لالہ رام نرائن لال اگروال‘ اور ’رائے صاحب لالہ رام دیال اگروالا ‘ کی خدمات،مضمون نگار: مریم صبا

January 29, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026:

کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہوتی ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سر چشمہ بھی۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان و ادب کے فروغ کا بھی اہم ترین ذریعہ اخبارات و رسائل اور کتب ہی رہی ہیں۔ ناشرین اور ان کے مطابع کو ان کی نشر و اشاعت میں بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے لیکن ان ذرائع کی اہمیت و افادیت کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ محققین عموماً شعرا و ادبا، ادبی و سیاسی تحریکات و رجحانات اور مسائل و تجربات کو اپنا موضوع بناتے رہے ہیں لیکن شعرا وادبا اور دانشوروں کے تجربات سے ہم کو روشناس کرانے والے ناشرین اور مطابع کو اس قدر اہمیت نہیں دی گئی جس کے وہ حق دار ہیں۔
لالہ رام نرائن لال اگروال اپنے عہد کے ایک معروف پبلشر اور کتب فروش تھے۔ ’رام نرائن لال بک سیلر‘ کے نام سے کٹرہ روڈ الہ آباد میں واقع ان کی دکان کا قیام منشی نول کشور پریس 1858کے قیام کے تقریباً 26 برس بعد 1884 میں عمل میں آیا۔ یہاں سے ہندی، اردو، سنسکرت، انگریزی، عربی، فارسی، بنگالی اور نیپالی زبانوں میں کتابیں شائع ہوتی تھیں۔ شائع شدہ کتابوں پران کے نام دو مختلف طریقوں سے لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ کہیں پر ’لالہ رام نرائن لعل‘ اور کہیں پر’لالہ رام نرائن لال‘۔
لالہ رام نرائن لال اگروال سے پہلے ان کے والد دوارکا پرشاد نے کتب فروشی کا کام شروع کیا تھا۔ دوارکا پرشاد اصلاً اٹاوہ کے رہنے والے تھے لیکن 1883 میں ملازمت کی غرض سے اٹاوہ سے الہ آباد منتقل ہو گئے۔ دوارکا پرشاد ایک معلم تھے۔ پنڈ ت موتی لال نہرو اور پنڈت مدن موہن مالویہ جیسی ہستیوں کوان سے تلمذ کا شرف حاصل تھا۔ دوارکا پرشاد معلمی کے ساتھ ساتھ کتب فروشی بھی کرتے تھے۔ پروفیسر بھوانی دتّ اُپریتی اس بابت لکھتے ہیں:
’’دوارکا پرشاد کا جنم 1844 میں اٹاوہ میں ہوا تھا۔وہاں کے ہیونس ہائی اسکول میں انھوں نے تعلیم حاصل کی ۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھے۔ ہائی اسکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1866 میں معلم کے عہدے پر ان کی تقرری ہو گئی۔ 1883 میں وہ اٹاوہ سے الہٰ آباد منتقل ہو گئے۔ راجکیہ ہائی اسکول الٰہ آباد میں ان کا ٹرانسفر ہوا۔ الٰہ آباد آنے کے بعد یہیں انھوں نے اپنی مستقل رہائش گاہ بنائی۔ وہ 1900 تک درس و تدریس کا کام کرتے رہے اورمدن موہن مالویہ، پنڈت موتی لال نہرو(والد پنڈت جواہر لال نہرو) وغیرہ کو تعلیم دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ الٰہ آباد آنے کے بعد ان کی توجہ کتاب کے کاروبار کی طرف گئی اور اپنی زندگی میں ہی وہ اس کاروبار کو ترقی کی منزل تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔‘‘1
اس طرح لالہ رام نرائن لال اگروال کو کتب فروشی کا کاروبار وراثت میں ملا تھا جسے انھوں نے مزید ترقی اور وسعت دی۔ لالہ رام نرائن لال اگروال نے کتب فروشی کے ساتھ اشاعت و طباعت کا کام بھی شروع کیا۔اس خاندان کے ایک فرد پیوش اگروال کے مطابق 1888 میں ’ رام نرائن لعل پبلشر ‘ کا قیام عمل میں آیا اور پہلی بار اس پبلشنگ نام سے کتابیں شائع ہوئیں۔ لالہ رام نرائن لال اگروال کتب فروشی کے عام کاروبار سے ترقی کر کے ہندوستان کے معروف اور اہم تاجِرکتب بن گئے۔ لالہ رام نرائن لال اگروال کی شہرت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد الہ آباد کی ایک اہم سڑک بینک روڈ کا نام تبدیل کرکے ’لالہ رام نرائن لال روڈ‘ کر دیا گیاتھا۔
رام نرائن لال کے چھوٹے بھائی رائے صاحب رام دیال اگروالا بھی آگے چل کر اس کاروبار سے وابستہ ہو گئے۔رائے صاحب رام دیال اگروالا کے پوتے پیوش اگروال کے مطابق 1895 میں رام دیال اگروالا اس کاروبار سے وابستہ ہوئے۔ 1920-1910 کے دوران انھوں نے ایک پریس(شانتی پریس) کے نام سے قائم کیا۔اس پریس سے متعدد علمی و ادبی کتابوں کی طباعت عمل میں آئی۔ اس پریس کو سنہ2000 میں فروخت کر دیا گیا۔لیکن رائے صاحب رام دیال اگروالا جب تک باحیات رہے انھوں نے طباعت و اشاعت کے اس کام کو جاری رکھا۔
لالہ رام نرائن لال اور رائے صاحب رام دیال اگروالا پبلشر کی تاریخ تقریباً سوا صدی سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی ہے جہاں سے علوم و فنون کی متنوع کتابیں شائع ہوئیں۔ یہ کتابیں ہندوستان کے مختلف حصوں میں فروخت کی جا تی تھیں۔اس پبلشر کے پرانے بہی کھاتوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سے شائع ہونے والی کتابیں ہندوستان کے 65 سے زائد شہروں میں بھیجی جاتی تھیں۔ ہندوستان کے علاوہ کچھ بیرون ممالک میں بھی ان کتابوں کو ایکسپورٹ کیا جاتا تھا۔ ان میں نیپال، ماریشس، فیجی، برما، پاکستان، شری لنکا، بنگلہ دیش وغیرہ ممالک کے نام اہم ہیں۔ بعد میں لالہ رام نرائن لال اگروال کے بیٹوں اور پوتوں نے الگ الگ زبان کی کتابوں کو الگ الگ فرم کے نام سے شائع کرنا شروع کیا۔ جس سے ’لالہ رام نرائن لعل پبلشر‘کی کئی شاخیں قائم ہو گئیں جن کے نام تھوڑی تبدیلی کے باوجود یکساں نظر آتے ہیں۔ جیسے ’رام نرائن لعل بینی مادھو‘، ’رام نرائن لعل ارن کمار‘ وغیرہ۔
لالہ رام نرائن لعل اگروال کے بعد ان کے بیٹے بینی مادھو اردو، عربی اور فارسی زبانوں کا سیکشن سنبھالتے تھے۔ بینی مادھو کے بعد پروشوتم داس اور پروشوتم داس کے بعد ارن کمار اس سیکشن کو سنبھالتے رہے۔فی الحال ارن کمار کے بعد ان کے بیٹے انج کمار اس سلسلے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔رائے صاحب رام دیال اگروالا کی فرم کو ان کے پوتے پیوش اگروال ’رائے صاحب رام دیال اگروالا پبلشر‘کے نام سے ہی چلا رہے ہیں۔ اب طباعت و اشاعت کام تو موقوف ہے مگر کتب فروشی کا کام جاری ہے۔ سنجے کمار اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں:
’’الٰہ آباد میں انُج کمار اس وقت اردو کتابوں کا سیکشن دیکھتے ہیں۔ انُج کمار سے پہلے ان کے والد ارُن کمار اس کاروبار کو دیکھتے تھے۔ پھر ان کے والد پرشوتم داس، پھر ان کے والد بینی مادھو، پھر رام نرائن لعل، پھر دوارکا پرشاد یعنی انج کمار ابن ارن کمار ابن پرشوتم داس ابن بینی مادھو ابن رام نرائن لعل ابن دوارکا پرشاد۔ یہاں میں نے صرف اردو، عربی اور فارسی کتب کے کاروبار کے تعلق سے یہ شجرہ لکھا ہے ورنہ ان کے خاندان کی دوسری شاخ کی پشتیں بھی اس کاروبار میں لگی ہوئی ہیں۔‘‘2
اس پبلشر کے ذریعے تیار کی جانے والی اور شائع کی جانے والی کتابوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔ جن میں اردو، عربی، فارسی،ہندی اوردیگر زبانوں کی کتابیں شامل ہیں۔ نصاب سے متعلق انھوں نے نہ صرف کتابیں شائع کیں بلکہ اتر پردیش، بہار اور دیگر ریاستوں کے نظام تعلیم سے متعلق بعض ایسی کتابیں تیار کرائیں جو ایک زمانے تک تدریسی نصاب کا حصہ رہیں۔ چند اہم درسی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:
انتخابات نثر:سید ظہیر الدین احمد علوی
انشائے خطوط نویسی:ناظر کا کوروی
اشعا ر ذوق(مرتبہ):عبدالمنان بیدل
اشعار مومن(مرتبہ):عبدالمنان بیدل
اشعار غالب(مرتبہ):عبدالمنان بیدل
اس پبلشر نے مختلف شعرا کے کلام کے انتخابات مع تحقیقی و تنقیدی نوٹ یا تبصرے بھی شائع کیے۔ یہ تبصرے یا نوٹ درسی ضرورت کے ساتھ ساتھ عام قاری کے ذوق کی بھی تسکین کرتے تھے۔کچھ انتخاب میں یہ نوٹ بہت طویل ہیں تو کچھ میں مختصر۔ان تبصروں میں متعلقہ شاعر کے مختصر حالات زندگی،ان کے کلام کے امتیازات،مختلف شعرا کے کلام کے ساتھ ان کے کلام کا موازنہ، ان کے کلام پرمخالفین و مداحین کی رائے، متعلقہ شاعر کے شاگردوں کا ذکروغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے:
انتخاب مراثیِ میرضمیر:نامعلوم
انتخاب کلام میر و غالب:مولوی رفیع صاحب
انتخاب تاریخ فرشتہ:حکیم محمد قاسم
انتخاب قصائد ذوق:نامعلوم
انتخاب قصائد سودا:نامعلوم
انتخاب کلیات سودا:سید مطلب حسین عالی لکھنوی
انتخاب مراثیِ انیس: نامعلوم
انتخاب مراثیِ دبیر:نامعلوم
اس ادارے سے بہت سے شعرا کے دیوان اور کلیات بھی شائع ہوئے جن میں دیوان غالب، دیوان ذوق، دیوان حالی، دیوان مومن، دیوان داغ اور کلیات سودا، کلیات مومن، کلیات میروغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
شاعری کے علاوہ نثر با لخصوص فکشن کی اشاعت میں انھوں نے بہت دلچسپی لی۔ڈپٹی نذیر احمد کا ناول توبتہ النصوح اورفسانۂ عجائب کے علاوہ قواعد، لغات اور تحقیق و تنقید سے متعلق متعدد کتابیں شائع کیں۔اس عہد میں لکھی گئیں بیشتر اہم کتابوں کو انھوں نے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔اس ادارے سے شائع ہونے والی اردو نثر کی چند کتابوں کے نام ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:
آب حیات:محمد حسین آزاد
آگ اور پتھر:شکیلہ اختر
ابن الوقت:ڈاکٹر نذیر احمد
ادبی نمونے:محمد مطیع الرحمن
اردو داستان کی نشو نما:رفیق حسین
اردو غزل کی نشو و نما:رفیق حسین
اردو ناول کی نشو نما:رفیق حسین
اردوئے معلی:مرزا اسد اللہ خاںغالب
اقبال:ڈاکٹرسید اختر احمد اختر اورینوی
امرائو جان ادا: مرزا ہادی رسوا
افسانوی اصول اور فسانہ عجائب:رفیق حسین
مرزا غالب کی تینوں اردو کتابوں کو انھوں نے بہت اہتمام سے شائع کیا۔عود ہندی اور اردوئے معلی کا وہی ایڈیشن آج کل بازاروں میں دستیاب ہے جسے لالہ رام نرائن لال یا رائے صاحب رام دیال اگروالا نے شائع کیا ہے۔
اسی طرح بچوں کے لیے انھوں نے ابر رحمت اور نور ہدایت جیسی بہت سی کتابیں تیار کرائیںاور ان کی اشاعت کا بندوبست کیا۔دینیات سے متعلق ان کی شائع کردہ کتابیں اسکولی نصاب میں آج بھی شامل ہیںانھیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے کس عرق ریزی سے یہ کتابیں تیار کرائی ہوں گی۔
اس زمانے میں عالمی ادب سے جو ترجمے ہوئے انھیں بھی اس ادارے نے شائع کرانے کی کوشش کی۔ساتھ ہی فارسی ادب کی کتب کی اشاعت خصوصاً رباعیات خیام، اکبر نامہ، اشعار حا فظ وغیرہ کی اشاعت ان کی ترجیحات میں شامل تھیں۔اس ادارے سے شائع ہونے والی چند فارسی کتب کے نام درج ذیل ہیں:
اشعار حافظ:نا معلوم
اشعار خاقانی:نا معلوم
اکبر نامہ:ابو الفضل
انتخاب اشعار حافظ :حافظ محمود شیرانی
ادبی کتب کے علاوہ دیگر علمی کتابیں بھی اس ادارے سے شائع ہوئیں۔یہ کتابیں ادب کے علاوہ علم معاشیات اور امور خانہ داری وغیرہ موضوعات سے متعلق ہوتی تھیں۔عموماً یہ کتابیں اس وقت کے تدریسی نصاب کا حصہ ہوتی تھیں۔اس لحاظ سے ان کتابوں کے ابواب کے آخر میں مشق وغیرہ کے سوالات کا انتظام بھی کیا جاتا تھا۔چند علمی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:
آسان علم معاشیات:پنڈت دیا شنکر دوبے و بھگوان داس کیلا
امور خانہ داری:سی۔ بی۔ اگروال
ایجادات و انکشافات:منشی پیارے لال شاکر
یہ ادارہ طباعت و اشاعت کے لحاظ سے اپنے زمانے کا ایک اہم ادارہ ہے۔ یہاں سے صرف اردو، عربی یا فارسی کی ہی نہیں بلکہ دیگر زبانوں جیسے ہندی، سنسکرت، بنگالی، نیپالی وغیرہ کی کتابیں بھی شائع ہوئیں، جو معیار کے لحاظ سے کافی اہم ہیں۔اس ادارے کی اہمیت کا اندازہ سنجے کمار کے درج ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے:
’’اس اشاعتی گھر کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مرزا محمد ہادی رسواکا ناول امراؤ جان ادا پہلی بار یہیں سے شائع ہوا تھا۔ اور رسوا صاحب یہاں خود آیا کرتے تھے۔ یہ بات مجھے (سنجے کمار کو) انج کمار صاحب سے معلوم ہوئی اور اس بات کی تصدیق استاد محترم پروفیسر سید محمد عقیل صاحب نے بھی کی ہے۔عقیل صاحب کی ملاقات رسوا صاحب کے صاحبزادے سے بھی ہوئی ہے جو یہاں Royalty لینے آتے تھے۔ انج کمار صاحب کے مطابق کبھی کبھی Royalty رسوا صاحب کی دونوں بیویوں کو بھیجوا دی جاتی تھی۔۔۔۔۔فراق گورکھپوری اور ہریونش رائے بچن بھی یہاں آتے تھے۔‘‘3
بحیثیت مجموعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً سوا صدی پر مشتمل لالہ رام نرائن لال اور رائے صاحب رام دیال اگروالا پبلشر کی یہ ادبی اور لسانی خدمات ہمارے تہذیبی سرمائے میں گراں قدر اضافے کا باعث ہیں اور یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ لالہ رام نرائن لال اگروال اور رائے صاحب رام دیال اگروالانے دیگر زبانوں اور علم و ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب کے بھی ورثے کو محفوظ رکھنے اور ان کی طباعت و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حواشی
1 ماسٹر دوارکا پرشاد جی کا پریوار ایوم پریچے از بھوانی دتّ اپریتی،رائے صاحب رام دیال اگروالا،الہٰ آباد،2009، ص 21
2 لالہ رام نرائن لعل از سنجے کمار،بشمولہ اردو دنیا، جون 2016،ص51
3 ایضاً، ص52

Mariyam Saba
Research Scholar
Department of Urdu
Banaras Hindu University
Mob: 8005090403
Email: mariyampdm13518@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شیام بینےگل اورہندوستان کا متوازی سنےما ،مضمون نگار: منتظر قائمی

اردو دنیا،نومبر 2025: شیام سندر بینےگل کو ان کے مداح شیام بابو کے نام سے بلاتے ہیں جنھیں متوازی سنیما (Parallel Cinema) کے پیش روکے نام سے جانا اور پہچانا

بالی وڈ اور اردو:زبان، ثقافت اور شناخت کا امتزاج،مضمون نگار: عبدالحفیظ فاروقی

اردودنیا،جنوری 2026: اردو زبان کی تاریخ محض ادبی ارتقا کی کہانی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اثرات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیاد میں ہندی کی مٹھاس، فارسی کی نزاکت،

دھرمیندر: مَداحِ اردو،مضمون نگار: محی الدین عبدالطیف

اردودنیا،جنوری 2026: مشہور اداکار دھرمیندر نے اپنی رومانی اداکاری مردانہ وجاہت، شفقت بھرے لہجے اور جذباتی انداز کے سبب پانچ دہائیوںتک شائقین کے دلوںپر راج کیا۔ ان کا اس دنیا