بالی وڈ اور اردو:زبان، ثقافت اور شناخت کا امتزاج،مضمون نگار: عبدالحفیظ فاروقی

January 29, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026:

اردو زبان کی تاریخ محض ادبی ارتقا کی کہانی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اثرات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیاد میں ہندی کی مٹھاس، فارسی کی نزاکت، ترکی کی روانی اور عربی کی گہرائی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو برصغیر کی مشترکہ ثقافتی شناخت کی سب سے روشن علامت بن کر ابھری۔ اگر کہا جائے کہ اردو ایک جذبہ ہے، ایک خوشبو ہے جو صدیوں سے اس خطۂ دلنواز میں مہک رہی ہے تو یہ بالکل درست ہوگا۔ برصغیر کی محبت، اس کی نفرتیں، اس کے خواب اور اس کی داستانیں سب اردو ہی کے دامن میں سمٹی ہوئی ہیں، اور یہی ان کو ایک نرالی چاشنی عطا کرتی ہے۔
اردو کا حسن صرف اس کی شعری روایت میں نہیں بلکہ اس کی روزمرہ گفتگو میں بھی جھلکتا ہے۔ یہ زبان انسان کے دل کی دھڑکنوں کو بھی لفظوں میں ڈھال لیتی ہے اور معاشرتی رشتوں کی نزاکت کو بھی شائستگی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ غالب اور میر کی غزلوں سے لے کر اقبال کے انقلابی اشعار تک، اور پھر فراق و جوش کے جدید اسلوب تک، اردو نے ہر دور میں انسان کے جذبات کو ایک نئی صورت عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو نے نہ صرف ادب کو زندہ رکھا بلکہ عام زندگی اور تہذیب کو بھی اپنی آغوش میں پروان چڑھایا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں جب ہندوستانی سنیما نے پہلی بار سانس لی تو مکالمے، گیت اور بیانیے کے لیے سب سے موزوں اور شیریں زبان اردو ہی ٹھہری۔ اردو کی نغمگی اور آہنگ نے پردۂ سیمیں کو وہ جادو بخشا جس نے لاکھوں دلوں کو مسحور کر دیا۔ ’مغلِ اعظم‘ کے مکالمے، ’پاکیزہ‘ کے نغمے، ’دیوار‘ کے جذباتی جملے اور ’آنندی‘ جیسے فلموں کے گیت سب اردو کی تہذیبی اور جمالیاتی وراثت کے گواہ ہیں۔ فلمی دنیا میں ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی، جاں نثار اختر، مجروح سلطان پوری اور گلزار جیسے شعرا نے اردو کو صرف مکالموں اور نغموں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کو عام انسان کی زندگی، اس کے دکھ سکھ اور خوابوں کا ترجمان بنا دیا۔
بمبئی فلم انڈسٹری، جسے آج ہم بالی وُڈ کے نام سے جانتے ہیں، اور اردو کے درمیان ایسا گہرا رشتہ قائم ہوا کہ بعض اوقات یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کہاں زبان ختم ہوتی ہے اور کہاں فلم کا جادو شروع ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو نے بالی وُڈ کو زبان دی اور بالی وُڈ نے اردو کو ایک نئی شناخت، ایک نیا افق عطا کیا۔ سنیما نے اردو کو عام لوگوں کے گھروں تک پہنچا دیا، اور یوں یہ زبان صرف خواص کی مجلسوں تک محدود نہ رہی بلکہ عوام کی دل کی دھڑکن بن گئی۔
آج جب ہم اردو اور بالی وُڈ کے رشتے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک لسانی یا فلمی تعلق نہیں بلکہ ایک تہذیبی رشتہ ہے، ایک ایسا رشتہ جس نے نسل در نسل لوگوں کے جذبات کو آواز دی ہے۔ اردو کی نرمی اور بالی وُڈ کی مقبولیت نے مل کر ایک ایسا ورثہ تخلیق کیا ہے جس پر برصغیر بجا طور پرفخر کر سکتا ہے۔

تاریخی پس منظر
اردو اور سنیما  کا باہمی رشتہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی، لسانی اور ادبی تاریخ کا ایک لازمی تسلسل ہے۔ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب برصغیر میں تھیٹر اور اسٹیج ڈرامہ اپنی مقبولیت کے عروج پر تھا، اسی وقت اردو زبان دہلی اور لکھنؤ کی ادبی، شعری اور ثقافتی فضاؤں میں مرکزیت اختیار کر چکی تھی۔ اس دور میں مشاعروں کی محفلیں، داستان گوئی کی روایت، ڈرامہ نگاری اور فکشن نے اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ تہذیبی اظہار کا سب سے مؤثر وسیلہ بنا دیا تھا۔ عوامی زندگی سے لے کر شاہی درباروں تک، علمی مباحث سے لے کر روزمرہ بول چال تک، اردو نے ایک ایسے لسانی پُل کا کردار ادا کیا جو مختلف طبقات کو یکجا کرتا تھا۔
اسٹیج پر پیش کیے جانے والے ڈراموں کے مکالمے، طرزِ بیان کی برجستگی، نغموں کی مٹھاس اور قصوں کی دلکشی نے برصغیر کے تماش بینوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا۔ یہی خصوصیات جب فلمی اسکرین پر منتقل ہوئیں تو قدرتی طور پر زبان کے انتخاب کے لیے اردو ہی سب سے زیادہ موزوں اور دلنشیں ثابت ہوئی۔ خاموش فلموں کے بعد جب ناطق فلموں کا دور شروع ہوا تو یہ فیصلہ ناگزیر تھا کہ وہی زبان منتخب کی جائے جو ایک طرف عوام کے دلوں کو چھو سکے اور دوسری طرف اپنی ادبی اور شعری شان کے ذریعے جذبات کو بلند تر سطح پر پہنچا سکے۔ ان تمام اوصاف کی جامعیت صرف اردو کو حاصل تھی۔
1931 میں جب ہندوستان کی پہلی ناطق فلم ’عالم آرا‘ ریلیز ہوئی تو اس کے مکالمے اور نغمے خالص اردو میں تھے۔ فلم کی غیر معمولی کامیابی نے یہ بات حتمی طور پر ثابت کر دی کہ سنیما میں جذباتی اور فکری اظہار کے لیے سب سے مؤثر زبان اردو ہی ہے۔ یہ محض ایک زبان کا انتخاب نہیں تھا بلکہ صدیوں پر محیط ایک تہذیبی و ادبی روایت کی نئی صورت میں توسیع تھی، جس نے برصغیر کی فلمی صنعت کو ایک پختہ لسانی بنیاد فراہم کر دی۔
اس کے بعد بننے والی مشہور فلمیں جیسے ’شیریں فرہاد‘، ’پکار‘ اور ’نورجہاں‘ اس حقیقت کی مزید تصدیق بنیں۔ ان فلموں کے مکالمے اور نغمے نہ صرف ادبی شان اور فصاحت کے حامل تھے بلکہ ان میں وہی تغزل، وہی شیرینی اور وہی جذباتی گہرائی جھلکتی تھی جو اردو شاعری اور نثر کی اصل پہچان تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان فلموں کے جملے اور گانے محض اسکرین تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کی روزمرہ گفتگو اور یادداشت کا حصہ بن گئے۔
آنے والے برسوں میں فلمی کہانیوں میں جو موضوعات شامل کیے گئے وہ براہ راست اردو ادب اور کلاسیکی شاعری کے سرمائے سے ماخوذ تھے۔ عشق و محبت، ایثار و قربانی، عزت و غیرت، خاندانی روایت، وطن پرستی اور روحانی وابستگی جیسے موضوعات دراصل وہی عناصر تھے جو صدیوں سے اردو شاعری اور نثر کا حصہ چلے آ رہے تھے۔
یوںاردو نے فلمی کہانیوں کو محض ایک بیانیہ نہ رہنے دیا بلکہ انھیں ادبی اور تہذیبی سطح پر بلند کر دیا۔
رفتہ رفتہ یہ حقیقت واضح ہوتی گئی کہ اردو فلمی دنیا میں محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک فکری و جذباتی سرمایہ ہے۔ اس کے ذریعے فلموں نے عوام کی زبان کو نکھارا، ان کے ذوق کو جِلا بخشی اور ایک ایسا رشتہ قائم کیا جس میں تفریح، جذبات اور تہذیب سب یکجا ہو گئے۔ اردو کی اسی انفرادیت نے ہندوستانی سنیما کو ایک خاص وقار اور سنجیدگی عطا کی اور فلم کو محض تماشے یا وقت گزاری کا ذریعہ رہنے کے بجائے ایک سنجیدہ اور باوقار ثقافتی اظہار میں ڈھال دیا۔
اردو مکالمہ نگاری اور بالی وڈ کی سنہری روایت
مکالمہ نگاری دراصل وہ فن ہے جس کے ذریعے جذبات کو الفاظ کا قالب دیا جاتا ہے۔ ایک اچھا مکالمہ صرف اداکار کی زبان سے ادا نہیں ہوتا بلکہ سننے والے کے دل و دماغ میں اتر کر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ بالی وڈ کی سنہری تاریخ (1940 تا 1970) میں یہ کمال اردو زبان کو حاصل ہوا کہ اس نے مکالمہ نگاری کو محض فلمی ضرورت کے بجائے ایک باقاعدہ فن کا درجہ دیا۔ اردو مکالمے اپنے محاوراتی حسن، فصاحت و بلاغت، روانی اور آہنگ کے سبب فلمی دنیا میں ایک الگ پہچان بناتے ہیں۔
اس دور کے مکالموں میں تشبیہ و استعارہ، محاورہ اور زبان کی تہذیبی لطافت اس انداز سے استعمال ہوئی کہ وہ صرف ڈائیلاگ نہ رہے بلکہ فنِ ادب اور فنِ خطابت کی روشن مثالیں بن گئے۔ درباری مناظر میں فصیح اور شستہ اردو نے شاہانہ وقار پیدا کیا جب کہ رومانی مناظر میں نرم، مترنم اور دل آویز لب و لہجہ اپنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مکالمے کانوں سے گزر کر سیدھے دل میں اترنے لگے۔
مثال کے طور پر مغلِ اعظم (1960) کا وہ یادگار لمحہ جب شہزادہ سلیم (دلیپ کمار) انارکلی (مدھوبالہ) سے کہتا ہے:
’’پِتا کی سرزمین پر محبت کے قدم رکھنے سے پہلے اس کو اجازت لینی پڑتی ہے۔‘‘
یہ جملہ محض ایک مکالمہ نہیں بلکہ تاریخ، وقار اور جذبات تینوں کا حسین امتزاج ہے۔
اسی طرح دیوار (1974) میں امیتابھ بچن کا جذباتی اعلان:
’’میرے پاس ماں ہے۔‘‘
یہ تین الفاظ سادہ ہیں مگر اردو کی جذباتی لَے اور تہذیبی پس منظر نے انھیں ایسا لازوال بنا دیا کہ یہ جملہ بالی وڈ کی تاریخ میں امر ہوگیا۔
امراؤ جان (1981) میں ریکھا کا دل گرفتہ جملہ:
’’ہم بھی وہاں موجود تھے جہاں فیصلے ہو رہے تھے، مگر ہم پر کوئی فیصلہ نہ ہوا۔‘‘یہ مکالمہ غم، رمز اور تہذیبی نزاکت کا ایسا خوبصورت مرقع ہے جو اردو کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔
اگر ہم دیگر فلموں کو دیکھیں تو پاکیزہ (1972) میں گیت اور مکالمے کی زبان اردو ہی تھی جس نے فلم کو کلاسیک کا درجہ بخشا۔ صاحب، بیوی اور غلام (1962) میں مکالموں کی نرمی اور درد مندی نے کہانی کو ایک تہذیبی اور جذباتی رنگ دیا۔ اسی طرح مدر انڈیا (1957) میں مکالموں کی طاقت نے فلم کو محض ایک کہانی کے بجائے ایک قومی و سماجی علامت بنا دیا۔
یہ تمام مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو زبان نے فلمی دنیا میں محض اظہار کا ذریعہ نہیں دیا بلکہ اسے تہذیبی شناخت، ادبی لطافت اور جذباتی تاثیر سے مالا مال کیا۔ بالی وڈ کی تاریخ میں اردو مکالمہ نگاری دراصل زبان کی اس قوت کا مظہر ہے جو فن کو امر اور جملوں کو تاریخ بنا دیتی ہے۔

بالی وُڈ کے نغمے اور اردو شاعری کا تہذیبی تسلسل
بالی وُڈ کے نغمے محض تفریح یا فلمی دنیا کی رونق نہیں بلکہ اردو شاعری کے اس لازوال تسلسل اور تہذیبی جمالیات کی روشن علامت ہیں، جو سلور اسکرین پر بھی اپنی پوری عظمت کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ یہ نغمے ایک طرف انسانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں اور دوسری جانب سماجی شعور، تہذیبی ورثہ اور اجتماعی فکر کے نمائندہ بھی ہیں۔ فلمی نغمہ نگاری کا کمال یہ ہے کہ اس میں شامل بڑے شعرا نے اپنی تخلیقی بصیرت اور شعری گہرائی سے ان گیتوں کو محض موسیقی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انھیں احساس، فکر اور روحانیت کی نئی جہتیں عطا کیں۔
ساحر لدھیانوی نے اپنی انقلابی اور بامقصد شاعری کے ذریعے فلمی نغموں کو طبقاتی شعور اور سماجی بیداری کی ایک توانا آواز بنا دیا۔ ان کا شہرہ آفاق گیت ’’یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا‘‘ آج بھی ظلم و استحصال کے خلاف مزاحمت اور عدل و انصاف کی جستجو کا استعارہ ہے۔ کیفی اعظمی نے مشرقی حسن کو ترقی پسند فکر کے ساتھ جوڑ کر اردو نغمہ نگاری کو ایک فکری بلندی بخشی۔ ان کا نغمہ ’وقت نے کیا کیا حسین ستم‘ بظاہر محبت کی ناکامی ہے، لیکن دراصل یہ وقت کی بے رحمی اور اجتماعی المیوں کی علامت ہے، جہاں وقت کو ایک ایسی طاقت کے طور پر دکھایا گیا ہے جو خوابوں اور محبت کو کچل دیتی ہے۔
گلزار نے اپنی شاعری میں روزمرہ زبان کی سادگی اور فکر کی گہرائی کو اس طرح ہم آہنگ کیا کہ ان کے نغمے ایک طرف سادہ اور دل نشین معلوم ہوتے ہیں تو دوسری طرف سننے والے کو ایک روحانی اور داخلی تجربے سے گزار دیتے ہیں۔ ان کا نغمہ ’تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں‘ اردو زبان کی لطافت، مٹھاس اور سوز کی ایک درخشاں مثال ہے، جہاں ہر لفظ جذبے کی مجسم صورت اختیار کر لیتا ہے۔
قمر جلال آبادی نے اپنی سادہ مگر دل کو چھو لینے والی شاعری سے فلمی نغموں کو ایسی نغمگی بخشی جس میں سوز بھی ہے اور روانی بھی۔ ان کا مشہور گیت ’اک دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا‘ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اردو کے عام اور روزمرہ الفاظ اپنی فطری موسیقیت اور سوز کے ساتھ کس طرح ایک عام خیال کو بھی امر کر سکتے ہیں۔
یوں ساحر کی انقلابی فکر، کیفی کی ترقی پسند نگاہ، گلزار کی لطافت اور قمر جلال آبادی کی سادگی مل کر اردو نغمہ نگاری کو وہ عظمت عطا کرتے ہیں جس نے بالی وڈ کے نغموں کو صرف فلمی دنیا کی دلکشی تک محدود نہ رکھا بلکہ انھیں اردو زبان، تہذیب اور اجتماعی شعور کا دائمی سرمایہ بنا دیا۔
تہذیبی و ثقافتی پس منظر
اردو زبان برصغیر کی سب سے نایاب تہذیبی متاع ہے۔ یہ محض ایک بولی یا ابلاغ کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک ایسا زندہ ورثہ ہے جس میں صدیوں کی تاریخ، محبت، رواداری اور ثقافتی رنگ جڑے ہوئے ہیں۔ اردو کی سب سے بڑی طاقت اس کا لہجہ، اس کی شائستگی اور اس کا تہذیبی وقار ہے۔ اس زبان میں محبت کا اظہار محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک رویہ ہے، ایک اندازِ زندگی ہے۔ اردو کی گفتگو سننے والا فرد محض بات نہیں سنتا بلکہ اس کے پس منظر میں ایک تہذیبی خوشبو کو محسوس کرتا ہے۔
جب فلمی کردار ’جناب‘، ’مہربانی‘، ’بصد شکریہ‘ یا ’عرض ہے‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو وہ محض رسمی جملے نہیں ہوتے، بلکہ اپنے ساتھ ایک تہذیبی فضا، شرافت، وقار اور محبت بھرا رویہ لے کر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے مکالمے اور نغمے جب پردۂ سیمیں پر ابھرتے ہیں تو ناظرین محض فلمی منظر نہیں دیکھتے بلکہ ایک تہذیبی تجربے سے گزرتے ہیں۔
اردو کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زبان اپنے اندر مشترکہ ہندوستانی ورثے کی جھلک رکھتی ہے۔ اس میں ہندو اور مسلم تہذیب کا حسین امتزاج ہے۔ اردو میں وہی روانی ہے جو گنگا کے پانی میں ہے، اور وہی وسعت ہے جو جمنا کے کناروں پر ہے۔ یہی زبان ہے جہاں ’عید‘ اور ’دیوالی‘ دونوں کا ذکر آتا ہے، جہاں ’رحمٰن‘ اور’کرشن‘دونوں کے قصے سنے جاتے ہیں، جہاں صوفیائے کرام کے اشعار بھی ہیں اور بھکتی سنتوں کی صدائیں بھی۔ یہ زبان اپنی اصل میں فرقہ واریت سے بلند، محبت اور اتحاد کی علمبردار ہے۔
ہندوستانی فلموں کی کامیابی میں اردو کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ مکالموں کی نرمی، نغموں کی مٹھاس، جذبات کی گہرائی اور شائستگی کی وہ روایت جو اردو کے بغیر ممکن نہیں، بھارتی سنیما کو ایک عالمی شناخت عطا کرتی ہے۔ دنیا بھر میں جب ہندوستانی فلمیں دیکھی جاتی ہیں تو ان کے پس منظر میں اردو کی وہ تہذیبی خوشبو بھی پہنچتی ہے جو سامعین و ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بالی وڈ کا بڑے سے بڑا کردار اپنی پہچان کے لیے اردو کے آہنگ کا سہارا لیتا ہے۔
یوں کہاجاسکتاہے کہ اردو زبان دراصل ہندوستان کی روح ہے۔ایک ایسی روح جو اپنے اندر ماضی کی کہانیاں، حال کی حقیقتیں اور مستقبل کی امیدیں سمیٹے ہوئے ہے۔
اختتامیہ
بالی وُڈ اور اردو کا تعلق دراصل روشنی اور خوشبو کا رشتہ ہے۔ ایک نے اپنی کہانیوں کو آواز دی تو دوسری نے ان آوازوں کو دل کی دھڑکن بنا دیا۔ آج اگرچہ فلمی دنیا کی زبان ہندی اور انگریزی کے امتزاج سے نئی صورتیں تراش رہی ہے، لیکن اردو کی لطافت، اس کی مٹھاس اور اس کا جمالیاتی وقار اب بھی ہر دل میں اپنی پہچان باقی رکھے ہوئے ہے۔
حالیہ فلمیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم اس بات کے شاہد ہیں کہ اردو محض الفاظ نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے— ایک ایسا دریا جو محبت، شائستگی اور فکری گہرائی کی لہریں اپنے ساتھ بہاتا ہے۔
اگربالی وڈ نے شعوری طور پر اردو کو اپنی تخلیقی روح میں دوبارہ جگہ دی تو یہ محض ایک زبان کی واپسی نہیں ہوگی بلکہ ایک تہذیب کی تجدید، ایک تاریخ کی بازیافت اور ایک شناخت کی تکمیل ہوگی۔ اردو کے بغیر بالی وُڈ ایک ایسا جسم ہے جس کی روح کھو گئی ہو، اور اردو کے ساتھ یہ وہ زندہ روایت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آتی ہے۔
یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اردو کے اس ورثے کو نہ صرف محفوظ رکھیں بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے سپرد بھی کریں۔ ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ زبانیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک تہذیب کا عکس ہوتی ہیں۔ اردو کا تحفظ دراصل ہماری تہذیبی بقا کا تحفظ ہے۔ جب نئی نسل وہی مکالمے سنے گی جو دل کو چھو جائیں اور وہی نغمے گائے گی جو وقت کی دھول میں بھی اپنی روشنی برقرار رکھتے ہیں، تب ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ اردو کا حسن زندہ ہے۔
جب تک اردو اپنی لطافت اور شائستگی کے ساتھ زندہ ہے، بالی وُڈ کی روح بھی زندہ رہے گی۔ یہ امتزاج ہماری ثقافتی شناخت کا سب سے روشن حوالہ ہے، ایک ایسا حوالہ جس پر ہم فخر بھی کر سکتے ہیں اور جسے ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثے کے طور پر چھوڑ سکتے ہیں۔ بالی وُڈ اور اردو کا یہ ملاپ نہ صرف ماضی کی پہچان ہے بلکہ مستقبل کی امید بھی ہے۔ یہی وہ دھڑکن ہے جو سینما کو دل کی گہرائیوں سے جوڑتی ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو ہماری تہذیبی شناخت کو ہمیشہ تابندہ رکھے گی۔

Abdul Hafeez Farooqui Alig
230/7, Begam Ganj
Raja Bazar, Chowk
Lucknow- (UP)
Mob.: 8738010996
abdulhafizfarooqi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

لالہ رام نرائن لال اگروال‘ اور ’رائے صاحب لالہ رام دیال اگروالا ‘ کی خدمات،مضمون نگار: مریم صبا

اردودنیا،جنوری 2026: کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہوتی ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سر چشمہ بھی۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان و ادب کے فروغ

ڈراما ’انار کلی ‘ اور فلم ’مغل اعظم‘ کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: وسیم احمد

اردودنیا،جنوری 2026: ناٹک اور ڈرامہ بنیادی طور پر ایک سکے کے دو پہلو ہیں یعنی ایسی کہانیاں یا قصے جو اداکاری کے ذریعہ پیش کیے جائیں۔ انھیں پیش کرنے کی

دھرم جی کی یاد میں،مضمون نگار: فرحان حنیف وارثی

اردودنیا،جنوری 2026: مجھےجوانی میں بالی ووڈ کے جن اداکاروں نے اپنی خوبصورتی اور اداکارانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا، ان میںدھرمیندر کا نام سرفہرست ہے۔دھرم پاجی مجھے اس قدر پسند تھے