آکاش وانی کا 90 سالہ سفر،مضمون نگار:اختر آزاد

January 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

آکاش وانی سنسکرت کے دو لفظوں کا مرکب ہے۔ آکاش +وانی۔ جس کے لغوی معنی ’آسمان سے آنے والی آواز‘ یا ’الہامی آوازہے‘۔’آکاش وانی‘ لفظ کا پہلی بار استعمال آل انڈیا ریڈیو کے لیے مراٹھی اور انگریزی کے مشہور مصنف پنڈت نرسمہا چنتا من کیلتکر نے کیا تھا جو انڈین نیشنل کانگریس کے فعال رکن، صحافی اور پیشے سے وکیل تھے۔ بعد میںاس سنسکرت اصطلاح کو آل انڈیا ریڈیو کا سرکاری ہندی نام دے دیا گیا۔ جس نے آنے والے دنوں میں تمام ہندوستانیوں کے دلوں پر راج کیا۔
آل انڈیا ریڈیو کی باقاعدہ نشریات 8جون 1936 کو شروع ہوئی تھی۔اس کا پہلا نام Indian State Broadcasting Service تھا۔اس کی پہلی باقاعدہ نشریات 23جولائی1927 کو بمبئی ریڈیو اسٹیشن سے ہوئی۔
2025 کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پورے ہندوستان میں آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن کی تعداد 591 ہے۔ یہ ریڈیو اسٹیشن ملک کی 98 فیصد آبادی تک اپنی رسائی فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ملک کی 23 زبانوں اور 146بولیوں میں اپنی نشریات فراہم کرتا ہے۔ اگر ایف ایم نشریات کو شامل کر لیں تو 92فیصد جغرافیائی حدود کے ساتھ تقریباً 99 فیصد لوگوں تک آکاش وانی اپنی نشری خدمات پیش کرتا ہے۔
جہاں تک آکاش وانی سے نشر ہونے والے اہم پروگراموں کی بات ہے تو کم سے کم سو سے زیادہ پروگرام ایسے ہیں جسے سامعین کا بھرپور پیار ملا، لیکن ان میں سے اگر دس مخصوص پروگرام کی بات کی جائے جس نے برسوں اپنے سننے والوں کے دلوں میں راج کیاتو ان پروگراموں کی ترتیب ہمیں کچھ اس طرح بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
1 بناکا گیت مالا پروگرام جسے امین سیانی کی مخصوص آواز میں(بھائیو اور بہنو!… میں آپ کا دوست امین سیانی ) رکارڈ ہونے والاہر دلعزیز پروگرام 3 دسمبر 1952 کو شروع ہوا۔ہر بدھ کی شام نغمہ پریمیوں کو اس کا بے صبری سے انتظار رہتا تھا۔ یہ ریڈیو cylon broadcasting corporation سے نشر ہوتا تھا۔اس کے بند ہونے کے بعداس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے آل انڈیا ریڈیو پر Vividh bharti Service کے تحت 1988 سے نشر کیا جانے لگا تھا۔پہلے اسے’ بناکا‘ کہا جاتا تھا لیکن ہندوستان میں اسپانسر چینج ہونے کی وجہ سے اس کا نام’ بنا کا ‘سے’ سیباکا ‘ہو گیا۔ قریب 42سال تک یہ پروگرام چلتا رہا۔ اس کی آخری قسط 4اپریل 1994 کونشر ہوئی تھی۔
2 یوواوانی۔۔۔۔۔: اس کا آغاز1969 میں ہوا۔ اس پروگرام میں نوجوان نسل کی ذہنی تربیت کو سامنے رکھ کر ان کے لیے مباحثے، ڈرامے، مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اہم شخصیات کے ان انٹرویوز کونشر کیا گیا جنھیں سن کر نئی نسل اپنے مستقبل کو سجا سنوار سکے۔ یہ پروگرام قریب 35 برسوں تک نوجوان دلوں کی دھڑکن بنارہا۔ 1 جون2024 کوچند وجوہات کی بنیاد پر اس پروگرام کو بند کر دیا۔
3 ہوا محل: اس کا آغاز 1956 میں ہوا۔یہ پروگرام ہندوستان کی مختلف زبانوں میں لکھی گئی کلاسیکل کہانیوں اور ڈراموں پر مبنی ہوا کرتا تھا۔ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کو نہایت ہی ہنر مندی کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔ جو رات میں 9سے 9:20 تک ادیبوں، شاعروں، نقادوںاور فنون لطیفہ سے جڑے فنکاروں کے دلوں میں سانس بن کر دھڑکتا تھا۔ اس پروگرام نے خاص و عام کے دلوں میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑے تھے۔
4 چھایا گیت: اس کی شروعات 1956 میں ہوئی ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام تھا جس میں فرمائشی نغمے پیش کیے جاتے تھے۔ موسیقی کے دلدادہ پوسٹ کارڈ میں ا پنے پسندیدہ نغمے اور فلموں کے نام لکھ کر بھیجتے تھے اور اناؤنسر میٹھی میٹھی جادو بھری باتوں کے درمیان جب فرمائش کرنے والے کا نام اور اس کے شہر کا نام لیتاتھا تو فرمائش کرنے والے کے ساتھ ساتھ ان کے عزیزواقارب اور دوست واحباب جھوم اٹھتے تھے ۔ایسا لگتا تھا جیسے انھیں قارون کا کوئی خزانہ مل گیا ہو۔مہینوں اس کا ذکر چلتا رہتاتھا۔
5 کرشی درشن: اس پروگرام کا آغاز پہلی بار آل انڈیا ریڈیو پر1966کو ہواتھا۔ باقاعدہ اس پروگرام کی شروعات 26 جنوری 1967 سے ہوئی۔ اس میں کسانوں کو زرعی معلومات، نئی تکنیکوں کی جانکاری، کس موسم میں کون کون سی فصل لگائی جاسکتی ہے اور کم محنت میں کس طرح زیادہ سے زیادہ فصلیں اگائی جاسکتی ہیں، اس سے متعلق معلومات زراعت سے جڑے لوگ فراہم کیا کرتے تھے جس کے سب ہندوستان میں زراعت کا گراف دھیرے دھیرے اپنی اونچائیوں کو پہنچا۔ گرین ریولولیشن کا آغاز ہوا۔غذائی امپورٹ میں کمی آئی اور ایکسپورٹ بڑھا۔
6 ریڈیو نیوز؍سماچار:اس کی باقاعدہ شروعات 1936 میں ہوئی تھی۔جس میں بین الاقوامی خبریں ،اس کے تجزیے اورساتھ ہی ساتھ فیچرس پیش کیے جاتے تھے۔ ان دنوں جب کبھی حادثات و واقعات پیش آتے تو اس کی جانکاری پورے ہندوستان میں اس پلیٹ فارم سے لوگوں تک پہنچائی جاتی تھی۔ یعنی خبر رسانی کی دنیا میں آکاش وانی سب سے بڑا رول ادا کیاکرتا تھا۔
7 وودھ بھارتی سروس: اس کی شروعات 3 اکتوبر 1957 کو ہوئی تھی۔ جس میں خصوصیت کے ساتھ فلمی نغمے، ڈرامے، مشاعرے، انٹرویوز، خصوصی فیچرس پیش کیے جاتے تھے، لیکن اس پروگرام کی انفرادیت اس بات سے تھی کہ ہمارے وہ فوجی بھائی جو اپنے خاندان کو چھوڑ کر سرحد پر تعینات تھے ان کی د ل بستگی کا سامان بھی وودھ بھارتی کے پروگرام میں شامل تھا۔ فوجیوں کے درمیان یہ بے حد مشہور تھا اور ہر پوسٹ پر ہمارے فوجی بھائی اس پروگرام کو سننے کے لیے بے تاب دکھائی دیتے تھے۔
8 بھولے بسرے گیت: اس پروگرام کا آغاز 1960 میں ہوا وہ آج کی طرح ٹی وی، موبائل کا زمانہ نہیں تھاکہ جب چاہیں پرانے گانوں کو سن لیں ۔سننے کے لیے اس وقت ایک ہی ذریعہ تھا اور وہ تھا ریڈیو۔ اسی مقصد کے تحت ویسے نغمے جو لوگوں کے ذہن سے محو ہوتے جا رہے تھے انہی بھولے بسرے گیتوں کو لوگوں تک پہنچاکر ماضی سے حال کا رشتہ استوارکرنے کا مقصد یہ پروگرام اپنے پہلو میں رکھتا تھا۔بزرگوں کے درمیان یہ پروگرام بے حدمقبول تھا۔
9 بال منڈل اور بال سبھا: جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ پروگرام بچوں کے لیے مخصوص تھا۔ اس کا آغاز 1940 میں ہوا۔ جن میں کہانیاں، نظمیں، ڈرامے، سوال وجواب اور تعلیمی معلومات سے متعلق کئی دیگر پروگرام ایسے تھے جو خاص کر کم عمر طلبا کی ذہنی تربیت کو سامنے رکھ کر نشر کیے جاتے تھے تاکہ ہمارے بچے اسے سنیں۔ اس سے وقتی طور پر لطف اندوز ہوں اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات کچھ ایسے مرتب ہوں کہ وہ بہتر انسان بن سکیں۔ قوم وملت کی خدمت کر سکیں۔ ملک کا بوجھ اپنے کاندھے پر اٹھا سکیں ۔
10 اردو سروس: آل انڈیا ریڈیو کی نشریات جب شروع ہوئی تو اس وقت پورے بر صغیر میں اردو رابطے کی ایک زبان تھی۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان اردو ہی تھی۔ اردو کی مقبولیت بلا مذہب و تفریق سب کے سر چڑھ کر بول رہی تھی۔ ایسے میں الگ سے آل انڈیا ریڈیو نے’ اردو سروس ‘کے نام سے ایک نشریاتی شاخ قائم کی۔ 1939 میں نئی دہلی ریڈیو اسٹیشن سے پہلی اردو سروس کے تحت ادبی پروگرام کا آغازہوا۔ جن میں مشاعرے، افسانے، ڈرامے، خبریں اور تبصرے شامل تھے۔ فلمی اور غیر فلمی نغموں کے ساتھ خصوصی طور پر غزلیںبھی پیش کی جاتی تھیں۔ اس پروگرام نے نہ صرف ہندوستان بلکہ ہندوستان سے باہر پاکستان اور خلیجی ممالک میں بھی اردو کے پرچم لہرائے اور اردو سے عشق کرنے والے پیدا کئے۔
آکاش وانی کے دس اہم پروگرام کی تفصیلات کے بعد کچھ اور دوسرے اہم پروگرام کی طرف آپ کو لے کر چلتے ہیں۔ دراصل ریڈیو گاؤں والوں کے لیے ہمیشہ سے لائف لائن رہا ہے۔جن میں گرام جگت کھیتی گرہستی، چوپال، کسان وانی، گرام سبھا جیسے پروگراموں نے کسانوں کی قسمت کو بدلنے میں اپنا اہم رول نبھایا ہے۔ ناٹیہ منجری، سنگیت سریتا، راشٹریہ کاریہ کرم جیسے پروگراموں کے ذریعہ خاص موضوع پر ڈاکومینٹریز اور ڈرامے پیش کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ موسیقی، فلم اور آرٹ سے تعلق رکھنے والے کلاسیکل آرٹسٹوں کے انٹرویوز اور ان کی زندگی سے جڑے اہم قصوں کے ذریعہ دراصل نئی نسل کی رہبری کی جاتی رہی ہے۔ آرٹ اینڈ کلچر کو بڑھاوا دیا جاتارہا ہے۔فیملی ویلفیئر پروگرام اور صحت عامہ سے جڑے مسائل پر سواستھیہ رکچھک، پریوار کلیان، سواستھیہ سندیش پیش کیے جاتے رہے ہیں۔انسانی حقوق اور اس کے تحفظ کی خاطر ’قانون کی بات‘ جاگرکتاپروگرام نشر کیا جاتا رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو ایسا نشری ادارہ ہے جوسرکاری منصوبوں کو عوام تک آسان زبان میں پہنچانے کا کام کرتا ہے تاکہ اسے سرکاری منصوبوں کا فائدہ ہو سکے۔ اس جن کلیان وارتا کے تحت’ صحت بیمہ، پریوار کلیان، ٹیکا کرن منصوبوں کو سمجھایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ منریگا ، پردھان منتر آواس یوجنا، اجولا یوجناپر گفتگوبھی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سرکاری منصوبوں کو کارآمد بنانے کے لیے ریڈیو ڈرامے اور فیچر بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ جس میں’ نیا سویرا ‘ کے تحت’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم پر ناٹک۔ سوچھ بھارت ۔۔۔ہماری ذمہ داری کے تحت صفائی مہم پر فیچر پیش کیے جاتے ہیں۔گیت اور جِنگل کے تحت فیملی پلاننگ پر نعرہ ’’جیسے ہم دو ہمارے دو۔ ‘‘ پولیو کے لیے ’دو بوند زندگی کے‘ اوردوسرے کئی سرکاری منصوبے جیسے، کسان کریڈٹ کارڈ،ایجوکیشنل کریڈٹ کارڈ، بھارت کی بات، جن سیوا، آؤ سمجھائیں یوجنا وغیرہ آکاش وانی پر پیش کیے جاتے ہیں۔ آکاش وانی نے گاندھی جی سے جڑے بے شمارپروگرام پیش کیے ہیں۔ گاندھی جی کی زندگی اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کے ہفت رنگ پہلوؤں کودکھانے کے لیے ریڈیو پر ’گاندھی درشن، گاندھی کے وچار، ستیہ اور اہنسا،گرام سوراجیہ، دانڈی یاترا، بھارت چھوڑو آندولن، ستیہ گرہ جیسے موضوع پر بے شمار مذاکرے، ناٹک اور فیچر بھی پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے اصولوں کی روشنی میں بحث ومباحثے بھی کرائے گئے۔ 3 اکتوبر2014سے ہمارے وزیر اعظم جناب نریندر مودی صاحب کی زبانی ’من کی بات‘ پروگرام دوردرشن کے ساتھ ساتھ آکاش وانی پر بھی ہر ماہ کے آخری اتوار کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے عوام کو بیدارکرنے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کی کارگزاریوں کو سامنے لایا جاتا۔ ڈیساسٹر اور قدرتی آفات جیسے سیلاب، زلزلہ، سائیکلون ،سونامی، وبائی امراض کے دوران آکاش وانی فوری طور پر خبریں نشر کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے تدارک اور روک تھام کے لیے سرکاری اعلان کو ریڈیو کے ذریعہ گھر گھر پہنچانے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ ہیلپ لائن نمبر جاری کرتا ہے، افواہوں سے بچنے اور فوری طور پرامدادی اشیا کی فراہمی کی خبریں نشرکرتا ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری اور این جی اوز کے منصوبوں کو لوگوں تک پہنچاتا ہے۔مثال کے طور پر 1999 کے اوڈیشہ سائکلون اور 2004 کے سونامی میں آکاش وانی نے راحت بچاؤ سے منسلک خبریں عام لوگوں تک پہنچائیںاور لاکھوں لوگوں کی جانیں بچانے میں اپنا ایک اہم کردار ادا کیا۔ آکاش وانی نے کھیلوں کو لے کر بھی دیہی اور شہری عوام میں بیداری پیداکرنے کی کوشش کی ہے۔کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، کشتی، ایتھلیٹکس کے نیشنل اور انٹر نیشنل پروگرام یہاں تک کے اولمپکس، ایشین گیمزاور دیگر بڑے ٹورنامنٹ اور ولڈ کپ کی کمنٹری سنانے کا لائیو اہتمام برسوں سے آکاش وانی کرتا ہے۔ تعلیمی بیداری مہم کے تحت بھی آکاش وانی ایجوکیشن بیسڈ پروگرام نشر کرتا ہے جس کا مقصدبچوں کی بنیادی تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کی رہنمائی، سماجی و ثقافتی تعلیم، زبان وادب کی ترویج شامل ہیں ۔قومی یکجہتی کے فروغ میںبلا تفریق اور بلا امتیاز مذہب، ذات اور علاقہ کی مختلف زبانوں کے پروگرام، قومی تہواروں کا کوریج، موسیقی اور فنون لطیفہ کی نشریات میں آکاش وانی کا رول بہت اہم رہاہے ۔ قومی اتحاد کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کو قریب لانے، ہندوستانی تہذیب ووراثت کو سنجو کر رکھنے کی ذمہ داری بھی آکاش وانی نے بخوبی نبھائی ہے۔چاہے وہ ادب و زبان کا فروغ ہو یاپھر کلاسیکل موسیقی اور لوک گیت ہو، یا پھرہمارے تہوار اور رسومات ہوں یا پھرسماجی و ثقافتی بیداری ہو ۔ اس طرح کے تمام پروگرام کو ترجیحی بنیاد پر ہمیشہ سے آکاش وانی اپنے یہاں جگہ دیتا رہا ہے۔آدی واسی سماج کی تہذیب وثقافت کوبڑھاوا دینے کے لئے آکاش وانی نے ہمیشہ نمایاں رول ادا کیا ہے۔چاہے وہ آدی واسیوں کی شناخت کا مسئلہ ہو، مقامی زبان کے فروغ کا معاملہ ہو،لوک سنگیت اور فون لطیفہ کو اہمیت دینے کی بات ہو، اس میں کبھی پیچھے نہیں رہاہے۔
آل انڈیا ریڈیو کی طرف سے جنوری 1936 میں ایک پندرہ روزہ رسالہ اردو اور ہندی زبان میں جاری کیا گیاتھا جس میں آنے والے پندرہ دنوں کی تفصیلات درج ہوتی تھیں۔ یہ بے حد مقبول رسالہ تھا۔ ان تفصیلات کو پڑھ کر لوگ اپنے پسندیدہ پروگرام کے لیے وقت نکالا کرتے تھے۔ جولائی 1938 میں یہ رسالہ دو حصوں میں منقسم ہو گیا۔ ہندی پتریکا کا نام’ سارنگ‘ پڑا، تو اردو رسالہ کا نام’ آواز‘ رکھا گیا۔اس رسالے کا شماراس وقت اردو کے معیاری رسالوں میںہوتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اردو کے بڑے بڑے فنکار اپنی کہانیوں کو، اپنی غزلوں کو ،اپنے ڈراموں کو، اپنے سماجی، سیاسی اور دیگر شعبہ ٔ جات سے جڑے موضوعات پر لکھے مضامین کوآکاش وانی سے نشر کروانا اپنی شان سمجھتے تھے اور ان کی یہی تخلیقات ایک پالیسی کے تحت رسالہ’ آواز ‘کی زینت بنتی تھیں۔ جو ٹیلی کاسٹ کے وقت کسی وجہ سے سن نہیں پاتے تھے وہ رسالہ آواز کو خرید کر پڑھتے تھے اور بہترین تخلیقات سے محظوظ ہوتے تھے۔
ہندوستانی کرکٹ اورریڈیو کمنٹری کبھی لازم وملزوم سمجھے جاتے تھے۔ آل انڈیا ریڈیو پر کرکٹ کمنٹری کی باقاعدہ شروعات 1936 میں ہندوستان اور انگلینڈکے درمیان کلکتہ میں کھیلے جانے والے ٹسٹ میچ سے ہوئی تھی۔ ویسے 1934 میں آزمائشی نشریات کے طور پربمبئی میںکھیلے گئے ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ہی ہو چکی تھی۔ 1983 میںجب ہندوستان نے ولڈ کپ جیتا تو آدھی رات کو لوگوں کے کانوں میں آکاش وانی کی صدائیں گونج رہی تھیں۔
اب آکاش وانی کا رینج اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ایف ایم، سٹیلائٹ، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور آن لائن اسٹریمنگ کے ذریعہ آکاش وانی کو پوری دنیا میں سنا اور پسند کیا جاتا ہے۔ اس کے اندر 140کروڑ ہندوستانیوں کے جذبات بھی ہیں اوربھارتیوں کی آواز بھی۔
اپنے 90 برس کے شاندار سفر میں آکاش وانی نے کئی اہم پڑاؤ دیکھے ہیں اور ہر پڑاؤ میں اپنے ساتھ بہت ساری یادوں کو سمیٹا ہے۔ آکاش وانی آج صرف ایک ریڈیو اسٹیشن نہیں ہے۔بلکہ ایک جیتا جاگتا ہندوستان ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت، موسیقی، زبان اورادب کا ایک گہوارہ ہے۔ اس میں ایک سو چالس کروڑہندوستانیوں کی روح بستی ہے۔۔۔۔۔۔لیکن سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ کے دور میں بقا کی جنگ کا بھی معاملہ ہے ۔ جس سے اسے آج لڑنا ہے۔اپنے مستقبل کو سجانا ہے سنوارنا ہے۔

Dr. Akhtar Azad
Assistant Professor, Dept of Urdu
TNB College
Bhagalpur-812007 (Bihar)
Mo.: 9572683122 dr.akhtarazad@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

قانونی صحافت میں روشن مستقبل کے امکانات،مضمون نگار: خواجہ عبدالمنتقم

اردودنیا،جنوری 2026: سنسی خیز صحافت یازردصحافت(Journalism Yellow) سے وہ صحافت مراد ہے جس میں خبروں کو بڑھا چڑھا کریا جذباتی انداز میں پیش کیا جاتاہے اور سنسنی خیز خبروں، اشتعال

ماہنامہ نیا دور کا ادبی اور صحافتی سفر،مضمون نگار: رفیق احمد

اردو دنیا،نومبر 2025 مرکز علم وفن، شہر شعر و ادب اور علمی و تہذیبی تمدن کے گہوارے سر زمین لکھنؤ کو اردو زبان و ادب کے فروغ میں بڑی اہمیت

1857 سے قبل کے فارسی اخبارات اور ان کے غیرمسلم مدیران،مضمون نگار: عامر فہد

اردو دنیا،نومبر 2025 برطانوی استعمار کے زیرِ سایہ ہندوستان میں جن فکری اور تہذیبی تبدیلیوں نے جنم لیا، ان میں صحافت کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ