سفینۃ الاولیاء‘ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ،مضمون نگار:محشر کمال

April 2, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص

سفینۃالاولیاء تذکرہ نویسی کے فن میں محمدداراشکوہ کی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ اس تذکرے میں مجموعی طور پر 416 اولیائے کرام کے تذکرے ہیں۔ ان میں مصنف نے بغیر امتیاز کے ایسے تمام اولیائے کرام کو جگہ دی ہے جن کے تذکروں کی اشد ضرورت کو وہ محسوس کرتا ہے۔ یہ تذکرہ کسی خاص ملک یا سلسلے کے اولیائے کرام کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں تمام عالم اسلام کے صوفیوں کا ذکر ہے۔ مصنف نے اولیائے کرام کی طبقہ بندی ان کے سلاسل تصوف کو مدنظر رکھتے ہوئے کی ہے اور جن اولیائے کرام کے سلسلے کے تعلق سے وضاحت دستیاب نہ ہوسکی ان کا ذکر ــ’طبقہ متفرقہ‘ کے عنوان سے ہے۔ ویسے تو اولیائے کرام کے متعلق بہت سارے قابل ذکر تذکرے موجود ہیں جیسے نفحات الانس، کشف المحجوب و تذکرۃالاولیاء وغیرہ لیکن سفینۃالاولیاء و دیگر تذکروں میں فرق یہ ہے کہ جہان دوسرے تذکروںکے صفحات اولیائے کرام کے کرامات و اقوال سے بھرے پڑے ہیں وہیں سفینۃالاولیاء میں داراشکوہ نے اولیائے کرام کے کرامات و اقوال کو نہایت مختصر رکھا ہے اور اس کی جگہ پر اولیائے کرام سے متعلق ضروی و اہم معلومات جیسے ان کے کامل اسم گرامی، جائے پیدائش و وفات، تاریخ ولادت و وفات، سلسلہ تصوف وغیرہ کو خصوصی توجہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جوسفینۃالاولیاء کو دیگر تذکروں سے جدا کرتی ہے۔


کلیدی الفاظ
سفینۃالاولیاء، سفینۃالاولیاء اردوترجمہ،سفینۃالاولیاء ہندی ترجمہ، محمدداراشکوہ، تذکرہ نویسی، اولیائے کرام،سلسلہ قادریہ، سلسلہ چشتیہ،سلسلہ کبرویہ، سلسلہ خواجہائے بزرگوار،سلسلہ متفرقہ،ذکر نساء عارفات،
————
سفینۃالاولیاء محمد دارا شکوہ کے تصانیف بحر بیکراں سے اٹھنے والی پہلی موج تھی جو 1049 ہجری میں اپنے ساحل سے ہمکنار ہوئی۔گنجینہ معلومات سے معمور اس کتاب کو دارا شکوہ نے اپنی عمر کے 25 ویں سال میں پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ اس کتاب میں پیغمبر اسلام، خلفائے راشدین و یازدہ امامین کے تذکروں کے ساتھ مجموعی طور پر 416 بزرگان دین و اولیائے کرام کے تذکرے موجود ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں مذکورہ شخصیات کی مختلف زاویوں سے طبقہ بندی کی ہے۔ پہلے طبقے میں مجموعی طور پر 26 برگزیدہ شخصیات کا تذکرہ شامل ہے جس میں ختم الرسل، دانائے سبل مولائے کل حضرت محمد مصطفیؐ کے علاوہ 4 خلفائے راشدین، 11 اماموں، نیزسلمان فارسی، اویس قرنی، حسن بصری، قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمدبن حنبل، امام ابو یوسف اور امام محمد شیبانی جیسی برگزیدہ شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
بعد ازاں دیگر اولیائے کرام کی طبقہ بندی ان کے سلاسل تصوف کو مد نظر رکھ کر کی گئی ہے اور اس طرح اولیائے کرام کے جس پہلے سلسلے کا ذکر ہوا ہے اس کا اسم مطہر سلسلہ قادریہ ہے جو شیخ عبدالقادر جیلانی سے منسوب ہے۔ اس طبقے میں قادری سلسلہ سے وابستہ 40 مایہ ناز اولیائے کرام کا تذکرہ موجود ہے۔ قادری سلسلے کے بعد سلسلہ شریفہ خواجہائے بزرگوار کا ذکر ہے اور اس سلسلے کے 30 بزرگان دین کا تذکرہ اس کتاب میں درج ہے۔ اگلا سلسلہ تصوف جس کا ذکر اس کتاب میں موجود ہے وہ چشتیہ سلسلے ہے اور اس سلسلہ سے منسوب 25 اولیائے کرام کا تذکرہ قلمبند کیا گیا ہے۔ بعد ازاں سلسلہ کبرویہ کا ذکر ہے اور اس سلسلے کے 20 برگزیدہ اولیائے کرام کا تذکرہ اس کتاب میں درج کیا گیا ہے۔کبرویہ سلسلے کے بعد سہروردیہ سلسلے کے 20 پائے کے اولیائے کرام کے تذکرے کو مصنف نے اپنی اس کتاب میں جگہ دی ہے۔ ایسے بزرگان دین اور اولیائے کرام جن کا سلسلہ تصوف واضح نہیں تھا ان کا ذکر ’طبقہ متفرقہ‘ کے تحت کیا گیا ہے۔ اس طبقے میں شامل اولیائے کرام کی ایک طویل فہرست ہے جس میں مجموعی طور پر 220 مایہ ناز اولیائے کرام کو شامل کیا گیا ہے۔
’ذکر نساء عارفات‘ کے تحت مصنف نے اپنی اس کتاب میں 35 خواتین کے تذکرے کو شامل کیا ہے جس میں ازواج مطہرات اور بنات طاہرات کے علاوہ دیگر صوفی خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔


سفینۃالاولیاء کے احاطۂ تحریر میں لانے کے اسباب
اس کتاب کے تصنیف کی سب سے اہم وجہ مصنف کی پیغمبر اسلام، خلفائے راشدین، یازدہ ائمہ و دیگر بزرگان دین و اولیائے عظام سے بے انتہا عقیدت تھی۔ مصنف کی اس عقیدت کا اندازہ اس کے مندرجہ ذیل شعر سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے:
من چگونہ مرید کس نشوم
از ارادت مرا سرشت و خمیر
(میری سرشت اور میرا خمیر ارادت سے بنا ہوا ہے تو میں کیوں کر بزرگوں کا مرید نہیں ہوسکتا)
سفینۃالاولیاء میں مصنف اولیائے کرام کے تئیں اپنی عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں، جس کا مفہوم یہ ہے:
’’بات یہ ہے کہ اس عاجز فقیر کو صوفیہ کے مقدس گروہ سے ایک خاص ارادت ہے کہ ان کا ذکر خیر اس کا شب و روز کا مشغلہ ہے، دوسرے تمام اشغال اس کے مقابلے میں ہیچ معلوم ہوتے ہیں۔فقرا کا یہ نیازکیش خادم اپنے آپ کو اولیائے کرام کے پرستاروں اور ارادت مندوں کی فہرست میں شامل سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اس کتاب میں ان کے حالات و واقعات کا اندراج خیروبرکت اور اپنی سعادت مندی کا وسیلہ سمجھتا ہے۔ وہ شخص جسے محبوب کا وصال نصیب نہیں ہوتا، وہ ذکر محبوب ہی سے اپنے دل کو خوش رکھتا ہے۔ سید انام علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کو خیر کی دعوت دیتا ہے وہ خود بھی اس دعوت کے ثواب سے محروم نہیں رہتاہے۔ نیز آں سرور صلعم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی قوم سے مہرومحبت کا رشتہ بناتا ہے، وہ بھی اسی قوم میں محسوب ہوگا۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص13)
سفینۃ الاولیاء میں ہی مصنف اولیائے کرام کے تئیں اپنی عقیدتمندی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر لکھتا ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’یہ فقیر حقیربھی یہ توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالی ان اولیاء اللہ کی برکت اور ان کے فیضان سے اسے دنیا و آخرت میں نیک عمل کی توفیق عطا فرما ئے اور آخرت میں انھیں کے صدقے سے اس کی بخشش ہو۔ کیا اچھا ہو کہ وہ اسے بھی اپنے دوستوں کے خدام کی فہرست میں شامل کرے اور انھیںکے ساتھ اس کا حشر ہو، ان کی عنایت سے اس کا دامن دولت ایمان سے پر ہو۔‘‘ ((سفینۃ الاولیاء، ص17)
مصنف کی اس بے انتہا عقیدت نے اس کے اندر جذبہ شوق و اشتیاق و تجسّس پیدا کیا کہ وہ ان برگزیدہ شخصیات کے حالات سے مکمل طور پر بہرہ مند ہو، لہٰذا اس نے ان موضوعات سے متعلق عربی اور فارسی کی معتبر کتب کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو اسے یہ محسوس ہوا کہ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسی کتاب موجود نہیں ہے جو مکمل طور پر کسی ایک شخصیت کے حالات زندگی کا احاطہ کیے ہو ئے ہو۔ مصنف کہتا ہے کہ اگرچہ ان برگزیدہ شخصیات کے حالات اور ان سے منسوب معجزات و کرامات کا ذکر تو عربی و فارسی کی اکثر کتب میں مثبت طور پر موجود ہے لیکن ان شخصیات کے حالات زندگی سے وابستہ بہت سی بنیادی لیکن ضروری اور اہم معلومات جیسے ان کے کامل اسم گرامی، تاریخ تولد و وفات، جائے تولد و وفات، محل قبور و سلسلہ تصوف وغیرہ ان تمام کتب میں ایک ہی مقام پر ندارد تھیں۔ علاوہ از یں اگر کسی کتاب میں یہ بنیادی معلومات درج بھی کی گئیں تھیں تو وہ معلومات خالی از اشکال نہیں تھیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’متقدمین و متاخرین نے عربی و فارسی میں سیدانام، صحابہ کرام، ائمہ دوازدہ اور اولیائے کاملین کے جو حالات و کمالات، فضائل و مناقب اور مدارج و مقامات سپرد تحریر کیے ہیں، وہ کسی کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ چونکہ بعض امور اور حالات و واقعات کے چند خصوصی پہلو انتہائی کدوکاوش کے بغیر روشنی میں نہیں آسکتے،اس لیے اس فقیرحقیر محمدداراشکوہ حنفی قادری کے ذہن میں یہ بات آئی کہ مشائخ کے حالات بقیدسنین ولادت و رحلت کیوں نہ ضبط تحریر میں لائے جائیں۔ نیز ان مشائخ کی مزارات عالیہ کا ذکر بھی اسی ضمن میں آجائے۔ میں نے معتبر کتب اسناد سے بہت چھان پھٹک کے بعد وہ حالات و واقعات یکجا کیے جو سید کونین اور ان خلفائے راشدین سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کی حیثیت ارکان اسلام کی ہے اور جن سے مہرومحبت اور بغض و عداوت خدا سے دوستی یا دشمنی کے مترادف ہے۔ ائمہ دوازدہ کے حالات بھی جمع کیے کہ یہی علوم سیدالمرسلین کے صحیح معنی میں وارث ہیں۔ ائمہ اربعہ جنھیں قدرت نے ہزارہا نفوس کی پیشوائی کے منصب پر فائز کیا ہے۔اور وہ حضرات اولیائے کرام جن کے حق میں ـ ــعلماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل کی حدیث وارد ہوئی ہے، وہ ظاہری و باطنی علوم میں سرچشمہ فیضان رسالت ہیں، میں نے ان کے حالات بھی ترتیب دیے ہیں۔ جن اولیا ومشائخ کے سلسلے دریافت نہیں ہوسکے میں نے ان کا حال جداگانہ فصل میںدرج کیا ہے اور اس سے میرا مقصد یہ ہے کہ ایک قاری کو بات آسانی سے سمجھ میں آسکے۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص 12-13)
سفینۃ الاولیاء کی تصنیف کی دوسری اہم وجہ کا ذکر کرتے ہوئے مصنف رقمطراز ہے کہ دوران مطالعہ اسے یہ خیال آیا کہ جب اس دنیا کی تمام تر سہولیات دستیاب ہونے کے باوجود بھی مغلیہ سلطنت کے ایک شہزادے کو اس طرح کی دشواریاں پیش آسکتی ہیں کہ اس کے ذہنی تجسس کی تشنگی کسی ایک کتاب کے مطالعے سے سیراب نہیں ہوسکتی، تو ایک عام قاری یا عقیدتمند کو کس طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا، اس لیے کیوں نہ ایک ایسی کتاب تصنیف کی جائے جو ان برگزیدہ شخصیات کے حالات زندگی سے متعلق تمام بنیادی معلومات کو اپنے اندر سموئے ہو ئے ہو۔ ایسا کرنے سے مصنف اپنے دو مقاصد کو حاصل کرسکتا تھا: پہلا یہ کہ ایسا کرنے سے مصنف ان برگزیدہ شخصیات کی خدمت میں اپنی عقیدت مندی کا نذرانہ پیش کرسکتا تھا تو دوسرا یہ کہ عام قارئین کے لیے ایک ایسی کتاب دستیاب ہو جائے گی جس کے مطالعے کے بعد ان کے تجسّس کی تشنگی سیراب ہوسکتی تھی اور اپنے انھیں مقاصد کی حصولیابی کے لیے مصنف اپنی زندگی کی پہلی کتاب کی تصنیف کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ مصنف اپنی اسی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کچھ یوں رقمطراز ہے جس کا مفہوم یہ ہے:
’’ نفحات الانس، کشف المحجوب، تذکرۃالاولیاء اور دیگر کتب میں اولیاء اللہ کے حالات بالتفصیل درج کیے گئے ہیںلیکن سلسلہ وار ترتیب کا لحاظ نہیںرکھا گیا ہے اسی لیے اس حقیر نے اولیائے کرام کے حالات میں تسلسل کی رعایت رکھی ہے۔ بعض وہ متقدمین جن کے سلاسل کا علم معتبر ذرائع سے نہیں ہوسکا ان کا ذکر ایک جداگانہ فصل میں آیا ہے۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص 35)


رموزتصوف میں داراشکوہ کی دلچسپی کے اسباب
داراشکوہ کی تصنیفات اور اس کے حالات زندگی کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کا ذہن تصوف کی طرف مائل تھا اور نظام سلطنت و سپاہ گری اس کا میدان نہیں تھا،اسی لیے تصوف کے رموز و اسرار کو حاصل کرنے کے لیے وہ ہمیشہ آمادہ نظر آتا ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلطنت مغلیہ کا شہزادہ ارشد اور ولی عہد ہونے کے باوجود بھی وہ کون سی وجوہات تھیں جنھوں نے داراشکوہ کو تصوف کی طرف مائل کیا نہ کہ امور سلطنت و سپاہ گری کی طرف؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈھنے کے لیے ہمیں بہت زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی ہے کیونکہ داراشکوہ اپنی اسی کتاب سفینۃالاولیاء میں خود لکھتا ہے کہ اس کی زندگی میں دو ایسے اہم واقعات رونما ہو ئے جن کا سامنا کرنا ایک عام انسان کے بس کی بات نہیں تھی اور اگر بزرگان دین اور اولیائے کرام کی دعائیں اور شفقتیں اس کے حق میں اور اس کے ساتھ نہ ہوتیں تو شاید اس دنیا میں اس کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ مصنف کی تصانیف سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اسے نو عمری سے ہی بزرگان دین و اولیائے کرام سے بے انتہا عقیدت تھی۔ یوں تو اس عقیدت مندی کی بہت ساری وجوہات تھیں لیکن دارا شکوہ کی زندگی میں دو ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جس نے دارا شکوہ کو تصوف کی طرف مائل کرنے میں حد درجہ اہم کردار ادا کیا: پہلا واقعہ اس کی ولادت سے وابستہ ہے، اس واقعے کے بارے میں ذکرکرتے ہوئے دارا شکوہ کچھ اس طرح رقمطراز ہے:
’’اس فقیر کی ولادت خطہ اجمیر میں ساگرتال کے قریب ہوئی ہے، اور اس فقیر کی تاریخ پیدائش دوشنبہ ماہ صفر سنہ 1024 ہجری ہے۔ قبلہ والدماجد کے گھر مین تین لڑکیاں تھیں اور کوئی لڑکا متولد نہیں ہوا تھا اور ان کی عمر 24 سال کی ہوچکی تھی۔ والدماجد نے اس اعتقاد کی بنا پر جو انھیں خواجہ خواجگان سے تھا، نذرونیاز کی پیشکش کے بعد لڑکے کی ولادت کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالی نے اس دعا کے صدقے میں اس فقیر کو پیدا کیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے اور اس کی رحمت سے امید ہے کہ وہ اپنی اور اپنے دوستوں کی محبت سے نوازے اور نیکی کی توفیق فرمائے۔ ‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص94، فارسی سے ترجمہ)
اس طرح دارا شکوہ کو نو عمری میں ہی یہ بات ذہن نشیں کرا دی گئی تھی کہ اس کا وجود صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے فیضان کرم کا ثمرہ ہے۔
دوسرا اہم واقعہ جو دارا شکوہ کو تصوف کی طرف راغب کرنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے وہ اس کے عہد شباب میں رونما ہونے والا ایک مہلک مرض تھا۔ جب سلطنت مغلیہ کے تمام اطبا اور معالجین اس مرض کا علاج کرنے سے قاصر رہے تو شاہجہاں بادشاہ داراشکوہ کو اپنے ساتھ لے کر اس وقت کے مشہور قادری صوفی میاں میر یا میاں جیو کی خانقاہ میں ان کے حضور حاضر ہوا اور اپنے بیٹے داراشکوہ کے مرض لاعلاج سے انھیں آگاہ کیا اور اس کی شفایابی کے لیے ان سے دعا کرنے کا ملتجی ہوا۔ میاں میر کی دعاؤں کے نتیجے میں دارا شکوہ مکمل طور سے شفایاب ہوگیا۔ دارا شکوہ اپنی کتاب سکینۃالاولیاء میں اپنے اس مرض کا ذکرکچھ یوں کرتے ہیں:
’’اور جب یہ فقیر ایک بیماری سے دوچار ہوا اور طبیب اس مرض کے علاج سے قاصر رہے اور اس بیماری کی مدت 6 مہینوںسے زیادہ ہوگئی تھی۔ اس مدت میںیہ فقیر حضرت میاںجیو سے آشنا نہیں تھا۔ بادشاہ نے مجھے خود اپنے ساتھ لے کر اپنے اس اخلاص و نیازمندی کے سبب جو انھیں حضرت میاں جیو سے تھا، ان سے اس فقیر کی صحت یابی کے لیے فاتحہ کی درخواست کی اور بادشاہ نے میرا ہاتھ تھام کر کہا: حضرت میاں جیو! یہ میرا بڑا بیٹا ہے اور آپ کا معتقد ہے، طبیب اس کے مرض کے علاج سے عاجز آچکے ہیں، آپ توجہ فرمائیں۔ حضرت میاں جیو نے میرا ہاتھ پکڑا اور مٹی کی اس صراحی کو جس سے آپ خود پانی نوش فرماتے تھے، پانی سے بھرا اور اپنے ہاتھ میں لے کر دعا پڑھ کر اس پر دم کیا اور فاتحہ خوانی کے بعد اس فقیر کو دیا اور کہا کہ اس صراحی سے پانی پیو۔ اس پانی کے پینے کے ایک ہفتہ بعد ہی میری تمام بیماریاں دور ہوگئیں اور مجھے مکمل صحت یابی نصیب ہوئی۔‘‘ ( سکینۃ الاولیاء، ص49،فارسی سے ترجمہ)


سفینۃ الاولیاء کا تنقیدی جائزہ
اس کتاب کے مطالعے سے داراشکوہ کی زندگی کا ایک اہم گوشہ روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے اور وہ گوشہ ہے اسلام میں اس کی رغبت و عقیدتمندی۔ لیکن آگے چل کر اس کے دشمنوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے دروغ گوئی سے کام لے کر اس پر یہ الزام عائد کردیا کہ داراشکوہ مذہب اسلام سے متنفر ہوگیا ہے، چنانچہ وہ واجب القتل ہے۔ اور بالآخر اسی بنیاد پر اسے قتل کردیاگیا۔ لیکن اس الزام کے برعکس یہ کتاب اس بات کی ضامن ہے کہ داراشکوہ نہ صرف اسلام کا ماننے والا تھا بلکہ وہ باشرع اسلام کا پیروکار تھا،لہٰذا اس نے باشرع اور بے شرع اولیا کے بیچ کے فرق کو قارئین کے لیے جابجا واضح کیا ہے:
’’صوفیہ کی ایک جماعت خود کو فرقۂ ملامتیہ کے نام سے منسوب کرتی ہے تاکہ لوگ انھیں پہچان نہ سکیں۔ لیکن ان کا عمل خلاف شرع نہیںہوتا ہے۔ چنانچہ سلطان العارفین حضرت شیخ بایزید بسطامی اپنے کمال کو پہنچنے اور مشہور ہونے کے بعد بسطام آئے، لہٰذا اس جگہ کے معززین اور عمائد آپ کے خیرمقدم کے لیے حاضر ہوئے اور کمال عقیدت کی وجہ سے اس شہر کے تمام باشندے بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جب سلطان العارفین نے عوام و خواص کا یہ ہجوم دیکھا تو آپ نے اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کیا۔ چنانچہ آپ نے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے رمضان المبارک کا مہینہ ہونے کے باوجود بازار سے روٹی خریدی اور کھانی شروع کردی۔ لوگوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کی ساری عقیدت کرکری ہوکر رہ گئی اورلوگ واپس لوٹ گئے اور صورت یہ پیش آئی کہ جب تک سلطان العارفین بسطام میںرہے لوگوں نے ان سے رجوع نہیں کیا۔ اگرچہ ایسے عظیم المرتبت شیخ نے رمضان المبارک کا مہینہ ہونے کے باوجود ظاہر ااپنا روزہ توڑ دیاتھا، لیکن ان کا یہ عمل شریعت کے منافی نہیںتھا اس لیے کہ آپ حالت سفر میںتھے اور سفر میں افطار صوم کی اجازت ہے۔‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص15، فارسی سے ترجمہ)
سفینۃالاولیاء میں ہی ایک دوسرے مقام پر شیخ رکن الدین علاء الدولہ سمنانی کے ضمن میں لکھتے ہوئے داراشکوہ کچھ ایسے جملے تحریر فرماتا ہے جس سے شریعت اسلام کی تئیں اس کی عقیدتمندی کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔
’’ان ایام میں ایک رسالہ نظر سے گزرا جس کی بابت کہاجاتا ہے کہ وہ شیخ علاء الدولہ سمنانی کی تصنیف ہے اس میں آپ نے اپنے عقائد کو بیان کیا ہے۔ اس رسالے میں بعض مسائل اہل سنت والجماعت کے مسلک کے خلاف بھی ہیں اور انھیں آپ کی اپنی اجتہاد کا حاصل کہنا چاہیے۔ اگر وہ رسالہ فی الحقیقت آپ ہی کی تصنیف ہے، پس میںاللہ کی پناہ چاہتا ہوں ایسے آدمی سے جوائمہ اربعہ کے مسلک کے خلاف ہو۔‘‘
(سفینۃ الاولیاء، ص 107، فارسی سے ترجمہ)
اسی طرح حکیم سنائی کا تذکرہ کرتے ہوئے داراشکوہ لکھتا ہے کہ اس کی نظر سے حکیم سنائی کی تصنیف حدیقہ میں کچھ ایسے نامعقول الحاقی اشعار گزرے تھے جو شریعت کے خلاف معلوم ہوتے تھے اس لیے اس نے جب شہر غزنی میں داخل ہوکر اکابرین اسلام کی قبور کی زیارت سے فیضیاب ہونے کا ارادہ کیا تو حکیم سنائی کی قبر پر حاضر ہونے کے لیے پہلے پہل راضی نہ ہوا، مگر ایک رات جب خواب میں اسے حکیم سنائی کیعقیدے کی درستگی کا پیغام دیا گیا تب وہ حکیم کی قبر کی زیارت کے لیے راضی ہوا:
’’حدیقہ حکیم سنائی میں بعض ابیات الحاقی ہیں۔ ان کو پڑھتے اور سنتے ہی اس عاجز کے دل میں شبہ پیدا ہوا تھا۔ بعد میں جب غزنی پہنچا تو میرا ارادہ یہ تھا کہ حکیم سنائی کے مزار کے علاوہ دوسرے تمام مزارات کی زیارت کروں۔ اس سے پہلے کہ میں غزنی میں داخل ہوں، رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں غزنین کے مشائخ کی زیارت کے لیے حاضر ہوں اور ایک شخص مجھے یہ بتا رہا ہے کہ یہ حکیم سنائی کا مزار ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے سنگ مرمر کی ایک قبر دیکھی جس پر کندہ تھا ’ہذا قبر حکیم سنائی‘ اس میں شبہ ہے کہ سنی بھی لکھا ہوا تھا یا نہیں۔ جب میں نے یہ خواب دیکھا تو یہ سمجھا کہ مجھے حکیم سنائی کے سنی ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علی الصباح میں حکیم سنائی کی قبر پر حاضر ہوا تودیکھا کہ وہی سنگ مرمر کی قبروہاں موجود تھی جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ اس سے مجھے یقین ہوا کہ وہ چند ابیات الحاقی ہیں جو مبتدعین کے مذہب کے موافق اس میں شامل کرلیے گئے ہیں۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص 167، فارسی سے ترجمہ)


سفینۃالاولیاء کی خصوصیات
سفینۃالاولیاء کے مطالعے کے بعد جو چند خصوصیات نظر آتی ہیں انھیں یہاں بیان کیا جارہا ہے۔


مآخذ کے ساتھ واقعات کا ذکر
اس تذکرے کو تصنیف کرتے وقت مصنف نے اس بات کا حتی الامکان لحاظ رکھا ہے کہ حقائق کو بیان کرتے وقت اس کے مآخذ و حوالہ جات کا ضرور ذکر کرے تاکہ عوام الناس کے بیچ پھیلی ہوئی غلط فہمی کا ازالہ ہوسکے اور قاری کے ذہن میں کسی مسئلے سے وابستہ کوئی بھی شک وشبہ باقی نہ رہے، مثلا حضرت اویس قرنیؓ کا تذکرہ رقم کرتے وقت داراشکوہ اس حقیقت کا ذکر کرتا ہے کہ اویس قرنی کی وفات کی سلسلے میں عوام الناس کے درمیان دو طرح کے اعتقاد رائج تھے: ایک یہ کہ وہ ایک جنگ کے لیے آذربائجان گئے اور وہیں ان کی وفات واقع ہوئی اور دوسرا اعتقاد یہ تھا کہ انھوں نے امیرالمومنین حضرت علیؓ کے لیے جنگ صفین میں شرکت کی اور وہیں شہید ہوگئے۔ چونکہ یہاں ایک ہی شخص کی جائے وفات اور سنہ وفات کے سلسلے میں دو طرح کے اعتقاد رائج تھے اسی لیے داراشکوہ نے ان دونوں اعتقادات کو مآخذ و حوالہ جات کے ساتھ قلمبند کر دیا ہے تاکہ قارئین کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں:
’’شواہدالنبوۃ میں حضرت اویس قرنی کی رحلت سے متعلق یہ آیا ہے کہ آپ آذربائجان میںجنگ کے لیے گئے تھے کہ آخری وقت آپہنچا۔ لوگوں نے ایک جگہ آپ کے لیے قبر کھودنی چاہی، وہاں پتھر کی ایک چٹان ملی جہاں ان کی قبر پہلے سے بنی ہوئی تھی۔ جب کفن کا ارادہ کیا تو ان کے کپڑوں کی گٹھری سے ایسے صاف ستھرے کپڑے ملے جو کسی انسان کے ہاتھوں سے بنے ہوئے نہیں تھے۔ ان کپڑوں میں آپ کو کفنا دیا گیا اور اس قبر میں سپرد خاک کردیا گیا۔کشف المحجوب اور تذکرۃالاولیاء کے مصنّفین نے تحریر کیا ہے کہ حضرت اویس قرنی حضرت امیرالمومنین علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ نے جنگ صفین میں شریک ہوکر جام شہادت نوش فرمایا۔ایک روایت کے مطابق آپ کی تاریخ وفات 3 رجب 22 ہجری اور دوسری روایت کی مطابق 37 ہجری تھی۔ روضۃالریاحین میں امام عبداللہ یافعی نے یہ دونوں روایات نقل کی ہیں۔‘‘
(سفینۃ الاولیاء، ص31، فارسی سے ترجمہ)
اسی طرح حضرت شیخ ابوالقاسم نصرآبادی کے تذکرے کے تحت اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ ان کی وفات کے سلسلے میں دو سنہ وفات کا ذکر کتابوں میں درج ہے ایک سال وفات 372 ہجری اور دوسرا 367 ہجری ہے۔ چونکہ ایک ہی واقعے کو کتابوں میں دو طرح سے بیان کیا گیا ہے اس لیے مصنف نے اس سلسلے میں بھی حوالہ جات کا ذکر کرنا مناسب سمجھا:
’’مولاناعبدالرحمان جامی کی تصنیف نفحات الانس میں مذکور ہے کہ ان کی وفات سنہ 372 ہجری میں واقع ہوئی اور امام یافعی، محاسن الاخبار و رسالہ قشیریہ میں مذکور ہے کہ ان کی وفات ربیع الاول کے مہینہ میں سنہ 367 ہجری میں واقع ہوئی۔ پہلا قول ہی صحیح قول ہے۔‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص 155، فارسی سے ترجمہ)
اسی طرح داراشکوہ کہتا ہے کہ مولانا عبدالرحمن جامی کی کتاب نفحات الانس میں بعض مشائخ کے سلسلے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ فلاں شیخ کا تعلق طبقہ اولی سے ہے اور فلاں شیخ کا تعلق طبقہ ثانی سے ہے۔لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عبدالرحمان جامی کا یہ طریقہ بیان شیخ ابوعبدالرحمان سلمی کی کتاب طبقات سے اخذ کیا گیا ہے:
’’اور حضرت مولانا عبدالرحمان جامی نے نفحات الانس میں ذکر کیا ہے کی بعض مشائخ کا تعلق طبقہ اولی سے تو بعض مشائخ کا تعلق طبقہ ثانیہ سے ہے، (در اصل یہ طرز تحریر شیخ ابوعبدالرحمان سلمی) کی کتاب طبقات سے اخذکیا گیا ہے۔‘‘
(سفینۃ الاولیاء، ص159، فارسی سے ترجمہ)


کچھ واقعات کے ضمن میں مصنف نے اپنے ذاتی خیالات قلمبندکیے ہیں
صوفیائے کرام کے تذکرے سے وابستہ اس کتاب (سفینۃالاولیاء)کے مطالعے سے ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس کتاب کی تصنیف کے پیچھے مصنف کا ارادہ دیگر کتب میں درج مختلف مطلوبہ حقائق و معلومات کو یکجا کر کے قارئین کے حضور پیش کرنا تھا اور اسی لیے اس کتاب میں مذکور بیشتر مشائخ کے متعلق حقائق و واقعات کو کسی نہ کسی معتبر تذکرے کی کتاب سے اخذ کیا گیا ہے جو قبلا تصنیف ہوچکی تھیں اور اس کا ذکر خود داراشکوہ نے اپنی کتاب میں جابجا کیا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ داراشکوہ کی یہ کتاب سفینۃالاولیاء حقائق و واقعات کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں مذکور حقائق و واقعات کا ذکر تذکرے کی کسی نہ کسی کتاب میں موجود تھا جو اس سے قبل منظر عام پر آچکی کسی لیکن ان حقائق و واقعات کو نقل کرتے وقت مصنف نے حسب ضرورت اپنے ذاتی خیالات کا اظہار بھی کیا ہے جس کی وجہ سے ان حقائق و واقعات کی تشریح و توضیح ہو گئی ہے اور قارئین کے لیے ان حقائق و واقعات کو حاصل کرنا آسان ہوگیا ہے:
’’ارباب سیر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آنحضرتؐ کا ظہور ولادت طلوع آفتاب کے بعد صبح صادق کے وقت دوشنبہ کے دن ہوا تھا۔ لیکن سال اور ماہ و تاریخ کے سلسلے میں جو روایات پائی جاتی ہیں ان میں اختلاف ہے۔ اکثر مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور واقعہ اصحاب فیل سے پچپن یا چالیس یوم بعد دنیا میں تشریف لائے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ کی ولادت اور واقعہ فیل دونوں ایک ہی تاریخ میں وقوع پذیر ہوئے۔بعض ارباب تاریخ یہ بھی لکھتے ہیں کہ آپ کی ولادت اور واقعہ فیل میں تیس یا چالیس سال کا فرق ہے۔ پہلی روایت صحیح نظر آتی ہے۔علمائے امت کی متفقہ رائے یہ ہے کہ جس ماہ میں آپؑ کی ولادت باسعادت واقع ہوئی وہ ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ مورخین کا ایک طبقہ یہ بھی کہتا ہے کہ ولادت کا مہینہ رمضان المبارک ہے۔ لیکن مشہور یہی ہے کہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو آفتاب رسالت نے طلوع کیا تھا۔ بعض کا خیال یہ ہے کہ آپ دوسری ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔بعض نے 8 ربیع الاول کی نشاندہی بھی کی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یوم ولادت یکم ربیع الاول ہے اس تاریخ کو دوشنبہ تھا۔ مورخین نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ نوشیروان عادل کی تخت نشینی سے 42 سال بعد آپ کا نزول ہوا۔ جامع الاصول وغیرہ دیگر کتب میں یہ مذکور ہے کہ آنحضرت کی ولادت سکندر رومی کے انتقال سے 872 سال بعد ہوئی۔ حضرت ابن عباس کی ایک روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیؑ کی بعثت نبوت اور آنحضرت کی ظہور ولادت کی درمیانی مدت 600 سال ہے۔‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص17-18، فارسی سے ترجمہ)
شیخ ابوالنجیب کے حوالے سے ایک کرامت کا ذکر کرتے ہوئے داراشکوہ ایک قصاب اور اس کی دوکان میں موجود گوسفند کے غیر حلال گوشت کا قصہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایک دفعہ شیخ ابوالنجیب ایک قصاب کی دوکان کے پاس سے گزر رہے تھے تو اس قصاب کی دوکان میں موجود گوسفند کے گوشت نے شیخ سے گفتگوکی اور انھیں بتایا کہ یہ گوشت حلال نہیں ہے بلکہ یہ ایک مردار گوسفند کا گوشت ہے۔ شیخ نے اس بات کا ذکر قصاب سے کیا اور قصاب یہ سن کر بیہوش ہوگیا۔ شیخ کی اس کرامت کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے داراشکوہ لکھتا ہے کہ اس موقعے پر شیخ ابوالنجیب کا اپنی کرامت کو ظاہر کرنا دو وجہوں سے ضروری تھا: ایک یہ کہ اس مردہ گوسفند کا گوشت مسلمانوں کے لیے حرام تھا اور اگر شیخ اس حقیقت کو بیان نہ کرتے تو مسلمانوں کا اس گوشت سے پرہیز ناممکن تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ قصاب کو اپنے گناہ سے توبہ کرنے کا ایک موقع فراہم کرایاجائے:
’’روایت میں آیا ہے کہ ایک دن آپ بغداد میں ایک قصاب کی دوکان پر گئے وہاں ایک بکری لٹکی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بکری کہتی ہے کہ میں مری ہوئی ہوں مجھے ذبح نہیں کیا گیا ہے۔ یہ سنتے ہی قصاب بے ہوش ہوکر گرپڑا۔ قصاب کو جب ہوش آیا تو اس نے شیخ کے قول کی صداقت کا اعتراف کیا اور توبہ کی۔ اس واقعے سے اس فقیر کے دل میں جو حقیقت عیاں ہوئی وہ یہ ہے کہ اس موقع پر شیخ کے لیے اپنی کرامت کا اظہار کرنا ضروری تھا اور شیخ کے اس اظہار کرامت میں دو حکمتیں پوشیدہ تھیں: ایک حکمت تو یہ تھی کہ مسلمان حرام گوشت کھانے سے باز رہیں اور دوسری یہ کہ قصاب کی توبہ کا وقت بھی آپہنچاتھا۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص103، فارسی سے ترجمہ)
اسی طرح شیخ علی بن بندار بن حسین الصوفی الصیرفی کے تذکرے کے ضمن میں داراشکوہ نے شیخ علی بن بندار بن حسین الصوفی الصیرفی اور شیخ عبداللہ خفیف کی ایک گفتگو کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایک دن شیخ ابوعبداللہ اورشیخ ابوالحسن ایک ساتھ سفر کررہے تھے۔ جب وہ ایک خاص مقام پر پہنچے تو شیخ ابوعبداللہ نے شیخ ابوالحسن کو خود سے آگے چلنے کے لیے کہا۔ شیخ ابوعبداللہ نے شیخ ابوالحسن کو خود سے آگے چلنے کے لیے کیوں کہا؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے داراشکوہ کہتا ہے کہ شیخ ابوعبداللہ نے شیخ ابوالحسن کو خود سے آگے چلنے کے لیے اس وجہ سے کہا کہ شیخ ابوالحسن نے شیخ جنید کا دیدار کیا تھا اور صوفیا کے نزدیک بزرگان دین اور صوفیائے کرام کا دیدار اور ان کی صحبت نہایت ہی بلند مرتبہ اور مقام رکھتی ہے اور اسی لیے شیخ ابوعبداللہ کے لیے شیخ ابوالحسن کی حرمت کا پاس رکھنا لازمی تھا:
’’ایک دن شیخ ابوعبداللہ خفیف کے ہمراہ ایک تنگ پل پر پہنچے۔ شیخ ابوعبداللہ نے آپ سے فرمایا کہ اے ابوالحسن آگے قدم بڑھائو۔ ابوالحسن نے فرمایا، آگے کیوں قدم بڑھائوں؟ حضرت شیخ ابوعبداللہ نے فرمایا، آپ نے جنید کو دیکھا ہے اور میں نے نہیں دیکھا ہے۔ یہ بات انھوں نے اس لیے کہی کہ مشائخ کا دیدا بڑی نسبت اور بڑی سعادت ہے۔ اس گروہ مشائخ کو اللہ تعالی نے بڑا منصب عطا کیا ہے کیونکہ یہ بات روایت در روایت منتقل ہوتی چلی آئی ہے کہ اس نے فلاں بزرگ کو دیکھا ہے اور فلاں شیخ کی صحبت سے لطف اندوز ہوا ہے۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص 152، فارسی سے ترجمہ)


مصنف کے مطالعے کی گہرائی
سفینۃالاولیاء کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کتاب کی تصنیف سے پہلے مصنف نے اس موضوع پر گہرائی سے مطالعہ کیا تھا کیونکہ بعض معلومات سے متعلق دارشکوہ ایک سے زائد کتب سے حوالے پیش کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ان مختلف معلومات میں کون سی معلومات درست ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ایک سے زائد کتب مصنف کے زیر مطالعہ رہی ہوں اور مصنفنے ان معلومات کے متعلق تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا ہو جیسے شیخ ابوالقاسم نصرآبادی کی وفات کے متعلق لکھتے ہوئے وہ کہتا ہے:
’’نفحات الانس میں مولانا عبدالرحمان جامی نے تحریر کیا ہے کہ آپ کی وفات سنہ 372 ہجری میں واقع ہوئی۔ امام یافعی اور محاسن الاخبار و رسالہ قشیری کے مطابق ماہ ربیع الاول سنہ 367 ہجری میں آپ کا انتقال ہوا۔ پہلا قول صحیح ہے۔‘‘
(سفینۃ الاولیاء، ص155، فارسی سے ترجمہ)
اسی طرح داراشکوہ کہتا ہے کہ مولانا عبدالرحمان جامی کی کتاب نفحات الانس میں بعض مشائخ کے سلسلے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ فلاں شیخ کا تعلق طبقہ اولی سے ہے اور فلاں شیخ کا تعلق طبقہ ثانی سے ہے۔لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عبدالرحمان جامی کا یہ طرزتحریر ان کا خود کا تخلیق کردہ طرزتحریر نہیں تھا بلکہ عبدالرحمان جامی نے یہ طرز تحریر شیخ ابوعبدالرحمان سلمی کی کتابــ طبقات سے اخذ کیا تھا:
’’اور حضرت مولانا عبدالرحمان جامی نے نفحات الانس میں ذکر کیا ہے کی بعض مشایخ کا تعلق طبقہ اولی سے تو بعض مشائخ کا تعلق طبقہ ثانیہ سے ہے، (در اصل یہ طرز تحریر شیخ ابوعبدالرحمان سلمی) کی کتاب طبقات سے اخذکیا گیا ہے۔‘‘)
(سفینۃ الاولیاء، ص159، فارسی سے ترجمہ)


کتاب میں مذکورہ اصطلاحات کی تشریح
اس کتاب میں مصنف نے جابجا اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس کتاب میں مذکورہ کچھ معلومات و اطلاعات کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے تاکہ قارئین کے ذہن میں کوئی خدشہ باقی نہ رہے اور وہ اپنے مقصد تک بہ آسانی پہنچ سکیں۔ مثال کی طور پر اس کتاب میں جابجا شیخ الاسلام کی اصطلاح کا استعمال ہوا ہے اور یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو بہت عام اور رائج الوقت رہی ہے اور جسے مختلف لوگوں نے مختلف ادوار میں مختلف شخصیات کے لیے استعمال کیا ہے اس لیے اگر اس اصطلاح کی وضاحت نہ کی جاتی تو قاری کا ذہن الجھنوں اور خدشات کا شکار ہوسکتا تھا۔ لہٰذا قاری کے ذہن کو ان الجھنون اور پریشانیون سے محفوظ رکھنے کے لیے داراشکوہ نے اس اصطلاح کی وضاحت کردی ہے کہ اس کتاب اور نفحات الانس میں بھی شیخ الاسلام کی اصطلاح کا استعمال صرف اور صرف خواجہ عبداللہ انصاری کے لیے کیا گیا ہے:
’’نفحات الانس اور اس کتاب میں جہاں کہیں بھی شیخ الاسلام کی اصطلاح کا ذکر ہوا ہے اس سے مراد خواجہ عبداللہ انصاری ہیں۔‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص 165، فارسی سے ترجمہ)
اسی طرح اس کتاب میں بزرگان دین و اولیائے کرام کو تصوف کے مختلف سلسلوںمیں تقسیم کیا گیا ہے لیکن ایک قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ تصوف کے مختلف سلسلوں کی یہ طبقہ بندی کن اصولوں اور بنیادوں پر کی گئی ہے؟ دراصل تصوف میںایک مریدمختلف سلسلوں کے پیروں سے تین طریقوں سے منسوب ہوسکتا ہے لیکن جس پیر سے وہ اپنا خرقہ ارادت حاصل کرتا ہے، اسی پیر کے سلسلہ طریقت سے وہ منسوب ہوتا ہے۔ چونکہ ایک مرید تین طریقوں سے مختلف سلسلۂ تصوف کے پیروں سے منسوب ہوسکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسے صرف اور صرف کسی ایک ہی سلسلہ تصوف سے منسوب کیا جائے؟ قاری کی اس ذہنی الجھن کو دور کرنے کے لیے داراشکوہ نے اس سلسلے میں بھی اپنی وضاحت پیش کردی ہے:
’’مشائخ سے مریدوں کا انتساب 3 طریقوں پر مستعمل ہے: اول بذریعہ خرقہ، دوم بذریعہ نعالین، اور سوم بذریعہ ان کی صحبت و خدمت۔ اور خرقہ کی دو قسمیں ہیں: خرقہ ارادت کہ اس خرقے کاایک شیخ کے علاوہ کسی اور شیخ سے حاصل کرنا روا نہیں ہوگا، اور دوسرا خرقہ تبرک کہ اس کو باعث برکت سمجھ کر ایک سے زائد مشائخ سے حاصل کرنا روا ہے۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص35، فارسی سے ترجمہ)


اخوت و یگانگی و ہم زیستی کا درس
اگرچہ داراشکوہ کی یہ تصنیف خصوصی طور سے ایک خاص طبقہ یعنی مسلمانوں سے وابستہ ہے اور اس میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے وہ صرف اور صرف مسلمانوں سے ہی وابستہ ہے۔ لیکن اگر ہم اس کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہوجائے گی کہ داراشکوہ خالصا مسلمانوں سے متعلق کتاب کو تحریر کرتے وقت بھی عمومی طور سے معاشرے کو اخوت و یگانگی اور ہم زیستی کا سبق دیتا ہے۔ مثلا وہ کہتا ہے کہ اولیاء اللہ کا کردار پوشیدہ ہوتا ہے اور انھیں اللہ کی تائید کے سوا کوئی عام انسان پہچان نہیں سکتا، لہٰذا ہمیں کسی بھی انسان کے تئیں کوئی غلط رائے اپنے ذہن میں نہیں بنانی چاہیے اور اپنی اس ذاتی رائے کی بنیاد پر ہمیں کسی انسان کو غلط نہیں سمجھنا چاہیے یعنی اگر دوسرے الفاظ میں کہوں تو داراشکوہ لوگوں سے کہتا ہے کہ لوگوں کی طرززندگی کی بنیاد پر انھیں غلط تصور نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے برعکس مذہب و مسلک کا امتیاز کیے بنا ہمیںمعاشرے کے سبھی فرد کی عزت و حرمت کا پاس رکھنا چاہیے:
’’اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ’اولیائی تحت قبایی لایعرفہم غیری‘ یعنی میرے دوست چھپے ہوئے ہیں، میرے علاوہ انھیں کوئی نہیں پہچانتا، ہاں البتہ وہ پہچانتے ہیں جن کو میں اس کی توفیق بخشوں۔ اس لیے مناسب ہے کہ کسی کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اولیاء اللہ دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جب تک چشم دل روشن نہ ہو اور نظرحقیقت نگر میسر نہ آئے مخلوق کے معاملات میں دخیل ہونا خود اپنے آپ پر ظلم و ستم روا رکھنا ہے۔‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص14، فارسی سے ترجمہ)


سفینۃالاولیاء کے بعض عیوب
یوں تو سفینۃالاولیاء کو ضبط تحریر میں لانے سے پہلے ہی مصنف نے ان عیوب کی نشاندہی کر لی تھی جو قبلا تحریر شدہ تذکروں میں موجود تھیں اور مصنف نے انھیں عیوب کے ازالے کے لیے اس کتاب کو تحریر کیا تھا، تاہم بعض مقامات پر اس سے کچھ ایسی لغزشیں سرزد ہوئیں ہیں جو مصنف کے مقصد تصنیف کی نفی کرتی ہیں۔ مصنف کی ایسی ہی بعض لغزشوں کا بیان ذیل میں درج کیاگیا ہے۔
بعض اوقات واقعات کی تواریخ خذف ہو گئی ہیں
ویسے تو اس کتاب کو تصنیف کرنے کے پیچھے مصنف کا یہی منشا تھا کہ ایک ایسی کتاب قارئین کے حضور پیش کی جائے جس میں اولیائے کرام و بزرگان دین سے وابستہ دیگر اہم معلومات کے ساتھ ساتھ ان کی تاریخ ولادت و وفات کا بھی ذکر ہو لیکن بعض اولیائے کرام و بزرگان دین کا تذکرہ لکھتے ہوئے اس کتاب میں بھی ان سے متعلق تاریخ ولادت و وفات حذف ہوگئی ہیں اور جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس تصنیف کے پیچھے کارفرما مصنف کا مقصد ہی فوت ہو گیا ہے لیکن خوش قسمتی سے ایسے تذکرے اس کتاب میں نہیں کے برابر ہیں:
’’آپ سلسلہ طریقت میں حضرت غوث الثقلین سے نسبت رکھتے تھے۔ آپ کا شمار بلند پایہ شیوخ میں ہوتا ہے۔ کتاب فصوص میں آیا ہے کہ شیخ ابوالسعود نے اپنے مریدین سے واضح الفاظ میںفرمایا کہ 15 سال گزرے مجھے اللہ تعالی نے تصرف کی دولت سے نوازا ہے لیکن میں نے اس دولت کو اختیار نہیں کیا۔ ابن قائد نے آپ سے دریافت کیا کہ معاملات میںآپ کے متصرف نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا کہ میں تصرف صرف اللہ تبارک و تعالی کے لیے مخصوص سمجھتا ہوں، وہ جس طرح چاہتا ہے بندوں کے معاملات میں تصرف کرتا ہے۔‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص66، فارسی سے ترجمہ)
حضرت شیخ ابوالسعود بن الشبل قدس سرہ سے وابستہ مندرجہ بالا مختصر تذکرے میں ان کی تاریخ ولادت و وفات اور محل ولادت و وفات کا ذکر موجود نہیں ہے۔
کچھ واقعات کا ذکر بغیر کسی ماخذ کے کیا گیا ہے
اگرچہ داراشکوہ نے پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں مذکورہ سبھی حقائق کا ان کے مآخذ کے ساتھ ذکر کرے لیکن پھر بھی کہیں کہیں ماخذ کا ذکر نظر نہیں آتا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو مصنف کی ان شکایات کی ضد معلوم ہوتی ہے جس کی بنیاد پر اس نے اس کتاب کی تصنیف کا فیصلہ کیا تھا چنانچہ وہ کہتا ہے: ’’چون بعضی خصوصیات آن در کتب متفرقہ مندرج است و بعد از تجسس و تفحص بسیار یافتہ و دانستہ می شود و خالی از اشکالی نبود بنابر آن این فقیر حقیر محمد داراشکوہ حنفی قادری خواست…‘‘ اور اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ مصنف کی یہ بے احتیاطی اس کے اس مقصد کی نفی کرتی ہوئی نظر آتی ہے جس کے تحت اس نے اپنی کم عمری میں اس شاندار کتاب کی تصنیف کی ذمے داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل متن کو پیش کیا جا سکتا ہے جس میں کچھ واقعات کا ذکر ہوا ہے لیکن ان کے مآخذ کا ذکر نہیں ہوا اورشاید ایسا اس لیے ہوا کہ مصنف کے ذہن میں یہ بات رہی ہو کہ چونکہ یہ واقعات زبان زد عام ہیں لہٰذا ان کے مآخذ کے ذکر کرنے میں وقت اور کاغذ کا اسراف نہیں کرنا چاہیے:
’’آنحضرتؐ سے لاتعداد معجزات ظہور میں آئے مثلا نزول قرآن، شق القمر، بنی یمامہ کے نومولود کا کلام کرنا، ہرن کی گفتگو، نبوت پر سوسمار کی شہادت، سنگریزوں کاآپ کے دست مبارک پر کلمہ پڑھنا، کھجور کے درخت اور اس کی شاخوں کا خدمت اقدس میںحاضری، حضور کی جستجو میںپتھر کا سطح آب پر بہہ نکلنا، اس چادر کا آگ سے نہ جلنا جس سے حضور کا دست مبارک چھو گیا تھا۔ آنحضرت کی انگشتہائے مبارکہ سے چشمہ آب کی روانی، کھجور کا درخت اونٹ کی کوہان سے اگ آنا اور اس کا پھلوں سے لدنا، زہرآلود زبان سے بکری کے بچے کا گویا ہونا وغیرہ۔ ایک ہزار لوگوں نے روایت کی ہے کہ آپؑ سے تین ہزارمعجزات ظہور میں آئے۔‘‘(سفینۃ الاولیاء، ص18، فارسی سے ترجمہ)
مندرجہ بالا عبارت کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح نہیں ہوتی کہ آیا ان معجزوں کے مآخذ قرآن و حدیث میں یا تاریخی کتب چنانچہ ایک عام قاری کو دیگر مآخذ کی طرف رجوع کرنے کی حاجت محسوس ہوتی ہے اوراس طرح ایک قاری ایک بار پھر معلومات کی اسی تشنگی کو محسوس کرتا ہے جس تشنگی کو دور کرنے کے لیے داراشکوہ نے اس کتاب کو تصنیف کیا تھا۔
کچھ واقعات کا تفصیلی ذکر بغیر مآخذ کے کیا گیا ہے
ویسے تو مصنف خود کہتا ہے کہ اس نے اپنی اس کتاب کو اولیاء اللہ و بزرگان دین سے وابستہ کچھ اہم حقائق و معلومات جیسے کہ ان کا کامل اسم گرامی، سلسلہ تصوف، جائے ولادت و وفات وغیرہ کو عام قارئین تک پہنچانے کے لیے تصنیف کیا ہے اور اس کا مقصد ان بزرگان سے وابستہ کرامات یا دیگر حالات زندگی کا تفصیلی ذکر کرنا نہیں ہے کیونکہ ان موضوعات پر دیگر کتب میں تفصیلی گفتگو کی گئی ہے لیکن بعض اوقات اس نے کچھ اہم واقعات کا تفصیلی ذکر کیا ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے یہ تفصیلی گفتگو اس لیے کی ہے کہ یہ واقعات اسلامی عقائد و معلومات کے نظریے سے انتہائی اہمیت کے حامل تھے جیسا کہ مندرجہ ذیل تحریر سے ظاہر ہوتا ہے، اگرچہ کہ ایسی تفصیلی گفتگو اس کتاب میں بہت کم نظر آتی ہیں:
’’ارباب سیرت کی روایات کے بموجب آنحضرت علیہ الصلوۃ والتسلیم نے 12 ربیع الاول کو واقعہ ہجرت سے 11 سال بعد دوشنبہ کے دن چاشت کے وقت پردہ فرمایا۔ بعض کی روایت یہ ہے کہ تاریخ وصال 2 ربیع الاول بروز چہارشنبہ ہے، آدھی رات کو یہ سانحہ پیش آیا صبح صادق کے وقت۔ بعض کی روایت ہے کہ آپ کا وصال حجرہ عائشہ صدیقہ میں منگل کے دن ہوا اور یہیں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ آپ کی عمر کے بارے میں بھی اختلاف ہے بعض کے نزدیک آپ نے 63 سال کی عمر پائی اور بعض کے نزدیک 65 سال کی، ایک روایت سے 60 سال اور ایک دوسری روایت سے62 سال 6 مہینے کی عمر ثابت ہوتی ہے۔ تذکرہ نویس علما نے مختلف اور متناقص روایات کی توجیہہ و تطبیق کرتے ہوئے یہ تحریر فرمایا ہے کہ پہلی روایت میںولات و وصال کی ضمن میںاختلاف نہیں پایا جاتا جب کہ دوسری روایت کی بنیاد ولادت اور وصال کے سال پر ہے۔ 60سال کی عمر سے متعلق جو روایت پائی جاتی ہے اس میں بڑھے چڑھے سال نظرانداز کرے گئے ہیں مزید برآن چوتھی روایت رسول کریمؐ کے اس ارشاد پر مبنی ہے کہ متقدم اور متاخر انبیا کی عمروںمیں دو اور ایک کی نسبت ہوگی چونکہ آپ سے ماقبل پیغمبر حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر 125 سال ہوئی ہے اس لیے اس قرینے سے آپ کی عمر اس روایت کی مطابق 62 سال 6 مہینے قرار دی گئی ہے۔یہ حدیث ضعیف بتائی جاتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص 19)
مندرجہ بالا اقتباس میں داراشکوہ نے پیغمبر اسلام کی وفات اور ان کی عمر کے سلسلے میں عوام الناس کے بیچ رائج آرا کو تو تفصیلابیان کیا ہے لیکن اس سلسلے میں کسی ماخذ کا حتمی ذکر نہیں کیا ہے۔
ماخذ کا ذکر تو مصنف کرتا ہے لیکن اصل ماخذ میں ان واقعات کا ذکر نہیں ہے
بعض مقامات پر مصنف حقائق کو بیان کرتے وقت ماخذ کا ذکر تو کرتا ہے لیکن جب ہم اس ماخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس ماخذ میں وہ حقائق موجود نہیں ہیں بلکہ کسی اور ماخذ میں انحقائق کا ذکر ہوا ہے مثلاً:
’’کشف المحجوب کے مصنف نے تحریر فرمایا ہے: سہل بن عبداللہ تستری جس دن ماں کی کوکھ سے اس دنیا میںتشریف لائے اس دن بھی صائم تھے اور جس دن اس دنیا سے رخصت ہوئے اس دن بھی صائم تھے۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص 133، فارسی سے ترجمہ)
مندرجہ بالا واقعے کا ذکر کشف المحجوب میں نہیں ہوا ہے بلکہ تذکرۃالاولیاء میں اس واقعے کا ذکر موجود ہے۔(تذکرۃالاولیاء ،ص 241 ، فارسی سے ترجمہ)


اہمیت و معنویت سفینۃ الاولیاء
محمد دارا شکوہ کی تصنیف سفینۃ الاولیاء فن تذکرہ نویسی کا نایاب نہ سہی مگر ایک کمیا ب شا ہکار ضرور ہے۔ یہ کتاب اولیائے کرام کے تذکروں سے مزین ایک ایسی انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں ایک صوفی کی زندگی سے وابستہ وہ تمام معلومات فراہم کی گئی ہیں جو کسی دوسرے تذکرے میں ایک ہی جگہ پر دستیاب نہیں تھیں۔ اس کتاب میں مذکورہ اولیائے کرام کی زندگی سے وابستہ ان کے کامل اسمائے گرامی، جائے ولادت ووفات، تاریخ ولادت و وفات و سلسلہ تصوف وغیرہ کو ایک ہی جگہ پر جمع کردیا گیا ہے۔
اولیائے کرام سے وابستہ دیگر تذکروں میں جہاں ایک طرف ان کی کرامات کا ذکر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے تو وہیں دوسری طرف ان کی زندگی سے متعلق بہت سی بنیادی و اہم معلومات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس دارا شکوہ نے سفینۃالاولیاء میں اولیائے کرام کی زندگی سے متعلق تمام بنیادی و اہم معلومات کو یکجا کر دیا ہے تو وہیں ان کی کرامات کے ذکر کو نہایت ہی مختصر کر دیا ہے۔ ایسا کرنے کے پیچھے شاید دو مقصد کارفرما تھے: پہلا یہ کہ تصوف میں دلچسپی رکھنے والے ایک عام قاری کے لیے صوفیائے کرام کی زندگی سے وابستہ تمام اہم معلومات کو کاملاً مگر مختصراً ایک ہی کتاب میں یکجا کرنا تھا اور چونکہ مصنف کی نظر میں اس کتاب کا قاری ایک عام عقیدتمند تھا، لہٰذا مصنف کے خیال میں ایک عام عقیدتمند کے لیے اولیائے کرام کے دقیق اقوال اور ان کی کرامات کے رموز کو سمجھنا کوئی آسان بات نہیں تھی لہٰذا مصنف نے اپنے قاری کو ان دشوار گزرگاہوں سے بچاکر انھیں اپنی منزل تک پہنچانے کا آسان راستہ فراہم کیا:
’’اکابر سلف کے دقیق نقاط اور سخنان عالی جو عام فہم اور آسان نہیں تھے انھیں اس کتاب میںشامل نہیں کیا ہے۔ شیخ ابوسعیدخراز جب مصر پہنچے تو ان سے کہا گیا: اے سید قوم! آپ منبر پر تشریف لاکر وعظ کیوں نہیں فرماتے؟ انھوںنے جواب دیا: یہ لوگ حق سے انجان ہیں اور حق سے انجاں لوگوںکے سامنے حق کا ذکر کرنا غیبت ہے اسی لیے کہا گیا ہے ’الولی یعرف الولی‘ ایک ولی کو دوسرے ولی کے علاوہ کوئی تیسرا نہیں پہچانتا۔ اس لیے ان کے علاوہ کسی اور سے اس ضمن میںبات نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
(سفینۃ الاولیاء، ص216، فارسی سے ترجمہ)
اولیائے کرام سے وابستہ کرامات کو مختصر کرنے کے پیچھے اس کتاب کی ضخامت اور وقت کی کمی بھی کارفرما تھی۔ چونکہ اس کتاب میں کل 416 شخصیات کا تذکرہ درج کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب ضخیم سے ضخیم تر ہوتی گئی، لہٰذا مصنف نے اس کتاب کی ضخامت کو کم کرنے کے لیے اولیائے کرام سے وابستہ کرامات کو مختصرکردیا اور ایسا کرنے کے پیچھے ایک دوسرا مقصد یہ تھا کہ اس کتاب کا مطالعہ قارئین کے ذہن پر گراں نہ گزرے۔ اگر مصنف ان تمام کرامات کا تفصیلی ذکر کرنے کے لیے بیٹھتا تو اسے مزید وقت کی ضرورت لاحق ہوتی جو اس کے پاس نہیں تھا لہٰذا اس نے اس کتاب کو موجودہ شکل میں قارئین کی خدمات میں تحفتاً پیش کیا ہے:
’’اگرچہ میری یہ خواہش تھی کہ وہ مشائخ جو ابھی بقید حیات ہیں اور اس فقیر نے جن کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے اور ان کی کرامات کا مشاہدہ کیا ہے، ان کے احوال اور ان کے بعض اقوال کو بھی اس کتاب میں شامل کرے، لیکن وقت کی تنگی نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور اسی لیے میںنے اس سلسلے میں نہیں لکھا اور اسی لیے اکابر سلف کے بلند مرتبہ اقوال اور دقیق نقاط جو کہ عام فہم نہیں تھے ان کو بھی اس کتاب میں شامل نہیں کیا ۔‘‘ (سفینۃ الاولیاء، ص 216،فارسی سے ترجمہ)


سفینۃالاولیاء کے مطبوعہ فارسی اور اس کے اردو و ہندی تراجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے کہ سفینۃالاولیاء کے فارسی نسخے کو ایک طرف مطبع نول کشور نے کانپور اور لکھنؤ سے تو دوسری طرف مسٹر بیل نے آگرہ سے شائع کیا تھا۔ لیکن ان مطبوعہ نسخوں میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ کس خطی نسخے یا نسخوں کو بنیاد بناکر اسے مطبوعہ شکل میں قارئین کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اس حقیقت کو عیاں نہ کرنے کی وجہ سے صرف مصنف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے بلکہ ایک عام قاری کے ساتھ بھی ظلم ہوا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ مصنف اپنی کم عمری میں ہی انتہائی وسیع مطالعے کے بعد بحر کتب میں غوطہ لگاکر بزرگان دین سے وابستہ مختلف معلومات کو جو اب تک مختلف کتابوں میں بکھری پڑی تھیں انھیں ایک ہی جگہ پر جمع کردیا ہے تاکہ ایک عام قاری جس کے پاس نہ تو مطلوبہ وقت میسر ہے اور نہ ہی جس کا ذہن محققانہ ہے وہ بہ آسانی اپنے مقصد کو پہنچ سکے۔ اس طرح ناشر نے سفینۃالاولیاء کے مصنف اور قارئین دونوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے کیونکہ سفینۃالاولیاء کے ان مطبوعہ نسخوں میں بہت سی ایسی عام غلطیاں موجود ہیں کہ جب ایک محققانہ ذہن رکھنے والا قاری ان کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ غلطیاں روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں اور اس طرح ایک محقق کے سامنے ہمیشہ یہ سوال قائم رہتا ہے کہ ناشر نے کس نسخے یا نسخوں کو بنیاد بناکر اس کتاب کو زیور طباعت سے ہمکنار کیا ہے۔ اور یہ سوال ذہن میں اس لیے گردش کرتا ہے کہ مختلف خطی نسخوں میں مختلف غلطیاں پائی جاتی ہیں، کچھ غلطیاں تو کاتب سے لاشعوری طور پر اور کچھ شعوری طور پر سرزد ہوئی ہیں۔ اسی سلسلے میں اگر سفینۃالاولیاء کے خطی نسخوں کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے مختلف کتب خانوں میں اس تذکرے کے متعدد نسخے موجود ہیں اور وہ سبھی نسخے آپس میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان سبھی نسخوں میں شعوری یا لاشعوری طور پر کچھ نہ کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں مثلا اس کتاب میں مذکورہ شخصیات کے اسم گرامی کو تحریر کرنے میں املا کی غلطیاں، کچھ نسخوں میں بعض شخصیات کا تذکرہ ہی مفقود ہے، بعض مقامات کے نام کو صحیح طریقہ سے درج نہیں کیا گیا، بعض نسخوں میں کچھ صفحات ہی غائب ہیں۔ اسی لیے ایک ناشر کے لیے یہ امرلازم ہے کہ اس کتاب کو زیور طباعت سے آراستہ کرتے وقت کسی ایک نسخے پر اکتفا نہ کرے بلکہ مختلف نسخوں کا تقابلی مطالعہ کرکے پہلے ان غلطیوں کو درست کرے بعد ازاں زیور طباعت سے آراستہ کرے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ نہ تو نولکشور اور نہ ہی مسٹر بیل نے اپنی اس ذمے داری کا پاس رکھا اور نتیجتاً جو مطبوعہ نسخے ہمیں دستیاب ہیں ان میں بہت ساری غلطیاں نظر آتی ہیں۔
سفینۃالاولیاء کے موجودہ مطبوعہ نسخوں کا تنقیدی مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ان میں بھی بہت ساری غلطیاں موجود ہیں مثلا:
1 بعض شخصیات کے تذکرے ان مطبوعہ نسخوں میں ندارد ہیں جبکہ خطی نسخوں میں ان کے تذکرے درج کیے گئے ہیں۔
2 بعض شخصیات کے تذکروں کو درج کرتے وقت ان کے عناوین سے وابستہ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جیسے کہ حضرت امام محمد نقیؓ عنہ کے عنوان کے تحت حضرت امام تقیؓ کا تذکرہ درج ہوا ہے اسی طرح حضرت امام تقیؓ کے عنوان کے تحت حضرت امام محمد نقیؓ کا تذکرہ مذکور ہے اور ایسی غلطیوں سے یہ دونوں مطبوعہ نسخے بھرے پڑے ہیں۔
3 بعض جگہوں پر شخصیات کے نام اور مختلف مقامات کے نام کو درج کرتے وقت املا کی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔
ان سبھی غلطیوں کی ایک فہرست اس مضمون کے آخر میں درج کی گئی ہے۔
سفینۃالاولیاء کے مطبوعہ فارسی نسخوں کی حقیقت کو مختصرا بیان کرنے کے بعد اب یہاں میں سفینۃالاولیاء کے موجودہ تراجم کے سلسلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ جہاں تک سفینۃالاولیاء کے تراجم کا سوال ہے تو اس کتاب کے دو اردو اور ایک ہندی ترجمے دستیاب ہیں۔ پہلا اردو ترجمہ نفیس اکیڈمی، اردو بازار، کراچی سے سنہ 1959 میں پہلی مرتبہ شائع ہوا اور اس کے مترجم محمد علی لطفی ہیں۔ اس ترجمے کے یکے بعد دیگرے کئی اڈیشن شائع ہوکر منظرعام پر آچکے ہیں۔
دوسرا اردو ترجمہ مدنی کتب خانہ، چوک گنپت روڈ، لاہور سے شائع ہوا ہے اور اس کے مترجم مولانا محمد وارث کامل، بی اے مرحوم ہیں۔ اس ترجمے کے نسخے میں سنہ اشاعت کا ذکر نہیں ہے لیکن اس ترجمے کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ترجمہ محمد علی لطفی کے ترجمے کے بعد شائع ہوا ہے کیونکہ اس ترجمے میں محمد علی لطفی کے اردو ترجمے میں سرزد ہوئی بہت سی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سفینۃالاولیاء کا ہندی ترجمہ حال ہی میں شائع ہوکر قارئین کے لیے دستیاب ہواہے۔ یہ ترجمہ داراشکوہ سینٹر فار انٹرفیتھ انڈراسٹینڈنگ اینڈ ڈائیلاگ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام سنہ 2022 میں شائع ہوا ہے اور اس کے مترجم کا نام احمد رضا ہے۔
ان تینوں ترجموں میں ایک نکتہ جو مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ان مترجمین نے اپنے ترجموں میں کہیں بھی اس بات کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے تراجم کے لیے فارسی کے کس نسخے یا نسخوں کواپنے مآخذ کے طور پر استعمال کیا ہے۔
لیکن سفینۃالاولیاء کے موجودہ تمام مطبوعہ فارسی اور ترجمہ شدہ اردو و ہندی نسخوں کے تقابلی مطالعے سے یہ حقیقت قدرے واضح ہوجاتی ہے کہ انھوں نے نول کشور اور مسٹر بیل کے مطبوعہ فارسی نسخوں کو ہی اپنے مآخذ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ میں ایسا اس لیے کہہ رہا ہوں کہ سفینۃالاولیاء کے مطبوعہ فارسی نسخوں اور اس کے تراجم میں بہت ساری یکسانیت دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان تراجم میں بھی وہی غلطیاں دہرائی گئی ہیں جو سفینۃالاولیاء کے مطبوعہ فارسی نسخوں میں موجود ہیں جیسے بعض شخصیات کے تذکرے ان مطبوعہ نسخوں اور اس کے تراجم میں غائب ہیں جبکہ خطی نسخوں میں ان کے تذکرے درج کیے گئے ہیں، بعض شخصیات کے تذکروں کو درج کرتے وقت ان کے عناوین سے وابستہ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جیسے کہ حضرت امام محمد نقیؓ کے عنوان کے تحت حضرت امام تقیؓ کا تذکرہ درج ہوا ہے اسی طرح حضرت امام تقیؓ کے عنوان کے تحت حضرت امام محمد نقی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہے، بعض جگہوں پر شخصیات کے نام اور مختلف مقامات کے نام کو درج کرتے وقت املا کی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ ان تراجم میں بعض شخصیات کے تذکرے غائب ہیں جو مطبوعہ فارسی نسخوں میں مندرج ہیں۔
سفینۃالاولیاء کے تقابلی مطالعے اور اس کی تصحیح کے لیے ویسے تو میں نے سفینۃالاولیاء کے ان سبھی خطی نسخوں کا مطالعہ کیا ہے جن کا ذکر اس مضمون میں کیا گیا ہے لیکن خصوصی طور سے کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد میں موجود محمد فریدون کے ذریعے تحریر شدہ خطی نسخے اور خدابخش لائبریری میں موجود محمد مستقیم کے خطی نسخے کو اپنے مضمون کے مآخذ کے طور پر استعمال کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سے پہلا نسخہ دارا شکوہ کی زندگی میں ہی تحریر ہوا تھا اور دوسرا نسخہ مغل بادشاہ اورنگ زیب کے ایک وزیر میرزا محمد بن معتمد خان کے کتب خانے کی زینت ہوا کرتا تھا اور ان دونوں نسخوں پر اعتماد کرنے کا سبب یہ ہے کہ دیگر نسخوں کے مقابلے میں ان دونوں نسخوں میں غلطیاں کم نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے نورالدین عبدالرحمن جامی کی تصنیف نفحات الانس، شیخ ابی حامد محمد بن ابی بکر ابراہیم فریدالدین عطار نیشاپوری کی تصنیف تذکرۃالاولیاء جس کا مقدمہ جناب آقاے میرزا محمد خان قزوینی نے تحریر فرمایا ہے اور ابی الحسن علی بن عثمان بن ابی علی الجلابی الہجویری الغزنوی کی تصنیف کشف المحجوب جس کی والنتین ژوکوفسکی نے تصحیح کیا ہے، کو بھی اپنے مطالعے کے مآخذ کے طور پر استعمال کیا ہے۔
اب یہاں سفینۃ الاولیاء کے ان تمام خطی نسخوں اور دیگر کتب کی تفصیل دی جا رہی ہے جن کو میں نے اپنے مضمون کے مآخذ کے طور پر استعمال کیا ہے:
1 سفینۃ الاولیاء کا ایک خطی نسخہ کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد میں موجود ہے جس کا نمبر داخلہ 21725 اور نمبر کتاب 1748ہے۔ یہ نسخہ 1066ہجری میں تحریر ہوا تھا اور داراشکوہ کا قتل 1069میں ہوا تھا۔ اس نسخے کے کاتب کا نام محمد فریدون ہے۔
2 سفینۃ الاولیاء کا ایک خطی نسخہ خدابخش لائبریری میں موجود ہے جس کا کیٹیلاگ نمبر 674 ہے۔ یہ نسخہ 1108 ہجری میں تحریر ہوا تھا۔ اس نسخے کے کاتب کا نام محمد مستقیم ہے۔ یہ نسخہ ایک وقت میں میرزا محمدبن معتمد خان کے کتب خانہ کی زینت ہوا کرتا تھا۔
3 سفینۃ الاولیاء کا ایک خطی نسخہ کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد میں ہے۔ یہ نسخہ 1146 ہجری میں بیجاپور میں تحریر ہوا تھا۔ اس نسخے کے کاتب کا نام موجود نہیں ہے۔
4 سفینۃ الاولیاء کاایک خطی نسخہ کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد میں ہے۔ یہ نسخہ 1184 ہجری میں تحریر ہوا تھا۔ اس نسخے کے کاتب کا نام ہفت قلم ہے۔
5 سفینۃ الاولیاء کا ایک خطی نسخہ کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد میں ہے جس کا نمبر داخلہ 12918 اور نمبر کتاب 118 ہے۔ اس نسخے کے کاتب کا نام عباداللہ الصمد غلام محمد بن شیخ خواجہ حسن کرمانی بن شیخ خواجہ محمد ہے۔ یہ کتاب پہلی رجب المرجب بروز جمعرات چاشت کے وقت موضع اروبر میں مکمل ہوئی۔
6 سفینۃ الاولیاء کا ایک خطی نسخہ کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد میں ہے جس کا نمبر داخلہ 11920 اور نمبر کتاب 101 ہے۔ یہ نسخہ 1113 ہجری میں تحریر ہوا تھا اور داراشکوہ کا قتل سنہ 1069میں ہوا تھا۔
اس نسخے کے کاتب کا نام میان یار محمد فتحپوریہ ہے۔
7 سفینۃ الاولیاء کا ایک خطی نسخہ کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد میں ہے جس کا نمبر داخلہ 721 اور نمبر کتاب 24 ہے۔
8 سفینۃ الاولیاء کا ایک خطی نسخہ آن لائن ہے۔ یہ نسخہ 1149 ہجری میں تحریر ہوا تھا۔ اس نسخے کے کاتب کا نام عبدالرسول ہے۔
سفینۃالاولیاء کے مطبوعہ نسخوں میں موجود بعض اغلاط کی نشاندہی
اب یہاں سفینۃالاولیاء کے خطی نسخوں، اس کے مطبوعہ فارسی اور ترجمہ شدہ اردو ہندی نسخوں کا باہمی موازنہ اور سفینۃالاولیاء کے مآخذ سے اس کا ایک موازنہ کرکے ان غلطیوں کو پیش کیا جارہا ہے جو مجھے اس مضمون کو تحریر کرتے وقت دکھائی دیں:
سفینۃالاولیاء کے خطی نسخوں اور اس کے مختلف مآخذ کا نول کشور اور مسٹربیل کے مطبوعہ فارسی نسخوں سے موازنہ کرنے کے بعد جو غلطیاں سامنے آتی ہیں ان کو نیچے درج کیا گیا ہے:
یہاں پر نول کشور اور مسٹر بیل کے مطبوعہ فارسی نسخوں میں واقع ان غلطیوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں کسی ایک خاص شخصیت کے عنوان کے تحت کسی دوسری شخصیت کا تذکرہ درج کر دیا گیا ہے:
نمبرشمار….. غلط عنوان….. صحیح عنوان
1 …..امام محمد علی نقی رضی اللہ عنہ….. حضرت امام محمد تقی رضی اللہ عنہ
2….. حضرت امام محمد تقی رضی اللہ عنہ …..امام محمد علی نقی رضی اللہ عنہ
3 …..شیخ تاج الدین ابوبکر عبدالرزاق قدس سرہ …..شیخ سراج الدین عبدالجبار
4….. شیخ ابواسحاق ابراہیمؒ شیخ تاج الدین….. ابوبکر عبدالرزاق قدس سرہ
5….. مولانا نظام الدین خاموش رحمۃاللہ تعالی علیہ….. مولانا سعدالدین کاشغری قدس اللہ سرہ
6 …..شیخ ابوالعباس حمزہ بن محمد حارث بن اسد محاسبی….. شیخ ابوالعباس حمزہ
7 …..شیخ ذوالنون مصری قدس سرہ …..حارث بن اسد محاسبی
8….. ابومزاحم شیرازی رحمہ اللہ….. ابوعمرو زجاجی قدس اللہ سرہ
9 …..ابوعمرو زجاجی قدس اللہ سرہ….. جعفر بن محمد بن نصیر الخلدی الخواص قدس اللہ سرہ
10….. جعفر بن محمد بن نصیر الخلدی الخواص قدس اللہ سرہ….. ابوالحسین الصوفی الفُوشنجی رحمہ اللہ
11….. ابوالحسین الصوفی الفُوشنجی رحمہ اللہ….. ابوبکر داوود دینوری رحمہ اللہ
12….. ابوبکر داوود دینوری رحمہ اللہ….. شیخ عبداللہ قدس اللہ سرہ العزیز
13 …..شیخ اسماعیل نیشاپوری رحمہ اللہ علیہ….. ابوعمرو بن نُجید رحمہ اللہ علیہ
14….. ابوعمرو بن نُجید رحمہ اللہ علیہ….. ابوعبداللہ مُقری روح اللہ روحہ
15….. ابوعبداللہ مُقری روح اللہ روحہ….. ابوبکر قطیعی رحمہ اللہ تعالی علیہ
16 …..ابوبکر قطیعی رحمہ اللہ تعالی علیہ….. شیخ ابو احمد رحمہ اللہ علیہ
17….. شیخ ابو احمد رحمہ اللہ علیہ …..ابوعبداللہ رودباری قدس اللہ سرہ
18 …..ابوعبداللہ رودباری قدس اللہ سرہ …..ابوسہل صُعلوکی ؒ
19 …..ابوسہل صُعلوکی ؒ….. ابراہیم بن ثابت قدس سرہ
20….. ابراہیم بن ثابت قدس سرہ …..شیخ ابوبکر وراق قدس سرہ
21….. حضرت شیخ….. حضرت شیخ روزبہان بقلی….. قدس اللہ تعالی سرہ
22 …..حضرت شیخ روزبہان بقلی قدس اللہ تعالی سرہ …..شیخ ابوالحسن کَردُویہ روح اللہ روحہ
23 شیخ ابوالحسن کَردُویہ روح اللہ روحہ ابن صباغ رحمہ اللہ تعالی
24 …..ابن صباغ رحمہ اللہ تعالی….. شیخ علی بن ادریس یعقوبی رح
25 …..شیخ علی بن ادریس یعقوبی ؒ….. شیخ ابوالحسن علی قریشی رحمہ اللہ تعالی
26….. محمود زاہد مرغابی رحمہ اللہ علیہ….. مولانا زین الدین ابابکر تایبادی قدس اللہ تعالی سرہ
27 …..محمد بن فضل اللہ قدس سرہ….. خواجہ عبدالحق جامی رحمہ اللہ
28 …..خواجہ عبدالحق جامی رحمہ اللہ….. شیخ محمد فضل اللہ رحمہ اللہ تعالی
29 …..خدیجہ واعظ….. ام محمد
30 …..ام محمد….. خدیجہ واعظ
یہاں پر نول کشور اور مسٹر بیل کے مطبوعہ فارسی نسخے میں واقع ان غلطیوں کا ذکر ہے جس میں کسی ایک خاص شخصیت کے نام کو درج کر تے وقت املے کی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں:
نمبر شمار….. غلط اسمائے گرامی….. صحیح اسمائے گرامی
1….. حضرت شیخ علی بن ہیبتی….. شیخ علی ہیتی
2 …..حضرت شیخ ابوعمرو صریفی….. ابوعمرو الصریفینی
3….. حضرت شیخ صَدَقہ بغداد….. صَدَقہ بغدادی
4 …..حضرت شیخ بقای بن بطو….. بقا بن بَطُّو
5….. شیخ محمد الاوانی المعروف بابن القاہد….. محمد الاوانی المعروف بہ ابن القائد
6 …..شیخ ابوعلی فارندی….. ابوعلی فارمَدی
7 …..حضرت خواجہ عارف ریوکری….. عارف رِیو ِگِرَوی
8 …..حضرت خواجہ محمود الخیرفعنوی….. محمود انجیر فَغنَوی
9 …..حضرت شیخ نورالدین عبدالرحمن اسفرانی کسرقی….. نورالدین عبدالرحمن اسفراینی کَسِرقی
10 …..محمد بن حسین بن احمد الخطنی الکبری….. محمد بن حسین بن احمد الخطیبی الکبری
11 …..شیخ فتح بن شجزف….. فتح بن شَخرَف
12….. حضرت سہیل بن عبداللہ تستری….. سہل بن عبداللہ تستری
13….. حضرت شیخ جعفر الحذار….. جعفر الحَذّا
14 …..حضرت شیخ ابوالحسین الصوفی القوشجی….. ابوالحسین الصوفی الفوشنجی
15 …..حضرت شیخ بندار بن حسین بن محمد بن مہلت …..بندار بن حسین بن محمد بن مُہَلّب
16 …..حضرت شیخ ابوبکر الداقی….. ابوبکر الدُّقّی
17….. حضرت شیخ ابوبکر مقید….. ابوبکر مُفید
18 …..حضرت شیخ ابوبکر قبطی….. ابوبکر قطیعی
19 …..شیخ ابوسہیل صعلوکی….. ابوسہل صُعلوکی
20….. شیخ ابوبکر فراز …..ابوبکر فرّاء
21 …..حضرت شیخ احمد بن ابراہیم المسبوحی….. احمد بن ابراہیم المُسوحی
22 …..حضرت شیخ ابواسحق بن شہریار گازرونی …..ابواسحق بن شہریار کازرونی
23 …..حضرت شیخ لیس المغربی السود….. یاسین المغربی الاسود
24….. حضرت مولانا جلال الدین یورانی….. جلال الدین پورانی
25….. حضرت غفیرۃالعاہدہ….. عُفیرۃالعابدۃ
مندرجہ ذیل شخصیات کا تذکرہ سفینتہ الاولیاء کے نول کشور اور مسٹربیل کے مطبوعہ فارسی نسخوں میں درج نہیں ہے لیکن مختلف خطی نسخوں میں ا ن کا تذکرہ ہے:
1 شیخ ابواسحاق ابراہیم ؒ 2 مولانا نظام الدین خاموشؒ
3 حضرت شیخ بشر مریسی ؒ 4 ابوبکر عطوفی ؒ
5 ابومزاحم شیرازی ؒ 6 شیخ اسماعیل نیشاپوری ؒ
7 حضرت شیخ شرف الدین پانی پنتہی قدس اللہ سرہ
محمد وارث کامل مرحوم کے اردو ترجمے کے مطالعے کے بعد املا کی جو غلطیاں سامنے آتی ہیں ان کو ذیل میں درج کیا گیا ہے:
نمبر شمار….. غلط اسمائے گرامی….. صحیح اسمائے گرامی
1 …..شرف الدین عینی….. شرف الدین عیسی
2 …..ابوعمرو حریفی….. ابوعمرو صریفی
3….. ابوالسعود بن الشبلی….. ابوالسعود بن الشبل
4 …..موافق الدین….. موفق الدین
5 …..ابوالحسن فرقانی….. ابوالحسن خرقانی
6 …..علو دینوری….. علوی دینوری
7 …..سیف الدین ماضرری….. سیف الدین ماخرزی
8 …..محمود ضردکانی….. محمود مزدقانی
9 …..نجیب الدین علی مرعش….. نجیب الدین علی بزغش
10….. عبدالرحمان علی مرعش….. عبدالرحمان علی برغش
11 …..امیر حسین سادات….. امیر حسینی سادات
12….. فتح بن علی موصولی….. فتح بن علی موصلی
13 …..ابوبکر راضی….. ابوبکر رازی
14 …..ابوالخیر حمص….. ابوالخیر خمصی
15 …..صفر الحذار….. جعفر الحذّا
16….. بندرا بن حسین بن محمد بن مہلت شیرازی….. بُندار بن حسین بن محمد مُہلّب شیرازی
17 …..ابوالحسین مصری….. ابوالحسین الحُصری
18 …..شیخ ابومحمد بن ابی نصر….. شیخ روز بہان یقلی
19 …..فارض المصری….. ابن خارص المصری
20 …..ابن علی تایبادی….. زین الدین ابوبکر تایبادی
مندرجہ ذیل شخصیات کا تذکرہ محمد وارث کامل مرحوم کے اردو ترجمے میں درج نہیں ہے:
1 شیخ سراج الدین عبدالجبار 2 حضرت خواجہ حسن انداقیؒ
3 مولانا سعدالدین کاشغری قدس اللہ سرہ 4 حضرت شیخ اخی فرخ زنجانیؒ
5 حضرت شیخ وجیہ الدین ؒ 6 حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی قدس اللہ سرہ
7 حضرت شیخ حمیدالدین ناگوری ؒ 8 حضرت شیخ رکن الدین ؒ
9 شیخ ابوعلی دقاق روح اللہ روحہ 10 شیخ ابوعبدالرحمان سلمی قدس اللہ سرہ
11 شیخ ابوسعید مالینی قدس اللہ سرہ
محمد علی لطفی کے اردو ترجمے کے مطالعے کے بعد املے کی جو غلطیاں سامنے آتی ہیں ان کو ذیل میں درج کیا گیا ہے:
نمبر شمار….. غلط اسمائے گرامی….. صحیح اسمائے گرامی
1….. ابوعلی قادری….. ابوعلی فارمدی
2 …..محمود مزدہ قانی….. محمود مزدقانی
3 …..امیر حسین سادات….. امیرحسینی سادات
4 …..محمدبن وہب….. احمد بن وہب
5 …..ابوالخیر حمص….. ابوالخیر حمصی
6 …..علی بن ادریس یعقوب….. علی بن ادریس یعقوبی
7 …..ابن فارض المصری….. ابن خارص المصری
8 …..سلمان ترکمانی….. سلمان ترکمان
محمد علی لطفی کے اردو ترجمے میں حضرت خدیجہ واعظ رحمہ اللہ تعالی کا تذکرہ ندارد ہے۔
احمد رضا کے ہندی ترجمے کے مطالعے کے بعد جو غلطیاں سامنے آتی ہیں ان کو ذیل میں درج کیا گیا ہے:
نمبر شمار….. ہندی ترجمہ اسمائے گرامی….. صحیح اسمائے گرامی
1 …..امام موسی علی رضا …..امام علی موسی رضا
2….. امیر حسین سادات….. امیر حسینی سادات
مندرجہ ذیل شخصیات کا تذکرہ احمد رضا کے ہندی ترجمے میں درج نہیں ہے:
1 شیخ سراج الدین عبدالجبار 2 مولانا سعدالدین کاشغری قدس اللہ سرہ
3 حضرت شیخ اخی فرخ زنجانی ؒ 4 حضرت شیخ وجیہ الدین ؒ
5 حضرت شیخ حمیدالدین ناگوری ؒ 6 ابوالحسن صایع دینوری ؒ


مآخذ
1 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، مطبع نامی منشی نول کشور۔
2 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، مطبع نامی منشی نول کشور، باہتمام بھگوان داس دیال، کا نپور، 1900۔
3 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، مطبع مدرسہ، آگرہ، باہتمام مستر بیل، 1853۔
4 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کاتب: محمد فریدون، کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد، نمبر داخلہ 21725، نمبر کتاب 1748، تحریر 1066۔
5 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کاتب: محمد مستقیم خدابخش لایبریری، کیٹیلاگ نمبر 674، سنہ تحریر 1108۔
6 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد، تحریر 1146، جاے تحریر: بیجاپور
7 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کاتب: ہفت قلم، کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد، تحریر 1184 اس نسخہ کے کاتب کا نام ہے۔
8 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کاتب: عباداللہ الصمد غلام محمد بن شیخ خواجہ حسن کرمانی بن شیخ خواجہ محمد، کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد، نمبر داخلہ 12918، نمبر کتاب 118، تاریخ تحریر: اول رجب المرجب بروز جمعرات، جاے تحریر: موضع اروبر۔
9 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کاتب: میان یار محمد فتحپوریہ، کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد، نمبر داخلہ 11920، نمبر کتاب 101، تحریر 1113 ہجری۔
10 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کتب خانہ آصفیہ حیدرآباد، نمبر داخلہ 721، نمبر کتاب 24
11 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کاتب: عبدالرسول، تحریر 1149 ہجری۔
12 سفینۃالاولیاء: محمدداراشکوہ، نسخہ خطی، کاتب، قاضی عبدالکریم فقیہ بن قاضی عیسی، جاے تحریر: رتناگیری، کتب خانہ مجلس شوراے اسلامی، ایران، شمارہ ثبت کتاب: 85740۔
13 نفحات الانس، نورالدین عبدالرحمن جامی۔
14 کشف المحجوب، ابی الحسن علی بن عثمان بن ابی علی الجلابی الہجویری الغزنوی، بسعی و اہتمام، والنتین ژوکوفسکی، مطبع دارالعلوم اتحاد جماہیر شوروے سوسیالیستی، لنینگراد، 1926
15 تذکرۃالاولیاء، شیخ ابی حامد محمد بن ابی بکر ابراہیم فریدالدین عطار نیشاپوری، با مقدمہ، آقاے میرزا محمد خان قزوینی، انتشارات مرکزی خیابان شاہ مقابل مسجد سجاد۔
16 سفینۃالاولیاء، محمدداراشکوہ، اردو ترجمہ، محمد علی لطفی، نفیس اکیڈمی، اردو بازار، کراچی، 1959۔
17 سفینۃالاولیاء، محمدداراشکوہ، اردو ترجمہ، مولانا محمد وارث کامل، بی اے مرحوم، مدنی کتب خانہ، چوک گنپت روڈ، لاہور۔
18 سفینۃالاولیاء، محمدداراشکوہ، ہندی ترجمہ، احمد رضا، داراشکوہ سینٹر فار انٹرفیتھ انڈراسٹینڈنگ اینڈ ڈایلاگ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، 2022
19 سکینہ الاولیاء، محمدداراشکوہ، بکوشش تاراچند و سیدمحمدرضاجلالی نائینی، موسسہ مطبوعاتی علمی


Dr. Mehshar Kamal
Assistant Professor, EFL University
Hyderabad- 500007 (Telangana)
Mob.: 9953836576
mehsharkamal@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

منتخب فرانسیسی ڈراموں کے اردو تراجم کا تنقیدی مطالعہ،مضمون نگار:محمد ریحان

تلخیص فرانسیسی ڈراما نگاری کی شاندار اور طویل روایت ہے، جس نے صدیوں سے تھیٹر کی دنیا کو اپنی تخلیقی جہات سے متاثر کیا ہے۔ فرانسیسی ڈرامے کا آغاز قرونِ

مطالعہ شاعر: صوتیاتی نقطۂ نظر سے،مضمون نگار:مسعود حسین خاں

لسانیاتی مطالعہ شعر اور اصل شعریات کا جدید ہیئتی نقطۂ نظر ہے، لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ جامع ہے۔ اس لیے کہ یہ شعری حقیقت کا کلی تصور پیش

اصوات اور شاعری،مضمون نگار:مغنی تبسم

شاعری اور موسیقی فنکارانہ اظہار کے وہ ابتدائی طریقے ہیں جن سے زمانہ قدیم کے انسان نے اپنے جذبات کے نکاس اور ان کی بازیابی کا کام لیا۔ یہ دونوں