پنجابی زبان پر فارسی کے اثرات: طارق حسین
ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے ہند و ایرانی تعلقات کو تقویت ملی۔مسلم بادشاہ و سلاطین نے ہندوستانی زبان و ادب، فلسفہ و مذہب، علم نجوم، ہیئت، طب، تہذیب
ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے ہند و ایرانی تعلقات کو تقویت ملی۔مسلم بادشاہ و سلاطین نے ہندوستانی زبان و ادب، فلسفہ و مذہب، علم نجوم، ہیئت، طب، تہذیب
اردو کے افسانوی و غیرافسانوی ادب کی تاریخ میں سعادت حسن منٹو کی فن کارانہ شخصیت نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔ ان کے موضوعات اور رجحانات میں کافی تنوع
اردو تحقیق وتنقید کا نقطۂ آغاز شعرائے اردو کے تذکرے ہیں۔ تذکرہ جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی یاد کرنا یا ذکر کرنا ہوتے ہیں۔ اردو
تاریخی اعتبار سے تقسیم کے نتیجے میں جو فکشن رقم کیے گئے اس کا کینوس بہت وسیع ہے۔ یہ ہندو مسلم فساد، بے گھری، ہجرت کا کرب، مسلم اکثریت جو
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کلیم الدین احمد ایوان اردومیں اپنے تنقیدی نظریات اور جرأت مندانہ افکار واظہار کے ساتھ اس طرح داخل ہوئے کہ
بیسویں صدی میں کلکتے کی شعری فضا میں جو نام آفتاب بن کر ابھرا وہ وحشت کلکتوی کا ہے۔ جنھیں علامہ، طوطی بنگالہ اور غالب دوراں جیسے القاب سے
کلیم الدین احمد کے انتہا پسندانہ، استہزائیہ، مضحکہ خیز اور طنزآمیز جملوں میں شخصیت کشی کے عناصر غالب رہتے ہیں۔ ان کا مطالعہ نہایت وسیع اور نظر گہری ہے۔ ان
اردوادب کی تاریخ میں گورکھپور کوایک مرکز کے طورپر دیکھا گیا ہے۔ 1720میں جب سعادت خاں کواودھ کی صوبیداری ملی تو گورکھپور’اودھ سلطنت‘ کے ماتحت ہوگیا اور نومبر1801تک اس
مخمور سعیدی (پ:…، و:…) نے جب شاعری شروع کی تھی اس وقت ترقی پسند تحریک کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور تھوڑے عرصے بعد جدیدیت نے اپنا سر نکالنا
راسخ عظیم آبادی اُردوکے معروف شاعرگزرے ہیں۔ ان کاتعلق عہد میروسوداسے ہے۔ان نابغۂ روزگار شعرا کے عہدمیں ہونے کے باوجود راسخ کی اہمیت مسلم ہے کیونکہ میراوردردکے عہد میں صنف