قانونی صحافت میں روشن مستقبل کے امکانات،مضمون نگار: خواجہ عبدالمنتقم

January 29, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026:

سنسی خیز صحافت یازردصحافت(Journalism Yellow) سے وہ صحافت مراد ہے جس میں خبروں کو بڑھا چڑھا کریا جذباتی انداز میں پیش کیا جاتاہے اور سنسنی خیز خبروں، اشتعال انگیز سرخیوں، غیر مصدقہ معلومات اور عوامی جذبات سے کھیلنے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ صحافت میں تحقیق، حقیقت پسندی اور اخلاقی اصولوں کی کم اہمیت ہوتی ہے، جبکہ سنسنی، افواہوں یا جذباتی مواد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بنیادی مقصد بن جاتا ہے۔صرف یہی نہیں ہمارے بھولے بھالے عوام بھی جذبا ت کو بھڑکانے والے صحافیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور مختلف فورم پر مدعو کیے جا نے والے صحافیوں میں بھی سنجیدہ صحافیوں کے مقابلے میں ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
زرد صحافت کے سب سے نمایاں امریکی محقق جوزف کمبل (Campbell (Joseph )کے مطابق زرد صحافت ایک بامقصد سنسنی خیزی پر مبنی میڈیا ماڈل ہے جس کی جڑیں 19ویں صدی کے امریکی اخبارات میں گہری ہیں۔ ان کے مطابق زرد صحافت کی جو مختلف شکلیں ہمارے سامنے آتی ہیںان میںسنسیشنل ہیڈلائنز، مبالغہ آرائی، فیک نیوز کی ابتدائی شکلیں، شخصیاتی حملے،جرائم اور جنسی خبروں کا غیر متناسب استعمال شامل ہے۔کمبل کا کا دعویٰ ہے کہ زرد صحافت نے میڈیا میں ایسی “خبری ثقافت” کی بنیادڈ الی جس میں سچائی کی حیثیت ثانوی ہو گئی اور جذبات ہی بنیادی محرک بن گئے۔کمبل کاJournalism Neo-Yellowنظریہ ڈیجیٹل دور میں زرد صحافت کی نئی شکلوں میں زندہ ہے جیسے کلک بیٹ، وائرل sensationalism،سوشل میڈیا، آن لائن ٹرول فیکٹریز،یادداشت سے زیادہ تاثرپر زور۔ ان کے مطابق موجودہ میڈیا ماحول میں زرد صحافت پہلے سے زیادہ طاقتور ہے کیونکہ آج کا ڈیجیٹل ڈھانچہ وائرل جذباتی مواد کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔
زرد صحافت کی کلاسیکی تعریف کے مصنف و امریکی دانشور اور تاریخ داںفرینک لوتھر موٹ Luther Mott) Frank ) نے زرد صحافت کی تاریخی و تحقیقی بنیاد رکھی۔ ان کے مطابق زرد صحافت کی پانچ بنیادی پہچان ہیں یعنی دل دہلا دینے والی سرخیاں، جعلی یا مبالغہ آمیز انٹرویوز،جھوٹ یا نیم جھوٹ پر مبنی خبریں، سنسنی خیز تصاویر یا خاکے جرائم، جنس اور اسکینڈل پر غیرمتناسب زور-موٹ کے مطابق، زرد صحافت کا مقصد عوام کو معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں جھنجھوڑنا اور ان کے جذبات بر انگیختہ کرنا ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ زرد صحافت نے خبر کو پروڈکٹ بنا دیا ہے، اخلاقیات کو کمزور کر دیا ہے،صحافتی پیشے کی سنجیدگی کو کم کر دیا ہے اور عوامی سوچ میں تبدیلی لانے کاعمل کیا ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ مختلف جنگوںکے درمیان عوامی جذبات کو بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈیوڈ آر اسپینسر(David R.Spencer) کا کہنا ہے کہ زرد صحافت ایک سماجی مسئلہ ہے۔ان کے مطابق زرد صحافت صرف صحافتی پالیسی نہیں بلکہ سماجی قوت کااظہارہے۔جذباتی صحافت (Emotional journalism)کے نظریے کی بنیاد انسانی نفسیات کے تین محرکات یعنی خوف، غصے اورحسد یا تجسس پر ہے۔ اسپینسر کے مطابق میڈیا جب ان جذبات کو سودے بازی کے لیے استعمال کرتا ہے تو وہ ا خلاقی صحافت سے دوری اختیار کر لیتا ہے۔اس طرح کی صحافت سے دیگر افراد سے دشمنی پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔Warden Claireکے مطابق سوشل میڈیا زرد صحافت کی تین نئی شکلوں کی صورت میں رونما ہوا یعنی غلط معلومات،گمراہ کن معلومات اورجھوٹی معلومات۔یہ ماڈل پرنٹ دور کی زرد صحافت سے زیادہ خطرناک ہے۔ انگریز پروفیسر ہیلن سیسن(Helen Sisson) کے مطابق زرد صحافت ایک طرح کی “emotionally staged narrative” ہوتی ہے۔ ان کے مطابق زرد صحافت کی خصوصیات میں خبر میں ڈرامہ پیدا کرنا، اسے جذباتی زاویہ دینا،معلومات کو فسانے کی شکل دینااور عوامی غصے یا خوف کو ہوا دینا۔ان کا کہنا ہے کہ جب میڈیا ’’قابل فروخت جذبات‘‘ پر زور دیتا ہے تو جمہوریت discourse کی سطح پر کمزور ہو جاتی ہے۔ آسٹریلیائی صحافی فرینکلن بوب(Franklin Bob) کیMarket driven policyکی تھیوری زرد صحافت کے معاشی پہلو پر مبنی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اسے بازار میں چلنے والی صحافت کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا ادارے خبر کو ’’مارکیٹ پروڈکٹ‘‘ سمجھتے ہیں۔ ناظرین کی پسند کو آزادانہ صحافت پر ترجیح دی جاتی ہے۔سنسنی خیزیviewershipبڑھاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسے فروغ دیا جاتا ہے۔
یہ رجحان صرف جدید دور تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ میں بھی ایسے ادوار گزرے ہیں جب چند اخبارات نے غیر مصدقہ یا بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی خبروں کی بنیاد پر عوامی جذبات کو متاثر کیا، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ زرد صحافت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ عوام کے جذبات سے کھیلتی ہے۔ اشتعال انگیز سرخیاں، بڑھا چڑھا کر بیان شدہ واقعات اور جذباتی بیانات لوگوں میں غصہ، خوف، نفرت یا بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔یہ رجحان لسانی، مذہبی، سیاسی یا سماجی بنیادوں پر غلط فہمیاں بھی بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔جب عوام روزانہ سنسنی خیز اور غیر مصدقہ مواد کا سامنا کرتے ہیں تو سماجی اعتماد کم ہوتا ہے۔ افواہوں اور غلط بیانیوں، غلط پروپیگنڈے یا مبالغہ آرائی، واقعات کو اصل شکل سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کرنے اور سنسنی سرخیاں لگانے اور انہیں جذباتی یا یک طرفہ انداز میں پیش کرنے کی وجہ سے گروہی ٹکراؤ اور غیر ضروری کشیدگی بھی جنم لے سکتی ہے ۔
مشہور شخصیات، سیاست دانوں یا سماجی شخصیات کی نجی زندگی کے بارے میں غیر ضروری یا غیر اخلاقی رپورٹنگ سے بھی ان شخصیات کی ساکھ پر منفی اثر پڑتا ہے اور عوام کی نظر میں ان کی وقعت میں بھی کمی آجاتی ہے۔سنجیدہ صحافت سے انحراف، تحقیق، معتبر ذرائع اور متوازن رپورٹنگ کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایسا مواد پیش کرناجو ’’بکتا‘‘ہو یقینی طورپر کسی بھی مہذب معاشرے میں مسلمہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
سنجیدہ صحافت کو نظر انداز کرنے اورزرد صحافت کی راہ اختیار کرنے کاسب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ سنجیدہ، تحقیقی اور معیاری صحافت کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔اہم قومی مسائل جیسے معاشی صورتحال، صحت، تعلیم، پالیسی سازی، ماحولیاتی چیلنجزکو عوامی توجہ سے دور رکھا جاتا ہے، جبکہ معمولی نوعیت کی خبروں پر غیر ضروری زور دیا جاتا ہے۔جب میڈیا انسانی ضروریات، سماجی مسائل اور اہم پالیسی جیسے مباحث کی جگہ سنسنی کو اہمیت دینے لگے تو معاشرے کا علمی و فکری معیار گرنے لگتا ہے اور عوام ٹھوس معلومات کے بجائے جذباتی اور سطحی مواد پر انحصار کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں صحافیوں کی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے۔زرد صحافت کی وجہ سے پوری صحافتی برادری پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ سنجیدہ اور بااصول صحافیوں کی محنت، اعتبار اور تحقیق پر بھی شک ظاہر کیا جانے لگتا ہے، حالانکہ اُن کا زرد صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
جمہوری معاشرے میں میڈیا کا کردار معلومات فراہم کرنا، احتساب کوممکن بنانا اور عوامی بحث کو صحت مند رخ دینا ہوتا ہے لیکن زرد صحافت اس کردار کو کمزور کرتی ہے کیونکہ یہ حقائق کے بجائے جذباتی اور سطحی معلومات کو فروغ دیتی ہے جبکہ سنجیدہ صحافت عوام میں شعور پیدا کرتی ہے، حکومت اور اداروں کا احتساب کرتی ہے، تحقیق کے ذریعے حقائق تک رسائی فراہم کرتی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بناتی ہے کیونکہ یہ سچائی، دیانت داری اور ذمہ داری پر مبنی ہوتی ہے۔ زرد صحافت بظاہر تو لوگوں کی توجہ جلد حاصل کر لیتی ہے، لیکن اس کے نتائج نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جذبات بھڑکانے، افواہیں پھیلانے، معاشرتی عدم استحکام پیدا کرنے اور سنجیدہ صحافت کو دبانے جیسے اثرات معاشرے کی فکری بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا ، صحافی اور قارئین تینوںخبر کو پرکھنے، تحقیق کرنے اور معیاری صحافت کو ترجیح دینے کی طرف قدم بڑھائیں، تاکہ معاشرے میں سچائی، تحقیق اور ذمہ دارانہ اظہارِ رائے کو فروغ مل سکے۔
دریں صورت ہمارے صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ہر صورت حال میں صحافت ومیڈیاسے متعلق قواعد، ضوابط، احکام، اور رہنما اصولوں کی پابندی کریں خواہ ان کا میدان صحافت کوئی بھی ہو جیسے تجزیاتی صحافت، تفتیشی صحافت، خبری صحافت،غیر منافع بخش یاساٹنٹفک (دانشورانہ ) صحافت ، اجتماعی صحافت، پس منظری اجتماعی صحافت، معاشرتی صحافت، عام شہریوں سے متعلق صحافت، نامورشخصیات سے متعلق صحافت، تجارتی و مالیاتی امورسے متعلق صحافت، حساب کاری صحافت، شماریاتی صحافت،انفرادی و تنظیمی صحافت، ماحولیاتی صحافت،فری لانس صحافت،بصارتی صحافت، نشریاتی صحافت،مزاحیہ و ظرافتی صحافت،کامکس(قہقہہ آمیز و تمسخر آ میز) صحافت،کھیل کود سے متعلق صحافت، ٹیب لائڈ صحافت،یہاںتک کہ سنسنی خیز صحافت تک میں بھی لکشمن ریکھا کا احترام ضروری ہے۔

قانونی صحافت میں سنسنی خیزی صحافیوں کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت نہیں
قانونی صحافت میں کسی بھی طرح مبالغہ آرائی کی گنجائش نہیں۔ اقسام صحافت میں قانونی صحافت اور صحافیوں کو دیسی زبانوں میں وہ اہمیت نہیں ملی جو ملنی چاہئے تھی جبکہ قانونی صحافت کی اہمیت کا اندازہ در ج ذیل حقائق سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

قانون اور صحافت کا باہمی تعلق
قانون اور صحافت ایک دوسرے سے نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی بھی شخص، خواہ وہ عمومی صحافت سے وابستہ ہو یا قانونی صحافت سے، اُس وقت تک مکمل پیشہ ور صحافی نہیں بن سکتا جب تک کہ اسے قانون، بین الاقوامی معاہدات، کنونشنز، میثاق اور اسی نوعیت کے دیگر قانونی دستاویزات کا عملی علم نہ ہو۔ قانونی صحافیوں کی خدمات کو خاص طورپر مختلف صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے، مثلاً:
فیچر رائٹر کے طور پر قانونی موضوعات پر مضامین لکھنے کے لیے ویب رائٹرز اور بلاگرز کے طور پر آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے تحقیقی اور معلوماتی مواد تیار کرنے کے لیے قانونی رپورٹرز، تجزیہ کار اور نمائندوں کے طورپر، کارپوریٹ رائٹرز کے طور پر، بریف میمورنڈم، کاروباری مواد، پریس ریلیز، بروشرز، لیف لیٹس، نیوز لیٹر، پروفائلز اور مختلف قانونی دستاویزات تیار کرنے کے لیے اور تجارتی و قانونی معاملات کا تجزیہ کرکے آن لائن قانونی معلومات فراہم کرنے کے لیے۔
ایک زمانے میں قانونی صحافت کو صحافت کا ایک غیر دریافت شدہ یا ثانوی شعبہ سمجھا جاتا تھا، لیکن عمومی شرحِ خواندگی، قانونی آگاہی، حقوق کے شعور اور سول سوسائٹی کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے اس شعبے کو نئی رفتار بخشی ہے۔ اب یہ شعبہ ترقی یافتہ ہی نہیں بلکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بھی عالمی روابط، لبرلائزیشن اور گلوبلائزیشن کے سبب مضبوط ہو چکا ہے۔آج نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں قانونی صحافیوں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ملازمت کے مواقعقانونی ایڈیٹرز
قانونی اہلیت رکھنے والے اور زبان پر مضبوط گرفت رکھنے والے افراد، مختلف ہندوستانی و بین الاقوامی جرائد، اخبارات اور میڈیا اداروں میں ابتدا میں جونیئر سطح پر شامل ہو سکتے ہیں۔قانونی ایڈیٹرز کے لیے زبان پر عبور، سادہ اور مختصر طرزِ بیان اور دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت ضروری خصوصیات ہیں۔
قانونی صحافیوں کو ہمیشہ باخبر، چوکس اور حالات پر نظر رکھنی چاہیے۔ تنہائی پسند مزاج اس شعبے میں کارگر و کامیاب نہیں ہوتا۔ جونیئر سطح سے آغاز کرکے بڑے میڈیا اداروں میں چیف ایڈیٹر تک پہنچنا ممکن ہے۔

ہندوستان میں اہم قانونی جرائد / رپورٹس
* الہ آباد لا جرنل* کلکتہ لا جرنل* دہلی لا ٹائمز* کشمیر لا جرنل* کیرالہ لا جرنل* مدراس لا جرنل* مدھیہ پردیش لا جرنل* پٹنہ لا جرنل،* آربیٹریشن جرنل* کمپنی لا جرنل* سول اینڈ ملٹری لا جرنل* انکم ٹیکس جرنل* ایکسائز اینڈ لا ٹائمز* سروس لا رپورٹر*سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ جرائد* سپریم کورٹ جرنل
* آل انڈیا رپورٹر سپریم کورٹ ویکلی اورمختلف ہائی کورٹس کے جرائد* آل انڈیا رپورٹر (A.I.R) *ججمنٹ ٹوڈے،* انڈین لا رپورٹر (ILR)* سپریم کورٹ کیسز (S.C.C)* اسکیل* سپریم کورٹ رپورٹس (S.C.R)،چچیہ نیا یالیہ پتریکا، اچتر نیایالیہ پتریکا۔

مرکزی و ریاستی حکومتوں، یونیورسٹیوں
اور دیگر اداروں میں مواقع
مرکزی وزارتِ قانون و انصاف مختلف قوانین، قواعد اور قانونی کتب کی طباعت کے لیے ایڈیٹنگ اور پبلشنگ اسٹاف رکھتی ہے۔ اس میں پروف ریڈرز، ایڈیٹنگ اسسٹنٹس، سب ایڈیٹرز، اسسٹنٹ ایڈیٹرز، ایڈیٹرز اور چیف ایڈیٹرز شامل ہیں۔ریاستی حکومتوں کے قانونی محکمے اور تمام سرکاری ادارے بھی قانونی دستاویزات کی تیاری کے لیے ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔وزارتِ خارجہ میں بھی معاہدوں اور بین الاقوامی دستاویزات کے ترجمے اور ایڈیٹنگ کے لیے ماہرین درکار ہوتے ہیں۔

قانونی رپورٹنگ / سپریم کورٹ میں ایکریڈیشن
اخبارات، نیوز ایجنسیوں، کارپوریٹ پبلشرز وغیرہ کو قانونی رپورٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک منافع بخش شعبہ ہے لیکن اس میں فوری ردّعمل، مستعدی اور ہمیشہ دستیاب رہنے کی صلاحیت لازم ہے۔ معمولی تاخیر بھی ادارے کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا نے قانونی نامہ نگاروں کی منظوری کے لیے کچھ ضوابط مقرر کیے ہیںجیسے قانون کی ڈگری، کسی قومی یا بین الاقوامی ادارے میں عدالتوں کی رپورٹنگ کاکم ازکم سات سالہ تجربہ۔الیکٹرانک میڈیا کے لیے بھی یہی معیار لاگو ہوتا ہے۔تاہم چند شرائط کے ساتھ عارضی ایکریڈیشن بھی دی جا سکتی ہے۔

فری لانس صحافی
ہندوستانی اور بین الاقوامی ادارے فری لانس قانونی صحافیوں کی خدمات بھی لیتے ہیں۔ بعض قانونی ایڈیٹرز چھوٹے میڈیا اداروں سے آگے بڑھ کر نہ صرف بڑی عالمی تنظیموں میں پہنچے بلکہ اقوامِ متحدہ کے اہم شعبوں میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے اداروں میں اعلانات، معاہدات، کنونشنز اور بین الاقوامی دستاویزات کی تیاری کے دوران قانونی ایڈیٹنگ ایک بنیادی حصہ ہوتی ہے۔

آؤٹ سورسڈ لیگل ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ
بین الاقوامی ایجنسیاں قانونی مواد کی درستگی، معیار، زبان اور عالمی تقاضوں سے مطابقت کے لیے ماہر قانونی ایڈیٹرز کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ایسے ماہرین کمپنی کی دستاویزات، معاہدات، پیٹنٹس، ٹریڈ مارکس، کاپی رائٹ وغیرہ کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں۔

پروف ریڈنگ چیک لسٹ
ٹائپ یا کمپوزنگ کی غلطیاں،رموزِ اوقاف اور گرامر، طویل جملے،
کوٹیشن مارکس کی درستی،متن میں قواعد کی غلطیاں، جملوں کی ساخت،املا تحریر کا اسٹرکچر اور موضوع، پیشکش اور اندازِ بیان

میڈیا میں قانونی صحافیوں کی ضرورت
پرنٹ، الیکٹرانک اور دیگر تمام میڈیا پلیٹ فارمز کو قانونی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف ایڈیٹر ہی نہیں بلکہ میزبان، اینکر، رپورٹر اور انٹرویو لینے والے بھی قانونی پس منظر کے بغیر اپنا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دے سکتے۔صحیح قانونی فہم کے بغیر کوئی بھی شخص مکمل پیشہ ور قانونی صحافی نہیں بن سکتا۔

کورسز
بھارت میں کئی سرکاری و نجی ادارے صحافت، ماس کمیونیکیشن، میڈیا اسکرپٹنگ اور متعلقہ شعبوں میں ڈگری و تحقیقاتی پروگرام چلا رہے ہیں۔تاہم ہماری معلومات کے مطابق قانونی صحافت کا کوئی مخصوص کور س ابھی تک موجود نہیں ہے۔ یہ بات دوسری ہے کہ قانون کی تعلیم میں قانونی زبان پڑھائی جاتی ہے اور صحافت کے بڑے اداروں میں قانونی رپورٹنگ کے بنیادی اصولوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔

چند معرو ف صحافت کی تعلیم دینے والے ادارے
* تمام UGC سے منظور شدہ یونیورسٹیاںاورسرکاری و نجی ادارے
* انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (IIMC)، نئی دہلی
* اے جے کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ
* سمبیوسس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن، پونے
* بھارتیہ ودیا بھون میڈیا انسٹی ٹیوٹس
* ٹائمز اسکول آف جرنلزم، نئی دہلی وغیرہ۔

قانونی صحافیوں کے لیے مشاہرہ/ تنخواہ
مشاہرہ/تنخواہ اس بات پر منحصر ہے کہ قانونی صحافی کس شعبے و ادارے کا انتخاب کرتا ہے۔اگر ملازمت سرکاری ادارے میں ہو تو تنخواہ سرکاری قواعد کے تحت ہوتی ہے، اوروہ چالیس ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ تک ہو سکتی ہے۔ملٹی نیشنل کمپنیاں اور کیمپس سلیکشن کے ذریعے سالانہ تین سے چار لاکھ تک کے پیکج بھی دیتی ہیں۔ فری لانس صحافیوں کو ابتدا میں محنت کرنی ہوتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ آمدنی کے وسیع مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

اہم انتباہ
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صحافی صرف سچ جاننے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ضابطوں کی پابندی بھی کرنی پڑتی ہے۔ہندوستان میں صحافیوں پر پریس کونسل آف انڈیا اور دیگر اداروں کے مقررہ ضابطے لاگو ہوتے ہیں۔دیانت داری، پیشہ ورانہ ساکھ اور ایمانداری ہی ایک صحافی کی اصل پونجی ہے۔لہٰذا قانونی صحافت میں صرف وہی شخص قدم رکھے جو اس شعبے کے لیے حقیقی جذبہ رکھتا ہو۔

Khawaja Abdul Muntaqim

H-3 Dharma Aptt. 2-1 P. Extn.

Delhi-110092

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

آکاش وانی کا 90 سالہ سفر،مضمون نگار:اختر آزاد

اردو دنیا،دسمبر 2025: آکاش وانی سنسکرت کے دو لفظوں کا مرکب ہے۔ آکاش +وانی۔ جس کے لغوی معنی ’آسمان سے آنے والی آواز‘ یا ’الہامی آوازہے‘۔’آکاش وانی‘ لفظ کا پہلی

1857 سے قبل کے فارسی اخبارات اور ان کے غیرمسلم مدیران،مضمون نگار: عامر فہد

اردو دنیا،نومبر 2025 برطانوی استعمار کے زیرِ سایہ ہندوستان میں جن فکری اور تہذیبی تبدیلیوں نے جنم لیا، ان میں صحافت کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ

ماہنامہ نیا دور کا ادبی اور صحافتی سفر،مضمون نگار: رفیق احمد

اردو دنیا،نومبر 2025 مرکز علم وفن، شہر شعر و ادب اور علمی و تہذیبی تمدن کے گہوارے سر زمین لکھنؤ کو اردو زبان و ادب کے فروغ میں بڑی اہمیت