اردودنیا،فروری 2026:
جدیدہندوستان کی تاریخ میں جن اہم شخصیات نے اپنے قلم اور فکرو خیال سے روشن باب کا اضافہ کیا ہے، ان میں خوشونت سنگھ کا نام قابل ذکر ہے۔ وہ بنیادی طور پر صحافی اورکالم نویس تھے لیکن ان کی تخلیقی اور تحریری صلاحیتوں کا اظہار مختلف اصناف نثر میں ہوا ہے۔ وہ ایک مشہور فکشن نگار، تاریخ نویس، نقاد، قانون داں اور سیاست کی سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص تھے۔ ان کی تحریریں اپنی بے باکی اوربصیرت سے پر تخلیقیت کے سبب ہمیشہ پڑھی جاتی رہی ہیں۔
خوشونت سنگھ کی پیدائش ہڈالی، موجودہ پاکستان میں 1915 میں ہوئی۔ اس وقت ان کا نام خوش حال سنگھ رکھا گیا۔ ان کی پیدائش کی دو مختلف تاریخیں بتائی جاتی ہیں۔ ان کے والد کے مطابق وہ 2 فروری 1915 کو پیدا ہوئے، جبکہ ان کی دادی سال 1915 کے ماہ اگست کا ذکر کرتی ہیں لیکن تاریخ نہیں بتاتی۔ خوشونت سنگھ نے خود اپنی تاریخ پیدائش 15 اگست 1915طے کیاہے البتہ دستاویزوں میں 2فروری 1915 ہی درج ہے۔خوشونت سنگھ اپنی آپ بیتی میں اس بابت لکھتے ہیں:
’’کئی برس بعد جب اسے ماڈرن اسکول دہلی میں ہمارے داخلے کے لیے فارم پر کرنا پڑے تو میرے باپ نے میرے بڑے بھائی اور میری پیدائش کی تاریخ قیاسی طور پر درج کر دی تھی۔ میری پیدائش کی تاریخ 2 فروری 1915 درج کی گئی تھی ۔ برسوں بعد میری دادی نے مجھے بتایا تھا کہ میں ۔۔۔۔شاید اگست میں پیدا ہوا تھا ۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی پیدائش کی تاریخ مہینے کے وسط میں متعین کروں سو یہ طے ہوئی15اگست 1915 اور میں نے خود کو اسد قرار دے لیا ۔ بتیس برس بعد 15 اگست آزاد ہندستان کا جنم دن (برتھ ڈے) بن گیا۔‘‘1؎
خوشونت سنگھ کے خاندان کا شمار ضلع خوشاب، ریاست پنجاب کے نہایت خوش حال تاجراور عزت دار خانوادے میں ہوتا تھا۔ ان کے آبا و اجدادایک زمانے سے اونٹوں کے ذریعے کھیوڑہ سے چٹانی نمک اور کھجوریں لا کر لاہور اور امرتسر میں فروخت کیاکرتے تھے اور واپسی میں اپنے ساتھ مٹی کا تیل، چائے، چینی، مصالحہ جات اور دیگر اشیا لاتے اور انھیں گاؤں گاؤں فروخت کرتے ۔ خوشونت سنگھ کے والد نے مختلف کاروبار میں زور آزمائی کی، مگرخاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔خوشونت سنگھ کے چچا اجل سنگھ خاندان کے پہلے شخص تھے، جنھوں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ان کا شمار پنجاب کے بڑے زمینداروں میں ہوتا تھا۔ بعد میں وہ قانون ساز اسمبلی کے رکن اور پنجاب کے وزیر مالیات اور گورنربھی بنے۔ آخری عمرمیں وہ تامل ناڈو کے گورنر رہے۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ خوشونت سنگھ کا خاندان خوش حال، تعلیم یافتہ اور سیاسی اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ خوشونت سنگھ کی شخصیت پر اس کا مثبت اثر پڑا۔
خوشونت سنگھ کے والدنے اپنے کاروبار کی وجہ سے دہلی میں سکونت اختیار کر لی تھی، اس لیے ان کی تعلیم و تربیت دہلی میں ہوئی ۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ماڈرن اسکول دہلی سے اور بارہویں جماعت سینٹ اسٹیفن کالج ،دہلی سے مکمل کی۔ خوشونت سنگھ کی طالب علمی کا زمانہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی شدت کا زمانہ تھا۔ ایک طرف قوم پرستی کی تحریک اپنے عروج پر تھی تو دوسری طرف استعماری تشدد بھی اپنی انتہاپر تھا۔ بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کو حکومت نے تختۂ دار پر لٹکا دیاتھا، جس کے خلاف ملک کے بیشتراسکول کالج کا تعلیمی نظام معطل ہو گیا تھا،مگر سینٹ اسٹیفن کالج بند نہیں ہوا تھا۔ قوم پرستی کی تحریکات سے متاثر ہو کرخوشونت سنگھ اسکول کی چھت سے ترنگا لہراکر بھگت سنگھ زندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔
خوشونت سنگھ نے اسکول میں انتخابی مضمون کے طور پر اردو زبان کا انتخاب کیا تھا۔ بچپن میں اپنے والد کوعدالتوں اور کچہریوں کے چکر لگاتے دیکھ کر انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ انھوں نے 1934 میں گریجویشن کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔ ان سے پہلے ان کے خاندان میں کسی نے قانون کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ قانون کی مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے انھوں نے کنگز کالج لندن میں داخلہ لیا اور ایل۔ ایل۔ بی۔ کی سندحاصل کی۔ لاہور عدالت میں انھوں نے کچھ دن وکالت کی اور اس کے بعد وہ ہندوستان کی وزارت خارجہ سے وابستہ ہو گئے۔
خوشونت سنگھ کی صحافتی زندگی کا آغاز 1951 میں بطور ناشر آل انڈیا ریڈیو سے ہوا۔ وہ مختلف اخبارات و رسائل سے منسلک رہے۔ 1951 سے 1953 تک وہ رسالہ ’یوجنا‘کے مدیر رہے۔ 1969 سے 1979 تک ممبئی سے شائع ہونے والے مشہور ہفت روزہ انگریزی نیوز ’السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا‘ کے مدیر رہے اوران کی ادارت میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔ 1978سے 1979تک وہ ’نیشنل ہیرالڈ‘، 1979 سے 1980 تک ’نیو دہلی‘ اور 1980 سے 1983 تک’ ہندوستان ٹائمز ‘جیسے اہم اور مشہور زمانہ اخبارات کے مدیر رہے۔ خوشونت سنگھ نے اپنے عہد کے تقریباً تمام اہم اور نامور ملکی و غیر ملکی اخبارات و جرائد کے لیے کالم لکھے ۔
ادب اور تعلیم کے میدان میں خوشونت سنگھ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں1974 میں پدم بھوشن کا اعزاز عطا کیاگیا۔ گولڈن ٹیمپل حادثے میں ہندوستان کی مرکزی حکومت کے رویے سے ناراض ہو کر انھوں نے پدم بھوشن ایوارڈ واپس کر دیا تھا۔ 2007میں انھیں پدم وبھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 1980 سے 1986 تک وہ راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے فکری سطح پرایک متمول اور خوشحال زندگی بسر کی اور 20 مارچ 1914 کو ان کا انتقال ہوا۔
خوشونت سنگھ کی فکری تشکیل میں تحریک آزادی اور ہندوستان کے سیاسی انتشار ،برطانوی استعمار کی بربریت اور ان کے عہد میں رونما ہونے والے سیاسی ، سماجی اور تہذیبی بدلاؤ نے اہم کردار ادا کیا ۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی اور نواح دہلی میں گزرا۔ اس وقت یہ علاقہ تمام قسم کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی سرگرمیوں کی آماجگاہ تھا۔ انھوں نے 1931میں بھگت سنگھ کی پھانسی دیکھی، 1942 کی تحریک بھارت چھوڑو کو قریب سے دیکھا۔ 1947 کی تقسیم اور آزادی کا مشاہدہ جاگتی آنکھوں سے کیا۔ہجرت، نقل مکانی اور در بدری کو برداشت کیا۔ غرض جدید ہندوستان اور آزاد ہندوستان کے تمام مشکل ادوار کو انھوں نے دیکھا اور برداشت کیا۔ اس درمیان سیاسی بازیگری کے ساتھ غربت ، افلاس، فرقہ واریت ، ذات پات کی تفریق، عدم مساوات اور معاشرتی برائیوں کو انھوں نے نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ انھیں اپنے فکر و خیال کا حصہ بنایااور اپنی تحریروں میں بے باکی کے ساتھ اس کا اظہار بھی کیا۔
ادب و سیاست میں خوشونت سنگھ کی دلچسپی اسکول کے زمانے سے ہی پیدا ہو گئی تھی۔اسی زمانے میں ایک عالمی ادبی تحریک کا قیام عمل آیا۔ 1935میں پیرس میں ادیبوں کی ایک کانفرنس ہوئی۔ جس کا مقصد ادب میں عوام کی نمائندگی اور عام لوگوں کے حق کی آواز بلند کرناتھا۔ ہندوستان میں اس تحریک کا باضابطہ آغاز سجاد ظہیر اور ملک راج آنند کی عملی و قلمی کوششوں سے ہوا۔اس تحریک سے اس وقت کے تقریباً تمام شعرا و ادبا متاثر ہوئے اور اپنے فکر و فن کا محور تبدیل کرنے پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔ حقیقت نگاری اورراست گوئی پرمائل ہوئے۔ خوشونت سنگھ بھی اس تحریک اور نظریۂ ادب و حیات سے متاثر تھے ۔وہ لکھتے ہیں۔
’’میں نے ملک راج آنند، راجا راؤ اور آر۔کے۔نارائن کو پڑھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں انھیں کے جیسے لکھ سکتا ہوں اور اگر وہ بیرون ملک مشہور ہو سکتے ہیں تو میں بھی ہو جاؤں گا۔‘‘2؎
جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا جا چکا ہے کہ خوشونت سنگھ کی بنیادی شناخت صحافی کی ہے لیکن انھوں نے انگریزی زبان میں ناول اور افسانے بھی لکھے ہیں ۔ بطور فکشن نگار ان کے ناول ’Train to Pakistan ‘ کو بہت شہرت ملی۔ اس کے علاوہ انھوں نے: ’Delhi a novel‘،1990 اور’ The Company of Women ‘،1999 جیسے ناول لکھے۔ان کے افسانوںکے مجموعے’Mark of Vishnu‘، 1950،’Paradise and other Stories’،2004 اور’A Bride of the Saheb and Other Stories‘ شائع ہو چکے ہیں۔
تقسیم ہند کے تعلق سے ان کالکھا گیاناول ‘Train to Pakistan’ کلاسک کا درجہ رکھتا ہے۔یہ ناول انگریزی زبان میں لکھا گیا ہے جس کا اردو ترجمہ مسعود منور نے ’پاکستان ایکسپریس‘کے نام سے کیاہے۔ یہ ناول تقسیم ہند کے المیے، تشدد اور قربانیوں کو پیش کرتا ہے۔ اس کے مطالعے سے لوگوں کے ظاہر اور پوشیدہ چہرے بے نقاب ہوتے ہیں۔یہ تقسیم کے سیاسی اثرات کے بجائے عام لوگوں کی زندگی کی پریشانی اور دربدری کوپیش کرتا ہے۔ دنیا کی بیشتر زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔1998 میں اس ناول پر مبنی ’Train to Pakistan‘ نام سے ہی فلم بھی بن چکی ہے ۔
’Delhi: A Novel‘تاریخی اور منفرد ناول ہے، جسے ناقدین اور قارئین دونوں نے بہت سراہا۔یہ محض ایک کہانی نہیں ہے بلکہ دہلوی تہذیب و تمدن کا ایک جامع مرقع ہے جس میں جذباتی تصویر کشی بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔یہ بیانیہ تاریخ اور ذاتی تجربے کے اشتراک سے وجود میں آیا ہے۔یہ ناول تیرہویں صدی میں غیاث الدین بلبن کے دور حکومت سے شروع ہوکر 1984کے سکھ مخالف فسادات تک دہلی کی تین ہزار سال کی تاریخ کو محیط ہے۔اس میں دہلی کی کئی سلطنتوں کے عروج و زوال کو21 ابواب میں پیش کیاگیا ہے۔
2003 میں جیکو پبلشنگ ہاؤس، ممبئی سے ایک کتاب Five Indian Mastersکے نام سے انگریزی زبان میں شائع ہوئی۔ اس میں ہندوستان کے صرف پانچ افسانہ نگاروں یعنی راجا راؤ، رابندر ناتھ ٹیگور،پریم چند، ڈاکٹر ملک راج آنند اور خوشونت سنگھ کی اہم کہانیاں شامل ہیں۔ ان کہانیوں میں ہندوستانی تہذیب وتمدن اورانسانی جذبات کی بہترین عکاسی ملتی ہے۔ خوشونت سنگھ کی ادبی اہمیت اورمرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی افسانہ نگاری کی تقریباً صد سالہ تاریخ میں صرف پانچ ناموں کا انتخاب ہوا تو اس میں خوشونت سنگھ کا نام بھی شامل تھا۔
دوجلدوں پرخوشونت سنگھ کی کتاب’AHistory of the Sikh’ایک اہم تاریخی اور تہذیبی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں سکھ مذہب اور سکھوں کی سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب مستند حوالے کا حکم رکھتی ہے۔ اس کتاب سے خوشونت سنگھ کی تاریخی بصیرت اور تاریخ نویسی سے آگاہی کا علم ہوتا ہے۔
خوشونت سنگھ کی تمام تصا نیف میں اس عہد کی تلخی اور ظلم و جبر کو بڑی بے باکی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے فکشن کے میدان میں جو تخلیقات یادگار چھوڑی ہیں ان سے اس عہد میں موجود انسانوں کے احساسات و جذبات، تہذیب و ثقافت، وطن پرستی اور سماجی زندگی کو راست انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
خوشونت سنگھ کی سوچ، فکر اور ان کی تصنیفات پر ایک زمانے سے بحث و مباحثے مختلف زبان و ادب میں ہوتے رہے ہیں۔ خوشونت سنگھ کا تعلق بنیادی طور پر انگریزی ادب سے ہے۔ وہ اردو شاعری کی بھی عمدہ فہم اور بصیرت رکھتے تھے۔ اس کا اظہار ان کے ناول ‘Delhi: A Novelـ ‘ میں بہتر طور پر ہوا ہے۔ مثال کے طور پرناول ‘Delhi: A Novel’ کاباب ’میر تقی میر‘ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس باب میں میر تقی میر کے عہد کے سیاسی و سماجی حالات کو وہ میر اور ان کی شاعری کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
“The flame it saw,
But thereafter nothing besides the curving,
leaping togues of fire.
By the time its eyes were on the flame,
The moth was in the fire .؎5
“A simmering fire burns our hearts away;
We sink and my heart in depth of agony lies;
As with the the toper of the lamp
Lops up the last drops of oil and die s”؎6
خوشونت سنگھ کے حافظے میں اردو کے اشعار تھے اورجب وہ اپنی خودنوشت لکھتے ہیں توان کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اقبال سے انھیں قلمی لگاؤ تھا ۔ وہ کلام اقبال میں شکوہ اور جواب شکوہ کو بطور خاص اہم تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ان دونوں نظموں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ، جو 1981 میں آکسفورڈ ، دہلی پریس سے شائع ہوا ۔ اس کے علاوہ انھوں نے اردو کے اولین اہم ناول ’امراؤ جان ادا ‘ کا بھی انگریزی ترجمہ کیا ہے۔
خوشونت سنگھ کا زمانہ اردو شعر و ادب کے عظیم قلمکاروں کازمانہ تھا۔ ان کے معاصرین میںاردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے شعرا و ادبا میں عصمت چغتائی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، شوکت صدیقی، انتظار حسین، سعادت حسن منٹو، فیض احمد فیض، میرا جی، ساحر وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ان کا زمانہ ایک تھا، حالات ایک جیسے تھے، ظلم و جبر کا استعماری نظام یکساں تھا اور ان کا تخلیقی رویہ بھی کم و بیش ایک جیسا تھا ۔ فرق صرف زبان کا تھا ۔ خوشونت سنگھ انھیں موضوعات و مسائل کوانگریزی میں پیش کرتے رہے جبکہ دیگر ہندوستانی زبانوں کے شعرا و ادبانے ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ان کا اظہار کیا۔ مثال کے طور پر کرشن چندر نے تقسیم ہند کے سانحے اور اس وقت ہونے والی قتل و غارت گری کو جس انداز میں پیش کیا ہے، ایسا خوشونت سنگھ کے یہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ کرشن چندر نے’ امرتسر آزادی سے پہلے ‘ اور’ امرتسر آزادی کے بعد‘ جیسے افسانے لکھے اور اسی طرز پر خوشونت سنگھ نے’ Train to Pakistan ‘ تخلیق کیا۔
خوشونت سنگھ کی تخلیقات اور دیگر تحریروں کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اپنے عہد کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کی اور ان کا عمدہ اظہار اپنی تحریروں کے ذریعے کیا۔ وہ ایک عمدہ فکشن نگار تھے ، ساتھ ہی انھوں نے بصیرت افروزسیاسی و سماجی کالم لکھے ، جن سے قارئین کا ایک بڑا طبقہ متاثر ہوا۔
حواشی
1 سچ محبت اور ذرا سا کینہ: خوشونت سنگھ، مترجم: احسن بٹ، ایم۔آر۔پبلیکیشنز، نئی دہلی، 2018، صفحہ نمبر 8
2 ایضاً ، صفحہ نمبر381
3 Delhi: A Novel, Khushwant Singh,Penguin Books,1990, page No.170
4 ایضاً، صفحہ نمبر176
Parwaz Ahmed
Research Scholar, Department of Urdu
Banaras Hindu University,Varanasi
mob:7753027349
Email:ahmedvns111@gmail.com