اردو کی تدریس اور ٹکنالوجی کا استعمال،مضمون نگار:محمد مشہور احمد

February 4, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

اکیسویں صدی زندگی کے تمام شعبوں میں نت نئی اختراعات و ایجادات کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس صدی میں حیات انسانی کے تمام پہلو جس برق رفتاری کے ساتھ جدید سے جدید ترٹیکنالوجی کے زیر اثر آئے وہ محیر العقول ہیں۔ اس کے استعمال سے جہاں زندگی ایک طرف پہلے کے مقابلے آسان ترین ہوگئی وہیں اس کے منفی طریقۂ استعمال نے صدیوں پرانے انسانی مسلّمات و معتقدات پر کاری ضرب بھی لگائی ہے۔ لیکن بایں ہمہ تکنیکی ارتقا کا یہ عمل خلائی سیاروں کی مانند پیہم گردش میں ہے ۔اس کے علاوہ علوم و فنون کے وہ تمام سر چشمے جو وجودِ انسانی کے ساتھ منسلک ہیں اور جن کی مدد سے فطرت انسانی یعنی آدم خاکی نے حیات و کائنات کے اسرارورموز سے پردہ کشائی کی ہے اسے دیکھ کر ہے چرخِ کُہن کے انجمِ تاباں اس خیال سے انگشت بہ دنداں ہیں کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ جو کبھی اپنی ذات کے نشیب و فراز میں الجھ کر رہ گیا تھا آج سورج کی شعاؤں کو گرفتار اور ستاروں کی گزرگاہوں کی حدیں مقرر کر رہا ہے ۔ جس کے لیے کبھی خط استوا پر پا بہ رکاب ہونا دشوار تھا آج دنیا کی پیچیدہ ترین گزر گاہوں کو دریافت کر رہاہے۔ فطرتِ انسانی کے اسی اختراعی اور تسخیریت پسند جذبہ وعمل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے غالب نے کہا تھا:
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا
کائنات کی تمام حدود کو اپنے تصرف و اختیار میں لانے کے لیے فطرت انسانی ہر لحظہ سرگرم عمل ہے۔ جس کے مقاصد کثیرہ میں سے ایک بنیادی مقصد حیات انسانی کے تمام شعبوں کو آسان ترین آلات سے مزین کرنا اور نت نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے خاکدان گیتی کے ہر ذرۂ سیاہ کوعلم و عرفان کی روشنی عطا کرنا ہے۔
اکیسویں صدی میں زندگی کے جن شعبوں میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی سر فہرست ہے۔ اس شعبے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے بعض ماہرین نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ Inormation is the wealth یعنی اب معلومات ہی وہ واحدسرمایۂ حقیقی ہے جسے آنے والے وقت میں دیگر مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ معلومات سے مراد یہاں صرف اشیا و اشخاص کے بارے میں مجرد معلومات کا حصول ہی نہیں بلکہ حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق چیزوں کی از سر نو تشکیل و ترتیب اور حیات و کائنات کے سر بستہ اسرارو رموز کا مطالعہ کر کے انھیں روز مرہ کی زندگی میں قابل منفعت بنانا بھی ہے۔ فطرت انسانی روز ازل سے یہ فریضہ انجام دے رہی ہے اور حالات کے مطابق اپنے اعمال کو ڈھال کرزندگی اور اس سے وابستہ معاملات کو آسان بنا رہی ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں جس چیز کی وجہ سے سب سے عظیم انقلاب برپا ہوا وہ انٹر نیٹ کی ایجاد اور دنیا کے کونے کونے میں اس کا کثرت استعمال ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کسی گاؤں میں بیٹھ کر گو کہ وہاں پکی سڑک نہ ہو ، آرام و آسائش سے بھر پور زندگی گزارنے کے لیے سہولیات موجود نہ ہوں لیکن دنیا کے کسی کونے میں پیش آنے والے چھوٹے سے چھوٹے واقعات تک نہ صرف ہم رسائی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ مختلف تصاویر اور ویڈیوز کے توسط سے وہاں کے حالات کا اپنی آنکھوں سے جائزہ لے کر اپنی رائے بھی قائم کر سکتے ہیں۔ یہ اگر ممکن ہو سکا تو اس کی سب سے بڑی وجہ انسانیت کو قدرت کے خزانہ علم سے عطا کیا جانے والا وہ ادنی سا جوہر ہے جوکہ انٹرنیٹ کے معرض وجود میں لانے کا سبب بنا۔ انفارمیشن اینڈ کمیونکیشن ٹیکنالوجی کے نظام میں انٹر نیٹ کی ایجاد اور بعد کے زمانے میں اس میں ہونے والی ترقی ببانگ دہل اس بات کا علان کر رہی ہے کہ سمندر کی تہوں میں خاموشی سے صدف و خزف بنانے والے اے ابر نیساں ، دریاؤں کی موج مضطر میں سکون سے سونے والے طوفان اور آسمان کی لا محدود خلاؤں میں سورج کی کرنوں کو سمیٹ کرقو ت و توانائی حاصل کرنے والی خلائی شعاؤں! اپنی نا قابل تسخیر قوت پر اب زیادہ نازاں نہ ہوناکیوں کہ فطرت انسانی علم و آگہی کی روشنی سے کائنات کو مسخر کرنے نکل چکی ہے ۔ مظاہر فطرت کو تسخیر و زیر کرنے کا یہ عمل ہنوز نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کے اندر روز افزوں ترقی بھی ہورہی ہے، شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر کچھ اسی فکر کی نمائندگی کر رہا ہے:
گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ و نوش
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں نہ صرف حصول علم کے حوالے سے تکنیکی ارتقا (Technological Advancement) کا پہلو اہمیت حاصل کر چکا ہے بلکہ تدریس کا شعبہ بھی اس کی در افشانیوں سے مہر منور کی طرح چمکتا اور دمکتا دکھائی دیتا ہے۔ تدریس کے میدان میں ہونے والی تکنیکی ترقی نے تعلیم و تدریس کے مرحلے کو نہ صرف یہ کہ بہت دلچسپ بنا دیا ہے بلکہ الگ الگ موضوعات پر مشتمل اپلیکیشن تشکیل دے کر اساتذہ کو پڑھانے اور طلبہ کو پڑھنے کے سلسلے میں بڑی حد تک آسانی بھی پیدا کر دی ہے۔ اس مضمون میںسب سے پہلے مطلق تدریس کے حوالے سے ٹیکنالوجی یاتکنیکی ارتقاکے سبب سامنے آنے والی خصوصیات اوراس کے ضمن میںپیداہونے والی آسانیوںکا احاطہ کیا جارہا ہے اس کے بعد اردو تدریس کے حوالے سے تکنیکی ترقی کی ذرہ نوازیو ں پر گفتگو کی جائے گی۔ تدریس کے میدان میں جن آلاتِ ٹیکنالوجی کا استعمال آج بکثرت مروج ہے ان میں سے چند کو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
1 (Learning Managemnt System) اس تکنیکی نظام کے تحت آج کے جدید دور میں جن Applications کے استعمال سے نظام تعلیم و تدریس کو دلچسپ اور طلبہ کے لیے مفید و کار آمد بنایا جارہا ہے اس میں Google Class Room ، Moodle اور Canvas جیسے تکنیکی پلیٹ فارم سر فہرست ہیں۔ اِن پلیٹ فارمز کے توسط سے تعلیمی مواد کو منظم ، سرعت اور آسانی کے ساتھ منتقل کیا جاسکتاہے۔ یہ پلیٹ فارم اساتذہ کے لیے اس بات کی سہولت پیدا کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت پردہ مجاز میں رہتے ہوئے حقیقی وعملی طور پر تعلیمی مواد کو طلبہ تک پہونچا سکیں، وقت پر طلبہ کا امتحان لے سکیں اور طلبہ کے لیے اگر کوئی امر یا سبق تفصیل طلب ہو تو اس پر بات کرسکیں اور تدریس کے بعد طلبہ کی رائے بھی جان سکیں۔ گو کہ یہ پلیٹ فارم پہلے سے ہی موجود تھے لیکن بالخصوص ہندوستانی نظام تدریس کے حوالے سے کورونا کے بعد ان کے افادی پہلوؤں پر زیادہ زور دیا جانے لگا ہے۔ مروجہ تدریسی نظام کے ساتھ اگر ان تکنیکی وسائل کا استعمال بھی کیا جائے تو تعلیم و تدریس کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
2 Interactive Presentation Tools کا استعمال۔ یہ تدریس کے میدان میں اخترا ع کیے جانے والے اہم آلات میں سے ایک ہے۔ اس تکنیک کی مدد سے مروجہ تدریسی نظام کو طلبہ کی طبعی موزونیت کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے استعمال سے تدریسی مواد میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جاتی بس دوران کلاس طلبہ کی توجہ کو مرکوز رکھنے کے لیے کچھ امدادی تکنیکی آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔مثلاً کلاس کے دوران ہی زیر بحث موضوع پر کوئز مقابلہ رکھنا اور دوران کلاس ہی ایک متعینہ وقت کے بعد اس کے نتائج کا اعلان کرنا وغیرہ ۔ اس کے لئےNearpod, Mentimeter ، اور Pear Deck وغیرہ جیسے تکنیکی پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
3 Virtual Meeting Platforms کا استعمال: موجودہ دور کے تناظر میں تدریس کے حوالے سے یہ پلیٹ فارم بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس کے ضمن میں Google Meet, Zoom & Microsoft Teams وغیرہ جیسی اپلیکیشنز کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس کے ذریعے کلاس روم میں پڑھائے جانے والے سبق سے متعلق ہر طالب علم کی آگاہی و ذہن رسیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ دوران تدریس اگر کوئی نکتہ کسی طالب علم کی سمجھ میں نہیں آسکا اوروہ کلاس میں اس کے بارے میں کسی وجہ سے دریافت کرنے سے قاصر رہا تو ا ن پلیٹ فارمز کی مدد سے وہ استاد سے جڑ کراپنے شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ تدریس کے میدان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے جن وسائل کو فراہم کیا گیا ان میں Digital Whiteboards کی توضیح، Content Creation Tools کی تشکیل اور Artificial Intelligence جیسی تکنیک آج کے روز افزوں ترقی پذیر دور میں تدریسی عمل کو سنوارنے اور اسے دلچسپ بنانے میں کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ میرے نزدیک ان تینوں میں سے جس ٹیکنالوجی نے شعبۂ تعلیم و تدریس ہی کیا بلکہ تمام شعبہ ہائے حیات کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ Arificial Intelligence یعنی مصنوعی ذہانت ہے۔ مثال کے طور پر Automatic Vehicles کا چلن، Computerized Command کے ساتھ Robots سے انسانی خدمات کی انجام دہی، اورایک ایسی دنیا میں رہنے والے انسان نما تصوراتی کرداروں سے حقیقی دنیا میں بسنے والے انسانوں کا Interaction جو کہ فی الواقع موجود ہی نہیں۔ اس کے علاوہ Medical, Science, Social Science, Anthropology, Aeronotics, Space Science وغیرہ جیسے میدانوں میں تو اس کی اہمیت سے کسی کو بھی مجال انکار نہیں لیکن ادب اور لسانیات کے میدان میں بھی اس کے افادی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ادب کے میدان میں Artificial Intelligence کے جن وسائل کا استعمال کیا جارہا ہے یا کیا جا سکتا ہے ان میں ChatGPT، Grok ، Grammarly اور Quillbot وغیرہ کا استعمال کثرت سے مروج ہے۔ مثال کے طور پر یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں کسی موضوع سے متعلق آپ کا ایک چھوٹا سا تحریری یا زبانی اشارہ اس پر مشتمل ایک معتد بہ ذخیرہ آپ کے سامنے پیش کر دے گا۔ یہاںتھوڑی دیر رک کر ذرا غور کریں کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب کسی موضوع سے متلعق مواد یا معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں کتنی دشواریوں کا سامنا ہوتا تھا اور آج ہمیں معلومات کا یہ بحر بے کراں ایک کلک پر دستیاب ہے۔
اب رہی بات کہ اردو تدریس کوٹیکنالوجی سے کس طرح سے ہم آہنگ کر کے اسے طلبہ کے لیے زیادہ سے زیادہ کار آمد بنایا جائے۔ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دیگر مضامین کی طرح اردو بھی ایک مضمون ہے۔ اگر ہندی، انگریزی،عربی، فارسی اور دنیا کی سر کردہ زبانوں میں متذکرہ بالا تکنیکی وسائل کا استعمال کرکے تدریس کے عمل کو بہتر اور آسان بنایا جارہا ہے تو اس کی مدد سے اردو تدریس کے میدان میں بھی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ یہاں اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اردو دنیا کی اہم اور کثرت سے بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی زبان کے زندہ رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے کتنے ہیں۔ جب ہم اس تناظر میں اردو کو دیکھتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ رسم الخط جاننے والوں کی تعداد میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ مگر اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آج سے ایک یا دو دہائی قبل اگر اردو کے اخبارات و رسائل کی تعداد کو دیکھیں تو مایوسی ہوتی ہے لیکن اس شکوہ سنجی کے دور میں اردو کے اخبارات، رسائل، آن لائن اردو پورٹل، آن لائن جرائد، اردو کی مفید اور خوبصورت ویب سائٹس اور دیگر برقی ذرائع ابلاغ میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اسی طرح نئے تکنیکی وسائل مثلاً کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ وغیرہ میں اردو فونٹ کا ان بلٹ ہونا اپنے آپ میں اس حقیقت کا غماز ہے کہ اردو کا چلن بڑھ رہا ہے۔ ایسااس لیے نہیں ہے کہ Consumerism یعنی صارفیت پسندی کے اس دورمیں بڑے بڑے صنعتی اداروں کو اردو سے محبت ہے بلکہ بازار کی ضرورت کے تحت دیگر متداول زبانوں کے ساتھ ساتھ انھیں اردو کو بھی شامل کرنا ہی پڑ رہا ہے۔ معلومات کے ذخائر اب اردو رسم الخط کے ساتھ بھی آن لائن دستیاب ہیں لیکن ان معلومات کوٹیکنالوجی کی مدد سے دوران تدریس نفع بخش بنانے کے لیے ایک اردو مدرس کی حیثیت سے ہمیں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا طریقہ سیکھنا ہوگا اور اس کے لیے کمال مہارت تک نہ سہی لیکن اس حد تک انگریزی زبان سیکھنااوراس کے عملی اطلاق کاسلیقہ ہمارے لیے لازمی ہے کہ ہم کسی اپلیکیشن کو قابل استعمال بنانے کی راہ میں در پیش مسائل کو از خود حل کر سکیں۔
اردو تدریس کو ٹیکنالوجی کی مدد سے کس طرح سے دلچسپ اور موثر بنایا جاسکتا ہے اس بات کو سمجھنے کے لیے آیئے ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں۔ فرض کیجیے ہم کلاس میں طلبہ کو کوئی ناول ، افسانہ، انشائیہ یا نظم پڑھا رہے ہیں۔ ظاہر ہے اصناف ادب میں منظر نگاری کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ناول یا افسانے میں الفاظ کے توسط سے تخلیق کیے جانے والے مناظر کو ہم عالم تصورات میں جا کر طلبہ کو سمجھا رہے ہیں لیکن چونکہ طلبہ کا ذہن ابھی اس طرح بالغ نہیں کہ وہ بعینیہ اپنے استاد کی طرح ان مناظر کو تصور میں لاکر انہیں اپنے چشم تخیل سے احاطہ ادراک میں لا سکیں ۔مثلاََ افسانہ کفن میں گھیسو اور مادھو جس بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے آلو کے پکنے کا انتطارکررہے ہیں اوربدھیا دردزہ کی شدت سے پچھاڑیں کھا رہی ہے لیکن دونوں میں سے کوئی بھی ا س خیال سے اسے دیکھنے نہیں جاتا کہ دوسرا اس کے حصے کا آلو چٹ کر جائے گا۔ یا ناول گئودان میں گائے کے غم میں بستر مرگ پر لیٹا ہوا ہوری اور بعد مرگ پنڈت کی طرف سے گئودان کا مطالبہ کیا جانے والا منظر، یا افسانہ پوس کی رات میں شدید ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے ہوئے ہلکو کا اپنے کتے سے مخاطب ہونا اور اسے اپنی غریبی و حرماں نصیبی کی روداد سنانا یا علامہ شبلی نعمانی کی نظم عدل جہانگیری میں ہر چیزکوجس نفاست و فنی ہنر مندی کے ساتھ ایک ڈرامائی انداز میں پیش کیاگیاہے، وہ بے مثال ہے۔ اس نظم کا ایک بند پیش خدمت ہے:
قصر شاہی میں ممکن نہیں غیروں کا گزر
ایک دن نور جہاں بام پہ تھی جلوہ فگن
کوئی شامت زدہ رہگیر ادھر آ نکلا
گر چہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن
غیرت حسن سے بیگم نے طمانچہ مارا
خاک پر ڈھیر تھا اک کشتہ بے گور و کفن
ان تمامناظر کو ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے طلبہ کے لیے کچھ اس حد تک موثراور دلچسپ بنا سکتے ہیں کہ یہ مناظرکبھی بھی ان کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے Artificial Intelligenceکا سہارا لے کر ہم OpenArt AI ، Leonardo AI ، Photoroom، ChatGPT Image Generator اور You Cam AI Pro وغیرہ جیسی Applications کی مدد سے ہم ان مناظر کو تجسیم کے مرحلے سے گزار سکتے ہیں۔ محسوسات کو مجسم شکل میں پیش کر دینا نہ صرف تدریس کو موثر و دلچسپ بنا دے گا بلکہ جماعت میں طلبہ کی با ضابطہ حاضری کا بھی ضامن ہوگا۔ آج کے موجودہ دور میں جبکہ ٹیکنالوجی کی سہولیت ہمیں دستیاب ہے اگر ہم کلاس روم کی تدریس کو طلبہ کے لیے Interesting نہیں بناتے تو ممکن ہے کہ ہم ان کے اندر پڑھائی کا جذبہ پیدا نہ کرسکیں کیونکہ آج ایسے بہت سے وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں جو سامان فرحت و انبساط اور علم و آگہی مہیا کرانے کے پردے میں انھیں تضیع اوقات پر مجبور کردیتے ہیں۔ آج ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہماری نوجوان نسل کس طرح گھنٹوں ریلز دیکھنے، آن لائن گیمز کھیلنے اور طرح طرح کے غیر ضروری و غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنے میں اپنا قیمتی وقت برباد کررہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر کبھی کبھی تو ہم یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ:
یہ مشت خاک، یہ صرصر یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد
نو جوان نسل آج جسے شاخ نبات سمجھ کر چبا رہی ہے اسے پتہ ہی نہیں کہ یہ تو در اصل برگ حشیش ہے اورجب اس کا نشہ ٹوٹتاہے اور ہوش آتاہے تب تک کچھ بننے ، کرنے یا خود کو سنوارنے کی عمر ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
بطور ایک اردو استادکے ہماری پیشہ ورانہ اور ساتھ ہی ساتھ اخلاقی ذمے داری بھی ہے کہ موجودہ دور میں دستیاب ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم تدریس کو کچھ اس قدر دلچسپ اور آسان بنا دیں کہ طلبہ کو تضیع اوقات کا موقع ہی نہ مل سکے ۔ دیگر زبانوں میں تکنیکی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے تدریس کے مرحلے کو جس طرح سے آسان اور دلچسپ بنایا جارہاہے اردو زبان و ادب کی تدریس میں بھی ان کا اطلاق کرتے ہوئے ہم اس زبان کی تدریس کو موثر بنا سکتے ہیں۔

Dr. Mohd Mashhoor Ahmad
Assistant Professor
M.S. College Motihari, (Bihar)
Pin-845401

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

انڈین نالج سسٹم اور موجودہ تعلیمی نظام کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: کے ایم عظمت النساء

اردو دنیا،دسمبر 2025 ہندوستان دنیا کی ان قدیم ترین اور ہمہ گیر تہذیبوں میں سے ایک ہے جس نے نہ صرف انسانی فکر و شعور کی تشکیل میں اہم کردار

زبان کی تدریس میں پہیلیوں کی اہمیت امیر خسرو کے حوالے سے،مضمون نگار: بی بی رضا خاتون

اردودنیا،فروری 2026: پہیلیاں صدیوں سے انسانی تہذیب و ثقافت کا اہم حصہ رہی ہیں۔ تفنن طبع کے لیے کہی جانے والی پہیلیاں ہمیں تفکرو تفہم کی طرف لے جاتی ہیں۔

گروکل کا تعلیمی نظام اور جدید تعلیم ،مضمون نگار: آفتاب عالم

اردو دنیا،نومبر 2025 ہندوستان کاقدیم تعلیمی نظام ہزارسالوں کا سفر طے کرنے کے بعد معرض وجود میں آیاہے جو علم کے ایک وسیع اور کثیر شعبہ جاتی نظام پر مشتمل