اردودنیا،جنوری 2026:
تنقیدروایتی سے جدید اور جدید سے مابعد جدید ہوگئی لیکن پھر بھی تنقید کا منصب وہی ہے، یعنی تنقید کا مقصد آج بھی فن پاروں کا تعین قدر کرنا اور ان کو منصبِ اصلی پر فائز کرنا ہے۔ اردو ادب میں بہت سے تنقیدی نظریات موجود ہیں جن کی بدولت ہم متن کی الگ الگ شرح کرتے ہیں۔ اور فن پارے کا بار بار مطالعہ کرکے ان گوشوں کو چھونے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ متن میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی تنقید بھی ان ہی نظریات میں سے ایک ہے۔
ماحولیاتی تنقید کو سمجھنے کے لیے ہمیں چند مفروضات کو سمجھنا ہوگا۔ ماحول سے کیا مراد ہے؟ ماحولیاتی تنقید کیا ہے؟ ماحولیاتی تنقید کو تنقید کہا بھی جاسکتا ہے یا نہیں؟ کیا فطرت نگاری اور ماحولیاتی تنقید ایک ہے؟اگر ماحولیاتی تنقید کو تنقید مان بھی لیا جائے تو کیا یہ ادبی تنقید میں ثمر آور ثابت ہوگی؟یہ ایسے سوالات ہیں جو با ذوق قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔آیئے ان مفروضات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ادب میں بارش، دھوپ، جنگل، ندیاں اور اسی طرح کی چیزوں کا ذکر جن کا تعلق ماحول سے ہے ماحولیاتی تنقیدسمجھاجاتاہے لیکن بات یہ ہے کہ ماحول اور ماحولیاتی تنقید دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ماحول فرانسیسی زبان کے لفظ ’Environa‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ’گھیرنا‘ ہے۔ اردو لغت میں اگر اس کے معنی دیکھیں تو ’ارد گرد‘ کے ہیں۔یعنی ہمارا آس پاس ،اس میں جاندار اور بے جان دونوں اشیا شامل ہیں۔گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے آس پاس جتنی بھی چیزیں ہیں مثلاً پیڑ پودے، چرند پرند، فصیلیں، عمارات وغیرہ ان سے ہمارا ماحول تشکیل پاتا ہے۔ لیکن جب محض ان اشیا کا ذکر ادب میں آتا ہے جن کا واسطہ فطرت سے ہے تو وہ فطرت نگاری کہلاتی ہے۔
اسماعیل میرٹھی کی ایک نظم ’ہوا چلی‘ ہے، کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
ہونے کو آئی صبح تو ٹھنڈی ہوا چلی
کیا دھیمی دھیمی چال سے یہ خوش ادا چلی
لہرا دیا ہے کھیت کو ہلتی ہیں بالیاں
پودے بھی جھومتے ہیں لچکتی ہیں ڈالیاں
پھلواریوں میں تازہ شگوفے کھِلا چلی
سویا ہوا تھا سبزہ اسے تو جگا چلی
ان اشعار میں صبح کی تازہ ہوائوں کو موضوع بنایا گیا ہے اور ان خصوصیات کا ذکر ہے جو کہ صبح کی تازہ ہوا میں پائی جاتی ہیں۔ صبح کی ہوا سے جیسے ہر اِیک چیز میں جان آجاتی ہے اور بند شگوفے کھل اُٹھتے ہیں۔ان اشعار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فطرت نگاری فطری اشیا کو ان کے اصل روپ میں پیش کرنا ہے اور ان کی حقیقت کو واضح کرنا ہے کیونکہ فطرت نگاری حقیقت نگاری کی ہی ایک ذیلی شاخ ہے۔اس کے برعکس اگر ہم ماحولیاتی تنقید کی بات کریں تو یہ ان عناصر کو زیرِ بحث لاتی ہے جن کا تعلق ماحول سے ہے۔ ماحول اور ادب کا ہمیشہ سے ہی چولی دامن کا ساتھ رہا ہے، لیکن ماحولیاتی تنقید مابعد جدید تنقید کی صورت میں نمودار ہوئی اس کے پیچھے جو سب سے بڑی وجہ بنی وہ ہے ماحولیاتی بحران اور یہ ماحولیا تی بحران بڑھتی سائنسی ایجادات اور صنعتی ترقی کا نتیجہ ہے۔ ان سے ایک طرف اگرچہ انسانی زندگی میں سہولت پیدا ہوئی مگر دوسری طرف ماحول میں بگاڑ بھی پیدا ہوا۔ کارخانوں سے نکلنے والے دھویں سے سانس لینا محال ہوگیا ہے، وہیں ایٹمی ایجادات سے انسانی زندگی خطرے کے دہانے پر پہنچ گئی۔ نباتات و حیوانات پر بھی اس کا اثر واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ماحولیاتی تنقید ادب میں ان ہی اجزا کو تلاش کرتی ہے۔ اس طریق نقد کا آغاز سب سے پہلے امریکہ میں ہوا۔ ارنسٹ ہیکل جو ماہرِ حیاتیات تھے انھوں نے سب سے پہلے ایکالوجی (Ecology) کی اصطلاح کو رائج کیا۔ ایکالوجی انسان، جانور اور پیڑ پودوں کا اپنے ماحول سے رشتہ یا وابستگی کا نام ہے۔ جب اس اصطلاح کا استعمال ادبی تنقید میں ہوا تو یہ Ecocriticismکہلائی۔ پہلے پہل اس نظریے کو سبز انتقادیات، سبز شعریات جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا تھا لیکن اب اس کے لیے ماحولیاتی تنقید کی اصطلاح رائج ہے۔ لیوپولڈ کی کتاب اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں زمینی اخلاقیات (Land Ethics) کو موضوع بنایا گیا اور بشر کی آمریت کو رد کیا گیا ہے۔ لیوپولڈ کا ماننا ہے کہ دنیا میں ہر ذی روح برابر کے شہری ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں جنگلوں کی حفاظت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ریکل کارسن کی کتاب Silent Spring ماحولیاتی تحریک کا نقطئہ آغاز بنی۔ اس کتاب میں امریکہ میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات کے خلاف احتجاج کیا گیا اور کیمیاوی اثرات کے خلاف آواز بلند کی گئی۔ 1978 میں ولیم ریئکرٹ (William Rueckert) نے ماحولیاتی تنقید کی اصطلاح کو اپنے مضمون Literature & Ecology: An Experiment in Ecocriticismمیں استعمال کیا۔ اس نظریے کو فروغ دینے میں جو نام سب سے اہم ہے وہ شیرل گلاٹ فیلٹی کا ہے جنھیں پہلا ماحولیاتی نقاد بھی تصور کیا جاتا ہے۔ ماحولیاتی تنقیدکی تعریف کرتے ہوئے گلاٹ فیلٹی(Glotfelty) لکھتے ہیں:
’’ماحولیاتی تنقید کیا ہے؟عام لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ادب اور ماحول کے رشتے کا مطالعہ ہے جیسے تانیثی تنقید زبان اور ادب کی جانچ پرکھ صنفی افتراقات کی بنیاد پر کرتی ہے اور مارکسی تنقید پیداوار کے ذرائع اور اقتصادی طبقات کی تلاش متن میں کرتی ہے، اسی طرح ماحولیاتی تنقید ادب میں ارض مرکوز طریق مطالعہ پرزور دیتی ہے۔‘‘ 1
اس اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ماحولیاتی تنقید ادب میں ارض مرکوز طریق کار پر زور دیتی ہے اور ادب اور ماحول کے درمیان رشتے کو وا کرتی ہے۔
1992 میں ایک ماحولیاتی ادبی تنظیم قائم کی گئی جس کا نام Association for the studies of literature and environment(ASLE) ہے۔ اس تنظیم کا مقصد ماحولیاتی ادب کی تحقیق کے علاوہ اس کی ترویج و ترقی بھی تھا۔1993 میں پٹرک مرفے نے Interdisciplinary studies in literature and environment(ISLE) نامی رسالہ جاری کیا جس کا مقصد ماحولیاتی فکر کو اجاگر کرنا تھا۔
ادب میں ماحول کو کس طرح سے پیش کیا گیا ہے، کیا ماحول کو ظالم بنا کر پیش کیا گیا ہے یا مظلوم، ماحولیاتی نقاد کا کام ان ہی چیزوں کو پرکھنا ہے، لیکن یہاں یہ بات ذہن نشیں رہے کہ ماحولیاتی تنقید ماحول کے ظالم ہونے کے مفروضے کو مسترد کرتی ہے اور یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ اس سب کا ذمہ دار بذاتِ خود انسان ہے۔ انسان کے بڑھتے لالچ نے نہ صرف جنگلوں کا صفایا کیا بلکہ گھروں سے نکلنے والے کوڑا کرکٹ اور صنعتی کارخانوں سے نکلنے والے فضلے سے آبی وسائل کو بھی آلودہ کردیا۔ اس سے ہوا یہ کہ نہ صرف جنگلی جانوروں کے ٹھکانے (Habitat Destruction) ختم ہوئے بلکہ آبی زندگی بھی متاثر ہوکر رہ گئی۔انسانی جغرافیے میں ایک نظریہ ہے جس کا نام ہے ڈٹرمنزم۔ اس نظریہ کے ڈانڈے بھی ماحولیاتی تنقید سے جا ملتے ہیں۔ ڈٹرمنزم کی تعریف یہ ہے :
’’وہ فلسفے، نقطئہ نظر اور طریق کارجو ماحول کے ساتھ تعلق اوراس کی فکر سے جنم لیتے ہیں ماحولیاتی عزم کہلاتے ہیں۔ ماحولیاتی عزم کے مکتبہ فکرکا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرتی گروہ کی تاریخ، ثقافت، طرزِ زندگی اور ترقی کے مرحلے زیادہ تر یا مکمل طور پر ماحول کے مادی عوامل (جیسے زمین کی ساخت،آب و ہوا، حیوانات و نباتات) پر ہی منحصر ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی عزم عام طور پرانسان کو ایک غیر فعال وجود کے طور پر دیکھتا ہے،جس پر ماحولیاتی عوامل اثر انداز ہوکر اس کے رویے، فیصلہ سازی کے عمل اور طرزِ زندگی کو متعین کرتے ہیں۔‘‘ 2
اس اقتباس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تنقیدجس ’بشر مرکوز‘ (Anthropocentrism)نظریہ کو رد کرتی ہے اور حیاتیاتی مرکوزیت (Biocentrism) کو فروغ دیتی ہے۔ اس کا سرا اسی ڈٹرمنزم اسکول سے جاملتاہے ۔گویا ہم اس بحث سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ فطرت نگاری فطری اشیا کو “As it is”پیش کرتی ہے جب کہ ماحولیاتی تنقید نہ صرف فطرت اور ماحول کو اس کی حقیقی صورت میں دیکھتی ہے بلکہ اس کے تحفظ کے لیے بھی آواز بلند کرتی ہے۔ اس ضمن میں چند اشعار دیکھیں ؎
پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا
کل رات جوایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
چہار سمت سے اب کاٹتا ہے جنگل کو
یہی قبیلہ کسی وقت پوجتا تھا درخت
اجاڑ دشت میں کچھ زندگی تو پیدا ہو
یہ ایک چیخ یہاں بھی شجر کروں گا میں
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
مذکورہ اشعار میںنہ صرف ماحول کو اس کی اصل صورت میں پیش کیا گیا ہے بلکہ ماحول کو درپیش مسائل کا بھی اظہار دیکھنے کو ملتا ہے اور اس پر غور و فکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر ہم ماحول کا، اپنے آس پاس موجود پیڑ پودوں کا خیال نہ رکھیں توعنقریب ہم ماحول کے خطرناک رخ سے دوچارہوںگے۔ اس کے علاوہ فطرت سے درس لینے کی تلقین بھی ان اشعار میں دیکھنے کو ملتی ہے۔اس پوری بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ماحولیاتی تنقید کے اہم نکات میں ان چیزوں کو اہمیت حاصل ہے۔
.1 فن پاروں میں ماحول کو کس انداز سے پیش کیا گیا ہے۔کیا ماحول کو حظ بہم پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے؟کیا ماحول کو تشبیہ و استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے؟کیا فن پارے میں ماحول اپنا آزاد وجود رکھتا ہے یا نہیں؟ ماحول کو منظر کرنے کا ذریعہ تو نہیں بنایا گیا ہے؟
.2 ماحولیاتی نقاد ادب، فطرت اور ثقافت کے مابین رشتے کی وضاحت کرتا ہے۔
.3 ماحولیاتی نقاد کے لیے وہ فن پارہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس میں فطرت اس کی اصل صورت میں موجود ہو۔
.4 ماحولیاتی نقاد Ecological Balance پر زور دیتا ہے۔
.5 ماحولیاتی نقاد فطرت میں بگاڑ پیدا ہونے کے سبب آنے والے خطرات سے بھی آگاہ کراتاہے۔
.6 فطرت نگاری کے ذیل میںجو ادب آتاہے ماحولیاتی نقاد اس کا نئے سرے سے جائزہ لینے کا متقاضی ہے۔
اردو ادب کی اگر بات کریں تو قلی قطب شاہ سے لے کر اب تک جتنے بھی مصنّفین گزرے ہیں، انھوں نے فطرت کو کسی نہ کسی انداز میں پیش کیا ہے لیکن بحیثیت طریقِ نقد اس کے ساتھ بقول شخصے Buy one get one جیسا رویہ اپنایا گیا۔ اردو ادب میںاس حوالے سے بہت کم کتابیںدستیاب ہیں۔ ڈاکٹر مولا بخش نے 2013 میں مقالہ ’ماحولیاتی تنقید: نیا تنقیدی مخاطبہ‘ تحریر کیا تھا۔اس میں ایک جگہ لکھتے ہیں :
’’پروفیسر عتیق اللہ نے اردو میں پہلی بار ماحولیاتی تنقید کی اطلاقی صورت کی مثال پیش کی، لیکن ماحولیاتی تنقید کے تناظر میں اردو ادب کی صورتحال پر مختصراًہی سہی پہلی بار نگاہ راقم ڈال رہا ہے۔‘‘
یہ بات درست ہے کہ پروفیسر عتیق اللہ نے جو دو مضامین تحریر کیے ہیں ’مجید امجد کی نظم توسیع شہر ‘ اور ’پروین شیر کی شاعری:ایک ماحولیاتی مطالعہ‘ یہ اطلاقی نوعیت کے ہیں۔ علاوہ ازیں جو بیان مولا بخش نے اپنے حوالے سے دیا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جس نے کما حقہ اردو ادب کو ماحولیاتی نقطئہ نظر سے تصرف میں لانے کی کوشش کی ہے، اس کو کسی حد تک درست تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اردو شعری ادب خاص کر قصیدے کو ماحولیاتی نقطئہ نظر سے کافی اہمیت دی ہے اور مثالیں بھی پیش کی ہیں۔اس کے علاوہ ان کا ماننا ہے کہ نارنگ صاحب اس نظریے پر لکھنے والے پہلے نقاد ہیں۔
ماحولیاتی تنقید اگر ماحولیاتی تحفظ پر زور دیتی ہے تو کیا ادب کو اس طریق نقد سے فائدہ ہوگا؟ اس سوال کا جواب اس بات میں مضمر ہے کہ مابعد جدید تنقید ادب کو ایک ہی پیمانے سے پرکھنے کی نہیںبلکہ نت نئے طریقوں اور زاویوں سے پرکھنے کی وکالت کرتی ہے اور متن کو ایک نئی تعبیر سے روشناس کرایا جاتا ہے، اسی طرح ماحولیاتی تنقید ادب کی تشریح و تعبیر زمینی اخلاقیات کو سامنے رکھ کر کرتی ہے اور انسان، ثقافت اور ادب کے باہمی رشتے کی نوعیت کو پرکھتی ہے۔ ہم یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ماحولیاتی تنقید نہ صرف تنقید کی کسوٹی پر کھری اترتی ہے بلکہ ادبی دنیا میں یہ ثمر آور بھی ثابت ہوگی۔
حواشی
1. Cheryll Glotfelty, The Ecocriticism Reader, The U niversity of Georgia Press, Athens, 1996, P 18
2. Majid Husain, Human Geography, Rawat Publications, Jawahar Nagar Jaipur, Third Edition, P 38
Mohd Ovais Malik
Research Scholar
University of Kashmir
Srinagar- 190006 (J&K)
Mob.: 9697219470
ovais.urscholar@kashmiruniversity.net