تلخیص
عصر حاضر میں دنیا کی بیشتر زبانوں کا ادب بالخصوص نثر اورنثر میں بھی بطور خاص فکشن،انسان کے افکارو خیالات اور احساسات و جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ابتدا میں ان کی ترجمانی و ترسیل شاعری یعنی غزل،قصیدہ،مثنوی،مرثیہ، رباعی وغیرہ ہوا کرتی تھی۔ تغیر و تبدل ازل ہی سے قدرت ِاعلیٰ کا خاصہ رہے ہیں۔ اسی تبدیلیٔ معمورِ ہست کا نتیجہ ہے کہ ادب نظمیہ شاعری سے نکل کر نثرمیں اپنا راستہ تلاش کرنے لگا۔ چنانچہ وقت کے ساتھ ادب میں نثر نگاری کو وہ حیثیت حاصل ہو گئی جوزمانۂ قدیم میں شاعری کو تھی۔ فکشن کے ابتدائی دور میںتمام زبانوں کے ادب میں موضوعات کے لحاظ سے نئے نئے تجربے کیے گئے اورعالمین وجود و شہود کے مضامین کا احاطہ بھی کیا گیاہے۔یعنی دنیا و مافیہا کا کوئی بھی ایسا موضوع باقی نہیں ہے جس پرخامہ فرسائی نہ کی گئی ہو۔ وقت کے ساتھ اس میں بھی تبدیلی آتی گئی اور موضوعات کی سطح سے آگے بڑھ کر تکنیک میں نت نئے تجربات کیے جانے لگے۔ اردو فکشن بھی اس سے مبرا نہیں رہا۔عصر جدید میںموضوعات کے ساتھ ساتھ فکشن کی تکنیک پر بھی خاص توجہ دی جارہی ہے اور متعدد نئی تکنیکوں کے استعمال سے اردو فکشن کو مزین کیا جا رہا ہے۔ ان مابعد جدید تکنیکوں میں بین المتونیت، جادوئی حقیقت نگاری،سوشل میڈیا،کولاژ،روشن خواب،طنز خفی، مہافکشن، مہا بیانیہ وغیرہ اہم ہیں۔ زیر بحث مقالے میں اِنہیں میں سے چند اہم تکنیکوں پرگفتگو کی گئی ہے۔
کلیدی الفاظ
اردو فکشن، مابعد جدید تکنیک، پلاٹ، قصہ، کردار، منظر، اسلوب، ڈرامائی تکنیک، مکالماتی تکنیک، خواب کی تکنیک، روزنامے کی تکنیک، بین المتونیت کی تکنیک، جادوئی حقیقت نگاری، سوشل میڈیا، کولاژ
————
تکنیک دراصل فکشن کی کسی نوع یا قسم کی بہ ذریعہ مواد مناسب صورت گری کرنے کا ہنر ہے۔ ادبی تکنیکیں صنف کے تابع تشکیل نہیں پاتیں بلکہ موضوع کے مواد کے مطابق کسی مناسب ساخت کو اختیار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فکشن میں تکنیکی تنوع بنا رہتاہے۔اسی لیے بدلتے ہوئے رجحانات اور ادبی تحریکات کے حوالے سے فکشن کی تکنیک میںتبدیلی آتی گئی۔
فکشن کی بیشتر تکنیکیں مختلف ہوتی ہیں، جو موضوع اور مواد کے اعتبار سے اپنا رنگ پکڑتی ہیں۔ تکنیک دراصل ایک طریقہ ہے،ایک ذریعہ ہے، ایک وسیلہ ہے، جس کے حوالے سے فکشن نگار اپنا مقصد، اپنا افسانوی نکتہ یا مطمحِ نظر قاری کے سامنے پیش کرتاہے۔
اردو ہجے کے ساتھ لکھا جانے والا لفظ تکنیک انگریزی زبان کے لفظ’technique‘کا مترادف واقع ہواہے۔ اس کے لیے انگریزی میں مختلف الفاظ کرافٹ(Craft)، فارم ، اسٹرکچر وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ تکنیک یونانی زبان کے لفظ’Techiko‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی فن یا طریق کار کے ہیں۔ ارسطو اپنی مشہور کتاب’بوطیقا‘میں لکھتا ہے کہ’تکنیک سے مراد وہ طریقہ ہے جس سے فنکار اپنے موضوع کو پیش کرتا ہے۔‘1؎ انگریزی لغت’آکسفورڈ ایڈوانسڈ لرنرز ڈکشنری (Oxford Advanced Learner’s Dictionary) میں تکنیک کی تعریف میں یہی مطلب اس طرح نکالا گیا ہے:
ــ”A method of doing or performing some thing; especially in the arts or science.”
ہندی ادب میں تکنیک کے لیے’ شلپ‘ لفظ کا استعمال کیا جاتاہے۔ ڈاکٹر پریم بھٹناگرشلپ (تکنیک) کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تکنیک کا ارتھ ہے،ڈھنگ، وِدمان،طریقہ،جس کے مادھیم سے کسی لکشیہ کی پورتی کی گئی ہے… شلپ وِدھی انگریزی کے تکنیک کا ہندی روپ ہے۔ اس کا تاتپریہ رچنا پدھتی سے ہے۔‘‘2؎
ارسطو نے تکنیک کی جو تعریف بیان کی ہے، بعینہٖ وہی تعریف انگریزی لغت میں بھی درج ہے اورکم و بیش وہی تعریف ہندی ادب کے معروف ادیب ڈاکٹر پریم بھٹناگر نے بھی کی ہے،جن کے مد نظر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فن کار کا طریق اظہار ہی’تکنیک‘ہے۔تا ہم کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اردو میںبیان کی گئی تکنیک کی تعریف پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔اردو کی پہلی خاتون نقادممتاز شیریںنے تکنیک کی تعریف اس طرح بیان کی ہے:
’’تکنیک کی صحیح تعریف ذرا مشکل ہے۔مواد،اسلوب اور ہیئت سے ایک علاحدہ صنف ہے۔ فن کار مواد کو اسلوب سے ہم آہنگ کرکے اسے ایک مخصوص طریقہ سے متشکل کرتا ہے۔ افسانے کی تعمیر میں جس طریقہ سے مواد ڈھلتا ہے وہی’ تکنیک‘ ہے۔‘‘3؎
ڈاکٹر برج پریمی نے ممتاز شیریں کی باتوں کو آگے بڑھاتے ہوئے تکنیک کے بارے میں اپنی کتاب’ حرف جستجو‘ میں اس طرح اظہار خیال کیا ہے ـ:
’’تکنیک کی جامع تعریف کرنادشوار ہے۔دراصل ہر کہانی اور ہر ناول اپنی الگ تکنیک رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی اور گہرا تعلق اس مواد سے ہے،جو کسی مخصوص ناول یا کہانی میں باریکیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔یہ نہ تو خالص طور پر مواد ہے نہ اسلوب، بلکہ ان دونوں سے مُبرا اس کی ایک الگ حیثیت ہے۔ ایک تخلیق کار اپنے مواد کو خالص اسلوب میں ڈھالتاہے اور پھر اپنے مخصوص سلیقے سے اس میںآہنگ پیدا کر تاہے۔ اور کہانی کواس طرح سے بنتا ہے کہ اس کے مختلف یا مطلوبہ اجزا واضح شکل میںسامنے آجائیں۔ اس طرح سے اس کی ایک الگ ہیئت وجود میں آتی ہے۔یہ صاف او رمنجھی ہوئی شکل اس فن پارے کی تکنیک ہے۔‘‘ 4؎
ممتاز شیریں اور ڈاکٹر برج پریمی کے مشاہدات قابل قبول نہیں ہیں۔ اِن کی یہ باتیں اُس وقت تک درست ہو سکتی تھیں جب فکشن(بالخصوص افسانہ) طفلِ دبستاں تھااور فکشن پر تنقیدبھی برائے نام تھی،لیکن،اب فکشن پر تحقیقی اور تنقید ی نوعیت کے مقالوں کا کافی سرمایہ موجود ہے۔اس طرح فکشن نگاری (ناول، ناولٹ، ڈراما، افسانہ،افسانچہ وغیرہ)کے تمام اجزا پر خاصا مواد دستیاب ہے،جن میں تکنیک بھی شامل ہے۔ ان مباحث میں جہاں پلاٹ، قصہ، اسلوب وغیرہ کی الگ الگ تعریفیں صفحۂ قرطاس پر اتر آئی ہیں، وہیں تکنیک کی جامع تعریف کی طرف بھی توجہ دی گئی ہے۔یعنی اب تکنیک کی تعریف بھی اتنی مبہم نہیں رہ گئی ہے۔لہٰذا عصر حاضر میں تکنیک کی تعریف بیان کرنا مشکل یادشوار نہیں ہے بلکہ اس کے اقسام کا صحیح تعین کرنا اور اس کی علاحدہ علاحدہ تعریف بیان کرنا ایک مشکل امرضرور ہے۔ کیونکہ تکنیک موضوع اور مواد کے مطابق وضع ہوتی ہے اورتجربات کا تسلسل شعوری اور غیر شعوری طور پر جاری رہتا ہے، جس سے فکشن میں نت نئی تکنیکوں کا جنم ہوتا رہتا ہے۔
تکنیک کا اصطلاحی مفہوم وسیع اور گہری معنویت رکھتا ہے۔تخلیق کار اپنے مشاہدات و تجربات کو قاری تک پہنچانے کے لیے جن ذرائع اور طریق کار کا سہارا لیتا ہے، دراصل وہی تکنیک ہے۔تکنیک کی جامع سے جامع تعریف بھی ہر فن پارے کو ظاہر کرنے کے لیے درست، مکمل یا کار آمد ثابت نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ تکنیک کے اصطلاحی خد و خال، اس کے دائرہ کار کی تفہیم اور تکنیک کی ضرورت و افادیت کا تعین موضوع اور مواد پر منحصر ہوتا ہے۔تکنیک محض ایسی ہنر مندی نہیں،جو تخلیق کے ظاہری خد و خال کی چمک دمک میں فن کار کی معاونت کرتی ہے بلکہ مواد کی ترتیب اورخیال کی بنت میں بھی مدد کرتی ہے۔ اس لحاظ سے تکنیک کو دو حصوں خارجی اور باطنی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔خارجی تکنیک میں اسلوب، الفاظ کا انتخاب،قواعد کی پابندی،ترتیب و تہذیب اور دیگر آرائشی عناصر کو ملحوظ خاطر رکھا جاسکتا ہے۔ باطنی تکنیک تخلیق کار کے ذہن، مزاج،علم اور اس کے طبعی رجحان پر منحصر ہوسکتی ہے۔کسی بھی فن پارے کوظاہری اور باطنی تکنیکوں کے باہمی روابط کے آئینے میں موثر اور سحر انگیز بناکر پیش کیا جا سکتا ہے۔
اگر ہم منٹو کے افسانوں کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اس نے تکنیک کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کی مدد سے اپنے اکثر افسانوں کوبے نظیر بنا دیا ہے۔ مثلاًاس کا افسانہ ’کھول دو‘ فنکاری کا اعلیٰ نمونہ ہے،جس کی تکنیک کو اگر بخوبی سمجھناہوتواس کے آخری حصے پر ایک نظر ڈالنا ہوگا:
’’ڈاکٹر نے جس نے کمرے میں روشنی کی تھی سراج الدین سے پوچھا،’کیا ہے؟‘‘
سراج الدین کے حلق سے صرف اتنا نکل سکا، ’’جی میں…… جی میں اس کا باپ ہوں۔‘‘
ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی لاش کی طرف دیکھا اور اس کی نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا،’’کھڑکی کھول دو۔‘‘ 5؎
اگر منٹو یہاں پر افسانہ ختم کر دیتا تب بھی یہ افسانہ مکمل ہو جاتا۔اس میں کسی قسم کی فنی کمزوری نہیں رہ جاتی۔ اس میں پلاٹ بھی مکمل ہے۔ کردار نگاری بھی ہے۔افسانے میںوحدت تاثر بھی ہے۔اس میںفلیش فارورڈ کی تکنیک بھی ہے اور اس کا اختتامیہ بھی پر اثر ہے۔ یہاں پریہ احساس ہوتا ہے کہ افسانے کی ہیروئین کی زندگی ختم ہو گئی ہے،جس سے افسانہ اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ اس کو سادہ بیانیہ کا ایک اچھا افسانہ قرار دیا جا سکتا ہے،لیکن منٹو اس افسانے کو یہیں ختم نہیں کر تا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ جملے لکھتا ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو:
’’سکینہ کے مردہ جسم میں جنبش ہوئی۔بے جان ہاتھوں سے اس نے ازاربند کھولا اور شلوار نیچے سرکادی۔ بوڑھا سراج الدین خاموشی سے چلایا،’زندہ ہے……میری بیٹی زندہ ہے۔‘‘
ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہو گیا۔‘‘6؎
منٹو کے یہ جملے افسانے کو یکسر بدل دیتے ہیں۔ اس اقتباس سے پہلے ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں ہوتاکہ سکینہ کو اس عمل سے متعدد بار گزرنا پڑاہے،لیکن اس اقتباس کو پڑھتے ہی ہمارے فہم کی دھارا ہی بدل جاتی ہے۔سکینہ کے جسم میں جنبش ہونے کے بعد وہ جس عمل کا مظاہرہ کرتی ہے اس سے پورے افسانے کی تفہیم ہی بدل جاتی ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو منٹو نے یہاں پرباطنی تکنیک کا استعمال بڑی فنکارانہ مہارت اور ہنر مندی سے کیا ہے۔منٹو نے اس طرح کا تکنیکی تجربہ اپنے اور بھی افسانوں میں کیا ہے۔
ان کے علاوہ بھی تکنیک کی چند خصوصیات ہیں، جن پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔محولہ بالا خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ تکنیک کو انھیں خوبیوں اور انھیں سانچوں سے باندھا جا سکتا ہے، جس سے تکنیک کی نت نئی صورتیں ظہور پذیر ہو سکتی ہیں۔فکشن نگاراپنے پلاٹ، قصہ، کردار،منظر،اسلوب وغیرہ کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو بہتر اور مناسب سمجھتا ہے،اسی تکنیک کو اپنی تخلیق میں استعمال کرتا ہے۔فکشن میں استعمال ہونے والی متعدد روایتی تکنیکیں ہیں۔مثلاًبیانیہ تکنیک، ڈرامائی تکنیک، مکالماتی تکنیک، خود کلامی کی تکنیک، خواب کی تکنیک،روزنامچہ کی تکنیک،خط کی تکنیک، فلیش فارورڈ،فلیش بیک، شعور کی رو، آزادتلازمۂ خیال وغیرہ۔
روز ِازل سے تغیر و تبدل قدرت کا خاصہ رہاہے۔عالم اجسادمیں جو چیزیں موجود ہیں، اس میں تبدیلی آنا ایک فطری عمل ہے۔گزرتے وقت کے ساتھ عالم اجساد میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔اسی لیے انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات میں تغیر و تبدل ایک فطری بات ہے۔دیگر فنون اور فنون لطیفہ کے ساتھ ساتھ افسانوی تکنیک میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ فکشن میںروایتی تکنیکوں کے علاوہ بہت سی نئی تکنیکیں وجود میں آئیں،جن کے تحت نہ صرف یہ کہ افسانوی ادب کونئے ڈھنگ سے پیش کیا جارہا ہے بلکہ فکشن کے موضوعات میں بھی کافی وسعت پیدا ہو گئی ہے۔ تکنیک کی تبدیلی کے اسباب بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر برج پریمی لکھتے ہیں:
’’تکنیک کی یہ تبدیلی دراصل تیز رفتارزندگی اور اس کے تقاضوںکے پیش نظرسامنے آتی ہے۔ آج کی کہانی یاناول یقینااس تکنیک میں نہیں لکھا جاتا،جس طرح روایتی دور کے ناول یا کہانیاں لکھی جاتی تھیں۔روز تبدیل ہونے والی زندگی اپنے ساتھ نئی پیچیدگیاںسمیٹ لاتی ہے۔یہ پیچیدگیاں اپنی تمام تر باریکیوں کے ساتھ آج کے ادب کاحصہ بن گئی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کی کہانی یا ناول بہت پھیل گئی ہے۔… اردو فکشن کی آرٹ گیلری پر جب نظر جاتی ہے تو طرح طرح کی تصویریں نظر آتی ہیں،جن کو مختلف تکنیکوں کے رنگ و روغن سے آراستہ کیا گیا ہے اور رنگ برنگے نقوش ابھارے گئے ہیں۔‘‘7؎
ما بعدجدید دور کے افسانوں میں روایتی اور مروجہ تکنیک پر مبنی فکشن سے ایک قدم آگے بڑھ کر عصر حاضر کی سماجی اور معاشرتی تبدیلی اور ترقی کو ملحوظ رکھتے ہوئے متعدد نت نئی تکنیکوں کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان تکنیکوں میںبین المتونیت کی تکنیک، جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک،سوشل میڈیا کی تکنیک، کولاژ کی تکنیک،روشن خواب کی تکنیک وغیرہ اہم ہیں۔ ذیل میں ان تکنیکوں پر تفصیل سے گفتگو کی جا رہی ہے، جس سے ما بعد جدید دور یا عہد حاضرکے فکشن میں ان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
1 بین المتونیت کی تکنیک
اردو فکشن میں بین المتونیت کی تکنیک مابعد جدید دور میں متعارف ہوئی۔دیگر افسانوی تکنیک کی طرح بین المتونیت کی تکنیک بھی مغرب کے زیر اثر اردو میں داخل ہوئی۔بین المتونیت انگریزی زبان کے لفظ’Intertextuality‘سے ماخوذہے، جس کے لفظی معنی’باہمی متن‘کے ہیں۔یہ انگریزی لفظ ’Intertextuality‘ دراصل لاطینی زبان کے لفظ’Intertexto‘ سے وضع کیا گیا ہے،جس کا مطلب ہے، ’بنتے ہوئے کو باہم ملانا۔‘فرانسیسی میں اس کے لیے’Intertextualité‘کا استعمال ہوتا ہے۔بین المتونیت کی اصطلاح سب سے پہلے فرانسیسی نظریہ ساز ادیبہ جولیا کرسٹوا(Julia Krestiva)نے دو روسی ناقدین سوسئیر اورمیخائل باختن کے لسانی فلسفے کی مدد سے وضع کی جسے انھوں نے اپنی فرانسیسی تصنیف ‘Semeiotiké’ (1960) ‘میں پیش کیا۔معروف امریکی نقاد M. H. Abrams (1912-2015) بین المتونیت کی اصطلاح کی ابتدا کے متعلق لکھتے ہیں:
“The term Intertextuality first enters into the French language in Julia Kristeva’s early work of the middle to late 1960s.”؎8
ترجمہ: ’’بین المتونیت کی اصطلاح فرانسیسی زبان میں پہلے پہل جولیا کرسٹوا کی ابتدائی تحریروں کے ذریعے 1960کے وسط آخر میں داخل ہوئی۔‘‘
آکسفرڈ ڈکشنری آف لٹریری ٹرمز(Oxford Dictionary of Literary Terms)میں بین المتونیت (Intertextuality) کی تعریف اس طرح بیان کی گئی ہے:
“The term intertext has been used variously for a text drawing on other text thus drawn upon, and for the relationship between both.”
ترجمہ:’’ بین المتن کی اصطلاح مختلف طریقوں سے ایک متن کے دوسرے متن پر تطبیق اور دونوں کے مابین رشتے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔‘‘
ایم۔ایچ۔ ابرامس(M. H. Abrams) نے اپنی کتاب’A Glossory of Literary Terms’ میں بین المتونیت کی تعریف یوں کی ہے:
’’بین المتونیت کی وہ اصطلاح جسے جولیا کرسٹوا نے مقبول عام بنایا،اس کا استعمال ان تمام طریقوں سے کیا جاتا ہے،جن میںکوئی ادبی متن اصلاً دیگر متون ہی سے ان ذرائع سے تشکیل پاتا ہے؛اس میں موجود ظاہری و باطنی حوالے اور اشارے کنایے کا ہونا،اپنی تکرارو تقلیب کے ساتھ (کسی متن میں)سابقہ متون کے رسمی و ٹھوس خدو خال کا موجود ہونا یا سادہ طور پر مشترکہ لسانی ذخیرے اور ادبی رسومیات کے ساتھ ایک ایسی شراکت کے ساتھ نمودارہونا،جس سے بچنا نا ممکن ہو۔‘‘9؎
’آکسفرڈ ڈکشنری آف لٹریری ٹرمز ‘میں درج کی گئی تعریف اورایم۔ایچ۔ ابرامس کی بیان کی گئی تعریف سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بین المتونیت متن پر متن تیار کرنے کا نام ہے۔اردو میںمتن پر متن تیار کرنے کی روایت بہت قدیم ہے،جو کسی نہ کسی شکل میں اردوادب میں موجود ہے۔ اس کے لیے دکن میں لکھی گئی اکثر و بیشتر مثنویوں،اردوکی پہلی داستان’سب رس‘،فورٹ ولیم کالج کی’ باغ و بہار‘ یا پھر شمالی ہند کی مشہور و مقبول مثنویوں’سحرالبیان‘اور’گلزار نسیم ‘وغیرہ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام تصانیف کسی نہ کسی قدیم متن پر مبنی ہیں۔یہاں پر ان کے حوالے پیش کرنے کا موقع نہیں ہے۔ اسی طرح اس کی مثالیں اردو فکشن میں بھی بھری پڑی ہیں۔ وہ چاہے تاریخی واقعات کی شکل میں ہوں، حکایت ہو،دیومالاہو، متھ ہو، اساطیر ہویا پھر دیگر ادبی متون ہوں،ان سب کے بیان میں نیا کچھ نہیں ہے۔ اگر کچھ نیاہے تو وہ پیش کش ہے،طرز تحریر ہے، جسے ہم تکنیک کا نام دیتے ہیں اور یہی تکنیک بین المتونیت کی تکنیک کہلاتی ہے۔پرفیسرگوپی چند نارنگ اس تکنیک کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’۔۔۔بین المتونیت کے آسان معنی یہ ہے کہ بین المتونیت وہ رشتہ ہے،جو ایک متن کا دوسرے متن سے ہوتا ہے۔۔۔ہر متن سابقہ متون کے ریشوں اور دھاگوں سے مل کر بنتا ہے اور یہ رشتے ان گنت متون، تہذیب اور تاریخ کے ہزاروں مقامات میں پیوست ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ خود مصنف کو اس کااحساس ہویا قاری کو اس کی خبر ہو، سابقہ تصور مقامی اور محدود نوعیت کا تھا جب کہ نیا تصور لا محدود ہے اور بڑی حد تک لاشعوری ہے۔ یہ بصیرت کا کوئی متن خواہ وہ کتنا ہی نیا کیوں نہ لگے، خلا میں نہیں لکھا جاتا، بنیادی طور پر اس نکتے سے تعلق رکھتا ہے کہ زبان میں ہر جملہ (خواہ جملہ ’خلق‘ کرنا کہیں)دوسرے جملوں سے مل کر بنتا ہے۔ کسی بھی زبان کے اندر دوسرے تمام جملوں سے صرف نظرکر کے کوئی جملہ بنایا ہی نہیں جا سکتا، اسی طرح متن بھی سابقہ متون سے ہٹ کر یا متون بنانے کے امکانات سے قطع نظر کر کے بنایا ہی نہیں جا سکتا۔متن لکھا ہوا بھی ہو سکتا ہے، لوک روایت بھی، متھ بھی، دیو مالا اور اساطیر بھی،حکایت بھی،قصص بھی، داستانیں،واقعات، روایات، تہذیبی نشانات،تاریخی واقعات، تعبیرات، تشریحات غرض کچھ بھی،جو سابقہ ادبی و تہذیبی رایت میں شامل ہے اور جس کے اثرات ظاہر و پنہاں ادب میں بطور خون رواں دواں ہے۔‘‘ 10؎
گوپی چند نارنگ کی اس رائے کو بہت حد تک بین المتونیت کی واضح تعریف کہہ سکتے ہیں،جس کے پیش نظربین المتونیت کوچار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(i) وہ قدیم متن،جس کو عصر حاضر کی روشنی میں پیش کیا جائے۔
(ii) کسی نئی تخلیق کے لیے سابقہ متن کو بنیاد بنایا جائے۔
(iii) کسی بزرگ ہستی، تاریخی شخصیت، ادیب یاشاعرکے حالات زندگی پرافسانوی متن تیار کیا جائے۔
(iv) کسی تاریخی، تہذیبی و ثقافتی موضوع پرنئی تخلیق پیش کی جائے۔
مذکورہ بالا متن کی چاروں قسمیں اردو فکشن میںموجود ہیں۔پہلی قسم میں شمس الرحمن فارقی کے ناول’قبضِ زماں‘،انیس اشفاق کے ناول’خواب سراب‘، عزیز احمد کے افسانے’مدن سینا اور صدیاں‘،انتظار حسین کے افسانے’نر ناری‘، سلام بن رزاق کے افسانے’یک لویہ کا انگوٹھا‘،سریندر پرکاش کے افسانے’بجوکا‘،انور قمر کے افسانے’کابلی والے کی واپسی‘، سید محمد اشرف کے افسانے’آخری بن باس‘،احمد رشید علیگ کے افسانے’بن باس کے بعد‘ وغیرہ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔
ناول’قبضِ زماں‘کا موضوع مولانا حامد حسن قادری کے قدیم رسالے’کنزالکرامات‘ میں موجود ایک قصے سے اخذ کیا گیا ہے، جس کو ناول نگار نے عصری ماحول اور فضا کے مطابق تخلیق کیا ہے۔ اسی طرح ناول’خواب سراب‘ کی بنیاد مرزا ہادی رسوا کے ناول’امراؤ جان ادا‘پر رکھی گئی ہے۔افسانہ’مدن سینا اور صدیاں‘ میں عزیز احمد نے کئی مشرقی اور مغربی قصوں کے واقعات کو نچوڑ کر ایک نئے متن کو تشکیل دیاہے۔ افسانہ’نر ناری ‘ میں بیتال پچیسی کے ایک قصے کو موضوع بنایا گیا ہے۔بیتال پچیسی کے اس قصے میں دو مردہ جسموں کے سروں کو کاٹ کر ایک دوسرے سے بدل دینے کا ذکر ہے۔ اسی قصے کو انتظار حسین نے عصر حاضر کے پیش نظرافسانہ’نر ناری‘میں پیش کیا ہے، جس میں انھوں نے عورت مرد کے سر کی ادلا بدلی کو موضوع بنایا ہے۔اسی طرح افسانہ’یک لویہ کا انگوٹھا‘ مہابھارت کے ایک قصے سے ماخوذ ہے۔افسانہ’بجوکا‘ پریم چند کے ناول’گئو دان‘ کے ایک کردار’ہوری‘پر مبنی ہے۔افسانہ’کابلی والے کی واپسی‘ٹیگور کے افسانے’کابلی والے‘ کے متن سے ماخوذ ہے۔ اسی طرح افسانہ’آخری بن باس‘ اور’بن باس کے بعد‘ رام اور سیتا کے بن باس کے واقعے کو ذہن میں رکھ کر عصر ی سماج سے لیے گئے کرداروں کی مدد سے افسانے تخلیق کیے گئے ہیں۔ اس طرح بین المتونیت کے اس زمرے یا قسم میں وہ تخلیقات شامل ہوں گی، جوکسی قدیم متن پر مبنی ہیں۔ گویا یہ قسم پرانے برتن پر نئی قلعی لگانے کے مصداق ہے۔
دوسری قسم میں علی ضامن کا ناول’گئودان کے بعد‘، انیس اشفاق کا ناول’پری ناز اور پرندے‘،شوکت حیات کے افسانے’مادھو‘، شفق کے افسانے’دوسرا کفن‘، ناصر عباس نیر کے افسانے’بشن سنگھ مرا نہیں تھا‘، اسلم جمشید پوری کے افسانے’گئودان سے پہلے‘،’عید گاہ سے واپسی‘ وغیرہ کو شمار کیا جا سکتا ہے۔
ناول’ گئودان کے بعد‘میں پریم چند کے ناول’گئو دان‘ کو آگے بڑھایا گیا ہے۔اس ناول میں ناول نگار نے نہ صرف گئودان کے موضوع کو اپنایا ہے بلکہ اس ناول کے تمام کرداروں کو نہایت فن کارانہ انداز میں پیش بھی کیا ہے۔اس طرح اس ناول کو’گئودان‘ کی ایک توسیع قرار دیا جاسکتا ہے۔ ناول’پری ناز اور پرندے‘ میں نیر مسعود کے مشہور افسانے’طاؤس چمن کی مینا‘کی کہانی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس ناول میں ناول نگار نے پہلے’ طاؤس چمن کی مینا ‘ کے قصے کو مختصراً بیان کیا ہے۔اس کے بعد یہ جملہ رقم کیا ہے کہ’یہ اب تک کا قصہ ہے،آگے کا قصہ یہ ہے۔۔۔‘جس کے بعد ناول آگے بڑھتا ہے۔ ان ناولوں کے علاوہ افسانہ’مادھو‘ اور’دوسرا کفن‘میں پریم چندکے مشہور زمانہ افسانے’کفن‘ کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ افسانہ’بشن سنگھ مرا نہیں تھا‘ میں منٹو کے افسانے’ٹوبہ ٹیک سنگ‘ کو بڑھایا گیا ہے۔ اسی طرح افسانہ’گئودان سے پہلے‘ اور’عید گاہ سے واپسی‘ بھی بین المتونیت کے ضمن میں آتے ہیں۔ ’گئودان سے پہلے ‘ کو براہ راست تو نہیں، بالواسطہ طور پر پریم چند کے ناول’گئودان ‘ کا پس منظر کہہ سکتے ہیں،لیکن’عید گاہ سے واپسی‘ کو براہ راست پریم چند کے افسانے’عیدگاہ‘ کی توسیع قرار دے سکتے ہیں۔ اس افسانے میں آٹھ سال کا بچہ حامد اب ستر سال کا بوڑھا ہوجاتاہے، جو اپنے ماضی میں گم بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے لگتا ہے۔
تیسری قسم میںقاضی عبدالستار کے ناول خالد بن ولید، صلاح الدین ایوبی، داراشکوہ، غالب، شمس الرحمن فاروقی کے افسانے لاہور کا ایک واقعہ، ان صحبتوں میں آخر۔۔۔،غالب افسانہ،سوار، حمید سہروردی کے افسانے نواب مرزا، معین الدین جینا بڑے کے افسانے صاف چھپتے نہیں، سامنے آتے بھی نہیں، احمد رشید علیگ کے افسانے’اس غیرتِ ناہید کی ہرتان ہے دیپک‘وغیرہ کو شمار کیا جا سکتا ہے۔
قاضی عبدالستار کے مذکورہ ناولوں کے عنوانات ہی سے یہ ظاہر ہے کہ یہ تمام ناول کسی بزرگ ہستی یا تاریخی شخصیت پر لکھے گئے ہیں۔اسی طرح شمس الرحمن فاروقی کے تمام افسانے کسی نہ کسی شاعر کے حالات زندگی پر لکھے گئے ہیں،جن میں غالب، مصحفی اورمومن جیسے مشہور زمانہ شعرا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں افسانہ’نواب مرزا‘ میںداغ دہلوی کی شخصیت کوموضوع بنایا گیا ہے۔افسانہ’صاف چھپتے نہیں، سامنے آتے بھی نہیں‘ میں داغ دہلوی کی جمال پرستی کوتختۂ مشق بنایا گیا ہے۔ افسانہ’اس غیرتِ ناہید کی ہرتان ہے دیپک‘ مومن خاں مومن کی زندگی کے حالات اورواقعات پر مبنی ہے۔
چوتھی قسم میں اردو فکشن سے سیکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔جیسے عبدالحلیم شرر کے ناول’فردوس بریں‘،’فتح اندلس‘،قرۃ العین حیدر کا ناول’آگ کا دریا‘، محمد احسن فارقی کا ناول’ شام اودھ‘،شمس الرحمن فاروقی کا ناول’کئی چاند تھے سر آسماں‘، انتظار حسین کے افسانے’آخری آدمی‘ اور’شہر افسوس‘، نیر مسعود کے افسانے’سلطان مظفر کا واقعہ نویس‘ اور’پاک ناموں والا پتھر‘، قاضی عبدالستار کا افسانہ’پیتل کا گھنٹہ‘، بیگ احساس کا افسانہ’دخمہ‘، خالدجاوید کا افسانہ’کوبڑ‘وغیرہ۔ان تمام ناولوں اور افسانوں میں کسی نہ کسی تاریخی، تہذیبی یا ثقافتی پہلوکو موضوعِ فکر بنایا گیا ہے۔
اس طرح سے دیکھا جائے توکوئی بھی متن نیا نہیں ہوتا،چاہے وہ کتنا بھی قدیم ہو یا جدید۔وہ کسی نہ کسی قدیم یاجدید تاریخی، تہذیبی، ثقافتی متن پر مبنی ہوتا ہے۔اردو،ہندی، انگریزی اور پنجابی کے مشہور و معروف ادیب،شاعر و نقاد ڈاکٹر ستیہ پال آنند بین المتونیت کے بارے میں لکھتے ہیں:
‘’دنیا کی پہلی کتاب ’رگ وید ‘سے لے کر آج تک کسی بھی ایسی تحریری متن کا وجود ناممکن ہے، جو خود کفیل ہو، جس کی بابت کہا جا سکے کہ یہ پہلے نہیں کہا گیا، جو با کرہ نفس ہو،جسے پہلے کسی نے نہ چھوا ہو۔ ’پہل‘(الست) نام کی کوئی شے نہیں۔ ہر شے کے سابقون،اوّلون موجود ہیں۔‘‘11؎
اردو فکشن کے معروف اسکالر ابوالکلام قاسمی بین المتونیت کے متعلق لکھتے ہیں:
’’بین المتونیت اتنی وسیع اور جامع اصطلاح ہے کہ اس کے دائرہ کار میں محض کتابی اور تحریری متن نہیں آتابلکہ لسانی اظہارکے ساتھ ساتھ سماجی یا ثقافتی مظاہر،بہت سے حقائق جن کا اظہار نہیں کیا جا سکتااور روایتی تصورات،کہاوتوں،مختلف قصوں اور کہانیوں کے اسالیب اس طریق کارکے ذریعے متن کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔‘‘12؎
ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی اس رائے سے کلی طور پر اور ابوالکلام قاسمی کی اس بات سے جزوی طور پر اتفاق کیا جا سکتا ہے،کیونکہ متن کا اطلاق صرف تحریرنہیںبلکہ بامعنی تحریر پر ہوتاہے۔ بہر حال یہ ایک الگ مسئلہ ہے،جس پہ بحث کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔یہاں پر اس تکنیک کے متعلق متن کے محض اشارے کیے گئے ہیں۔ بین المتونیت کی تکنیک پر باقاعدہ تحقیقی و تنقیدی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
2 جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک
جادوئی حقیقت نگاری فکشن تخلیق کی جدید تکنیک ہے۔ اردومیںجادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک انگریزی ادب سے آئی۔اس کے لیے انگریزی میںMagical Realism کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔یہ بیانیہ کو پیش کرنے کا مخصوص انداز ہے۔ادب میںجادوئی حقیقت نگاری کی اصطلاح سب سے پہلے جرمن نقاد فرانز رو(Franz Roh)نے1925میں استعمال کی۔ انھوں نے اپنی کتاب ’Revista Deoccidente‘میں اس اصطلاح کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:
’’ہمیں ایک نئے اسلوب کا انکشاف ہواہے جو موجودہ حقیقی دنیا کی بھرپور عکاسی کرتاہے۔حقیقت پسندی کا موجودہ نظریہ ان نئی اشیا سے ابھی مانوس نہیں ہے۔ یہ مختلف تکنیکوں کو بروئے کار لاکر عام اشیاکے گہرے حقیقی معانی بیان کرتا ہے جن کے پُر اسرار مفہوم سے پُرانی، پُر سکون اور محفوظ دنیا ہمیشہ سے ہراساں رہی ہے۔ یہ پیش کش کا وہ طریقہ ہے جو ہمیں وجدان کی حقیقی تصویر دکھاتا ہے۔‘‘13؎
اس کے علاوہ کرسٹو فر وارنس (Christopher Warnes)اپنی کتاب’جادوئی حقیقت نگاری اور مابعد نو آبادیاتی ناول‘ (Magical Realism and Colonial Novel) میں جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
’’یہ بیانیہ کا ایسا طریق کار ہے جس میں مافوق الفطرت عناصر کو فطری بنایا جاتا ہے یایوں کہنا چاہیے کہ اس میں تخیلاتی اور حقیقی،فطری اور غیر فطری کو ایک ہی سطح پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘14؎
مذکورہ بالا دونوں اقتباسات میں ایک بات جو مشترک ہے،وہ یہ ہے کہ جادوئی حقیقت نگاری بیانیہ یا اسلوب کو پیش کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔اس طریق تحریر میں مافوق الفطری عناصرکو حقیقی بنا کر پیش کیا جا تاہے،جوقاری کو جادو نما معلوم ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس تکنیک کے تحت ایسے واقعات کو بھی پیش کیا جاتا ہے،جو تخیلاتی اور حقیقی،فطری اور غیر فطری دونوں ایک ہی جیسے معلوم ہوتے ہیں۔اس نوعیت کے واقعات کی پیش کش میں جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔جادوئی حقیقت نگاری پر بحث کرتے ہوئے وینڈی بی۔ فارِس (Wendy B. Faris) نے اس تکنیک کی پانچ خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’میں اس طریق کار کی پانچ بنیادی خصوصیات تجویز کر تا ہوں۔ پہلی خصوصیت، جادوئی حقیقت نگاری جادو کے غیر تخفیف پذیر عنصر پر مشتمل ہوتی ہے۔ دوسری خصوصیت میں جادوئی حقیقت نگاری کے بیانات مظہریاتی دنیا کی واضح موجود گی کی تفصیلات کے حامل ہوتے ہیں۔ تیسری، قاری دو متضاد واقعات کے مابین مفاہمت کی کوشش میں غیر یقینی شبہات کے تجربے سے گزرے؛ چوتھی، بیانیہ مختلف دنیاؤں کو باہم پیوست کرے؛ اور آخری جادوئی حقیقت نگاری وقت، جگہ اور شناخت کے مروجہ تصورات کو پریشان کر کے رکھ دے۔‘‘ 15؎
جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک عالمی سطح پر1950کے آس پاس متعارف ہوئی اور اس تکنیک نے نہ صرف یہ کہ ملک کی دیگر زبانوں کے ادیبوں کو متاثر کیا بلکہ بہتوں نے اس تکنیک کا استعمال کر کے بہترین فکشن بھی تخلیق کیا۔ان تخلیق کاروں میں الیخوکار پین ٹیئر،اینجل استوار، گیبرئیل گارسیا ماکیز، میلان کنڈیرا،اِزابیل الینڈ ے، لاراایسکیول، سلمان رشدی،جیک ہاجنز،گنٹر گراس، پیٹر سسکن، ارون دھتی رائے وغیرہ کا نام اہمیت کا حامل ہے۔
مذکورہ بالا ادیبوں میںجادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک پر سب سے عمدہ ناول گبرئیل گارسیا ماکیز نے تخلیق کیا ہے، جن کا تعلق لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا سے ہے۔ مارکیز کا ناول’تنہائی کے سو سال‘ (One Hundred Years of Solitude) جادوئی حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہے۔یہ ناول 1967میں ہسپانوی زبان میں شائع ہوا،جس کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ اس ناول کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔ ناول میں مارکیز نے وقت کی حدوںکو توڑ کر توہمات کی آمیزش اور مبالغہ آرائی کوروا رکھتے ہوئے لاطینی امریکہ کی صورت حال کو جادوئی انداز میں پیش کیا ہے،جس نے لاکھوں پڑھنے والوں کو تحیر اورسرور سے دوچار کردیا۔
اردومیںجادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک کے ابتدائی نقوش محمد حمید شاہد نے سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔کچھ ناقدین نے قرۃ العین حیدر کے ناول’چاندنی بیگم‘ اور’آگ کا دریا‘کو بھی جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک کی روشنی میں مطالعہ کیا ہے،لیکن اردو میں اس تکنیک کا باقاعدہ استعمال سب سے پہلے انتظار حسین نے اپنی تخلیقات میںکیاہے۔ان کے بعدنیرمسعود، اسد محمد خاں، منشا یاد،خالد جاوید وغیرہ نے بھی اس میدان میں اپنے ہاتھ آزمائے ہیں۔
3 سوشل میڈیا کی تکنیک
سوشل میڈیا کی تکنیک بھی مابعد جدید دور کی پیداوار ہے،جس کا آغاز1980کے بعد ہوا اوروہ بہت ہی تیزی کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا۔یوں اس کی اہمیت روز بہ روز بڑھتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور جدید کو سوشل میڈیا کا دور کہا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کے بغیرآج زندگی کا تصور ناممکن ہے۔یوں تو سوشل میڈیا نے ہر میدان میں اپنا سکہ جما لیا ہے،لیکن اس نے ترسیل کو سب سے زیادہ وسعت بخشی ہے۔آج ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں سوشل میڈیا کی مدد سے محض ایک کلک پر دنیا بھر کی معلومات ہمارے سامنے آجاتی ہیں۔ اس طرح سے سوشل میڈیا مواصلات کا سر چشمہ بنا ہوا ہے۔
شموئل احمد کا افسانہ’عنکبوت‘ سوشل میڈیا کی تکنیک پر لکھا گیا ایک اچھا افسانہ ہے۔انھوں نے اس افسانے میں جدید ٹکنالوجی سے پیدا شدہ سائبر کرائم کو موضوع بنایا ہے۔ افسانے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ محمد صلاح الدین انصاری کو کچھ دنوں سے سوشل میڈیا کا چسکا لگا ہواہے۔ وہ حقیقی دنیا سے نظریں چرا کر سائبر سیکس سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ سائبر کیفے جاتا ہے،لیکن وہاں وہ خود کو فری محسوس نہیں کرتا۔ اس لیے گھر ہی پر کمپیوٹر لے آتا ہے اور انٹرنیٹ کے استعمال سے اس کو معلوم ہوا کہ یہاں تو سائبر سیکس کی پوری دنیا آباد ہے۔جہاں پر مختلف قسم کے سیکڑوں سائبر رومس موجود ہیں،جہاں وہ سائبر کی دنیا سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’اس نے جانا کہ چیٹنگ کا مطلب سائبر سیکس سے لطف اندوز ہونا ہے اور یہ کہ صرف یاہو(Yahoo)ہی نہیں کسی بھی ویب سائٹ کا چیٹنگ روم اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ یاہو میں تو اس کی بھر مار تھی۔بلکہ یہاں ہر طرح کے جنسی رجحانات کو خاطر میں لایا گیا تھا۔ہم جنس عورتوں کے لیے لسبیئن لاونج (Lesbian lounge) اور مردوں کے لیے گے مینز روم (Gay man’s room)۔ شادی شدہ لوگوں کے لیے میریڈ اینڈ فلرٹ (Married and flirt) نام کے روم کی سہولت تھی اور پھر سنگل اگین (single again)، ڈسکوانفرنو (disco inferno)، لوسیکسٹیز (love 60s)، لوففٹیز(love 50s)،لوفورٹیز(love 40s) جیسے سیکڑو ں روم تھے جہاں کھل کر سائبر ہوتا تھا۔‘‘16؎
سائبر ورلڈ میں بَنا ہوارشتہ مکڑی کے بُنے ہوئے جالے کی مانندہوتا ہے،جس کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ فریب ہے، جس میں ایک شخص کاوجودوہ نہیں ہوتا،جو اس کا حقیقی دنیا میں ہے۔ سائبر دنیا کاتقاضا بھی یہی ہے۔اس دنیا کے ہرشخص کا تعلق بھی جھوٹ اور فریب ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں سچ اور جھوٹ اس طرح گڈمڈ ہوتے ہیں جنھیں ایک دوسرے سے الگ کرنا شیراور شکر کو الگ کرنے کے مانند ہے۔
آگے چل کر صلاح الدین کی بیوی نجمہ بھی’بیوٹی ان چین‘ نام کی آئی ڈی بنا کر سیکس چیٹنگ کرنے لگتی ہے۔ اس کا انکشاف اسے سیکس چیٹنگ کے بعد ہوتا ہے۔یہ راز کھلنے کے بعد نجمہ کے لب ہلنے لگتے ہیں، اس کا جسم کانپنے لگتا ہے اور اس پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپا کر زار زار رونے لگتی ہے۔
اس افسانے میں شموئل احمد نے سوشل میڈیا سے پیدا ہونے والے کرائم کو موضوع بنایا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ یہ ایک ایسی بلا ہے، جس سے لوگ دوسروں کا گھر برباد کرتے ہیں تو ا ن کا اپنا خود کا گھر بھی محفوظ نہیں رہتا۔ سوشل میڈیا پرفرضی آئی ڈی کی شناخت نہ ہونے کے باعث کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی بیوی،بہن،ماں اور دوسرے رشتے داروں کے ساتھ سائبر سیکس میں چیٹنگ کرتے ہیں اور ہمیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔
ان کے علاوہ بھی کئی ناول اور افسانے سوشل میڈیا کے موضوع اور اس کی تکنیک پر لکھے گئے ہیں، جو سوشل میڈیا کی مقبولیت کے مدنظر نا کافی ہیں۔ اس طرح کے ناولوں میں’پوکے مان کی دنیا‘ (مشرف عالم ذوقی)،’لمینیٹیڈ گرل‘(اختر آزاد)،’مکافات عمل‘ (ریحانہ رانا)وغیرہ شامل کیے جا سکتے ہیں۔ عصر حاضرمیںسوشل میڈیا کی تکنیک افسانوی ادب کے لیے مناسب اور معقول ہے۔لہٰذا اس تکنیک کی مدد سے اردو فکشن میںبہترین تخلیقات کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
4 کولاژ کی تکنیک
کولاژ(Collage) فرانسیسی زبان کے لفظ کالر(Coller) سے ماخوذ ہے، جس کے معنی چسپاں کرنے کے ہیں۔کولاژ کا تعلق بنیادی طور پر مصوری سے ہے۔شعبۂ مصوری میں کولاژ کی روایت از حد قدیم ہے۔لیکن بیسویں صدی کے اوائل میں پابلو پکاسو(Pablo Picaso) اور جیورجس براق (Georges Braque) کی کوششوں سے اس تکنیک کو باقاعد ہ تحریک ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مصوری کا جزو لاینفک بن گئی۔کولاژ سے مراد ایک ایسی تکنیک ہے،جو مختلف عناصر کے اتحاد پر مشتمل ہو۔دراصل اس میں ایک قسم یا ایک شخص کی مختلف شکلوں کو ایک فریم میں خوش ذوقی اور خوش زاویۂ نگاہی کے ساتھ یکجا کر دیا جاتا ہے۔ اس تکنیک کا استعمال مختلف شعبہ جات میں بھی ہوتاہے، جس کی متعدد قسمیں ہیں۔ جیسے تصویری کولاژ،موسیقی کولاژ،ادبی کولاژ وغیرہ۔
ادبی کولاژ فکشن کو تخلیق کرنے کی ایک جدید تکنیک ہے۔ اس تکنیک میںایک ہی قسم کے مختلف واقعات کی فن کارانہ ترتیب و تزئین کی جاتی ہے،جس کو باذوق طریقے اور منفرد انداز نگاہ سے پیش کیا جاتا ہے۔اس تکنیک پر مبنی اردو کا پہلا ناول ہے’چاند ہم سے باتیں کرتا ہے‘، جو معروف فکشنسٹ (fictionist) نورالحسنین کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔یہ ناول2015میںشائع ہوا۔کوئی پانچ سو قبل مسیح کے زمانے سے لے کر موجودہ زمانے تک ظہور پذیر ہونے والے کچھ اہم عالمی واقعات کو داستانوی اسلوب میں پیش کرتا ہے۔ابتدائی حصۂ ناول تو بالکل داستانوی لگتا ہے۔ناول نگار نے اس صنف ادب میں روایتوں اور مروجہ اجزائے ترکیبی سے اجتناب کرتے ہوئے ناول نگاری کے فن کو ایک دلچسپ نہج اورایک نیا رخ دیا ہے۔یعنی مختلف تاریخی ادوار سے کچھ اہم واقعات کو لے کر اور انھیں ایک دوسرے سے مربوط رکھتے ہوئے ایک وحدت خاص سی پیدا کر دی ہے۔انضمام کے اس فن کارانہ عملِ دانستہ میں خود ناول کے دونوں مرکزی کردارایک بڑے کینوس پر اتاری ہوئی کہانی کے تسلسل میں جزو لازم بن بھی جاتے ہیں۔ چناںچہ قاری ایک واقعہ سے دوسرے واقعے تک بہ آسانی پہنچ جاتا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ پیش کیا جانے والا ہر واقعہ اپنے آپ میں ایک الگ کہانی بھی ہے۔کہ ناول کے دونوں مرکزی کردار،جو اصل میں عشق اور چاند ہیں، ہرایک واقعے میںبہ نفس نفیس موجود رہتے ہیں۔جیسے وہ ذو مرکزی ہونے کی کشش ثقیل رکھتے ہوں۔جیسے کرۂ ارض پر عشق اور حسن کی ازلی قوتیں ہر انسانی صورت حال کی فی زمانہ آئینہ دار بن جاتی ہوں۔جیسے ان دونوںکے درمیان کوئی طنابیں سی کھنچ گئی ہوں اور وہ ایک دوسرے کا دم بھرنے لگتے ہوں۔جیسے ایک وحدت اعلیٰ کی مقویٰ شکل میں وہ دونوں اپنی تکمیلیت کا ایک مضبوط پوائنٹ آف ریفرینس اور ناقابل رَد دلیل بھی بن جاتے ہوں۔ مختصر یہ کہ اس ناول کی داستان عشق کا محور’چاند ‘ہی ہے۔ اس طرح یہ ناول کولاژتکنیک کاایک بہترین نمونہ ہے۔
اس کولاژ تکنیک کی تقلید پر آگے چل کر اور بھی چند ناول منظر عام پر آئے ہیں،جن میںاشعر نجمی کا ناول’اس نے کہا تھا‘اور شاہد اختر کا ناول’شہرذات‘ قابل ذکرہیں۔
اردو فکشن میں کولاژ کی تکنیک مابعد جدیدیت کے دور میںمتعارف ضرور ہوئی ہے۔جب کہ اس کے نقوش زمانۂ قدیم کے سنسکرت ادب میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے لیے’بیتال پچیسی‘ اور’ سنگھاسن بتیسی‘کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ان کتابوں کو چوتھی صدی عیسوی یعنی مہاراجہ بکرما جیت کے عہد یا اس کے فوراً بعدکی بتایا جاتا ہے۔
’بیتال پچیسی‘کو بارہویں صدی ہجری میں محمد شاہ کے عہد میں برج بھاشا کے ایک عالم سورت کشور نے راجہ جے سنگھ سوائی والی جے نگر کی فرمائش پر سنسکرت سے برج بھاشامیں منتقل کیا تھا۔اسی نسخے کا 1803میں فورٹ ولیم کالج سے تعلق رکھنے والے ایک مترجم مظہر علی ولا نے پرنسپل گل کرسٹ کی ایما پر اردو میں ترجمہ کیاتھا، جس میں پچیس کہانیاں شامل ہیں۔ جنھیں بیتال یعنی ایک بھوت راجہ بکرما جیت کوسناتا ہے۔یہ تمام کہانیاں بیتال کے کرادر سے وابستہ ہیں۔ ان کہانیوں کو بیان کرنے والاایک ہی کردار یعنی بیتال ہے۔ علاوہ ازیںان کہانیوں کا محور اور مرکز ایک لاش ہے،جس کے اندر بیٹھ کر بیتال راجا کو کہانیاں سناتا ہے۔ان کہانیوں میں ایک بات مشترک ہے کہ راجہ کو ہر کہانی سننے کے بعد اس میں چھپے کسی سوال کا جواب بھی دیناہوتاہے۔ اس لحاظ سے بیتال پچیسی کو کولاژ تکنیک کی ابتدائی کڑی تصور کیا جا سکتاہے۔
اسی نوعیت کی کتاب’سنگھاسن بتیسی ‘ بھی ہے۔’سنگھاسن بتیسی‘ کو مغل بادشاہ شاہ جہاںکے عہد میںکسی سندر نے سنسکرت زبان سے برج بھاشا میں منتقل کیاتھا۔ بیتال پچیسی کی طرح اس مجموعے کو بھی فورٹ ولیم کالج پر ہی اردو کا جامہ پہنایا گیا۔ یہ کام گل کرسٹ کی فرمائش پر فورٹ ولیم کالج کے دو مترجمین للولال جی اور کاظم علی جوان نے مل کرکیاتھا۔ظاہر ہے کہ اس میںمہا راجا بکرما جیت کے تعلق سے جملہ بتیس کہانیاں ہیں۔
’سنگھاسن بتیسی‘ کا پس منظر یہ ہے،کہ راجا بھوج کے عہد میں ایک اَن پڑھ چرواہا جب بھی کسی مسئلے پر بات کرتا تھا تو عدل و انصاف کے ساتھ کرتا تھا۔یہ بات اتنی مقبول ہوئی کہ لوگ اپنی فریاد رسی راجہ کے رو برو کرنے کی بجائے اپنے معاملات میں ترجیحاًچرواہے سے رجوع کرنے لگے تھے۔ اس خبر کو محل خاص تک پہنچنا ہی تھاکہ راجہ بھوج نے چرواہے کو اپنے دربار میں طلب کیا اور ا س سے پوچھا کہ تیرے پاس ایسی کون سی ودّیا ہے یا کون سا علم ہے کہ تو اَن پڑھ اور جاہل ہوتے ہوئے بھی لوگوں کو انصاف کی راہ بتاتا ہے۔راجہ کے اس سوال پر چرواہے نے جواب دیا کہ میں خود بھی نہیںجانتا ایسا کیسے ہو جاتا ہے۔میں تو بس جنگل میںایک خاص جگہ پر بیٹھ جاتاہوں اور جو بات مجھے صحیح سمجھ میں آتی ہے اسی کو میں لوگوں سے کہہ دیتا ہوں۔
چرواہے کی بات سن کر راجابھوج تعجب میں پڑ جاتا ہے اور جنگل میں اس جگہ پر کھدائی کرنے کا حکم دیتا ہے۔کھدائی میں ایک سنگھاسن نکل آتاہے، جس میں بتیس پتلیاں جڑی ہوتی ہیں۔اس سنگھاسن کو راجا بھوج کے محل میں رکھوادیاجاتا ہے۔اگلے دن جب راجہ خود اس سنگھاسن پر بیٹھنے لگتا ہے تو اس میں سے ایک پتلی زندہ ہو کرکہتی ہے کہ یہ سنگھاسن مہاراجہ بکرماجیت کاہے،جو عدل و انصاف اور شجاعت و سخاوت کے لیے مشہور تھے اورجس کسی کے اندر یہ خوبیاں موجود ہوں، وہی اس سنگھاسن پر بیٹھنے کا اختیار رکھتا ہے۔ راجہ بھو ج بکرماجیت کی طرح عدل و انصاف کرنے کا ارادہ کر کے دوبارہ سنگھاسن پربیٹھنے کی کوشش کرتا ہے تبھی اس میں جڑی ہوئی دوسری پتلی زندہ ہوکر راجا بکرماجیت کی شجاعت اور سخاوت کے بارے میں دوسری کہانی سناتی ہے۔اس طرح اس سنگھاسن میںجڑی تما م بتیسوں پتلیاں باری باری بکرماجیت کی بہادری اور انصاف کے قصے راجابھوج کو سناتی ہیں۔آخر کار راجہ بھوج کویہ تسلیم کر نا پڑتاہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے راجا بکرما جیت کے ہم پلہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس سنگھاسن پر وہ کبھی نہیں بیٹھ سکتا۔یوں ’سنگھاسن بتیسی‘ کی کہانیوں میں راجا بکرما جیت کے عدل و انصاف اورشجاعت و سخاوت ہی کو موضوع بنایاگیا ہے۔اس طرح ہرکہانی کا محور و مرکز عدل پروری، شجاعت پسندی اور سخاوت مندی ہی ہے۔لہٰذاچوتھی صدی عیسوی میںتخلیق کی گئی’سنگھاسن بتیسی‘کو کولاژ تکنیک کا ایک بہترین نمونہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
5 روشن خواب کی تکنیک
’روشن خواب‘کی تکنیک بھی مابعدِ دورِجدید کی ایجاد کردہ ہے۔یہ تکنیک بھی مغرب زدہ ہے،جس کے لیے انگریزی میں Lucid Dreamکی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ معنی ومطلب کے لحاظ سے اردو میں اس کے لیے میں نے’روشن خواب ‘ کی اصطلاح اختراع کی ہے۔ ماہر نفسیات کی نظر میں ’روشن خواب‘ ایک ایسا خواب ہے جس میں خواب دیکھنے والا شخص اس حقیقت سے واقف ہوتا ہے،جو وہ خواب میں دیکھ رہا ہوتاہے۔ روشن خواب دیکھنے والااپنی کسی جسمانی حرکت پر قابو نہیں رکھتا،لیکن وہ اپنے خواب میںذہنی طور پر تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس طرح کے خواب میںایک شخص جب خواب دیکھ رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنے اطراف و اکناف سے پوری طرح با خبر رہتا ہے۔یعنی وہ جوکچھ بھی خواب میں دیکھ رہا ہوتا ہے،وہی چیزیں اس کے پاس بھی ہو رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پراگر وہ نیند کی حالت میں یہ خواب دیکھ رہا ہو کہ ریڈیوپرکوئی گانا بج رہا ہے اور گانے کے بول اسے خواب میں سنائی دیتے ہیں تو وہی بول پاس کہیں ریڈیو پر نشر بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔یا پھر جس کام کو ہوتے ہوئے وہ اپنے خواب میں دیکھ رہا ہو،اس کے بیدار ہونے پر وہی کام اس وقت اس کے سامنے بھی ہو رہا ہوتا ہے۔یعنی جو خواب اس نے ابھی ابھی دیکھا تھا وہ خواب’ روشن خواب‘ کی تعریف میں آتا ہے،جس میں حقیقت کا عنصر لازمی طور پر شامل رہتا ہے۔
یہاں پر یہ انکشاف ضروری ہے کہLucid Dreamکی تکنیک پر سب سے پہلے Dr. Clare Johnson نے پی ایچ۔ ڈی۔ کی،جس میں انھوں اس تکنیک کے اصول و ضوابط بھی تیار کیے۔اس کے بعد انھوں نے اسی تکنیک پر ایک ناول’Breathing in Colour‘ کے عنوان سے لکھا،جو عوام میں بڑا مقبول ہوا۔ ایک امریکی خاتون ناول نگار Jo Harthan نے بعد میں اسی تکنیک پراپنا ناول’Daisy’s Grave‘تخلیق کیا اور یہ ناول بھی ادب میںکافی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔ گویا مغربی ادب میں اس تکنیک کا چلن اب عام ہونے لگاتھا۔
اردو میں خواب کی تکنیک پر کئی ناول اور افسانے لکھے گئے۔اس زمرے میںڈپٹی نذیر احمد کے لکھے ہوئے ناول’توبتہ النصوح‘ (1874)کوفوقیت حاصل ہے۔اس ناول میں نذیر احمد نے بیانیہ، فلیش بیک اور خطوط کے ساتھ خواب کی تکنیک کا استعمال بھی کیا ہے۔ اسی خواب کی تکنیک کو آگے آنے والے فکشن نگاروں نے بھی اپنایا،جن میں قابل ذکر ہیں عبدالحلیم شرر،انتظار حسین، انور سجاد، بلراج مین را، بلراج کومل، سریندر پرکاش،نیر مسعود، منشا یاد،اسد محمد خاں،خالد جاوید۔ گویااردو فکشن میں خواب کی تکنیک پر تومتعدد تخلیقات موجودہیں، لیکن’روشن خواب‘ جیسی تکنیک پر کوئی بھی تخلیق دیکھنے کو نہیں ملتی۔اسے میری کم علمی پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے۔
حواشی
1 ارسطو،بوطیقا،عزیز احمد(مترجم)،درد اکیڈمی،لاہور،1965،ص65
2 ڈاکٹر پریم بھٹناگر،ہندی اپنیاس شلپ: بدلتے پری پیکشیہ،ص10
3 ممتاز شیریں،معیار،نیا ادارہ،لاہور،1963،ص17
4 ڈاکٹر برج پریمی،حرف جستجو،دیپ پبلی کیشنز،سری نگر،کشمیر،1982،ص53
5 اطہر پرویز،منٹو کے نمائندہ افسانے،ایجو کیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ،2001،ص175-176
6 ایضاً،176
7 ڈاکٹر برج پریمی،حرف جستجو،دیپ پبلی کیشنز،سری نگر،کشمیر،1982،ص53
8M. H. Abrams, A Glossory of Literary Terms, Cengage Learning, Delhi, 2012, p .14
9 بحوالہ:سفینہ بیگم،اردو ناول :نظری و عملی بحث،عرشیہ پبلی کیشنز،دہلی،2022،ص207
10 گوپی چندنارنگ، جدیدیت کے بعد،ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،2005،ص15-16
11 ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی یہ تحریر اردو زبان و ادب کے معروف اسکالر نعیم بیگ کے فیس بک وال سے لی گئی ہے۔
12 ابوالکلام قاسمی،مشمولہ: مابعد جدیدیت :نظری مباحث، ناصر عباس ناصر(مرتب)، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور،2018، ص110
13 فرانز رو،مشمولہ: اردو افسانے میں جادوئی حقیقت نگاری(عبدالعزیز ملک)،مثال پبلی شرز، فیصل آباد،2014،ص23
14 کرسٹو فروارنس،مشمولہ:ایضاً،ص24
15 وینڈے بی فارِس،مشمولہ:ایضاً،ص27
16 شموئل احمد،عنکبوت،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،ص9-10
Dr. Md Nehal Afroz
Assistant Professor (Urdu)
Center for Distance and Online Education
Maulana Azad National Urdu University, Gachibowli
Hyderabad- 500032 (Telangana)
Mob : 9032815440
Email: nehalmd6788@gmail.com