تحریک آزادی میں ریاست رامپور کا کردار: رضوان لطیف خاں
اردو شاعری میں قومیت، حب الوطنی اور سیاسی حقوق کا احساس اسی وقت سے بیدار ہونے لگا جب 1857 کے بعد ہندوستان کے سیاسی اور معاشی زوال کی تصدیق
اردو شاعری میں قومیت، حب الوطنی اور سیاسی حقوق کا احساس اسی وقت سے بیدار ہونے لگا جب 1857 کے بعد ہندوستان کے سیاسی اور معاشی زوال کی تصدیق
فنکار یا تخلیق کا ر کافی حساس ہوتا ہے۔ کسی بھی واقعے سے متا ثر ہو کر اپنے احساسات کو صفحہ قرطاس پر اتارتا ہے تو وہ فن پارے کی
بارہ ماسہ ایک ایسی صنف سخن ہے جس میں عورت اپنے شوہر سے جدائی اور ہجر کو موسم کے بدلتے مزاج کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ ابتدا میں یہ صنف
سماجی منافرت کو دور کرنے میں ہمیشہ تخلیق کاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے:پروفیسر شیخ عقیل احمد نئی دہلی:قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘اردو فکشن میں تقسیم
اردو تنقید کی روایت ہمیں بتاتی ہے کہ ادب کے لیے کوئی موضوع نہ پرانا ہوتاہے اور نہ مقامی۔ہر موضوع اپنے برتاؤکے اعتبار سے نیا اور ہر مسئلہ اپنی اہمیت
سارن کمیشنری ارضِ بہار کا وہ خطہ ہے جہاں سیاست،ادب،ثقافت اور تہذیب و تمدن کی کرنیں سب سے پہلے روشن ہوئیں۔جہاں سیاست میں مولانا مظہرالحق، ڈاکٹر راجندر پرساد، بابو
ہندوستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف دھرم و مذہب کے ماننے والے، مختلف زبانیں بولنے والے اورمختلف رنگ و روپ رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ ہمارا ملک
ادب سماج کا آئینہ ہے اور انسانی سماج مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی تبدیلیوں اور انقلابات کی آماجگاہ ہے ہر دور میں سماج کی عکاسی کا بہترین نمونہ اس وقت
رضوان خان: بدنام نظر صاحب آپ اپنے اور والدین کے بارے میں کچھ بتائیے۔ بدنام نظر: میرا اصلی نام عالمگیر نظر ہے۔ سید منظر حسن
قدرت نے اپنے دست سخاوت سے وادی کشمیر کو جس خوبصورتی اور رنگینی سے سجایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ بے نظیر وادی جہاں اپنی دلکش رنگینیوں عجیب