اردودنیا،جنوری 2026:
اردونظم نے بیسویں صدی میں کئی فکری و جمالیاتی تجربات کا سامنا کیا اور ترقی پسند تحریک سے لے کر جدیدیت تک ایک طویل سفر طے کیا۔ اس سفر میں جن شعرا نے انسانی تجربات کو نئے رنگ، تازہ اسلوب اور داخلی سچائی کے ساتھ پیش کیا، ان میں ندا فاضلی کا نام نمایاں ہے۔ ان کی نظموں میں شہری زندگی کی الجھنیں، رشتوں کے زوال، انسانی تنہائی، وجودی اضطراب، محبت کی شکست وریخت اور بدلتے ہوئے سماجی رویے سادگی مگر غیر معمولی تاثیر کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ ان کی نظموں کا بنیادی جوہر انسان کی شکستہ داخلی دنیا کا سچا بیان ہے جہاں بے چینی، خوف، تنہائی اور امید ایک ساتھ سفر کرتے ہیں۔
ندا فاضلی کااصل نام مقتدا حسن ہے، لیکن ندا فاضلی کے نام سے انھیں شہرت حاصل ہوئی۔ مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں 12 اکتوبر 1938 کو ان کی پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گوالیار میں حاصل کرنے کے بعد وہ دہلی چلے آئے۔ دہلی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی تقسیم ہند کا واقعہ پیش آیا۔ تقسیم ہند کے وقت ان کے والدین پاکستان منتقل ہوگئے لیکن انہوں نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور وہ یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ندا فاضلی کو 1998 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ،2003 میں نغمہ نگاری کا اسکرین ایوارڈ اور2003 میںہی انھیں پدم شری جیسے باوقار اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ ندا فاضلی کا پہلا مجموعۂ کلام 1969 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد متعدد شعری مجموعے ’’لفظوں کے پُل، مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیاں، کھویا ہوا سا کچھ، شہر میرے ساتھ چل، زندگی کی طرف‘‘ منظر عام پر آئے۔معیار پبلی کیشن دہلی نے چھ شعری مجموعوں کو یکجا کرکے ’’شہر میں گاؤں‘‘شائع کیا۔ یہ مجموعہ 662 صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کے مضامین کا ایک مجموعہ ’’ملاقاتیں‘‘ 1960 میں منظر عام پر آیا۔انھیں مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے میر تقی میر ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔ ندا فاضلی 8 فروری 2016 کو حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث بمبئی میں انتقال کرگئے۔
انسانیت اور زندگی کو استحکام بخشنے والی شاعری ندا فاضلی کا خاصہ ہے۔ وہ وقت اور حالات دونوں سے متاثر ہوئے۔ تقسیم ہند کا سانحہ ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ تھا ، انہوں نے ہجرت نہ کرکے اپنی شاعری کی جڑوں کو کبیر اور سورداس کی مٹی سے اور بھی قریب کرلیا۔ ان کی شاعری میں ہندوستان کی مٹی کی سوندھی مہک ہے۔ ندا فاضلی کی نظموں میں داخلی کرب کی جہتیں نہایت تہہ دار انداز میں سامنے آتی ہیں۔ ان کے یہاں انسان ایک ایسے وجود کی صورت ابھرتا ہے جس کے گرد سماج کا شور تو ہے، لیکن اس کے اندر خاموشی کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ ندا فاضلی انسان کو مسلسل تلاش کا مسافر قرار دیتے ہیں۔ایک ایسا مسافر جو اپنے ہی وجود کے اندھیرے میں گم ہو چکا ہے۔تنہائی کا موضوع ان کی شاعری کااہم حصہ رہا۔ شہروں کی زندگی میں تنہائی کے آسیب اور اس کرب کو ندا فاضلی نے مختلف سطحوں پر برتا ہے۔
مسجد کا گنبد سونا ہے/مندر کی گھنٹی خاموش/جزدانوں میں لپٹے سارے آدرشوں کو/دیمک کب کی چاٹ چکی ہے/ رنگ!؍گلابی؍نیلے؍پیلے /کہیں نہیں ہیں/تم اس جانب میں اس جانب بیچ میں میلوں گہرا غار/لفظوں کا پل ٹوٹ چکا ہے/تم بھی تنہا/میں بھی تنہا
(لفظوں کا پل)
یہ نظم ندا فاضلی کی مخصوص کرب آلود اور تہذیبی شعور سے بوجھل شاعری کی نمائندہ مثال ہے۔ شاعر نے چند مختصر اور ٹوٹے ہوئے پیکروں کے ذریعے عصر حاضر کی روحانی و سماجی ویرانی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ’’مسجد کا گنبد سونا ہے، مندر کی گھنٹی خاموش‘‘ یہ دونوں مصرعے صرف مذہبی مراکز کی خاموشی نہیں بتاتے بلکہ اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ انسان کی باطنی حرارت، عقیدے کی شدت اور روحانی وابستگی کا مرکز مٹ چکا ہے۔ عبادت گاہیں اپنی اصل معنویت سے خالی ہو گئی ہیں۔ وہ باقی تو ہیں مگر ان میں وہ دل، وہ سوز، وہ یقین، وہ گریۂ نیاز نہیں رہا۔ یوں مذہب اور روحانیت کا تعلق عمارتوں اور رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ جزدانوں میں لپٹے ہوئے آدرشوں کو دیمک کا چاٹ جانا اس بات کا استعارہ ہے کہ اصول، نظریے، اخلاقی قدریں، ذہنی روشنی اور فکری وراثت سب کچھ کتابوں کی حد تک رہ گیا ہے۔ ہم نے سب کچھ محفوظ تو رکھا مگر انہیںزندگی سے علاحدہ کر دیا۔ رنگوں کا غائب ہوجانا زندگی کی خوشبو اور جذبے کا مر جانا ہے۔ گلابی، نیلا، پیلا یہ سبھی محبت، آزادی، امید اور مسرت کے رنگ ہیں، جو اب انسانی دنیا کے نقشے سے غائب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی بے رنگ ہو گئی ہے کیونکہ دل کا موسم تبدیل ہوگیا ہے۔’’لفظوں کا پل ٹوٹ چکا ہے‘‘یہ مصرعہ پوری نظم کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ گفتگو، سمجھ، احساس مشترک اور ایک دوسرے تک رسائی یہ سب کسی معاشرے اور کسی تعلق کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جب یہ پل ٹوٹ جائے تو لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ یہی کیفیت آخری مصرعے میں سمٹ آئی ہے’’ تم بھی تنہا، میں بھی تنہا‘‘ یہ صرف دو افراد کی تنہائی نہیں، زمانے کی تنہائی ہے۔ مذہب، فن، محبت، فکر اور رشتوں کی شکست کے بعد انسان ایسی جگہ آن کھڑا ہوتا ہے جہاں اس کے پاس نہ کوئی سہارا ہے نہ کوئی ہم سفر۔ندا فاضلی کی یہ نظم سادہ الفاظ میں گہری معنویت کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔ اس میں بڑے فلسفیانہ سوالات ہیں، مگر بیان نرم اور داخلی ہے۔ یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل آشوب کہیں باہر نہیں، خود انسان کے اندر، اس کی روح اور اس کے تعلقات کے مرکز میں ہے۔ یہ ایک عہد کی ویرانی کا نوحہ ہے، مگر اس کے بیچ میں ایک کم بولنے والی اذیت بھی ہے جو خاموش دل کو چھو جاتی ہے۔ایک دوسری نظم میں شاعر پر امید ہے کہ یہ مایوسی کی فضا جلد ختم ہوگی :
ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شاید /یہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگا /بدن کی اندھی گپھا میں چھپا ہوا ہوگا /بڑھا کے ہاتھ /ہر اک روشنی کو گل کر دو /ہوائیں تیز ہیں جھنڈے لپیٹ کر رکھ دو /جو ہو سکے تو ان آنکھوں پہ پٹیاں کس دو /نہ کوئی پاؤں کی آہٹ /نہ سانسوں کی آواز /ڈرا ہوا ہے وہ /کچھ اور بھی نہ ڈر جائے
بدن کی اندھی گپھا سے نہ کوچ کر جائے /یہیں کہیں اسے ڈھونڈو /وہ آج صدیوں بعد /اداس اداس ہے /خاموش ہے /اکیلا ہے /نہ جانے کب کوئی پسلی پھڑک اٹھے اس کی /یہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگا /برہنہ ہو تو اسے پھر لباس پہنا دو /اندھیری آنکھوں میں سورج کی آگ دہکا دو /بہت بڑی ہے یہ بستی کہیں بھی دفنا دو /ابھی مرا نہیں /زندہ ہے آدمی شاید
(آدمی کی تلاش)
نظم کا بنیادی استعارہ’’آدمی کی تلاش‘‘ ہے۔ یہاں’’آدمی‘‘ محض انسان بطور جسم یا حیاتیاتی وجود نہیں بلکہ انسانیت کا وہ جوہر ہے جس میں شفقت، محبت، درد مندی، تعلق، احساس اور سماجی ذمہ داری سمیت وہ تمام قدریں شامل ہیں جن پر تہذیب قائم ہے۔ شاعر کو احساس ہے کہ تکنیکی ترقی، سیاسی کشمکش، سماجی انتشار اور روحانی زوال نے انسان سے اس کی اصل قدریں چھین لی ہیں، لیکن وہ یہ بھی باور کراتا ہے کہ وہ جوہر ابھی مرا نہیں، کہیں دب گیا ہے لیکن زندہ ہے۔’’ابھی مرا نہیں، زندہ ہے آدمی شاید‘‘ پوری نظم کی بنیاد ہے۔ یہاںشاید کی احتیاطی نرمی بتاتی ہے کہ شاعر کے یقین میں بھی ایک دردناک تذبذب موجود ہے۔ شاعر اسے بدن کی اندھی گپھامیں تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ گپھانفس کی تاریکیاں، حرص، خود غرضی، خوف، مفاد اور ان تمام باطنی اندھیروں کی علامت ہے جنہوں نے انسان کی اصل روشنی کو چھپا رکھا ہے۔ شاعر روشنی کو گل کرنے اور ہوا کو روک دینے کی بات کرتا ہے۔ بظاہر یہ عجیب سا عمل ہے، مگر اس کی معنویت گہری ہے۔ نظم کا لہجہ فلسفیانہ نہیں بلکہ وجودی (Existential) اور انسانی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ انسانیت کو واپس جگانے کے لیے جذباتی شور نہیں بلکہ باطنی سکون اور لمس درکار ہے۔’’اکیلا ہے، اداس ہے، خاموش ہے‘‘یہ تینوں صفات جدید انسان کی علامات ہیں۔ نہ تو اس کی زندگی میں حقیقی گفتگو باقی رہی، نہ رشتہ، نہ باطنی سکون۔ شاعر بتاتا ہے کہ وہ انسان آج تاریخ کے ایک طویل سفر کے بعد ایک ایسی جگہ آکھڑا ہوا ہے جہاں وہ بچ تو گیا ہے، مگر جی نہیں رہا۔یہ نظم ایک احتجاج ہے، مرثیہ ہے، دعاہے اور امید بھی ہے۔ اس میں لفظیات سادہ ہیں، لیکن استعارات اور داخلی معنویت گہری ہے۔ ندا فاضلی کے یہاں فلسفہ زندگی کے لطیف تجربے کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ بحث و منطق کے طور پر اور یہی اس نظم کی خوبصورتی ہے کہ یہ عقل سے نہیں بلکہ قاری کے دل سے مخاطب ہوتی ہے۔ شاعر امید وبیم کی کیفیت سے دوچار ہے۔ اسے روشنی کی ایک ہلکی کرن محسوس ہوتی ہے ، وہ پھر سے پر امید ہواٹھتا ہے کہ انسان ابھی زندہ ہے اس میں زندگی کی رمق ہے بس اسے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انسانی جبلتوں سے آشنا ہوکر ہی ندافاضلی نے اس طرح یاس اور محرومی کو ظاہر کیا ہے۔ انہیں یہ اچھی طرح سے معلوم ہے کہ انسانی قدروں کو ڈھونڈھنا آسان نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں ہے۔ محبت تو شکایتوں کی پروردہ ہے ، زندگی میں آلام ومصائب کا آنا ہی اس کے ہونے کی دلیل ہے۔ زمانے کی نیرنگیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ہی زندگی کی حقیقت تک رسائی ہوسکتی ہے۔ ندا فاضلی نے اپنی نظموں میں عام موضوعات کو بھی بیان کی سطح پر اس قدر نفاست سے پیش کیا ہے کہ ان میں ایک بہاؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
جذبوں کو لفظ میں پرونا اور پھر اسے احساس کی سطح سے گزار کر ایک کیفیت کی علامت بنا دینا شاعری کا حسن ہوتا ہے۔ شاعر نے چیزوں کو کیسے محسوس کیا ہے، اس کی نظروں نے مناظر کو کس طرح قید کیاہے، یااحساس کی شدت اسے کس طرح کی لفظیات استعمال کرنے پر مجبور کرتی ہے یہ دیکھنا کافی اہم ہوتا ہے۔ ندا فاضلی نے ایک تخلیق کار کی حیثیت سے جو محسوس ہوا سیدھے طریقے سے پیش کردیا۔ جذبے کی سچائی اور سبک روی ان کی نظموں میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
ندا فاضلی کے تخلیقی مزاج سے متعلق احمد سہیل رقمطراز ہیں:
’’ندافاضلی کی شاعری کا تخلیقی جذبہ اپنے مزاج میں یکتا ہے۔ اظہار کے مختلف الجہت رنگوں میں ان کے شعری احساس میں کرب کو قاری محسوس کرکے روتا ہے ، آنسو بہاتا ہے اور بے بسی اور لاچارگی کو اپنے وجود میں ڈھونڈھ لاتا ہے۔ ان کا یہی موضوعی احتجاج ہی ان کی شاعری کاماخذہے۔ ان کا شاعرانہ احساس ، جمالیات اور نظام پیکریت مصورانہ اور ایک سنگیت کار کا خواب آلود واہمہ تو ہے جس میں انتشار متن اور میکانیکی اسلوب متن کا الزام تو عائد کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی لفظیات میں بشری کہانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں، جہاں فرد کی شناخت تبدیل یا معدوم ہوجاتی ہے۔ اپنوں سے ایک سیاسی حادثے کے بعد بچھڑنے کا احساس ان کی شاعری کا حاوی محرک ہے۔‘‘ 1
مندرجہ بالا اقتباس ندا فاضلی کی شاعری کے بنیادی محرکات، داخلی کرب اور نظریاتی احتجاج کی نشاندہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ندا فاضلی کی شاعری میں ذاتی المیے، ہجرت، تقسیم کا دکھ اور رشتوں کے ٹوٹنے کی اذیت موجود ہے۔ اقتباس اس شعری کیفیت کو اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ قاری ندا کی شاعری کو صرف تخلیق نہیں بلکہ ایک اجتماعی جذباتی تجربے کے طور پر محسوس کرے۔ ’’شاعرانہ احساس، جمالیات اور نظام پیکریت‘‘ جیسی ترکیبیں ان کے فن کی ان تہوں کا احاطہ کرتی ہیں جہاں مشکل سوالات، وجودی اضطراب اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے تضادات ابھرتے ہیں۔ ’’اپنوں سے ایک سیاسی حادثے کے بعد بچھڑنے کا احساس ان کی شاعری کا حاوی محرک ہے۔‘‘ ندا فاضلی کی شخصیت اور شاعری کے تاریخی پس منظر کو ایک جملے میں سمیٹ دیتا ہے۔
ندا فاضلی کی شاعری میں ہندوستان کا گاؤں پوری طرح آباد ہے۔ پیکر تراشی اور مختلف اجزا کو جس طورسے وہ پیش کرتے ہیںاس سے ایک صاف وشفاف ہیولیٰ تیار ہوجاتا ہے جس کو پہچاننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔
بیٹھے بیٹھے اوب رہے ہیں/آؤ سہیلی ؍سرپٹ بھاگیں/ سر کے بال تلک کھل جائیں/دھم دھم؍یوں دہلیزیں لانگیں/گھٹنوں گھٹنوں تال میں چل کر منہ منہ تک/ گاگر بھر لائیں/اور نشانے تاک تاک کر/پتھر سے پتھر ٹکرائیں؍برگدکی ننگی شاخوں پر/بن جھولے کے؍ایسا جھولیں/لوکٹ چٹلے میں پھنس جائے/انگوٹھے پیشانی چھولیں/ہنسی ہنسی میںاک دوجے پربدلی بن بن کر یوں ٹوٹیں/آٹے جیسا کس کر گوندھیں/کئی جگہ سے ٹوٹیں پھوٹیں
(دو سہیلیاں)
یہ نظم بچوں جیسی معصوم، خود رو اور بے ساختہ نسائی سرشاری کی تصویر ہے۔ شاعر نے ایسا منظر بنایا ہے جس میں دو سہیلیاں روزمرہ کی یکسانیت اور گھریلو ذمہ داریوں سے نکل کر ایک لمحے کے لیے زندگی کو پوری شدت سے جینے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ نظم میںآنگن، مٹی کی خوشبو، درختوں کی آہٹ اور بچپن کی ہنسی شامل ہے جسے زندگی کی دھول نے دھندلاکردیا ہے۔
تقسیم کا درد جابجا ندا کی شاعری میں نظم ہوتا رہا ہے۔ ہندوستان سے گہری محبت اور انس نے انہیں ہجرت سے روکا۔ ہندوی تہذیب سے مالامال یہ فنکار اپنی مٹی کی عظمت کا ہمیشہ قائل رہا۔ تہذیبی ٹکراؤاور لسانی بُعد کے باوجود اس نے اپنے آپ کو ہندوی تہذیب کا پروردہ بنائے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں ہندی کے سبک اور شیریں الفاظ جابجا پیوست نظر آتے ہیںجنھیں ان کی تخلیق سے الگ کرکے دیکھنا ناممکن ہے۔ ایک اقتباس دیکھیں:
’’میرا جی کی طرح ندافاضلی کی شاعری میں ثقافتی عمل ہندی شاعری کے وسیلے سے در آیا۔ ابتدا میں انھوں نے ہندی شعر وادب کا غائر مطالعہ کیا تھا۔ وہ تلسی داس اور کبیر سے بھی متاثر تھے اور شاید انہیں سے Inspireہوکر وہ اپنی داخلی زندگی میں قلندری اور بے نیازی کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ تاہم اس فرق کو ملحوظ نظر رکھنا پڑے گا کہ ندا فاضلی کی شعری لفظیات ہندی سے کسی قدر ہم آہنگ ہونے کے باوجود اردو کی تہذیبی اقدار اور صوفیانہ مزاج میں ڈھلی ہوئی ہے۔‘‘ 2
اس اقتباس کا حاصل میرا جی اور ندا فاضلی کا تقابلی حوالہ ہے، جو بجا طور پر پیش کیا گیا ہے، کیونکہ دونوں نے ہندی، سنسکرت اور بھکتی روایت سے اثر قبول کیا۔ یہ بات کہ ’’ثقافتی عمل ہندی شاعری کے وسیلے سے در آیا‘‘ ندا کی شاعری کی جڑوں کی جانب اشارہ ہے، جو نہ صرف لسانی بلکہ فکری اور نفسیاتی سطح پر بھی قابل تجزیہ ہے۔ تلسی داس اور کبیر کا ذکر بطور مآخذ یا اثر کے نہایت برمحل ہے، خصوصاًکبیر، جن کی بے نیازی، سادگی اور براہ راست اظہار کی روایت ندا کے اشعار میں واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔
تجھ سے پہلے پہلے بیت گیا جو/وہ اتہاس ہے تیرا/تجھ کو ہی پورا کرنا ہے/جو بن باس ہے تیرا
(گیت)
ندا فاضلی کی نظموں میںاتہاس، بن باس، پاٹھ شالا، روپ، دھنک اس طرح مستعمل ہیں کہ ان کو علاحدہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ اُس روایت کا حصہ ہے جو ہماری شاعری کا حسن رہا ہے۔ ’’گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس‘‘سے شروع ہونے والا ہندوی تہذیب کا سلسلہ اب بھی قائم ودائم ہے۔ندا فاضلی نے رومانیت سے بھر پور نظمیں لکھی ہیں۔رادھا،کرشن ،کنہیا، جوگ، بیراگ، پیت اور میت سے گہری انسیت نے ہی ان میں محبت کا رنگ بھر دیا۔ غزلوں کا سب سے محبوب موضوع یہی رہا ہے، لہٰذا ان کی غزلیں اس تجربے سے بھر پور ہیں۔
ندافاضلی نے جس طرح زندگی کو جیااور فلم نگری سے وابستہ ہونے کے بعد بھی ادبیت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیاوہ قابل ستائش ہے۔
ندا فاضلی کی شاعری جدید انسان کے دکھ، اس کے خوف، اس کی تنہائی اور اس کی امیدوں کا آئینہ ہے۔ وہ زندگی کے بظاہر معمولی تجربوں سے بڑے معنوی اور فکری نتائج اخذ کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں ایک ایسا داخلی کرب ہے جو ہر قاری کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ کی یاد دلاتا ہے۔ ان کے یہاں الفاظ محض اظہار کے ذرائع نہیں بلکہ انسانی وجود کی پوری تاریخ کے حامل بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ندا فاضلی کی شاعری آج بھی تازہ، توانا اور معاصر محسوس ہوتی ہے۔ ندا فاضلی نے جدید اردو نظم کو نہ صرف ایک نئی نرمی، سادگی اور شفافیت عطا کی، بلکہ اسے اپنے عہد کی نفسیات اور سماجیات کا سچا ترجمان بھی بنایا۔
حواشی
1 شعوربشر کی تمثیلی پیکریت کا شاعر: احمد سہیل، سہ ماہی اردو، امراوتی، ندافاضلی نمبر 2014، ص: 144
2 ندافاضلی، اساس شعر: مختار شمیم، سہ ماہی اردو، امراوتی، ندافاضلی نمبر ، ص: 9
Dr. Habiburrahman
R48B/2, 4th Floor, Masjid Al Noor
Jogabai Extn. Jamia Nagar
Okhla, New Delhi-110025
9716929568