پروفیسر صاحب علی کی یاد میں:ڈاکٹر محمد زبیر
عروس البلادممبئی روزِ اول سے ہی اردو زبان وادب کا مرکز رہاہے۔یہاں ادیبوں اور قلم کاروں کا ایک بڑا حلقہ ہردور میں اردو زبان وادب کی ترویج وترقی میں کوشاں
عروس البلادممبئی روزِ اول سے ہی اردو زبان وادب کا مرکز رہاہے۔یہاں ادیبوں اور قلم کاروں کا ایک بڑا حلقہ ہردور میں اردو زبان وادب کی ترویج وترقی میں کوشاں
اگر یہ کہا جائے کہ کتب بینی دانشوروں کا ایک امتیاز ہے تو پہلے یہ سوال ضروری ہے کہ دانشوری کے لیے وسیلہ کیا ہے؟ ضروری نہیں کہ دانائی کے
اردو زبان اور کتابوں سے محبت رکھنے والے کثیر تعداد میں شرکت کریں: پروفیسر دھننجے سنگھ نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعے اردو کے فروغ
دارالمصنّفین اعظم گڑھ، قیام (1914)شبلی کی ہمہ جہت شخصیت کا فکری مرکز ہے اور ان کے بلند خوابوں کی حقیقی تعبیر بھی،یوں تو اس کا با قاعدہ قیام شبلی
اردو کی ترقی اور آبیاری کے حوالے سے جہاں مسلم قلمکاروں نے اپنے قلم سے اس زبان کو وقار بخشا وہیں غیر مسلم قلمکاربھی اس میں برابر کے شریک
نعت ایک ایسی صنف سخن ہے جو غزل کی ہیئت میں بھی لکھی جاتی ہے اور قصیدے کی ہیئت میں بھی۔ مثنوی کی ہیئت میں لکھی جاتی ہے تو رباعی
سرزمین دکن نے اردو کے علمی و ادبی سرمائے کے فروغ میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔یہاں کے ارباب علم و دانش اور ماہرین فکر و فن نے ہر دور
نئی تعلیمی پالیسی کی تجاویز پر عمل کے ذریعے تمام مادری زبانوں کا تحفظ ہوسکتا ہے: پروفیسر علی رفاد فتیحی نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
میر شاعری کے خدائے سخن ہیں اس میں کوئی کلام نہیں لیکن وہ اعلی درجے کے نثر نگار بھی تھے،اگرچہ انھوں نے شاعری کی طرح ریختہ میں نثر نگاری
ہمالہ کی ترائی میں بسا، نیپال کی سرحد سے بنگلہ دیش کی سیما تک پھیلا صوبۂ بہار کا شمال مشرقی زرخیز اور مردم خیز علاقہ جو کبھی قدیم پورنیہ ضلع