پروفیسر اصغر عباس بہ حیثیت سرسید شناس،مضمون نگار: عباس رضا نیر

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

گلشن اردو ادب کو سر سبز بنانے میں مختلف مزاجوں، رویوں اور فکروں کا تعاون رہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کے دامن میں منظومات اور ادب لطیف کی ترجمان منثورات کے سوا اورکچھ نظر نہیں آتا۔ اردو کی سرزمین کو وسعت دینے والے بزرگوں کا شکریہ جنھوں نے اس کے ادب کو ہمہ گیری کا سبق پڑھادیا اور تحقیق، تنقید، تدوین و ترتیب کے تئیں پختہ شعور بیدار کیا۔ بزرگوں کی اسی روایت کو مزید فروغ دینے والوں میں پروفیسر اصغرعباس کا نام بہت نمایاں ہے۔جنھوں نے اپنی تحریوں میں متانت، بالیدگی اور خلوص کو مدنظر رکھتے ہوئے کارہائے گراں انجام دیے۔ان کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو ہیں جو سندی تحقیق کا تقاضا کرتے ہیں۔ جن کایہاں پر صرف سرسری جائزہ ہی لیا جاسکتا ہے البتہ ان کے تعارف میں یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ اصغرعباس ایک بہترین استاد،کامیاب محقق، ایمان دار صحافی اورہر دل عزیز کالم نگار کے علاوہــ ’ماہرسرسید‘کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔
اصغر عباس کی ولادت 9اکتوبر1941 کو اعظم گڑھ(اُترپردیش) کے قصبہ بی بی پور میں ہوئی۔ ان کا انتقال7 ستمبر 2022 کو علی گڑھ میں ہوا۔ ان کی علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سراہا گیا ہے۔
پروفیسراصغرعباس نے سرسید پر کئی تحقیقی کتابیں اور مقالے لکھے جن میں ’سرسید کی صحافت‘ خاص طور پر معروف ہے، جس کا انگریزی ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ یہ کتاب دراصل اصغر عباس کا سندی تحقیقی مقالہ ہے، جو پروفیسرآل احمدسرورکے زیرنگرانی1971 میں مرتب کیا گیا۔اس میں سرسید کی صحافتی خدمات اور ان کی صحافت نگاری کے معیار کو چانچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تحقیقی کام1866 تا1897 کے گزٹ کی فائلوں کو محیط ہے۔کتاب کے معائنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اطمنان بخش مواد کی دستیابی میں محقق نے بڑی جفاکشی سے کام لیا ہوگا کیونکہ ان کو اس کام کی سنجیدگی کا خوب اندازہ تھاجس میں ان کو تین اہم عناصر سرسید کا ذہنی رویہ، صحافت کا مزاج اور معاصر عہد کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے کوئی رائے قائم کرنی تھی تاکہ تینوں منتشر کڑیوں میں منطقی ربط پیدا ہوجائے اور سرسید کے انقلاب آفریں اقدامات کی وقعت دلنشیں ہوسکے۔ اس حوالے سے ایک جگہ اصغرعباس رقم طراز ہیں:
’’سرسید ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے، ان کے کارناموں کی داستان کا ایک ورق ان کی صحافت بھی ہے۔ اردو صحافت کی تاریخ میں سرسید کی شخصیت کئی اعتبارات سے ممتاز و منفرد ہے اور اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ غدر کے بعد اپنے تمام ہمعصر صحافیوں کے مقابلے میں سرسید اور ان کے گزٹ نے سب سے زیادہ زندگی کو نئے طریقہ اور ناقدانہ نظر سے دیکھنا سکھایا اور انگریزی صحافت کے صالح عناصر کا اثر قبول کرکے فکر و شعور کی نئی راہیں متعین کیں اور صحافتی آداب اور اس میں توازن و تناسب کی مثال قائم کی۔ گزٹ نے اس دور کی مشترکہ تہذیب کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور ایک نازک دور میں جب مغرب کا طوفان اس کی کشتی کو زیر و زبر کررہا تھا، اس کو نئی سمتوں اور نئے ساحلوں سے آشنا کیا۔ لیکن ابھی تک گزٹ کی خدمات اور اس کے اثرات کا کوئی خاطر خواہ تجزیہ نہیں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں جو مواد ملتا ہے اس میں حالی کے بیانات کے اعادے پر اکتفا کیا گیا ہے‘‘1
اصغر عباس نے اپنے اس تحقیقی کارنامہ کے ذریعہ سرسید، گزٹ اور صحافت کا جائزہ لیتے ہوئے عصری تقاضوں کے پیش نظر جدید صحافت کا بانی سرسید کو تسلیم کیا ہے۔اصغر عباس کے اس نظریہ کو تقویت دینے والے ان کے وہ دلائل اور بیانات ہیں جن سے ان کی کتاب’سرسید کی صحافت‘ تشکیل پاتی ہے۔ اسی کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو جو سرسید کے صحافتی ذہن کی جدت کو اجاگر کرتا ہے:
’’گزٹ سے پہلے اردو میں صحافت کا باقاعدہ آغاز ہوچکا تھا اور اس نے ایک روایت کی شکل اختیار کرلی تھی لیکن جو عناصر صحافت کو باوزن اور معنی خیز بناتے ہیں وہ گزٹ سے پہلے کی صحافت میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ گزٹ سے پہلے کی صحافت میں نہ تو کسی منظم زاویۂ نظر کے نشانات ملتے ہیں، نہ واضح طور پر کسی تہذیبی یا فکری یا سماجی نقطۂ نظر کی ترجمانی کا پتہ چلتا ہے اور نہ صحافیوں میں فنِ صحافت سے ذوق و انہماک ملتا ہے‘‘2
اس کتاب میں کل آٹھ ابواب ہیں جن میں باب ہشتم ’اردو صحافت پر گزٹ کے اثرات‘ کافی اہم ہے، گویا یہ باب اصغرعباس کی پوری تحقیق کا نچوڑ ہے جس میں قاری کو ردو قبول کے پس وپیش سے اطمینان کا احساس ہوتا ہے کہ سرسید ہندوستانی صحافت کے بھی سیدوسردار ہیں۔
سرسید کی فکری یا عملی کوششوں کے سبب انھیں سماج میں مؤثر اور انقلاب آوریں سمجھا جاتا ہے، اصغرعباس نے ان ہی پہلوؤں کو اپنا خاص موضوع بنایاہے۔ سرسید کی خدمات میں سائنٹفک سوسائٹی کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جس نے غلام ملک کی ذہنیت ہی بدل کر رکھ دی۔لہٰذا اصغرعباس نے’سر سید کی سائنٹفک سوسائٹی‘ مرتب کرکے اِس پہلو کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا۔
یہ کتاب سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کی 38 رودادوں پر مشتمل سوسائٹی کی تاریخ ہے جس کو اصغر عباس نے ڈیڑھ سو برس بعد پہلی مرتبہ مرتب کرکے شائع کرنے کا اہم کارنامہ انجام دیا جس سے اردو دنیا سرسید اور سائنٹفک سوسائٹی کی اصل روح سے روبرو ہوسکتی ہے۔ کتاب کے آغاز میں مرتب کا تحریر کردہ ایک مضمون’شروع کی بات‘ اپنی تحقیقی معلومات کے اعتبار سے کافی اہم ثابت ہوتا ہے۔ اصغر عباس نے یہ تحقیقی کارنامہ انجام دینے میں بڑی جدوجہد کا ثبوت دیا ہے۔ مواد کی فراہمی کے لیے انھوں نے نیشنل اور انٹرنیشنل کتب خانوں کی تلاش کی ہے۔ تاکہ ملک سرسید کے نقطۂ نظر اور سوسائٹی کے حقیقی مقصد کو سمجھ سکے۔جیسا کہ اصغر عباس خود ایک غلط فہمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کا ازالہ کرتے ہیں:
’’سائنٹفک سوسائٹی کے کوائف سے عدم واقفیت کے سبب فاضلوں نے 1842 کی دہلی ورنا کیولرٹرانس لیشن سوسائٹی کی طرح اسے بھی ایک ترجمہ کا بیورو سمجھ لیا ہے۔ دراصل یہ سوسائٹی ہندوستان کی فلاح و بہبود، معاشی خوش حالی، عام روشن ضمیری پھیلانے، سائنسی سوچ اور سائنسی تجسس کی ایک نئی لہر پیدا کرنے کے لیے افراد کے ایک منظم اور مسلسل باہمی تعاون پر مشتمل ایک تنظیم تھی۔‘‘3
پروفیسر اصغر عباس کی یہ مذکورہ کتاب محض ایک روایتی کام نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ مرتب نے سوسائٹی کے محدود تصور پر ضرب لگاتے ہوئے اس کے وسیع تناظر کو پیش کیا ہے۔اس میں جمع کی گئی رودادیں دراصل حقائق کو بیان کرتی ایسی تحریریں ہیں جن کے توسط سے صرف سرسید یا سوسائٹی کو ہی نہیں بلکہ انیسویں صدی کے نصف آخر کے ہندوستان کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی کتاب کے مقدمہ کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو جو ہمارے اندر ان روداد وںکا مطالعہ کرنے کا جذبہ ابھارتا ہے:
’’بجنور سے1859 میں جب ان کا تبادلہ مرادآباد ہوا تو یہ شہر انھیں جراحتوں سے چور ملا اور قیاس ہے کہ یہیں انھوں نے نشاۃ ثانیہ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔ 12 مئی1862 کو ان کا تبادلہ غازی پور ہو گیا۔ یہ گنگا کے دامن میں بسا ہوا ایک آہستہ خرام طرز زندگی کا عادی اور سہما ہوا شہر تھا، یہاں افیون کی کشید اور گلاب کی کاشت ہوتی تھی۔ یہاں کی اس مایوس کن صورت حال کو بدلنے کے لیے ان کی تشویشات کا مرکزی عنصر یہیں عصری تعلیم ہوگئی۔ غازی پور میں انھوں نے ایک رسالہ ’التماس بخدمت ساکنان ہندوستان در باب ترقی تعلیم اہل ہند‘ لکھا۔ یہیں سے جدید تعلیم کی ترتیب کاری کے لیے انھوں نے ہندوستان کی راجدھانی کلکتہ کا پہلا سفر کیا۔ وہاں مولوی عبداللطیف کی سربراہی میں چلنے والی انجمن مذاکرہ علمیہ کلکتہ میں 6اکتوبر 1863 کو عصری تعلیم کی ضرورت پر تقریر کی جس سے ان کے دلی کرب و ہیجان کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے مذکورہ بالا رسالہ وہاں تقسیم کیا، اس کے علاوہ اپنے دوستوں اور صاحب الرائے افراد کو بھیجا۔ اس کا تو پتہ نہیں چلا کہ ان سب کے کیا جوابات آئے لیکن چند جوابات سوسائٹی کی روئداد میں موجود ہیں۔ یہی رسالہ سائنٹفک سوسائٹی کے قیام کی تمہید بن گیا۔‘‘4
مذکورہ اقتباس میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ان کی روشنی میں اس کتاب کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رودادیں محض تفریح طبع کا سامان نہیں بلکہ اپنے عہدمیںرونما فکری و عملی رویوں کی ایسی تاریخ یا بنیادی ماخذ ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خود اصغرعباس کو بھی اس بات کا اعتراف ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’یہ دلچسپ بات ہے کہ سوائے سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ کے انیسویں صدی کے ہندوستان کی کوئی سوسائٹی ایسی نہیں جس کی مکمل تاریخ دستیاب ہو۔ یہ روئدادوں کا مجموعہ نہیں گلدستہ ٔدانش ہے‘‘5
اصغر عباس نے اپنے تحقیقی عمل کا جو لائحہ عمل مرتب کیا تھا اس میں سرسید سے وابستہ ہر گوشے کا جائزہ لینا بنیادی مقصد تھا۔ سائنٹفک سوسائٹی تو ایک پلیٹ فارم تھا جس کے تحت سرسید نے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کا کام کیا اور ان کے رفقا نے پوری سنجیدگی سے اقدامات کیے۔ اس سوسائٹی اور سرسید کے نظریات کی تشہیر کے لیے اس پلیٹ فارم سے ایک اخبار’ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘بھی جاری کیا گیا تھا جس نے ملک کے اذہان بدل کر رکھ دیے اور منفی سوچ کو مثبت رنگ عطا کیا۔ اس اخبار میں سرسید نے جو آرٹیکل لکھے ان کو جمع کرنے کی متعدد بار کوششیں کی گئیں لیکن کوئی امید افزا نتیجہ برآمد نہ ہوا، لہٰذا پروفیسر اصغر عباس نے پہلی بار پورے اہتمام کے ساتھ گزٹ میں شائع ہونے والے سرسید کے مضامین کو ’انتخاب مضامین علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ کے نام سے شائع کیا۔ان مضامین کی اہمیت اس لیے اور بڑھ جاتی ہے کہ ان میں علی گڑھ تحریک کے ابتدائی نقوش نمایاں ہیں۔اصغرعباس ان مضامین کی افادیت کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’سرسید کے جرائد کا ذکر آتا ہے تو عام طور سے تہذیب الاخلاق کا ذکر ہوتا ہے گزٹ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اسے تہذیب الاخلاق کا تاریخی تقدم بھی حاصل ہے اس کے علاوہ یہ سرسید کے فکر و عمل کا بڑا حسین نگار خانہ ہے جس میں بیس برس کے ہندوستانی سماج کی لحظہ لحظہ تاریخ سموئی ہوئی ہے۔ یہ وہ پہلا اخبار ہے جس نے ہندوستانیوں کے اجتماعی طرز کو اپنی صحافت کا حوالہ بنایا ہے۔ اسی اخبار کے ذریعہ سرسید کبھی ہندوستانیوں کو سیاسی آداب سے آگاہ کرتے ہیں کبھی مل جل کر رہنے کے فوائد ذہن نشین کراتے ہیں، کبھی مفید صحافت کے اصول بتاتے ہیں کبھی ابدی اور ہنگامی قدروں کے آداب و رنگ کو ظاہر کرتے ہیں اور گزٹ میں کبھی ان کا پیغمبرانہ اضطراب ہماری توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔‘‘6
اصغر عباس کے اس انتخاب کردہ مجموعہ سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ اس عہد کو سرسید یا گزٹ کے مضامین سے کس طرح سے سیاسی، سماجی اور تعلیمی مسائل میں رہنمائی حاصل ہوئی اور ذہنی و فکری آزادی کا رویہ پیدا ہوا۔اس اعتبار سے مضامین کایہ مجموعہ براہ راست متنوع معلومات کا صحافتی سرچشمہ ہے۔
اردو ادب میں جب سرسید کا ذکر آتا ہے تو ان کے دور رس اثرات میں افادیت، مقصدیت اور سادگی کی طرف ذہن جاتا ہے۔ یہ اجزا ادب لطیف یا رومانیت کا ردعمل ہیں۔ حالانکہ سرسید کی ابتدائی تحریریں ادب لطیف کا عمدہ نمونہ ہیں۔ جن میں ان کی کتاب ’آثار الصنادید‘ اور مضمون’امید کی خوشی‘ قابل ذکر ہیں۔ سرسید کے شروعاتی دنوں کا یہ طرز تحریر اور علی گڑھ تحریک کا ردعمل ہی ہے جس نے اصغرعباس کو اردو ادب کا جمالیاتی ادب اور علی گڑھ جیسی کتاب لکھنے پر متوجہ کیا۔ پروفیسر اصغر عباس خود اس بات کے معترف نظر آتے ہیں:
’’ویسے تو سرسید کا نام ادب لطیف یا جمالیاتی طرز کے قلمکاروں کے زمرہ میں شامل نہیں ہے لیکن ادب لطیف کی تحریک کے پس منظر میں ان کا تذکرہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اس قبیل کے دوسرے ادیبوں کا‘‘7
اصغر عباس کی اس تصنیف کے ذریعہ دو فکری زاویوں میں تناؤ کم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ اصغرعباس نے سرسید کو جمالیاتی ادیب کہنے سے صاف انکار کیا ہے لیکن انھوں نے سرسید میں بھی جمالیاتی حس کے عناصر کی طرف اشارہ کیا۔ جس کا مقصد سرسید کی ہمہ گیری دکھانا ہے۔ چونکہ ان کے بہت سے رفقا نے ادب لطیف کو فروغ دیا اس لیے وہ سرسید اور ان کے جمالیاتی رفقا کے مابین فکری ربط پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ ایک قابل ستائش تصنیف ہے۔
دو مکتب فکر سے وابستہ افراد کے مابین ربط پیدا کرنے کا جذبہ ہی تھا کہ اصغرعباس نے ایک دوسری کتاب’سر سید، اقبال اور علی گڑھ‘ لکھی۔جو سرسید اور اقبال کو باہم جوڑنے کا کام ہی نہیں کرتی بلکہ یہ کتاب اقبالیات کے مطالعہ میں گراں قدر خزانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس میں اقبال اور علی گڑھ کے تعلق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں اقبال کے استاد کے کردار کو بھی نمایاں کیا گیا۔ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’سرسید اور علی گڑھ سے اقبال کی ابتدائی شناسائی اقبال کے استاد میرحسن کی وساطت سے ہوئی‘‘8
اصغر عباس ایک دوسری جگہ سرسید کی شخصی جاذبیت اور میرحسن کی عقیدت کا خلاصہ کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’افکارنوکے فروغ کے لیے سرسید نے چارمرتبہ پنجاب کاسفرکیا…اسی زمانے میں ساراپنجاب سرسید کی آواز پر اس طرح دوڑا جیسے پیاسا پانی کے لیے دوڑتا ہے ان میں اقبال کے اُستاد سید میر حسن بھی تھے‘‘9
اس کتاب میں اصغر عباس نے سرسید سے میر حسن اور ان کے صاحب زادے ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب کی عقیدت کو دکھاتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اقبال کی نشونما میں سرسرسید تحریک کا کسی نہ کسی نوع سے اثر رہا ہے کیونکہ یہ ایک نفسیاتی عمل ہے کہ جس فکر یا رویے سے استاد متاثر ہوتا ہے عموماً شاگرد بھی اس کی قدر کرتا ہے۔ اس حوالے سے اصغرعباس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو جس میں ہمارے اس خیال کی تائید کی گئی ہے:
’’27مارچ1897 کو جب سرسید نے رحلت فرمائی تو سید میرحسن کی ایماسے اقبال نے تاریخ وفات نکالی اورسورۂ آل عمران کے اس جز سے مادۂ تاریخ نکالا جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے رب العالمین کی خوشنودی کااظہارفرمایاگیاہے۔‘‘10
اسی طرح اصغرعباس نے اپنی تحقیق سے اس بات کا بھی انکشاف کیاہے کہ اقبال کا علی گڑھ سے ربط کاپہلا نقش1907 میں ملتاہے۔جب علی گڑھ کے انگریزاساتذہ کے خلاف طلبائے کالج نے شورش کردی تو اقبال اس زمانے میں کیمبرج میں زیرتعلیم تھے اورانھوں نے جرمنی سے ایک پیام بھیجا جس میں پہلی مرتبہ انھوں نے اس نظم’طلباء علی گڑھ کالج کے نام‘ میں علی گڑھ طلبا کے توسط سے نوجوانوں کو مخاطب کیا کہ انگریزوں کے خلاف شورش کا ابھی مناسب وقت نہیں ہے۔یہ بارہ اشعار کی نظم پہلے جون 1907 کے رسالہ مخزن میں شائع ہوئی، پھرجزوی ترمیم کے ساتھ بانگ درا میں صرف سات اشعار شامل کردئے گئے۔اسی طرح کی متعدد قیمتی تحقیقی معلومات کو پیش کیاگیاہے جن سے اقبال اور علی گڑھ کے مابین گہرے ربط کا انکشاف ہوتاہے اور اس کے پیش نظر فکروفن کی باقاعدہ بازیافت کی جاسکتی ہے۔
اصغر عباس نے علی گڑھ تحریک سے متعلق اپنا جو لاحۂ عمل متعین کیا تھا اس میں انھوں نے پوری تنظیم کا خیال رکھا ہے۔ ایک طرف وہ اقبال کو علی گڑھ تحریک کے زیرسایہ لاتے ہیں تو دوسری طرف انھوں نے نواب عبدالطیف کی شخصیت کو ’سر سید اور نواب عبداللطیف‘ کے تناظر میں پیش کیاہے۔یہ کتاب دونوں کی مشترکہ خدمات و تحریکات کا جائزہ لیتی ہے۔کیونکہ علی گڑھ تحریک کے باب میں نواب عبدالطیف کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا تھا جو سرسید کے قریبی رفقا میں شامل تھے اور سائنٹفک سوسائٹی کی تنظیم میں نہایت ہی فعال رکن تھے۔
اصغرعباس کی ادبی خدمات میں سرسید کے علاوہ دیگر موضوعات سے متعلق بھی متعدد مرتبات شامل ہیں جن میں’رشید احمد صدیقی آثار و اقدار‘، ’ سردارجعفری شخصیت اور فن‘، ’ارمغان سرور‘، ’ عرفان سید حامد‘ اہم ہیں۔ ان کی مرتبہ کتابوں میں ’سر سید کی تعزیتی تحریریں‘ کو اس اعتبار سے بڑی اہمیت حاصل ہے کہ اس میں موجود معلومات سرسید کے ان خیالات کا احاطہ کرتی ہیں جن کا تعلق سرسید کے احباب اور معاصر علمی شخصیات سے ہے۔ وفیات کے اس مجموعہ میں شامل بیشتر مرحومین کسی نہ کسی اعتبار سے علی گڑھ تحریک کا حصہ رہے ہیں۔جس سے سرسید تحریک کی جڑوں کا اندازہ ہوتا ہے اوراس تحریک کی ہمہ گیری کا بھی انکشاف ہوتا ہے۔خود مرتب کی زبان میں کہ’’اس مجموعہ کے مطالعہ سے ہندوستان کے ایک خاص دور اور ایک تحریک کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تحریک کتنی ہمہ گیر تھی‘‘11۔اس میں مرحومین کی کل تعداد58 ہے جن کو چھ عنوانات’’علماء اور مبلغین، اہلِ علم و فن، طلبائے کالج، اہل صحافت، ملازمین مدرسۃ العلوم، رؤسا و اہلکاران حکومت‘‘کے تحت منطقی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور آخر میں سرسید کا’مرثیہ مصائب اندلس‘ شامل ہے جو سید یحیٰ قرطبی کے عربی مرثیہ کا اردو ترجمہ ہے۔
مشرقی ادب میں وفیات پر مبنی تحریروں کی بڑی اہمیت رہی ہے کیونکہ اس میں سوانحی عناصر کے علاوہ ادبی قدریں بھی نمایاں ہوتی ہیں جن سے شخصیات کا سنہ وفات متعین ہوتا ہے اس کی زندگی کے مختلف مخفی پہلوؤں کی دریافت ہوتی ہے جو محققین کے لیے تحقیقی دلچسپی کا مواد فراہم کرتے ہیں۔اس اعتبار سے اصغر عباس کا یہ علمی کارنامہ اور بھی اہم ثابت ہوتا ہے۔ اگر صنف وفیات کی روایت سے متعلق اصغر عباس کے اس خیال سے اتفاق کرلیا جائے کہ’’اردو میں اس کی روایت صحافت کی ترقی کے ساتھ پروان چڑھی اور علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے اجرا کے بعد اخبارات کے کالم میں سرسید نے اسے ایک صنف کی حیثیت عطا کی اور ایک موقر مقام بخشا‘‘12 تو اس سے اردو ادب میں تحقیق کے مزید دروازے وا ہوتے ہیں اور اصغر عباس پہلے ایسے محقق قرار پاتے ہیں جنھوںنے سرسید کو صنف وفیات کا باقاعدہ بانی قرار دیا ہے۔
چونکہ اصغر عباس کی شخصیت کا یہ نمایاں پہلو ہے کہ انھوں نے سرسید، علی گڑھ تحریک اور وابستگان سرسید میں گہری دلچسپی دکھائی ہے ان کی مرتبہ کتاب ’شذرات سرسید‘ اِسی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔یہ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں چھپنے والے سرسید کے 168شذرات کا انتخاب ہے۔جو تحقیق و تدوین کے اعتبار سے گراں مایہ فکری سرمایے کی اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان شذرات کا مطالعہ فکرِ سرسید اور ان کی جہات کی تفہیم میں مشعل راہ ثابت ہوتا ہے۔ان شذرات کا موضوعاتی دائرہ تہذیب، ادب، تاریخ، اخلاق، مذہب، سیاست، لسانیات، اقتصادیات، زراعت وغیرہ کو محیط ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اصغر عباس کا یہ کارنامہ براہِ راست سرسید کے متنوع افکار سے مستفید ہونے کی سہولت فراہم کرتا ہے تو یہ کہنا مبالغہ پر مبنی نہ ہوگا۔کیونکہ اس مجموعے کی تمام تحریریں سرسید کی فکری و عملی نگارخانہ ثابت ہوتی ہیں جن میں ترقی یافتہ ہندوستان کی خواب بندی کی گئی ہے۔ جیسا کہ وہ رقمطرازہیں:
’’ان شذرات اور مضامین میں جو چیز بہت نمایاں ہے وہ دانشورانہ دنیا میں اپنے ملک کے وقار کو اعلیٰ پیمانے تک پہنچانے کے لیے سرسید کی بے قراری ہے‘‘13
اصغر عباس نے دو سفرنامے’مسافران لندن‘ اور ’سید محمد سبحان اللہ عظیم گورکھپوری کا سفر نامہ حج‘ بھی مرتب کیے ہیں جو اپنے علمی و ثقافتی اظہار کے نقطۂ نظر سے کافی اہم ہیں۔سفرنامہ مسافران لندن کے توضیحی اشارے پروفیسراصغرعباس کااہم ترین تحقیقی کارنامہ ہیں۔اسی طرح ان کے ادبی ذوق کے حامل سرمایے میں کچھ ایسے انتخابات’انتخاب ذکا اللہ‘، ’منتخبات جامعہ اردو‘، ’شاہکار فطرت‘ بھی شامل ہیں جو اردو ادب میں اضافہ قرار پاتے ہیں۔بالخصوص’ضیابار افراد کے خطوط بنام اصغر عباس‘ قابل ذکر ہے جو پروفیسراصغر عباس کے نام لکھے گئے مختلف ادبی و علمی شخصیات کے خطوط کا مجموعہ ہے، جن کا مطالعہ فکری تبادلوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے اور ادبی انداز گفتگو کا نمونہ فراہم کرتا ہے۔ مذکورہ کتابوں کے علاوہ انھوں نے متعدد کتابوں کے مقدمات، تعلیقات اور حواشی بھی مرتب کیے ہیں جو اردو زبان اور ادب کے سرمایہ میں قیمتی اضافے سے کم نہیں ہیں۔
المختصر یہ کہ اصغر عباس بہترین استاد، سنجیدہ محقق اور سرسید شناس تھے۔پروفیسر اصغر عباس کی پوری زندگی سرسید اور ان کی شخصیت کے مطالعہ و تحقیق کے لیے وقف رہی۔ انھوں نے جس قدر سنجیدگی نگارشات سرسید کو مرتب کرنے میں دکھائی ہے وہ ان کا ہی امتیاز ہے۔ سرسید کی شخصیت اصغرعباس کے نقطۂ نظر میں زیادہ جاذب، زیادہ انقلابی اور سب سے زیادہ مؤثر تھی۔واضح رہے کہ جدیدتعلیم کابانی کہہ دینے سے بھی سرسیدکی سماجی خدمات کاحق ادانھیں ہوسکتا۔بلکہ وہ غیرمنقسم ہندوستان کو جس طرح روشن خیال بناناچاہتے تھے عصری تعلیم کو اس کا ایک اہم ترین ذریعہ مانتے تھے۔مذہب اورمسلک سے بلند ہوکر ان کی نگاہ ہندوستان کی مجموعی زندگی پرتھی۔ سرسید 1857 میں پہلی بار ہندوستان میںقائم ہونے والے پبلک سروس کمیشن کے ممبرمنتخب کیے گئے۔انھوں نے آئی۔سی۔ ایس کے امتحان میں شریک ہونے کے لیے مقررہ عمر21سال سے بڑھواکر23سال کی۔اس وقت آئی۔ سی۔ ایس کاامتحان لندن میں ہی ہوتا تھا۔ ہندوستانیوں کی سہولت کے لیے سرسیدنے وہ امتحان ہندوستان میں منعقدکروایا۔علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں اردوکے ساتھ عربی اورفارسی زبانوں میں بھی اداریے لکھ کر ہندوستان میں ذولسانی صحافت کی بنیاد رکھی۔ اسباب بغاوت ہندمیں بے باکی کے ساتھ انگریزوں کی غلطیوں کی نشاندہی کی۔البرٹ بل میں انگریزوں کے خلاف فوجداری کے مقدمے سننے کے لیے ہندوستانی ججوں کواختیارات دلوائے۔سرسید کی ایسی تمام خدمات کااحاطہ کرنے کے لیے آج بھی نئے سرے سے نئے علوم کی روشنی میں مطالعہ ومحاکمہ ضروری ہے۔واضح رہے کہ ہندوستان صرف سنگ وخشت کے مجموعے کانام نہیں ہے بلکہ اس کے اپنے بنیادی اقداروافکاربھی ہیں۔انھیں زندہ رکھنے کے لیے آج بھی ہندوستان کی دانش گاہوں کوسرسیداحمدخان کی تعلیمی اصلاحات کوپیش نظررکھنا ضروری ہے،ورنہ صرف پروفیشنل اورسیلف فائننس کورسزسے ہم صرف پیسہ تو کماسکیں گے لیکن سورداس، کبیر، تلسی، میر، غالب اورانیس ودبیرنہیں پیدا کرپائیں گے۔اس بنیادی نکتے کااحساس پروفیسر اصغرعباس کونہایت شدت کے ساتھ تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے تحقیقی و تدوینی سرمایہ میں سب سے زیادہ کتابیں سرسید سے متعلق ہیں جو مستند حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں۔محمود الٰہی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ ڈاکٹر اصغرعباس صاحب کا شمار علی گڑھ کے ادا شناسوں میں ہوتا ہے۔
حواشی
1 سرسید کی صحافت،ناشر:کوہ نور پرنٹنگ پریس، دہلی، 1975، ص 17
2 ایضاً،ص227
3 سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی، ناشر:ایجوکیشنل بک ہاؤس، ص 7
4 ایضاً،ص9
5 ایضاً،ص7
6 انتخاب مضامین علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، اتر پردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ،ص 11
7 اردو کا جمالیاتی ادب اور علی گڑھ، لیتھو کلر پرنٹرس، علی گڑھ،1989، ص 40
8 سرسید، اقبال اور علی گڑھ، ص6
9 ایضاً،ص7
10 ایضاً،ص6
11 سرسید کی تعزیتی تحریریں، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ،1989، ص 11
12 ایضاً،ص7
13 شذرات سر سید، جلد اوّل، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، ص4

Prof. Abbas Raza Nayyar
Head, Dept of Urdu
Lucknow University
Lucknow (UP)
abbasrazanayyar@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

انجم مانپوری: صحافی، شاعر اور طنز و مزاح نگار،مضمون نگار:محمد جمیل اختر جلیلی

اردو دنیا،دسمبر 2025: انجم مانپوری کااصل نام ’نورمحمد‘ ہے،جب کہ قلمی نام ’انجم مانپوری‘ ہے۔ معروف اپنے قلمی نام سے ہی ہوئے، ان کی پیدائش 1300ھ مطابق 1881 میں ضلع

آسمان ادب کا نیر تاباں: قاسم خورشید،مضمون نگار: عشرت صبوحی

اردو دنیا،دسمبر 2025: ادب کے آسمان پر کبھی کبھی ایسے نام جگمگاتے ہیں جنھیں وقت کے غبار میں چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ آفتاب ہیں جو اپنی زندگی میں

راجندر سنگھ بیدی — زندگی اور شخصیت

راجندر سنگھ بیدی، جیسا کہ انھوں نے خود اپنی پیدائش کے متعلق کہا ہے، یکم ستمبر 1915 کی سویر کو لاہور میں 3 بج کر 47 منٹ پر پیدا ہوئے۔بیدی