نظم جدید میں عورت کا تصورمضمون نگار: سائرہ خاتون

February 4, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

عجیب حقیقت ہے کہ ایک طرف عورت کو مرد کی بہ نسبت کمزور، کم عقل، بزدل و جلدباز، حقیر و ذلیل تصور کیاجاتا ہے، وہیں دوسری طرف تصویرکائنات کے سارے رنگ وجودزن کے رہین منت سمجھے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہی ہے کہ مرد عورت کے بغیر ادھورا، معاشرہ عورت کے بغیر نامکمل اور کائنات عورت کے بغیر بے رنگ ہے۔نسل انسانی کا تسلسل اوربقا عورت کے دم سے ہے۔ حوا کی تخلیق بنی آدم کی افزائش اور رنگینی کونین کا باعث بنی۔ مردوں نے بلاشبہ عورت کے حسن وجمال کے قصیدے لکھے، لیکن مرد اساس معاشرے نے اپنی طاقت کے زعم میں ظلم وجور کا بازار گرم کیا۔ اس میں عورت کا حصہ بہت معمولی ہے اوروہ بھی مرد کی ترغیب وتحریص اور جبرواشتعال کے باعث۔ جب مرد کی شخصیت کواس کی خامیوں کے سبب گہن لگنے لگا تو اس نے عورت کو اپنا حریف جانا اوراپنی توانائیاں عورت کو کمتر ثابت کرنے میں صرف کردیں،حالانکہ عورت‘ خالق کائنات کی خوبصورت تخلیق ہے۔ اس عالم رنگ و بو کی ساری رونق اسی کے دم سے ہے۔ باوجود اس کے مختلف علاقوں اور اقوام وقبائل کی قدیم معاشرت کی جو تصویر سامنے آتی ہے، اس میں عورت کی حالت ناگفتہ بہ تھی اور آج بھی ہے۔ 

جب دنیامیں مختلف مذاہب کاظہورہواتو عورت نے بجاطور پر ان سے اچھی امیدیں وابستہ کی ہوں گی، عین ممکن ہے ان مذاہب نے عورت کی مظلومیت کے خلاف آوازبھی اٹھائی ہومگر یہ آواز بہت جلد دب گئی۔ یہی وجہ ہے کہ عورت مذہبی عالموں اور سماجی مفکرین کے درمیان موضوع بحث بنی رہی۔ ادب عالم کا ایک بڑا حصہ بھی عورت سے متعلق ہے۔اردو شعروادب میں بھی عورت اہم موضوع کے طورپر موجود ہے۔ ہر علاقے او ر ہر دور کے اردو شعرا نے اپنی شاعری کے چراغ عورت کی ذات سے روشن کیے۔ دکن، شمالی ہند، دبستان دہلی اور دبستانِ لکھنؤ کے بیشتر شعرا نے عورت کے ہر روپ  ماں، بیٹی، بہن، بیوی اور طوائف کو شاعری میں پیش کیا۔ انھوں نے عورتوں کے تقدس اور عظمت کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم وتربیت، آزادی، بے راہ روی اور حجاب  کے مسائل بھی اجاگر کیے۔ 

1857 تا1947 کا عہد مشرقی اور مغربی تہذیبوں کی کشاکش اور تصادم سے دوچار تھاکیونکہ ایک طبقہ جدید نظریات کا حامی اور ہندوستان میں تبدیلیوں کی فضاؤں کو قبول کر رہا تھا۔ دوسرا طبقہ ماضی پرستی کے حصار میں مقید تھا اور اپنی روایات چھوڑنے پر کسی طرح تیار نہ تھا۔ برصغیر کے نئے حکمرانوں کی آمد کے ساتھ ہندوستانی معاشرے کے اندر تحرک اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو گیا۔ صدیوں کی روایات نے اپنی بساط لپیٹنا شروع کر دی۔ نئی روایات اور نئی اقدارمعاشرتی زندگی کاحصہ بننے لگیں۔ مغربی تہذیب اپنے ساتھ عورت کی آزادی اور عورت کے لیے تعلیم کا پیغام لے کر آئی۔ ہندوستانی معاشرے کے لیے یہ نئی صورت حال قبول کرنا آسان نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ قوم عجیب کشمکش کا شکار تھی۔ کسی نے اسے عورت کے لیے باعث رحمت گردانا اور کسی نے اسے عورت کی بے راہ روی کا منشور قرار دیا۔عورت جو پہلے ہی سے بہت سارے مسائل و مصائب کا شکار تھی، معاشرتی انحطاط کے اس عہد میں افراط و تفریط کا شکار ہوگئی۔ وہ ایک طرف سخت معاشرتی جکڑ بندیوں کا شکار ہوئی تو دوسری طرف محض کھیل تماشے کی شے بن کر رہ گئی۔ 1857 کی ناکامی کے بعد یہ صورت حال مزید دگرگوں ہو گئی، خاندان بکھر گئے، معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی :

’’ناز و نعم میں پلے ہوئے لوگ نان شبینہ کے محتاج تھے۔ شہزادے در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے اور بعضے بھیک مانگ کر پیٹ بھرنے پر مجبور تھے۔بدترین اقتصادی بدحالی، رسوائی، ذلت، فاقہ کشی ، خوف اور دہشت لوگوں کا مقدر بن چکا تھا۔‘‘1؎

انگریزوں نے ہندوستان کے اقتدارپرمکمل قبضہ کرنے کے بعداپنے تسلط کومستحکم کرنے کے لیے دستوری اور تعلیمی اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا اور مفتوح قوم پر غلبہ پانے کے لیے اپنی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کا خوب پر چار کیا۔ برصغیر کی تاریخ میں 1857 کا سال عظیم مغلیہ سلطنت کے خاتمے کی دردناک کہانی ہی پیش نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک تہذیب کے زوال اور ایک نئی تہذیب کے تسلط کا اشاریہ بھی ہے۔ یہ زمانہ معاشرتی قدروں کی تبدیلی، فرد کے اندر کی کشاکش اور دو تہذیبوں کے تصادم سے عبارت ہے۔ جب کوئی قوم پستیوں میں گھر جاتی ہے یاکوئی معاشرہ زوال پذیرہو جاتا ہے تو قدرت اصلاح احوال کی صورت بھی پیدا کر دیتی ہے۔ اس صورت حال میں درد دل رکھنے والے بعض افرادنے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے قوم کو شکست خوردگی کے اثرات سے نکالنے اور ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ بعضوں کا خیال تھا کہ اب قوم میں دم خم نہیں ہے، اس لیے ٹکراؤ اور مقاومت سے زیادہ مصالحت اور تقدیر کی ضرورت ہے۔  سرسید بھی اسی خیال کے موید تھے۔ چند ایسے افراد بھی تھے کہ اگر چہ اس دور ابتلا میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کرسکتے تھے لیکن وہ مصالحت کے لیے بھی کسی طرح تیار نہ تھے، اکبر انھی کے نمائندہ تھے۔ بعض نے در میانی راستہ اختیار کیا جیسے شبلی اور حالی۔

چنانچہ انھی متضاد نظریات کی تشہیر کے لیے ہردو نظریے کے حامی افراد نے کوششیں کیں، سرسید نے اپنے رسالے تہذیب الاخلاق کے ذریعے تو اکبر نے اپنی شاعری کے ذریعے اصلاحی امور انجام دیے۔ نثر اور شاعری میں بھی کہیں تعلیم نسواں کے خلاف تو کہیں اس کی حمایت میں آوازیں بلند کی گئی ہیں۔تعلیم نسواں کی حمایت میں شاعری کرنے والوں میں حالی، محمد حسین آزاد، اسمٰعیل میرٹھی،شبلی نعمانی اور اکبر الہ آبادی کے نام قابل ذکر ہیں۔ بظاہر یوں لگتا ہے جیسے حالی، آزاد اور اسمٰعیل تو ایک مکتبہ فکر کے علم بردار تھے نیز شبلی اور اکبر د وسرے رخ کے عکاس، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقصد دونوں گروہوں کا ایک ہی تھا یعنی قوم کی اصلاح ۔حالی نے قوم کے ایک ایک دکھ کو محسوس کیا اور اسے دلسوزی کے ساتھ اپنی شاعری میں پیش کیا۔ انھوں نے محسوس کیاکہ ہندوستان میں عورت کی حیثیت ایک کھلونے سے زیادہ نہیں تھی، وہ مرد کی ہوسناکی کا شکار اور اس کے تعیش کا ذریعہ تھی۔ اس کی فریادسننے والا کوئی نہیں تھا۔ حالی اس کی مظلومیت اوربے کسی سے متاثر ہوئے، اس کے جائز حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کی،  اس کی بے کسی اوربے بسی پر خون کے آنسو بہائے، اردو شاعری میں جس نے سب سے پہلے صنف نازک کی مظلومیت کو اپنے سوزجگر کے ساتھ پیش کیا وہ حالی ہیں۔حالی کی کوششوں سے ہندوستان میں عورت کے تئیں ایک نرم گوشہ پیداہوا۔ چنانچہ عورت ایک کھلونااورایک محبوبہ کے روپ سے نکل کر پہلی بارماں، بہن، بیوی اوربیٹی کی مقدس اور معزز حیثیت میں نمودار ہوئی۔ ان کی نظموں چپ کی داد، مناجات بیوہ اور بیٹیوں کی نسبت میں عورتوں کی سماجی مظلومیت کو عیاں کیاگیااور لوگوں کو ان کے تئیں غوروفکر کرنے پرمجبور کیاگیا۔صالحہ عابدحسین لکھتی ہیں:

’’واقعہ یہ ہے کہ اس زمانے میں ہندوستانی عورت کے حقوق کی حفاظت کی سب سے پہلی آواز جس شخص نے بلند کی اور اس کی سماجی مظلومی کا سب سے پہلے اعتراف کیااور اس کی حمایت کا علم اٹھایا، وہ حالی ہی تھے۔‘‘2؎

حالی نے عورت کو ماں، بہن اوربیٹی کی شکل میں دیکھا اورپیش کیا۔ ان کی نظم ’’چپ کی داد‘‘ اس کا بین ثبوت ہے، جو1906 میں لکھی گئی اور ترتیب بند کی شکل میں لکھی گئی ہے۔ اس میں حالی نے ہندستانی عورت کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے مرد کی زندگی میں ان کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ عورت کی صفات کی تعریف کرتے ہوئے حالی نے اس کی بے نفسی، ایثار اور قربانیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ وہ عورت کی فطری محبت و شفقت، وفاشعاری، خلوص، شرم وحیا اور خدمات کو انسانیت کے بلند مقام پر تصور کرتے ہیں۔ زیرنظر نظم کے بعض حصے ملاحظہ کیجیے:

اے ماؤ، بہنو، بیٹیو دنیا کی زینت تم سے ہے

ملکوں کی بستی ہو تمھی قوموں کی عزت تم سے ہے

تم گھر کی ہو شہزادیاںشہروں کی ہو آبادیاں

غمگیں دلوں کی شادیاںدکھ سکھ میں راحت تم سے ہے

نیکی کی تم تصویر ہوعفت کی تم تدبیر ہو

ہو دین کی تم پاسباںایماں سلامت تم سے ہے

’’چپ کی داد‘‘ کے سلسلے میں ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی لکھتے ہیں:

’’چپ کی داد‘‘ میں حالی نے نہ صرف عورتوں کے مظلوم طبقے کی وکالت کی ہے، بلکہ خاتون مشرق کے کردار کی ایک مثالی تصویر بھی کھینچ دی ہے۔‘‘ 3؎

حالی کی اس آواز نے ایسا ارتعاش پیداکیا کہ ہندستان کاسنجیدہ طبقہ عورت کے تئیں مرد کے فکروعمل پر غور کرنے پر مجبور ہوگیا۔ یہاں تک کہ اقبال جیسا مفکر بھی یہ اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا کہ مجھے بھی عورتوں کی مظلومیت کا رنج ہے، لیکن یہ ایک ایسی گرہ ہے جسے کھولا نہیں جاسکتا۔ وہ لکھتے ہیں:

میں بھی مظلومی نسواں سے ہوں غم ناک بہت

نہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی کشود

حالی نے ہندوستان میں بیوہ کے خلاف ہونے والی مروجہ رسومات وتوہمات کے خلاف بھی احتجاجی آواز بلند کی اور اس کی حمایت میں ایک نظم ’’مناجات بیوہ‘‘ تخلیق کی، جس کے بارے میں شجاعت علی سندیلوی لکھتے ہیں:

’’یہ مناجات نہیں ہے بلکہ بیوہ کے قلب وجگر کے ٹکڑے ہیں، جو الفاظ میں ظاہر ہوئے ہیں۔ کم سن بیوہ کی حالت زار جس سوزوگداز کے ساتھ حالی نے پیش کی ہے، اس کو سن کر سخت سے سخت دل بھی موم ہوجاتا ہے کیوں نہ ہو ہندوستانی سماج میں بیوہ کی زندگی موت سے بدتر ہوجاتی ہے۔ اپنے اورپرائے سب اس کو ٹھکراتے ہیں۔ سب اس کو منحوس اوربدنصیب قرار دیتے ہیں۔ لوگ اس کے سایے تک سے بچتے ہیں۔‘‘4؎

اس نظم میں حالی نے بیوہ کے درد کو اس کی زبان سے اس پُردرد انداز میں بیان کیا ہے کہ پتھر کا دل بھی پگھل جاتا ہے۔ حالی نے مرد ہوتے ہوئے بیوہ عورتوں کے جذبات واحساسات کو جس دل گرفتگی اور دلسوزی کے ساتھ پیش کیا، وہ صرف انھی کا حصہ ہے۔ کوئی دردمنددل اور حساس طبع شخص ہی کسی کم سن بیوہ کی زندگی کے سوزوساز کو پورے سوز وساز کے ساتھ رقم کرسکتا ہے۔ چند اشعار د یکھیے:

دن یہ جوانی کے کٹے ایسے

باغ میں پنچھی قید ہو جیسے

رہ گیا دے کر چاند دکھائی

چاند ہوا پر عید نہ آئی

رُت بدلی پر ہوئی نہ برکھا

بادل گرجا اور نہ برسا

پھل کی خاطر برچھی کھائی

پھل نہ ملا اور جان گنوائی

حالی کی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جوش نے بھی اپنی نظم ’’سہاگن بیوہ‘‘ میں بیوہ کے درد کو اس طرح بیان کیا ہے:

پوچھیے اس سے کہ دنیا کیا تھی اورکیا ہوگئی

جس نے گھونگھٹ ابھی الٹا تھا کہ بیوہ ہوگئی

پھنک گئیں میری بہاریں جل گیا میرا سنگار

تیری بند آنکھیں ہیں میری زیب وزینت کا مزار

گھر مرے ہم جولیاں، مل جل کے گانے آئی تھیں

مالنیں، پھولوں کاگہنا کل پہنانے آئی تھیں

آج قرباں گاہ عبرت پر چڑھانے کے لیے

موت آئی ہے مرا زیور بڑھانے کے لیے

زندگی! جا دور ہو دنیا ہے آنکھوں میں اجاڑ

موت! جلدی کر کہ ٹوٹا ہے رنڈاپے کا پہاڑ

جوش کی نظم میں دکھ ودرداور سوز وساز کی جولے ہے وہ دلوں کو زیادہ جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ حالی اور جوش کی ان کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ بیوہ کے عقدنکاح کے حوالے سے لوگوں کے رویوں میں تبدیلیاں آنی شروع ہوئیں اور بیوہ کے ستی ہونے کی مروجہ رسم کا خاتمہ ہونے لگا۔ بیوہ کے عقدنکاح کے سلسلے میں عرش ملسیانی کی نظم ’’سہاگن بیوہ‘‘ اسی سلسلے کی ایک عمدہ نظم ہے۔ وہ اپنی نظم ’’خاتون مشرق‘‘ میں کہتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کی چاٹ سے اطفال کی جبینیں عورت کے لبوں کی گرمی کے لیے ترستی رہ جاتی ہیں۔ اس علم کے باعث شوہر کے حقوق پامال ہوجاتے ہیں۔ یہ علم حسن نسواں کو ’جاگیر عام‘ بنادیتا ہے لہٰذا ایسا علم جہل پرور ہے اور اسے دور سے ہی سلام۔ 

اقبال کو عورت کے جدید تعلیم کے حصول سے خدشہ یہ تھا کہ اس سے وہ اپنے حقیقی جو ہر کھو بیٹھے گی اور اس میں عورت پن باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اگر عورت کا مدرسہ دین کی تعلیم سے بے تعلق رہے تو وہ عورت کو اس کے حقیقی فرائض سے بیگانہ بنا دے گا۔ اقبال کے نزدیک عورت کے حقیقی فرائض ’امومت‘ ہیں اور اگر عورت میں یہ جذ بہ فنا ہو جائے تو انسان کے لیے ایسی تہذیب کا ثمر موت ہے۔ ’’عورت اور تعلیم‘‘ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت

ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت 

در اصل اقبال مغرب کی بعض خواتین کے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے تھے، جنھوں نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ بچے کی پیدائش پر عورت کا اختیار ہونا چاہیے، کیوں کہ مرد ’’مامتا‘‘ کے جذبے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں اور خواتین کو اپنا مطیع بنا رہے ہیں۔ حالانکہ عورت نے تحفظ نسلی کے لیے ہمیشہ اپنا فرض ادا کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج نسل آدم معدوم ہو چکی ہوتی۔ جب کوئی مذہب اور اس کے ماننے والے عالم اور پروہت نہیں ہوتے تھے تب بھی بچے پیدا ہوتے تھے۔ اقبال عورت کی زندگی کا مقصد ہی امومت کو قرار دیتے ہیں اور عورت کی کل کائنات اسی لذت تخلیق سے محفوظ ہونا سمجھتے ہیں۔ ’’عورت‘‘ کے عنوان کے تحت وہ لکھتے ہیں:

راز ہے اس کے تپ غم کا یہی نکتۂ شوق

آتشیں، لذت تخلیق سے ہے اس کا وجود

کھلتے جاتے ہیں اس آگ سے اسرار حیات

گرم اسی آگ سے ہے معرکہ بود و نبود 

یہ درست ہے کہ اگر عورت کے وجود میں تخلیق کی لذت نہ ہوتی تو دنیا کا سلسلہ قائم نہ رہ سکتا، لیکن یہ کہنا کہ قدرت نے عورت کو پیدا ہی اس غرض سے کیا ہے اور زندگی میں صرف یہی اس کا فریضہ ہے، غلط ہے۔ حالی اور اقبال کی شاعری میںعورت کو خاص مقام حاصل ہے۔ ان کے کلام میںعورت کو ادب و احترام اورعزت واہمیت کے ساتھ پیش کیا گیاہے ۔ اقبال نے جس طرح اپنی شاعری میں ’وجود زن ‘ کے تصور کو پیش کیا، اس سے ان کی فکر اور عورت کی ان کے نزدیک اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔انھوں نے محسوس کیا کہ دنیا کے شاعروں خصوصاً ہندوستانی شعرا نے عورت کی ناز و ادا،حسن و جمال اورعشوہ و ناز وا داکو ہر زاویے اور ہرنوعیت سے تلذذ کے ساتھ پیش کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ کہہ اٹھے:

آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

گویااقبال کو ایسے تمام فنکاروں سے شکایت تھی،جو عورت کے نام کو غلط استعمال کرکے ادب کی پاکیزگی اور اس کی روح کو پامال کررہے تھے۔ عورت کے تقدس کے سلسلے میں اقبال نے فاطمہ بنت عبد اللہ اور والدہ مرحومہ کی یاد میں جیسی نظمیں تخلیق کیں۔ اس کے علاوہ عورت کے موضوع کے تحت تین رباعیاں بھی لکھیں۔ ’ضرب کلیم ‘ میں عورت کے عنوان سے نو نظموں پر مشتمل ایک پورا باب موجود ہے۔ ’ارمغان حجاز ‘(فارسی) میں دخترانِ ملت کے عنوان سے آٹھ رباعیاں اور’رموز بیخودی ‘میں تین عنوانات عورت کے متعلق ہیں۔’مثنوی پس چہ باید کرد، کی فصل پنجم میں بھی اس موضوع پر اقبال نے روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ ’جاوید نامہ ‘میں افلاک کی سیر کے دوران مختلف انداز اور طریقوں سے عورت کا تصور پیش کیا ہے۔ اس قبیل کی ان کی نظموں میں درمعنی اینکہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؓ، اسوۂ کاملہ ایست برای نسائِ اسلام اور انجمن خواتینِ اسلام مدراس اہمیت کی حامل ہیں۔ان نظموں میں انھوں نے عورت کا تصور محض جمالیاتی زاویۂ نگاہ تک محدود رکھا ہے۔ اقبال کو عورت کی عظمت اوراس کی اہمیت کا بخوبی علم تھا ،اسی لیے انھوں نے عورت کے ہر روپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ اشعار کہے۔ وہ کہتے ہیں :

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

اقبال ’ضرب کلیم‘ میں عورت کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ عورت افلاطون کی کتاب ’مکالمات‘ جیسی کوئی کتاب نہ لکھ سکی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ افلاطون کی چنگاری بھی عورت ہی کے شعلے سے پیدا ہوئی تھی۔ گویا اقبال کے نزدیک عورت کا منصب یہ ہے کہ وہ تربیت اولاد کامل توجہ اورتندہی سے کرے یہاں تک کہ اس کی آغوش تربیت میں افلاطون جیسے فلسفی پیداہوں:

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی، لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں

اقبال کی نظم’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘کا شمار امتیازی نظموں میں ہوتا ہے۔اقبال کے کلام میں چونکہ عورت ماں جیسی عظیم ہستی بن کر ابھری ہے، اس لیے اس ماں میں فاطمۃ الزہرا کی حیات طیبہ کی شبیہ ہے۔ اقبال وجود زن کی عظمت، اولاد کی تربیت میں مضمر سمجھتے ہیں۔یہ نظم اقبال نے اس وقت لکھی جب وہ لندن میں قیام پذیر تھے اوران کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ یہ نظم ایک نوحہ بھی ہے اورمرثیہ بھی۔ اس میں ماں جیسی ہستی کے بچھڑجانے کا ماتم ہے اور دعائے نیم شب کے لیے بلند ہوتے ہوئے ہاتھوں کے چھن جانے کا دکھ بھی۔ اس میں یہ اعتراف بھی ہے کہ یہ میری ماں ہی کی تربیت کا فیض ہے کہ مجھے ستاروں جیسی بلندی نصیب ہوئی۔اپنی اس نظم میں اقبال کہتے ہیں :

کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار

کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار

خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤںگا

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤںگا

تربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہوا

گھر مرے اجداد کا سرمایہ عزت ہوا

دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات

تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات

عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی

میں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی

کلام اقبال میں تعلیم نسواں،تربیت نسواں، تصور نسواں جیسے اہم موضوعات ملتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عورت کا وہ حقیقی مقام ہے جس سے امت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی کی امیدیں وابستہ رکھی جاسکتی ہیں۔ ان کے نزدیک نہ تو اندھی تقلید کے تحت عورت کو جہالت میں مقید رکھنا ہے اور نہ ہی عورت کو تہذیب کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانا،بلکہ حقیقی مقصد شرف نسوانیت ہے۔

حالی اور اقبال کے علاوہ دیگر شعرا نے بھی عورت کے وجود کی تحسین و آفریں کی اور اسے تخلیق کائنات کا سب سے خوبصورت اور دلربا شاہ کار قرار دیا۔ سیماب اکبر آبادی کی نظم ’’خواتین وطن سے خطاب‘‘ کا ایک ٹکڑا دیکھیے :

ہے تمھاری خلقت نازک خدا کے نور سے

تم بنی ہو امتزاج نکہت و کافور سے

بعدِ آدم مصدر اولاد آدم ہو تمھیں

رونق افزائے بساط بزم عالم ہو تمھیں

شبلی نعمانی کی شاعری میں عورت کا تصور اُن کے فکری، مذہبی اور تہذیبی شعور کا پیش خیمہ ہے۔ وہ ایک طرف مشرقی روایات اور اسلامی اقدار کے حامی ہیں، تو دوسری طرف مغربی تعلیم و تہذیب سے بھی متاثر ہیں۔ ان کے نزدیک عورت صرف حسن و عشق کا موضوع نہیں بلکہ تمدن، اخلاق اور روحانی اقدار کی محافظ ہے۔شبلی عورت کو محض جسمانی حسن کے تناظر میں دیکھنے کے قائل نہیں، بلکہ وہ اسے اخلاقی بلندی، وفاداری، حیا اور ایثار کا پرتو سمجھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں عورت کا تصور اس پاکیزہ ہستی کے طور پر ابھرتا ہے جو گھر اور معاشرے کی بنیاد کو مضبوطی فراہم کرتی ہے۔ ان کے نزدیک عورت کا اصل اختصاص اس کا اخلاص، ایثار اور خاندانی تقدس ہے، نہ کہ محض ظاہری حسن وجمال۔شبلی کی عشقیہ شاعری میں عشق مجازی کے ساتھ عشق حقیقی کی جھلک بھی موجود ہے۔ ان کے یہاں عورت عشق الٰہی کی راہ میں ایک علامت یا وسیلہ بن جاتی ہے۔ وہ عورت کے حسن میں جمال الٰہی کی جھلک دیکھتے ہیں۔مثلاًان کے بعض اشعارمیں عورت کی دلکشی روحانی کشش میں ڈھل جاتی ہے، جو صوفیانہ رنگ رکھتی ہے۔شبلی مغربی تہذیب کے اثرات کے باوجود عورت کی روایتی مشرقی حیثیت کو بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ عورت کی آزادی کے مخالف نہیں، مگر بے پردگی یا اخلاقی انارکی کے مخالف ہیں۔ ان کے نزدیک عورت کی تعلیم ضروری ہے، لیکن ایسی تعلیم جو عفت، کردار اور دینی شعور کو برقرار رکھے۔شبلی کی فکر میں عورت ماں کے طور پر ایک مربی اور معلم کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر عورتوں کی تعلیم و تربیت درست ہو تو پوری قوم کا اخلاق و کردار بہتر ہو سکتا ہے۔ ان کی نظر میں عورت قوم کی روح ہے اور اس کی تربیت سے ہی معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ان کے نزدیک عورت کا تصور روحانی، اخلاقی اور تہذیبی توازن کا مظہر ہے۔ وہ عورت کو عزت، احترام اور تقدس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔’’اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی‘‘ اور ’’خواتین عرب کا ثبات و استقلال‘‘ اسی قبیل کی نظمیں ہیں، جن میں ازواج مطہرات اور خواتین اسلام کی بہادری و شجاعت اور ان کے مرتبے کو بیان کیا ہے۔اول الذکر نظم کا یہ بند دیکھیے:

افلاس سے تھا سیدہ پاک کا حال

گھر میں کوئی کنیز نہ کوئی غلام تھا

گھس گھس گئی تھیں ہاتھ کی دونوں ہتھیلیاں

چکی کے پیسنے کا جو دن رات کام تھا

سینہ پہ مشک بھر کے جو لاتی تھی بار بار

گو نور سے بھرا تھا مگر نیل نام تھا

اٹ جاتا تھا لباسِ مبارک غبار سے

جھاڑو کا مشغلہ بھی جو ہر صبح وشام تھا

اکبر کی شاعری کا بڑا حصہ مشرقی تہذیب و معاشرت کو مغربی تہذیب و معاشرت کے تند و تیز ریلوں سے محفوظ رکھنے کے لیے وقف ہوا۔ انھوں نے جدید تعلیم کے خلاف اس لیے محاذ کھڑا کیا کہ اس کے ساتھ کفر و الحاد بھی چلا آ رہا ہے۔ مغربی تہذیب اس لیے ناپسندیدہ ٹھہری کہ اس کی اساس مادیت پر تھی۔ دراصل انھیںاپنے دینی عقائداوراخلاقی تصورات بہت عزیز تھے۔ اکبر کو خوف تھا کہ مغرب اس کی نظریاتی اساس پر حملہ آور ہو رہا ہے، اس لیے وہ ان کے ہر عمل کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ عورت کی تعلیم اور آزادی کے حوالے سے حالی اور اکبر کی رائے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حالی عورت کو علم و دانش سے محروم رکھنے کے سخت خلاف تھے۔ ان کے مطابق  عورت کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ اگر وہاں جہالت کا راج ہو گا تو بچہ کس طرح معاشرے کا مصلح فرد بنے گا۔ عورت معاشرے کا ایک اہم اور فعال رکن ہے۔ تہذیب و معاشرت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے اس کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

ہندستان کا ایک بڑا طبقہ عورت کی تعلیم کا محض اس قدر حامی تھا کہ یہ شوہر اور اطفال کی خاطرہو۔ اگر یہ تعلیم کسی قومی ضرورت کے پیش نظر ہو تو وہ اس کے خلاف تھا۔ اس طبقے کی نمائندگی اکبر الہ آبادی نے کی۔ اکبر کے نزدیک عورت کی تعلیم اس حد تک روا ہے کہ وہ نیک بخت رہے۔ اپنے میاں سے ملائم اورشیطان سے سخت ہو اور یہ محض دینی تعلیم سے ممکن ہے۔ اگر چہ اکبر عورت کی تعلیم کے مخالف نہ تھے، لیکن وہ جس تعلیم کی بات کرتے ہیں اس کے بنیادی دومقاصد ہیں:

اول:  تعلیم ایسی ہو کہ جس سے عورت مذہبی معاملات کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔

دوم: اس کی تعلیم عورت کے لیے گھرداری میں معاون ثابت ہو۔ گویا اسے شوہر کی مریدہ، بچوں کی خادمہ، گھر کا حساب کتاب رکھنے، کھانے میں مہارت اور سینا پرونامیں ماہرہونے کے ساتھ صحت کے بنیادی اصولوں سے آگاہی ہو۔

محمد حسین آزاد بھی عورتوں کے تقدس اور ان کی عظمت کے قائل تھے۔ وہ عورت کے ہر روپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انھوںنے زمانہ جاہلیت کی رسم دخترکشی کے خلاف ایک نظم ’دخترکشی‘ تحریر کی جو ان کے ڈراما ’دخترکشی 1869‘ کے ابتدائی حصے میں شامل ہے۔ اس میں انھوں نے بیٹی کی پیدائش کو گوارہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ بیٹی کے حوالے سے اہل ہند کے ذہن میں یہ بات پختہ ہوچکی تھی کہ اس کی وجہ سے ان کی نام نہاد غیرت کوبٹا لگتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیٹی کی پیدائش پر ہی اس کو قتل کردیاجاتا تھا اور اسے اپنی غیرت مندی کا نشان سمجھاجاتا۔ آزاد کہتے ہیں:

مہاراج جی! آپ نے سچ کہا

یہ ذلت اٹھانی نہیں ہے روا

کسی کو جو بیٹی بہن کوئی دے

تو سسرا بنے یا وہ سالا بنے

یہ بے غیرتی چاہتا جی نہیں

یہ گالی اٹھانی تو اچھی نہیں

وہیں اپنی نظم ’’مری پیاری اماں‘‘ میںآزاد نے ایک ماں کی ان تکالیف کا ذکر کیا ہے جو وہ بچے کی پرورش وپرداخت کے لیے برداشت کرتی ہے۔ نظم میںجہاں ماں، جو ایک عورت بھی ہے کے لیے اظہار ممنونیت ہے، وہاں یہ اعتراف بھی ہے کہ نسل آدم کی پرورش و پرداخت صرف عورت ہی کرسکتی ہے۔ نظم کے یہ بند ملاحظہ کیجیے:

نہ کچھ مجھ میں طاقت تھی جس آن اماں

نہ اچھے برے کی تھی پہچان اماں

تمھیں سب طرح تھیں نگہبان اماں

تمھیں کو تھا ہر د م مرا دھیان اماں

مری پیاری اماں، مری جان اماں

اسی قبیل کی ایک دیگر نظم ’’شام کی آمد اور رات کی کیفیت‘‘ میں بھی آزاد نے ماں کی بے لوث محبت کی تعریف کی ہے کہ وہ گھر کے کاموں سے تھک کر چور ہوجاتی ہے لیکن بچے کے لیے اپنا آرام قربان کردیتی ہے اور سوتے جاگتے اسی کادھیان رکھتی ہے۔

اردو کے بیشتر شعرا نے عورت کے تقدس، اس کی عصمت وعفت، اس کی عظمت اور اس کے وقار کے کردار کو بیان کیا ہے اور اس کردار میں نکھار پیدا کرنے کے لیے اس کی تعلیم کو ضروری قرار دیا ہے۔ سرور جہان آبادی کی نظم ’’پیاری بہنو‘‘ میں عورت کے جذبۂ ہمدردی اور اس کی خوبیوں کو اجاگر کرکے اسے تعلیم سے محروم رکھنے کو قوم کی ذلت وخواری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نظم کے چند اشعار دیکھیے:

پیار کیوں کر نہ کریں ہم تمھیں پیاری بہنو!

تم مصیبت میں ہو تم خوار ہماری بہنو!

آڑے آتی ہو برے وقت میں پیاری بہنو!

ہم پہ شفقت ہے فزوں حد سے تمہاری بہنو!

تم سے دیکھی نہیں جاتی ہے ہماری ایذا

دل پہ اک ہول سا ہوجاتا ہے طاری بہنو!

نہیں جس قوم میں تعلیم تمہاری رائج

اس کی تقدیر میں ذلت وخواری بہنو!

اسمٰعیل میرٹھی نے ادب اطفال کے ساتھ ساتھ عورت کے تقدس اور اس کی عظمت کوبھی سراہا ہے۔ ان کی نظم ’’ماں کی مامتا‘‘ اسی طرح کے احساسات کی حامل ہے:

مامتا ماں کی جانتے ہیں سب

ماں ہے بچے کی پرورش کا سبب

بھوک بچے کو ہے ستاتی جب

ماں سے کرتا ہے روکے دودھ طلب

لوری دیتی ہے پیار کرتی ہے

جان اس پر نثار کرتی ہے

اس کا ’ہپّا‘ جدا پکاتی ہے

انگلیوں سے اسے چٹاتی ہے

باتیں کرنا اسے بتاتی ہے

پاؤں چلنا اسے سکھاتی ہے

ماں کو بچہ سے جو محبت ہے

درحقیقت خدا کی رحمت ہے

چونکہ طوائف بھی عورت کا ہی ایک روپ ہے اور طوائف ہر دور اور ہر خطے میں رہی ہے، کہیں انفرادی سطح پر اور کہیں باقاعدہ ایک ادارے کی شکل میں، لیکن وقت کے ساتھ اس کی حیثیت میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ طوائف بننے کا عمل بسااوقات مجبوری یا معاشی تنگ دستی کے سبب عمل پذیر ہوتا ہے، کبھی یوں ہوتا ہے کہ والدین کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد کسمپرسی ایک عورت کو ایسے ہاتھوں تک پہنچادیتی ہے جو اسے پیشہ ور بنادیتے ہیں۔چنانچہ ہندستان میں 1857 کے بعد نوابین اور امرا کا وہ طبقہ جو طوائفوں کی سرپرستی کرتا تھا، خود گردش دوراں کی نذر ہوگیا۔ اس لیے طوائف معاشی بدحالی کا شکار ہوگئی۔ چنانچہ اس کی وہ حیثیت ختم ہوگئی جو اسے پہلے حاصل تھی۔ اس سلسلے میں مخمورجالندھری کی نظم ’’بیسوا‘‘ طوائف کی حیثیت میں تبدیلی کی غماز ہے:

رنگ وبو کا اک جہاں ہے اس کے کوٹھے کا سنگار

پڑ رہی ہے بجلیوں کی جس پر اک رنگیں پھوار

چھپ کے بیٹھی ہے انھیں پردوں میں عصمت کی اجل

دل نشیں لفظوںمیںجیسے ابتذال آگیں غزل

یوں سجی بیٹھی ہے رخساروں پہ رکھ کرانگلیاں

جس طرح بازار میں باسی پھلوں کی اک دکاں

سرخیِ لب سے عیاں عصمت کا خونِ ناب ہے

ہر ادا عریانیوں کا تیز رو سیلاب ہے

بن کے بیٹھی ہے نسائیت کا زیور بیچنے

جسم ولب، یعنی نشاط خلد و کوثر بیچنے

متذکرہ بالا شعرا کے علاوہ سیماب اکبرآبادی کی نظم ’’جنت سے چھٹا خط‘‘ بیوہ کے دکھ درد اوراس کے عقدثانی کے لیے نصیحتوں اور ترغیبوں کو پیش کرتی ہے۔ چکبست کی نظم ’’برق اصلاح‘‘ کشمیری پنڈتوں کے فرقے میں پہلی مرتبہ ایک بیوہ لڑکی کی شادی کی نوید سناتی ہے۔ اسی طرح سوتن کے کردار کو بھی شعرا نے پیش کیا، اس طرح ہندوستانی عورت کے دو روپ سامنے آئے۔ شادی میں بیٹیوں کی رضامندی اوربے جوڑ شادی کے خلاف صدا بھی سنائی دی۔ اس حوالے سے اخترشیرانی کی نظم ’’نارضامندی کی شادی‘‘ اور مخمور جالندھری کی نظم ’’شادی‘‘ میں ازدواجی زندگی کی غیرطمانیت کا نوحہ ہے۔ شعرا نے لڑکیوں کی شادی کو ترقی کا زینہ بنانے اورجہیز کی لعنت کے خلاف بھی نظمیں لکھیں، ’’بملاکاجہیز‘‘ (مخمور جالندھری)اس حوالے سے اچھی نظم ہے۔

عورتوں کی تعلیم بھی اس دور کے شعرا کااہم موضوع رہا ہے۔ اس معاملے میں شعرا اختلاف کا شکار ہیں۔ حالی عورت کو علم ودانش سے محروم رکھنے کے خلاف جب کہ اکبر ایک محدود تعلیم کے حق میں تھے۔ اقبال بھی اکبر کے ہم نوا ہیں، ان کا خیال تھا کہ عورت کی تعلیم قومی ضرورت سے مشروط ہے۔ اکبر کی نظمیں ’’تعلیم نسواں، مغربی طرزِ تعلیم اور ہندی لڑکیاں‘‘ اسی نظریے کی تبلیغ کرتی ہیں۔ جو لوگ عورت کی تعلیم کے خلاف تھے، ان کا خیال تھا کہ جدید تعلیم سے جذبۂ امومت سرد پڑجائے گا۔ اقبال اسی خوف کا شکار ہیں۔ ان کے نزدیک عورت کا کمال یہ نہیں کہ وہ علم وفضل میں ارسطو اورافلاطون بن جائے بلکہ اس کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ ارسطو اور افلاطون پیداکرے۔ جوش کی نظم ’خاتون مشرق‘ میں بھی اسی رائے کااعادہ کیا گیا ہے تاہم عورت کی تعلیم کے حق میں بھی شعرا نے نظمیں کہیں، سرور جہان آبادی کی نظم ’’پیاری بہنو‘‘ عورت کی تعلیم کو ضرورت قرار دینے کی عمدہ کوشش ہے۔ماں کے تقدس اور اس سے والہانہ محبت کے اظہار کے سلسلے میں آزاد کی نظم میری پیاری اماں، مولوی اسمعٰیل میرٹھی کی ماں کی مامتا اوراقبال کی نظم والدہ مرحومہ کی یاد میں عمدہ احساسات کی حامل ہیں۔عورت کی آزدای اورجدید تہذیب کے خلاف ردعمل بھی اردو شعرا کے یہاں دیکھاجاسکتا ہے۔ اکبر کی نظم ’برق کلیسا‘ اور اقبال کی نظم ’آزادیِ نسواں‘ میں ردعمل کی تند وتیز لہر صاف نظر آتی ہے تاہم چکبست کی نظم ’پھول مالا‘ میں مغرب کی تقلید کو برا نہیں کہاگیا، البتہ اندھا دھند تقلید سے اجتناب کرنے کی تاکید ضرور ہے۔ عورت کے حجاب کے سلسلے میں اکبرکا ماننا ہے کہ عورت کے لیے پردہ لازم ہے، اقبال بھی پردے کے حامی ہیں، ان کی نظم ’خلوت‘ اور اختر شیرانی کی نظم ’عورت اورپردہ‘اسی نظریے کو پیش کرتی ہے۔ چکبست عورت کے ترک پردہ پر سیخ پا نہیں ہوتے البتہ شرم وحیا کو زیور بنانے پر زور دیتے ہیں۔ سیماب اکبرآبادی کے یہاں تبدیل شدہ ہندستان نظر آتا ہے۔ ان کی نظم ’خواتینِ وطن‘ سے عورت کے ’چراغ خانہ‘ کے تصور کے برعکس وطن کی آزادی کے لیے عملی جدوجہد پر تحسین پیش کرتی ہے۔ مجاز کی نظم ’نوجوان خاتون سے‘ میں ایک ایسی عورت کا تصور ہے جو مردوں کے ساتھ جنگ میں حصہ لے سکے۔ 

الغرض جدید نظم نگارشعرا نے اپنی سوچ اور فکر کو بروئے کار لاکر عورت کے مسائل سمجھنے اور ان کا حل پیش کرنے کی سعی کی۔ انھوں نے اپنی نظموں میں ایک ایسی عورت کا تصور پیش کیا جس کا وجود ان کے نزدیک کامیاب زندگی بسر کرنے اور اس عہد کے تہذیبی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے، جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ عورت کا مستقبل درخشاں ہوگا۔

حواشی

1 ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، اکبر الٰہ آبادی:تحقیقی وتنقیدی مطالعہ، لاہور سنگ میل پبلی کیشنز، 1986،ص:74

2 صالحہ عابدحسین، یادگارحالی، لاہور آئینہ ادب، 1966، ص:227

3 مولانا الطاف حسین حالی، کلیات نظم حالی، جلد اول، مرتبہ ڈاکٹر افتخار احمدصدیقی،لاہور مجلس ترقی ادب، طبع اول 1968،ص:60

4 ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی،حالی بحیثیت شاعر،سرفراز پریس لکھنؤ، 1960، ص:220

Dr. Sayara Khatoon

Assistant Professor

Department of Urdu

Mahila Mahavidyalaya Bahraich

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مصنوعی ذہانت اور تخلیقی ادب،مضمون نگار: جاوید احمد شاہ

اردودنیا،فروری 2026: دورحاضر میں انسان بے انتہا ترقی کر چکا ہے۔ ابھی معلوم نہیں اس کی پرواز کہاں تک ہو گی۔ روز بروز سائنس انسان کی رہنمائی کرتا ہوا نظر

ہندوستانی تہذیب وثقافت اورمراثی ٔ انیس کے خواتین کردار،مضمون نگار: شبیب نجمی

اردودنیا،جنوری 2026: میرانیس کا شماراردوزبان وادب کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے صنف مرثیہ کو وہ بلندی عطا کی کہ انیس اورمرثیہ

قاضی سجاد حسین اور دیوانِ حافظ کا اردو ترجمہ،مضمون نگار: فیصل نذیر

اردو دنیا،دسمبر 2025: جب ہم فارسی ادب،شاعری اور ان کے تراجم کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں جن کتابوں کے نام آتے ہیں ان میں