سری نگر میں قومی اردو کونسل کے 27ویں کتاب میلے کا انعقاد کیا جائے گا

May 15, 2024 0 Comments 0 tags

 

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر فروغ اردو بھون میں آج ‘اردو کتاب میلے؍بک فیسٹیول’کے سلسلے میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ قومی اردو کونسل حکومت ہند کے وزارت تعلیم کے تحت چلنے والا اردو کا ایک خودمختار ادارہ ہے۔ اس لیے اردو زبان و ادب کو درپیش عصری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کونسل کے فعال ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان کے ہر ایک شہر، ہر ایک کونے میں بڑے پیمانے پر کتابوں کی نمائش اور خرید و فروخت کے لیے ہر ایک ممکن اقدام کیے جایئں گے۔ آج کی اس میٹنگ میں اردو کے مشہور و معروف بک پبلشرز کو نہ صرف مدعو کیا گیا بلکہ ایک ایسا لائحہ عمل بھی طے کیا گیا جس میں اردو زبان و ادب کے قاری تک ان کے ہی شہر میں رسائی آسان کردی جائے۔ یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ قومی اردو کونسل کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ کتابوں کی اشاعت، اداروں میں اردو ذریعۂ تعلیم، ملک کے سبھی حصوں میں کمپیوٹر سینٹر کا قیام، سمینار؍ سمپوزیم کے لیے مالی اعانت اور ایک بڑے پیمانے پر خوشگوار ماحول میں عوام کی سہولت کے پیش نظر کتابی میلوں کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔

آج قومی اردو کونسل میں 29 اردو کے پبلشرز کے ساتھ میٹنگ میں متفقہ طور پر یہ طے کیا گیا کہ سال 2024 میں ہونے  والا اردو کا سب سے بڑا کتابی میلہ  سری نگر میں، اگست کے آخری ہفتے میں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سری نگر کی زمین اردو کی آبیاری کرتی آئی ہے۔ اس لیے کتابوں کی فروخت اور کتاب تہذیب میں اضافہ کے امکانات کی قوی امیدیں ہیں۔ خطۂ جموں و کشمیر میں اردو کا ماحول بہت سازگار ہے۔ بیشتر اسکولوں میں اردو بحیثیت نصاب شامل ہے۔ اس لیے قومی اردو کونسل کے 27ویں اردو کتاب میلے کے لیے بطور خاص سری نگر کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس میلے میں ملک کے طول و عرض سے ناشرین شامل ہوں گے۔

سری نگر کے اس سازگار ماحول میں اردو شائقین کے لیے مختلف نوع کے ثقافتی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

          میٹنگ میں قومی اردو کونسل کی اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک)ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، ریسرچ آفیسر انتخاب احمد، ریسرچ آفیسر شاہنواز محمدخرم اور ریسرچ اسسٹنٹ تپیندر کمار  کے علاوہ دہلی کے اہم ناشرین نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ترجمہ سے ترجمانی تک مضمون نگار: امیر حمزہ

ترجمہ سے ترجمانی تک امیر حمزہ ’ وعلم آدم الاسماء کلہا‘ دنیا کے وجود میں آنے سے دنیاوی زبان وجود میں آئی جس کی دلیل نظر یۂ اسلام میں مذکورہ

شعری نحو اور عروضی صوتیات:سلیم شہزاد

زبان کی قواعد دو ساختی تصورات کا مجموعہ ہے  (1)صرف (2)  نحو۔ دونوں تصورات فقروں/ جملوں میں مستعمل حرفوں/ لفظوں کے تقریری /تحریری لسانی تعمل میں اپنے وقوع کی اہمیت کے حامل

نقد مثنوی: کاشف الحقائق کے آئینے میں ۔ مضمون نگار: سلمی محمد رفیق

  امداد امام اثر کے مطابق شاعری رضائے الٰہی کی صحیح نقل ہے جو الفاظ با معنی کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو ان کا