قاضی سجاد حسین اور دیوانِ حافظ کا اردو ترجمہ،مضمون نگار: فیصل نذیر

January 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

جب ہم فارسی ادب،شاعری اور ان کے تراجم کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں جن کتابوں کے نام آتے ہیں ان میں گلستان سعدی، بوستاں سعدی، مثنوی، دیوان حافظ، کریما وغیرہ بہت اہم ہیں اور جب یہ سوچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بھلا ان کا اردو ترجمہ بھی کیا گیا کہ نہیں؟ تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام کتابوں کا نہایت ہی سلیس اور عمدہ ترجمہ کسی ایک شخصیت نے کر دیا، اور اس کے بعد آپ مزید دوسرا ترجمہ ڈھونڈتے رہ جائیں مگر تا ہنوز نہیں ملتا۔ اور یہ ترجمے بھی مترجم نے بلا کسی معاوضے اور کسی یونیورسٹی کی فراغ سے پُر زندگی گزارتے ہوئے نہیں بلکہ پرانی دلّی میں ایک دینی مدرسے میں ایک استاد کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے کیے، تو اس عظیم مترجم کے لیے دل میں احترام بڑھ جاتا ہے۔ وہ شخصیت قاضی سجاد حسین کی ہے جن کی علمی کاوشوں اور علم و ادب کے فروغ میں آپ کی خدمات کو دیکھتے ہوئے صدر جمہوریہ اعزار و انعام سے نوازا گیا تھا۔
قاضی مولانا سجاد حسین کی جائے پیدائش کرتپور بجنور اور سن پیدائش 3 نومبر 1910 ہے، آپ کے والد حکیم قاضی شمشاد حسین صاحب نے آپ کی تعلیم وتربیت پر مکمل توجہ دی۔عربی فارسی کی ابتدائی تعلیم کرتپور میں ہی ہوئی پھر انھیں دارالعلوم دیوبند بھیج دیا گیا، وہاں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی میں بحیثیت استاد درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ 1947 میں آپ صدر المدرسین مقرر کئے گئے، آپ ایک باکمال استاد تھے، مگر آپ کی علمی تشنگی روز افزوں تھی، لہٰذا آپ نے اپنا علمی سفر جاری رکھتے ہوئے آلہ آباد بورڈ سے فاضل کا امتحان دیا اور اول آئے، پھر پنجاب یونیورسٹی سے عربی زبان میں بی اے کیا، اس کے علاوہ منشی فاضل ودیگر امتحانات میں بھی کامیاب ہوئے۔ ایک بہترین علمی زندگی گزارنے کے بعد آپ 1990 میں اس دار فانی کوچ کر گئے، انتقال کے وقت آپ کی عمر 80 سال تھی۔
آپ قلم وقرطاس کے شہسوار تھے، آپ نے سبع معلقات کی شرح ’التوشیحات‘ کے نام سے لکھی، جو بہت مقبول ہوئی۔ آپ نے گلستان، بوستان، اخلاق محسنی کے تراجم بھی کیے۔ بوستاں کا 1955، گلستاں 1960، دیوان حافظ کا 1972 اور مثنوی مولانا روم کا 1976 میں ترجمہ کیا، آپ ہمدرد دوا خانہ میں معاون متولی بھی رہے۔ قاضی سجاد حسین کے تراجم بہت پسند کیے گئے، اور انھیں علمی حلقوں میں خوب سراہا گیا، آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کو 1966 میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کے ہاتھوں ’سر ٹیفکیٹ آف آنرز ان پرشین‘ دیا گیا۔
آپ کے اہم ترین کارناموں میں حافظ شیرازی کے ضخیم دیوان کا اردو ترجمہ بھی ہے، حافظ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، ان کے اشعار ضرب المثل ہیں، جو قصے کہانیوں اور عبرت کے بطور ہر شخص کی زبان پر ہیں۔ حافظ کا مکمل نام خواجہ شمس الدین محمد حافظ ہے، آپ سن 1325 میں ایران کے مشہور شہر شیراز میں پیدا ہوئے، ابتدائی زندگی غربت میں گذری، آپ ایک بیکری میں کام کرتے تھے۔ بعد کی زندگی میں بھی بہت تکلیفیں اور سختیاں دیکھیں، ایران پر کئی ظالم حکمرانوں کی حکمرانیاں دیکھیں، قتل و غارت گری کا گرم بازار دیکھا۔ حافظ کا انتقال 1390-91 میں ہوا۔
دیوان حافظ سہل؛ ضرب المثل اشعار اور نصیحت آموز قصے کہانیوں سے پر ہے، یہ دیوان اپنے علمی وادبی معیار میں گلستاں و بوستاں سے کسی طرح فروتر نہیں ہے، مگر بد قسمتی سے درسیات کو اس طرح شامل نہیں کیا گیا جیسا کہ شیخ سعدی کی گلستاں وبوستاں کو اور بعض جگہ مثنوی مولانا روم کو شامل کیا گیا ہے۔
حافظ نے شاعری کے علاوہ تفسیر قرآن بھی تحریر کی تھی۔ محمد گل اندام کے بقول حافظ شیرازی نے ’کشاف‘ اور ’مصباح‘ کے حواشی بھی تحریر کیے۔ حافظ کے مندرجہ ذیل اشعار ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں:
صلاح کار کجاؤ من خراب کجا
ببیں تفاوت رہ از کجا تا بہ کجا
ما قصۂ سکندر و دارا نخواندہ ایم
از ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس
فارسی اشعار میں وقفہ، سکتہ اور سوالیہ نشان اور دیگر علامات کا استعمال بالکل نہیں کیا گیا ہے، مگر ترجمے میں مولانا سجاد حسین نے اس بات کا مکمل اہتمام کیا ہے جو اصل متن سمجھنے میں معاون ہے۔ مثلا ایک شعر ہے ؎
لطف باشد گر نپوشی از گداہا روت را
تا بکامِ دل ببیند دیدۂ ما روت را
شعر پڑھ کر اولا مجھے ایسا لگا کہ یہ قرآن کریم میں موجود قصہ ہاروت و ماروت کی بات ہو رہی ہے لیکن جب ترجمہ پر میری نظر پڑی تب پتہ چلا کہ یہ لفظ ہاروت اور ماروت نہیں ہیں۔ شعر کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے ؎
’’مہربانی ہوگی، اگر فقیروں سے تو اپنا چہرہ چھپائے تاکہ ہماری آنکھ، دل بھر کر تیرا چہرہ دیکھ لے‘‘
یعنی اس شعر میں گدا کی جمع’گداہا‘ ہے اور ’روت‘ یہ رو یعنی چہرے کے معنی میں ہے اور ت اضافت کی ہے۔
بعض دفعہ اردو ترجمہ تحت اللفظ کرنے کی وجہ سے قدرے ثقیل ہوگیا ہے، جیسے دیوانِ حافظ کا پہلا شعر ہے ؎
ألا یا أیہا الساقی ادر کاسا وناولہا
کہ عشق آساں نمود اول، ولے افتاد مشکلہا
ترجمہ کیا گیا ہے ؎
آگاہ! اے ساقی پیالے کا دور چلا اور وہ دے
کیونکہ ابتداً عشق آسان نظر آیا، لیکن مشکلیں آن پڑیں۔
یہاں عربی کے حرف تنبیہ ’ألا‘ کا ترجمہ بعینہ کرنے کی وجہ سے ترجمے کا حسن قدر ے مدھم نظر آتا ہے اور ’وناولہا‘ میں ھا ضمیر کا ترجمہ ’اور وہ دے‘ قاری کے لیے غموض پیدا کر دیتا ہے۔ اسی غزل کے مقطع میں کہتے ہیں ؎
حضوری گر ہمی خواہی از وغائب مَشَو حافظ
متی ما تلقَ من تہوی دع الدنیا وأمہلہا
’’اے حافظ تو حضوری چاہتا ہے تو اس سے غائب نہ ہو۔ جب تیری محبوب سے ملاقات ہو تو دنیا کو چھوڑ اور اس کو ترک کردے۔::
امہلہا لفظ میں ضمیر کا ترجمہ ضمیر سے کر کے یہاں پر بھی انھوں نے غموض پیدا کر دیا اور ترجمہ ’اس کو ترک کردے‘ پڑھ کر قاری تھوڑی دیر کے لئے یہ سوچ سکتا ہے کہ دنیا کو ترک کرنے کی بات ہو رہی ہے یا محبوب کو ترک کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن اکثر جگہ انھوں نے نہایت ہی سلیس، صاف، شائستہ اور شستہ ترجمہ کیا ہے، جس سے مترجم کی مہارت ظاہر ہوتی ہے: شعر ہے ؎
تا جمالت عاشقاں را، زد بوصل خود صلا
جان و دل افتادہ اند، از زلف و خالت در بلا
’’جب سے ترے حسن نے عاشقوں کو اپنے وصال کی دعوت دی ہے ، جان اور دل تیری زلف اور تل سے مصیبت میں پڑے ہیں۔‘‘
آنچہ جانِ عاشقان از دستِ ہجرت می کشد
کس ندیدہ در جہاں جز کُشتگانِ کربلا
’’ عاشقوں کی جان تیرے فراق کے ہاتھ سے، جو کچھ برداشت کر رہی ہے،کربلا کے شہیدوں کے علاوہ، کسی نے دنیا میں نہیں دیکھا ہے‘‘
ایسے ہی ایک مشہور شعر ہے ؎
اگر آں ترکِ شیرازی بدست آرد دلِ ما را
بخالِ ہندوش بخشم سمرقند وبخارا را
اس کا ترجمہ انھوں نے اس طرح کیا ہے ؎
’’اگر وہ شیرازی معشوق، ہمارا دل تھام لے تو اس کے دل فریب تِل کے عوض، میں سمرقند و بخارا بخش دوں‘‘
حالانکہ اکثر مترجمین بخالِ ہندوش کا ترجمہ ہندستانی تل کر دیتے ہیں۔
’دیوانِ حافظ‘ کے پہلے انگریزی مترجم ولیم جونز نے بھی اس نے بھی اس شعر کے ترجمے میں غلطی کی ہے اور ’ہندوش‘ کا ترجمہ انھوں نے بھی ہندوستانی کہا ہے:
If that Shirazi Turk, accepts my heart in their hand
For their Indian mole, I will give Samarkand and Bukhara
اِسی غزل کا ایک اور شعر ملاحظہ ہو ؎
من از آں حُسنِ روز افزوں کہ یوسف داشت دانستم
کہ عشق از پردۂ عصمت بروں آرد زلیخا را
’’میں اس روز بروز بڑھنے والے حسن سے، جو کہ یوسف رکھتے تھے جان گیا تھا کہ عشق زلیخا کو، پاکی کے پردے سے باہر نکال لائے گا۔‘‘
مزید کچھ ترجمے ملاحظہ ہوں ؎
جانا تو را کے گفت کہ احوال ما مپرس
بیگانہ گرد و قصۂ ہیچ آشنا مپرس
’’اے محبوب تجھے کس نے کہا ہے کہ ہمارے حالات نہ پوچھ، بیگانہ بن جا، اور کسی آشنا کی بات نہ پوچھ۔‘‘
ہیچ آگہی زعالم دَرویشیش نبود
آن کس کہ با تو گفت کہ درویش را مپرس
’’اس کو درویشی کی دنیا کی، کچھ واقفیت نہ تھی، جس نے تجھ سے کہہ دیا ہے کہ درویش کو نہ پوچھ۔‘‘
قاضی سجاد حسین صاحب کے تمام تراجم اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ بوریا نشیں عالم دین کس قدر کثیر المطالعہ، جفا کش، اور علمی تشنگی لیے ہوا تھا، جو داد و دہش اور صلہ کی فکر کیے بغیر رہتی دنیا تک کے لیے ایک عظیم علمی ورثہ چھوڑ گیا، اُس دور میں جب کہ نہ کوئی دوسرا ترجمہ حوالے کے لیے موجود تھا نہ ایران میں موجود محقق و اسکالر سے رابطے کے فوری وسائل دستیاب تھے، ایسے وقت میں فارسی کے تمام اہم اور اعلی متون کا ترجمہ کرنا، ایک ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔

Dr. Faisal Nazir
504, Green View Apartment
Near Kala Vidyalaya School
Mahada, Malwani, Malad,
Mumbai- 400095 (Maharashtra)
Mob.: 9818697294
faislanzr40@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عنایت اللہ حجام اور میر تقی میر کا ادبی معرکہ

عنایت اللہ، حجام عرف کلو قوم کے حجام تھے۔اسی مناسبت سے تخلص بھی حجام رکھا تھا۔انہیں سودا کی شاگردی پر بہت ناز تھا۔ان کے سوا کسی شاعر کو خاطر میں

بنگال کی لوک کہانیوں میں بھوت اور فنتاسی کی جھلکیاں ، مضمون نگار: سلمان فارسی

اردودنیا،فروری 2026: بنگال برصغیر کی وہ سرزمین ہے جس نے ہمیشہ اہلِ نظر کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ تہذیب و تمدن کے آئینے میں اگر کسی خطے کی رنگارنگی

ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی و تحقیقی کارنامے مضمون نگار: رشدہ شاہین

سیّدہ جعفرحیدر آباد کی ایک مایہ ناز علمی و ادبی شخصیت ہیں۔اُن کا شمار ہندوستان کی دانشور خواتین میں ہوتا ہے۔ وہ ایک اعلیٰ پایہ کی استاد، انشا پرداز، محقق