ڈاکٹر شمس اقبال نے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر کا چارج سنبھالا

March 19, 2024 0 Comments 0 tags

رخصت پذیر ڈائرکٹر پروفیسر دھننجے سنگھ نے انھیں چارج سونپتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا

 نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نئے ڈائرکٹر کے طورپر آج ڈاکٹر شمس اقبال نے چارج سنبھال لیا۔ اس موقعے پر ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا ، جس میں رخصت پذیر ڈائرکٹر پروفیسر دھننجے سنگھ نے ڈاکٹر شمس اقبال کو چارج سونپتے ہوئے گلدستہ پیش کرکے ان کا استقبال کیا اور اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ کونسل کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے میرے سات آٹھ مہینے بہت یادگار تھے، نئے ڈائرکٹر کے طور پر ڈاکٹر شمس اقبال کا میں تہہ دل سے استقبال کرتاہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ کونسل جیسے اردو کے مرکزی ادارے کے لیے شمس اقبال صاحب سے بہتر انتخاب نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ برسوں سے حکومتِ ہند کے اہم ترین ادارے این بی ٹی میں ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور اس عرصے میں انھوں نے اردو زبان کے فروغ اور اردو کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں قابلِ قدر کارنامے انجام دیے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ ان کی سربراہی میں کونسل ترقیات کی نئی منزلیں طے کرے گی۔

 ڈاکٹر شمس اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومتِ ہند اور وزارتِ تعلیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے قومی اردو کونسل جیسے اردو کے اہم ادارے کی ذمے داری مجھے سونپی۔ انھوں نے کہا کہ کونسل محض ایک ادارہ نہیں ہے، بلکہ قومی سطح پرشرحِ خواندگی کو بڑھانے اور کتاب کلچر کے فروغ میں کونسل کا اہم کردار ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ کونسل کی باوقار شناخت کو مزید مستحکم کیا جائے اور اس کے ذریعے چلائی جارہی فروغ اردو کی اسکیموں کو دور دراز تک پہنچایا جائے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر شمس اقبال اس سے قبل این بی ٹی میں ایڈیٹر رہ چکے  ہیں، قومی اردو کونسل میں بحیثیت پرنسپل پبلیکیشن آفیسر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں اور طویل انتظامی تجربات رکھتے ہیں۔

اس موقعے پر کونسل کا تمام اسٹاف موجود رہا اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر جناب محمد احمد کے اظہارِ تشکر کے ساتھ استقبالیہ تقریب کا اختتام ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

خواجہ حسن ثانی نظامی کی انفرادیت – مضمون نگار: زاہد احسن

  خواجہ حسن ثانی نظامی کی پیدائش 15؍مئی 1931کو دہلی میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیا سے متصل ان کے پشتینی مکان میں ہوئی۔ تعلیم ان کو وراثت میں ملی

میر تقی میر از نثار احمد فاروقی :مبصر: :اسماء

میرشناسی کے باب میں نثار احمد فاروقی نہایت اہم نام ہے۔ میر تقی میر:شخصیت و فن کے حوالے سے اس کتاب کی اہمیت اس لیے دوبالا ہو جاتی ہے کہ

اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے دکن کا حصہ – مضمون نگار : احمد

  اردو بر ِ صغیر میں عام بول چال کی وہ زبان ہے جس کا قدیم ہند آریائی زبان سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ ہندوستان میں رابطے اور بول