مستشرق اردو لغت نویس،مضمون نگار: مزمل سرکھوت

February 5, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

 ہمارےتعلیمی نظام میں شاعری اور نثر کی مختلف اصناف کے مطالعے اور تحقیق کا چلن تو موجود ہے ، مگرترجمہ اور اس کے انسلاکات، اصطلاح سازی، محاورات، ضرب الامثال اور لغت نویسی جیسے اہم موضوعات پر ہماری توجہ کم ہے۔اس فہرست میں تخلیقی صلاحیت کو بھی شامل کرلینا چاہیے۔
جان اے ہیووڈ اپنی کتاب’’عربک لیک سی کوگرافی‘‘ مطبوعہ1965، میں لغت نویسی کی ابتدا اور مختلف زبانوں میں اس کی روایت کے تعلق سے رقمطراز ہیں:
’’ مختلف زبانوں کی لغت نویسی کی تاریخ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لغت نویسی کا سلسلہ بہت قدیم نہیں ہے۔ شروعات میں محدود الفاظ اور ان کی فرہنگ تیار کی گئی، اس کے بعد صوتی اصولوں کی بنیاد پر تمثیلی حروف تہجی کے تحت لغات بنائی گئیں، بعد ازاں حروف کے اعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کی منفرد تفہیم کی کوشش کی گئی، اس کے بعد الفاظ کے اصل قافیے کی بنیادپر یعنی آخری حروف پر منحصر لغت ترتیب دی گئی۔ ابتدامیں چند مصنفوں(لغت نویسوں)نے موجودہ نظام تصنیف لغت یعنی منضبط حروف تہجی کی بنیاد پر لغت کی ترتیب وتدوین کے طریقے کو اپنایا تھا مگر اسے پسند نہیں کیا گیا تھا۔دراصل اس وقت اکثر لغت نویسوں اور لغت کے قارئین کا سب سے اہم مقصد چند نایاب، کم یاب اور مشکل الفاظ کی تفہیم ہوتا تھا۔‘‘ (دیباچہ ص 1)
مختلف ادوار میں مخصوص الفاظ کے مفاہیم تک محدود لغات کی تدوین و تصنیف کا کام کیا گیا، لغت اور فرہنگ کومسافروں اوراجنبیوں کی راہنمائی کا ذریعہ سمجھا جاتاتھا۔ جان اے ہیووڈ نے فرہنگ (Vocabulary) اور لغت(Dictionary)میں ایک باریک فرق کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے مگر پھر وہ خود ہی ان دونوں کے درمیان فرق نہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں ۔ انھوں نے لکھا’’ لغت اور فرہنگ کے مختلف استعمال ہیں۔ لغت کسی اجنبی لفظ کے معنی جاننے کے لیے استعمال کی جاتی تھی جبکہ فرہنگ مصنف کے لیے مواد جمع کرنے کا ذریعہ ہوتی تھی۔‘‘(ص4)آگے اس بات کی نفی خود کرتے ہیں ’’ لغت اور فرہنگ میں کوئی نہایت مضبوط تفریق نظر نہیں آتی۔‘‘ (ص 4) 
لغت نویسی ایک مشکل فن ہے۔ تاہم یہ آج جس شکل میں دنیا کی ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ زبانوں میں رائج ہے ، اسے اس مقام کو حاصل کرنے تک کئی مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ لغت ایک ایسی تصنیف ہوتی ہے جس میں لفظ کے معنی، تذکیر وتانیث ، قواعدی ساخت، لسانی شناخت اور اس کے استعمال کے مختلف اسلوب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ لغات ہر زبان کے حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق تصنیف کی جاتی ہیں۔اردو زبان میں بھی لغات تیار کی گئی ہیں۔غرائب اللغات(ملا عبدالواسع ہانسوی)،  نوادرالالفاظ (سراج الدین خان آرزو)، نفائس اللغات(مولوی احدالدین بلگرامی)، نفس اللغہ (میر علی اوسط اشک)، منتخب النفائس (محبوب علی رامپوری)، امیراللغات(امیرمینائی)، فرہنگ آصفیہ (مولوی سید احمد دہلوی)، نوراللغات (نورالحسن نیر کاکوروی)، جامع اللغات(خواجہ عبدالحمید)، فرہنگ اثر(نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی)، مہذب اللغات (مہذب لکھنوی)، فرہنگ عامرہ (عبداللہ خویشگی)، لغت کبیر (مولوی عبدالحق) وغیرہ وغیرہ لغات ذخیرہ اردو کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔
کئی اصناف کی طرح اردو میں لغت نویسی کا چراغ بھی انگریزوں نے روشن کیا۔اول تو تجارت کی غرض سے مقامی زبان سیکھنے کا عمل انگریزوں کے لیے لازمی ہوااورپھررفتہ رفتہ یہاں کی حکومتوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاکر انھوں نے مختلف صوبہ جات پر قبضہ کرنا شروع کیا اور یہ سلسلہ مکمل ملک کے اقتدار کے حصول تک جاری رہا۔تجارت میں کامیابی اور پھر کچھ صوبوں میں جزوی اقتدار نے انگریزوں کے حوصلے کافی بلند کر دیے تھے۔ اب انھوں نے تجارتی  نقطہ نظر سے منفعت بخش اس برصغیر کی روح کو ٹٹولنا شروع کیا ۔  انھوں نے یہاں کی تہذیب و ثقافت سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں کے تعلیمی شعبہ جات میں جدت کو فروغ دیا۔ یہاں کی لنگوافرینکا یعنی ہر جگہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان پر دسترس حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وہ اس زبان کو ’’ ہندوستانی‘‘ ’’ہندی‘‘، ’’ریختہ ‘‘،’’ ہندوی ‘‘ کہتے تھے جس سے ان کی مراد اردو تھی۔اس وقت حکومتی سطح پر فارسی زبان کا رسوخ تھا۔ لیکن انگریزوں نے سمجھ لیا تھا کہ عوام الناس فارسی سے نابلد ہے اور وہ ایک ایسی زبان کی پرورش کررہی ہے جس سے اشرافیہ طبقہ ناآشناہے۔ لہٰذا انھوں نے عوام الناس کی زبان کو اہمیت دینے کا فیصلہ کیا۔
اس دور میں انگریزوں نے یورپ سے آنے والے اپنے افسران کے لیے ’’ ہندوستانی‘‘ سیکھنا لازمی قرار دیا تھا۔اور اس سلسلے میں ان کے لیے نصاب تیار کیا گیا تھا۔اسی نصاب کی تیاری میں ہندوستانی الفاظ کی لغت، محاورات اور اصطلاحات وغیرہ کو محفوظ کردیا گیا تھا۔ہندوستانی منشیوں کے ساتھ مل کر مستشرقین نے اردو میں مختلف عنوانات کے تحت کتابیں لکھنا شروع کیا۔ان عنوانات میں لغت سب سے اہم تھا۔ مزید برآں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں ہندوستانی زبان میں عربی ،فارسی اور سنسکرت کی قدیم کہانیوں کو ترجمہ کے ذریعے منتقل کرنے کااہم کارنامہ انجام دیاگیا۔ ہندوستانی زبان کو دو مختلف اسلوب عطا کیے گئے۔ایک نے دیوناگری رسم الخط کو اپنایا اوردوسرے نے فارسی عربی رسم الخط اختیار کیا۔بعض ماہرین السنہ کا ماننا ہے کہ ’’ہندوستانی ‘‘دراصل وہی زبان ہے جو فارسی عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی تھی، جس کی پرورش دکن میں نہایت ناز ونعم سے ہوئی اسے دکنی اردو کہا جاتا تھا ، پھر یہ علاقوں کی نسبت سے منسوب ہونے لگی، یعنی دہلی میں دہلوی اور گجرات میں گجری وغیرہ۔
لغت کے لیے انگریزی میں لیکسی کن اور ڈکشنری کے الفاظ ملتے ہیں۔اور لغت نویس کولیکسی کو گرافرکہتے ہیں لغت نویسی کو لیکسی کو گرافی کہتے ہیں، علم لغت کو لیکسی کو لوجی کہتے ہیں اورفارسی میں لغت کو فرہنگ اور عربی میں اسے قاموس کہتے ہیں۔مختلف ذرائع سے مستشرقین لغت نویسوں کے تعلق سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اسے ترتیب وار پیش کرنے کی کوشش اس مضمون میں کی جارہی ہے۔
جان برتھوک گلکرسٹ 19 جون 1759 کو اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک سرجن تھے۔ ہندستان میں ملازمت کے دوران انھوں نے یہاں کی زبان سیکھی اور اسے اپنے لیے مناسب تصور کیا ۔ اور باقی ماندہ زندگی میں اسی زبان کی درس و تدریس کو اپنا مقصد بنالیا تھا۔انھوں نے زبان کے قواعد لکھے، کچھ ترجمہ کیا اور ایک لغت بھی ترتیب دی۔یہ انگلش میں ہندستانی ڈکشنری تھی۔ جسے اولیت کا شرف حاصل ہے۔اس لغت کی تیاری میں گلکرسٹ کے ساتھ تھامس ریوبک معاون کی حیثیت سے شریک تھے۔اردو زبان وادب کے طالب علم کے لیے جان گلکرسٹ کی شناخت فورٹ ولیم کالج کے پہلے پرنسپل اور ہندوستانی شعبے کے سربراہ کی ہے۔فورٹ ولیم کے قیام سے چار سال تک یعنی1804 تک وہ کلکتے میں ہندستانی شعبے کے سربراہ بنے رہے اور اس دوران کئی شاہ کار کتابیں فورٹ ولیم کالج سے شائع ہوئیں جنھوں نے اردو ادب میں بیش بہا اضافہ کیا۔ کلکتہ سے سبکدوش ہوکر گلکرسٹ لندن گئے اوروہاں یونیورسٹی کالج، لندن میں اردو یا ہندوستانی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔انھوں نے اپنے آخری ایام پیرس میں گزارے اوروہیں پر 1841 میں ان کا انتقال ہوا۔
جان شیکسپیر1774 کو پیدا ہوئے اور 58 میں ان کا انتقال ہوا۔انھوں نے اپنی پوری زندگی برطانیہ میں ہی گزاری ، لیکن وہاں انھیں ہندوستانی اور عربی سیکھنے کے مواقع ملے۔انھوں نے تعلیم کی تکمیل کے بعد ابتدامیں مارلو کے ایک کالج رایل ملٹری کالج میں ان متوقع امیدواروں کو پڑھانا شروع کیا جنھیں ملازمت کے سلسلے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے ہندوستان آنا تھا۔برطانیہ میں کئی ایسے ادارے وجود میں آچکے تھے جہاں ہندوستانی یا اردو پڑھائی جاتی تھی ۔بہت جلد ترقی پاتے ہوئے جان شیکسپیر نے ایڈسکامب ملٹری سیمینری میں ہندوستانی کے پروفیسر کی حیثیت سے تقرر حاصل کرلیا۔یہاں انھوں نے تقریباً بیس برس تک اردو کی تدریس کا فریضہ انجام دیا۔اس دوران انھوں نے جان گلکرسٹ کی لکھی ہوئی اردو زبان کے قواعد کووسعت دیتے ہوئے ایک کتاب ترتیب دی اور ’’ ہندوستانی گرامر‘‘کے نام سے اسے شائع کیا، دراصل اس وقت تک گلکرسٹ کی کتاب نایاب ہوچکی تھی ، لہٰذا جان شیکسپیر کی کتاب نصاب میں شامل کر لی گئی۔مزید برآں 1817 میں پہلی بار ان کی ڈکشنری آف ہندوستانی اور انگلش شائع ہوئی۔ اس کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ 1834 میں لندن سے اس ڈکشنری کا تیسرا ایڈیشن شائع کیا گیا ۔
ڈنکن فوربس ہندوستان میں بھی متحرک رہے ہیں اور لندن میں بھی۔وہ28 اپریل 1798 کو اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے ۔باغ وبہار ، حاتم طائی، بیتال پچیسی جیسی کلاسیکی تخلیقات کا انگریزی میں ترجمہ ڈنکن فوربس کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔انھیں عربی، فارسی اور ہندوستانی اردو کے قواعد سے یک گونہ دلچسپی تھی۔ اس سلسلے میں ان کی کتابیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ، خاص طور پر ’’ دی گرامر آف عربک لینگویج ‘‘،  ’’اے نیو پرشین گرامر‘‘اور ’’ دی بنگالی ریڈر‘‘۔ڈنکن فوربس کو یونیورسٹی آف سینٹ انڈریوزاسکاٹ لینڈسے ماسٹرس کی سندحاصل کرنے کے بعد کلکتہ اکاڈمی میں منتخب کیا گیا اور وہ ہندستان وارد ہوئے۔تاہم یہاں کی آب وہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ مختصر عرصے کے بعد لندن چلے گئے جہاں کنگس کالج لندن میں انھیں مشرقی السنہ کے پروفیسرکے طورپرمقررکیاگیااوریہیں سے وہ سبکدوش بھی ہوئے۔ یہاں رہتے ہوئے انھوں نے کئی کارہائے نمایاں انجام دیے۔ درج بالا کارناموں کے علاوہ انھوں نے مشہور زمانہ برٹش میوزیم میں فارسی مخطوطات کی ترتیب میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ان کی لغت ’’اے ڈکشنری آف ہندوستانی اینڈ انگلش‘‘ پہلی بار 1848 میں شائع ہوئی ۔سنجیدہ مستشرقین کی اردو یا ہندوستانی کے سلسلے میں اور خاص طور پر لغت کے سلسلے میں بیداری قابل رشک ہے۔ وہ مقامی اردو دانوں کے لیے مشعل راہ بنے۔ ڈنکن فوربس کی لغت نہایت مقبول ہوئی تھی۔ ان کا انتقال 17 اگست 1868 کوہوا۔
 تھامس ریوبک کا ذکر جان گلکرسٹ کے ساتھ گزرا ہے ۔ انھوں نے بحری اصطلاحوں پر مشتمل ایک لغت ’’ این انگلش ہندوستانی ڈکشنری یا نول ڈکشنری‘‘(1811) ترتیب دی تھی جسے تقریباً ستر سال بعد جارج اسمال نے ’’ لشکری لغت‘‘(1882) کے نام سے اخذو و اضافے کے ساتھ دو بارہ شائع کیا۔
ایس ڈبلیو فیلن1817کوپیداہوئے اور 1880 میں ان کا انتقال ہوا۔وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے اور لندن میں وفات پاگئے۔ انھوں نے بنگال ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کی۔ان کی لغت ’’اے نیو ہندوستانی انگلش ڈکشنری‘‘ انتہائی مقبول رہی ہے۔ انھوں نے اس لغت کی تیاری کے دوران ہندوستانی منشیوں کی خدمات حاصل کیں۔ان میں مشہور زمانہ’’ فرہنگ آصفیہ‘‘ کے مرتب خان صاحب مولوی سید احمد دہلوی کے علاوہ لالہ فقیر چند ، چرنجی لال، لالہ ٹھاکر داس، لالہ جگناتھ وغیرہ شامل ہیں۔ فیلن کی یہ لغت ان کی وفات سے محض ایک سال قبل یعنی 1879 کو شائع ہوئی۔ اس لغت کے علاوہ بھی فیلن کے کئی کام ہیں۔انھوں نے محاوروں کی ایک لغت تیار کی جسے ’’اے ڈکشنری آف ہندوستانی پرووربس‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا ۔’’ اے نیو انگلش ہندوستانی ڈکشنری‘‘ ، ’’این انگلش ہندوستانی لا اینڈ کمرشیل ڈکشنری‘‘ اور ’’اردو ریڈر‘‘ جیسی اہم کتابیں اس سلسلے میں نمایاں ہیں۔فیلن نے اس وقت کے نظر انداز کیے ہوئے اردوکے شاعر نظیر اکبر آبادی کی اہمیت کو جان لیا تھا، انھوں نے لغت کے مقدمے میں نظیر اور ان کی شاعری کا ذکر کیا ہے۔
جان تھامسن پلیٹس ہندوستان میں مرکزی صوبہ جات کے انسپکٹر آف اسکول تھے۔ حالانکہ ان کی پیدائش کلکتہ میں ہوئی مگر ان کی تعلیم لندن میں تکمیل کو پہنچی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد پلیٹس ہندوستان واپس آئے اور مختلف اسکولوں میں مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔اور پھر ترقی کرتے ہوئے انسپکٹر آف اسکول ہوئے۔وہ 1830 میں پیدا ہوئے۔صرف 42 سال کی عمر میں وہ کمزور جسمانی حالت کی وجہ سے سبکدوش ہوئے اور 1872 کو لندن چلے گئے ، اور وہاں آکسفورڈ یونیورسٹی میں فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔  لندن کے آکسفورڈ پریس سے ان کی لغت ’’ اے ڈکشنری آف اردو، کلاسیکل ہندی اور انگلش‘‘ 1884 میں شائع ہوئی۔ لندن ہی میں پلیٹس 1904 میں انتقال کر گئے۔ان کی دیگر تصانیف میں ’’ گرامر آف ہندوستانی لینگویج‘‘، ’’ ہندوستانی انگلش ڈکشنری‘‘ اور’’ گرامر آف پرشین لینگویج‘‘ اہم ہیں۔ ان کے علاوہ شیخ سعدی کی گلستان کا انگریزی ترجمہ ان کاغیرمعمولی کام ہے۔
جوزف ہیلڈورگارساں دتاسی، ڈاکٹررابرٹ ہنٹر، ڈاکٹر ہیرس وغیرہ مستشرقین نے اردو قواعد اور لغت کے تعلق سے کئی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ ڈاکٹر ہیرس کی ’’ ڈکشنری آف انگلش اینڈ ہندوستانی‘‘ ، ڈاکٹر رابرٹ ہنٹر کی ’’ انسائیکلو پیڈیک ڈکشنری ‘‘ اور ’’اے ہسٹری آف انڈیا‘‘ جیسی معلومات افزا کتابیں اردو زبان اور اس عہدکو سمجھنے میں معاون  ہیں ۔
ماخذ
1عربک لیکسی کو گرافی(انگریزی)ازجان اے ہیووڈای جے برل، لیڈن، نیدرلینڈ1956
2 اردو انگریزی لغات : مستشرقین کے چند مسائل 
(Some Issues with the Orientalists: Urdu English Dictionaries)
Dr. Muzammil Sarkhot
Flat No.203, C Wing, Ghansar Complex
Mahsaliah, Rai Garh, Kokin (M.S)
Mob:7715918648/ 9527541533
Email:muzammilsir81@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شیام بینےگل اورہندوستان کا متوازی سنےما ،مضمون نگار: منتظر قائمی

اردو دنیا،نومبر 2025: شیام سندر بینےگل کو ان کے مداح شیام بابو کے نام سے بلاتے ہیں جنھیں متوازی سنیما (Parallel Cinema) کے پیش روکے نام سے جانا اور پہچانا

ڈراما ’انار کلی ‘ اور فلم ’مغل اعظم‘ کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: وسیم احمد

اردودنیا،جنوری 2026: ناٹک اور ڈرامہ بنیادی طور پر ایک سکے کے دو پہلو ہیں یعنی ایسی کہانیاں یا قصے جو اداکاری کے ذریعہ پیش کیے جائیں۔ انھیں پیش کرنے کی

دھرمیندر:انسانیت اوراداکاری کا سنگم،مضمون نگار: منتظر قائمی

اردودنیا،جنوری 2026: دھرمیندرکا فلمی سفر بھی سندباد جہازی کی داستانوں سے کم دلچسپ اور تجسس آمیز نہیں ہے۔کہاں پنجاب کا ایک دور افتادہ گاؤں سانہوال اور کہاں بمبئی کی چمک