عشق اورنگ آبادی کی شعری جہات،مضمون نگار: کلیم احمد

February 4, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

عشق اورنگ آبادی کا نام مرزا جمال اللہ تھا۔ یہ مرزا داؤد بیگ اور نگ آبادی کے بیٹے تھے۔ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا داؤد بیگ نیک، خوش اخلاق اور باکردار انسان تھے، جن کے اخلاق و تربیت نے عشق کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا۔ ا نھوں نے ابتدائی تعلیم اورنگ آباد میںگھر پر ہی حاصل کی۔ قرآن مجید، فارسی، عربی، فقہ، حدیث، منطق اور فلسفہ کا درس لیا۔ فارسی ادب سے انھیں خاص شغف تھا اور وہ حافظ، سعدی اور رومی جیسے عظیم شعرا سے بے حد متاثر تھے۔اسی علمی پس منظر کی وجہ سے ان کی شاعری میں زبان کی شفافیت، الفاظ کا حسن اور معنوی گہرائی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ عشق نے شاعری سامی اورنگ آبادی کی رہنمائی میں سیکھی اور جلد ہی اہلِ علم میں اپنی پہچان بنا لی۔ انھوں نے احسن تخلص اختیار کیا۔(دکن دیس کی پیش رو غزلیں،اسلم مرزا،ص175) ناچیز کو ان کی ایسی غزلیں دستیاب نہ ہو سکیں جن میں احسن تخلص اختیار کیا ہو۔انھیں باقاعدہ رسمی تعلیم حاصل کرنے کا زیادہ موقع تو نہیں ملا، مگر ان کی ذہانت، فطری گہرائی اور اردو و فارسی زبان کی شیرینی نے انھیں کم عمری میں ہی سخن گوئی کی طرف مائل کر دیا۔ اورنگ آباد کی علمی و ادبی فضا ان کی ذہنی نشوونما کے لیے بے حد سازگار ثابت ہوئی۔
جب نواب نظام علی خان آصف جاہ ثانی نے اورنگ آباد سے اپنا در بار حیدرآباد منتقل کیا تو یہ بھی تلاش معاش میں حیدر آباد پہنچے۔ وہاں سید عبدالولی عزلت سورتی کے شاگرد ہو گئے اور عشق تخلص اپنایا۔ ان کا دیوان محمد اکبر الدین صدیقی نے مرتب کر کے 1960میں ادارہ ادبیات اردو، حیدر آباد سے شائع کیا۔ عشق کا انتقال 1195 ھ مطابق1780 میں حیدر آباد میں ہوا۔
عشق اورنگ آبادی کا زمانہ اردو شاعری کے ارتقا کا اہم دور تھا۔ اس وقت اورنگ آبادکاماحول صوفیانہ تھا۔ شمالی ہند میں ولی دکنی کی شاعری نے اردو کو نئی سمت دی، جبکہ دکن میں اردو غزل ایک مضبوط روایت بن چکی تھی۔ اورنگ آباد میں اس وقت مشاعروں کی محفلیں گرم رہتیں اورعلما،مشائخ وشعرا کی محفلیں جگہ جگہ سجتی تھیں۔ جہاں شعرا اپنا کلام پیش کرتے اور ایک دوسرے سے اصلاح لیتے۔ انھیں محفلوں میں عشق نے زبان و بیان کی نزاکتیں، شاعری کا ذوق، اور روحانی شعور حاصل کیا۔ ان کی علمی تربیت میں شہر کے بزرگ علما اور صوفیاکا نمایاں کردار رہا۔عشق کے کلام میں صوفیانہ لطافت اور فکری اعتدال واضح ہے۔ انھوں نے سید عبداللہ موسوی جیسے معتبر علما سے بھی استفادہ کیا اور اس دور کے مشاعروں کا حصہ رہے۔ یہی تربیت بعد میں ان کے کلام کا بنیادی جوہر بنی۔ اس ادبی ماحول نے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔
عشق نے شاعری کی ابتدا فارسی زبان میں کی مگر بعد میں اردو کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ اس زمانے میں اردو کو عوامی زبان کی حیثیت حاصل ہو رہی تھی، اسی لیے انھوں نے اردو میں شاعری کر کے اسے فروغ دیا۔رفتہ رفتہ ان کی غزلیں مشہور ہونے لگیں اور وہ ایک قادرالکلام شاعرکے طورپرگنے جانے لگے۔ ان کی شاعری میں جذبات کی شدت کے ساتھ فکری گہرائی بھی پائی جاتی ہے۔
عشق کی اصل پہچان غزل سے ہے۔ ان کی غزلوں میں عشق، درد، سوز، تصوف اور انسانی احساسات کا امتزاج ملتا ہے۔ ان کے اشعار میں روانی، نرمی اور سچائی پائی جاتی ہے۔عشق کی غزلیں نہ صرف جذباتی کیفیت کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کردیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں دکنی اردو کے ممتاز غزل گو شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔
عشق اورنگ آبادی نے سادگی، خلوص، درویشانہ مزاج اور روحانی رجحان کے ساتھ اپنی شاعری کو ایک منفرد رخ عطا کیا۔ وہ اٹھارہویں صدی کے ادبی ماحول سے تعلق رکھتے تھے، جب اورنگ آباد دکن میں علمی، ادبی اور صوفیانہ سرگرمیوں کا عروج تھا۔ عشق کا کلام اسی تہذیبی و روحانی فضا کا عکاس ہے۔ عشق کا جھکاؤ ابتدا ہی سے صوفیانہ ماحول کی طرف تھا۔ ان کے شہر میں خانقاہیں، علما کی مجالس اور صوفیاکی محفلیں عام تھیں، جن میں شریک ہوکر انھوں نے نہ صرف دین و اخلاق کی بنیادی تعلیمات سیکھیں بلکہ دل کی لطافت اورروحانی فکر بھی حاصل کی۔ عشق نے سید عبداللہ موسوی جیسے اہلِ علم سے بھی استفادہ کیا، جنھوں نے ان کے فکری اور اخلاقی شعور کی بنیادیں مضبوط کیں۔روحانی عنصر ہی بعد میںان کی شاعری کی شناخت بن گیا۔
مرزا جمال اللہ عشق کی فطرت میں نرمی اور لطافت تھی۔اورنہایت سادہ طبیعت کے انسان تھے۔ وہ تصوف کی طرف مائل تھے اور دنیا کی ظاہری چمک دمک سے زیادہ روحانی سکون کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کی زندگی میں عاجزی، قناعت اور درویشی نمایاں تھی۔وہ دولت اور شہرت کے بجائے علم، سچائی اور اخلاق کو ترجیح دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں تکبر یا بناوٹ کے بجائے سادگی اور خلوص جھلکتا ہے۔ عشق کی گفتگو میں بھی شائستگی اور علمیت نمایاں تھی۔ انھوں نے لفظ’عشق‘کو محض جذبہ یا دنیاوی واردات کے طور پر نہیں لیا بلکہ اسے روح کی پکار، دل کی کیفیت اور بندے اور خدا کے تعلق کا لطیف تشبیہی نظام سمجھا۔ ان کی شاعری میں جو سادگی اورپرکاری نظر آتی ہے، وہ اسی باطنی تربیت کا نتیجہ ہے۔ عبد الجبار ملکاپوری اپنی کتاب’’محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن‘‘، جلد دوم میں لکھتے ہیں:
’’طبع موزوں وفکر رسا سے موصوف اورمتانت وضع ولطافت مزاج میں معروف تھا۔ خوش سلیقہ و خوش طریقہ تھا۔‘‘(محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن،جلد دوم، عبدالجبار ملکا پوری، ص،841)
عشق،لچھمی نرائن شفیق اور اسد علی خاں تمناکی طرح انعام اللہ خان یقین کے بہت مداح تھے البتہ خدا ئے سخن میرکے ذکر سے ان کا دیوان خالی نظر آتا ہے۔ انھوں نے یقین کی اتباع یہاں تک کی ہے کہ یقین کی طرح چارشعر اور پانچ شعر کی غزلیں بہت زیادہ کہی ہیں۔ اسی طرح انھوں نے یقین کے مصر عوں کی بھی تضمین کی ہے۔ اس کے علاوہ سودااور دردکی غزلوں پر بھی ان کی تضمینیں موجود ہیں۔ عزلت کے اشعار کی بھی تضمین کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یقین، سودا،درد اور عزلت کا وقار ان کی نگاہوں میں کتنا بلند ہے۔ ان شعراکے علاوہ کسی اور شاعر کا نام ان کے دیوان میں نہیں ملتا۔
عشق کی شاعری عاشقانہ مزاج بھی رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں مضامین کا تنوع نہیں،فلسفیانہ خیالات نہیں، پند و نصائح کا دفتر نہیں۔پورا دیوان مطالعہ کر جائیے ایہام گوئی، گل و بلبل اور عشق و عاشقی سے مملو نظر آئے گا۔ اس لیے یہ گمان ہوتا ہے کہ ایسے فرسودہ اور پامال مضمون میں عشقؔؔ نے کیا تیر مارا ہو گا،لیکن عشق نے ایسی فرسودگی میں بھی اپنے لیے نئی راہ نکالی۔ان کا کلام تصوف، اخلاق، محبت، خود احتسابی، درد مندی اور انسان دوستی پر مشتمل ہے۔ انھوں نے مشکل الفاظ، ثقیل تراکیب اور مبالغہ آرائی سے اجتناب کیا۔ ان کا اسلوب خالص صاف ستھرا اورالفاظ دل کے ترجمان ہیں۔ان کے یہاں سادگی کے باوجود معانی کی گہرائی موجود ہے۔
عشق اورنگ آبادی کی شاعری کے موضوعات:
عشق کی شاعری کے موضوعات نہایت وسیع اور گہرے ہیں، ان میں خاص طورپر اہم یہ ہیں۔
1عشق و محبت: عشق کی شاعری کا مرکزی موضوع محبت ہے۔ وہ محبت کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھتے ہیں۔ ان کے یہاں محبت صرف محبوب سے وابستگی نہیں بلکہ پوری کائنات سے لگاؤ کا نام ہے۔ان کی شاعری کا سب سے اہم موضوع عشقِ حقیقی ہے۔ وہ دنیاوی محبت کے بجائے خدا کی محبت کو اصل قرار دیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں تصوف کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ انسان کو خودی، غرور اور خواہشات سے آزاد ہو کر خدا کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
2 درد اور سوز: ان کے اشعار میں ایک درد بھری کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ درد محض ذاتی غم نہیں بلکہ انسانی دکھوں کا عکس ہے۔
3 وفا اور بے وفائی: انھوں نے وفاداری کو اعلیٰ اخلاقی وصف قرار دیا اور بے وفائی کو انسانی کمزوری کے طور پر پیش کیا۔
4 صوفیانہ خیالات: ان کی شاعری میں جگہ جگہ صوفیانہ فکر نظر آتی ہے، جہاں دنیا کی بے ثباتی اور خدا سے قربت کا ذکر ملتا ہے۔
5 جذبات انسانی: عشق نے انسانی جذبات جیسے محبت، جدائی، غم، خوشی، امید اور مایوسی کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کے اشعار میں دل کی کیفیت آسان اور سادہ انداز میں سامنے آ جاتی ہے۔
6 اخلاقیات: عشق کی شاعری میں اخلاقی تعلیمات بھی نمایاں ہیں۔ وہ سچائی، دیانت، صبر، شکر، قناعت اور عاجزی جیسے اوصاف کو انسان کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
7 دنیا کی ناپائیداری: عشق دنیا کی بے ثباتی کا بار بار ذکر کرتے ہیں۔ وہ انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہ دنیا چند روزہ ہے، اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔
مومن نے جس طرح اپنے تخلص کو با معنی طور پر استعمال کیا اور بعد کو میکش مرحوم نے خوب نباہا۔اسی طرح ہمیں عشق کے پاس بھی یہ خصوصیت نظر آتی ہے۔ مثلاًایک مقطع ہے:
آ کہ اے آرام جاں تجھ عشق نے غارت کیا
صبر و طاقت، عیش و راحت، خواب خود اور عقل و ہوش
عشق نے اپنے اس شعر میں کئی صنعتیں استعمال کی ہیں جیسے صنعت مبالغہ، صنعت تراکم،صنعت تضاد اورحسن تعلیل۔ ان صنعتوں کی وجہ سے اس شعرکا حسن اور دوبالا ہو گیا ہے۔اسی طرح ان کا کلام صبر و رضا کا درس دیتا ہے۔ ان کے نزدیک غم انسان کو بلندی عطا کرتا ہے اور عشق انسان کو پاکیزہ بناتا ہے۔ یہ مقطع ملاحظہ ہو:
رکھتا ہوں اس لیے دل سوزاں و چشم تر
جیوں شمع درد و داغ سے عشق آفریدہ ہوں
عشق کا غم بظاہر تکلیف دہ ضرور ہے،مگر سچا عاشق اس غم میں بھی ایک عجیب سی روحانی لذت محسوس کرتا ہے،یہ لذت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی، صرف وہی اسے سمجھ سکتاہے اور محسوس کرسکتاہے جو خود عشق کے درد سے گزرا ہو۔ایک قطعہ بند د یکھیے جس میں عشق نے درد ولذت غم کی کیفیت کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیاہے:
اک اہل درد ستی جا کے عشق نے پوچھا
کہ غم جو کھاتے ہیں لوگ اس میں کچھ مزا بھی ہے
کہا کہ ذائقہ غم ہے شہد سے شیریں
پر اس کو، لذت غم کا جو آشنا بھی ہے
ان اشعار میں انھوں نے عشق اور غم کے باہمی تعلق کو ایک سوال و جواب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ایک ایسا شخص جو عشق کے درد سے واقف نہیں، وہ عاشق سے پوچھتا ہے کہ لوگ جو غم کھاتے ہیں، کیا اس میں بھی کوئی مزا ہوتاہے؟ یعنی عام انسان کے نزدیک غم صرف تکلیف، دکھ اور بربادی کا نام ہے، اس میں اسے کوئی خوشی یا لذت نظر نہیں آتی۔عاشق اس کے جواب میں کہتا ہے کہ غم کا ذائقہ شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہوتا ہے،مگر یہ مٹھاس صرف اسے ہی محسوس ہو سکتی ہے جو غمِ عشق سے آشنا ہو۔
عشق نے تشبیہیں بڑی نادر اور انوکھی پیش کی ہیں۔ ولی نے معشوق کا سرا پاشعرا کے تخلص کی مناسبت سے کھینچا ہے اور ابرو کو ہلالی کہاہے عشق نے بھی اپنے مضمون کو اس سے بلند لے جانے کی کوشش کی ہے۔عشق اپنے کلام پر فخر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا ہر شعر اتنا خوبصورت ہے کہ وہ مشہور فارسی شاعر’ہلالی‘ کے دیوان سے بھی زیادہ قابل ر شک ہے۔ یعنی میرا کلام اس سے بھی اعلیٰ درجے کا ہے۔یہ شعر دیکھیے:
کیا ہوں عشق میں تعریف اس مہ رو کے ابرو کی
ہر اک مصرع ہے میرا رشک دیوان ہلالی کا
اسی طرح عشق نے آنسوؤں کے تسلسل کو قافلۂ حجاز سے تشبیہ دی ہے۔
آتے ہیں کر کے کعبۂ دل کا طواف اشک
گویا کہ قافلہ ہے یہ اہل حجاز کا
یہ تشبیہ بڑی خوبصورت ہے۔عشق نے آنسوؤں کے ذریعے دل کے گردطواف کرنے کو کعبہ کے گرد طواف کے مشابہ قرار دیاہے۔ طواف کعبہ عبادت و حبِ الٰہی کی علامت ہے۔ اسی طرح آنسوؤں کا طواف دل کی سچی توبہ، عشق اور ندامت کا اظہار ہے۔ یعنی آنسو روحانی قرب کا ذریعہ ہیں۔یہ ایک گہری صوفیانہ تشبیہ ہے جو آنسو کو عبادت کے برابر سمجھتی ہے۔اسی طرح انھوں نے آنکھ کو ایک جگہ کشتی کے مماثل قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں:
جوشِ گریہ سے مری چشم کی حالت ہے تباہ
کشتی نوح پڑی موجہ طوفان کے بیچ
گو یاسیلاب اشک طوفان نوح سے کم نہیں۔ اور یہ شعر۔
رعد ساں نعرہ کناں ابر سے گریاں ہیں ہم
آفرینش میں غرض آہ کے ساماں ہیں ہم
عشق حسنِ بیان، شیرینیِ گفتار اور محبوب کی دل نشیں گفتگو کو نہایت لطیف انداز میں بیان کرتے ہیں۔
بھرا ہے شہد کانوں میں سماعت کی حلاوت سے
کہوں کیا ذائقہ شیریں دہن کی خوش مقالی کا
عشق کہتے ہیںکہ محبوب کی میٹھی اور دل میں اتر جانے والی باتوں کی وجہ سے میرے کانوں میں گویا شہد بھر گیا ہے۔ یعنی اس کی آواز اور اس کی گفتگو اتنی لطیف، نرم اور شیریں ہے کہ سننے والا پوری طرح محظوظ ہو جاتا ہے۔’’سماعت کی حلاوت‘‘سے مراد سننے کا لطف ہے۔ یعنی محبوب کی باتوں میں ایسی کشش اور مٹھاس ہے جو کانوں کو بھی سکون بخشتی ہے اور دل کو بھی مسرور کر دیتی ہے۔عشق بیان کرتے ہیں کہ میں اس شیریں دہن محبوب کی خوش گوئی اور خوش کلامی کے ذائقے کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کر سکتا۔ یعنی اس کی باتوں کی مٹھاس بیان سے باہر ہے۔ محبوب کی گفتگو شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔اس کی آواز میں ایساجادوہے جوسننے والے کومسحورکردیتا ہے۔ بعض کیفیات ایسی ہوتی ہیںجنھیں صرف محسوس کیا جاسکتا ہے، بیان نہیں۔ معشوق کو صندلی رنگ سے مشابہ قرار دیتے ہوئے صنعت ایہام میں ایک شعرکہا ہے:
کہتے نہ تھے کہ صندلی رنگوں کو دل نہ دے
تو کھینچتا ہے عشق یہ اب درد سر کہ ہم
عشق وفاداری، خودسپردگی اور درد کی انتہا کو نہایت خوبصورت پیکر میں پیش کرتے ہیں۔
میں اس کا رنگ نکالوں گا اشکِ خونیں سے
لگی ہیں آنکھیں ترے پاؤں پر حنا بھی ہے
عشق کہتے ہیں کہ اگر محبوب کے قدموں میں حنا نہ بھی ہو، تو میں اپنے خون آلود آنسوؤں سے اس کا رنگ پیدا کر لوں گا۔ یعنی میں اپنے دل کے درد، اپنی قربانی اور اپنی جان کی قیمت دے کر بھی محبوب کی خوشی کا سامان کروں گا’’اشکِ خونیں‘‘سے مراد وہ آنسو ہیں جو شدتِ غم اور عشق کی انتہا سے خون کی طرح بہنے لگتے ہیں۔ یہ عاشق کی سچی محبت اور بے پناہ تکلیف کی علامت ہیں۔ اور ’’آنکھوں کا پاؤں پر لگنا‘‘انتہائی عاجزی، نیاز مندی اور غلامی کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا عاشق اتنا عاجز ہو چکا ہے کہ وہ محبوب کے قدموں میں اپنی بینائی، اپنی آنکھیں تک قربان کرنے کو تیار ہے۔اس شعر سے عشق یہ پیغام دیتے ہیں کہ سچی محبت میں درد بھی عبادت بن جاتا ہے عاشق اپنے خون سے بھی محبوب کو سجاتا ہے۔ عشق انسان کو انتہائی عاجزی اور قربانی کی منزل تک پہنچا دیتاہے۔ مضامین کی بے ساختہ ادائی اور جدت ملاحظہ ہو:
آتش میں سرجھکا کر ثابت ہو جل مرے ہے
اتنا سا یہ پتنگا پر دل ہے کس بلا کا
محبوب کی جدائی کا دکھ کس شاعر نے بیان نہیں کیا،عشق کہتے ہیں۔
روتا ہے ہچکیاں لے ساقی بغیر مینا
ہے ناگوار ہم کو اس تلخ مئے کا پینا
یہ شعر غم، محرومی اور محبوب کی جدائی کے درد کو نہایت لطیف اور موثر انداز میں بیان کرتا ہے۔عشق کہتے ہیں کہ ساقی (جس سے شراب ملتی تھی یا جو خوشی دینے کا ذریعہ تھا) اب خود ہچکیاں لے لے کر رو رہا ہے، کیونکہ اس کے پاس ’مینا‘یعنی شراب کا پیالہ موجود نہیں ہے۔یہاں ساقی وہ خود بھی ہو سکتے ہیں اور لفظ ’مینا‘ محبوب کی علامت کے طور پر لیا جاسکتاہے۔ اور وہ اس کڑوی شراب کو پینا ہرگز پسند نہیںکرتے۔ یہ تلخ مے دراصل غم، جدائی، تنہائی اور دکھ کی زندگی کی علامت ہے۔ عشق کی شاعری میں تشبیہات نہایت سادہ لیکن گہری ہیں۔ وہ زندگی کے روزمرہ مثالوں سے بڑے بڑے روحانی حقائق بیان کر دیتے ہیں۔ یہ شعر ملاحظہ ہو۔
گل کی چادر بن گلے لگتی ہے میری قبر کے
کیا قیامت ہے موئے پر بھی ستاتی ہے بہار
اس شعرمیں موت، فنا اور دنیا کی بے ثباتی کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ گل کی چادر سے مراد وہ پھول ہیں جو قبر پر رکھے جاتے ہیں، مگر عشق نے اسے بھی بادِ بہار کی طرح متحرک بتایا ہے، یعنی موت کے بعد بھی زندگی کا تعلق فطرت سے باقی رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گناہوں پر آنسوبہائے جائیں تو کفارہ کا کام دیتے ہیں جیسے اقبال ؔنے کہا ہے کہ عرق ِانفعال نے معصومیت کی شان پیداکردی۔عشق کاشعر ہے:
سفیدی کچھ جو تھی سو بھی مٹی ہیہات رونے سے
سیاہی نامہ اعمال کی کیا خاک دھوتے ہیں
اسی مفہوم کا ایک اور شعر ہے:
اور سیہ ترکیا یہ نامہ اعمال اپنا
عشق نے اشک ندامت ستی دھوتے دھوتے
یہ مصرعہ محاسبہ نفس اور اعمالِ صالحہ کی طرف اشارہ کرتاہے۔ ’’نامۂ اعمال‘‘ یعنی انسان کے اعمال کا ریکارڈ۔ عشق کہتے ہیں کہ وہ اپنے نامہ اعمال کو خاک سمجھتے ہیں یاان کی کرتوت سے ان کے اعمال سیاہ ہوتے جاتے ہیں۔مطلب یہ کہ اعمال کی حقیقت اور اس کا اجر و سزا انسان کی حالتِ دل پر منحصر ہے اور آنکھوں کا سوز اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے۔ تحریر پر ایک قطرہ بھی گرے تو سیاہی پھیل جاتی ہے اور سفید جگہ بھی سیاہ ہو جاتی ہے۔ اس سے زیادہ حقیقت اور واقعیت کیا ہو سکتی ہے۔غرض یہ کہ عشق کے کلام میں کسی چیز کی کمی نہیں۔
عشق کی شاعری میں منظر نگاری بھی ہے، زور بیان بھی اور محاوروں کا خوبصورت استعمال بھی مضامین کی جدت بھی ہے اور انوکھی طرز ادا بھی۔ وہ اپنے دور کے شعر امیں استاد کا درجہ رکھتے تھے۔ان کا کلام باطنی سوز، فکری اعتدال اور تہذیبی شائستگی کے باعث منفرد مقام رکھتا ہے۔ان کی شاعری میں کلاسیکی روایتوں کا رنگ غالب ہے، مگر ساتھ ہی وہ اپنے انداز بیان میں جدت بھی رکھتے ہیں، خصوصاً تشبیہات میں۔ان کا اسلوب نہایت سادہ،صاف اور دل نشیں ہے۔ ان کی زبان میںتصنع نہیں بلکہ سادگی کا حسن ہے۔ وہ کم الفاظ میں گہری بات کہنے پر قادر تھے۔ ان کا کلام عام قاری کو بھی آسانی سے اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔
ویسے تو عشق اورنگ آبادی اسد علی خاں تمنا کے معاصر تھے مگر معلوم نہیں کہ انھوں نے اپنے تذکرے’’گل عجائب‘‘ میں اس گل سرسبد کا تذکرہ کیوں نہ کیا۔ مشک اور عشق چھپ نہیں سکے۔عشق کا کلام زمانہ کی دست برد سے محفوظ رہا اور اب ان کے اشعار اردو شاعری میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔
مراجع و مصادر
1 محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن، عبد الجبارملکا پوری، جلد اول،مطبع رحمانی، حیدرآباد،سن اشاعت، 1911
2 دکنی شاعری تحقیق و تنقید۔محمد علی اثر، دائرہ الیکٹرک پریس،چھتہ بازار، حیدرآباد،سن،1988
3 دکن دیس کی پیش رو غزلیں،اسلم مرزا،:الانصار پبلی کیشنز، حیدرآباد،سن اشاعت،2016
3 چمنستان شعرا، لچھمی نرائن شفیق اورنگ آبادی، مرتب:مولوی عبدالحق،انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی، سن اشاعت،1928
4 دکنی ادب کی تاریخ، محی الدین قادری زور،ادارہ ادبیات اردو، گلبرگہ، انڈیا،سن اشاعت،1982

Kaleem Ahmad
Research Scollar
Jawahar Lal Nehru University
New Delhi
Mob: 8588008236
Email:kaleemjmi9@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

خشونت سنگھ کی فکری و ادبی معنویت،مضمون نگار: مسعود احمد

اردودنیا،فروری 2026: ادیب دنیا میں جینے کا ایک خاص طریقہ خود منتخب کرتا ہے۔وہ صرف اپنے عہد کا مشاہدہ نہیں کرتا، اپنی ذہنی اپج،فکری افتاد اور قلم کو بھی اسی

علامہ محوی صدیقی لکھنوی کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات،مضمون نگار:محمد نعمان خاں

اردو دنیا،دسمبر 2025: محمد حسین محوی صدیقی نے 15 مئی 1891 کو لکھنؤ کے ایک متوسط علمی خانوادے میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد حافظ حسین فوز عالم اور شاعر

مہدی افادی کی انفرادیت مضمون نگار: زیبا محمود

     زبان ایک ذریعہ خیال ہی نہیں بلکہ سماجی عمل بھی ہے۔ اس کی غیر معمولی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ