مصنوعی ذہانت اور تخلیقی ادب،مضمون نگار: جاوید احمد شاہ

February 4, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

دورحاضر میں انسان بے انتہا ترقی کر چکا ہے۔ ابھی معلوم نہیں اس کی پرواز کہاں تک ہو گی۔ روز بروز سائنس انسان کی رہنمائی کرتا ہوا نظر آتا ہے جس کی بدولت زندگی کے ہر شعبے میں معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ دور کو مصنوعی ذہانت Artificial Intelligenceکے دور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت دراصل ڈیٹا + الگورتھم + کمپیوٹنگ پاور کا مجموعہ ہے جس کے ذریعے مشینیں ’’ذہانت‘‘ جیسا عمل انجام دیتی ہیں۔ آسان الفاظ میں مصنوعی ذہانت وہ صلاحیت ہے جو مشینوں کو سوچنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور سیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی برق رفتار پیش رفت نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے مسلسل ارتقا نے نہ صرف ہمارے تخلیقی اظہار بلکہ زبان کی تشکیل اور متن کی تفہیم کے طریقوں میں بھی بنیادی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں بڑے لسانی ماڈلز (Large Language Models) پر مبنی AI—خصوصاً GPT-4، DEEP SEEK,GROK, GEMINI, Perplexity اور ان کے جدید تر ورژنزنے زبان کے تجزیے، فہم اور تخلیق کے میدان میں ایسے امکانات روشن کیے ہیں جنھوں نے انسان اور متن کے باہمی رشتے کو ایک نئی جہت عطاکی ہے۔ یہ جدید ماڈلز انسانی اسلوب، ساخت اور تخلیقی منطق تک کی تقلید کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انسانی ہدایات اور ڈیٹا کے امتزاج سے یہ ایسے متون تخلیق کر سکتے ہیں جو نہ صرف معنی کے اعتبار سے سنجیدہ ہوتے ہیں بلکہ اظہار و بیان میں بھی انسان کی تحریرکے قریب محسوس ہوتے ہیں۔ جب ٹیکنالوجی رفتارکے ساتھ ترقی کر رہی ہو تو لازم ہو جاتا ہے کہ ہم ادب، تخلیق اور تحریر سے وابستہ تمام شعبوں کو نئی نظر سے پرکھیں اور دوبارہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ جس طرح صنعتی انقلاب نے زندگی کے مادی خدوخال کو نئی شکل دی تھی، اسی طرح مصنوعی ذہانت بھی ادب اور زبان کے دامن میں ایک ایسے غیر محسوس مگر طاقتور انقلاب کو پروان چڑھا رہی ہے جو آنے والے زمانوں کا رخ بدل سکتا ہے۔ بڑا لسانی ماڈل دراصل ایک ایسا خود بہ خود چلنے والا نظام ہے جو دنیا بھر کے متون کو پڑھ کر، اُن کا تجزیہ کرکے اور ڈیپ لرننگDeep Learning کی مدد سے اُن کے نظام کو سمجھ کر مسلسل نیا متن تخلیق کرتا رہتا ہے۔ فہم اور تخلیق کے اسی مسلسل تبادلے میں یہ ماڈلز انسانی تحریر کی باریکیوں، آہنگ اور ساخت کو اس طرح سمیٹ لیتے ہیں کہ قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی حساس اور تجربہ کار ادیب کو پڑھ رہے ہیں۔ الفاظ کی نشست و برخاست، جملوں کی ساخت اور انداز ِ بیان اس قدر شفاف اور واضح ہوتا ہے کہ یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ سب ایک مشین کی تخلیق ہے۔
بڑے لسانی ماڈلز میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ’’ڈیپ لرننگ‘‘ کے ذریعے زبان سازی کا جو طریقۂ کار اپنایا جاتا ہے وہ ہر ماڈل میں مختلف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جیسا مقصد رکھنے کے باوجود ان ماڈلز کے نتائج میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر (Generative Pre-Trained Transformer )GPT ماڈل کو دیکھیں۔ یہ ایک ایسا تربیت یافتہ لسانی ماڈل ہے جو الفاظ کو باہمی ربط کے ساتھ سلسلہ وار جوڑ کر متن تخلیق کرتا ہے۔ نیا لفظ چننے سے پہلے یہ نہ صرف پچھلے لفظ کو دیکھتا ہے بلکہ اس کے پورے میکانزم —جملے، اقتباس اور موضوع—کو بھی پرکھتا ہے، پھر ممکنہ نتائج میں سے سب سے موزوں لفظ منتخب کرتا ہے۔اگر صارف کوئی خاص ہدایت دے دے، مثلاً یہ کہ جملے میں خوشحال زندگی کا تصور لازماً شامل ہو، تو ماڈل غیرضروری نتائج کو الگ کر دیتا ہے اور وہی الفاظ منتخب کرتا ہے جو مطلوبہ موضوع سے میل رکھتے ہوں، جیسے: ’’آرام و سکون کی زندگی‘‘ یا اس سے ملتی جلتی تراکیب۔
جب آپ کسی مصنوعی ماڈل کو کوئی سوال یا پرامپٹ بھیجتے ہیں، تو یہ پہلے آپ کے انپٹ کا تجزیہ کرتا ہے، مطلب جاننے کی کوشش کرتا ہے، پس منظر سمجھتا ہے اور جذبات یا انداز (tone) کی پہچان بھی کرسکتاہے۔اس کے بعدڈیٹااورریئل-ٹائم معلومات (Real Time Information) کو ملا کر مناسب اور معنی خیز جواب تیار کرتا ہے۔ بڑے لسانی ماڈلز کے بارے میں عام غلط فہمی یہ ہے کہ وہ زبان کو انسان کی طرح سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس فہم (Understanding) نہیں ہوتی—صرف محاسباتی اندازہ سازی (Statistical Prediction) ہوتی ہے۔ یعنی یہ معنی نہیں سمجھتا، صرف پیٹرن اورسابقہ ڈیٹا کے ذریعے متوقع جواب تخلیق کرتاہے۔انسان کی طرح ادراک، بصیرت، وجدان، احساس اورداخلی آگہی سے یہ جواب نہیں خلق کر سکتا ہے۔چونکہ یہ ماڈلز انسانی اسلوب و بیان کے داخلی آہنگ کو اس درجہ سمجھنے اور برتنے لگے ہیں کہ ان کی تخلیق کردہ نثر و نظم اکثر انسانی تحریر لگنے لگی ہے، اس لیے مستقبل کی ادبی دنیا—جہاں افسانہ، شاعری، تحقیق اور صحافت سب شامل ہیں ایک بڑی تبدیلی کی طرف رواں دواں ہے۔ ان ماڈلز کی تیز رفتار ترقی نے یہ سوال اور بھی پیچیدہ کر دیا ہے کہ آنے والے دور میں اصل تخلیق کار کون ہوگا؟ انسان یا مصنوعی ذہانت؟ اور کیا یہ نئی صورت ادب کے لیے ایسے طرزِ اظہار کو جنم دے گی جو آج تک ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا؟
مصنوعی ذہانت کے پس منظر میں’’تخلیقی انہدام‘‘ کی اصطلاح بھی رائج ہے۔’’تخلیقی انہدام‘‘ (Creative Destruction) وہ عمل ہے جس میں نئی ٹیکنالوجی پرانے ڈھانچوں کو توڑ کر نئے نظام فکر کی راہ ہموار کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اس وقت ٹھیک اسی مرحلے پر کھڑی ہے۔اس کے ذریعے ’’ایڈیٹنگ، پروف ریڈنگ اور اسکرپٹ رائٹنگ مکمل طور پر خودکار ہو سکتی ہے‘‘،نئے ادبی اسالیب اور نئی تخلیقی اصناف جنم لے سکتی ہیں۔ اگرچہ انسانی جذبات، احساسات، تجربات اور بصیرت کی جگہ مکمل طور پر کوئی مشین نہیں لے سکتی، لیکن ٹیکنالوجی کی تیز رفتاری کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ آنے والے سالوں میں فن تخلیق نئے روپ اور غیر متوقع تبدیلی سے گزرے گا۔
مصنوعی ذہانت کے پس منظر میں ایک سوال ذہن میں آرہا ہے کہ کیا مشین کی تخلیق واقعی تخلیق ہے؟
یہ سوال عصر حاضر کی ادبی تنقید کے بنیادی مباحث میں شامل ہو چکا ہے کہ اگر مشین ایسا متن تخلیق کرے جس میں بیانیہ،ساخت،اسلوب، جذبات اور فکر سب کچھ موجود ہو تو کیااسے ’’تخلیق‘‘ کہا جا سکتا ہے؟ کئی محققین کے مطابق یہ متن محض سابقہ تحریروں کی نقل سازی ہے، یعنی ظاہری طور پر تخلیق جیسی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے اندر وہ باطنی جوہر اور تخلیقی روح موجود نہیں ہوتی جو انسانی اظہار کو معنویت بخشتی ہے۔ مگر اس کے باوجود عام قاری کے لیے انسانی اور مشینی متن میں فرق کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے اور یہی ادبی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
ادب کا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ مصنف کون ہے؟مصنوعی ذہانت کے دور میں یہ سوال مزید پیچیدہ ہو چکا ہے:
• کیا مصنف وہ ہے جس نے ہدایت دی؟
• یا وہ ماڈل جس نے الفاظ جوڑے؟
• یا وہ لاکھوں مصنفین جن کی تحریروں سے یہ نظام بنا؟
مصنوعی ذہانت نے اگرچہ انسانی دنیا کے بے شمار در وا کیے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی تخلیقیت کے مستقبل پر ایک سنجیدہ سوال بھی کھڑا کردیا ہے۔ تخلیق کا اصل سرچشمہ تو انسانی دل کی وہ دھڑکن ہے جس میں لطافت احساس، تجربہ، مشاہدے کی تنویر اور روح کے تپتے ہوئے کرب کی تمازت شامل ہوتی ہے۔ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیںجنھیں نہ کوئی حسابی فارمولا گرفت میں لے سکتا ہے اور نہ کوئی الگورتھم ان کی لطافت کا ادراک کر سکتا ہے۔جب ہر خیال اور ہر اسلوب پلک جھپکتے میں کسی مشینی ذہانت کے ذریعے تراش کر سامنے رکھ دیا جائے، تو انسانی ذہن کی وہ محنت، ریاضت اور باطنی کشمکش جو حقیقی فن کا زادراہ ہوا کرتی ہے آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتی ہے۔ یوں گماں ہوتا ہے جیسے خودکار مشینیں ہماری جگہ محسوس کرنے، سوچنے اور خلق کرنے لگی ہیں اور انسان کا وہ مخصوص تخلیقی جوہر، جو صدیوں سے ادب و فن کی آبرو رہا ہے، دھیرے دھیرے تحلیل ہو رہا ہے۔
تخلیقیت کا حسن دراصل اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب مشین انسان کی رفیق کار ہو، اس کا قائم مقام نہ بن جائے۔ ورنہ اظہار کے افق پر ایک ایسی کاری ضرب لگ جائے گی جو انسانی روح اور احساس کے تنوع کو دھندلا دے گی اور یوں انسان کے اندر کا وہ نازک، روشن چراغ جو تخلیق کی اصل پہچان ہے بجھنے لگے گا۔
مصنوعی ذہانت اگرچہ ادبی دنیا کے در و دیوار کو نئے امکانات سے روشن کرتی ہے، مگر اس کی فکری اور ثقافتی کمزوریاں بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔ بڑے لسانی ماڈلز کی بنیاد اس مواد پر استوار ہوتی ہے جس سے انھیں تربیت دی جاتی ہے اور یہ مواد خود زبانوں اور ثقافتوں کے مابین طاقت کے غیر مساوی توازن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہی عدم مساوات آخرکار ان ماڈلز کی ادبی اور لسانی تخلیقات میں بھی اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔اس تناظر میں غالب زبانیںخصوصاً انگریزی مزید قوت و مرکزیت حاصل کرتی ہیں، جب کہ کمزور، مقامی اور حاشیے کی زبانیں ایک خاموش معدومیت کی طرف بڑھنے لگتی ہیں۔ یہ عمل محض زبان کی سطح تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات اُن مخصوص ثقافتی ورثوں، لوک روایات اور جمالیاتی قدروں تک پھیل جاتے ہیں جو کسی تہذیب کی تخلیقی شناخت کا بنیادی حصہ ہوتی ہیں۔ مشینی نظاموںمیں شمولیت کے پیمانے اکثر انھیں ثقافتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو عالمی ڈیٹا میں عددی طورپرزیادہ نمایاںہیں، نتیجتاً کم معروف یا مقامی ثقافتی عناصر پس پشت چلے جاتے ہیں۔
یہ صورت حال مستقبل میں ادبی نوآبادیات (Literary Neocolonialism) کی ایک نئی شکل کو جنم دے سکتی ہے ۔ایسی نوآبادیات جو سیاسی و جغرافیائی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل اور لسانی بالادستی کے اصولوں پر قائم ہوگی۔ اس نئی نوآبادیاتی فضا میں بیانیے، کردار، جمالیات اور ثقافتی ترجیحات وہی طے کریں گے جو ڈیٹا کی دنیا میں طاقت اور مرکزیت رکھتے ہیں۔ افکار و اقدار کے اس بدلتے ہوئے تناظر میں ضروری ہے کہ انسانی تخلیقیت، ثقافتی تکثیریت اور لسانی تنوع کو مشینی نظاموں کی بلندیوں میں گم ہونے نہ دیا جائے، بلکہ انھیں ایک ایسے تنقیدی شعور کے ساتھ برتا جائے جو ادب کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ بھی رکھے اور اس کی روحانی و تہذیبی اساس کی حفاظت بھی کرتا رہے۔
مجموعی طور پر بڑے لسانی ماڈل ادبی دنیا کے لیے ایک نعمت بھی ہیں اور ایک سوال بھی۔ یہ نئے امکانات کا دروازہ بھی کھولتے ہیں اور نئے خدشات بھی جنم دیتے ہیں۔ یہ تخلیق کو سہارا بھی دیتے ہیں اور اسے چیلنج بھی کرتے ہیں۔ مستقبل کا ادب تبھی مستحکم اور معنی خیز رہے گا جب انسان اپنی تخلیقی خودمختاری کو قائم رکھتے ہوئے مشین کو صرف ایک اوزار کے طور پر استعمال کرے نہ کہ اس کے سامنے جھک جائے۔

Dr. Javaid Ahmad Shah
Assistant Professor
Department of Urdu
University of Jammu
Cell No: 7006834309
Email:drjavaid.ashah@jammuuniversity.ac.in

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو ادب وسط انیسویں صدی تک/سید احتشام حسین

تیرہویں صدی کے اختتام تک بابا فرید گنج شکر اور ہمہ گیر شاعر امیر خسرو کی نظمیں اردو ادب کی داغ بیل ڈال چکی تھیں۔ امیر خسرو کی زبان دہلی

ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی و تحقیقی کارنامے مضمون نگار: رشدہ شاہین

سیّدہ جعفرحیدر آباد کی ایک مایہ ناز علمی و ادبی شخصیت ہیں۔اُن کا شمار ہندوستان کی دانشور خواتین میں ہوتا ہے۔ وہ ایک اعلیٰ پایہ کی استاد، انشا پرداز، محقق

بنگال کی لوک کہانیوں میں بھوت اور فنتاسی کی جھلکیاں ، مضمون نگار: سلمان فارسی

اردودنیا،فروری 2026: بنگال برصغیر کی وہ سرزمین ہے جس نے ہمیشہ اہلِ نظر کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ تہذیب و تمدن کے آئینے میں اگر کسی خطے کی رنگارنگی