جدتِ خیال اور ندرتِ بیان کا شاعر: غالب،مضمون نگار:فیصل خان

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

مرزا غالب کی شاعری افکار ومعانی کا مخزن ہے جو زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ اس کی تفہیم وتعبیر کسی چیلنج سے کم نہیں جس کی جڑیں آفاقیت سے جاملتی ہیں۔ غالب کی شاعری کو دوام کیوں ہے ؟یا یہ کہیں کہ اس کی زندگی بڑھتی کیوں چلی جارہی ہے؟ تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے اشعار نئے حالات میں نئے سرے سے اپنا رنگ دکھاتے ہیں اور پڑھنے والے پر نئی کیفیت اُس مخصوص لمحے کے لیے پیدا ہوجاتی ہے جس کا وہ منتظر یا متلاشی ہوتا ہے۔ شعر کو سیدھے سادے الفاظ میں نہ کہہ کر جدّت پیدا کرنے کے لیے انوکھا انداز اختیار کرنا، عام ڈگر سے ہٹ کر چلنا اور عام فہم اسلوب سے گریز کرنا مرزا کی شان ہے۔ مرزا کے مزاج میں ایجاد اور اختراع کا مادّہ بہت تھا، عام شاہ راہ سے ہمیشہ خود کو دور رکھتے تھے اور یہی بات ان کی غیر معمولی قابلیت اور قوتِ استعداد پر اپنی مہر ثبت کراتی ہے۔مولانا الطاف حسین حالی اس ضمن میں لکھتے ہیں :
’’مرزا کی طبیعت اسی قسم کی واقع ہوئی تھی وہ عام روش پر چلنے سے ہمیشہ ناک چڑھاتے تھے… عامیانہ خیالات اور محاورات سے جہاں تک ہوسکتا تھا اجتناب کرتے تھے۔‘‘
(یادگارِ غالب :خواجہ الطاف حسین حالی، غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی 1996،دوسرا ایڈیشن، ص115)
مرزا کے دیوان میں موجود غزلیں بحیثیتِ تعداد کے کم ہی کیوں نہ ٹھہریں مگر جس قدر احتیاط سے منتخب اور چنندہ اشعار ان کی غزلوں میں شامل ہیں وہ بڑے بڑے قدآور شعرا کے کلام کے انتخاب پر بھاری ہیں۔ مرزا کی غزلوں میں پائے جانے والے بہت سے مضامین اس سے پہلے اردوغزل میں نہیں برتے گئے، دیگر شعرا کے تخیل کی پرواز ان جیسے مضامین کو اپنے دام میں نہیں لاسکی۔انھوں نے کچھ روایتی مضامین اس ادابندی اور طرفگی سے بیان کیے ہیں اور اس میں ایسی لطافت ہے کہ بے ساختہ آفریں کہنے کودل چاہتاہے۔ مرزا کے کلام میںپائی جانے والی ان خوبیوں کو ہمارے ناقدین نے مضمون آفرینی،معنی آفرینی، جدّتِ خیال اور ندرتِ بیان جیسی اصطلاحوں سے تعبیر کیا ہے۔
مضمون آفرینی کی دو شکلیں ہوتی ہیں (1)نئی نئی تشبیہات واستعارات کے استعمال سے نئی بات کہنا، جسے جدت خیال سے موسوم کرسکتے ہیں(2) روایتی اور فرسودہ باتوں میں نئے پہلو اختراع کرنایاانھیںنئے ڈھنگ سے بیان کرنا، اس کے لیے ندرتِ بیان کی ترکیب استعمال کی جاسکتی ہے۔ پہلی صورت کو مشکل گردانا گیا ہے،اس لیے کہ نئی  تشبیہیں اور نئے استعارے کی ایجاد تو کسی قدر ممکن بھی ہے لیکن ان کو بنیاد بناکر کسی انوکھی بات کا کہہ پانا مشکل ترین امر ہے۔ جب کہ دوسری شکل جہاں شاعرپہلے سے کہی ہوئی باتوں کو نئے طریقے اور نئے ڈھنگ سے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے یااس میںکچھ نئے پہلونکالتاہے جو پہلی قسم سے زیادہ آسان اورسہل ہے۔ مضمون آفرینی کے لیے اردو میں بطور خاص دوسراطریقہ ہی زیادہ رائج ہے۔ اس تناظر میں فیض احمد فیض کا یہ اقتباس خاص اہمیت کا حامل ہوجاتاہے :
’’ہم مضمون آفرینی سے یہ مراد لیتے ہیں کہ مضمون کم ہے اور آفرینی زیادہ اگر شاعر کوئی بالکل ناشنیدہ مضمون پیدا کرلے تو ہم اسے مضمون آفرینی نہیں کہتے۔ لیکن اگر کسی پرانے فرسودہ مضمون میں کوئی تفصیل بڑھادی جائے۔۔۔۔۔۔تو مضمون آفرینی مسلم ‘‘
(میزان: فیض احمد فیض، پرنٹ مین، توپسیا ساؤتھ روڈ کولکاتہ 2002، ایڈیشن دوم، ص46)
’جدت‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنیٰ نیاپن،تازگی،اُپج اور ایجاد وغیرہ کے آتے ہیں۔یہ اصطلاح اردو تنقید میں فارسی اور انگریزی سے مستعار ہے۔
جدت کی اصطلاح میں جدیدیت کی آمیزش نے اسے جدتِ ادا کی صورت عطاکردی۔ جدت اور جدتِ ادا میںبنیادی فرق یہ ہے کہ جدّت نام ہے شاعری میںنئے مضمون ومعنیٰ کونئے اندازاورطرفگی سے عصری مسائل کے ساتھ متصف کرکے بیان کرنا۔جب کہ جدتِ ادامیںکوئی نئی چیزدریافت نہیں کی جاتی بلکہ پہلے سے موجود مضمون کونئی ترکیب اور بندشوںکے سہارے نئے رنگ اورڈھنگ سے پیش کیا جاتاہے۔
پروفیسر محمد حسن اپنی کتاب ’مشرق ومغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ‘ میں جدّتِ ادا اور تغزل گوئی کو مضمون آفرینی کی توسیع قرار دیتے ہیں۔ درج بالاسطور میں کی گئی گفتگوکے بعدیہ واضح ہوتا ہے کہ مضمون آفرینی اور جدتِ ادا میںلفظوں کے ہلکے سے تفاوت کے ساتھ ایک ہی قسم کی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ لہٰذا مضمون آفرینی اور جدتِ ادا کو دو الگ الگ اصطلاح نہ کہہ کر ایک ہی اصطلاح کی دو قسمیں کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نازک خیالی، خیال بندی، معنیٰ آفرینی اور ندرتِ بیان کوبھی مضمون آفرینی اور جدت ِ ادا کی ضمنی شاخیںہی سمجھناچاہیے۔ اردو شاعری میں رائج ان تنقیدی اصطلاحات کے معنیٰ ومفاہیم پر بحث کرنے کے بعدناگزیرہوجاتاہے کہ دیوان غالب سے چند مثالیںبھی پیش کردی جائیںتاکہ مرزا کے کلام میں پائی جانے والی خیال کی ندرت اور نرالے اندازِ بیان کی نشاندہی بھی ہوجائے۔
مرزاکی ندرتِ بیان کاایجازیہ ہے کہ دیوان کے پہلے ہی شعر سے انھوں نے جس استعاراتی انداز میں ندرتِ خیال کونئے حسنِ بیان میں پیش کیا ہے اس کی مثال غالب سے پہلے اردو شاعری میں نہیں ملتی۔اس شعر کے معنیٰ ومفہوم سے میں گریزکرتا ہوںلیکن کلام ِغالب میںجوحرفِ اول ہے وہ ندرتِ بیان کاشاہ کارہے جس کی تعبیروتفہیم میںشارحین نے قابلِ قدر فکری مواد فراہم کیے ہیں۔نمونے کے طورپرکچھ اور اشعارمع تشریحات کے ملاحظہ فرمائیں ؎
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
سرسری طور پر تو یہ عام خیال ظاہر ہورہا ہے اور پہلے مصرعے کا خیال بھی عام فہم ہی ہے، لیکن غور وفکر کے بعد اس کے اچھوتے پن کا احساس تب ہوتا ہے جب ہم دوسرے مصرعے کی طرف رُخ کرتے ہیں جہاں مضمون آفرینی موجودہے اوریہی اس شعر کا حاصل ہے کہ انسان کاانسان ہونا کارِ دشوارہے۔ یہ شعر انسانی اخلاقیات کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ پہلے مصرعے میں جو بحث قائم کی گئی تھی دوسرے مصرعے میں اس کی تکمیل ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ دنیا کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی بآسانی نہیں ہوتابلکہ اس کے لیے بھی ریاضت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر شخص جو کہ آدمی ہے باوجود اس کے اس کا انسان بننا ایک مشکل امر ہے۔ یعنی دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ملیں گے جن کے اندر انسانیت ہو اور وہ اپنی اخلاقی قدروں کے ساتھ انسانیت کے درجۂ کمال تک پہنچے ہوئے ہوں ؎
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا
غالب کا یہ شعر گرچہ بہت زباںزد ہے لیکن جدّت ِخیال کاحامل ہے خاص طورپرہوس کو نشاطِ کارکی ہوس کہناہماری شاعری کانیااندازِبیان ہے۔جس قدراس خیال میںتازگی ہے اتنا ہی یہ مبنی برحقیقت بھی ہے۔ جینے اور مرنے کی دو متضاد کیفیتوں کا سنگم شعر کے حسن میںمزید دلکشی پیدا کررہا ہے۔ اس کا موضوع فطرتِ انسانی ہے۔مطلب یہ ہے کہ انسانی محنت ومشقت کا انحصار اس بات پر موقوف ہے کہ وہ اپنی چھوٹی سی زندگی میں دنیوی نعمتوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکے اور یہ عجلت اس لیے کہ موت کا کوئی ٹھکانہ نہیں، بشیربدرکی زبان میں ’’نہ جانے کس گلی میںزندگی کی شام ہوجائے‘‘ لہٰذا جینے کا مزہ بھی اسی میں مضمر ہے، اگر موت کا وقت متعین ہوتا تو جینے کا لطف کہاں باقی رہتا، جسے جبلتِ انسانی سے تعبیر کرنا چاہیے ؎
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
جس نرالے انداز سے اس شعر میں غالب نے اپنی ہستی پر اپنے نہ ہونے کو ترجیح دی ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ اسے جدّتِ اداسے ہی تعبیرکیا جائے گا،نئے پن کی ایسی مثال مشکل سے دیکھنے میںآئے گی۔ وہ کہتے ہیں میرا وجود ہی مجھے ڈبوئے دیتا ہے اور یہی میری ناکامی کا سبب ہے۔یعنی مجموعی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسانی وجود کے بعد ہی دنیا میں خیر وشر کی ابتدا ہوئی، اگر انسان نہ ہوتے تو دنیا میں فسادات کے سلسلے کا ظہور ہی نہ ہوتا اور خدا کی ذات جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی وہ اسی طرح باقی رہتی۔گویااس شعر میںوجودیت کافلسفہ اپنی اثرآفرینی کے ساتھ پوشیدہ ہے ؎
توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
اس شعر میں توفیق کا ہمت سے رشتہ قائم کردینا ہی ندرتِ خیال کی چاشنی کا احساس دلارہا ہے۔غالب نے بڑی خوبصورتی سے اسے شعری پیکر میں ڈھال کراپنی قوتِ استعداد کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ کسی مہم کو سرکرنے کا اور کسی مقام کو پانے کا اگرجنون سوار ہو اور انسان اس کے لیے تگ ودو بھی کررہا ہو تو خداوند قدوس بھی غیب سے اُسے اِس کی توفیق یعنی ہمت عطا فرمادیتا ہے تاکہ وہ اپنی مراد کو پاسکے۔جس طرح قطرۂ اشک کی جگہ آنکھوں میں ہے، دریا کی تہوں میں بننے والا موتی اس کی جگہ ہرگز نہیں لے سکتا،بالکل اسی طرح محنت کے بعدکامیابی یقینی ہے اس کاوہی اصل حق دارہوتا ہے جس نے ریاضت سے کام لیا ہو ؎
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دُور
رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
مرزا نے اس شعر میں اہلِ وطن سے شکایت کا انوکھا انداز اختیار کیا ہے اور شکر کے ساتھ شکوہ شکایت کو ایک ہی شعر میں اس طرح ضم کردیا ہے کہ نئے خیالات کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ یہاں اہلِ وطن سے اہلِ خانہ اور عزیز واقارب دونوںمراد لیے جاسکتے ہیں۔ کسی اجنبی شہر میں زندگی کی آخر ی سانس لینا کسے پسند ہوگا، لیکن اس کے بعد بھی خدا کا شکر ادا کیا جارہا ہے کہ پردیس میں بغیر کفن دفن کے پڑے رہے تو بھی کون پوچھنے والا ہے؟ کیونکہ یہاں تو ویسے بھی کوئی اپنا نہیں۔ لیکن اگر اپنے وطن میں مرجانے کے بعد اہلِ وطن اور اہلِ خانہ نے بے وفائی اختیار کی اور یہی سلوک روا رکھا یعنی گور وکفن نہیں دیا تو سخت ذلت اور رسوائی کاسامان ہے۔ چنانچہ وطنِ غیر میں مرنے پر شکر بجا لائے کہ خدا نے میری بے کسی کی لاج رکھ لی اور اس ذلت سے محفوظ رکھا۔
اس شعرکا ایک معنیٰ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وطن سے دوری غربت کی علامت ہے اور بے کسی بھی غربت کی نشانی ہے۔لہٰذا وطن سے دور مرنے سے اہلِ وطن پر غربت اور بے کسی ظاہر نہ ہوسکی بلکہ پوشیدہ رہی اور عزتِ نفس پرکوئی حرف بھی نہیںآیا ؎
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
عادتِ رنج سے رنج کی نجات کا پہلو نکالناہی شعر کااصل جزہے۔ اور جس طرح کثرتِ دشواری کا مقابلہ سہل پسندی سے کیا ہے غلو کی حد میںداخل ہوجاتا ہے۔ صنعتِ تضاد کی ایسی مثالیں کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ بالکل نئے انداز کی پیش کش ہے،اس شعر میں مرزا نے انسانی نفسیات کو اُجاگر کیا ہے کہ ہر شخص دنیا میں آنے کے بعد مختلف طرح کے مصائب سے ضرور دوچار ہوتا ہے اور پھر آلام کی کثرت اُسے اِس کا سامنا کرنا بھی سکھا دیتی ہے۔ تاہم عادی ہونے کے بعد بڑے سے بڑا دکھ درد اور رنج والم اُسے چھوٹا اور ہلکا لگنے لگتا ہے ؎
ملنا ترا اگر نہیں آسان تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
یہ شعر فی الحقیقت سچائی پر مبنی ہے۔ یہاںمتناسب الفاظ کے ساتھ لفظوں کی تکرار سے معنی پیدا کیے گئے ہیں۔ اس میں عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں کا رنگ یکساں طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اب پڑھنے والے کی صوابدید پر ہے کہ وہ اسے کس پر محمول کرتا ہے۔محبوب کا ملنا (حقیقی ہو یا مجازی) اگر آساں نہیں تو مشکل بھی نہیں اور یہی سب سے بڑی دشواری ہے۔کیونکہ کسی دشوار کن چیز کا شوق اس کی دشواری کے سبب ماند پڑسکتا ہے لیکن کسی آسان چیز کی خواہش گرچے وہ حاصل نہ ہوسکے، اس کی آرزو کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ دل مطمئن ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ غالب نے یہ شعر قاضی عبدالجمیل صاحب جنون بریلوی کے نام ایک خط میں لکھ کر بھیجا تھا۔ جو خطوطِ غالب کی جلد دوم میں موجود ہے ؎
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
یہ شعر تعریفِ حسنِ بیان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ کسی کے بیان کی سحر انگیزی اور جادو بیانی کی ایسی مدح نہیں دیکھی گئی۔لذت ِتقریرکاموازنہ خیال ِدل سے طرفگی کی عمدہ مثال ہے۔کہنے والا اس ادا کے ساتھ اور ایسی ہنرمندی سے اپنی بات کہہ رہا ہے کہ سننے والے کے دل وجاں میں وہ بات گھر کرتی جارہی ہے اورسامع یہ محسوس کرنے پر مجبور ہے کہ یہ خیالات تو میرے دل میں پہلے سے موجود تھے گویا یہ میری ہی باتیں کررہا ہے ؎
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے
واضح رہے کہ حالی نے یادگارِ غالب میں ’ساغرِ جم‘ کی جگہ ’جامِ جم‘ نقل کیا ہے۔ لیکن مختلف دواوین میں ساغرِ جم ملنے کی وجہ سے راقم نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ حالانکہ جامِ جم اور ساغرِ جم دونوں ہم وزن ہونے کے ساتھ ساتھ ہم معنیٰ بھی ہیں۔ بادشاہ کے شراب کے پیالے پر مٹی کے پیالے کو فوقیت دینا اور اس ادا کے ساتھ کہ اگر گرنے سے ٹوٹ بھی جائے تو غم نہیں بازار سے دوسرا اور پھر تیسرا خرید کر لاتے رہیں گے جدت طرازی کا ہی کمال ہے ؎
آتا ہے داغ حسرتِ دل کا شمار یاد
مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
اس شعر میں شوخیٔ ظرافت اچھوتی اور نئی طرح کی ہے۔داغ ِگناہ کے ساتھ حسرتِ دل کاشمار معنیٰ آفرینی اورخیال آفرینی دونوںپیدا کررہاہے۔ ظاہری اعتبار سے شاعر خدا کے دربار میں یہ عرضی پیش کررہا ہے کہ اُس سے اِس کے گناہوں کا حساب نہ لیا جائے۔ لیکن پسِ پردہ یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ جس کثرت سے میرے دل پر داغ ہیں اتنے ہی میرے گناہ ہیں مگر افسوس کہ اتنی بداعمالیوں اور نافرمانیوں کے بعد بھی بہت سے ارمان دل میں باقی رہ گیے ہیں۔ داغ دیکھ کر اپنے گناہ تو یاد آتے ہیں لیکن حسرتِ دل ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ حالی کی زبان میں ’’اگر شراب پینے کو مل گئی تو وصل نصیب نہ ہوا اور وصل میسر آگیا تو شراب نہ مل سکی‘‘۔لیکن دوسری جگہ مرزانے اسی مضمون کوشوخی وظرافت اورمضمون آفرینی کے سبب ایک اورنیارنگ دے دیاہے۔جس میںوہ کہتے ہیں: اگرماضی میںکیے گئے گناہوںکی سزالازم ہے توایسے گناہ جن کے کرنے پرقدرت رہی ہویانہ رہی ہومگروہ نہیںکیے گئے تواس پردادوتحسین بھی ملنی چاہیے۔وہ شعردیکھیں ؎
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یارب ! اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
اس شعرکی شرح بیان کرتے ہوئے اس مضمون کی جدت کے حوالے سے نظم طباطبائی لکھتے ہیں :
’’اس شعر کی دادکون دے سکتاہے؟میر تقی (ف1810)کوبھی حسرت ہوتی ہوگی کہ یہ مضمون مرزانوشہ کے (1869)لیے بچ رہا۔‘‘
(شرح دیوانِ اردوے غالب:سیدحیدرعلی نظم طباطبائی،مرتب ظفراحمدصدیقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی2012، ص472)
مضمون آفرینی،ندرت ِخیال اور جدّتِ مضامین کے تجسس اور آرزو نے غالب کو عام اور مبتذل تشبیہوں سے گریز کرنے پر مجبور کردیا۔ جدّت طرازی کے شوق میں نئے الفاظ، نئے استعارے،نئی ترکیبیں اور نئی بندشیں وضع کرنے پرغالب نے عمرِ عزیز کااکثر حصہ صرف کردیا۔ اسی بنا پر شیخ محمد اکرام نے انھیں ’تشبیہات کا بادشاہ‘ قرار دیاہے۔مرزا مبتذل خیالات سے بچنے کے لیے معمولی باتوں کو دلکش انداز میں کہتے، جدّتِ تخیل کی فکر میںہمہ تن کوشاں رہتے اور جدّت ِمحاکات کی تلاش کرتے رہتے تھے۔آل احمد سرور نے کسی جگہ لکھا ہے کہ ’’غالب کے قصر شاعری کی بنیاد جدّتِ تخیل، جدتِ طرزِ ادا، جدّتِ استعارات وتشبیہات، جدّتِ محاکات اور جدّتِ الفاظ پر قائم ہے‘‘۔ آخر میں مزید چند مثالیںبغیرکسی وضاحت کے درج کی جاتی ہیں تاکہ کلام غالب میںمضمون آفرینی، جدّت ِخیال اور ندرتِ بیان کی تلاش وجستجو قارئین کے دلوں میں کارفرمارہے ؎
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقت سفر یاد آیا
دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

Mo Faisal Khan
Research Scholar, Department of Urdu
Delhi University
Delhi- 110007
Mob:- 9918998144
Email:- fk.nadwa123@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مثنوی عکس کوکن ایک ادبی اور تاریخی کارنامہ،مضمون نگار: محمد دانش غنی

اردودنیا،فروری 2026: اردوشاعری کے ضمن میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسا کوئی بڑا رزمیہ وجود میں نہیں آیا جس کو ہم عالمی زبانوں کے ادب

فضا ابن فیضی: مجھ کو میرے سخن سے پہچانو!،مضمون نگار:رضیہ پروین

اردو دنیا،دسمبر 2025: ٹونس ندی کے لب ساحل پر آباد شہر مئو ناتھ بھنجن کو شہر سخن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ علمی اور صنعتی اعتبار سے یہ

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب