مضمون: لوک ادب: تحفظ اور بازیافت۔ مضمون نگار:۔ ڈاکٹر یوسف رام پوری
مضمون: لوک ادب تحفظ اور بازیافت مضمون نگار: ڈاکٹر یوسف رام پوری لوک ادب کسی بھی قوم کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ کیونکہ لوک ادب کے دامن میں اُس قوم
مضمون: لوک ادب تحفظ اور بازیافت مضمون نگار: ڈاکٹر یوسف رام پوری لوک ادب کسی بھی قوم کا عظیم سرمایہ ہوتا ہے۔ کیونکہ لوک ادب کے دامن میں اُس قوم
احمد صدیق مجنوں گورکھپوری 10مئی 1904کو مشرقی یوپی کے ضلع بستی، تحصیل خلیل آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے مضمون ’’مجھے نسبت کہاں سے ہے‘‘ میں اس سلسلے میں
ڈاکٹر نعمان قیصر انیسویں صد ی کے اوائل میں جن شاعرات نے اردو کی نظمیہ شاعری میں کمال حاصل کیا، ان میں ایک نمایاں نام ز۔خ۔ ش۔ یعنی زاہدہ خاتون
مسلم خواتین کی تعلیمی پسماندگی نجمہ سلطان تعلیم تعلیم انسان کے فروغ کے لیے بنیادی آلہ ہوتاہے اسی کے ذریعے انسان میں معلومات اور مہارت کا اضافہ ہوتاہے۔ (Education of
1857 اور بہادر شاہ ظفر سراج الدین ظفر خاندان تیموریہ کا آخری بادشاہ تھا، جس کی تقدیر میں کاتب ازل نے زندگی کی دیگر تلخیوں اور ناکامیوں کے علاوہ قید
قلم کا سپاہی: شاہد رام نگری شاہد رام نگری اصلی نام سراج الدین انصاری تھا۔ انھوں نے اترپردیش بنارس کے رام نگر کے علمی، دینی اور مذہبی گھرانے میں 1927میں
نو آبادیاتی ہندستان اور اودھ پنچ کا مزاحمتی کردار ہندستان اپنی صنعت و حرفت، زرعی پیداوار اور تجارت کے اعتبار سے شروع سے ہی اہمیت کا حامل رہا ہے ،
سر سید کا تصورِ علم بلاشبہہ سرسید احمد انیسویں صدی کے ان یادگارِ زمانہ عظیم ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی فکرِ عمیق سے قوم وملت کی عظیم
اتساہتِ بیکل اتساہ سے لبریز بیکل نے جب ’نغمہ و ترنم‘ کا راگ الاپا اورکومل مکھڑے نے بیکل گیت سنائے تب گاؤں کے باسیوں کو یقین ہوگیا کہ ”اپنی دھرتی