اردو دنیا،نومبر 2025

ہندوستان کاقدیم تعلیمی نظام ہزارسالوں کا سفر طے کرنے کے بعد معرض وجود میں آیاہے جو علم کے ایک وسیع اور کثیر شعبہ جاتی نظام پر مشتمل ہے، جس میں فلسفہ، سائنس، طب، لسانیات اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس قدیم تعلیمی نظام نے اپنی بیش قیمتی وراثت اور فلسفیانہ گہرائی کے ذریعہ دنیا کے تعلیمی نظام کی رہنمائی کی ہے اور مفید و ضروری تعلیمی نمونوں کوتشکیل دیا ہے۔ گروکل نظام، تعلیم نظام کا ایک قدیم نمونہ ہے جس کی بنیاد جامع تعلیم، ہمہ جہت ترقی، اخلاقیات اور استاد اور شاگرد کے قریبی اور مضبوط رشتے پر ہے۔ گروکل نظام نے اقدار، ذاتی نظم و ضبط اور تجرباتی اکتساب پر زور دیا، جدید تعلیمی نظام جو کہ نوآبادیاتی اور عالمی اثرات کے تحت تشکیل پایاہے، بڑی حد تک معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس علمی روایت کا مرکز گروکل ہے جودرس و تدریس اور باہمی اکتساب کا ایک رہائشی ماڈل ہے جس نے قدرتی اورا قدار سے بھرپور ماحول میں طالب علم کی جامع ترقی پر توجہ مرکوز کیا ہے۔ اس نظام نے نہ صرف رسمی تعلیم پرزوردیا ہے بلکہ زندگی کی مہارتوں، اخلاقیات اور روحانیت کو بھی پروان چڑھایا ہے۔ اس کے برعکس، ہندوستان میں جدید تعلیمی نظام بڑی حد تک برطانوی نوآبادیاتی دور میں،خاص طور پر 1835 کے لارڈ میکالے منٹس کے ساتھ معرض وجودمیں آیا اوراس کے بعد آہستہ آہستہ فروغ پایا، جس کا مقصد انگریزی اور مغربی طرز کی تعلیم کو فروغ دے کرحکومت کے لیے ملازمین اور کارندے پیدا کرنا تھا۔ آزادی کے بعد کی اصلاحات میں تعلیمی نظام کو مقامی بنانے کی کوشش شامل ہے۔
گروکل کا تعلیمی نظام: بنیادیں اور خصوصیات
گروکل نظام تعلیم ایک قدیم ہندوستانی طریقہ ہے جہاں طلبا اپنے استاد (گرو) کے ساتھ فطری ماحول میں رہتے ہیں، تعلیمی، اخلاقی اور روحانی تعلیم کے امتزاج کے ذریعہ اپنی ہمہ جہت ترقی پر زور دیتے ہیں۔ ویدک روایات کی پیروی کرتے ہوئے، گروکل نظام نے ایک علمی برادری کو فروغ دیا، جس نے ذاتی رہنمائی، تجرباتی اکتساب اور احترام، خود انحصاری اور خدمت جیسی اقدار کو جنم دیا۔
گروکل نظام تعلیم کے اہم پہلو
.1 رہائشی ترتیب: طلبا اپنے استاد (گرو)کے ساتھ قدرتی ماحول میں رہتے تھے، عام طور پر ایک جنگل یا آشرم میں زندگی بسر کرتے ہوئے آپس میں قریبی تعلق اور برادری کے احساس کو فروغ دیتے تھے۔
.2 نشوونما اور ہمہ جہت ترقی: نصاب میںسماجی، اخلاقی اور روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ فلسفہ، ادب، سائنس، ریاضی اور یہاں تک کہ جنگ جیسے مضامین کا ایک وسیع دائرہ شامل تھا۔
.3 استاد-شاگرد کی روایت (گرو-شیشیا پرمپرا): اس نظام نے استاد-شاگرد کے درمیان مضبو ط رشتہ (بندھن) پر زور دیاہے، جس میںاستاد ایک سرپرست، رہنما اورمثالی نمونہ ( رول ماڈل) کے طور پر کام کرتاہے۔
.4 تجرباتی تعلیم: اکتساب صرف نصابی کتب تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا عملی استعمال، روزمرہ کے کام اور سماجی سرگرمیوں میں شمولیت و مشغولیت شامل تھی۔
.5 کردار سازی: تمام گروکلوں کا مقصد طلبا میں اخلاقی اقدار، نظم و ضبط اور بزرگوں اور اساتذہ کا احترام پیدا کرنا تھا۔
.6 اقدار پر زور: اس نظام نے خود پر قابو پانے، سماجی بیداری،ثقافت اور علم کے تحفظ پر زور دیا۔
.7 زبانی ترسیل: گروکل میں علم کی تقسیم اور درس و تدریس کا عمل زبانی طورپر سرانجام دیا جاتاتھا۔ معلومات کے ازبر کرنے کے ساتھ اس کی تعلیمات کو سمجھنے پر زور دیا جاتا تھا۔
.8 امداد اور عطیات: گروکلوں کو فیس پر انحصار کرنے کے بجائے عوامی عطیات سے تعاون حاصل تھا۔
.9 نئے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی: تجربہ کا اساتذہ اکثر نئے اساتذہ کو پڑھانے، قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے اور علم کی ترسیل میں مدد کرتے تھے۔
فلسفیانہ بنیادیں
گروکل نظام کی جڑیں تعلیم میں گہرائی سے پیوستہ تھیں، جس کا مقصد طلبا کی سماجی، فکری، جذباتی، جسمانی اور روحانی جہتوںکو پروان چڑھانا تھا۔ اس میں تعلیم صرف حقائق کو جمع کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ کردار، نظم و ضبط اور خود شناسی تک پھیلی ہوئی تھی۔ دھرم (فرض)، ارتھ (معیشت)، کام (خواہش) اور موکش (آزادی) کا انضمام اس درس گاہ میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ اکتسابی رہنمائی اقدار پر مبنی ایک خاکہ کے ذریعہ کی جاتی تھی جس میں سماج کی فلاح و بہبود، خود کی تلاش اور عالمگیر ہم آہنگی پر زور دیا جاتاتھا۔ اس فلسفیانہ بنیاد نے تعلیم کوتجارت یا لین دین کے برعکس قوم و فرد میں مثبت تبدیلی اور اس کے فروغ و ترقی کا باعث بنا دیا تھا۔
ساخت اور تدریسی طریقۂ کار
استاد-شاگرد کی روایت (گرو-شیشیا پرمپرا) گروکل نظام کی ریڑھ کی ہڈی تھا۔ اس نظام میں استاد اور طالب علم کا رشتہ اعتماد، احترام اور عقیدت پر مبنی تھا۔ اکتساب تجرباتی اور زبانی تھا، جس میں حفظ، تلاوت، مباحثے اور قدرتی ماحول میں تجرباتی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ہدایت ذاتی نوعیت کی ہوتی تھی اور اساتذہ نہ صرف ایک ہدایت کار کے طور پر بلکہ طلبا کی پوری زندگی میں ایک روحانی اور اخلاقی رہنما کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ گروکل کی تدریسیات نے ‘شاستر’ (فلسفیانہ مباحث) جیسے مکالماتی طریقوں کے ذریعہ تجسس اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیا اور طلبا کو گفتگو کی اور استدلال میں بھی رہنمائی بھی کی۔
نصاب اور روزمرہ کی زندگی
گروکل کا نصاب کثیر شعبہ جاتی تھا، جس میں وید، ریاضی، فلکیات، طب، موسیقی، فلسفہ، مارشل آرٹس اور دیگر مضامین شامل تھے۔ اکتساب کا ماحول سادہ تھا جو فطرت پر مبنی زندگی، خود انحصاری، ماحولیاتی شعور اور ذہن سازی کو فروغ دینے پر زوردیتا تھا۔
امتحان اور تشخیص
گروکل نظام میں تشخیص مسلسل، غیر رسمی اور تشکیلی تھی۔ اساتذہ ہر ایک طالب علم کی ترقی کا مشاہدہ طورپر کیاکرتے تھے اور اسی کے مطابق منصوبہ بناتے اور اکتساب کی راہ تیار کیا کرتے تھے۔اس نظام میں کامیابی کا پیمانہ امتحانات یا درجات نہیں بلکہ کردار، فہم اور اخلاق تھا۔
جدید تعلیمی نظام: ساخت اور چیلنجز
آزادی کے بعد، ملک میں تعلیم کو جمہوری بنانے اور تہذیب و تمدن کے موافق کرنے کا عمل جاری ہے۔ دستوری طورپر ملک میں تعلیم کو ریاست کے زیر اہتمام رکھاگیا پھردستور ہند میں 42 ویں ترمیم کے ذریعہ 1976میںمشترکہ فہرست منتقل کیاگیااوراس طرح مرکزی حکومت بھی اس کے فروغ کے لیے اس میں سرمایہ کاری کرنے لگی۔ تعلیم کو عالمی اور معیاری بنانے کے لیے مشترکہ طورپر مختلف پروگرام چلائے گئے اور آج بھی چلائے جارہے ہیں۔اس بات کو یقینی بنایاجارہاہے کہ نصاب عالمی معیار کا ہو اور بچے باہرکی دنیاکے لیے تیار کیے جائیں۔نیزتعلیم کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملاکر اکیسویں صدی کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
کلیدی خصوصیات
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ آج کا تعلیمی نظام ادارہ جاتی اور معیاری ہے، جس کی خصوصیت کمرہ تدریس میں ہدایات،درس و تدریس، مقررہ نصاب اور نصابی کتب پر مبنی تعلیم ہے۔ تشخیص بنیادی طور پر ایسے امتحان پر مبنی ہوتی ہے، جس میں حقائق ا ور معلومات کاحفظ و یادداشت کی جانچ پر توجہ دی جاتی ہے۔ یہ نظام اخلاقی یا جذباتی ترقی پر محدود توجہ کے ساتھ ذاتی نوعیت کی تعلیم کی کم حمایت کرتا ہے۔
خوبیاں اور خامیاں
جدید نظام تعلیم کی خوبیاں درج ذیل ہیں:
.1 ہر فرد کی تعلیم تک رسائی .2 سائنسی مزاج کا فروغ
.3 آن لائن پلیٹ فارم اور ای۔ لرننگ جیسی مربوط تکنیکی اختراعات کا فروغ۔
.4 عالمی معیار .5 عالمی شہریت
تاہم اسے کچھ خامیوں کا بھی سامنا ہے جیسے:
.1 طلبا کی کثیر تعدادکی وجہ سے ذاتی توجہ کا فقدان۔
.2 اخلاقی اورا قدار پر مبنی تعلیم کی کمی۔
.3 نمبرات،گریڈز اور مقابلے پر زیادہ زور،
مذکورہ خامیوں کے نتیجے میں طلبا کو تناؤ، برن آؤٹ اور تخلیقی صلاحیتوں کا محدود ہونا جیسے حالات کاسامنا ہے۔
تقابلی تجزیہ: گروکل بمقابلہ جدید تعلیم
مندرجہ ذیل تقابلی تجزیہ ہندوستان میں گروکل نظام اور جدید تعلیمی نظام کے درمیان کلیدی فلسفیانہ، ساختی اور تدریسی تفاوت کو بیان کرتا ہے:
پہلو
گروکل نظام
جدید تعلیمی نظام
اکتسابی نقطہ نظر
جامع اور تجرباتی، زندگی اور اقدار پر مرکوز
نظریاتی اور ساختی، نصابی کتب اور امتحانات پر مبنی
استاد اور طالب علم کا رشتہ
گہرا ذاتی اور روحانی؛ تاحیات سرپرستی
رسمی، درجہ بندی، تعاملی
نصاب
اخلاقیات، فطرت اور کثیر شعبہ جاتی مضامین کے ساتھ مربوط
موضوع کے لحاظ سے مخصوص، بکھرے ہوئے اور معیاری
تشخیص کا طریقہ
تشکیلی، مشاہداتی اور مسلسل
تکمیلی، متواتر، اور درجہ بند
بنیادی ڈھانچہ
سادہ، ماحول دوست، اور فطرت سے مربوط
ادارہ جاتی، شہری، اور ٹیکنالوجی پر مبنی
اخلاقیات
تعلیمی عمل میں اخلاقیات کا مرکزی کردار
اختیاری ماڈیول کے طور پر
اس تقابل سے معلوم ہوتاہے کہ جدید نظامِ تعلیم وسعت اور تکنیکی انضمام میں سبقت رکھتا ہے، لیکن اس میں اخلاقیات و اقدار پر مبنی، ذاتی نوعیت اور جامع جہت کا فقدان ہے جو گروکل روایت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔
گروکل علمی نظام سے حاصل کردہ اسباق
گروکل علمی نظام لازوال تعلیمی اصول پیش کرتا ہے جواکیسویں صدی میں بھی اہم ہیں۔اس نظام کے درج ذیل اسباق جدید تعلیم میں اپنائے جاسکتے ہیں:
اقدار پر مبنی تعلیم
اخلاقیات، نظم و ضبط اور روحانیت کو مرکزی دھارے کی تعلیم میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گروکل کے تعلیمی نظام اور روایت میں بنیادی خصائص کے طور پر ضابطہ، اخلاقی کردار اور ہمدردی پر زور دیا گیا ہے۔ جدید تعلیمی نظام اور موجودہ اسکولوں میں اقدار پرمبنی تعلیم کو بنیادی طور پر شامل کیاجانا چاہیے۔
ایک سرپرست کے طور پر استاد کا کردار
جدیدنظام میں اساتذہ کے تدریسی کردار کے برعکس، گروکل نظام میں استاد ایک سرپرست اور رہنماہوتے تھے جو نہ صرف ذہنی صلاحیتوں بلکہ طالب علم کی جذباتی اور اخلاقی ترقی پر بھی زوردیتے تھے۔ اسکولوں میں ذاتی مشورے کو فروغ دینا طلبا کی مصروفیت کو بہتر بنا سکتا ہے اور اضطراب کو کم کر سکتا ہے۔
مجموعی ترقی پرمرکزی توجہ
گروکل کے تعلیمی نظام میں طلبا کی ہمہ جہت (جسم، دماغ اور روح) ترقی پر زوردیاجاتاتھا۔ یوگا، موسیقی، مارشل آرٹس اور مراقبہ جیسے مضامین کو بغیر کسی رکاوٹ کے مربوط کیا گیا تھا۔ جدید نصاب کو ذہنی تندرستی، جسمانی صحت اور جذباتی ذہانت کو مجموعی طورپر فروغ دینا چاہیے۔
تجرباتی اور ہنر پر مبنی تعلیم
قدیم ہندوستان میں اکتساب کی جڑیں حقیقی زندگی کے کاموں، عملی مظاہروں اور باہمی تعاون پر مبنی تھیں۔ آج کی تعلیم میں نظریہ اور عمل کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے پروجیکٹ پر مبنی اکتساب، انٹرنشپ اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو شامل کیا جاناچاہیے۔
فطرت کے مطابق اکتساب
گروکل نظام تعلیم نے ماحولیات کے مطابق طرز زندگی اور ماحولیاتی بیداری کی حوصلہ افزائی کی۔ جدید تعلیم میں ماحولیاتی مطالعات اور فطرت پر مبنی اکتساب کو شامل کرنے سے موسمیاتی بحران پرقابوپانے اور ذمہ دار شہری پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور ہندوستانی تعلیمی نظام کی تجدید نو
ملک کی نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 ہندوستانی تعلیمی نظام کی تجدید نو اور عصری تعلیم میں گروکل جیسی اقدار کو شامل کرنے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے :
گروکل اقدار کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں دفعات
• کثیر شعبہ جاتی اور تجرباتی تعلیم: یہ پالیسی ایک آزاد، وسیع اور جامع نصاب کی وکالت کرتی ہے جس میں آرٹس، سائنس اور پیشہ ورانہ تعلیم کا امتزاج ہوتا ہے۔قومی تعلیمی پالیسی 2020 اس امتزاج کی وکالت گروکل کے نظام تعلیم کی یاد دلاتا ہے۔
• ہندوستانی زبانوں اور ثقافت کا فروغ: قدیم درس گاہوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے یہ پالیسی مادری زبانوں میں درس و تدریس، کلاسیکی زبانوں اور ہندوستان کے خوبصورت اور زرخیزتہذیبی ورثے کو محفوظ کرنے پر زور دیتی ہے۔
• نصاب میں ہندوستانی تعلیمی نظام: آیوروید، یوگا، فلکیات اور سنسکرت کو اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے نصاب میں شامل کرنے کے ساتھ، یہ پالیسی ہندوستانی تعلیمی نظام کے انضمام کو فروغ دیتی ہے۔
ہندوستانی تعلیمی نظام کو مربوط کرنے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار
SWAYAM، NPTELاور Vidyadaan جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے تمام مضامین میں ہندوستانی علمی نظام سے متعلق مواد تک رسائی کو سہل بنادیا ہے۔ یہ اقدامات ویدک ریاضی، ہندوستانی فلسفہ، کلاسیکی فنون اور سنسکرت کے آن لائن کورسز پیش کرتے ہیں۔ یہ قدیم حکمت کی تکنیکی طور پر فعال احیاء کی نمائندگی کرتے ہیں، جو عالمی قارئین کے لیے قابل رسائی ہے۔
عصری تعلیم میں گروکل کے اقدار کے احیاء کے چیلنجز
اگرچہ گروکل نظام کی فلسفیانہ اور تدریسی خوبیاں ان اقدار کے احیاء کی ضرورت و اہمیت پرزور دیتی ہیں اور آج اس سمت میں کوششیں بھی کی جارہی ہیں لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود عملی نفاذ میں مختلف قسم کے چیلنجز درپیش ہیں جیسے:
ٹیکنالوجی اور جدید معیارکے ساتھ قدیم روایات کو متوازن کرنا
جدید تعلیم تکنیکی ترقی، معیاری تشخیص اور عالمی معیارات کے ساتھ گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ جدید اور قدیم تعلیمی روایت سے سمجھوتہ کیے بغیر قدیم اقدار کو یکجا کرنے کے لیے ایک صحت مند توازن کی ضرورت ہے۔ اس کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایک محتاط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ قدیم روایات عصری معیار سے متصادم ہونے کے بجائے اس کی تکمیل کرسکے۔
ہندوستانی تعلیمی نظام پر مبنی درس گاہ میں اساتذہ کی تربیت
آج بھی ملک میںاساتذہ کی تعلیم کے پروگرام بڑی حد تک مغربی تعلیمی ماڈلز پر مبنی ہیں، جن میں ہندوستانی تعلیمی نظام کی اقدار اور روایات کی کمی ہے۔ اساتذہ کے تربیتی اداروں میں صلاحیت سازی اور نصاب میں اصلاحات کی فوری ضرورت ہے تاکہ ایسے اساتذہ تیار کیے جا سکیں جو گروکل کے طریقوں سے متاثر ہو کرا قدار پر مبنی اور تجرباتی تعلیم فراہم کر سکیں۔
بنیادی ڈھانچے کی حدوداور نصاب کو دوبارہ تیار کرنے کی ضرورت
جامع اور فطرت سے ہم آہنگ اکتسابی ماحول تیار کرنے اور اسے نافذ کرنے کے لیے نصاب کو دوبارہ تیار کرنے، سیاق و سباق کے لحاظ سے حساس تدریسی مواد کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان تبدیلیوں میں ضروری سرمایہ کاری اور پالیسی کی حمایت شامل ہے۔
نوآبادیاتی اثر و رسوخ یامغربی ماڈلز کی وجہ سے مزاحمت
نوآبادیاتی اثر و رسوخ والی دو تین صدیوں نے ملک میں ایسے عوامی تاثرات کو تشکیل دیا ہے کہ جدیدتعلیم ہی سائنسی تعلیم ہے۔ اس کی وجہ سے قدیم تعلیمی نظاموں کے خلاف شکوک و شبہات یا مزاحمتیں پیدا ہونے لگیں، جنھیں بعض اوقات فرسودہ یا غیر متعلقہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس ذہنیت پر قابو پانا ضروری ہے۔
خلاصہ کلام
گروکل نظام اور جدید تعلیم کے درمیان موازنہ دونوں کی انفرادی خوبیوں اور قابل ذکر حدود کو ظاہر کرتا ہے۔گروکل نظام تعلیم نے اخلاقیات، فطرت، رہنمائی اور ذاتی نوعیت کی تعلیم پر زور دینے کے ساتھ جامع،ا قدار پر مبنی تجرباتی نقطہ نظر کو فروغ دیا ہے۔ جدید تعلیمی نظام کے اندر بے مثال رسائی، وسعت اور تکنیکی انضمام پایا جاتا ہے۔ اس میں اخلاقی، روحانی اور جذباتی ترقی کی گہرائی کا فقدان ہے۔ آج کے تناظر میں، یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ کوئی بھی نظام مکمل نہیں ہے۔ ایک مخلوط ماڈل جو گروکل نظام کی فلسفیانہ گہرائی اور اخلاقی اقدار کو جدید تعلیم کی رسائی، ساخت اور تکنیکی آلات کے ساتھ شامل کرتا ہو وہی عصرحاضر کے طلبا کی متنوع ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں ایک تصورپیش کیا گیا ہے کہ ہندوستانی تعلیمی کا مستقبل ہندوستانی علمی نظام کو زندہ کرنے اور سیاق و سباق سے جڑے ہوئے جامع تعلیمی نظام کی تعمیر میں مضمر ہے جو ماضی اور حال دونوں سے رہنمائی و قوت حاصل کرتا ہے۔ قدیم حکمت اور جدید اختراع کے درمیان ہم آہنگی کو اپناتے ہوئے، ہندوستان ایک مفید و مستحکم اکتسابی ماحول تیار کر سکتا ہے جس سے نہ صرف کیریئر بلکہ کردار اور شعور کی پرورش بھی ہوگی۔
Dr. Aftab Alam
Asst. Professor, MANUU, College of Teacher Eduction
Ilyas Ashraf Nagar, Chandanpatti, Laheriasarai
Darbhanga- 846002 (Bihar)
Mob.: 8285835517
aftabalameflu@gmail.com