نفسیاتی تنقید ردوقبول کی میزان پر: نصرت جہاں
نفس ہے وہم و گمان اور یقین نفس ہے انسان کی فطرت کا امین نفس نہ ہو تو مقدر ہے شکست نفس کی قید میں ہے فتح مبین اس میں
نفس ہے وہم و گمان اور یقین نفس ہے انسان کی فطرت کا امین نفس نہ ہو تو مقدر ہے شکست نفس کی قید میں ہے فتح مبین اس میں
ہماری زندگی کا ناگزیر عمل بن چکا ہے۔ زندگی کے مختلف اوقات میں ہم مختلف طرح کا سفر کرتے ہیں۔ کبھی یہ مختصر ہوتا ہے اور کبھی طویل۔ اس میں
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں معروف شاعر و ادیب امیر احمد خاں امیر نہٹوری کی کتاب’اربابِ ادب‘ کا کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر
ممتاز صحافی، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، کالم نویس، فلم ساز، ہدایت کار، منظر نامہ نگار، مکالمہ نگار، خواجہ احمد عباس 7جون 1916 کو پانی پت میں پیدا
جدید اردو غزل اور نظم میں ایک منفرد مقام و مرتبہ کے مالک ہیں۔ زندگی کو ایک خاص انداز سے دیکھنا اور سادہ اسلوب میں اپنے دلی جذبات کی ترجمانی
نیاز فتح پوری(1884-1966) کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے خون جگر سے گلشن ادب کی آبیاری کی۔ وہ مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی
ہندوستان کی آزادی کی تحریک یوں تو 1857 کی جدوجہد سے ہی شروع ہو گئی تھی، مگر انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور چالاکیوں نے اس تحریک کو اپنے ظلم
’’دیدی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ ’’کون سی دیدی؟‘‘ ’’دوچاردیدیاں ہیں کیا؟‘‘ ’’میری تو دو دیدی ہیں نا۔‘‘ ’’بڑی دیدی، روہنی دیدی۔‘‘ ’’کیوں انھیں کیا ہوا؟ٹھیک ہی ہوں گی۔‘‘ ’’تم تو
مجھے سوئٹزرلینڈ جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے والد بیمار تھے،ان کا علاج وہاں ہونا طے پایا تھا،اہل خانہ نے فیصلہ کیا کہ ان کی تیمار داری کے لیے میں