اردو دنیا،دسمبر 2025:
اقبال کرشن مغربی بنگال کے شعری وادبی افق پر ایک ایسے چاند بن کر نمودار ہوئے کہ اس کی روشنی نے اہلِ فکرو نظر کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا۔ ان کا ادبی سفر زیادہ طویل نہیں تھا تاہم جو کچھ بھی سرمایۂ شعروادب انھوں نے اپنے پیچھے چھوڑا،اس سے ان کے ادبی قد کا اندازہ کچھ نہ کچھ تولگایا جا سکتا ہے۔
اقبال کرشن کی پیدائش مغربی بنگال کے شہر کلکتہ کے ایک قصبے تانتی باغ میں 1942 میں ہوئی۔ ان کے والدین کے اسمائے گرامی سید محمد عبد الرشید و میمونہ خاتون ہیں۔ ان کے والد بھی شعروسخن کا شغف رکھتے تھے، اور ارشد لکھنوی کے نام سے مشہور تھے۔اقبال کرشن کا اصل نام سید محمد اقبال تھا،اور گنگا جمنی تہذیب کے علمبردارہونے کے سبب اپنے نام کے ساتھ کرشن بھی جوڑ لیا ۔ان کا انتقال 28اگست 2007 کو کلکتے میں ہوا۔ انھوں نے تقریباً 65 برسوں کی مختصرسی زندگی پائی۔ اگر انھوںنے جوانی کے ایام سے ادب کا کام شروع کیا ہوگا توان کی ادبی زندگی صرف تیس برسوں پر محیط ہے۔ اتنے مختصر عرصے میں انھوں نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ان کا سب سے نمایاں کام یہ ہے کہ انھوں نے بیبھوتی بھوشن پانڈے کے بنگلہ ناول ’پاتھر پنچالی‘ کا ترجمہ اردو میں کیا، جس سے ان کی شہرت ایک ترجمہ نگار کی حیثیت سے مغربی بنگال ہی میں نہیں بلکہ سارے ہندوستان میںہوئی۔ بعد ازاں جادو ناتھ سرکار کی سوانحِ حیات کا ترجمہ بنگلہ سے اردو میں کیا، اس کے علاوہ جتندر ناتھ سین گپتاکی نظموں کا ترجمہ بھی بخوبی بنگلہ سے اردو میں کیا۔ایک اور تاریخ کی کتاب ’ہسٹری آف میتھلی لٹیریچر‘کا ترجمہ انگریزی سے اردو میں کیا۔ ان ترجموںسے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بیک وقت بنگلہ،انگریزی اور اروو ،تینوں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے۔حالانکہ انھوں نے اعلیٰ تعلیم اردو، فارسی اور عربی میںحاصل کی تھی۔ان سب باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اقبال کرشن ایک دانشور، نکتہ بیں، تعلیم یافتہ اور کثیر اللسان شاعر وادیب تھے۔
اقبال کرشن نے ادبی زندگی کا آغاز گرچہ شاعری سے کیا، لیکن انھوں نے افسانے بھی لکھے، تنقیدی مضامین بھی لکھے، اور صحافت بھی کی۔ان کے مضامین کے مطالعے سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ وہ مختلف شعری و نثری اصناف کے افہام و تفہیم سے آشنا تھے، اور انھیں برتنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔
معروف شاعرو نقاد نصراللہ نصر نے اپنی کتاب ’بنگال میں اردو نظم نگاری‘ میںاقبال کرشن کونظم کا ایک اچھا شاعراور عروض داں تسلیم کیا ہے،اور اس سلسلے میں وہ فرماتے ہیں :
’’جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو خصوصی طور پر نظم نگاری میں وہ بہت مشاق تھے کہ انھوں نے زیادہ تر آزاد نظمیں کہی ہیں جن میں بحر اور وزن کی پابندی کا خاص اہتمام ہوا کرتا تھا،وہ ایک اچھے اور مستند عروض داں بھی تھے۔‘‘(بنگال میں اردو نظم نگاری،ص118)
اقبال کرشن شاعری کے رموز و نکات سے کماحقہ آگاہ تھے، اسی لیے انھوں نے شاعری بہت سلیقے سے کی ہے۔وہ شعر اور غیر شعر کے فرق کو اچھی طرح سمجھتے تھے جس کا اظہار انھوں نے اپنے ایک مضمون ’شعر اور تحت الشعر‘ میںکیا ہے۔ ان کی نظر میں موزونیت شعر کے لیے ضروری نہیں اور موزونیت دراصل نثری زبان کی فطری ساخت میں بگاڑ پیداکرنے کا نام ہے۔ انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ایک قادرالکلام شاعر کا ہر موزوں جملہ شعر بھی نہیں ہو سکتا۔دیکھیے وہ اس تعلق سے کیا فرماتے ہیں:
’’میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ قادر الکلامی ایک تمام تر غیر شاعرانہ صفت ہے ۔ایک قادر الکلام شخص ہر نثری جملے کو موزوں کر لے گا، لیکن اس کا ہرموزوں جملہ شعرنہیں کہلا سکتا۔میں نے شروع ہی میں کہہ دیا ہے کہ شعر دراصل لسانی سطح پر حسن و جمال کو جنم دینے کا دوسرانام ہے ۔‘‘(شعراور تحت الشعر؛اقبال کرشن)
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اقبال کرشن مزید یہ فرماتے ہیں:
’’صنفِ غزل پر سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ ہیئت کے معنوی پہلو کے بجائے اس کے صوری پہلو پر زور دیا گیا اور نتیجے میں شاعری کے نام پرقافیہ بازی ہونے لگی۔ یقینی بات ہے قافیہ بازی کوہم شعر نہیں کہہ سکتے، اسے تحت الشعر ہی کہیے۔‘‘(شعراور تحت الشعر؛اقبال کرشن)
انھوں نے غزل پرنثری نظم اور آزاد نظم کو فوقیت دی ہے اور غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ بھی کیا ہے۔وہ اپنے مضمون میں ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’اس سیاق و سباق میں آزاداور نثری نظم ابنِ مریم کی پھونک سے کم نہیں۔مبارک ہے وہ ہستی جس نے اردو زبان میںآزاد نظم کی داغ بیل ڈالی۔آخر میں میں یہ بتادوں کہ میں کوئی غزل کا دشمن نہیں،لیکن پوری اردو شاعری کو غزل میں مرکوز کر دینے کا بھی میں حامی نہیں۔شعر کے نام پر شعر ہی پیش کرنا چاہیے،تحت الشعر یا موزوں نثر نہیں۔‘‘(شعراور تحت الشعر؛اقبال کرشن)
چونکہ وہ ایک عروض داں تھے، اسی لیے اپنی عروض دانی ثابت کرنے کے لیے مشکل بحورو اوزان میں اشعار کہے، اور بعض اوقات ایسا بھی دیکھا گیا کہ وہ ان بحروں کو برتنے میں تو کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ان بحور پر کہے گئے اشعار میں معانی و مفاہیم پیدا کرنے میں بہت زیادہ کامیاب نہیں ہو ئے ہیں۔اس حقیقت کو بھی واضح کرتا چلوں کہ اردو شاعری میں عموماً تین متوالی حرکات والے الفاظ ہی برتنے کا چلن ہے، لیکن انھوں نے کچھ ایسے اوزان پر اشعار کہے ہیں جن میں متواتر چار حرکات ہیں۔ چار متوالی حرکات والے الفاظ زیادہ تر عربی زبان میں موجود ہوتے ہیں،اور عربی شعرا ان الفاظ کو اپنی شاعری میں بخوبی برتتے ہیں۔لیکن انھوں نے اپنی چند غزلوں میں ایسے الفاظ باندھنے کی کوشش کی ہے جن میں چار متوالی حرکات ہیں،اس کے لیے انھوں نے ترکیب و اضافت کا سہارا بھی لیا ہے، اور اس کوشش میںکہیں کہیں ان الفاظ کے حروفِ علت بھی ساقط الوزن ہو گئے ہیں،جن کا سقوط کلاسیکی شعرا کے ہاں روا نہیں ہے۔مثال کے طور پر بحرجدید مشکول مطوی (فعلات فعلات مفتعلن)میں چار متواتر حرکات ایک ساتھ جمع ہو گئی ہیں۔اس وزن کے درمیان (حشوین) میں ت، ف ،ع، ل، یہ چار حروف متحرک ہیں۔ اس طرح کے اوزان میں شعر کہناخصوصاً اردو میں بہت دشوار ہوتا ہے۔اردو میں چار متوالی حرکات والے الفاظ کی قلت ہے۔اقبال کرشن نے بڑی دماغی ورزش سے اس وزن میں بھی اشعار کہہ ڈالے ہیں۔ یہ اشعار دیکھیں ؎
ترا بادیۂ چشم غرقِ سحاب
مرا زاویۂ دید مشقِ عتاب
تری دید کا رہا نظر میں سراب
ترا شوق مجھے ریگ زارِ عذاب
بہت کم شعرا ہیں جنھوں نے بحر ِ وافر میں غزلیں کہی ہوں۔ میں نے پوری زندگی میں صرف ایک غزل اس وزن (مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن مفاعلتن) میں کہی ہے۔ اقبال کرشن نے اس بحر میں دو غزلیں کہی ہیں۔ حالانکہ اس بحرمیں جو اشعار انھوں نے کہے ہیں،ان میں بہت سے الفاظ بری طرح سے مجروح ہوگئے ہیں۔ انھوں نے خود اپنے ایک مضمون میں یہ اعتراف کیاہے کہ،’’ نثری زبان کی فطری ساخت کے بگاڑ سے اگر حسن پیدا ہوتا ہے تو یہ شعر کے لیے ضروری ہے‘‘۔ لہٰذا اگرا نھوں نے کسی لفظ کو اس کے اصل وزن پر نہیں باندھا ہے تو یہ دراصل حسن پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔ مثال کے طور پر بحر ِ وافر میں کہے گئے یہ اشعار دیکھیں ؎
مریضِ وفا کا روگ جدا مزاج جدا جدا بے سبب
طبیبِ وفا کا جوگ خدا علاج جدا،جدا ہے مطب
ہو بارشِ سنگِ لعنت و تف پہ کیوں نہ مری ججات و برات
بھبکنے لگا ہے حینِ حیات مرے گناہوں کا بو لہب
صحرا میںحسرتوں کے بھی زنجیر پائی ہے
بے چارگی کی انتہا کس بام پر گئی
ان اشعار میں ’بے سبب‘ ،’بو لہب‘ اور’انتہا‘،جیسے فارسی و عربی کے الفاظ ساقط الوزن ہو گئے ہیں،اور اس طرح کے سقوط کلاسیکی شعرا کے نزدیک روا نہیں ہیں۔ایک اور غزل جو بحرِ رجزمثمن مطوی(مفتعلن مفتعلن مفتعلن مفتعلن )میں ہے،اس میں قافیے بھی اپنے اصل تلفظ پر نہیں باندھے گئے ہیں۔جیسے یہ مطلع دیکھیے ؎
مردہ تھا میں زندہ ہوا،روتا تھا میں خندہ ہوا
دولتِ عشق آنے سے میں دولتِ پایندہ ہوا
اس مطلع میں قافیے درست ہیں کیونکہ ’ن‘ سے پہلے زبردونوں الفاظ میں ہیں،لیکن اسی غزل کے بعض اشعار کے قافیوں میں’ ن‘ سے پہلے زیر ہے جس سے قافیے مطلع کے حساب سے نہیں بن پا رہے ہیں۔یہ قافیے ہیں کارندہ،تابندہ، شرمندہ۔ایک شعر بھی پیش ہے ؎
بخیہ گری کی مجھے تشنیع نہ دو چارہ گرو
میں تو ہوں وہ چاک رفو کا جو نہ شرمندہ ہوا
ایک اور غزل دیکھیے جس کے مطلعے میں قافیے اور ردیف کا التزام ہے لیکن اس کے بعد جو اشعار کہے گئے ہیں، ان میں ردیف کو ہی قافیے کے طور پر برتا گیا ہے۔اس غزل کے چند اشعار دیکھیے ؎
حجابِ زنگ نہ آئینۂ وفا سے اٹھا
سحابِ سنگ ہی ویرانۂ جفا سے اٹھا
ہزار جسم لیے سہہ رہا تھا ضرب تمام
حسابِ سنگ نہ پیمانۂ رفو سے لگا
اٹھا برنگِ تماشا اٹھا کمانِ ستم
چلا خدنگِ نفس اور بجھا چراغ مرا
اس غزل کے مطلعے میں ’وفا‘اور ’جفا‘ قافیے ہیں اور’سے اٹھا‘ ردیف ہے، لیکن اس کے بعد جو اشعار آئے ہیں ان میں یہ قافیے اور ردیف کے نظام کو برتا نہیں گیا ہے، بلکہ ردیف کے آخری لفظ کو قافیہ بنا لیا گیا اور یہاں سے پوری غزل غیر مردف ہو گئی ہے۔ دوسرے، تیسرے، چوتھے، اور پانچویں شعر میں بالترتیب قافیے؛ لگا، مرا، لگا،اپنا اور تھا، استعمال ہوئے ہیں۔اس اندازِ شعر گوئی کو ان کا تجربہ ہی کہیں گے ،کیونکہ قافیائی اور ردیفی نظام سے اس طرح کا انحراف کوئی ایسا شاعر تو کر ہی نہیں سکتا جو شعر اور تحت الشعر کے معانی و مفاہیم دوسروں کو سمجھا رہا ہو۔لیکن اس طرح کا تجربہ کسی دوسرے شاعر نے شاید ہی کیا ہو،اور اگر کیا بھی ہو تو وہ میری نظر سے نہیں گزرا۔
اقبال کرشن کی وہ غزلیں بہت معنی آفریں ہیں جو مروج اور مستعمل بحروں میں ہیں،ان کے اشعار میں خیالات کی بلند پروازی با آسانی محسوس کی جا سکتی ہے، وہ بہت رواں دواں،اورترنم خیز ہیں۔بحرِ مضارع (مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)میں کہے گئے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ؎
سمجھا تھا اس کے دل میںمری بات اتر گئی
دیکھا بڑھا کے ہاتھ صدا بے اثر گئی
قرطاسِ انتظار پہ نقشِ دوام ہوں
اک عمر اسی سراب کے پیچھے گزر گئی
رسوائیوں کی بھیڑ نے شہرت کی بھیک دی
قسمت ہمارے ساتھ بھی کیا کھیل کر گئی
یہ اشعار بھی دیکھیں جو بحرِ مضارع مثمن اخرب(مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن) میںکہے گئے ہیں ؎
لگتا ہے عشق کا یوں آزار روتے روتے
کرتا ہوں اس سخن کا اظہار روتے روتے
آئے ہیں ایک سے اک سردار روتے روتے
تیرے حضور آئے سردار روتے روتے
تیری گلی اتر کر تیری گلی نکل کر
تکتے ہیں سائلانِ دیدار روتے روتے
بحرِ متقارب مثمن سالم(فعولن فعولن فعولن فعولن) ایک کثیر الاستعمال بحر ہے،اس میں روانی اور نغمگی دونوں ہے،اس بحر میںکہے گئے یہ اشعار پیش ہیں ؎
گیا تھا پھسل پانو راہِ عمل میں
گرا تو لگی چوٹ کس کر بغل میں
مری روسیاہی تو پھیلی ہے ہر سو
سمٹ آئی مسکان اس کی کنول میں
مرے حوصلوں کا جواں اسپِ تازی
بندھا ہے ترے ظلم کے اصطبل میں
مذکورہ بالا اشعار ان بحور اوزان میں ہیں جن کا استعمال زیادہ تر شعرا نے کیا ہے،اور یہ اوزان بہت رواں اور ترنم خیز ہیں،ان اوزان میں کہے گئے اشعار فنی اور معنوی اعتبارسے بھی بہت پُر اثر ہیں،ان میں ترسیل کا کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے،یہ اشعار ان شعروں کے مقابلے سریع الفہم اور معانی و مفاہیم سے ہم رکاب بھی ہیں، جو مشکل اوزان اور ثقیل الفاظ میں کہے گئے ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ غزلیہ شاعری میں ثقیل الفاظ کے استعمال سے اس کا معیار بہت بلند نہیں ہوجاتا،بلکہ الفاظ کی ثقالت شعر کی تفہیم میں کچھ حد تک مانع ہو تی ہے۔ شعر اگر عام فہم ہو،تووہ قاری کے دل پر فوراً اثر کرتا ہے، ایسی ہی خوبی مذکورہ بالا شعروں سے جھلکتی ہے۔ بہرطور اقبال کرشن کی شاعری کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اقبال کرشن نے اشعار صرف خواص کے لیے ہی نہیں بلکہ عوام کے لیے بھی کہے ہیں۔اور چونکہ وہ عروض داں بھی تھے اس لیے اس کے اظہار کے لیے انھوں نے مستعمل بحور و اوزان کے علاوہ مشکل بحو واوزان میں بھی غزلیں خلق کی ہیں۔
Meraj Ahmad Meraj
Kulti
Pachim Bardhman (West Bengal)
Mob.: 8918960724
merajahmad333@yahoo.in