پریم چند کی ناول نگـاری: سمیع احمد
ناول ایک ایسانثری قصہ ہے، جس میں زندگی کی تمام تر سچائیاں تخیل اور فن کی آمیزش کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ناول اور افسانے میں بنیادی فرق یہی
ناول ایک ایسانثری قصہ ہے، جس میں زندگی کی تمام تر سچائیاں تخیل اور فن کی آمیزش کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ناول اور افسانے میں بنیادی فرق یہی
سید عابد حسین ’قومی تہذیب کا مسئلہ ‘ میں زبان کی تشکیل اور اس کے مزاج کے تعین کے بارے میں لکھتے ہیں ’’مشترکہ زبان کی حیثیت کسی زبان میں
بیسویں صدی عیسویں میں تدوین متن ایک شعبے کی حیثیت سے ادب میں متعارف ہوا۔اس شعبے نے اپنے تہذیبی و تمدنی عرفان کو برقرار رکھنے کے لیے قدیم علمی و
نویں اور دسویں صدی ہجری میں گجری روایت کی ایک مقبول و معروف صنف کا نام ’جکری‘ہے۔ شیخ بہاو الدین باجن نے سب سے پہلے اس صنف سخن کو
ہندوستان کو زبانوں کا عجائب گھر کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں میں اردو کو وہ مقبولیت حاصل ہے جو کم زبانوں کے حصے میں آتی ہے۔
نیر مسعود اردو ادب میں ایک کثیر الجہات شخصیت کے مالک ہیں۔ان کے علمی و ادبی کارنامے مختلف النوع ہیں۔ ان کا شمار جہاں اردو کے صف اول کے افسانہ
گذشتہ دو دہائیوں کے ادبی منظر نامے کا جائزہ لیا جا ئے تو اندازہ ہوگا کہ ماضی کے مقابلے میں یہ صدی فکشن کے لیے سازگار ثابت ہو رہی ہے۔فکشن
اُردو شاعری کاایک وہ زمانہ رہا جب شرفا، شعرا اور شاعرات کے ساتھ طوائفوں کا ایک بڑا حلقہ بھی اس فن سے تعلق رکھتا تھا یہ اور بات ہے کہ
فرہنگِ آصفیہ کو مولوی سیدّ احمد دہلوی نے ترتیب دیا ہے۔فرہنگ آصفیہ جلد اوّل او رجلد دوّم کو پہلے مفید عام پر یس آگرہ نے 1891 میں شائع کیا
آزادیِ نسواں اور رومانوی ادب کے علم بردار احسان عبد القدوس(1919-1990) بیسویں صدی کے مایۂ ناز عربی افسانہ نویس اور ناول نگار ہیں۔ان کی پیدائش 1919میں مصر کے شہر