اردودنیا،جنوری 2026:
پروفیسردیوان حنان خاں نے جس خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ زندگی بسر کی ، وہ اسی خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ خاموشی اتنی مہیب تھی کہ ان کے انتقال کی ایک سطری خبر بھی کسی اخبار میں جگہ نہ پاسکی۔ ان کے شناساؤں کویہ اندوہناک خبر سوشل میڈیا سے ملی اوروہیں دفن بھی ہوگئی۔ دیوان حنان خاں کووڈ کے زمانے سے صاحب فراش تھے اور بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ منقطع تھا۔ کچھ خاص لوگ ہی ان کی خبر گیری کرتے تھے۔ یوں بھی وہ محفلوں سے دور اپنے کام دھام میں مگن رہنے والے انسان تھے اور انھیں دنیاوی چکا چوند سے کوئی دلچسپی اور لگاؤ نہیں تھا۔ جو لوگ صحیح معنوں میں علم کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کی زندگی کاسفریوں ہی تمام ہوتاہے۔علم وادب کی خدمت کے بعد دیوان حنان خاں کادوسرا شوق اپنے دوستوں اور شنا ساؤں کے کام آنا تھا ۔ سچ پوچھیے تو وہ اسی شوق میں زندگی کی جنگ ہارگئے۔مگر اس کا ذکر ذرا بعد میں آئے گا، پہلے دیوان حنان خاں کی خوبیوں اور کارناموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
دیوان حنان خاں این سی ای آرٹی کے شعبہ لسانیات میں ایک ہردلعزیز پروفیسر تھے۔ ان کی پہچان جہاں ان کی علمی لیاقت اور بردباری کی وجہ سے تھی، وہیں لوگ انھیں ان کی انسانی خوبیوں کی وجہ سے بھی یاد رکھیں گے۔ وہ ایک فرض شناس ، بااخلاق ، ملنسار اور وقت کے پابند انسان تھے۔ان میں انسان دوستی اور خلوص کا جذبہ سب سے بڑھ کر تھا۔ دیوان حنان خاں کی پیدائش ریاست بہار کے ضلع کیمور(بھبھوا) کے ایک گاؤں بیور میں ہوئی تھی اور وہیں 27؍نومبر 2025کو انھیں سپرد خاک بھی کیا گیا۔ انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر اپنی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1965درج کی ہے ۔ این سی ای آرٹی کی ویب سائٹ پرجہاں وہ بطور پروفیسر برسرکار تھے، ان کے ریٹا ئرمنٹ کی تاریخ31؍ دسمبر2029 درج ہے۔ یعنی ابھی ان کی سبکدوشی کو چارسال باقی تھے، مگر وہ اس سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ بلاشبہ یہ دنیا سرائے فانی ہے اور ہم سب کو اسی جگہ چلے جانا ہے جہاں دیوان حنان خاں گئے ہیں۔ اپنے گاؤں میں ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد انھوں نے یوپی کا رخ کیا اور یہاں کے بنارس اور غازی پور اضلاع میں کئی برس بسلسلہ تعلیم قیام کیا۔ عام طورپر لوگ انھیں اترپردیش ہی کا باشندہ تصور کرتے تھے، کیونکہ ان کی گفتگو میں بہار کا رنگ نہیں تھا۔ دیوان حنان خاں کا تعلیمی کیریئر نہایت شاندار رہا۔ انھوں نے ایم اے ، ایم فل ، بی ایڈ اور پی ایچ ڈی کے علاوہ ماس میڈیا میں ڈپلومہ بھی کیا تھا۔
دیوان حنان خاں نے پی ایچ ڈی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر نصیراحمد خاں کی نگرانی میں کی تھی اور ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع ’’نیرنگ خیال کا موضوعاتی اشاریہ ‘‘ تیار کرنا تھا۔انھوں نے بیسویں صدی کے ایک اہم جریدے کا اشاریہ بڑی محنت اور لگن کے ساتھ مرتب کیا۔دراصل یہی وہ اشاریہ تھا جس کے توسط سے علمی اور ادبی حلقوںمیںان کا تعارف ہوا ۔میں بھی اسی اشاریہ کے ذریعہ ان سے متعارف ہوا،جو ان کی زندگی کے آخری دنوں میں مجھ تک پہنچا۔ یہ میری لاعلمی تھی کہ میں ایسے مخلص اور بے لوث انسان کو اس کی زندگی میں نہیں جان سکا۔ ’’نیرنگ خیال کا موضوعاتی اشاریہ‘‘ تیار کرنے کے علاوہ انھوں نے پروفیسر عبدالقوی دسنوی کا مونوگراف بھی لکھا تھا ، جسے 2017 میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے بڑے اہتمام سے شائع کیا تھا۔ قومی اردو کونسل کے ماہنامہ جریدے ’’اردو دنیا ‘‘ میں بھی ان کے کئی مضامین شائع ہوئے۔ دیوان حنان خاں کا خاص میدان لسانیات تھا اور انھوں نے اس میں کئی اہم کام کیے۔ ان کی پانچ کتابیں شائع ہوکر منظرعام پر آئیں جبکہ دوغیر مطبوعہ ہیں۔ این سی ای آرٹی کے رکن اور رابطہ کار کے طورپر انھوں نے جو کام کیے ان میں’’اردو کی پانچویں کتاب ‘‘برائے درجہ پنجم کے علاوہ درجہ چھ ، سات اورآٹھ کے لیے ’’باغ اردو‘‘ اور ابتدائی درجات کے لیے ’’ابتدائی اردو‘ ‘ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ درجہ آٹھ کے لیے ’دورپاس‘ اور درجہ نہم کے لیے ’سب رنگ ‘ شامل ہیں۔ انھوں نے اردو اساتذہ کے لیے’ ’رہنما کتاب ‘‘ ،’ ’اردو قواعد اور انشاء‘‘، ’’اردوزبان وادب کی تاریخ ‘‘کے علاوہ مختلف ذیلی اور اعلیٰ درجات کے لیے جو کتابیں مرتب کیں ان میں’’بڑھتے قدم ‘‘ ، ’’اردو تدریسیات ‘‘،’’تخلیقی جوہر‘‘،’’ہمارے تمہارے افسانے ‘‘، ’’شمولیاتی تعلیم‘‘ اور’ ’ریاضی کی تدریسیات‘‘شامل ہیں۔ان کے کاموں میں ’’نیرنگ خیال کا موضوعاتی اشاریہ‘‘ تیار کرنا ہی سب سے اہم ہے۔مگر اس کا تعارف اور ان تک میری رسائی کی داستان ذرا آگے چل کر آئے گی ۔ پہلے ’’عبدالقوی دسنوی ‘‘پر ان کے مونوگراف کا ذکر کرتے ہیں ۔پروفیسر عبدالقوی دسنوی کی طویل اوراہم علمی ، ادبی وتدریسی خدمات محتاج تعارف نہیں ہیں ۔ ان کا شمار ایک اچھے انسان ، کامیاب استاد ، نامور محقق ، ناقد ، اشاریہ ساز ، ادیب اور اردو کے عاشقوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے غالبیات ، اقبالیات، بھوپالیات، اشاریہ سازی اورمولانا ابوالکلام آزاد سے متعلق کئی وقیع تحقیقی وتنقیدی مقالات اور تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ دیوان حنان خاں نے اس مونوگراف میں پروفیسر عبدالقوی دسنوی کی شخصیت اور سوانح ، ان کے ادبی وتخلیقی سفر اور تصانیف کا جائزہ لینے کے علاوہ تنقیدی محاکمہ اور ان کی تحریروں کا جامع انتخاب شامل اشاعت کیا ہے۔ پروفیسر عبدالقوی دسنوی کی شخصیت اور علمی وادبی خدمات سے متعلق یہ مونوگراف قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے خصوصی منصوبے کے تحت شائع کیا گیا، جس میں پروفیسر عبدالقوی دسنوی کی شخصیت اور سوانحی حالات ، ان کی تصنیفات اور تالیفات کا تنقیدی جائزہ ، ان کی علمی ، ادبی ،تدریسی خدمات کا محاکمہ اور ان کی تحریروں کا جامع انتخاب شامل ہے۔
اب آئیے دیوان حنان خاں کے سب سے اہم کام کی طرف چلتے ہیں جس کا ذکر شروع میں کیا گیا ہے۔ یعنی ’’نیرنگ خیال کا موضوعاتی اشاریہ ‘‘ کی تیاری کی طرف۔ اس اشاریہ تک راقم الحروف کے پہنچنے کی داستان بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔اس سے پہلے دیوان حنان خاں سے میری کوئی شناسائی نہیں تھی ۔ نہ ہی میں ان کے نام اور کام سے واقف تھا۔ ایک روز میرے کرم فرما اور’ علم وکتاب ‘چینل کے روح رواں عبدالمتین منیری صاحب کا دبئی سے فون آیا۔ انھیںکہیں سے یہ اطلاع ملی تھی کہ آزادی سے قبل لاہور سے شائع ہونے والے مجلہ ’’نیرنگ خیال‘‘ کا اشاریہ ہندوستان کے ایک محقق نے تیار کیا ہے۔
بڑی کوششوںکے بعد آخرکار ’’نیرنگ خیال کے موضوعاتی اشاریہ‘‘ تک میری رسائی ہوئی۔ میں نے اسے منگوایا اور دوکتابیں منیری صاحب کو پوسٹ کردیں۔ ابھی دوروز بھی نہیں ہوئے تھے کہ دیوان حنان خاں کے انتقال پرملال کی خبر ملی اور میں دھک سے رہ گیا۔ بلاشبہ وہ ایک مخلص اور خداترس انسان تھے۔ بیماروں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ان کا شوق تھا۔ ماہر جمالیات پروفیسر شکیل الرحمن کا گڑگاؤں میں انتقال ہوا تو ان کی تجہیز وتکفین بھی دیوان صاحب نے ہی کروائی تھی۔
بلاشبہ دیوان حنان خاں کا سب سے اہم کارنامہ ’’نیرنگ خیال کا موضوعاتی اشاریہ‘‘ ہے۔ ’’نیرنگ خیال ‘‘ کی اشاعت جولائی 1924میں لاہور سے شروع ہوئی تھی۔یہ مجلہ اپنے مضامین ، مواد اور حسن طباعت کی وجہ سے اس دور کے دیگر مجلات میں بہت ممتاز تھا ۔ اس کے خاص نمبر خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ عام طورپر لوگ ’’نقوش ‘‘کے خاص نمبروں کا ذکر کرتے ہیں ، لیکن مطالعہ کے شوقین حضرات کے لیے ’’نیرنگ خیال ‘‘ خا صے کی چیز ہے۔ بہرحال میں ان دونوں جرائد کا مداح ہوں جنھوں نے اردو کی ادبی صحافت میں کئی سنگ میل قائم کیے ۔’’نیرنگ خیال ‘‘ کا اجرا حکیم محمد یوسف حسن نے کیا تھا ۔ یہ جریدہ اپنے موضوعات اور مشمولات کی وجہ سے بہت مقبول ہوا ۔ اس میں سوانح ، شخصیات کے علاوہ دیگر شعری اور نثری تخلیقات شائع ہوتی تھیں۔ اس کی جن خصوصی اشاعتوں سے قارئین کو نئی جہتوں اور زاویوں کا علم ہوا ، ان میں’ مختصر افسانہ نمبر‘ ، ’چینی افسانہ نمبر‘ ، ’ماہیا نمبر‘ اور ’ایڈیٹر نمبر ‘ شامل ہیں ۔ نیرنگ خیال کا ایک شمارہ جون 1932 میں ’نگارش لطیف ‘کے نام سے شائع ہوا تھا ، جو خواتیں قلم کاروں پر مشتمل تھا۔یہ واحد رسالہ تھا جس نے علامہ اقبال کی زندگی میں ہی 1932 میں ’اقبال نمبر ‘ شائع کیا تھا ، جسے بعد میں ’’نقوش ‘‘ نے جوں کا توں شائع کیا۔دیوان حنان خاں نے بڑی محنت سے ’’نیرنگ خیال کا موضوعاتی اشاریہ ‘‘ کے عنوان سے کتاب مرتب کی جو 2007 میں شائع ہوئی تھی۔
یہ اشاریہ1924تا 1947کے شماروں پر مشتمل ہے۔عبدالمتین منیری صاحب کا خیال ہے کہ ’’اگر نیرنگ خیال کے شمارے اکٹھے کئے جائیں تو دیوان حنان خاں کا یہ اکلوتا علمی کارنامہ تادیر انھیں یاد رکھنے کا باعث بنے گا۔دیوان حنان خاں نے 26؍نومبر 2025 بروز بدھ کو دہلی سے متصل نوئیڈا کے میٹرو اسپتال میں صبح گیارہ بجے وفات پائی اور اگلے روز بہار میںضلع کیمور( بھبھوا) کے بیورنامی مقام پر ان کی تدفین عمل میں آئی۔
Masoom Moradabadi
Editor-Jadid khabar Daily
Z-103, Taj Enclave,Geeta Colony
Delhi-110031
Mob. 9810780563
masoom.moradabadi@gmail.com