتال کے پچھواڑے کے کچھ فاصلے پر ایک کھنڈرتھاجوکہ کسی زمانے میں ایک سرائے تھی اور پرانے زمانے کے عملداروں یا راجاؤں نے بنوائی تھی۔اس طرح ابتدا میں ہی افسانہ نگار فنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،ہارر فکشن کے لیے جس قسم کی پلاٹ سازی اور اسلوب کی ضرورت ہوتی ہے ، کو برتنے میں شعوری طور پر کامیاب نظرآتا ہے کیونکہ یہی اسلوب قاری کو افسانہ پڑھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔افسانہ نگار خود بھی اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے آگے کے قصے کے بیان کے لیے تجسس آمیز اشارہ کرتا ہے کہ ’’اس کے بعد جو کچھ ہوا اور جس کی حیرت خیزی میں، میں گلے گلے ڈوبتا گیا، چاہتا ہوں کہ اس کا بیان بھی کچھ ایسے انداز میں ہو کہ اس حیرت خیزی کا رنگ نہ دھندلانے پائے۔‘‘
افسانے کا ایک اور کردار کمپاونڈر طغرل خان بیگ بھی راوی کو کھنڈر کے اندر کسی خفیہ تہہ خانے سے متعلق مطلع کرتا ہے اور ایک دفعہ راوی کو بھی کھنڈر کی جانب عجیب وغریب آہٹیں محسوس ہوتی ہیں اور کھنڈر کے آخری کنارے پر اونچے قد والے چند سیاہ سائے کچھ پلوں کے لیے متحرک ہوکر اندھیروں میں سمائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس طرح راوی فکری طور پر اس پُراسرار کھنڈر کی حیرت زا صورت حال سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ افسانے میںطغرل خان بیگ کے علاوہ ایک خاتون کردار’جوجو‘ بھی ہے جو نصف افسانے کی کہانی میں اہم رول نبھاتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے قبائلی لوگوں پر ہورہے مظالم اور استحصال کی کہانی سامنے آتی ہے۔ جبکہ طغرل خان بیگ افسانے میں اکثر راوی یعنی مرکزی کردار اول کو کھنڈر،بستی اور لوگوں کے بارے میں اس طرح سے بتاتا رہتا ہے کہ راوی کے خوف وڈراور وہم میں اضافہ ہی ہوجاتا ہے۔خوف و ڈر اور وہم کی اسی نفسیاتی کیفیت کے دوران ایک بار راوی کوایک رات ایسے محسوس ہوتا ہے جس کا اظہار افسانے میں اس طرح سے کیا گیاہے :
’’میں بے چین نیند سویا،مجھے لگاکوارٹر کی دیواروں میں کچھ موٹی موٹی جنگلی بلیاں اپنی خوانخوار آنکھوںکی ہیبت ناک مشعلیں جلائے دبے دبے بے آواز قدموں سے چل رہی ہیں اور جلتی ہوئی مقناطیسی آنکھوں کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کراور گردن موڑ موڑ کرباربار میری خوابگاہ کو یوں گھور رہی ہیں جیسے اپنے شکار کو گھورتی ہیں۔‘‘
لیکن یہ افسانہ نگار کا وہم ہوتا ہے جوکہ اس علاقے میں پہنچنے کے بعدوہاں کی مجموعی حیرت انگیز صورت حال کا نفسیاتی نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد افسانہ اصلی خوف ناک صورت حال کی طرف مڑجاتا ہے جوکہ راوی یعنی سرجن کو رفتہ رفتہ خود بھی پتہ چلتا ہے اور خصوصی طور پر دوسرے کردار ’جوجو‘ کی مایوسی اور پھر بعد میں جب وہ صحافی بن جاتی ہے، سے بیس سال بعد ملنے سے واضح ہوجاتی ہے۔انجام میں افسانہ نگار نے ایک اخلاقی پیغام دیا ہے جو کہ ’جوجو‘ کی گرفتاری کے بعد راوی سے نہ ملنے کے فیصلے سے سامنے آتا ہے۔ سرجن جب اسے جیل میں ملنے کے لیے جاتا ہے تو وہ وکیل کے ذریعے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کرتی ہے کہ’’ وہ قبروں میں سوئے ہوئے گونگے لوگوں سے نہیں زندہ لوگوں سے مل سکتی ہے جنھیں محسوس کرنا اور بولنا آتا ہو۔‘‘
’’جوجو‘ اصل میں اسی قبیلے کی ایک جرأت مند عورت ہوتی ہے جو عملی طور پر ظلم سہتی رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے قبیلے پر ہورہے ظلم وستم کو ایک صحافی بن کر دنیا کے سامنے لاتی ہے۔ اس طرح سے افسانہ نفسیاتی و سماجی خوف کی عمدہ عکاسی کرکے قاری کو متاثر کرنے میں کامیاب نظرآتا ہے۔
افسانہ’دو بھیگے ہوئے لوگ‘ کے کردار کے دوہرے احساسات کی طرح افسانہ ’پیٹ کا کیچوا‘ بھی فکری سطح پر ایک ہی کردارکے دوروپ سامنے لارہا ہے،جو کہ ذات کے داخلی اور خارجی تصادم(Inter and outer clash) کی فنی عکاسی کرتا ہے اور بیانیہ میں تمثیلی اسلوب(Allegoric style) کے توسط سے کہانی کو موثر بنایا گیا ہے۔ فکری سطح پرافسانے کا بنیادی قضیہ ذات کا داخلی و خارجی تصادم ہے جس کاموضوعاتی محرک مادیت اور روحانیت کی کشمکش ہے۔ مادیت بصورت عقلیت پسندی(Rationalism) مرد (شوہر) کے کردار سے ظاہر کردی گئی ہے اور روحانیت بصورت مذہب پرستی (Religionism) عورت (بیوی) کی کردار نگاری سے سامنے آتی ہے۔ مرد فکری سطح پر مذہب بیزار ہوتا ہے جبکہ عورت دین پسند ہوتی ہے لیکن مرد کے اندر عقلیت اور مذہبیت کا فکری تصادم اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جب ان کے فوت شدہ بیٹے کی تکفین و تدفین ،جو کہ دینی احکامات کے مطابق ہی انجام دینا ضروری بن جاتاہے۔،کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔
افسانے کا عنوان’پیٹ کا کیچوا‘ موضوع کے ساتھ عمدہ ربط رکھتاہے۔ کیچوا(Earthworm) ایک ایسا کیڑا جو عام طور پر برسات میں زمین کی نمی میں پیدا ہوجاتا ہے ،کشمیری میں اسے ’بوم سیم ، کہتے ہیں۔ تاہم کیچوا کا ایک اور معنی پیٹ کے اندر کا وہ کیڑا ہے جو معدے کی خرابی کے باعث بنتاہے اور یہ مٹی کے کیچوے کی طرح ہوتا ہے۔اسے کرم شکم (Helminthic)بھی کہا جاتا ہے۔ اب افسانے میں پیٹ کے کیچوے کی جو تخلیقی صورت سامنے لائی گئی ہے وہ ایک ملحد(Athiest) کے فکری کیچوے کی عکاسی کرتی ہے جو ہمیشہ عقل کے گھوڑے دوڑاتارہتا ہے اور دنیا کی زندگی کوایک میکنیکل پروسس سمجھتا ہے جس کی وجہ سے وہ دین و مذہب اور خدا و عقیدے کو ماننے سے انکار کرتا رہتا ہے۔جیسے وہ ایک دفعہ بیوی سے کہتا ہے جب وہ اماں کو برا لگنے کی بات کہتی ہے:
’’ ان سے کہہ دو کہ میں خدا کو نہیں مانتا،میں مذہب کو ایک غیر ضروری چیز سمجھتا ہوں۔‘‘
یا یہ جملہ:
’’ پرواہ نہیں۔‘‘ میں بولا’’ میں نے تم سے شادی کی ہے تمہارے عقیدے سے نہیں۔‘‘
شوہر سنی ہوتا ہے اور بیوی شیعہ،لیکن افسانے میں شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں بلکہ شوہر ملحدانہ فکر کا حامل ہوتا ہے۔ اب اس کی مشکل یہ بن جاتی ہے جب وہ اپنے علاقے سے دور کسی اور جگہ ہوتاہے اور اس کا سات برس کا بیٹا ’راجہ‘ مرجاتا ہے۔اب اس کی بیوی بچے کی تجہیز و تکفین مذہبی طور طریقوں سے انجام دینا چاہتی ہے جبکہ اس کا شوہر مادیت پرستانہ سوچ کے مطابق کفن دفن کے اخراجات کا حساب کرتا رہتا ہے۔ افسانے کی بنیادی تھیم ،ایسے نازک موقعے پر مرکزی کردارملحد شوہرکا فکری تصادم ہے جو اس کی بے بسی اور عقل اور عقیدے کے مابین رسا کشی کو فنی ڈسکورس بنارہا ہے۔ اور پیٹ کا کیچوا اس کی ذات کا وہ دوسرا کردار ہے جو اس کی ملحدانہ سوچ و فکر پر طنز کے تیر چلاتا رہتا ہے۔ کردار جب پڑوس کے گھروں سے مایوس ہوکر لوٹتا ہے تو افسانہ اس کا منظر یہ کھینچتاہے :
’’میں مردہ قدموں سے اپنے کمرے میں اندھیرے میں جاکر پھر بیٹھ گیا۔اس کا میرا بڑا پرانا ساتھ تھا۔ وہ میری کمزوریوں کو خوب جانتا تھا، لیکن اس بار وہ ہمیشہ سے زیادہ حربے استعمال کررہا تھا۔میری آنتوں میں رینگتے ہوئے بولا:
’’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندگی ہو یا موت، پیسے کے علاوہ بھی کچھ ہونا چاہیے۔‘‘
’’کیا مطلب۔‘‘ میں نے مری سی آواز سے پوچھا۔
’’مطلب یہ‘‘ اس کا لہجہ اداس تھا،’’ کہ تمھارے پاس دوسو روپے موجود ہیں، لیکن پھر بھی تم بے بس ہو، لوگوں کے گھروں کی کنڈیاںکھٹکھٹاتے پھر رہے ہو۔‘‘
’’دیکھو میں بہت پست ہوگیا ہوں‘‘ میں نے خوشامد کی۔‘‘ خدا کے لیے مجھ پر یوں تیر نہ چلاؤ۔‘‘
راجہ کی لاش اپنے عقیدے کے مطابق دفنائی جاتی ہے ،جس سے اسے تھوڑی بہت راحت محسوس ہوتی ہے لیکن پیٹ کا کیچوا اس کی فکری گمراہی پر پھر بھی کچوکے لگاتا رہتا ہے اور بالآخر اپنی فکری گمراہی پر اسے افسوس ہوہی جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ’’ میں اسے بڑی مشکل سے کہہ سکا ،میں ایک صحت مند انسان کب ہوں۔‘‘
ذاتی طور پر مجھے افسانہ’پیٹ کا کیچوا‘ فنی اور تکنیکی تجربے کے علاوہ پلاٹ سازی میں عمدہ موضوعاتی برتاؤ کے پیش نظرافسانہ’دوبھیگے ہوئے لوگ‘ سے زیادہ معیاری لگا۔ کیونکہ اس کے پلاٹ میں گہرائی، کردارنگاری میں سنجیدہ پن اور موضوع کا منطقی و فنی ربط ایسی فنی صنعت گری کا مظہر ہے کہ دلچسپ اور قابل بحث مکالمے کی راہ ہموار کرتا ہے اور ایک معنی خیز کہانی سامنے لاتا ہے۔جزئیات نگاری بھی کمال کی ہے اور افسانوی رنگ بھی واضح جھلکتا ہے۔
افسانے میں اگر داستانی رنگ وآہنگ شامل ہوجائے تو اس کا افسانوی رنگ نکھرجاتا ہے۔ اقبال مجید کے چند افسانوں میں یہ داستانی رنگ و آہنگ بھی نظرآتا ہے جس کی وجہ سے یہ افسانے اپنا افسانوی رنگ دکھانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ان میں افسانہ ’شہر بدنصیب‘ بھی شامل ہے۔ ابتدا میں افسانہ واقعاتی اسلوب سے شروع ہوا ہے یعنی جب راوی ایک رات اس کے گھر کی کھڑکی کھلی رہنے کے بعد ایک مشہور تاریخی یا داستانی کردار’حاتم طائی‘ کو کھڑکی سے اندر آنے کے بعد صوفے پر بیٹھتا دیکھتا ہے۔ حاتم طائی،جو کہ عرب کے قبیلہ طائی کا ایک مشہور و معروف سخی گزرا ہے جو کہ اب اپنی سخاوت کی وجہ سے تاریخی اور داستانی کردار بن چکا ہے۔جب راوی اسے دیکھتا ہے تو معلوم ہونے پر وہ حیرت و انبساط سے سرشار ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد افسانہ پہلے مکالمہ نگاری سے شروع ہوجاتا ہے اور جب حاتم طائی اپنی پیاس بجھانے کے لیے اس سے بادام کا شربت مانگتا ہے تو راوی کو غصہ آتا ہے اور یہ دیکھ کر حاتم اور راوی کے درمیان غصے پر مکالمہ ہوجاتاہے :
’’غصہ آرہا ہے تو آپ کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔‘‘ وہ بڑے اطمینان سے بولا۔
’’خدا کا شکر کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ بڑے بدقسمت ہوتے ہیں وہ لوگ اور قومیں جنھیں غصہ نہیں آتا۔‘‘
اس کے بعد افسانہ آگے بڑھتا ہے اور پھر داستانی اسلوب اختیار کرجاتا ہے جس میں حاتم کی زبان سے غصہ نہ کرنے کی کہانی اور اس کے منفی اثرات کی کہانی ’شہر بدنصیب‘ کے واقعہ سے پیش کی جاتی ہے جہاں پر اتنا اخلاقی انحطاط(Moral Decadence) پھیلا ہوا تھا کہ لوگ کسی بھی سماجی و اخلاقی برائی پر غصہ نہیں ہوتے تھے اور پھاٹک کا داروغہ حاتم طائی کے غصے سے اتنا خوش ہوجاتا کہ وہ اسے مہمان بناتا ہے۔ دونوں کے درمیان مکالمہ دیکھیں:
’’ اے مرد خدا یہ کیا راز ہے ؟ پہلے تو تُو نے مجھے گالیاں دیں اور پھر محبت کے ساتھ میرا استقبال کیا۔‘‘
داروغہ یہ سن کر اداس ہوگیا اور بولا:
’’گالیاں اس لیے دیں کہ تجھے غصہ آئے اور گلے اس لیے لگایا کہ تو پہلا مسافر ہے جس کا ہم برسوں سے خواب دیکھ رہے تھے۔‘‘
تب وہاںحاتم کو پتہ لگا کہ جس شہر میں وہ داخل ہوا ہے اس شہر کا نام’ شہر بد نصیب،ہے کیونکہ وہاں کسی کو کسی بات پر غصہ نہیں آتا تھا۔
لیکن جب داروغہ حاتم طائی سے پوچھتا ہے کہ وہ کس شہر کا باسی ہے تو داروغہ جواب سن کر حیران ہوجاتا ہے جب حاتم کہتا ہے کہ وہ بھی شہر بدنصیب کا رہنے والا ہے ،پوچھنے پر وہ بتاتا ہے:
’’وہ ایسے‘‘ حاتم نے جواب دیا ’’ کہ میرے شہر میں لوگ چھوٹی سی چھوٹی بات پر بھی غصہ کرتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد مرکزی موضوع یعنی غصے کی نفسیات کے منفی اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کہاں پر غصہ کرنا جائز ہے اور کہاں پر ٹھیک نہیں ہے۔
داروغہ جب جب حاتم سے سوال کرتا ہے کہ اب اس کی منزل کدھر ہے تو حاتم شہر خوش نصیب کی طرف جانے کا بتاتا ہے:
پھر داروغہ نے حاتم سے سوال کیا۔
’’ اے نیک بخت تیری منزل کدھر ہے اور تو کس لیے جارہاہے؟‘‘
’’سنا ہے آگے کہیں ایک شہر خوش نصیب بھی ہے۔‘‘ حاتم بولا ’’ جہاں لوگ غصے کو ایک ایسی طاقت بناچکے ہیں جو برترکوقائم کرنے اور کم تر کو ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ،اسی کی تلاش میںجارہا ہوں۔‘‘
اس طرح سے افسانہ انسان کی ایک نفسیاتی اور اخلاقی فطرت بصورت غصہ اور سماجی بودوباش اور استحکام کے لیے غصے کے منفی اور مثبت استعمال کو افسانوی ڈسکورس بنا رہا ہے اور ایک خشک موضوع کو افسانہ نگار نے بڑے سلیقے سے کہانی کے روپ میں ایک حکمت آمیز اخلاقی فلسفہ(Moral Philosophy) کے طور پرپیش کیا ہے۔
افسانے کی بنت کاری میں عنوان، موضوعاتی برتاؤ، پلاٹ سازی، تکنیک، تخلیقی اسلوب اور تخیل آمیزی، کر دار نگاری، جزئیات نگاری وغیرہ بنیادی فنی وسائل (Artistic Devices) ہوتے ہیں۔ اقبال مجید کی افسانہ نگاری میںبنت کاری، پلاٹ سازی، تکنیک، موضوعاتی برتاؤ ، تخلیقی اسلوب کے ماہرانہ تجربے نظر آتے ہیں اور تخیل کے رنگارنگ جلوے افسانوی فضا کو فسوں خیز بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری… افسانوی روایت کی پاسداری بھی کرتی ہے اوران کے افسانے جدید تجربات سے بھی آراستہ نظرآتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے افسانوں میں اس طرح سے افسانوی فضا تشکیل پزیر ہوئی ہے کہ قاری تخلیقی و فنی اور موضوعاتی و کہانی پن سے محظوظ ہوجاتا ہے اور کئی افسانے اس کے حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔اس کے افسانوں کی ایک اور اہم خوبی عنوان کا انتخاب ہے کہ کہانی کے دوران اپنی معنوی اہمیت جگہ جگہ ظاہر کرتاہے۔انھیں فنی خوبیوں کی بنا پر اقبال مجید کا شمار اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔

Dr. Reyaz Ahmad Bhat
Wadipora
Handwara- 193221 (Kashmir)
Mob.: 9906834877
drreyaztawheedi777@yahoo.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو / قرۃ العین حیدر

لگا کے کاجل چلے گوسائیںؐ ___ بھورے قوال کی فلک شگاف تان سے چراغ کی لو بھی تھرا گئی۔ ارے لگا کے کاجل چلے گوسئیاںؐ___ بھورے خاں کے دس سالہ

عبدالحلیم شرر کی تاریخی ناول نگاری،مضمون نگار: احسان عالم

اردودنیا،جنوری 2026: مولاناعبدالحلیم شرر 4 ستمبر1860 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم تفضل حسین اودھ کے آخری تاجدار واجد علی شاہ کے ملازم تھے۔ نو سال کی

جلال لکھنوی کی غیر مطبوعہ داستان بالا باختر: ایک تعارف، مضمون نگار: محمد سعید اختر

جلال لکھنوی (1834-1909) کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ شاعری کے علاوہ لغت نویسی، تاریخ گوئی اورزبان دانی کے حوالے سے بھی ان کی اہم خدمات ہیں۔