تلخیص
پیش نظر تحریر کی بنیادسلطنت دکن کے ملک الشعرا غواصی کی مثنوی ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ کے ادبی و تہذیبی مطالعے میں مضمر ہے۔اس مثنوی کے مرتب میر سعادت علی رضوی نے مثنوی پر اپنے مقدمے میںاورڈاکٹرمحمد علی اثر نے کتاب’’غواصی:شخصیت اور فن‘‘میں،اولاً اِس مثنوی کے تہذیبی بیانات کا ذکر کیا تھا۔ اِس مضمون کا ایک پہلو یہ ہے کہ اِس میں کچھ نئے مقامات پر، مثنوی کے تہذیبی و لسانی پس منظر کے ساتھ مثلاً؛ مثنوی کے زبان و اسلوب، الفاظ و تراکیب، محاورے، شعری و ادبی صنائع کا استعمال، منظرکشی، سراپا نگاری، جذبات نگاری، مذہبی واخلاقی نظریات، تہذیبی آثارجیسے عنوانات پربات کی گئی ہے۔
مضمون کا دوسرا پہلو غواصی کے زمانۂ شاعری سے متعلق ایک خیال کی تصحیح ہے۔ بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غواصی کی شاعرانہ پختگی اور استادانہ مہارت کا اصل زمانہ محمد قطب شاہ کا دورِحکومت ہے۔ اس کے لیے غواصی کی شاعری کی ابتدا اور مثنوی کے زمانی تعین کے حوالوں سے بحث کی گئی ہے۔ مثلاً سعادت علی رضوی اور غلام عمرخاںمرتب ’میناستونتی‘ کے بیانات سے یہ تصور قائم ہوتا ہے کہ غواصی نے محمدقطب شاہ کے زمانے میں شاعرانہ پختگی حاصل کی۔ حالانکہ ملا وجہی نے جس طرح اپنی مثنوی ـ’قطب مشتری‘ میں غواصی کو حریفانہ مخاطب کیا ہے اوراس پر چوٹ کی ہے،اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ غواصی کی شعری صلاحیتیں محمد قلی قطب شاہ کے زمانے ہی میں اس درجے پر پہنچ چکی تھیں کہ وجہی جیسا مسلم الثبوت شاعر اس سے حریفانہ خطاب کرے اور اس کی شاعری کو اپنی قدرت الکلامی کا پیمانہ بنائے۔ سعادت علی رضوی نے ’حدیقۃ السلاطین‘ کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ 1041ھ میں جب سلطان عبداللہ قطب شاہ کے گھر لڑکے کی پیدایش ہوئی تو ملا وجہی اور غواصی دونوں نے تاریخ ولادت کہی۔ وجہی کی تاریخ تھی ’آفتاب از آفتاب آمد پدیدـ‘ جب کہ غواصی نے تاریخ کہی ’محفوظ باد‘۔ یہ واقعہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غواصی نے سلطان کی توجہ اورادبی شہرت میں وجہی کو پالیا تھا۔1؎
اِس مبحث کا تیسرا، اور ضمنی پہلو قطب شاہی سلطنت کے چھٹے فرماں روا اور محمد قلی قطب شاہ کے بھتیجے و داماد محمد قطب شاہ کی ذات ہے جس کی علم شناسی اور ادب پروری پر کچھ ادبا و مؤرخین نے سوالیہ نشان قائم کیا ہے۔ سعادت علی رضوی، غلام عمرخاں اور محمدعلی اثر وغیرہ کے تذکروں سے یہ گمان ہوتا ہے کہ محمد قطب شاہ علم و ادب کی چاشنی سے محروم اور زبان و ادب کی سرپرستی سے بے نیاز بادشاہ تھا۔ حالانکہ پچاس ہزار اشعار پر مشتمل محمدقلی قطب شاہ کا دیوان مرتب کرنا، اس پر ایک طویل اور منظوم دیباچہ لکھنا اور فارسی شعروادب کا دل دادہ ہونا، یہ ساری باتیں اِس بادشاہ کے علمی کمال اور زبان و ادب سے اس کی دلچسپی کی دلیل ہیں۔
کلیدی الفاظ
ادبی روایت، کلاسیکی ادب، دکنی منظومات، مثنوی، غواصی، سیف الملوک وبدیع الجمال، لسانی تسلسل، تراکیب و محاورات، صنائع و بدائع، زبان و اسلوب، کلاسیکی بیانیہ، منظرنگاری، سراپا نگاری، تہذیبی مطالعہ، مشرقی تہذیبی روایت
————
غواصی کے حالات
دکنی شعرا کی ابتدائی زندگی، تعلیم و تربیت اور دوسرے کوائف کے بارے میں نہایت کم معلومات پائی جاتی ہیں۔اسی طرح کسی شاعر کے تعلق سے یہ معلوم کرنا کہ اسے کس سے شرف تلمذ حاصل تھا، قریب قریب ناممکن ہے۔ غواصی کی تاریخ پیدائش بھی معلوم نہیں۔ غواصی کے تذکرہ نگاروں مثلاً میرسعادت علی رضوی کا خیال ہے اورـغلام عمرخاں کے بیانات سے بھی یہ راہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ غواصی سلطان ابراہیم قطب شاہ کے عہد میں پیدا ہوا ہوگا۔ غواصی کی شاعرانہ تعلیم کے متعلق بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے کسی کی شاگردی اختیار کی یا خدائی عطا اور ذاتی صلاحیت پر بھروسا کیا۔ حالانکہ مثنوی کے مرتب میرسعادت علی رضوی نے درایت سے کام لیتے ہوئے لکھا ہے:
ــ’’غواصی نے اپنی تصانیف میں کسی ہمعصر شاعر کا ذکر کیا ہے نہ متقدمین کا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو فنِ شعر میں کس قدر اعلیٰ اور اکمل سمجھتا تھا۔ اس واقعہ سے ایک مبہم قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس نے کسی کی شاگردی نہیں کی۔‘‘2؎
سلطان عبداللہ قطب شاہ کے زمانۂ حکومت میں غواصی کو عروج حاصل ہوا۔ سلطان عبداللہ قطب شاہ نے اسے ملک الشعرا بنایا اور1045ھ میںعادل شاہی سلطنت میں سفارت پربھیجا۔ قیوم صادق اور سعادت علی رضوی کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ غواصی نے عمر کا آخری زمانہ گمنامی میں بسر کیا۔قیوم صادق کا اندازہ ہے کہ آخری عمر میں غواصی اپنے وطن بیدر چلا گیا تھا، وہیں پر اس کی وفات ہوئی۔سعادت علی رضوی کا قیاس ہے کہ غواصی کا انتقال سلطان عبداللہ قطب شاہ کے زمانے میں ہی ہوا ہوگا۔
غواصی کی شاعری
غواصی نے مثنوی، قصائد اور غزل کی اصناف میں کثیرسرمایہ چھوڑا ہے۔ زبان کی قدامت کے باوجود، غواصی کی شاعری، دکنی ادبیات کا قیمتی سرمایہ ہے۔ غواصی کی تین مثنویاں اب تک منظرعام پر آئی ہیں۔(1)مینا ستونتی، (2)سیف الملوک و بدیع الجمال اور(3) طوطی نامہ۔ میناستونتی کو غلام عمرخاں نے مرتب کرکے 1965 میں شائع کیا ہے۔مثنوی سیف الملوک اور بدیع الجمال اور طوطی نامہ کو میرسعادت علی رضوی نے مرتب کیا اور یہ دونوں 1357ھ میں مجلس اشاعت دکنی مخطوطات سے شائع ہوئیں۔
سیف الملوک وبدیع الجمال اور طوطی نامہ کے مقابلے مینا ستونتی میں فطری ماحول، مقامی روایت اور طرزبیان کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔اس مثنوی میں قدیم داستانی بیانیے کے مطابق سادگی، واقعہ نگاری اور قصے کے ماحول کی فطری عکاسی پر زور دیا گیا ہے۔مثنوی ’طوطی نامہ‘ غواصی کے آخری زمانے کی تصنیف ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ شاعر عزت، شہرت اور دیگر تمام دنیوی لذتوں کا سکھ بھوگ چکا تھا۔ عمر کا آخری پڑاؤ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اِس مثنوی میں لذتِ دنیا سے بیزاری اور ترکِ دنیا کی بات کرتا ہے۔ محمد علی اثر کے بقول ’’وہ دنیا کو ایک ایسی دوشیزہ سے تشبیہ دیتا ہے جس کا ایک ہاتھ لہو میں ڈوبا اور دوسرا مہندی سے رچا ہوا ہے۔‘‘موضوع کے تقاضے کی بنا پر اس مثنوی میں نسوانی فطرت کے گوناگوں پہلو نظرآتے ہیں۔ روانی اور سادگیِ بیان کے ساتھ اس مثنوی میں انسانی جذبات و اثر کی فراوانی ہے۔غواصی کی مذکورہ دونوں مثنویوں میناستونتی اور طوطی نامہ کے برخلاف مثنوی ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ اگرچہ الف لیلہ کے فارسی قصے پر مبنی ہے، تاہم اس کی تصنیف میں محض ترجمے سے کام نہیں لیا گیا۔ غواصی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے قصے کو ایک طبع زادتصنیف بنا دیا ہے۔
محمد عادل شاہ کی سفارت کے جواب میں، 1045ھ میں عبداللہ قطب شاہ نے غواصی کو سفیر بنا کر بیجاپور بھیجا۔ قیامِ بیجاپور کے زمانے میں غواصی نے جس عمدگی سے اپنے کمال فن کا مظاہرہ کیا، اس کی وجہ سے بیجاپور کے ملک الشعرا نصرتی اور مقیمی نے اپنی تصانیف میں اس کا ذکر احترام و عقیدت کے ساتھ کیا ہے۔ غواصی کا یہ دعوی کہ تمام ہندوستان اس کی مٹھاس کا رسیا ہے، کچھ بیجا نہیں تھا۔
مرا گیان عجب شکرستان ہے
جو اس تے مِٹھا سب ہندستان ہے
جتے ہیں جو طوطی ہندستان کے
بھکاری ہیں منج شکرستان کے
غلام عمر خاں مرتب’مینا ستونتی‘ نے لکھا ہے کہ بادشاہ نے غالباً اسے ’فصاحت آثار‘ کے خطاب سے بھی نوازا تھا، کلیاتِ غواصی کے ایک قصیدے میں ایک جگہ یہ واضح اشارہ ملتا ہے ؎
ہزار شکر جو خوش ہوکے یو شہِ عارف
خطاب منج کو دیاہے فصاحت آثاری3؎
سعادت علی رضوی اور غلام عمرخاںکے بیانات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قلی قطب شاہ کے دور میں غواصی مشق و ممارست کی حالت میں تھا، اس کی شاعری میں پختگی محمد قطب شاہ کے زمانے میں آئی اور شہرت و ترقی عبداللہ قطب شاہ کے زمانے میں نصیب ہوئی۔رضوی لکھتے ہیں:
’’…سلطان محمد قطب شاہ کا عہد حکومت بھی یونہی گزرگیا حالانکہ اس نے اپنی پہلی طویل نظم مثنوی سیف الملوک و بدیع الجمال اسی عہد میں لکھنی شروع کی تھی۔‘‘4؎
اور غلام عمرخاں ’میناستونتی‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’غواصی، وجہی اور محمدقلی کے مقابلے میں کم عمرتھا۔ قیاس ہے کہ عہد محمدقلی (1580تا1625) کے نصف آخر میں یعنی سولہویں صدی کے ربع اول میں اس نے مشق و مزاولت کی بدولت شعرگوئی میں مہارت حاصل کرلی تھی۔‘‘5؎
لیکن واقعہ یہ نہیں، جمیل جالبی نے لکھا ہے:
’’1018ھ/1609 میں ملا وجہی نے قطب مشتری لکھی تو اس وقت غواصی کی شہرت گولکنڈا میں اتنی پھیل چکی تھی کہ خود پسند وجہی کو غواصی کی ذات میں اپنا حریف نظر آنے لگا تھا۔‘‘6؎
اِس کے علاوہ محی الدین قادری زور اس بات کے قائل ہیں کہ عہد محمد قلی قطب شاہ میں غواصی کی شاعری نے جب کہ وہ وجہی کا حریف بن چکا تھا، اس کو مشہور کیا۔ محمدعلی اثر نے لکھا ہے:
’’ غواصی نے بادشاہ وقت محمدقلی قطب شاہ کی غزلوں کے مقابلے میں انہی زمینوں میں غزلیں کہی ہیں۔‘‘ 7؎
مثنوی قطب مشتری میں ملا وجہی کے مندرجہ ذیل شعر غواصی کی تعریض میں مانے گئے ہیں ؎
اگر غوطے لک برس غواص کھاے
تویک گوہر اِس دھات امولک نہ پاے
یو موتی نہیں وو جو غواص پائیں
یو موتی نہیں وو جو کِس ہاتھ آئیں
غواصاں کِتے غوطے کھا کھائے کر
موے ہیں سو اس سمد میں آئے کر
جمیل جالبی، محی الدین قادری زوراور محمدعلی اثروغیرہ کے بیانات اور اِن اشعار کی موجودگی میں یہ بات قرینِ قیاس نہیں کہ غواصی کی شاعری قلی قطب شاہ کے دور میں’حالتِ مشق‘میں تھی۔ ملا وجہی جیسے مستند شاعر سے یہ بعید ہے کہ وہ کسی مبتدی اور’ہاتھ پیر مارتے‘شاعر کا ذکر ایک ایسی تصنیف میں لائے گا، جو سلطانِ وقت کے سامنے پیش کی جانی ہو۔جس طرح سے غواصی نے قصے کی بافت اور بیان میں تبدیلیاں کی ہیں اور رِوایتی قصے میں تبدیلی و ہنرمندی کا جو تناسب ہے، اس سے وہ قصے کا حق دار ہوجاتا ہے۔
غواصی اور محمد قطب شاہ
غواصی نے مثنوی ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ کی تصنیف محمد قطب شاہ ہی کے زمانے میں کرلی تھی، لیکن اس کی خشک طبیعت کی وجہ سے کسی نمایاں مرتبے کو نہیں پہنچ سکا، اس بات کا تذکرہ سعادت علی رضوی، غلام عمر خاںاور محمد علی اثر وغیرہ نے کیا ہے۔8؎ اِن بیانات سے گمان گزرتا ہے کہ محمد قطب شاہ ایک ایسا بادشاہ تھا، جو علم و ادب کی چاشنی سے محروم اور زبان و ادب کی سرپرستی سے بے فیض تھا۔ حالانکہ جمیل جالبی نے محمد قطب شاہ کا جس انداز سے ذکر کیا ہے، اس سے ایک الگ تصویر بنتی ہے:
’’اس (محمد قلی قطب شاہ) کے مرنے کے بعد1020ھ/1611 میں اس کا بھتیجا اور داماد محمد قطب شاہ، بادشاہ بنا تو اس نے بھی اِس روایت کو زندہ و برقرار رکھا۔ وہ ایک نیک دل، شریف النفس اور مذہبی انسان تھا۔ اس نے اپنے چچا کا کلیات مرتب کیا اور اس پر ایک طویل منظوم دیباچہ بھی لکھا۔ وہ خود بھی شاعر تھا اور ظِل اللہ تخلص کرتا تھا۔ فارسی شاعری اور مذہب و تاریخ کا دل دادہ تھا۔ کتابیں پڑھنے اور ان پر اپنی رائے لکھنے کا اسے خاص شوق تھا۔‘‘9؎
پچاس ہزار اشعار پر مشتمل محمد قلی قطب شاہ کا دیوان مرتب کرنا، اس پر ایک طویل اور منظوم دیباچہ لکھنا، فارسی شعروادب کا دل دادہ ہونا؛ اِن سب باتوں کی موجودگی میں علم و ادب کے تعلق سے’’یبوست‘‘والی بات محمد قطب شاہ کی ذات سے میل نہیں کھاتی۔ ایسی صورت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بادشاہ کی نظر میں بوجوہ کوئی شاعر اعتبار حاصل نہ کرسکا۔
مثنوی کی تصنیف
مثنوی ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ کے مرتب میرسعادت علی رضوی نے لکھا ہے کہ سنہ تصنیف کے متعلق یہ تحقیق شدہ ہے کہ1035ھ میں غواصی نے اس کی تکمیل کی۔ البتہ تحقیق طلب صرف یہ امر کہ اِسے سلطان محمد (قطب شاہ)کے زمانے کی تصنیف سمجھنا چاہیے یا سلطان عبداللہ قطب شاہ کی۔ نواب صاحب (سالار جنگ بہادر) کے کتب خانے کے ایک نسخے میں بادشاہ کی تعریف کے تحت ہمیں پہلا شعر حسبِ ذیل ملا جو دوسرے کسی نسخے میں درج نہیں ہے ؎
سو سلطان محمدؐ قطب شاہ گنبھیر
جگ آدہار ہے ہور جگ دستگیر
رضوی کے بقول؛ مذکورہ نسخے کے علاوہ باقی نسخوں میں ’سلطان عبداللہ آفاق گیر‘‘ آیا ہے۔ اس کا تصفیہ انھوں نے اس طرح کیا کہ:
’’سلطان محمدؐ کا انتقال ماہِ جمادی الاول 1035ھ میں ہوا۔ اور اسی ماہ میں سلطان عبداللہ تخت نشین ہوا۔ غواصی نے جمادی الاول 1035ھ کے قبل ہی یہ کتاب ختم کرلی تھی۔ محرم سے جمادی الاول تک خواہ کسی ماہ میں لکھی ہو۔ اور اس کا منتظر تھا کہ دربار میں رسائی حاصل ہو اور وہ بادشاہ کے نام سے معنون کرکے خود پیش کرے اسی آرزو میں سلطان محمد کا انتقال ہوگیا اور اسے موقع نہیں ملا۔ سلطان عبداللہ کے تخت نشین ہوتے ہی اسے آثار و قرائن سے یہ محسو س ہونے لگا کہ بہت جلد وہ دربارِ شاہی تک پہنچ جائے گا پس اس نے سلطان محمد کا نام اشعار سے نکال کر سلطان عبداللہ کا نام لکھ دیا۔‘‘10؎
مثنوی کا قصہ
’سیف الملوک و بدیع الجمال‘کے قصے میں کوئی ندرت نہیں پائی جاتی۔ کہانی عہدِ وسطیٰ میں شعری اظہار کے عام موضوع پر مشتمل ہے۔ عقل و نظر کی گرفت سے دور گذشتہ زمانے کا ایسا بادشاہ جو شومیِ قسمت سے اولاد کا محتاج تھا۔ سلطنت کے نجومی بڑے جتن کے بعد حل بتاتے ہیں کہ اگر وہ سلطانِ یمن کی بیٹی سے نکاح کرے تو گوہرِ مراد حاصل ہو۔ شادی ہوتی ہے، اولاد ہوتی ہے۔ لڑکے کا نام سیف الملوک رکھا جاتاہے۔ قسمت سے وہ شہپال ابن شاہ رخ شاہِ جنات کی بیٹی بدیع الجمال پرعاشق ہوجاتاہے۔ بدیع الجمال تک پہونچنے میں ہزار آفتیں آتی ہیں، ہر بات میں نئی کہانی، ہر حلقے میں ایک نیا جال تیار ہوتا ہے۔ آخر سیف الملوک و بدیع الجمال کی شادی ہوتی ہے اور قصہ تکمیلِ مراد کے ساتھ سننے اور پڑھنے والوں کی امیدوں کو زندہ رکھتا اور حوصلوں کو بڑھاتا اپنے اختتام کو پہونچ جاتا ہے۔
قصے کا ماخذ
غواصی نے مثنوی میں کہیں بھی قصے کے ماخذ کا ذکر نہیں کیا۔ وہ اسے اپنی تخلیقی نظم بتاتا ہے۔ مثنوی کے مرتب سعادت علی رضوی اس قصے کے ماخذ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ قصہ الف لیلہ کے فارسی ترجمہ کا ایک مشہور افسانہ ہے۔ اس میں مصر کے شہزادہ سیف الملوک اور اجنہ کی شہزادی بدیع الجمال کے حسن و عشق کی داستان مذکور ہے۔ غواصی نے اسی فارسی نثر سے دکنی نظم میں ترجمہ کیا ہے۔ ایک عرصہ کے بعد عہد اورنگ زیب عالمگیر میں مرزا بدیع اصفہانی نے شمشیر خاں کی فرمائش پر اس قصہ کو فارسی میں نظم کیا اور’گلدستۂ عشق‘نام رکھا۔‘‘11؎
سعادت علی رضوی نے نصیرالدین ہاشمی کی کتاب ’یورپ میں دکھنی مخطوطات‘ کے حوالے سے قصے کا ایک اور ماخذذکر کیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ قصہ سلطان محمود غزنوی کی دلچسپی کے باعث وجود میں آیا۔
دکنی شعرا نے اپنی مثنویات کے سلسلے میں عموماً اپج، نئے پن اور فنی ہنرمندی کا دعویٰ کیا ہے۔ غواصی استاد شاعر اور ملک الشعرا تھا، اس نے بھی اپنے کمال کے سلسلے میں کسی کسرنفسی سے کام نہیں لیا۔ اور توکچھ نہیں، البتہ سعادت علی رضوی نے اِس کے ’اپج‘ والے دعوے پرکلام کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’غواصی کی تعلی اور ہمہ دانی کا ثبوت اس وقت تک صرف دو کتابیں دریافت ہوئی ہیں مثنوی سیف الملوک بدیع الجمال اور طوطی نامہ لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ کوئی فیصلہ کن ثبوت نہیں کیونکہ یہ دونوں کتابیں اتفاق سے فارسی کے ترجمے ہیں کوئی اپجی تصنیف نہیں۔ ترجمے سے کسی شاعر کے قوتِ تخیل اور تصرفِ الفاظ کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا البتہ اس کی کہنہ مشقی ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘12؎
قصوں کی اپج کے بارے میں دکنی شعرا کی تعلیات کو لکیرسے ہٹ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قدیم سماج میں کسی قصے کی موجودگی اِن شعرا کے دعوے کو باطل نہیں کرتی۔ ادب کی دنیا میں وہ روایات و قصص جو نسلاً بعد نسل چلے آرہے ہیں، ان میں جان اور دلچسپی، قصے کی ابجد و ہوز سے نہیں بلکہ راوی کے طریق و طرزِ بیان سے پیدا ہوتی ہے۔ مثنوی’گلزارِ نسیم‘کے قصوں کو معاشرہ پہلے سے جانتا تھا، ’سحرالبیان‘کی کہانیاں صدیوں سے تھیں۔ موجود قصے تھے، کہاتے بھی آرہے تھے، دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان میںگل و گلزاروالی بات اورجادوبیانی کہاں سے اور کیسے آئی۔
مثنوی کے زبان و اسلوب
ایک عام رائے کے مطابق بیجاپوری تخلیقات پر ہندوی جبکہ گولکنڈاکی تصنیفات پر فارسی اثرات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گولکنڈے کا ہونے کے باوجود غواصی کی زبان پر دکنی و پراکرت الفاظ کا تناسب زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ جب عبداللہ قطب شاہ نے اسے سفیر بنا کربیجاپور بھیجا توشعراے بیجاپور کو غواصی کی شکل میں ایک نسبتاً بہتر اور پسندیدہ اسلوب مل جاتا ہے۔ سعادت علی رضوی نے ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ کے زبان و اسلوب پر بات کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’غواصی کے کلام میں دکنی الفاظ کا عنصر بہ نسبت فارسی کے بہت زیادہ ہے بعض مقامات پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ عمداً دکنی لفظ استعمال کررہا ہے۔ چنانچہ اسی نظم میں جو ’تعریفِ سخن‘ کے عنوان کے تحت ہے وہ بجائے’سخن‘کے ’بچن‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے اسی طرح جیو، جِیب، بھومان، جگت، گڑان، فام، رتن، کہان، بہان، وغیرہ دکنی الفاظ کی ہر جگہ بہتات ہے اور غواصی بے تکلف استعمال کرتا چلا جاتا ہے۔‘‘13؎
نئے الفاظ و تراکیب
دکنی شعرا کا دور، اردو کی تشکیل اورنشوونما کا زمانہ تھا۔ ایک نئی زبان وجود میں آرہی تھی، وہ شاعر ہی نہیں، تخلیق کار بھی تھے۔ غواصی نے بھی ایسے بہت سے الفاظ کا استعمال کیا۔ کچھ الفاظ اور تراکیب ایسے ہیں جو بعد کے زمانے میں مستعمل نہیں رہے، لیکن ان کی معنویت اور ان کے چلن کا امکان آج بھی باقی ہے ؎
او دانا و عاقل جواں مرد تھا
مسلماں خدا ترس بادرد تھا
بادرد: دردمند
النگتے النگتے چلے تا یمن
خبر کیے یمن کے شہنشاہ کن
النگنا:لانگھنا۔ اس لفظ کی لغوی تفصیل اس طرح ہے؛ الکنا: پھاندنا۔ الگنا: لانگھنا، الانگنا۔ النگنا: چھلانگ کر عبور کرنا۔ اِسی سے النگ: چھلانگ ہے، اور النگنی: کمرے میں لگایا ہوا بانس جس پر کپڑے ڈالتے ہیں(دکھنی لغات) ہمارے بارہ بنکی و اطراف میں اسے الگنی کہا جاتا ہے۔14؎
دیا کر جو مجکوں کیا یاد توں
سو روں روں کوں میرے کیا شاد توں
روں روں: رواں رواں
صبا اٹھ بلا دور دے بے شمار
ہتی ہور گھوڑے ہزاراں ہزار
بلا دور:صدقہ
سوآئے دریغے ادکہہ داٹ کر
ہوا سخت بے سد سینا پھاٹ کر
داٹ: مضبوط، شدید، پار کرنا (کنڑ)۔ داٹنا: رعب ڈالنا، پکڑنا، گھیرنا۔ (دکھنی لغات) اب اس لفظ کو’ڈٹ‘ کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے مثلاً ڈٹ کر مقابلہ کرنا، یا (کوئی چیز) ڈٹ کر کھانا وغیرہ
سلح پوش سارے بڑے دہات کے
بڑت تھوبڑے ہور بڑے ذات کے
ذات: نسل، ڈیل ڈول۔ اب یہ لفظ ڈیل ڈول کے لیے نہیں، ہاں نسل اور نسلی خصوصیات کے لیے بولا جاتا ہے، مثلاً بدذات، کمینہ ذات ؎
بڑے دبدبے سات لیایا اسے
سوپھل نیر سوں مکھ دہولایا اسے
پھل نیر:لغت میں اس کے معنی گلاب دیے ہوئے ہیں جوکہ درست نہیں معلوم ہوتا، گلاب جل ہونا چاہیے تھا۔
محاورے
بندا اس کے گھر کا سو اقبال تھا
بسا سو اسے کوٹھریاں مال تھا
اقبال و ترقی کا (کسی کے گھر میں) غلام ہونا۔ بات کرتے ہیں تو عموماً کسی کے اقبال مندی کا ستارا عروج پر ہوتا ہے یا کسی کے اقبال کا سورج بلند ہوتا ہے لیکن غواصی نے اقبال و ترقی کو دست بستہ دہلیز پر لاکھڑا کیا ہے ؎
کہوں کیا تج اے شاہ شکر لباں
کہ یاں لٹ پٹاتی ہے میری زباں
زبان کا لٹ پٹانا۔ ’دکھنی لغات‘ میں ’ لٹ پٹانا‘ کے معنی لپٹنا اور لپٹانا، دیے ہیں۔ اشتہا انگیز ذائقے کے تصور سے منہ میں رال کی آمد پر زبان ایک حالت میں نہیں رہتی، متحرک ہوجاتی ہے ؎
کہ دہرتا ہوں سینے میں لک خار خار
پڑے ہیں کلیجے میں روزن ہزار
کلیجے میں روزن ہونا: کلیجے میں چھید ہونا
کہوں کیا تجے کہنے کی بات نیں
کہ یاں اختیاری میرے ہات نیں
بے اختیار ہونا: اس کے دو استعمال ہیں ‘لاچار و بے بس ہونا’، یا جذبات سے مغلوبیت میں اپنے آپ پر قابو نہ رہنا
ہنسی سات گلریز جیوں باغ تھی
کلیجاں پہ حوراں کے جیوں داغ تھی
کلیجے پر داغ ہونا: یعنی ایسی خوبصورت کہ سوزشِ رشک و حسد کی وجہ سے حوروں کے کلیجے پر داغ پڑگیا تھا۔
دیکھیاں جیوں بھتیجی کوں آپیں چچا
سو پتلی کر انکھیاں کی لیتا اچا
آنکھوں کی پتلی کرنا: غایت درجے کی محبت کے ساتھ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے رکھنا۔ آنکھوں کی پتلی ہونا محاورہ ہے ؎
دل اس کا بہت دہات سوں ہات لے
کلیجے کے ٹکڑے کوں سنگات لے
دل ہاتھوں میں لینا: دل سازی کرنا، دم ساز ہونا۔ مرزاسودا کہتے ہیں ؎
کون ایسا ہے جسے دست ہو دل سازی میں
شیشہ ٹوٹے تو کریں لاکھ ہنر سے پیوند
ہزار آرزو سات دونوں ملے
خوشی کے کلیاں ہر طرف تے کھلے
ہزار آرزوؤں سے ملنا: ’بصد شوق ملنا‘ محاورہ مستعمل ہے۔
رکھیا اس ہتیلی کے پھوڑے نمن
ہو درمان اس کا کیا دکہہ بہجن
ہتھیلی کے پھوڑے کی طرح رکھنا
بہت سنبھال کے رکھنا اور بچانا
نہ اسمان دستا نہ کیں دہرتری
چھٹی سیس تے پانؤ لگ تہرتہری
تہرتہری چھوٹنا: کپکپی طاری ہونا، تھرتھرکانپنا
میرا ہور میری مائی کا رکہہ رواج
مہرواں ہو ہر طریق اس پہ آج
رواج رکھنا: عزت رکھنا۔
سو بیٹھا دیکھی مست اس ٹھار اسے
چڑیا ہے بدن کا سو خوش لہار اسے
(خوبصورت) بدن کی لہر چڑھنا: انسانی حسن کا نشہ چڑھنا
کیتک اس منے پھول کیتے کلیاں
دیکھیں تو نین کوں اٹہیں گدگلیاں
آنکھوں میں گدگدی ہونا: مارے خوشی کے آنکھوں کا بار بار کھلنا بند ہونا
غضبناک ہو جیوں انگے دل ہوئے
کلیجے پہاڑاں کے پہٹ جل ہوئے
کلیجہ پھٹ کے پانی ہونا۔ ‘پِتا پانی ہونا’ استعمال میں ہے۔
ایک جزیرے پر جب آتشی لڑکی اس سے صحبت کی بات کرتی ہے تو شہزادہ کہتا ہے کہ جس عورت کے لیے خوار ہورہا ہوں، جب تک وہ نہیں ملتی کسی اور سے اختلاط کی بات بھی نہیں سوچ سکتا، اِس لیے تو کوئی خیال اپنے دل میں نہ پکا ؎
بغیر وو ملے کِس سے نا ہوؤں جفت
نکو دل میں ہانڈی پکا نار مفت
مفت کی ہانڈی پکانا: خیالی پلاؤ پکانا۔ اِس کے علاوہ مثنوی میں ’بے سدھ ہونا‘، ’امیدوں کا غنچہ کھلنا‘، ’فاختے اڑنا‘، ’درہم برہم ہونا‘، ’بخت کے کِواڑ کھلنا‘، ’آوازہ عرش تک پہنچنا‘ جیسے دیگر محاورے بھی آئے ہیں۔
تکرار برائے کثرت
نول عاصم اس راج کا نیک نانوں
شہاں میں اتھا اس شرف ٹھاوں ٹھاوں
ٹھاوں ٹھاوں: جگہ جگہ
بٹے باٹ دہگ نورتن کے بچھائے
مرصع کے خوش بارگاہاں اچائے
بٹے باٹ: جگہ جگہ۔ باٹ بمعنی راستہ۔ اردو میں ‘باٹ دیکھنا’ محاورہ ہے، جس کے مرادی معنی ہیں انتظار کرنا۔
پریشان اس کا ہوں ملکے ملوک
بہریا ہے رگے رگ منیں اس کا دوک
ملکے ملوک: ملک در ملک۔ رگے رگ: رگ رگ میں، نس نس میں
کہ پہرتا ہوں نِت یاں دوکانے دوکان
نہ پیونے کوں پانی نہ کھانے کوں کہان
دوکانے دوکان: دکان تا دکان
مبالغہ
غواصی کی شاعری میں مبالغے کی شکلیں بھی پائی جاتی ہیں۔ بطورِ مثال ؎
جتا کچ ہے نازل دوکہہ آفاق پر
جمیا ہے وو دوکہہ میرے سینے بہیتر
یعنی کل کائنات کا دکھ ایک طرف اور اکیلے میرا دکھ ایک طرف۔
شاہ قلزم اور شہپال بن شاہ رخ کی فوجیں جنگ کررہی ہیں۔ یہ دونوں بھی موجودہیں اور اپنی اپنی فوجوں کے دل بڑھا رہے ہیں۔ اِن دونوں یودھاؤں کا غصہ اتنا تیز اور سخت ہے کہ ساتوں آسمان درہم برہم ہوئے جارہے ہیں ؎
جو دوراج دودہرتے برہم ہوئے
گگن ساتو ہیبت تے درہم ہوئے
تشبیہات
دکنی ادب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ صنعت و ہنرمندی کے باب میں دکنی شعرا نے تشبیہ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ غواصی ملک الشعرا تھا، اس کا پالا ملا وجہی جیسے استاد شاعر سے پڑا تھا۔ یہ بعید تھا کہ وہ تشبیہ سے کام نہ لیتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے بہتر سے بہتر تشبیہ کا استعمال کیا ہے۔
.1 عاصم نول بادشاہِ مصر ہے۔ تمام جاہ و جلال کے ساتھ ایک مستقل دکھ ہے کہ وہ بے اولاد ہے۔ اِن دونوں باتوں کے اظہار کے لیے ہمیشہ بہار درخت’سرو‘کی تشبیہ لاتا ہے اور بادشاہ کی بے اولادی کو کنایتاً بیان کرتا ہے:
ادِک چھاؤں کا روکہہ تھا شہریار
ولے سروِ آزاد جیوں تاجدار
.2 عاصم نول کے ساتھ بیٹی کی شادی میں شاہِ یمن نے جو کنیزین بھیجی تھیں، ان کی خوبصورتی اور نازک بدنی کو ڈھلے ہوئے صاف موتی سے تشبیہ دیتا ہے ؎
ہریک صاف تن ڈہال موتی دیسے
نوے رنگ جالی میں جوتی دیسے
.3 شاہِ یمن بادشاہِ مصر کے پیغام کو قبول کرتے ہوئے اس کی تعریف کرتا ہے اور درازیِ عمر کی دعا مانگتے ہوئے اس کی عمر کو بیل کہتا ہے ؎
نوازیا مجھے ہور کیا سرفراز
بڑے عمر کی بیل تیرے دراز
.4 عاصم نول جب شاہِ یمن کی بیٹی کو ساتھ لے کراپنے شہر کو چلا ہے تو اس جلوس میں ہاتھیوں کے گزرنے کو پہاڑوں کے چلنے سے تشبیہ دی ہے ؎
متی ہست آنگے سہاتے اتھے
پہاڑاں مگر چل کر آتے اتھے
.5 سیف الملوک اور اس کے ساتھی زنگیوں سے بچ کر ایک جزیرے میں پہونچتے ہیں۔ وہاں موجود گھڑیالوں کی آنکھ کی مثال دیتا ہے ؎
انکھیاں دور تھے سو دیسے انکے یوں
اندہارے منے ڈیوتیاں لائے جیوں
.6 سراندیل کی شہزادی بدیع الجمال کو بہلا کر سیر کو لے جاتی ہے۔ باغ میں نہایت خوبصورت ماحول ہے۔ پیڑ پودوں پر مستی چھائی ہے۔ سحرکے وقت پتوں پر شبنم کی جو بوندیں پڑگئی ہیں، وہ ایسی ہیں جیسے خوبرویوں کے ہاتھ میں موتی ؎
اتھے بند شبنم کے یوں پات میں
رتن خاص خوباں کے جیوں ہات میں
ایک دوسری جگہ چہرے پر گرتے آنسوؤں کوپھول پر پڑتے شبنم کے قطرات سے تشبیہ دیتا ہے ؎
دودیداں کے انجہواں سوں مشغول کر
چھنکنے لگیا شبنم اس پھول پر
.7 محبوب کی خوابیدہ آنکھوں میں ہزار فتنے چھپے ہوتے ہیں، اور شاید اسی لیے کسی عاشق نے انھیں جگانے کی کوشش نہیں کی۔غواصی آنکھوں کو فتنے سے تشبیہ دیتا ہے اور اِسی مناسبت سے وہ پپوٹوں کے لیے کواڑ کی ترکیب لاتا ہے ؎
نکو کھول فتنے کے موندے کواڑ
نکو توں ستم منج کوں بہار کاڑ
.8 شاعر گال پر زلفوں کے پیچ کو خزانے پرکنڈلی مارے ناگ سے تشبیہ دیتا ہے ؎
سو پر پیچ زلفاں کوں دیک گال پر
کنڈل گھال بیٹھا بھجنگ مال پر
.9 محبوب کے لانبے بالوں کے لیے ناگ کی تشبیہ شعرا استعمال کرچکے تھے، غواصی کیوں پیچھے رہتا۔ کہتا ہے قدموں کو جہاں تہاں چھوتے کالے لمبے بال ایسے لگ رہے ہیں جیسے ناگ لڑ رہے ہوں ؎
پڑے بال کالے سوجاں تاں تلے
سو جیوں ناگ لِڑتے ہیں پاواں تلے
منظر کشی
اردو شاعری میں منظر نگاری والی بات 1857 کے بعد ادب میں اٹھی، اصلاحی تحریکوں اور رویوں کا نتیجہ تھی، جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ انگریزی ادب سے اثر پذیری کا نتیجہ ہے۔ تاہم ایک ادبی خوبی کے طور پریہ قدیم شعرا کے یہاں موجود اور ان کی شاعری کا حصہ تھی۔ محمد علی اثر رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’فطرت پرستی اور منظر نگاری کی ابتدا کا سہرا غالباً محمد قلی کے سر ہے لیکن اس کی منظر نگاری بالکل ضمنی ہے۔ غواصی دبستانِ گولکنڈہ کا شاید پہلا شاعر ہے جس نے منظر نگاری کی جانب باقاعدہ توجہ کی ہے۔ غواصی کی منظر نگاری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بیانات کی بنیاد مشاہدہ پر رکھی ہے۔ وہ ایک مصور کی طرح قدرتی مناظر کی تصویر کشی کرتا ہے۔‘‘15؎
.1 سیف الملوک جزیرۂ اسفند پہنچ کر سراندیل کی شہزادی کو، جو بدیع الجمال کی سہیلی بھی تھی، سوتا ہوا پاتا ہے۔ شہزادی کے چہرے کا تیج دیکھیے؛ صورت حور سے بہتر، تجلی سورج سے بڑھ کر ؎
نہ اس سار صورت منے حور کیں
نہ ویسی تجلی ستی سور کیں
.2 سراندیل کی شہزادی جو ایک جن کی قید میں تھی، سیف الملوک کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے اور یہ حیرانی چہرے، آنکھ اور ہونٹوں کو کس حالت میں پہنچادیتی ہے ؎
سو حیراں ہو بیٹھی وو اس گھڑی
ادہر کھول جیوں پھول کی پھنکڑی
.3 سیف الملوک بدیع الجمال کی آمد سے انجان اس کی یاد میں کچھ گا رہا ہے۔ محبوب کے دھیان نے اس کے گلے میں وہ سوزوساز پیدا کردیا ہے گویا پیڑ پودوں کو وجدآگیا ہے، پرندے اپنی چہچہاہٹ بھول گئے ہیں اور ندی نالوں کا پانی تھم گیا ہے ؎
جمیا خیال اس دہات گاتا اتھا
جو ہر روکہہ کوں حال آتا اتھا
پنکھی گم ہوئے تھے وو الحان سن
بہتا نِیر بہتا نہ تھا تان سن
.4 شہ پال اور بادشاہ دریائے قلزم کے بیچ لبِ دریا لڑائی ہورہی ہے۔ دیووں کے سر کٹ کٹ کر پانی میں گررہے ہیں۔ ڈوبتے ہوئے سر دور سے پانی میں حباب کی طرح نظر آتے ہیں اور جسم مگرمچھ کی طرح سطحِ آب پر نمایاں ہوتے اور ڈوبتے ہیں۔ اس لڑائی کی منظر کشی غواصی نے کچھ اس طرح کی ہے ؎
جو دریا لہو ہو ابلنے لگیا
گگن اسپو کشتی ہو چلنے لگیا
سراں تیرتے لہو کے سمدور تے
جو دستے اتھے بڑبڑے دور تے
دھڑاں سب نپٹ موج کے لوٹ مار
تھے ڈبتے نکلتے نہنگاں کے سار
سراپا نگاری
.1 مثنوی ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ میں غواصی نے متعدد مواقع پر سراپا نگاری سے کام لیا ہے اور کامیاب ٹھہرا ہے۔ بدیع الجمال کی تلاش میں جاتے ہوئے جب سیف الملوک اور اس کے ساتھیوں کی کشتیاں سمندری طوفان سے بکھرجاتی ہیں اور حبشی اسے، اس کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کرکے اپنے سردار کے پاس لاتے ہیں۔ شاعر اس جگہ زنگیوں کے سردار کی ہیئت کو اس طرح بیان کیا ہے ؎
کڈہنگی زنگی او لکھن اس پہ چڑ
بڑے وضع بیٹھیا ہے سختی اکڑ
یتا کوچ بدسکل چہرہ اتھا
جو دیکھن کسے اوسکوں زہرہ نہ تھا
فرشتے بھی ڈرتے اتھے عرش پر
اتر آونے اس زمیں فرش پر
بڑا بھوت کہتے سو تھا آپ وو
کہ تھا سارے بہوتاں کیرا باپ وو
گیا ہونٹ اپر کا جو یکدہیرکوں
لگیا تھا پیشانی اوانگ سیر کوں
تلیں کا یوں آیا اتھا لڑک ہونٹ
جو تھا اس کے گورگیاں منے فرق بہوت
لنبا قد لنبی ناک چوڑے بلاخ
دیسے غار کے ناد لبدان فراخ
بڑے ڈانگرے سار کے کان دو
اجڑ گھر کیرے کھوڑ جو ران دو
مسِے کالے اس کے اتھے منہ اوپر
مکھیاں بھنبھناتی ہیں جیوں گوہ اوپر
انگوٹھیاں بدل آپ نے ساز کے
خوش انگلیاں میں پہنے ڈلے پیاز کے
حبشیوں کا سردار ’کڈھنگی(بے ڈول)، زنگی(کالا)، اولکھن(بمعنی بداطوار، بدکردار) ہے۔ اس کی نشست میں سختی اور اکڑ دونوں ہیں۔ اس کا چہرہ ایسا بدشکل ہے کہ پھول اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتے۔ اس کی ہیبت ایسی ہے کہ فرشتے بھی زمین پر اترنے سے ڈرتے ہیں۔خوفناکی میں وہ اپنے کو بڑا بھوت (بمعنی دیو یا جِن) کہتا تھا۔ واقعی وہ سارے بھوتوں کا باپ تھا۔ اوپرکا ہونٹ پیشانی کو چھو رہا تھااور نیچے کا ہونٹ لڑھک کر پاجامے سے آلگا تھا۔لنبا قد، قدجیسی لنبی ناک، چوڑے چوڑے نتھنے اور دونوں ہونٹوں کے بیچ کی فراخی ایسی جیسے غار۔چٹان جیسے دونوں کان ایسے لگ رہے ہیں جیسے کسی اجاڑ گھر کے دو کواڑ۔ اس کے منہ پر کالے مسے ایسے لگ رہے ہیں جیسے غلاظت پر مکھیاں بھنبنا رہی ہوں۔ اس نے انگوٹھیاں بھی اپنے ڈیل ڈول کے موافق پہن رکھی ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے پیاز کے ڈلے ہوں۔
.2 میر سعادت رضوی نے ’سیف الملوک و بدیع الجمال‘ مقدمے میں لکھا ہے:
’’عشقیہ مثنویوں میں عموماً معشوق کا سراپا لکھتے وقت شاعر کے پیش نظر یہی رہتا ہے کہ معشوق کو حسن و خوبصورتی کا مجسمہ بناکر پیش کرے۔ یہی مقام ہے جہاں تقریباً تمام شاعر مبالغہ کرجاتے ہیں لیکن غواصی نے ایک نہایت بدصورت حبشن کے سراپا کی صراحت میں زورِ قلم صرف کیا ہے اور اس کے سراپا کا بیان اس طرح کیا ہے کہ پڑھنے والے کے چشمِ تصور کے آگے ایک تصویر کھنچ جاتی ہے۔‘‘16؎
یہ وہ موقع ہے جب زنگیوں کا سردار اپنی بیٹی کو سیف الملوک’انعام‘ میں دیتا ہے۔ وہ خدا کی ماری آدمیوں کوبھون کر کھانے کی عادی، شہزادے کا قد اور نقشہ دیکھ، اس پر لٹو ہوجاتی ہے اور اسے ’’اپنے لیے‘‘ قید کرلیتی ہے۔ یہاں غواصی اس زنگن کا نقشہ جس صناعی سے کھینچا ہے، گویا افق بیان سے سپیدۂ سحری کو ہویدا کردیا ہے ؎
کہ زشتاں منے سخت وو زشت تھی
نپٹ روسیاہی میں انگشت تھی
کہ تھا تھوبڑا اس کا جیوں فیل کا
سر اس کا سو کالا رنجن نیل کا
انکھیاں ڈونگیاں جیوں کہڈی سارکے
دودیدہ بہیتر جوں پتھر گار کے
چڑیا ہونٹ اپرال کا ناک پر
تھوڈی پر پڑیا ہے تلیں کا اوتر
تمام انگ گونی کیرا ٹاٹ جیوں
چچیاں دوسینے پر ہیں دو باٹ جیوں
نکل پیٹ انگے ٹینک جیوں آکہڑا
اتھا پیٹ تھے سخت پیڑو بڑا
بونبی کھل رہی تھی سو جیوں اوکھلی
مسل ہوکے دوڑی تھی روماولی
لڑکتی جو چتڑاں پہ چوٹی دِسے
سو جیوں جھاڑ کی پیڑ موٹی دِسے
سوئے سار پنڈلیاں اوپر تیز بال
نہ تھی جگ میں ڈائن کوئی اس مثال
وہ حبشن نہایت بھونڈی اور سراپا سیاہ تھی۔ اس کا منہ، ہاتھی کا منہ اور سر جیسے نیل کا کالا مٹکا(یہاں شاعر نے بڑی چابکدستی سے اس سیاہ حبشن کے نیلے پن کو بیان کیا ہے۔)۔ آنکھیں گڑھے کی طرح گہری اور ان کے بھیتردیدے ایسے تھے جیسے غار کے اندرپتھر۔ اوپر کا ہونٹ ناک سے جاملا تھا اور نیچے کا ٹھوڑی پر آلگا تھا۔جسم ایسا جیسے اناج رکھنے کا ٹاٹ اور سینے پر پستان ایسے لگ رہے تھے جیسے دو بانٹ رکھے ہوں۔ پیٹ، ٹیلے کی طرح آگے کو نکلا ہوا، اور پیڑو پیٹ بڑھا ہوا۔اس کی ناف دیکھ کے اوکھلی کی یاد دلاتی تھی جس میں روماولی(چھاتی سے ناف تک کے بالوں کا گچھا) کی موسل پڑی ہو۔ اس کے سرینوں پر چوٹی اس طرح لٹک رہی تھی جیسے پیڑ کی موٹی ڈال۔ اس کی پنڈلیوں پرلمبے لمبے بال سووں کی یاد دلاتے تھے، غرض اس دنیا میں اس ڈائن کی طرح دوسری کوئی نہ تھی۔
.3 سیف الملوک اتفاقاً اسی باغ میں پہنچ جاتا ہے، جہاں بدیع الجمال رہتی ہے۔ وہ باغ میں اس بات سے انجان لیٹی ہے کہ کوئی اسے چھپ کر دیکھ رہا ہے۔ حسن محوِخواب کا نقشہ بہت بار کھینچا گیاہے، ایک نقشہ غواصی نے بھی کھینچا ہے۔ کہتا ہے؛ بدیع الجمال کے رخ ِ زیبا پرایسا تیج تھا، جس پر لاکھ آفتاب قربان۔ جسم سے نور یوں ابل رہا تھا مانو تمام آسمان سے روشنی پھوٹ رہی ہو۔ وہ پاکیزہ اخلاق، عزت والی، صاحبِ نازونزاکت عورت ہے ؎
عجب نور کیرااتھا مکہہ پہ تاب
کہ قربان اس مکہہ پہ لک آفتاب
بھریا نوراوس کا اتھا پور یوں
اوبلتے تھے اسماں کے سمدور جیوں
منور ہوئے تھے مکاناں تمام
عرش ہورکرسی کے تھانباں تمام
سمن پت بھری ہے اویک نازتن
سہیلی کنول سوں ہے نازک بدن
دو رخسار روشن امولک ہلال
سو ہے نانو جس کا بدیع الجمال
کونے تو بہوت میتہری نار ہے
شکرہور نمک کا جوں انبار ہے
دیکھیا جیوں چندر اوس مونڈی کاڑکر
سٹیا پیرہن اسمان کے پھاڑ کر
ستارے دیکھ اس کا نچھل نور سب
لئے ہات شرمندہ ہو چور سب
کلیاں سب چمن کے دیکھ اس بھان کوں
کیاں چاک اپنے گریبان کوں
جتے سرو واں کے ڈلنہار تھے
فدا اس کے قد پر وو سارے اتھے
دیکھ اس کے نین بن کے نرگس تمام
ہو بیہوش لڑتے تھے کھِس کھِس تمام
دیکھت اس کے پیچاں بھرے کنڈلاں
سب آئے تھے کل برزمیں سنبلاں
پون اس گل اندام کی خاص باس
بھنور ہوکہ پھرتا اچھے آس پاس
دیوانے ہو جھاڑاں کے پاتاں تمام
دعا سوں اوچائے تھے ہاتاں تمام
کہ وو نار اوتار کچ حور تھی
نہ کچ حور وو عین سمدور تھی
غواصی بدیع الجمال کا سراپا کھینچتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے مکھڑے پر ایسا تیج تھا جس کے آگے آفتاب و ماہتاب شرمسار تھے۔اس کا نور چاروں طرف ایسے پھیل رہا تھا گویا آسمان سے سمندربہہ نکلے ہوں۔زمین تا آسمان سارے افق و آفاق روشنی سے منور ہورہے تھے۔ وہ ایک خوبصورت نازک پھول ہے جس میں محبت کی خوشبو بھری ہوئی ہے۔ بدیع الجمال کے دونوں گال کیا ہیں، انمول چاند ہیں۔ وہ جذبات الفت سے بھری اور صباحت و ملاحت سے گوندھی ہوئی ہے۔ چاند نے جب اس کو سراٹھا کے دیکھا تو اپنا آسمانی پیرہن چاک کر دیا اور افسردہ ہوگیا۔ اس کانورانی جوبن دیکھ کرستارون کو سکتہ آگیا۔ جب وہ چمن میں آئی اور کلیوں نے اس آفتاب خوبی کو دیکھا تو اپنے گریباں چاک کرلیے۔ چمن میں جو سرو تھے، وہ اس کے قدطوبی پر نچھاور ہوگئے۔ اس کی آنکھوں کو دیکھ نرگس کے ہوش اڑ گئے۔ اس کی پرپیچ زلفیں دیکھ کر سنبل زمین پر اوندھے منہ گرگئی۔ بدیع الجمال ایسا پھول ہے جس کی مہک کے لیے ہوا، بھونرے کی مانند اس کے اِرد گرد گھومتی ہے۔ درختوں کے پتوں نے اسے دیکھا تو دیوانہ وار اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے اونچا اٹھا دیا۔ وہ قدرت کے دست خاص سے بنائی ہوئی ایسی نازنین تھی جو حوروں سے بڑھ کر تھی۔
جذبات نگاری
.1 محبوب کے دیدار میں کبھی وہ لذت پیدا ہو جاتی ہے جس سے دل و دماغ کے ساتھ ذوق و زبان بھی لذت اندوز ہوتے ہیں۔ سیف الملوک سراندیل کی شہزادی کو سلام عرض کرتا ہے اور بغور اس کے چہرے پر نظر ڈالتا ہے۔ اس کیفیت کی ترجمانی کے لیے غواصی نے لفظ ’ذوق‘ کا سہارا لیا ہے، جو روایتی معنی سے الگ لذت کوشی کے معنی دے رہا ہے ؎
انگے ہوکیا شاہزادہ سلام
مکھ اس کا دیکھت ذوق پایا تمام
.2 سیف الملوک اپنے خیالوں میں مگن تانیں اڑا رہا ہے۔ بدیع الجمال اس کے ڈیرے کے پاس پہنچی ہے اور چھپ کر اسے نِہار رہی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے جن وپری سے الگ کسی انسانی حسن کو دیکھاتھا۔ اِس دید نے بدیع الجمال کے حواس پر ایک نشہ طاری کردیا ہے ؎
سوبیٹھا دیکھی مست اس ٹھار اسے
چڑیا ہے مدن کا سو خوش لہار اسے
.3 سیف الملوک بدیع الجمال کے سامنے اپنی محبت اور پریشاں حالی کا ذکر کرتا ہے۔ بدیع الجمال ایک ذہین عورت ہے، اپنی محبت کو دبا کرپہلے شہزادے کی محبت پر شک کرتی ہے پھر حالات کا خوف دکھا کر امتحان لیتی ہے ؎
ابلتے پرت کوں سومن میں جِرِو
بہانے سیتیں یوں اٹہی بول وو
کہ اے شاہزادے گنی بخت ور
اپس من کے سورات پر رکھ نظر
یکائیک تیری بات کوں کیوں پتاؤں
یکائیک تج سات کیوں من لگاؤں
پھریا ہے بہوت ملک توں توٹ کر
مبادا ترادل اچھے جھوٹ پر
سنی ہوں بشر میں نہیں کچ وفا
تسوں جیو لیائی تو کیا ہے نفا
بدیع الجمال اپنی گہری محبت کو دل میں چھپا کر بہانے سے کہتی ہے۔ اے قسمت کے دھنی شہزادے! میں یوں ہی تیری بات کیوں کر مان لوں اور اپنا دل کیسے تیرے حوالے کردوں۔ تونے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے، ہوسکتا ہے تو میرے ساتھ گھات کررہا ہو۔ میں نے سن رکھا ہے کہ بشر بے وفا ہوتا ہے، اگر تجھ سے دل لگا بھی لوں تو سواے گھاٹے کے کیا حاصل؟
.4 بدیع الجمال سیف الملوک کو اپنی دادی کے پاس بھیجنا چاہتی ہے۔ اس کی دادی آگ کے دریا کے پار رہتی ہے۔ سیف الملوک کو راستے کے خطرات سے بچانے اور تسلی دینے کے لیے بدیع الجمال ایک دیو کو اس کے ساتھ کردیتی ہے۔ اور اپنی محبت کا اظہار یوں کرتی ہے ؎
سلامت سوں انپڑائے تج میت کوں
دیؤنگی سنگات ایک عفریت کوں
نہ آزار ہوئے تیوں تیرے بال کوں
وہاں بھیج دیؤنگی تج لال کوں
جکچ غم ہے دل میں سو توں کاڑ سٹ
گرد درد کا مکہہ پوتھے جھاڑ سٹ
.5 اس کہانی کا بیان نہایت عجیب اور شاندار ہے۔ بدیع الجمال کی دادی سیف الملوک سے کہتی ہے کہ توخاکی اور بدیع الجمال آتشی، تیرا اس کا ملن کیوں کرہو گا؟ آگے کہتی ہے کہ میں نے سنا ہے کہ آدمی بے وفا ہوتا ہے۔میرا دل نہیں مانتا کہ میں تیری مدد کروں۔ یہ سن کر سیف الملوک کے دل میں عشق کا جذبہ جوش مارتا ہے۔ اوروہ بھری مجلس میں، بدیع الجمال سے اپنی محبت کا اظہارنہایت جذباتی انداز میںکرتا ہے ؎
لگیا ہے مرا دل اوسوں صبح و شام
بھری ہے مری ذات میں او تمام
اگر پوچھتی ہے تو منج بالے بال
بدیع الجمال ہے بدیع الجمال
میں اس نار کا پاک عاشق ہوں کر
بجاہے ڈہنڈورا نو آکاس پر
اوتم ذات اونار آتش نہاد
ٹھنڈی منج لگی آب تھے بی زیاد
اِس جگہ بیان لمبا اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ سیف الملوک اپنی محبت اور اس محبت کے لیے اٹھائی گئی مشقت کے بیان میں سماں باندھ دیتا ہے۔ وہ بے باکانہ کہتا ہے کہ میرا دل، دن رات اسی (بدیع الجمال) کا وظیفہ خوار ہے۔ اگرکوئی جاننا چاہتا ہے تو جان لے کہ میرے روئیں روئیں میں بدیع الجمال اور صرف بدیع الجمال ہے۔ میں اس آتش بدن کا سچا عاشق ہوں او ر میرے عشق کے گواہ نو آسمان ہیں۔آپ آگ و خاک کی باتی کرتی ہیں، اس کی شعلہ سامانی ہی میرے قلب و جگر کی ٹھنڈک ہے۔
نظریات کا بیان
غواصی نے عوام میں رائج روایتی نظریات سے بھی کام لیا ہے۔ یہ خیال کہ دنیا کسی گائے کے سینگوں پر قائم ہے، ہندی دیومالا کا ایک قدیم تصور ہے۔ اس کو ایک جگہ اس طرح بیان کیا ہے ؎
سو دریائے قلزم کوں ہیبت چھوٹی
زمیں کے تلے گائے اڑرا اٹھی
تہذیبی آثار
ذیل میں مثنوی’سیف الملوک و بدیع الجمال‘سے کچھ مثالیں دی جارہی ہیں جن میں قدیم تہذیبی و فکری نمونے پائے جاتے ہیں۔ وہ فکر جس نے مافوق الفطری عناصر کو بھی انسانی احساس و جذبات کا مالک بنا دیا تھا۔ وہ بھی اپنی فطرت بھول کر، محبت کے جذبے، وعدوں کا پاس، قسم کا اعتبار، مالک کی وفاداری، اخلاق و آدابِ محفل سے آشنا ہوگئے تھے۔
(1) بیٹے ہی کو اصل وارث سمجھنا، اور اس کو گھر کے چراغ اور تخت کے وارث کی حیثیت سے دیکھنا۔ گو اسلام کی آمد کے بعد لڑکیوں کے سلسلے میں عربوں کے ہاں ننگ و عار کے خیالات باقی نہیں رہے، لیکن جنگ کے مواقع اور آمدنی کی ضرورت کے پیشِ نظراولادِ نرینہ کی اہمیت برابر باقی رہی۔ عاصم نول اپنی بے اولادی کے دکھ میں کہتا ہے ؎
کہ اپسیں ملک مال پروردگار
یتا کچ دیا ہے جو نیں اس شمار
ولے کوئی جتن اِس رکہنہار نیں
کہ مجھ بعد میرا کوئی اس ٹہار نیں
نجانوں یو مال ہور ملک یو ولات
پڑیگا کسی جاکے دشمن کے ہات
اگر کوئی فرزند ہوتا منجے
تو یہ جگ میں آنند ہوتا منجے
بڑا نانو ہوتا مرا ٹھار ٹھار
دنیا میں رہتا یک مرا یادگار
بادشاہ اپنے مال و ملک کو یاد کرتے ہوئے، بڑی حسرت سے کہتا ہے کہ خدا نے اتنا مال و ملک عطا کیا جس کا شمار نہیں۔ لیکن کیا فائدہ کہ میرے بعد اس کا کوئی وارث نہیں، کوئی سنبھالنے والا نہیں۔ نہ جانے کس دشمن کا داؤ چلے اور وہ سارا کا سارا لے جائے۔ کاش میرا کوئی فرزند ہوتا تو میں چین کی نیند سوتا۔ میرا بیٹا، میرا نام اورمیری یادگار ہوتا۔
.2 کسی مصیبت کے دفعیے اور مشکل کے ازالے کے لیے پیر فقیر کا سہارا لینا۔ ملا وجہی اور غواصی جس دور میں تھے، وہ دورِ زوال نہیں تھا۔ ہاں جن قدیم روایات کے دھاگے سے وہ اپنے قصوں کا تانا بانا بن رہے تھے، اس کی حقیقت یہی تھی کہ ہیرو فقیر کے تعویذ یا غیبی مدد کے بنا نوالہ نہیں اٹھا سکتا۔ اِسی کا پرتو ان کی مثنویات میں بھی در آیا۔ عاصم نول کے گھر لڑکا نہیں ہوا تو اس نے کیا کیا ؎
صبا اٹھ کرے خیرخیرات بھوت
کہ ہو تاکہ فرزند اپسے ترت
خدا کے ولی خوب اچھے کوئی جہاں
ننگے پاؤں سوں جائے چلتا وہاں
منگے جاکے پہلے یہی مدعا
کرے خدمت ہور اون کی لیوے دعا
روز صبح اٹھ کر خیرخیرات کرتا، تاکہ جلد از اس کی مراد پوری ہو۔ جہاں کسی پیرمرد یا بزرگ کی خبر پاتا، ننگے پاؤں دوڑا جاتا۔ ان کی خدمت اور سیواستکار کرتا اور دعا لیتا۔
.3 کسی امرِ مہم میں نجومیوں سے فال نکلوانے کی روایت۔یہ روایت عرب کے جاہلی دور میں رہ چکی تھی۔ بادشاہ کی فکرمندی بے اولادی کی وجہ سے تھی، اس مسئلے میں نجومیوں سے بھی مشورہ لیا گیا۔ انھوں نے فال دیکھی تو خوشی کا اظہار کیا اور امید جتائی کہ بادشاہ کی قسمت کا ستارا طلوع ہوا اور خوشی کی ساعت آئی ؎
نجومیاں کو یکدہر تی حاضر کیے
چھپا شاہ کا راز ظاہرکیے
دیکھے کھول جیوں شہ کے طالع قوی
خوشی سب کے تیں مکھ دکھائی نوی
ستارا اٹھا جاگہہ شہ بخت کا
ہوا وقت خوبی کیرے وقت کا
.4 شادی میں لڑکے کا باجے و تماشے کے ساتھ گھوڑی چڑھ کردلہن کے گھر جانا۔عاصم نول جب یمن کی شہزادی سے بیاہ رچانے جاتا ہے تو کیا منظر ہوتا ہے ؎
منگا شاہ تیزی پون سا شتاب
نہ صاوج رکھے کوئی اس کا رکاب
سوہاتاں منے پین کر ہست کر
اتم ذات تیزی کے اپرال چڑھ
یکس طرف قیصر جو پکڑیا ہے زین
کہ دوجی طرف شاہ فغفور چین
چلیا سامنے ہونے اس حور کوں
نچھل نور کے پاک سمدور کوں
دمامے لگے پیٹ سوں گاجنے
بجنتر ہریک جنس کے باجنے
اٹھے بول جنتر دوتارے تمام
لگے گاؤنے گانہارے تمام
بادشاہ ایک نسلی گھوڑے پر چڑھ کر چلاہے۔ زین کو ایک طرف سے قیصرروم نے تو دوسری طرف شاہ چین نے پکڑ رکھا ہے۔اس شان اور سواری کے ساتھ عاصم نول اس نازنین کی ملاقات کو جاتا ہے۔ نقاروں پر چوب پڑرہی ہے۔ باجے بج رہے ہیں اور گانے والے گانے گا رہے ہیں۔
.5 ماں باپ یا خیرخواہ کا ہیرو کو پیار سے دھمکی دینا تاکہ وہ اپنے دل کا حال بتا دے۔ سیف الملوک کو جب بدیع الجمال کی تصویر دیکھ کر خاموشی لگ جاتی ہے تو عاصم نول اس کے دوست ساعد کو بھیجتا ہے۔وہ جاکر اس سے بات کرتا ہے اور اس کے دل کا حال لینا چاہتا ہے۔ اور بات بات میں کہتا ہے ؎
ترا چاند کِن ہے توں کس کا چکور
جو تل تل کوں ہوتا ہے توں طور طور
کہے باج توں کچھ مجے فام نیں
سنے لگ میرے دل کوں آرام نیں
مجے کھول کر توں کہے تو بھلا
وگر نیں تو میں کاٹ لیونگا گلا
اے شہزادے تو کس فکر میں گرفتار ہے؟ کیا محبت ہوئی ہے؟ اگر ہاں تو وہ کون ہے جس کے فراق میں تیری حالت غیر ہے۔تیرے بغیرکہے میں جان نہیں سکتا اور جب تک جان لوں، مجھے چین نہیں۔ اگر تو اپنے دل کا حال نہیں بتاتا توجان لے کہ میں اپنی جان سے گزرجاؤں گا۔
.6 ہیرو کا کمزور حواس و جذبات کا ہونا۔ دورِقدیم کے طبع زاد اور روایتی قصوں کی ایک عام خصوصیت یہ ہے کہ ہیروجسمانی طور پر نہ سہی، طبعاً بہت کمزور ہوتا ہے۔ حکم چند نیر نے مثنوی ’سحرالبیان‘ کے اپنے مقدمے میں اس اعتراض کو نقل کیا ہے۔17؎ سیف الملوک عالم فاضل ہے۔ فنون سپہ گری میں طاق اور زمانے کے معاملات سے واقف ہے۔ اس کے باوجود، زربفت کے کپڑے میں بدیع الجمال کی تصویر دیکھتا ہے تو عجب کیفیت ہوجاتی ہے ؎
وہ تصویر دیکھ ویں دِوانا ہوا
وہی عشق کا اسکوں بھانا ہوا
اپس میں لگیا رؤونے زار زار
سوپڑنے لگیا بے خبر ٹھار ٹھار
وو صورت نظر میں رہی چوب کر
سوجاگا کیا دل منے خوب کر
دیا سنگ ساریاں کیرا چھوڑ کر
لیا کھینچ دم سب تھے مکہہ موڑ کر
اندہارے بھری کوٹھری میں یکٹ
سوجا پر رہیا بے خبر ہو نپٹ
یعنی تصویر دیکھی اور دیوانگی نے آلیا۔ فکرچھاگئی۔ سب سنگی ساتھی چھوٹے۔اکیلے میں رونااور اندھیری کوٹھری میں پڑے رہنا، یہی دن رات کا کام ہوگیا۔ اسی طرح جب گلستانِ ارم کا پتا لگانے گئے فرستادے ایک سال بعد ناکامی کی خبر دیتے ہیں تو دیکھیے کس طرح شہزادہ اڑرا کر گرتا ہے ؎
سنیا جیوں یو احوال سیف الملوک
لگیا غم پہ غم کرنے ہور دوکہہ پہ دوک
اندہارے بھرے گھر منے جائے کر
پڑیا دہرتری پر سو اڑرائے کر
سینا غم سیتی کوٹ لینے لگیا
کر اوس نار کوں یاد رونے لگیا
فرستادوں کی ناکامی سن کر ہوش و حواس ندارد ہوگئے۔ بھرے گھر یعنی سب کی موجودگی میں اڑرا کر گرپڑے۔ مارے غم کے سینہ کوٹنے لگے اور رونے لگے۔
.7 مافوق فطری عناصر کا دخل۔ عربی زبان و ادب میں یہ دخل عباسی دور سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی، فارسی اور ہندوستانی زبانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ عاصم نول ایک دن سیف الملوک کوبلاتا ہے اور دیگر تحائف کے ساتھ ایک زربفت کا پارچہ دے کر کہتا ہے کہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیا تھا ؎
کیا پیش کش ہور نوازیا بہوت
بلاکر کہیا اے میرے من کے پوت
یو تیزی اتم ہوریو انگشتری
یوزربفت نرمل نچھل زرزری
میرے تئیں دیے تھے سلیمان بھیج
پریاں ہور دیواں کے سلطان بھیج
.8 شرم و حیا کا تصور۔سیف الملوک بدیع الجمال کے باغ میں خاموشی سے داخل ہوا اور اس جگہ جاپہنچا ہے جہاں شہزادی سورہی ہے۔ آدم زاد (سیف الملوک) کی مہک پاکربدیع الجمال اٹھ بیٹھتی ہے۔ وہ پری ہے ایک آتشی مخلوق، تاہم اس کے ساتھ وہ عورت بھی ہے۔ اچانک سیف الملوک کو سامنے دیکھ کر اس کی کیا حالت ہوتی ہے ؎
جو وو شہپری باس آدم کی پائی
یکایک اٹھی ناز سوں دی جمائی
نجھا دیکھتی ہے جو انکھیاں پسار
نزیک آکے بیٹھا ہے وو دوستدار
گھونگٹ میں چھپا مکہہ وہیں ناز سوں
ہلوں کھول ادہر نرم آواز سوں
کہی یوں تو واجب نہیں ہے تجے
جو نزدیک آکر نجھاوے مجے
میں عورت شرم کی ہوں ہور مرد توں
نہ میں تجکوں جانوں نہ توں منجکوں
جب اس شہزادی نے انسان کی بو پائی تواچانک اٹھ بیٹھی۔ کیا دیکھتی ہے کہ وہ من موہن اس کے قریب بیٹھا ہے۔ منہ فوراًگھونگھٹ میں چھپا لیا اور نرم و نازک ہونٹوں سے ہلکی آواز میں کہنے لگی۔اس طرح نزدیک آکر گھورنا کسی طور مناسب نہیں۔ میں ایک حیادارعورت اور تم اجنبی مرد۔ اسی طرح قصے کے شروع میں جب عاصم نول کو کچھ پریزاد سلیمان علیہ السلام کی طرف سے زربفت کا کپڑا دیتے ہیں جس پر بدیع الجمال کی تصویر ہے۔ اس وقت عاصم نول کے استفسار پر وہ کہتے ہیں کہ وہ راجا شہبال بن شاہ رخ کی بیٹی اور شرم و حیا کی پتلی ہے ؎
او شہبال بن شاہ رخ راج کی
سو بیٹی ہے ات شرم ہور لاج کی
.9 محبت پر شک جتانا اور رشتے داروں کا خوف دلانا۔ کبھی یہ صرف آزمانے کے لیے ہوتا ہے۔ بدیع الجمال خود اپنے دل میں محبت دبائے ہوئے ہے لیکن باتیں شک اور خوف کی کررہی ہے۔ اس کی ناامیدی بھری باتیں سن کر جب سیف الملوک کا چہرہ پیلا پڑ گیا اور حالت خراب ہونے لگی تو بدیع الجمال کو یقین ہوگیا کہ وہ اس کا سچا عاشق ہے۔ اردو داستان کی یہ پہلی عورت ہے جو عاشق کے آنسوؤں کو اپنے آنچل سے پوچھتی ہے اور تسلی دیتی ہے ؎
پچھانی کہ یو کچ تو بازی نہیں
حقیقی پرت ہے مجازی نہیں
اوچائی نزک جا اسے ہات سوں
گلے لاگتی جیو کے سورات سوں
دیتی لک وضا سات جیو دان اسے
سوتحقیق کر پائی ایمان اسے
محبت جو جاگہ کیا دل منے
رکھی پاؤں یاری کے منزل منے
پلو سات انجو اس کے پونچن لگی
بھروسا دے دہیرک سوں بولن لگی
کہ اے میرے من کے سنگاتی اتال
نہ کر دوک توں ہور نکو ہو نڈہال
بدیع الجمال کو احساس ہوگیا کہ شہزادے کی محبت کھیل نہیں، حقیقت ہے۔نزدیک گئی اور دل کی تمام تمناؤں کے ساتھ شہزادے کو گلے لگا لیا۔جب اس کے دل کوشہزادے کی محبت پر ایمان آگیاتوخوداس کا دل قابو میں نہ رہا۔ اپنے آنچل سے سیف الملوک کے آنسو پوچھتی گئی اور دلاسا دیتی گئی کہ اے محبوب دکھ کو دور اور طبیعت کو شگفتہ کر۔
.10 واقف کاروں کے سامنے تجاہل برتنا اور رازِ عشق کا خیال رکھنا۔ بدیع الجمال، سیف الملوک سے بات کرچکی ہے اور اب رخصت ہونے والی ہے تاکہ سراندیل کی شہزادی اور اس کی ماں کے پاس جائے۔ جانے سے پہلے سیف الملوک سے اپنی محبت کے بارے میں رازداری برتنے کو کہتی ہے تاکہ لوگوں کے سامنے وہ رسوا نہ ہو ؎
تیرے تئیں وو شہزادی ہور اسکی مائی
بہت کچ سفارش کیاں مجکوں آئی
کیتے وضع سوں کر سفارش تیرا
پڑی تھی گلے انت لینے میرا
ولے کوچ خاطر میں نالائی میں
تغافل میں سوں کر اپس بھائی میں
ابھی توں نکو بول کچ ان کے دہیر
خجل کر نکو گال میرا سریر
بدیع الجمال کہہ رہی ہے کہ سراندیل کی شہزادی اور اس کی ماں نے بہت کچھ تیری سفارش کی اور میرے گلے پڑیں لیکن میں نے اپنا من نہیں دیا اور تغافل کا اظہار کرتی رہی۔ ابھی تم ان کے سامنے کوئی بات نہ کرنا، نہیں تومیری تمھاری شناسائی کا انھیں احساس ہوجائے گا اور مجھے شرمندگی ہوگی۔
.11 محبت میں بھی حد کا خیال رکھنا۔ یہ تہذیب کا تقاضا تھا کہ جذبات کے بہاؤ اورتنہائی کی حالت میں بھی سیف الملوک اور بدیع الجمال عزت و ناموس کا خیال رکھتے ہیں اور ایک حد سے آگے نہیں بڑھتے ؎
اثر بھید من میں ہوئے مست خیال
ووسیف الملوک ہور بدیع الجمال
جو دیکھن لگے خوب ایکس کوں ایک
انکھیاں میں رہے کہوب ایکس کوں ایک
ہلوں ہات میں ہات لینے لگے
چمے لگ محبت سوں دینے لگے
مدن دوطرف تھے جو آیا اوبل
ہوئے محو آپس میں آپیں پِگل
ہوے سد گنوا بے خبر دوجنے
ستے مل کے ویں یک بچھانے منے
ولیکن انن میں نہ تھا کچ خیال
کہ تھے پاک دامن میں دونوں کمال
سیف الملوک و بدیع الجمال دونوں یکجا ہیں۔ ایک دوسرے کو نہار رہے ہیں۔ محبت کے خوش رنگ خیالات دل میں کروٹیں لے رہے ہیں۔ آہستگی سے ایک دوسرے کا ہاتھ، ہاتھ میں پکڑے ہیں۔ دونوں جوانی کی تپش سے پسینے پسینے ہوگئے ہیں۔ آپس میں ایسا کھوئے ہیں کہ دنیا و مافیہا کو بھلا دیا ہے۔ دیر تک یہی کیفیت رہتی ہے اور پھر اسی کیفیت میں وہ دونوں ایک بستر پر سو جاتے ہیں۔یہ سب ہوتا ہے لیکن محبت اور جذبے کی اس حکایت میں دونوں عزت و ناموس کا خیال رکھتے ہیں اور حدِادب سے آگے نہیں بڑھتے۔اس کہانی کا ایک اور سین ہے؛ شادی کے بعد سیف الملوک اور بدیع الجمال حجلۂ عروسی میں ہیں۔ نواب مرزا شوق ہوتے تو جانے کیا گل کاریاں کرتے اور بیان کے کون کون سے در وا کرتے۔ غواصی نے اس پورے منظر پر کل سات شعر کہے ہیں۔ بدیع الجمال یہاں بھی شرم سے کٹی جارہی ہے ؎
دیکھیا موکھ جیوں شو نے آروس کا
کھلیا سرتے جیوں پھول فردوس کا
چڑی خوب محبوب دیکھ ہات میں
ریجانے لگیا بات کر بات میں
سٹیا ہات جیوں اسپہ طناز سوں
لگی شرم کر لاجنے ناز سوں
سو چھاتی کوں چھاتی لگا حال سات
ہوا لٹ پٹ اس نور کی ڈال سات
رلیاں میں نپٹ چھند سوں لائیا
جوبن قبہ نور دو پائیا
جھٹاپٹ لگی ہوونے دوی میں
ڈوبے سیس تے پگ تلک خوئی میں
ادہر مد پلا کر کیا مست اسے
ہوئی مست دیک ویں کیا دست اسے
غواصی لکھتاہے کہ جب دولہے نے دلہن کا منہ دیکھا تو گویا جنت کا نشان پا گیا۔ حسین محبوب کو قریب پاکر نئی نئی باتوں سے ریجھانے لگا۔ جب شوخی میں بدیع الجمال پر ہاتھ پھیرا تو وہ شرم سے لچکنے لگی۔ آخر سیف الملوک نے اس کو سینے سے لگا لیا اور خود اس نور کی ڈال کے ساتھ لپٹ گیا۔شوق کی کشاکش اتنی بڑھی کہ دونوں سرسے پیر تک پسینے میں ڈوب گئے۔
حوالے
1 مثنوی سیف الملوک وبدیع الجمال،ص4
2 سعادت علی رضوی، میر۔مرتب: سیف الملوک و بدیع الجمال۔مجلس اشاعت دکنی مخطوطات، حیدرآباد، 1357ھ،ص8
3 عمر خاں،غلام۔ مرتب۔ مینا ستونتی۔عثمانیہ یونیورسٹی(سلسلہ مطبوعاتِ قدیم اردو)، حیدرآباد۔ 1965۔ ص نمبر6
4 سعادت علی رضوی،میر۔مرتب۔سیف الملوک و بدیع الجمال،ص2
5 عمرخاں، غلام۔مرتب۔میناستونتی،ص5
6 جمیل جالبی۔ تاریخ ادبِ اردو، جلد اول، صفحات 471-72
7 اثر،محمدعلی۔ غواصی:شخصیت اور فن۔اِکسل فائن آرٹ، حیدرآباد،ص40
8 محمدعلی اثرنے لکھا ہے: محمدقلی کی وفات کے بعد سلطان محمدقطب شاہ تخت نشین ہوا۔ اِس بادشاہ کو شعروادب سے خاص لگاؤ نہیں تھا،غواصی:شخصیت اور شاعری، ص40
9 جمیل جالبی۔ تاریخ ادبِ اردو۔ جلد اول۔مجلس ترقیِ ادب، لاہور۔ 1987، صفحات نمبر473/384
11 سعادت علی رضوی،میر۔ مرتب۔ سیف الملوک و بدیع الجمال۔ صفحات 31-32
12 حوالہ سابق،ص 19
13 حوالہ سابق، ص 8
14 حوالہ سابق،صفحات 10-11
14 سید ابو تراب خطائی ضامن و محمد صبغۃ اللہ۔دکھنی لغات، مالک پبلی کیشنز، بنگلور، 2000
15 شخصیت اور فن،ص90
16 سعادت علی رضوی،میر۔ مرتب، سیف الملوک و بدیع الجمال،ص 11
17 مقدمہ، مثنوی سحرالبیان، اترپردیش اردو اکادمی، لکھنؤ،2010
Dr. Mohd Mubeen Asif (Dr. Asif Mubeen)
E-30, Upper Ground Floor
Abul Fazal Enclave-1, Jamia Nagar
New Delhi- 110025
Mob.: 9990289656
asifmubeen11@gmail.com