اختراعی تدریس و اکتساب:فرحت علی
دور جدید مسابقت کا دور ہے۔ تعلیم کا مقصد طلبا کو صرف نصابی کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ ان میں جدید سوچ، تخلیقی ماحول اور خود کفالت کو فروغ دینا ہے۔اسی
دور جدید مسابقت کا دور ہے۔ تعلیم کا مقصد طلبا کو صرف نصابی کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ ان میں جدید سوچ، تخلیقی ماحول اور خود کفالت کو فروغ دینا ہے۔اسی
انسائیکلو پیڈیا برٹا نِکا کے مطابق ’’سوانح نگاری کسی انسانی روح کی مہمات حیات کی ہو بہو تصویر ہے۔‘‘ اردو زبان میں اس صنف ادب کا چلن انگریزی ادب
اردو ادب کی دیگر اصناف کی طرح،اردو نظم میں بھی خواتین نے اپنی تخلیقی استعداد کی بنیاد پر قابل قدر اضافے کیے اور یہ اضافے روایتی یا تقلیدی قسم
زندگی ایک نامیاتی اور سیال حقیقت ہے۔ یہ ہر لمحہ تغیر پذیر ہے۔ اس میں ٹھہراؤ نام کو نہیں۔ کائنات سے ہر لمحہ مختلف النوع لہریں اٹھ اٹھ کر
پڑھنے کے عمل کو قرأت کہتے ہیں۔ قرأت کے ذریعے ہی متن کی اہمیت طے کی جاتی ہے کیونکہ متن اپنے آپ میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وولف ایزر نے
کونسل کے ملازمین کی شرکت، پانچ کامیاب شرکا کو نقد انعام و توصیفی اسناد سے نوازا گیا نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں ‘ہندی
کسی قدیم متن کو مصنف کے منشا کے مطابق تحقیق و تخریج، تحشیہ و تعلیق اور مقدمے سے مزین کرکے منظر عام پر لانے کا نام تدوین ہے۔تدوین متن کو
تعلیمی پالیسیاں مقامی، ریاستی اور وفاقی سطح پر بنائی جاتی ہیں۔ یہ پالیسیاں وہ اصول ہوتے ہیں جن کا مقصد تعلیمی اداروں کے طلبا کو موثر، منصفانہ اور محفوظ طریقے
مولاناعبدالماجددریابادی کی ولادت اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی کے مشہورقصبہ ’دریاباد‘کے ممتازاورذی علم قدوائی خاندان میں17مارچ 1892 کوہوئی۔ دریاباد ان کاآبائی وطن تھالیکن ان کے خاندان کے اکثر افرادلکھنؤ
میرٹھ جن ادبا اور شعرا کے حوا لے سے پو ری دنیا میں ایک دبستاں کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ان میں ایک معتبر نام سحر عشق آبادی