ہندوستانی ثقافت لکھنؤ اور فسانۂ آزاد: ساجد ذکی فہمی
اردو ادب میں ثقافت کا لفظ زیادہ پرانا نہیں ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں یہ لفظ عربی سے اردو میں منتقل ہوا۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے
اردو ادب میں ثقافت کا لفظ زیادہ پرانا نہیں ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں یہ لفظ عربی سے اردو میں منتقل ہوا۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے
پنڈت رام نریش ترپاٹھی (پ 4 مارچ 1889، و 16 جنوری 1962) کاشمار’دویدی یگ‘کے ممتاز شعرا میں ہوتاہے۔ آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ آپ بیک وقت بلند پایہ
مولانا کرامت علی جونپوری (1796-1871) دعوتِ دین کے بے مثل مبلغ اور مجاہد ہیں۔ دیار ِ مشرق میں احیائے دین کے وہ مردِ میداں ہیں اور میر لشکر بھی۔
اردو غزل ’اسم ِ بامسمیٰ‘کا کردار نبھاتے ہوئے دو سو سال سے ایک ہی رنگ و آہنگ میں اپنا سفر طے کرتی آرہی تھی۔ خواجہ حالی کے بیانات محض کاغذی
بیسویں صدی کے اوائل میں یہ تصور عام ہو رہا تھا کہ اردو شاعری کی آ برو یعنی غزل پر قدامت کا غلبہ ہے۔ یہ کسی قدر ہیئت اور موضوع
لغت میں تحشیہ کے کئی معنی ملتے ہیں جیسے حاشیہ چڑھانا، کسی کتاب وغیرہ کا حاشیہ لکھنا،کنارہ یا حاشیہ بنانا وغیرہ اورادبی اصطلاح میں کسی شعر، شہر، لفظ،کتاب اوراشخاص
اردو زبان و ادب کے متعلق پروفیسر آل احمد سرور کا یہ بیان حیاتِ جاوداں کی حیثیت رکھتا ہے کہ: ’’اردو ادب کا لہلہاتا ہوا باغ تنہا ایک باغبان کی
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی فروغِ اردو کے ساتھ اردو سے جڑے تہذیبی و علمی ورثے کے فروغ و تحفظ کے لیے بھی سرگرم ہے۔
نئی دہلی: موجودہ دور انفارمیشن ٹکنالوجی کا دور ہے جس میں ہر آن نئی ترقیات ہورہی ہیں اور دنیا برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، ایسے میں نہ صرف
نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر کے سٹین ہال میں ’مادری زبان کی اہمیت اور ہندوستان کے کثیر لسانی موزیک میں اس