بنگال کی لوک کہانیوں میں بھوت اور فنتاسی کی جھلکیاں ، مضمون نگار: سلمان فارسی

February 4, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

بنگال برصغیر کی وہ سرزمین ہے جس نے ہمیشہ اہلِ نظر کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ تہذیب و تمدن کے آئینے میں اگر کسی خطے کی رنگارنگی کی جھلک نظر آتی ہے تو وہ بنگال بھی ہے۔ دوسرے خطے کی طرح یہ بھی اپنے جلو میں مرکز نگاہ کی حیثیت رکھتاہے۔ بنگلہ کے علاوہ اردو زبان کی خدمات اور فروغ اردو میں اس خطے کا نام سر فہرست ہے۔ ملک کی آزادی میں اس خطے کے جاں فروشوں کا قائدانہ کردار رہاہے۔ ریاستی سطح پر اگرچہ بنگلہ زبان کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن اردوکی بقاکے لیے اہل بنگال کی خدمات قابل ذکرہیں۔ اسی خطے میں مصنفوں، شاعروں، ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں کی کھیپ موجود ہے۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں تاریخ اور ثقافت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ یہاں کے قدرتی اور فطرت کے مناظر جیسے ندیوں کی روانی، شاداب کھیت، خوش رنگ پھول، دلنشیں مناظر، خوردونوش کے لیے مختلف طرح کے ذائقے دار کھان پان، زندگی کے غموں کے بوجھ کوہلکا کرنے کے لیے رقص و موسیقی، تفریح وتفنن کے لیے عوام کا میلوں میں جانے کا اہتمام یہاں مختلف طرح کی خریدوفروخت کے سامان کے علاوہ تاریخی ،قدیم اورنایاب چیزوں کی نمائش جواس خطے کی تہذیب وثقافت کا لازمی حصہ ہے۔ اس سے واقفیت ہوتی ہے۔ پرکھوں کی یاد تازہ ہونے کے ساتھ اس وقت کے سماج وتہذیب اورابھی کے سماج وتہذیب کافرق نمایاں نظر آتاہے۔ میلوں کے ساتھ تہواروں میں مختلف قبیلے،مختلف علاقے اور مختلف زبان بولنے والے کی موجودگی سے ہندستان کی حقیقت اور اصلیت جوکہ مشترکہ تہذیب وثقافت ہے، اس کی عملی شکل اوربہترین مثال نظروں کے سامنے ہوتی ہے۔ کھیت کھلیانوں سے اڑنے والی مٹی کی خوشبوؤں اور جنگلوں کے پتوں کی سرسراہٹ سے خوبصورت گیت کاسماں بنتاہے۔یہاں کی پوشاک، زیورات اور دیگر تمام چیزوں کی جاذبیت اس خطے کو ایک مکمل اور دلکش تصویر عطا کرتی ہے۔
بنگالی عوام اپنی فطرت میں محنتی، حساس اور جذباتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل اور خیالات کا اظہار کھلے عام سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے کرتے ہیں۔ یہ جذبہ ان کے اجتماعی شعور اور بیداری کی واضح دلیل ہے۔ وہ غریبوں کی مددکوباعث سعادت سمجھتے ہیں اور اپنی مہمان نوازی کو لذیذ مچھلی کے پکوانوں اور خوشگوار محفلوںسے یادگاربناتے ہیں۔ بنگال نہ صرف ثقافت، ادب اور موسیقی کا مرکز ہے، بلکہ تجارت، روزگار اور معاشی مواقع کے حوالے سے بھی ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ اپنی عظیم شخصیات کو عزت و توقیر دینا بنگالی تہذیب کی نمایاں روایت ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی عالمی سطح پر پذیرائی اس کا سب سے روشن ثبوت ہے۔ یوں بنگال اور اہلِ بنگال اپنی تہذیبی رنگارنگی اور گوناگوں خصوصیات کی بنا پر عالمی منظرنامے پر ہمیشہ سے ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
لوک کہانیاں یا لوک کتھائیں کسی بھی خطے یا علاقے کی ثقافت کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہیں۔اس علاقہ کی زبا ن کاعظیم سرمایہ ہوتی ہیں ۔اس کو وہاں کی زبان وتہذیب کے دورتک پھیلنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتاہے۔ افسانے، پریوں کی کہانیاں، بزرگ خواتین کی روایتی کہانیاں وغیرہ لوک کہانیوں کے چند عام زمرے ہیں۔ ہر انسانی معاشرے کی اپنی مخصوص لوک داستانیں ہوتی ہیں جو نسل در نسل زبانی طور پر منتقل ہوتی آ رہی ہیں۔ یہ کہانیاں علمی معلومات، اقدار اور تاریخی حقائق کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔
لوک کہانیوں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ناممکن اور غیر معمولی واقعات کو آسان اور دلچسپ انداز میں بیان کرتی ہیں، جس کی جانب سامعین، خصوصاً بچے، بے حد متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے نہ صرف تفریح حاصل ہوتی ہے بلکہ بچوں میں تہذیب، ثقافت، اخلاقیات اور تاریخی شعور بھی پروان چڑھتاہے۔ اس طرح لوک کہانیاں بچوں کو نہایت موثر طریقے سے معلومات فراہم کرنے، ان کی فکری نشوونما اور معاشرتی تربیت کا ایک ستون بنتی ہیں۔
بنگال اپنی خوبصورت تہذیب، رنگین ثقافت اور تاریخی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس کی لوک کہانیاں بھی خاص اہمیت کی حامل ہیں کیوںکہ یہ نہ صرف لوگوں کی تفریح کا ذریعہ ہیں۔ بلکہ زندگی کے اچھے اخلاق اور معاشرتی روایات سکھانے کا بھی کردار ادا کرتی ہیں۔ ”Rev.Lal Behari Day”بنگال کی لوک کہانیاں’ اور دکشنارنجن مترا مجمدارنے ‘ٹھا کر مار جھولی” نامی کتابیں ترتیب دی ہیں، جن میں بنگال کی قدیم زبانی روایت کی خوبصورت کہانیاں جمع کی گئی ہیں۔بنگال کی لوک کہانیوں میں ان دونوں کے نام اور ا ن کی کہانیاں کافی اہمیت اورمعنویت رکھتی ہیں۔ یہ کہانیاں عام طور پر ”ٹھا کر مار جھولی” یعنی دادی کے سنائے ہوئے قصے یا’بنگال کی لوک کہانیاں‘ کے عنوان سے مشہورہیں۔ صدیوں سے یہ کہانیاں بچوں کی پسندیدہ سرگرمی رہی ہیں، جن سے نہ صرف وہ تفریح پاتے ہیں بلکہ زندگی کی سادہ اور گہری سبق آموز باتیں بھی سیکھتے ہیں۔ان کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ نسل در نسل منتقل ہوتی آ رہی ہیں اور سماجی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار کو زندہ رکھتی ہیں۔
ان مشہور کہانیوں کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بنگالی لوک کہانیاں بنیادی طور پر خواتین کی کہانیاں ہیں۔ ان کہانیوں کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ خواتین ہی ہوتی ہیں جو کہانیاں سناتی ہیں، جیسے دادی، مائیں، خالہ، بڑی بہنیں وغیرہ۔ عموماً یہ کہانیاں رات کو بچوں کے ساتھ بستر پر یا کچن میں سنائی جاتی ہیں تاکہ بچے جلدی سو جائیں۔ ان کہانیوں کازیادہ ترمحوربچوں کی تربیت اور اخلاقی سبق ہوتا ہے، جن میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بغیر والدین کی اجازت کے رات کے وقت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ بھوت، جو کہ نظر آنے والی یا نظر نہ آنے والی مخلوق کے طورپرجاناجاتاہے۔اختلاف نظریات کے ساتھ بنگالی سماج ومعاشرت میں اس کے اچھے اوربرے اثرات کے تئیں اس کو راضی وخوش کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ سب بنگالی سماج ومعاشرت میں ایک اہم عنصر ہے۔ بنگالی تہذیب و ثقافت میں بھوت کے وجود اور اس کی طاقت پر گہرا یقین پایا جاتا ہے۔ بھوت کی پوجا پاٹ اور اس کے نام سے مختلف طرح کی نذر و نیاز کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ یہ عقیدہ ہے کہ بھوت نذر و نیاز سے خوش ہوتا ہے اور لوگوں کے کام میں معاونت کرتا ہے، لیکن اگراس کی پوجا پاٹ نہ کی جائے تو وہ ناراض ہو کر مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے حالات سے نجات پانے کے لیے پنڈت یا اوجھا سے رجوع کیا جاتا ہے، جو مخصوص منتر و عملیات کے ذریعے بھوت کی سرکشی کو قابو میں لاتا ہے۔
بنگالی لوک کہانیوں میں بھوت کا کردار دلچسپی اور تنوع کا حامل رہا ہے۔ یہ کردار مثبت و منفی دونوں روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق، بھوت ہمیشہ اندھیرے، موت اور خوف کے جذبات سے جڑا ہوتا ہے۔ جب بھی بھوت کا ذکر ہوتا ہے تو لوگوں کی توقع ہوتی ہے کہ وہ ایک خوفناک مخلوق ہوگی، جس کے لمبے ناخن، لمبے بال، خوفناک شکل اور رات کے اندھیروں میں نظر آنے والے روپ سے خوف پھیلانے کی خصوصیت ہو گی، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگالی لوک کہانیوں میں بھوت کا کردار صرف ڈرانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے معاشرتی تعلیمات، ثقافت، عقائد اور تفریح کے پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔
زیر بحث کہانیوں میں بھوتوں کی مختلف اقسام شامل ہیں، جیسے بر ہمدیت، پٹانی یا کمپنی، ڈائنی، راکشش، نیل کمل ،لال کمل وغیرہ، جو اپنی مخصوص خصوصیات اور کردار کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ کردار نہ صرف بچوں اور بڑوں کو محظوظ کرتے ہیں بلکہ ایک خاص تہذیبی ورثے کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
Rev.Lal Behari Dayکے کہانیوں کا مجموعہ’ بنگال کی لوک کہانیاں‘ میں شامل ’ برہمدیت ‘ کی کہانی اس کہانی میں بھوت ایک برہمدیت ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب برہمن اپنی بیوی کے ساتھ انتہائی پریشانی کی زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اتنا غریب تھا کہ انھیں دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ہوتا، نہ زمین یا فصل۔ روزانہ در در جا کر بھیک مانگتا اور کچھ چاول اور سبز پتوں سے گزارہ کرتا تھا۔
ایک دن گاؤں کا مالک بدل گیا۔ نیا زمیں دار اعلان کرتا ہے کہ جو کوئی رات کو گاؤں کے باہر واقع پراسرار برگد کے درخت سے ایک شاخ کاٹ کر لے آئے گا، اسے سو بیگھا بغیر کراے کی زمین انعام دی جائے گی۔ بہت سے لوگ خوف سے ہچکچائے، کیوںکہ پہلے بھی کئی لوگوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی اور اپنی جانیں گنوا چکے تھے۔غریب برہمن نے اپنی حالت دیکھ کر چیلنج قبول کر لیا۔ برہمن کے لیے بہتر زندگی کا یہی واحد موقع تھا -وہ بغیر کسی خوف کے نکل پڑا اور واکولہ درخت تک پہنچ گیا جہاں ایک مہربان اورطاقتوربرہمدیت سے اس کی ملاقات ہوئی، جو انسانوں کی دنیا اور روحانی دنیا کے درمیان پل کی مانندتھا۔ برہمدیت نے برہمن کی مددکرنے کی پیشکش کی۔ جب برہمن برگد کے درخت کی شاخ کاٹنے لگا، توسیکڑوں خوفناک بھوت امڈ آئے، لیکن برہمدیت کے حکم پر وہ سب بھوت نہ صرف برہمن کو نقصان نہ پہنچاسکے بلکہ خود شاخ کاٹ کر برہمن کے ہاتھ میں دے دی۔تاکہ اس کو انعام مل جائے اور غربت دور ہوجائے۔
اگلی صبح واپسی پر برہمن کو ہاتھ میں برگد کی شاخ لیے زندہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ زمیں دار نے خود جا کر شاخ کی تصدیق کی اور یقین کر کے برہمن کو مستقل بغیر کرایے کی سو بیگھا زمین عطا کر دی۔ برہمن کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا،البتہ جو زمینیں دی گئی تھیں، وہ ایک خوبصورتی سے لہراتا ہوا سنہری دھان، جو مکمل طور پر کٹنے کو تیار تھا، لیکن برہمن کے پاس نہ مزدور تھے، نہ وسائل کہ وہ اس سنہری دھان کو کاٹ سکے۔ اس مشکل وقت میں پھر اس کا مددگار برہمدیت سامنے آتا ہے۔ اس نے برہمن سے کہا کہ گاؤں کے لوگوں سے سو درانتی ادھار لے کر واکولا درخت کے نیچے رکھ دو۔ رات کے وقت برہمدیت نے سو بھوتوں کو حکم دیا کہ وہ کام سنبھالیں۔ یہ بھوت اتنی تیز رفتاری سے فصل کاٹتے، دھان کے سنہری تنے زمین پر گر جاتے، پھر ان کو اٹھا کر برہمن کے گھر لے جاتے، جہاں اناج اور تنکا الگ کیا جاتا اور گودام میں ترتیب سے محفوظ کیا جاتا۔
صبح کے وقت برہمن اور اس کی بیوی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ سنہری دھان سے بھرا گودام اور خوبصورت ریکس ان کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ گاؤں کے لوگ حیرت سے اسے خداؤں کی کرامت سمجھ بیٹھے۔بعد ازاں برہمن نے اپنی سخاوت سے ایک ہزار برہمنوں کے لیے بھوج کا اہتمام کرنا چاہا۔ برہمدیت کی عنایت سے ایک دن میں تمام ضروری اشیا مکمل ہو گئیں: ایک سو برتن گھی، آٹے کے بڑے ڈھیر، ایک سو برتن شکر، دودھ، دہی اور ہزاروں دیگر اشیا۔ اگلی صبح ایک ہزار برہمنوں نے شاندار طریقے سے کھاناکھایا، لیکن خود برہمن نے کچھ نہ کھایا، کیوںکہ برہمدیت نے بتایا کہ اس کی مختص مدد برہمن کی اچھی خدمت کر کے وقت مکمل ہو چکا ہے اور اسے آسمانی پوشپاک گاڑی سے واپس بلایا جا چکا ہے۔ یوں برہمدیت آسمان کی طرف روانہ ہوجاتاہے اور برہمن خوشحالی کی زندگی گزارنے لگتاہے۔ اپنی زمین پر محنت کی، نسلوں کو پروایا اور سکون و اطمینان سے زندگی گزاری۔ ایک بھوت کا ایک غریب کی مدد کے لیے بہترین خدمات انجام دینے کا خیال نہ صرف ایک برہمادیتیہ کے لیے ترس اور احترام کو جنم دیتا ہے بلکہ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اچھی چیز یں آخر کار محنت اور قسمت پر پڑتی ہیں۔
دوسری کہانی Dakshinaranjan Mitra Majumdar کی تصنیف ’ٹھاکرمار جھولی‘ میں شامل کہانی ’نیل کمل اور لال کمل‘ ایک دلچسپ اور عبرت آموز داستان ہے۔ اس کہانی میں بھوت ایک ڈائنی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، جسے راکشسی رانی جو راجہ کی دوسری بیوی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔عام طور پر بنگال کے دیہاتوں میں ’ڈائنی‘ سے مراد وہ ہوشیار بوڑھی خواتین ہوتی ہیں جو کالا جادو یا دیگر مافوق الفطرت صلاحیتوں کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔ مقامی عقیدے کے مطابق یہ ڈائنی سو سال تک زندہ رہنے کے لیے بچوں کو اغوا کرتی ہیں، انھیں قتل کر کے ان کا خون چوس لیتی ہیں۔ یہی تشویشناک تصور ڈاکشن رنجن مترا نے اپنی تحریر میں نہایت دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔یہ کہانی ایک بادشاہ کی ہے جس کی دو بیویاں تھیں۔ ایک نیک اور مہربان انسانی رانی اور دوسری چالاک راکشسی رانی، جس کی اصلیت پوشیدہ تھی انسانی رانی کا بیٹا کسم تھا اور راکشسی رانی کا بیٹا اجیت۔ اجیت اور کسم بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے قریب رہتے گہرے دوست کی مانند تھے۔اورایک دوسرے کو گرم جوشی سے گلے لگاتے تھے لیکن راکشسی رانی اپنے سوتن کے بیٹے کسم سے حسدکرتی تھی اور اسے کھانے کی خواہش رکھتی تھی۔کیوںکہ اسے انسانی گوشت کھانے کی عادت تھی۔ لیکن اس کا اپنا بیٹا اجیت کبھی کسم کا ساتھ نہ چھوڑ تا۔ راکشسی رانی کے شیطانی منصوبوں کو ناکام بناتے۔ غصے میں اس کے دانت کٹکٹاتے اس کی روح تاریک خواہشات سے کانپتی تھی۔
ایک دن جب راکشسی رانی کسم کو کھانے میں کا میاب ہوگئیں، رانی خوشی سے قہقہے لگاتی رہی۔ اجیت کی نیندکھلی۔ اس کا دل رات کے زہر سے بھاری تھا۔ میرا بھائی کہاں ہے؟ وہ چیخا گھبراہٹ میں اٹھتے ہوئے اس نے دیکھا کہ کمرے میں افراتفری ہے رانی کے کنگن اور پازیب شیطانی طور پر بج رہے ہیں۔ راکشسی رانی کسم کو کھا رہا تھا۔ اجیت کا جسم کانپ اٹھا اس کی آنکھیں دہشت سے دھند لا گئیں۔ وہ آگے بڑھا اور راکشسی رانی کے سر پر وار کیا ’ آہ آہ‘ کی چیخ کے ساتھ راکشسی رانی گھوما اور رانی نے محسوس کیا کہ اس کا اپنا بیٹا اس کا دشمن بن گیا اپنے جلتے غصے میں اس نے ممتا کا احساس کھو دیا اور اپنے بیٹے اجیت کو کھا لیا۔ اسے چبا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، لیکن وہ اسے ہضم نہ کرسکے۔ اس کے گلے سے لوہے کی گیند نکل آئی جو انڈے کی شکل میں تھی رانی نے لڑکھڑاتی ہوئی لوہے کی گیند اٹھائی اور بھاگ گئی۔ ندی کے کنارے لوہے کی گیند کو بانس جھاڑیوں میں دفن کیا ایک بے جان راکشسی رانی بن کر واپس آئی۔ندی کے کنارے، بانس جھاڑ ہوا میں لہراتا تھا۔ ایک کسان بانس کاٹ رہا تھااور اس جھاڑ کے اندر کسان نے دو بڑے انڈے دیکھے، جو نہ کسی سانپ کے تھے اور نہ کسی جانور کے۔ خوفزدہ ہو کراس نے انڈوں کو پھینک دیا، لیکن انڈے ٹوٹے اور دو شہزادے سامنے آئے: لال کمل (کسم کی دوبارہ پیدائش) اور نیل کمل (اجیت کی دوبارہ پیدائش)۔ دونوں نے خوبصورت لباس پہنا اور تلواریں تھامیں، اور اپنی سلطنت کو راکشسیوں کے ظلم سے آزاد کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔
شہزادوں نے راکشسی رانی کے قلعے تک پہنچ کر اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے شیطانی مخلوقات کو شکست دی، راکشسی رانی کے قلعے میں داخل ہوئے اور آخرکار نیل کمل نے راکشسی رانی کا سر قلم کر کے بادشاہ کی بیماری اور سلطنت پر لعنت ختم کی۔بادشاہ کو اپنے بیٹوں کی اصلیت معلوم ہوئی۔ نیل کمل اور لال کمل نے سلطنت کو دوبارہ خوشحال اور طاقتور بنایا۔ دونوں شہزادے اپنی بہادرانہ خدمات کے ذریعے تاریخ میں امر ہو گئے۔ یہ بنگالی کہانیوں میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ ہیرو بچے ہیں اور پھربھی کسی نہ کسی طرح ان کی بہادری بے مثال ہے۔
بچے فنتاسی کی دنیا میں رہتے ہیں، جو بالغوں کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس خیالی دنیا میں بھوت، جن، پریت، کا کردار لازمی ہوتے ہیں اور بچے انہی خوفناک کہانیوں کے ذریعے اپنے تخیل کی پرواز کرتے ہیں۔ وہ خوف زدہ ہونا پسند کرتے ہیں، بشرطیکہ بزرگ ان کے لیے حفاظتی جال بچھا کر انھیں تحفظ فراہم کریں۔بھوت اور دیگر خوفناک عناصر بچوں کو نہ صرف ڈر کا تجربہ دیتے ہیں بلکہ زندگی کے مشکل حالات اور ان سے نمٹنے کے طریقے سیکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ کہانیاں بچوں کو یہ سمجھاتی ہیں کہ دنیا ہمیشہ اچھائی اور برائی کا مرکب ہوتی ہے اور اچھائی کی جیت یقیناً ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ کہانیاں زندگی کے اتار چڑھاؤ اور چیلنجز کو قبول کرنے کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔بنگالی لوک کہانیاں، جیسے’برہمدیت‘کی کہانی اور’نیل کمل اور لال کمل‘کی کہانی بچوں کو ان کے آباؤ اجداد کی ثقافت اور ورثے سے روشناس کراتی ہیں۔ وہ نسل در نسل منتقل ہونے والی دانائی، بہادری اور سبق آموز موضوعات کی حامل ہوتی ہیں۔ مثلاً نیل کمل اور لال کمل کی کہانی میں دوستوں، بھائی چارے اور نیک و برے کے درمیان جدوجہد کے اصول واضح ہیں، جو بچوںکے اخلاقی شعور کو بڑھاتے ہیں۔یہ کہانیاں آج بھی بچوں اور بڑوں میں مقبول ہیں کیوںکہ ان میں دلچسپ کردار، شاندار بہادری اور سبق آموز موضوعات شامل ہیں جو ہر نسل کو محظوظ اور تعلیم یافتہ کرتے ہیں۔ لوک کہانیاں نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنے ثقافتی ورثے کی حفاظت اور آگے بڑھانے کی تلقین بھی کرتی ہیں۔
ہم کہہ سکتے ہیں لوک کہانیاں کسی بھی خطے کی ہو ںوہاں کی زبان کے علاوہ وہاں کی تہذیب وثقافت کی ترجمان ہوتی ہیں۔سماجی اورمعاشرتی انفرادیت ہوتی ہے ۔ ایسی کتنی ہی لوک کہانیاں ہیں جو بنگلہ زبان میںہیںاسے صرف اردوزبان وتہذیب اور اردو داں طبقے تک رسائی کے لیے کوشش کرنا بہترین کوشش ہوگی۔اردوزبان کے دامن میں ایک اورخطے کی تہذیب وثقافت کا اضافہ ہوگا ۔

حواشی
1 ہماری لوک کہانیاں، پریم پال اشک ، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی 1991
2 ٹھاکر مار جھولی ،دکشنا رنجن مترا مجمدار، 1907ـص: (http://dhakeshwari.com/thakurmarjhuli.) 121
3 FolkTales of Bangal by Rev.Lal Bihari. Macmilan,and Co-limited, st.Martins.StreetLondon,1912,Page NO:192

Salman Farsi
Scholar: Center for Urdu Culture Studies
Boys: Hostal 04/ Room No : 07
Maulana Azad National Urdu University
Hyderabad (T.S.) 500032
Mob: 8297868804
Email: Sfarsi08@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

جمیل مظہری کی شاعرانہ خصوصیات، مضمون نگار: اسلم رحمانی

اردو دنیا، مارچ 2025 جمیل مظہری (2ستمبر1904، 23جولائی 1979) کا نام اردوشاعری میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ وہ باکمال شاعر تھے۔ان کی شاعری معنی آفرینی،جدت طرازی اورمتنوع مضامین کا احاطہ کرتی

دلت ادب اور پریم چند ، مضمون نگار: نامور سنگھ، مترجم، شیوپرکاش

اردو دنیا،نومبر 2025 پریم چند کے سیاق میں دلتوں کے مسائل پر بحث ہوتی رہی ہے، آج بھی ہورہی ہے۔ لیکن دلت ادب کے سیاق و سباق میں پریم چند

مصنوعی ذہانت اور تخلیقی ادب،مضمون نگار: جاوید احمد شاہ

اردودنیا،فروری 2026: دورحاضر میں انسان بے انتہا ترقی کر چکا ہے۔ ابھی معلوم نہیں اس کی پرواز کہاں تک ہو گی۔ روز بروز سائنس انسان کی رہنمائی کرتا ہوا نظر