عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘ میرا تخلیقی سفر’ اور ‘ ڈیجیٹل میڈیا : چیلنجز اور مواقع ‘ کے عنوان سے مذاکرے

January 15, 2026 0 Comments 0 tags

نئی دہلی: عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اسٹال پر آج دو اہم ادبی موضوعات پر مذاکروں کا انعقاد ہوا، جن میں اہلِ علم و ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔’میرا تخلیقی سفر: مصنفین سے ملاقات’ میں پروفیسر طارق چھتاری، ڈاکٹر خورشید اکرم اور جناب راجیو پرکاش ساحر بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ مذاکرے کی نظامت کے فرائض جناب مالک اشتر نے انجام دیے۔ پروفیسر طارق چھتاری نے اپنے تخلیقی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کا گھریلو ماحول تعلیمی تھا، گھر میں کتابوں کی موجودگی نے بچپن ہی سے مطالعے کی طرف مائل کیا۔ انھوں نے کہا کہ ابتدا ہی سے ان کا ذہن تخلیقی انداز میں سوچنے کا عادی رہا، مختلف موضوعات پر خیالات آتے رہے اور اسی عمل کے دوران مکالمے ذہن میں تشکیل پاتے گئے۔ انھوں نے اپنی پہلی کہانی کے پس منظر اور اس پر معروف افسانہ نگار سید محمد اشرف کی حوصلہ افزائی کا ذکر بھی بڑے دلچسپ انداز میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تخلیق ایک مسلسل عمل ہے جو تخلیق کار کے ذہن میں ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ انھوں نے سائنس سے اردو ادب کی طرف اپنے سفر اور رسائل میں تخلیقات کی اشاعت کے تجربات بھی تفصیل سے بیان کیے۔ ڈاکٹر خورشید اکرم نے کہا کہ افسانہ ان کا پہلا عشق رہا ہے۔ ابتدا میں رسائل میں کہانیاں پڑھتے رہے اور پھر تخلیق کی طرف راغب ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہر تخلیق اپنے الجھاؤ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے، اگر اسے خوبصورت راستہ مل جائے تو فکشن وجود میں آتا ہے اور اگر سرا نہ ملے تو شاعری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ غزل سے مرعوب تھے، مگر اوزان و بحور کی پابندی نے انھیں نثری نظم کی طرف مائل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تخلیق اچانک نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے بہتر ماحول، اچھے دوست اور وافر مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ جناب راجیو پرکاش ساحر نے کہا کہ اردو سے محبت ہی نے ان کے اندر کے تخلیق کار کو بیدار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اردو انھیں وراثت میں نہیں ملی بلکہ انھوں نے محنت اور لگن کے ساتھ اردو زبان اور اس کا رسم الخط سیکھا۔ انھوں نے کہا کہ زندگی کے گہرے مشاہدے اور لکھنؤ کے ادبی ماحول نے ان کے تخلیقی سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ مذاکرے کے اختتام پر تینوں تخلیق کاروں نے اپنی تخلیقات بھی پیش کیں، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔

اس سے قبل ‘ڈیجیٹل میڈیا: چیلنجز اور مواقع’ کے عنوان سے ایک مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں محمد نسیم نقوی، اشرف بستوی، ڈاکٹر خالد رضا خان اور ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ نظامت ڈاکٹر مسعود احمد نے کی۔ محمد نسیم نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا اسی وقت مفید ثابت ہو سکتا ہے جب اس کا مثبت اور ذمے دارانہ استعمال کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ خبروں کی ترسیل میں تصدیق اور احتیاط بے حد ضروری ہے، ورنہ ڈیجیٹل میڈیا کے نقصانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اشرف بستوی نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے عام لوگوں کو اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، تاہم غلط خبروں سے محتاط رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کی صحیح رہنمائی کریں۔ ڈاکٹر خالد رضا خان نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، مگر اس کے ساتھ توجہ کے انتشار اور وقت کے ضیاع کا خطرہ بھی موجود ہے۔ انھوں نے اردو کتابوں کو ڈیجیٹائز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے کہا کہ سوشل میڈیا نے عام انسان کی آواز کو دور تک پہنچایا ہے، تاہم بچوں اور نوجوانوں کو اس کے بے جا استعمال اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے منفی اثرات سے بچانا ضروری ہے۔

(رابطہ عامہ سیل)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو غزل کا علامتی نظام : ایک جائزہ – مضمون نگار : ساجد ممتاز

  شعرا و ادبا اپنے خیالات و احساسات کے بہتر اظہار کے لیے ہمیشہ کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس بات کی تلاش میں رہتے ہیں کہ اپنے احساسات

خواجہ غلام الثقلین کا سفرنامہ ’روزنامچۂ سیاحت‘:فیضان حیدر

  خواجہ غلام الثقلین ایک سچے، بے غرض اور انسانی قدروں کے پاسدار شخص تھے۔ انھوں نے پوری زندگی عوام اور سماج کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کردی

فرید پربتی کا شعری کردار، مضمون نگار: نذیر احمد کمار

 اردو دنیا، ستمبر 2024 یہ کلیہ اپنی جگہ درست ہے کہ شعر و ادب کی دنیا میں بھی تعین قدر کے پیمانے ماحول اور مزاج کے تابع رہتے ہیں کبھی