قومی کونسل کی نئی مطبوعات :
رابندر ناتھ ٹیگور جیسی ہمہ جہت شخصیت بہت کم پیدا ہوئی ہیں۔ انھوں نے شعر و شاعری کے علاوہ بھی کئی ایسے کام کیے ہیں جنھیں دیکھ کر رشک آتا ہے۔ گورا، چوکیر بالی، گھرباہر جیسے ایک درجن سے زائد ناول اور سو سے زائد افسانے لکھے۔ زیرِ نظر کتاب “ٹیگور بتیسی (ٹیگور کے بتیس افسانوں کا انتخاب)” کسی نہ کسی طور پر ٹیگور کے ادبی اوصاف کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو بنگلہ ادب ہی نہیں ادبیاتِ ہند کا بھی کامیاب افسانہ نگار کہا جانا چاہیے۔ انھوں نے فنِ افسانہ کو نہ صرف ہندوستانی عوام سے متعارف کرایا، بلکہ اس میں نت نئے تجربے بھی کیے۔ مختلف اعتبار سے تنوعات پیدا کیے جو آگے چل کر دیگر زبانوں اور علاقوں کے افسانہ نگاروں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ موضوعات، کردار، مناظر، جذبات و احساسات اور زبان و بیان کے اعتبار سے ٹیگور کے افسانوں کا ایک ایسا حسین سنگم بھی کہا جا سکتا ہے جہاں کھڑے ہو کر قاری تازہ و معطر ہواؤں کے جھونکوں سے محظوظ ہوتا ہے۔ اس کتاب میں افسانے کے اقتباسات پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی بنگلہ افسانے کا نہیں، کیٹس یا ورڈز ورتھ کی نظم کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں جہاں شاعر فطری مناظر کو قلم کے پیرائے میں ڈھال رہا ہے۔ ٹیگور کے افسانوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے افسانوں میں اکثر فطرت کو کہانی کی روح بنا کر پیش کرتے ہیں۔
شبیر احمد کا تعلق کولکاتا سے ہے۔ “ٹیگور بتیسی” فکشن نگار شبیر احمد کی ٹیگور شناسی کا معتبر نمونہ ہے۔ انھوں نے ٹیگور کی سینکڑوں کہانیوں میں سے نہ صرف بتیس کہانیاں منتخب کیں، بلکہ ان کے ترجمے بھی کر دیے۔ شبیر احمد نے بحیثیت فکشن نگار اردو ادب میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ پندرہ افسانوں پر مشتمل ان کے افسانوں کا مجموعہ “چوتھا فنکار” اور پھر تازہ ترین ناول “ظہورِ مالا” ان کی تخلیقی شخصیت کی شناخت بن چکے ہیں۔ ترجمہ نگاری کی دنیا میں بھی ان کی اہمیت مسلم ہے۔ انھوں نے سبھاش مکھو پادھیائے اور نریندر ناتھ چکرورتی جیسے بنگلہ کے شعراء کے شعری مجموعوں کا بالترتیب “چلتے چلتے” اور “شاہِ بے لباس” کے نام سے نہایت مؤثر ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ سنیل گنگو پادھیائے کے ناول “اسی سموئے” کا ترجمہ “اس وقت” کے عنوان سے کیا ہے۔ نیز صلاح الدین پرویز کے ناول “آئی ڈینٹٹی کارڈ” کو بنگلہ زبان میں “پریچے پتر” کے نام سے ایسا ترجمہ کیا کہ بنگلہ ادب کے سنجیدہ قارئین کے وہ نورِ نظر بن گئے۔ شبیر احمد کے ترجموں میں تازگی اور شگفتگی کا احساس اس لیے بھی ہوتا ہے کہ وہ براہِ راست بنگلہ زبان سے ترجمہ کرتے ہیں۔ امید ہے کہ “ٹیگور بتیسی” ٹیگور کی ادبی جمالیات کو سمجھنے میں ادب کے طلبا اور اسکالرز کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوگی۔