اردودنیا،جنوری 2026:
ڈاکٹربشریٰ رحمن(1940-2009) شہر گورکھپور کے ایک ایسے روشن خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جو عالمی شہرت کا حامل ہے۔ ان کے والد عبد القدوس شہر کے مشہور ومعروف حکیم تھے۔ ان کے دادا قاضی عبدالباسط جونپور کے قاضی رہے۔ ان کے بڑے بھائی پروفیسر نجات اللہ صدیقی [1931-2022] عالمی شہر ت یافتہ ماہر اقتصادیات اورمعروف اسلامی اسکالر تھے۔ انھوں نے علی گڑھ سے لے کر امریکہ تک دنیاکی کئی نامور یونیورسیٹیوں میں درس وتدریس کا کام انجام دیا ہے۔ انھوں نے 67 کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ’اسلام میں غیر سودی کاروبار‘ 3 زبانوں میں 27 بار چھپ چکی ہے اور دنیاکی بیشتر لائبریریوں میں محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ اسلام اور فنون لطیفہ، عصر حاضر میں اسلامی فکر، اسلام کا نظریہ ملکیت اور معاصر اسلامی فکر بے حد اہم اور مقبول عام کتابیں ہیں۔ ان کی کتابوں کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ انھیںاسلامی اسٹڈیز کے لیے 1982 میں سعودی حکومت کی جانب سے کنگ فیصل بین الاقوامی انعام سے نوازاگیا تھا۔ بشریٰ کے دوسرے بڑے بھائی حمیداللہ صدیقی لندن کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ اردو ادب سے ان کی گہری وابستگی تھی۔ ان کی وفات لند ن میں ہی 2009میں ہو گئی۔ بشریٰ کے سب سے بڑے بھائی حیات اللہ صدیقی ریلوے گورکھپور میں افسرتھے۔ ان کا انتقال کافی پہلے ہو گیا تھا۔ بشریٰ کے بھتیجے ڈاکٹر احمداللہ صدیقی حیات اللہ صدیقی کے بیٹے ہیں۔ ڈاکٹراحمد اللہ امریکہ کے فلاڈیلفیاکے ٹیمپل یونیورسٹی سے ماس میڈیا اور جرنلزم میںپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شکاگو کے ویسٹرن الینوس یونیورسٹی میںماس میڈیا کے پروفیسر رہے ہیں۔ اسی یونیورسٹی میںوہ ڈین کے عہدے پربھی فائز رہے۔ ماس میڈیا کے حلقے میں ان کی مقبولیت پوری دنیاکے لیے مثال ہے۔احمد اللہ صدیقی پوری دنیامیں مسلمانوں کو میڈیا کے منفی اثرات سے آگاہی کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میڈیاپر پراثر کنٹرول کے بغیر دنیامیں مسلمانوںکی شبیہ کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ڈاکٹر بشریٰ رحمن کی ولادت ایسے ہی علمی وادبی خانوادے میں ہوئی۔
بشریٰ کی ولادت 10جنوری 1940 کو ہوئی۔ بشریٰ کے والد عبدالقدوس کے تین بیٹوںکی ولادت کے 9سال بعد بشریٰ کی ولادت ہوئی تھی۔ اس لیے بشریٰ کی ولادت کے بعد خاندان میں خوب خوشیاں منائی گئیں۔ ان کی پرورش بڑے لاڈ پیارسے کی گئی۔ بشریٰ کاپورانام بشریٰ خاتون صدیقی رکھاگیاتھا۔ میجر صدیق الرحمن1936-2023 سے شادی کے بعد ان کانام بشریٰ رحمن پڑگیا، جو ان کی ادبی شناخت کا باعث بنا۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر والدہ کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ ان کے استاد مولوی خلیل تھے، جو گھر پر انھیں پڑھانے آتے تھے۔ بشریٰ نے ابتدائی تعلیم اسکول جاکر حاصل نہیں کی۔ اس کی وجہ اس وقت کا ماحول رہا ہوگا، جہاں لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کا رواج عام نہیں تھا۔ تمام طرح کی بندشیں لڑکیوں کی راہ میں حائل تھیں۔لیکن بشریٰ کی ذہانت نے انھیں اعلیٰ تعلیم کے در پر پہنچا دیا اور انھوں نے ایک مشہور ومعروف مصنفہ بن کر گورکھپور کا نام روشن کیا۔ بشریٰ کے خاندان میں علم وادب کا چرچہ اتنا عام تھاکہ ان کے لیے علم وادب سے محبت اورفریفتگی عام بات تھی۔ ان کے گھر میں کتابیں اوڑھنا بچھونا تھیں۔ ایسے علمی ماحول میں ڈاکٹر بشریٰ رحمن نے خوب استفادہ کیا۔
بشریٰ نے اپنے بھائی پروفیسر نجات اللہ صدیقی کی نگرانی میں علی گڑھ سے 1956میں ہائی اسکول پاس کیا۔اس وقت پروفیسرنجات اللہ علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے۔1960میں 20 سال کی عمرمیں بشریٰ کی شادی میجر صدیق الرحمن سے کر دی گئی۔ صدیق الرحمن بھی علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے۔ بچپن میں ہی دونوںکی نسبت طے ہو گئی تھی۔ دونوں خاندانوں میں پہلے سے ہی رشتہ داری تھی۔شادی ہوجانے کے بعدبشریٰ کی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد بشریٰ نے پھر اپنی تعلیم شروع کی۔انھوں نے 1968میں علی گڑھ سے اردو میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس وقت تک بشریٰ کی عمر 28سال ہو چکی تھی۔ بی اے کرنے کے بعد بشریٰ اپنے خانگی مسائل میں الجھی رہیں۔ لیکن اس دوران انھوںنے اپنے لکھنے پڑھنے کے عمل کو تعطل کا شکار نہیں ہونے دیا۔ ڈاکٹر بشریٰ رحمن کی شخصیت پر اظہارخیال کرتے ہوئے پروفیسر افغان اللہ خان کہتے ہیں: ’’ڈاکٹر بشریٰ رحمٰن ایک سنجیدہ، باشعور اور باصلاحیت خاتون ہیں۔ ابتدا ہی سے انھیں لکھنے پڑھنے کا شوق رہاہے شروع میں ان کے مضامین الحسنات، فردوس اور نگار میں شائع ہوتے رہے، جیوں جیوں شعورمیں پختگی آتی گئی ان کے پڑھنے لکھنے کا دائرہ وسیع ہوتاگیااور ان کے مضامین ہندوستان کے معتبر جرائد ’آجکل‘، ’نیادور‘ وغیرہ میں شائع ہوتے رہے یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اس سلسلے میں یہ بات بھی کہہ دینا ضروری معلوم ہوتاہے کہ انھیں ہمیشہ پڑھنے لکھنے سے دلچسپی زیادہ اور پڑھانے سے کم رہی۔‘‘ 1
ڈاکٹربشریٰ کی لگن، محنت اور علم وادب سے ان کی رغبت نے ان کے شوہر میجر صدیق الرحمن کو مجبور کیا کہ وہ انھیں ایم اے کرنے کی اجازت دیں۔ انھوں نے بشریٰ رحمن کا داخلہ گورکھپور یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کرایا۔ بشریٰ نے 1980میںاردو سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ایم اے کرنے کے بعد بشریٰ نے پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔پروفیسر محمود الٰہی نے انھیں پی ایچ ڈی میں داخلہ دے دیا۔استاد معظم بشریٰ کی لگن اور محنت سے بے حد متاثر تھے۔ انھوں ان کے مقالے کا عنوان ’اردو کے غیر مذہبی سفرنامے‘ طے کیا۔ اردو کے غیر مذہبی سفرناموں پر کام کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لیکن بشریٰ نے اس کام کو بہت عرق ریزی سے کیا۔اس کتاب کی فہرست دیکھنے کے بعدخود بخود اس کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ چالیس سال کی ایک شادی شدہ عورت کے لیے اتنی سخت محنت کرکے اس عنوان پر کام کرنا کتنا مشکل رہا ہوگا۔ اس کا اندازہ بشریٰ کے کام کی نوعیت کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ اس مشکل کام کو بھی بشریٰ نے اتنی خوبصورتی سے کیا ہے کہ اس میں جان پڑگئی ہے۔ انھوں نے اردو کے تمام غیر مذہبی سفرناموں کا بہترین مطالعہ کرکے بہت ہی جامع نتائج اخذکیے ہیں۔بشریٰ کو 1986میں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔ ڈاکٹر بشریٰ رحمن نے اس موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھنے کے لیے پروفیسر محمود الٰہی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ مواد کی فراہمی کے لیے انھیں مختلف شہروں اور لائبریریوں کا دورہ کرنا پڑا۔ ایک خاتون کے لیے سفر کتنا جوکھم بھراہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔ وہ کہتی ہیں:’’مجھے سفر سے بڑی دلچسپی ہے اور خوش قسمتی سے مجھے ریسرچ کے لیے صدر شعبہ اردو پروفیسر محمود الٰہی صاحب نے جو مقالے کے لیے موضوع دیا وہ ’اردو کے غیر مذہبی سفرنامے‘ تھا۔ اس عنوان کے پانے کے بعد خوشی توبہت ہوئی لیکن ایک خاتون کے لیے ان سخت اور ناہموار راستوں پر چل کر جوئے شیر نکالناکتنا مشکل ہوگا۔ اس کا مجھے بعد میں اندازہ ہوا۔ اگر پروفیسر محمودالٰہی صاحب نے ہر قدم پر میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی نہ کی ہوتی تو شاید یہ مقالہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچتا۔‘‘2
اردواددب اورتحقیق کے شعبہ میں بشریٰ کے علمی کارناموں کا مقام اوران کے ادبی مرتبہ کا تعین ابھی باقی ہے۔ان کی علمی اور ادبی خدمات کاجائزہ لینے سے اندازہ ہوتاہے کہ ابھی تک ان کی تخلیقات کا محاسبہ نہیں ہو سکاہے۔ انھوںنے پانچ کتابیں تصنیف کی ہیں اور ان پانچوں کا عنوان ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بشریٰ نے ایک تھیسس لکھا اور اپنی زندگی کے سارے عمل کو اس کے ارد گرد لپیٹ دیا۔بلکہ ان کی تھیسس کا موضوع بالکل مختلف تھا اور ان کی دیگر تخلیقات کا موضوع بالکل ہی مختلف ہے۔ یقیناً بشریٰ کی ادبی تخلیقات میں سب سے کامیاب تخلیق ’اردو کے غیر مذہبی سفرنامے‘ ہے۔ یہ ان کی پہلی کتاب تھی‘لیکن اس سے قبل ان کی تخلیقات مختلف رسائل کی زینت بنتے رہے۔ اردو کے غیر مذہبی سفرنامے کی اشاعت 1999 میں ہوئی۔ اردوکے سفرناموں پر ان کا تحقیقی مقالہ اردو ادب میں یقیناً اضافہ کی حیثیت رکھتاہے۔اس کے پیش لفظ میں پروفیسر نجات اللہ صدیقی لکھتے ہیں:’’جب میں نے اپنی پہلی تحریر چھپوائی تھی تومیری بہن کی عمر دس سال تھی۔جب وہ اپنی پہلی تصنیف پر مجھ سے پیش لفظ لکھوا رہی ہے تو میری عمر ترسٹھ سال کی ہے۔ پڑھنے والے کو یہ انکشاف ادھورا معلوم ہوا اور اگر کوئی باعث ہے تو وہ سمجھ میں نہیں آیا۔ زندگی کے سفر کا بھی یہی حال ہے مسافر کا سفر جاری رہتاہے پرادھوری بات پوری نہیں ہو پاتی۔ سفر کے بہت سے محرک ہوں گے۔ میں زندگی کے غیر اختیاری سفر کی نہیں، خود اپنے اختیاروارادہ سے کیے گئے سفر کی بات کررہاہوں۔ ایسے سفر کے محرکات میں سے ایک شاید اس تشنگی کو دورکرنا بھی ہے، جو سفر زندگی نے پیداکی ہے۔ کوئی جستجوہے جو ابن بطوطہ او رہیونگ سانگ ہی کو نہیں بہت سے دوسرے اصحاب سفر کو اٹھا کھڑا کرتی ہے۔ نہ میں نے سفرنامہ لکھا ہے نہ، ‘غالباً اس پیش لفظ کے پڑھنے والے نے۔ ہم نے لوگ تب سفر کرتے ہیں جب کوئی کام آپڑتاہے۔سفر نامہ لکھنے والوں کی بات دوسری ہے۔یہ ’دوسری بات‘ کیاہے‘اس کا تھوڑاجواب آپ کو بشریٰ کی اس کتاب میں ملے گا۔‘‘3
ڈاکٹربشریٰ رحمن نے اپنی بلیغ تحقیق کو 10ابواب میں منقسم کرکے سفرناموں کاگہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ اس کے اہم موضوعات میں سفرنامے کا مفہوم، مغرب اور مشرق میں سفرنامے کی روایت، اردو سفرنامے کی تاریخ، اردو میں مترجم سفرنامے کے علاوہ ایک باب میں انھوںنے ابتداسے 1900 تک کے سفرناموں کا جائزہ لیاہے۔ ایک الگ باب میں انھوںنے 1901 سے 1947تک کے سفرناموں کا جائزہ لیا ہے۔ 1947 کے بعد کے سفرناموں کا جائزہ بہت اہم باب ہے۔ وہ اعتراف کرتی ہیں کہ اردو میں 1947کے بعد بہت اہم سفرنامے لکھے گئے۔ انھوںنے مزاحیہ اور خطوط کی شکل میں لکھے گئے سفرناموںکا بھی جائزہ لیا ہے اور سفرناموں کے مستقبل کا بھی تعین کیاہے۔ اس تحقیق کی تکمیل کے لیے بشریٰ نے ساڑھے تین سو کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ انھوںنے 1947کے بعد لکھے گئے سفرناموں کے ادبی مرتبہ کا تعین کرتے ہوئے کہا ہے: ’’1947کے بعد سفرناموں میں جو ترقی ہوئی اس نے ادب کی نئی صنف اختیار کرلی۔ ان دس سالوں میں سفر ناموں میں انقلاب آگیا۔ مستنصر حسین تارڑ نے جب اس میدان میں قدم رکھا تو اس میں ایک نئی روح پھونک دی۔ محمود نظامی‘اخترریاض الدین کا بولا بالا اور اس دورکے سفرنامہ نگاروں نے ستاروں سے آگے راستے نکالنے کی کوشش کی ہی ان سفرناموں میں ماضی اور ماضی کی تاریخ ایک زندہ کردار کی حیثیت رکھتی ہے جگہ جگہ حال کو ماضی کی تاریخ کی مددسے تابناک بنایا گیا ہے۔ ان سفرناموں میں داخلی ضروریات موجود ہیں۔ ان کی خوشبو کی مہک اور چمک دمک آنکھوں کو خیرہ ہی نہیں کرتیں بلکہ دل و دماغ کو سکون اور آسودگی بخشتی ہیں۔4
اردو میں غیر مذہبی سفرنامے کی اشاعت کے بعدبھی بشریٰ مستقل پڑھنے لکھنے کے عمل میں مصروف رہیں۔ انھوںنے مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت، سیاست اور صحافتی خدمات کا کثیر جہاتی مطالعہ کیا۔ بشریٰ نے اس کتاب کو بہت جانفشانی سے تیار کیا ہے۔ اس کتاب کو سات حصوں میں منقسم کر کے مولانا کے فن اور شخصیت پر جامع مقالہ لکھا ہے۔یہ کتاب 2005میں شائع ہوئی۔ ڈاکٹر بشریٰ نے اس کتاب کو الہلال کی روشنی میں مرتب کیا ہے۔ بشریٰ نے الہلال کا وسیع پیمانے پر مطالعہ کیاہے۔ اس میں ایک اہم باب اس زمانے کے ہندوستان کے حالات کے متعلق شامل کیا گیا ہے۔ جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کر برٹش حکومت کے تسلط کی پوری داستان بیان کی گئی ہے۔اسی طرح مولانا آزاد کی زندگی کے مختصر حالات اور ’الہلال‘ ’البلاغ‘ کے پس منظر پر بھی ایک باب خرچ کیاگیا ہے۔ اس کتاب میں مولانا کی جامع مسجد میں اکتوبر 1947 کی تاریخی تقریر بھی آخر میں دی گئی ہے۔ الہلال کے متعلق بشریٰ رقم طراز ہیں:’’الہلال کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ اس میں ادبی مطبوعات سیاسی وسماجی حالات، مذہبی وشخصی معاملات، ملک اور قوموں کے حالات، شاہ وفقراکے تذکرات، سیاہ وسفید کے حالات، حسن وعشق کی کہانیاں، جنگ وجدل کے تاثرات گویا ہر طرح کی کتابیں ملکوں، قوموں اور بڑی بڑی شخصیتوں کے کارناموں کا احاطہ کیے ہوئے ہیںاس سے آپ مختلف فکر ونظر کا اندازہ کرسکتے ہیں اور آپ یہ بھی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مولانا کو الہلال کی اشاعت میں کن کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑاہوگا۔‘‘5
Dr. Zakir Husain Zakir
Gulshan Hyder, Shanti Nagar
Near Sant Pushpa School
Deoria- 274001 (UP)
Mob.: 9415276138
zakirhssn8@gmail.com