اردودنیا،فروری 2026:
اردوافسانے کی تاریخ میں جو گندر پال کا نام ایک منفرد اور وقیع مقام کا حامل ہے۔ افسانہ ان کے لیے محض ایک ادبی اظہار نہ تھا، بلکہ عہد کے عصری، معاشی اور نفسیاتی مسائل کو سمجھنے اور برتنے کا ایک معنوی وسیلہ تھا۔ ان کی شخصیت کی تشکیل میں ہجرت کے تجربات، طبقاتی کشمکش، متوسط طبقے کی محرومیاں، روزگار کی جدوجہد، جنگ کے اثرات اور ہندوپاک کے معاشرتی حالات نے بنیادی کردار ادا کیا۔ جوگندر پال کی ذات میں ایک طرف فنکارانہ لطافت ہے، تو دوسری طرف زندگی کو معروضی حقیقتوں کے آئینے میں دیکھنے کا حوصلہ بھی۔ یہی اوصاف ان کی شخصیت کو اردو ادب میں ایک معتبر اور جاذب مطالعہ وجود بناتے ہیں۔
جوگندر پال ستمبر 1925 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، جہاں ابتدائی تعلیم گنڈا سنگھ ہائی اسکول سے ہوئی اور پھر مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے تک کے مراحل طے کیے۔ تعلیم میں تسلسل برقرار رہا لیکن تقسیم ہند کے بعد خاندان انبالہ منتقل ہو گیا۔ والد نے وہاں دودھ کی دکان اور ڈیری فارم قائم کیا جس میں جو گندر پال نے با قاعدہ کام کیا۔ ایم اے انگلش کے طالب علم ہونے کے باوجود صبح سویرے دور دراز گاؤں سے دودھ لانا ان کی روز مرہ کی مشقت تھی۔ گھر کی معاشی صورتحال انتہائی مشکل تھی اور یہی ماحول ان کی شخصیت اور احساس ذمہ داری کو شکل دیتا چلا گیا۔ اسی دور ان ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کے ہونے والے سسرالی رشتہ دار بَر کی تلاش میں انبالہ پہنچے۔ جو گندر پال کا انتخاب بنیادی طور پر اس لیے کیا گیا کہ وہ کینیا جانے کے قابل تھے۔ حالانکہ ان کی شادی کا واقعہ اتنا سادہ نہیں، شہزاد منظر کے مضمون کے مطابق جو گندر پال خود اپنی شادی کے متعلق رقمطراز ہیں:
’’… پھر میں کینیا چلا گیا۔ وہ ایسے کہ میری ہونے والی بیوی کے ماں باپ بر کی تلاش میں انبالہ آئے ہوئے تھے۔ ہم ان کے ساتھ بر ڈھونڈتے رہے۔ برکی تلاش میں ہم نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ انھیں لڑ کا آخر مل گیا۔ وہ لڑکا میں تھا۔ انھیں میں اس لیے پسند آ گیا کہ ا نھیں ایک ایسا ضرورت مند لڑ کا چاہیے تھا جو ان کے ساتھ کینیا جاسکے۔ میں اب بھی اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ لوگ تو بیوی کی ڈولی لاتے ہیں، تم میری ڈولی لے گئی۔‘‘1؎
پروفیسر ارتضیٰ کریم کی مرتب کردہ کتاب میں جوگندرپال کی بیوی کرشنا پال تفصیل سے رقمطراز ہیں:
’’عجیب اتفاق ہے، جو گندر پال کو کیا پتہ تھا کہ جس لڑکی کے لیے وہ جی جان سے میرے بھا ئیا جی (والد) کی مدد کر رہا تھا، دس دن بعد خود اسی سے شادی کرنے پر راضی ہو جائے گا۔ 1948 میں کینیا کی اور لڑکیوں کی طرح میں بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک پڑھا لکھا نوجوان امپورٹ کرنے نیروبی سے پہلی بار بھارت آ دھمکی۔ انبالہ کینٹ سے ایک لیکچرار کا خط پا کر میرے بھا ئیا جی بڑی امید سے انبالہ شہر اپنے ایک رشتہ دار کے یہاں جاپہنچے، جہاں ان کے بیٹے جو گندر پال کو اس لیکچرار سے ملوانے کا ذمہ سونپا گیا۔ پال نے کڑی دھوپ میں پورا دن بڑی کوشش کی اس نوجوان کو ڈھونڈ کر بھائیا جی سے ملوانے کی لیکن پتہ چلا کہ وہ ایک Fake لیٹر تھا۔ پال کے بھائی کے پر خلوص اطوار نے بھا ئیا جی کو بڑا متاثر کیا۔ چنانچہ دلی لوٹتے ہی انھوں نے فیصلہ کیا کہ پال کوہی کیوں نہ ٹٹولا جائے۔ تیسرے دن ہی ہم تینوں پھر پہنچ گئے انبالہ شہر تندورواں والی گلی میں، ایک ٹوٹے پھوٹے گھر میں، جہاں دودھ سے بھرے کئی ٹب اور کین ادھر ادھر پڑے تھے، جن پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ پال بنیان اورلنگی میں پیروں میں ربڑ کا سلیپر اٹکائے، سائیکل پر تقریباً چار کین لٹکائے، پسینے میں ترا لجھے بالوں سے جب شام کو گھر لوٹے تو بہن نے شرارت سے مہمانوں کے بارے میں بتایا۔ ماں ہمیں پہلے ہی بتا چکی تھیں کہ جو ان بہن کی شادی کرنے سے پہلے پال اپنے بارے میں بات بھی کرنا پسند نہیں کرتا۔ لیکن رات ہی رات میں نہ جانے کس طرح اور کیوں کا یا کلپ ہو گیا۔ صبح تک پال بھارت چھوڑ کر افریقہ جانے پر راضی ہو گئے۔ اتنا بڑا فیصلہ اس طرح ایک لمحے میں کئی طرح کے خیال میرے من میں آئے… بٹوارے کے بعد سیالکوٹ کا آبائی گھر چھوٹ جانے، تعلیم ڈسٹرب ہونے اور دھکے کھاتے انبالے کے اس گندے گھر میں پناہ لینے کے بعد شاید انھوں نے سوچا کہ چلو بے گھر تو ہو ہی چکے ہیں… یہاں نہیں تو وہاں سہی۔ دودھ کے دھندے سے تو چھٹکارا ملے گا۔‘‘2؎
خیر شادی ہوئی اور شادی کے فوراً بعد والد کے انتقال اور بہن کی ذمہ داریوں نے انھیں اندرونی تذبذب میں مبتلا رکھا۔ کینیا روانگی کے بعد بھی ایک سال تک احساس جرم ان کے ساتھ رہا، خصوصاً اس وقت جب بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی چھوٹی بہن ڈیلیوری کے دوران انتقال کر گئی تھی۔ کینیا میں انھوں نے چودہ برس گزارے جنھیں وہ اپنا جلا وطنی کا زمانہ قرار دیتے ہیں۔
1955 میں ہندوستان واپس آکر انھوں نے ایم۔ اے مکمل کیا لیکن مناسب روزگار کی کمی کے باعث دوبارہ کینیا جانا پڑا۔ دوسری مرتبہ 1960 میں وہ وطن آئے اور اگر چہ اس دوران حالات بہتر ہو چکے تھے لیکن غیر یقینی کے سبب پھر واپس جانا پڑا۔ بالآخر 1963 میں جب کینیا کی حکومت نے مستقل رہائش اختیار کرنے یا جزوی پنشن لے کر واپس جانے کا اختیار دیا تو جوگندر پال نے وطن واپسی کو ترجیح دی۔ ہندوستان واپس آ کر نئی ملازمت کی تلاش کے دوران کئی مشکلات سامنے آئیں حتیٰ کہ بائیو ڈاٹا میں بی۔ اے کی تھرڈ کلاس ڈگری بھی ان کے لیے رکاوٹ بنی، تا ہم ایک اتفاق نے انھیں کالج میں پروفیسر اور بعد ازاں پرنسپل کے منصب تک پہنچادیا۔
جوگندرپال نے کہانی نویسی کا آغاز اپنی جوانی ہی میں کر دیا تھا اور 1943 سے 1944 کے دوران ان کی تحریریں مختلف رسائل میں شائع ہونے لگیں۔ ساقی میں شائع ہونے والی کہانی ’تیاگ سے پہلے‘ ان کے ادبی سفر کا سنگ میل ثابت ہوئی۔ کینیا کے تجربات نے ان کے افسانوی شعور کو بیدارکیا اور 1955 کے بعد انھوں نے افریقی فضا اور انسانی صورت حال سے متعلق کہانیاں تحریر کیں۔ ہندوستان واپسی پر کرشن چندر نے ان کی تحریروں کو سراہا اور پہلی کتاب ’دھرتی کا کال‘ شائع ہوئی۔ وقت کے ساتھ کہانی ان کی زندگی کا مرکزی محور بن گئی اور احساس ہوا کہ وہ فن کے اس منصب کے لیے بنائے گئے ہیں۔
1978 میں جو گندر پال نے ملازمت کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور خود کو مکمل طورپرتصنیف اور مطالعے کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے مطابق فنکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام امتیازی نشان ایک طرف رکھ کر سادگی، سنجیدگی اور افسردگی کو قبول کرے تا کہ انسانی دکھ اور تجربات سے بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔ جو گندر پال کی زندگی مسلسل ہجرت، معاشی جدوجہد، جذباتی کشمکش، تدریسی تجربے اور گہرے انسانی شعور سے عبارت ہے اور یہی عناصر آگے چل کر ان کی کہانی نویسی کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے۔
جو گندر پال کا تخلیقی سفر اس معصوم شوق سے شروع ہوتا ہے جو ان کے اندر بچپن میں کہانیاں سننے اور سنانے سے پیداہواتھا۔ رسالہ ’پھول‘ ان کے ذوق مطالعہ کو بیدار کرتا رہا اور وہ چھوٹی عمر میں ہی راجکماری اور جل پریوں جیسی کہانیاں اپنی کاپیوں میںلکھنے لگے۔ ابتدا میں انھیں اپنی تحریریں دوسروں کو سنانے میں جھجھک محسوس ہوتی تھی، مگر اندر ہی اندر یہ شوق مسلسل بڑھتا رہا۔ کالج پہنچنے پر ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ گنڈا سنگھ ہائی اسکول کے استاد گو بند رام روز خوشخط لکھنے کی تلقین کرتے تھے تو جو گندر پال اپنے دل کی باتیں لکھ کر دکھاتے اور ماسٹر کی تعریف انھیں مزید حوصلہ دیتی۔ اسی زمانے میں ان کی پہلی کہانی ’تعبیر ‘کا لج میگزین میں شائع ہوئی، جس نے ان کے دل میں افسانہ نگاری کا مضبوط یقین پیدا کیا۔ پھر 1945 میں ماہنامہ’ ساقی‘ دہلی میں ان کی کہانی’ تیاگ سے پہلے ‘سب سے پہلے چھپی جو ان کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔ اسی دور میں مختلف رسائل میں ان کی کہانیاں کبھی کبھار شائع ہوتیں مگر تسلسل نہیں تھا۔ البتہ ان کی کہانیاں،معنویت اور اثر انگیزی سے پر ہوتی تھیں۔ ان کی فطرت میں ابتدا ہی سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت موجود تھی۔انھیں معاشی تنگی نے افریقہ جانے پر مجبور کیا ،جہاں نوکری تو مل گئی مگر وہاں کے عوام پر ظلم، استحصال اور نسلی منافرت کے مناظرنے ان کی حساس طبیعت کو شدت سے متاثر کیا۔ انھوں نے وہاں کھل کر احتجاج تو نہیں کیا لیکن افریقی عوام کی محرومیوں اور انسانیت سوز حالات کو افسانوں کے ذریعے بیان کیا۔ انھیں تجربات پر مبنی کہانیوں کا مجموعہ ’دھرتی کا کال‘ ان کے تخلیقی سفر کاسنگ میل ثابت ہوا۔ افریقہ کی جلا وطنی اور اپنے وطن کی جدائی نے ان کے اندر انسان دوستی، وسیع فکر اور نئے ادبی احساسات کو جنم دیا جو ان کی بعد کی تمام تحریروں میں نمایاں ہیں۔ جو گندر پال کی اس کیفیت کی تر جمانی کرشنا پال نے یوں کی ہے :
’’جہاز سے اترتے ہی ممبا سا میں افریقہ کی دھرتی پر قدم رکھتے ہی پال سمندر کے کنارے گم سم کھڑے بھارت کی طرف منہ پھیر کر من ہی من گویا کچھ فیصلہ کر رہے تھے۔ ہر لحاظ سے خوبصورت شہر خوش قسمت سمجھتے دوسرے امپورٹڈ شوہر اپنے آپ کو۔ لیکن پال من ہی من گھٹتے رہتے… وہ ہمیشہ واپسی کی باتیں کرتے۔ ہم لوگ طرح طرح سے سوچتے۔ واپسی؟ کیوں؟ وہاں کون ہے اب ان کا؟ میں کچھ سمجھ نہ پاتی اور پال؟ وہ ان منے سے الگ تھلگ اپنے اوپرا کیلا پن طاری کیے وہاں کے سماج میں فٹ ہی نہ ہو پاتے… پچھڑے ہوؤں کے ساتھ ایک خاص قربت، غریب بچوں کے ساتھ ایک عجیب تعلق! ان کا کمپیشن میں نیروبی میں افریقیوں کے ساتھ ان کے نجی لگاؤ کی یاد دلاتا۔ ماؤ ماؤ مومینٹ کے دنوں انگریزوں نے ککویوں قوم کو دھڑ ادھڑ گرفتار کر کے جیلیں بھرنا شروع کر دیا تھا۔ چاروں طرف ایک دہشت پھیل گئی تھی۔ ککویوں اور ان سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ سر کار سختی برت رہی تھی۔ مجھے یاد ہے پال اپنے نو کر موانگی کو بڑی جرأت کے ساتھ جیل سے اپنی ذمے داری پر چھڑوا کے لائے تھے۔ کئی لوگوں نے کہا اس آدمی کا دماغ خراب ہے۔ مظلوموں کے ساتھ پال کا ہمیشہ ایک انوکھا رشتہ رہا ہے۔ اپنی غریبی اور بے بسی کو پال ایک پَل کے لیے بھی نہیں بھولتے۔‘‘3؎
1963 میں وہ کینیا سے ملازمت چھوڑ کر واپس ہندوستان آئے مگر یہاں بھی روزگار اور تخلیق کے درمیان کشمکش جاری رہی۔ دن کو نوکری اور رات کو لکھنے نے انھیں مسلسل تھکا کر رکھا، لیکن اندر کا فنکار انہیں یہی کہتا رہا کہ زندگی کو تخلیق کے لیے وقف کرنا ہی اصل راستہ ہے۔ آخر کار انھوں نے مقررہ وقت سے پہلے ہی ملازمت چھوڑ دی تا کہ پوری طرح لکھنے کے قابل ہوسکیں۔ اورنگ آباد پہنچنا ان کی زندگی کا خوش قسمت موڑ ثابت ہوا۔ اس شہر نے نہ صرف انھیں محبت اور اعتماد دیا بلکہ ان کی تخلیقی شناخت کو از سرنو قائم کیا۔ یہاں نئی کہانی کے مباحث نے ان کی سوچ کو وسعت بخشی اور ان کے کئی اہم افسانے اور ناولٹ وہیں وجود میں آئے۔ بعد میں دہلی نے بھی ان کے فن کو نیا رنگ دیا۔ وہ دہلی میں اپنے قیام کو اپنی زندگی کا پانچواں جنم قرار دیتے ہیں، جہاں ان کا نظریہ مزید واضح ہوا اور کہانی ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئی۔ ان کی تخلیقی کیفیت اکثر شدید ہوتی تھی۔ وہ نئی کہانی کی تلاش میں خود کو بالکل الگ دنیا میں محسوس کرتے۔ ان کی شریک حیات کرشناپال نے ان کی زندگی اور فن میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انھوں نے اپنے شوہر کو بہتر سمجھنے کے لیے اردو سیکھی اور کئی افسانوں اور ناولوں کا ترجمہ بھی کیا۔ ستر برس پر محیط جوگندر پال کا یہ سفر مختلف تجربات، مشاہدات، فکری وسعت، انسان دوستی اور تخلیقی سچائی سے عبارت ہے۔ انھوں نے کبھی کسی تحریک یا ازم کے تحت نہیں لکھا بلکہ اپنے اندر کی آواز پر اعتماد کرتے ہوئے لکھتے رہے۔ اس لیے ان کی تخلیقات آج افسانوی ادب کا ایک قیمتی سرمایہ تسلیم کی جاتی ہیں اور ان کا تخلیقی سفر اردو افسانے کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
جو گندر پال کے فن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی کے باطنی تجربے کو کرداروں کے ذریعے اس نزاکت اور گہرائی سے پیش کرتے ہیں کہ قاری محض واقعات نہیں پڑھتا بلکہ انسانی روح کی حرکت کو محسوس کرتا ہے۔ ان کے نزدیک کردار اچھے یابرے نہیںہوتے، انسان ہوتے ہیںاوریہی انسانیت ان کی اصل شناخت ہے۔ ان کے افسانے ’عفریت‘، ’ چور سپاہی‘،’ بو‘ اور’ گاڑی‘ اس بات کی عمدہ مثالیں ہیں کہ وہ کرداروں کے رویوں کو کسی اخلاقی حکم کے تابع نہیں کرتے بلکہ ان کے وجود کے اندر چھپی ہوئی حرکتوں، خوف، بے بسی اور روشنی کی جھلک کو نمایاں کرتے ہیں۔’ عفریت‘ میں انھوں نے معاشرتی منافقت کو ایک علامتی پھیلاؤ میں یوں سمیٹا ہے کہ برائی کی مستقل موجودگی اور انسان کی بے خبری دونوں ایک ساتھ سامنے آتی ہیں۔’ چور سپاہی‘ میں قانون، خوف اور انسانی کمزوری کا وہ گہرا مشاہدہ ملتا ہے جس سے جو گندر پال کے بیانیے کی حقیقت پسندی اور نفسیاتی گہرائی واضح ہوتی ہے ۔’بو‘ میں زندگی کی بے حسی کو داخلی عفونت کے استعارے میں بدل دیا گیا ہے اور ’گاڑی‘ میں جمہوری و سماجی بحران کو اس شدت سے پیش کیا گیا ہے کہ انجام کا دھندلاپن خود ایک علامت بن جاتا ہے۔
ان کا دوسرا اہم وصف ان کی بیانیہ تکنیک، فکری وسعت اور علامتی قوت ہے۔وہ وقت، موت، تبدیلی اور انسانی تقدیر کومحض موضوعات کے طور پر نہیں برتتے بلکہ انھیں زندگی کے پورے فلسفے کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ ان کے یہاں وقت کیلنڈر کا وقت نہیںبلکہ ایک بہتاہوااحساس ہے۔ یہی تصور ’باشندے ‘میں نمایاں ہوتا ہے جہاں تبدیلی کو نہ المیہ بنایا گیا ہے نہ معجزہ بلکہ انسانی ارتقا کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ جس کے بارے میں کرشن چندر رقمطراز ہیں:
’’جو گندر پال کا ایک نقطہ نظریہ بھی ہے، بہت سے لوگوں کا کوئی زاویہ نگاہ نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ ’’ٹک دیکھ لیا‘‘ دل شاد کیا اور چل نکلے۔۔۔ حالانکہ یہ بھی ایک زاویہ نگاہ ہے مگر بے حد سطحی ہے جو گندر پال بھی دیکھتا ہے، دل شاد بھی کرتا ہے اور دیکھ کر چلا بھی جاتا ہے مگر دیکھ کرجانے کے بعد بھی ہم اس کے افسانے کا مزہ لیتے رہتے ہیں، کیونکہ تصویر جو اس نے ہمیں دکھائی ہے، اس میں صرف سطح کی کیفیت نہیں ہے جیسی اکثر تصویروں میں ہوتی ہے، اس میں اور نہیں بھی ہوتی ہیںجنھیں ذہن آہستہ آہستہ کھولتا ہے اور قند مکرر کا مزہ لیتا ہے! اس کے افسانوں سے ایک ہمدردافسانہ نگار کا دل جھانکتا ہے، ایک انسانیت پرست فرد جو اپنے گرد و پیش کے حالات سے محض متاثر ہی نہیں ہوتا، کیمرے کی حساس پلیٹ کی طرح، بلکہ ان حالات کو بدلنے کا شعور اور اس شعور کا درد اور تڑپ بھی اپنے سینے میں رکھتا ہے۔‘‘4؎
’آگے پیچھے‘ ،’انتم پاتھ‘،’ کوئی نجات‘ اور’ پرائی‘ جیسے افسانوں میں موت اور زندگی کی جدلیات اس طرح سامنے آتی ہے کہ انسان اپنے وجود کے ساتھ سمجھوتہ کرنے لگتا ہے، تمام تر تضادات کے باوجود ان کے بیانیے میں ایک لطیف سی روشنی اور ایک شفاف سی امید موجود رہتی ہے۔ زبان میں سادگی، بیان میں فطری روانی، کرداروں کی روح تک رسائی اورپورے افسانے کو استعارہ بنانے کاہنر، یہ تمام خوبیاں ان کے فن کو وہ مقام عطا کرتی ہیں جو اردو افسانے میں بہت کم فنکاروں کو نصیب ہوا ہے ۔ پال نے افسانہ لکھنے کے بجائے زندگی پڑھنے کا طریقہ اختیار کیا اور یہی ان کی تخلیقی عظمت کا بنیادی راز ہے۔
اس سے پہلے کہ پال کے افسانوں کا سماجی، تہذیبی اور فکری پس منظر تلاش کیا جائے۔ ارتضٰی کریم کا وہ اقتباس ،جوجوگندر پال کی تمام کہانیوں میں موجود مشترک قدروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’جو گندر پال چونکہ فرشتہ نہیں ہیں ایک افسانہ نگار ہیں، اسی لیے ان کے افسانوں میں نو ر بھی ہے اور رنگ بھی، یہ نور انسانیت پر ایمان کا ہے اور رنگ زندگی کے مشاہدوں کا، اسی لیے ان کے افسانوں میں زندگی مختلف رنگ میں نظر آتی ہے، جن سے ہمارے ذہن منور ہوتے ہیں۔
جو گندر پال نے خوب لکھا ہے، یہاں خوب لفظ کو راقم نے اچھا اور زیادہ دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔زیادہ لکھنے کے باوجود انھوں نے اپنے آپ کو دہرایا نہیں ہے، ہر کہانی میں نئے مسائل اور موضوعات اور بالکل الگ تھلگ اسلوب کو استعمال میں لایا ہے۔ چنانچہ پہلی کہانی’ تیاگ سے پہلے‘ (1945) سے لے کر’ مہاجرت‘ (1999) تک کے تخلیقی سفر میں مسلسل ارتقا نظر آتا ہے، ارتقا کی یہی صورت ان کے ناولوں میں بھی نظر آتی ہے۔ شاید اسی لیے جو گندر پال کے ناول یا افسانے معاصر ادب اور زندگی کے شانہ بشانہ چلتے ہیں لیکن اس کے با وجود آپ جو گندر پال کو کسی ایک فکر، دبستان یاز او یہ نگاہ یا ازم سے نہیں جوڑ سکتے۔‘‘5؎
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جو گندر پال کی کہانیوں میں یوں تو پورا سماج نظر آتا ہے لیکن وہ حصہ زیادہ نمایاں ہے جسے واقعی نمایاں ہونے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا ان کے افسانوں میں غربت، طبقاتی فرق، گھریلو بے امنی، رشوت خوری اور انسانی بے بسی جیسے مسائل نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ افسانہ ’بے گور‘ میں امریکی ڈاکٹر کا زندہ لاشوں کی خریداری کے لیے آنا، رام دین کا دلال بن جانا اور پچاس زندہ لاشوں کا دکھ پیش کرنا اس معاشرے کی انتہائی غربت اور گرتی ہوئی انسانی قدروں کی نہایت ٹھوس مثال ہے۔ اسی طرح افسانہ’ ہری کیرتن‘ میں بڑے بابو کا اپنے بیمار باپ کونظراندازکرنا، بیوی پر شک کرنااورگھر یلورشتوں کی حرمت کو پامال کرنا آج کے خاندانی انتشار اور ذہنی بیماریوں کی دقیق تصویر پیش کرتا ہے۔’ عفریت‘ میں بچے کا سوال کہ راون کے دس سر کیوں ہیں،یہ انسان کی سماجی اور اخلاقی دو غلے پن کا علامتی اظہار ہے۔ ان تمام مثالوں سے جو گندر پال کے فن کا وہ سماجی پس منظر ظاہر ہوتا ہے، جس میں انسان اپنے ماحول، کمزوریوں اور تضادات کے ساتھ پوری شدت سے ابھرتا ہے۔
تہذیبی اور ثقافتی سطح پر جو گندر پال کی کہانیاں مشرقی روایت، دیہاتی زندگی اور اساطیری فکر کی بھر پور نمائندگی کرتی ہیں۔ افسانہ’ کھودو بابا کا مقبرہ‘ میں ایک فقیر ،بستی کے لوگ، ان کی عقیدت و نصیحت اور بندھونامی کتے کی وفاداری مشرقی روحانی روایت کی ٹھوس مثالیں ہیں اور دوسری کہانیاں جیسے ’چہار درویش‘، ’عفریت ‘اور’ مہاجر‘ وغیرہ سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اساطیری اور دیو مالائی عناصر کس طرح سماجی ساخت کا حصہ رہے ہیں۔ افسانہ’ دادیاں‘ میں پنجابی رسم ورواج، پرانا گھر چھوڑنے سے انکار اور بڑھاپے کی تنہائی مشرقی تہذیبی روایت کا مضبوط حوالہ ہے۔ ’بازدید‘ میں وہ اپنے کھوئے ہوئے آبائی گاؤں، کچے راستوں اور مٹی کی سوندھی خوشبو کی تلاش کے ذریعے تہذیبی اصل سے وابستگی کو دکھاتے ہیں۔ افسانہ’ کتھاایک پیپل کی‘ میں پیپل کے درخت کی جڑیں، اس کی گرفت اور آزادی کی خواہش نئی نسل کے ذہنی اور تہذیبی بحران کی علامت بن جاتی ہیں۔ یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ جو گندر پال کے افسانوں کا تہذیبی پس منظر صرف فضا سازی نہیں بلکہ ثقافتی تجربے کی گہری معنویت رکھتا ہے۔
جو گندر پال کے افسانوں کا سب سے نمایاں فنی وصف یہ ہے کہ وہ پلاٹ کی سخت پابندی کے بجائے کرداروں کی داخلی کیفیت اور ذہنی بہاؤ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ شعور کی رو، خود کلامی اور علامتی اظہار جیسی تکنیکیں ان کے اسلوب کا بنیادی حصہ بن جاتی ہیں، جن کے ذریعے وہ کرداروں کے ذہن اور احساسات کو براہ راست قاری کے سامنے کھول دیتے ہیں۔ انھوں نے روایتی افسانے کے بجائے آزاد تاثر کی بنیاد پر کہانی کو جلابخشی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی کہانیاں پلاٹ کے بجائے احساس اور کیفیت کے سہارے آگے بڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پرافسانہ ’پھول‘ میںگنگامحض ایک کردار نہیںبلکہ انسانی خواہشات اور توقعات کی علامت بن جاتی ہے، جو ہر شخص کی خواہش پوری کرنے کی کوشش میں خود الجھ کر رہ جاتی ہے۔ اسی طرح ’بھوک پریت‘، ’کا یا کپٹ‘،’ جاگیردار‘، ’گرین ہاؤس‘ اور’ جادو‘ جیسی کہانیوں میں بے جان اشیا اور فطری مظاہر کو کردار بنا کر وہ انسانی نفسیات کی تہوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے یہاں تکنیک کا مقصد کہانی کو پیچیدہ بنانا نہیں بلکہ کرداروں کی زندگی کو آزادانہ سانس لینے کا موقع فراہم کرنا ہے، اس لیے ان کے کردار خود افسانہ نگار کی گرفت سے نکل کر اپنی زندگی خود متعین کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
جو گندر پال کے افسانوں میں کردار سازی ان کے فن کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ وہ کرداروں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرتے بلکہ کرداروں کو فطری آزادی کے ساتھ ماحول، معاشرت اور اپنے داخلی تجربات کے زیر اثر چلنے دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے کردار محض نمونے نہیںبلکہ جیتے جاگتے انسان محسوس ہوتے ہیں۔ ’ہری کیرتن‘ کی بڑی بہو جیسے کردار سماجی جبر، گھر یلو اذیت اور عورت کی محرومی کو اس شدت سے پیش کرتے ہیں کہ قاری کردار کے دکھ کو اپنی ذات میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ اسلوب کے لحاظ سے ان کی زبان عام بول چال کے قریب ہے، تاہم جملوں کی ساخت، لفظوں کی ترتیب اور علامتی اشاروں کی وجہ سے اس میں ایک خاص فنی تازگی برقرار رہتی ہے۔ وہ زبان کو محض آرائش نہیں بناتے بلکہ اسے کردار اور کیفیت کا ترجمان بناتے ہیں۔ علامتی تکنیک کا استعمال ان کے یہاں انتہائی متوازن ہے جس کی مثال ان کی علامتی کہانیوں میں ملتی ہے، جہاں واقعات محض واقعات نہیں رہتے بلکہ انسانی زندگی اور معاشرتی تضادات کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں روایتی پلاٹ سے آزاد ہونے کے باوجود مربوط، رواں اور قاری کے لیے تجسس خیز رہتی ہیں، جو کسی بھی کامیاب افسانہ نگارکی اہم ترین خوبی ہے۔ جوگندر پال کے انھیں فنی محاسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قمر رئیس رقمطرازہیں:
’’اپنے افسانوں میں جو گندر پال جن وسائل اور جس طرح کی پیکر تراشی سے تخلیقی وحدت کی تعمیر کرتے ہیں وہ فن پر ان کی غیر معمولی گرفت کا ثبوت ہے۔ اس سلسلے میں اس حقیقت کی طرف اشار ہ ضروری ہے کہ زبان کا استعمال ان کے یہاں نہایت حساس Sensitive کردار کا حامل ہے۔ اس کے بغیر ان کے فن کی شناخت ممکن نہیں۔ عام طور پر اردو میں کرشن چندر، منٹو اور عصمت چغتائی کے اسالیب کی پیروی کی گئی ہے۔ جو گندر پال کی افسانوی نثر کا اسلوب و آہنگ ان سے الگ پہچانا جاتا ہے۔ اس کے ترکیبی عناصر اتنے نازک ہیں کہ اس کی تقلید ممکن نہیں۔ اس لیے کہ وہ زندگی اور خود انسانی وجود سے مصنف کے ان پر اسرار اور پائیدار رشتوں کی نقاشی کرتے ہیں جو اس کے تخلیقی ضمیر میں پیوست ہیں، بلا شبہ جو گندر پال کی کہانیاں ان کے فن کی تہذیب اورپختگی کی معراج ہیں۔‘‘6؎
جو گندر پال فکشن میں کئی حوالوں سے منفرد ہیں، وہ فکشن کو محض واقعات کا سلسلہ نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے انسانی شعور، سماجی بے حسی اور باطنی کرب کے گہرے تجربے میں ڈھال دیتے ہیں۔ ان کے یہاں موضوعات کی جدت اور اسلوب کی تخلیقی سنجید گی مل کر ایک ایسا منفردفنی رنگ پیدا کرتی ہے جو انھیں اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ افسانہ ’بے گور‘ میں وہ غربت کو اس حد تک مجسم کرتے ہیں کہ زندہ انسان بھی زندہ لاشوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں، جبکہ’ عفریت‘ اور’ رامائن ‘جیسے افسانوں میں قدیم روایات کو عصری دہشت، کرپشن اور اخلاقی زوال سے جوڑ کر ایک نیا فکری زاویہ پیدا کرتے ہیں۔ ان کے یہاں کہانی ایک واردات کی طرح سامنے آتی ہے، جہاں کردار اپنی آواز، اپنے دکھ اور اپنے سوالات کے ساتھ قاری کے اندر اتر جاتے ہیں۔ افسانہ ’پناہ گاہ ‘میں تقسیم ہند کا سانحہ انسانی روح کا مستقل زخم بن کر ابھرتا ہے۔ جو گندر پال کا اصل امتیاز یہ ہے کہ وہ نہ کسی روایت کے اسیر ہیں، نہ کسی فنی نمائش کے خواہاں، وہ کہانی کو جیتے ہیں، اس میں گھل جاتے ہیں اور زندگی کے پوشیدہ کرب، انسانی ذہنیت کے تپتے سوالات اور تہذیبی زوال کے نقوش کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان کا ہر افسانہ فن اور فکر کا ایک ساتھ مجسم اظہار بن جاتا ہے۔
جو گندر پال فن اور شخصیت کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ اردو افسانے میں فکری اور تکنیکی دونوں سطحوں پر ایسے امکانات روشن کرتے ہیں جن پر مزید تحقیق کی ضرورت اور گنجائش موجود ہے۔ ان کے افسانے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انھوں نے انسانی داخلی تجربے کو وقت، موت، تبدیلی اور سماجی تضادات کے ساتھ اس باریکی سے جوڑا ہے کہ ان کے فن میں زندگی کا پورا فکری منظر نامہ ایک نئے تناظر میں کھلتا ہے۔ ان کے کردار نہ صرف اپنی نفسیاتی ساخت میں منفرد ہیں بلکہ ان کا رویہ سماجی ڈھانچے کی نئی تعبیرات پیش کرتا ہے اس لیے ان کے بیانیے کو جدید نفسیاتی نظریات، سماجی جدلیات اور علامتی مطالعات کی روشنی میں دیکھنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ زبان کی سادگی، علامت کا محتاط مگرموثر استعمال، کرداروں کی تفتیشی پڑھت اور وقت کی غیر خطی ترتیب جیسے عناصر اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ جو گندر پال کے فن کو محض افسانوی جمالیات کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری نظام کے طور پر بھی پر کھا جائے گا۔
حواشی
1 جوگندرپال:ذکر،فکر،فن(مرتب)ارتضیٰ کریم، موڈرن پبلشنگ ہائوس،1999،ص139
2 جوگندرپال:ذکر،فکر،فن(مرتب)ارتضیٰ کریم، موڈرن پبلشنگ ہائوس،1999،ص117
3 جوگندرپال:ذکر،فکر،فن(مرتب)ارتضیٰ کریم،موڈرن پبلشنگ ہائوس،1999،ص118-19
4 جوگندرپال: فن اور شخصیت(مرتب)سعید شہاب،جدید ادب پبلیکیشنز،1985،ص45-46
5 جوگندرپال:ذکر،فکر،فن(مرتب)ارتضیٰ کریم،موڈرن پبلشنگ ہائوس،1999،ص27
6 جوگندرپال کا فنی اسلوب:قمررئیس، مشمولہ:چہارسو، راولپنڈی، جلد:11،مارچ،اپریل،2002
Dr. Mujeeb Ahmad Khan
Associate Professor, Dept of Urdu
Kirori Mal College
University of Delhi
Delhi- 110007