تلخیص
خودنوشت سوانح حیات ایسی صنف ہے جس میں صاحب سوانح نے اپنے حالات بقلم خود نثر میں تحریر کیے ہوں۔ خودنوشت نگاری کے لیے آج تک باضابطہ اصول وضوابط طے نہیں کیے گئے ہیں یعنی یہ کہ اس کی ہیئت کیسی ہونی چاہیے، نثر میں یا نظم میں ہو، اسلوب کیسا ہو۔ اس کی ضخامت کتنی ہو، مگر چند اہل قلم کی آپ بیتیاں دیکھنے کے بعد خودنوشت کا جو خاکہ ذہن میں منعکس ہوتا ہے اس سے چند اصول ضرورمرتب ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ صاحب سوانح نے بقلم خود تحریر کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کا موضوع خود راوی ہو۔تیسرے یہ کہ اس میں زندگی کے تمام اہم واقعات کا بیان ہو اور چوتھے یہ کہ اس کے مذکورہ تمام واقعات صداقت پر مبنی ہوں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ خودنوشت نگار اس حوصلے کا مالک ہو کہ وہ اپنے اچھے اور برے یعنی وہ اپنے تمام پسندیدہ اور نا پسندیدہ واقعات بیان کر سکے۔
اردو میں’ آپ بیتی‘ کا باقاعدہ آغاز و ارتقا ناول اور افسانے کے آغاز و ارتقا سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔ اس لیے کہ متحدہ ہندوستان کے 1857 کی جنگ آزادی کے فوراً بعد ہی اردو میں خودنوشت کا باقاعدہ آغاز ہوچکا تھا ۔ جعفر تھانیسری نے ’کالا پانی‘ کے عنوان سے اردو کی پہلی خودنوشت لکھ کر باضابطہ اردو زبان میں ’خودنوشت نگاری‘ کی داغ بیل ڈالی۔
خودنوشت میں صداقت بیانی اور خودنوشت کا موضوع یعنی ہیروبہت اہمیت کے حامل ہیں، موضوع جتنی اہمیت کا حامل ہوگا خودنوشت بھی اتنی ہی مقبول ہوگی۔
خودنوشت کی اہمیت و افادیت اظہرمن الشمس ہے۔ خودنوشت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جو صاحب خودنوشت کے بارے میں معلومات کا اصل ماخذ ہے ۔ایک ہی شخص کے کسی واقعہ کے متعلق اگر تضاد ہو تو اس کی خودنوشت کو ترجیح دی جائے گی اور دوسرے یہ کہ کسی شخصیت کے معلومات کے حصول میں خودنوشت کو اولیت حاصل ہے۔
خود نوشت کا اسلوب اپنے موضوع کے تابع ہوتا ہے، یعنی یہ کہ موضوع حیوان ظریف بھی ہوسکتا ہے، سنجیدہ اور سادہ مزاج بھی ہوسکتا ہے، شوخ و سلیم الطبع بھی ہوسکتا ہے، اعلی اور ادنی بھی ہوسکتا ہے۔
کلیدی الفاظ
خودنوشت، آپ بیتی، صداقت،شخصیت،داستان، خودنوشت نگاری، سوانح حیات، حیوان ظریف، عبدالماجددریابادی، علی میاں ندوی، منیر شکوہ آبادی، جعفر تھانیسری، یادوں کی دنیا، خواب باقی ہیں
خودنوشت کی لغوی تعریف اور ترکیب
’خود‘ کے معنی ’آپ‘ ،’بذات خود‘ اور ’نوشت‘ بمعنی ’تحریر،لکھائی۔ جو کہ فارسی کے مصدر ’نوشتن‘ سے مشتق ہے اور اس کا حاصل مصدر ہے۔ چنانچہ لفظ ’خود‘ اور حاصل مصدر’نوشت‘ کو مرکب کرکے اسم فاعل سماعی ’خود نوشت‘ بنایا گیا ہے۔ جس کے لفظی معنی ہیں: اپنے بارے میں آپ ہی لکھنا، اپنی روداد حیات خود لکھنا اور اپنے حالات ابتدا تا حال بقلم خود تحریر کرنا۔
اصطلاحی تعریف
اردو ادب میں’خود نوشت‘ کی اصطلاحی تعریف مختلف انداز میں کی گئی ہے۔
ڈاکٹر گیان چند جین کے مطابق:
’’خود نوشت سوانح کی وہ قسم ہے جس میں کوئی خود اپنی سوانح لکھتا ہے۔‘‘
(ادبی اصناف، ص138)
ڈاکٹر صبیحہ انور لکھتی ہیں:
’’خود نوشت سوانح حیات سے مراد کسی شخص کے اپنی زندگی سے متعلق خود لکھے ہوئے حالات ہوتے ہیں۔‘‘
دوسری جگہ لکھتی ہیں:
’’آپ بیتی عام طور پر نثر میں اپنے حالات کا لکھنا ہے، یعنی بنیادی طور پر مصنف کے خود لکھے ہوئے اپنے حالات جو کہ نثر میں ہوں خودنوشت کہلاتے ہیں۔‘‘
(اردو میں خودنوشت سوانح حیات: ص18-19)
یوسف جمال انصاری خودنوشت سوانح حیات کی تعریف کے سلسلے میں رقم طراز ہیں:
’’آپ بیتی عام طور اپنے حالات کا نثر میں لکھنا ہے یعنی بنیادی شرائط دو ہیں۔ اول یہ کہ مصنف اپنے حالات خود لکھے اور دوسرے یہ کہ وہ حالات نثر میں ہوں۔‘‘
(نقوش، آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص80)
مندرجہ بالا تعریفوں کا خلاصہ یہ ہے کہ : خودنوشت سوانح حیات ایسی صنف ہے جس میں صاحب سوانح نے اپنے حالات بقلم خود نثر میں تحریر کیے ہوں۔
آکسفورڈ ڈکشنری میں خودنوشت کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:
“The story of one’s life written by himself.”
(آکسفورڈ انگلش ڈکشنری، جلد اول،ص801)
’’کسی شخص کی زندگی کی کہانی خود اس کی لکھی ہوئی ہو۔‘‘
’انسائیکلو پیڈیا بریٹانکا،میں ’خودنوشت‘ کی تعریف مندرجہ ذیل الفاظ میں کی گئی ہے:
“Auto biograhpy is a very close relative, or special form of biographical literature: It is the life of man that Happens to have been Written by himself and is therefore unfinished.”
’’خودنوشت‘ سوانح حیات کا سوانح نگاری سے بہت قریبی تعلق ہے یا یہ کہ خودنوشت سوانح حیات سوانحی ادب کی ایک قسم ہے، یہ ایک ذات کے حالات زندگی پر محیط ہوتی ہے جو اس نے خود تحریر کیے ہوں، اس لیے یہ مکمل نہیں ہوتی۔‘‘(انسا ئیکلو پیڈیا بریٹانکا، جلد دوم: ص1009)
خودنوشت کا موضوع خودنوشت نگار خود ہی ہوتا ہے اس لیے یہ مکمل سوانح حیات نہیں ہوتی بلکہ خودنوشت کے لکھے جانے تک کے حالات پر محیط ہوتی ہے، اور یہ کہ صرف فرد واحد کی داستان حیات ہوتی ہے، اس میں دوسری پرچھائیاں ذیلی اور ضمنی طور پر شامل ہو جاتی ہیں۔ اس لیے کہ خودنوشت کا خاص موضوع بذات خود محرر ہوتا ہے اور وہ خود اپنی زندگی اول تا حال قلم بند کرتا ہے، اس لیے اگر کسی شخص کا ذکر اس میں آئے تو وہ بہ اعتبار موضوع نہیں گا بلکہ موضوع کی زندگی سے کسی نہ کسی تعلق کے بنا پر ہی آئے گا۔ مثلاً موضوع اپنے والدین، استاد یا کسی کرم فرما کا ذکر اپنی آپ بیتی میں صرف اور صرف اپنے اہم تعلقات ہونے کی وجہ سے ہی کرتا ہے۔
خود نوشت نگاری
خودنوشت نگاری کے لیے آج تک باضابطہ اصول وضوابط طے نہیں کیے گئے ہیں یعنی یہ کہ اس کی ہیئت کیسی ہونی چاہیے، نثر میں یا نظم میں ہو، اسلوب کیسا ہو، اس کی ضخامت کتنی ہو۔ مگر چند اہل قلم کی آپ بیتیاں دیکھنے کے بعد خودنوشت کا جو خاکہ ذہن میں منعکس ہوتا ہے اس سے چند اصول ضرور مرتب ہوتے ہیں ایک یہ کہ صاحب سوانح نے بقلم خود تحریر کیا ہو، دوسرے یہ کہ ا س کا موضوع خود راوی ہو، تیسرے یہ کہ اس میں زندگی کے تمام اہم واقعات کا بیان ہو اور چوتھے یہ کہ اس کے مذکورہ تمام واقعات صداقت پر مبنی ہوں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ خودنوشت نگار اس حوصلے کا مالک ہو کہ وہ اپنے اچھے اور برے یعنی وہ اپنے تمام پسندیدہ اور نا پسندیدہ واقعات بیان کر سکے۔
عبدالماجد دریابادی کی خودنوشت حیات ’آپ بیتی‘ کے دیباچہ میں آپ بیتی (خودنوشت) کے فن کی خصوصیت اور خودنوشت نگار کے اوصاف پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی تحریر فرماتے ہیں:
’’آپ بیتی میں اگر یہ چند خصوصیات اور جمع ہو جائیں تو پھر ’سونے پر سہاگہ‘ ہوجاتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کا لکھنے والا زبان کا اداشناس، اپنے زمانہ اور اہل زمانہ کا مزاج شناس، کہنہ مشق اور صاحب طرز ادیب بھی ہو، قدرت نے اس کو قوت مشاہدہ کی دولت سے مالامال کیا ہو، وہ روز مرّہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو بھی بڑے غور کی نظروں سے دیکھتا ہو، اور ان سے بڑے بڑے نتائج نکال لیتا ہو، گردوپیش کی دنیا سے واقف ہونے کا شوق رکھتا ہو، اس کی اچھی چیزوں کی دل سے قدر کرتا ہو،اور ان کے متعلق بے تکلف اظہار کرنے میں کوئی شرم مانع نہ ہو، ناگوار اور تکلیف دہ واقعات سے ناگواری محسوس کرتا ہو، اور اس کے اظہار میں بھی وہ کسی تکلف سے کام نہ لیتا ہو۔‘‘ (آپ بیتی: ص7)
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے خودنوشت نگار میں جن چند اوصاف کو قابل تحسین قرار دیا ہے، ان میں چند واقعی بہت ہی اہم اور کامیاب خودنوشت کے لیے ضروری ہے، جیسے ’’زبان کا اداشناس‘‘۔ یہ زبان کی ادائیگی ہی ادیب اور غیر ادیب میں واضح امتیاز کی لکیر کھینچتی ہے، زبان کی برمحل اور مناسب ادائیگی ہی کسی بھی ادب پارے میں چاشنی اور ادبیت پیدا کرتی ہے اور زبان کی ادائیگی ہی معیار اور میزان ہے۔ لکھنے والا جس خوش اسلوبی سے زبان کی ادائیگی کا سلیقہ یا ہنر رکھے گا اس کے شہ پارے بھی اسی معیار کے ہوں گے اور یہی شہ پارے اس کی مقبولیت اور عدم مقبولیت کے ضامن ہوں گے۔ مولانا نے یہ بھی لکھا ہے کہ خودنوشت نگار ’’کہنہ مشق اور صاحب طرز ادیب بھی ہو‘‘ اس سے مرادیہ ہے کہ کہنہ مشق جب خودنوشت لکھے گا تو اس کے اسلوب اور انداز تحریر میں پختگی ہوگی، الفاظ کے بر محل استعمال کے ہنر سے واقف ہوگا، ترکیب نحوی و معنوی کا سلیقہ بھی خوب جانتا ہوگا اور موضوع کی مناسبت سے انداز بیان کے فن کا بھی دانا ہوگا اور جب کسی فن پارے کے مصنف میں اتنی خوبیاں بیک وقت موجود ہوں تو وہ فن پارہ کس خوبی کا حامل ہوگا اس کا اندازہ ایک ماہرفن ہی کر سکتا ہے۔ تیسری بات انھوںنے یہ کہی کہ اچھی چیزوں کی دل سے قدر کرتا ہو اور ناگوار واقعے سے ناگواری محسوس کرتا ہو اور دونوں کے اظہارمیں شرم اور تکلف سے کام نہ لیتا ہو۔ آخر الذکر ان کی رائے خودنوشت نگاری میں واقعیت اور صداقت بیانی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور صداقت وواقعیت جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ خود نوشت کی اہم شرط ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ خودنوشت کا موضوع خودنوشت نگار ہی ہوتا ہے، اگر دوسرا شخص کسی کی سوانح لکھے گا تو پھر وہ خودنوشت نہیں بلکہ’ سوانح حیات‘ کہی جائے گی، یہی وجہ ہے کہ خودنوشت اکثر صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ خودنوشت کو خودنوشت کا موضوع ہی بقلم خود تحریر کرتاہے۔ جبکہ سوانح حیات کا مصنف واحد غائب کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ خودنوشت میں متکلم ہی موضوع اور راوی ہے اور جب متکلم ہی موضوع اور راوی بن کر خود اپنے بارے میں واقعہ نگاری کرے گا تو اسے صیغہ واحد متکلم ہی استعمال کرناہوگا۔ سوانح نگار چونکہ اپنے علاوہ کسی اور کی سوانح قلم بند کرتا ہے اس لیے اس کا راوی واحد غائب کی صورت میں ہوتا ہے، اس لیے صیغہ واحد غائب کااستعمال سوانح نگار کے لیے ناگزیر بن جاتا ہے۔
خودنوشت میں صیغہ واحد متکلم کے استعمال کے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
جوش ملیح آبادی نے اپنی خودنوشت ’یادوں کی برات‘کو صیغہ واحد متکلم میں ہی لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’میں نے اپنے حالات زندگی قلم بند کرنے کے سلسلے میں کامل چھ برس تک، زیادہ تر مسلسل، اور گاہ گاہ غیر مسلسل، عرق ریزی کی ہے۔ ڈیڑھ برس کی محنت کے بعد پہلا مسوّدہ تیار کیا۔ اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ پھر ڈیڑھ برس میں دوسرا مسودہ مکمل کیا۔ اس پر بھی تنسیخ کا خط کھینچ دیا، پھر ڈیڑھ پونے دو سال صرف کرکے، نوسو صفحوں کا تیسرا مسودہ تحریر کیا۔۔۔۔۔۔ مگر جب اس پر غائر نظر ڈالی تو پتا چلا کہ اس مسودے کو بھی میں نے ایک ایسے گھبرائے ہوئے آدمی کی طرح لکھا ہے، جو صبح کو بیدار ہو کر، رات کے خواب کو، اس خوف سے، جلدی جلدی، الٹا سیدھا، لکھ مارتا ہے کہ کہیں وہ ذہن کی گرفت سے نکل نہ جائے۔اور خدا خدا کرکے، اب یہ چوتھا مسودہ شائع کیا جارہا ہے۔ اور میرے دل کی بات آپ پوچھیں تو یہ بھی کہہ دوں کہ میں اس چوتھے مسودے سے بھی مطمئن نہیں ہوں۔ ‘‘ (یادوں کی برات، ص24)
دوسرا اقتباس:
’’میری ماں، اپنے تمام بچوں میں، سب سے زیادہ مجھ کو چاہتی تھیں، اور دودھ اور شہد کاپیالہ روز صبح کو مجھے، اپنے ہاتھ سے پلایا کرتی تھیں، اور کسی دن دودھ کے پیالے میں کوئی ذرّہ نظر آجاتا تھا، تو میں، کم بخت، پیالے کو، تڑ سے، زمین پر پٹک دیا کرتا تھا،اور وہ رونے لگتی تھیں۔‘‘ (ایضاً، ص46)
اختر الایمان نے آپ بیتی ’اس آباد خرابے میں‘ بھی صیغہ واحد متکلم کا استعمال کیا ہے۔ ’اس آباد خرابے میں‘ سے صیغہ واحد متکلم کے استدلال پر چند اقتباسات ملاحظ کیجیے:
’’جب آنکھ کھلی میرے سرہانے ایک قبر تھی اور اباّ کی آواز کانوں میں آرہی تھی۔ وہ مجھے جگا رہے تھے۔ میری عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی۔ ان دنوں سے متعلق اب جو بھی یاد ہے اس کی شکل ترتیب وار واقعات کی نہیں ایک منتاج کی سی ہے۔ ذہن نے جو اہم سمجھا محفوظ کر لیا باقی محو ہو کر رفت و گزشت ہو گیا۔‘‘ (اس آباد خرابے میں، ص13)
دوسرا اقتباس:
’’میرے والدامامت کا پیشہ کرتے تھے۔ انھوں نے مذہبی تعلیم سہارنپور میںحاصل کی تھی۔ بہت اچھے قاری تھے۔ انھیں دیہات بہت پسند تھے۔ امامت کے علاوہ مسجد کے صحن میں مکتب کھولتے تھے جہاں دیہات کے ہر عمر کے لڑکے لڑکیاں پڑھتے تھے۔ کمباسی میں جمیلہ نام کی ایک لڑکی ان کے پاس پڑھنے آتی تھی۔ گورا رنگ، لانبا قد، چھریرا بدن، دلآویز ناک و نقشہ، ابّا اس میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ کچھ دن بعد جمیلہ نے آنا بند کر دیا اور ابّا نے یہ گاؤں چھوڑ دیا۔‘‘ (ایضاً : ص13,14)
مندرجہ بالا اقتباسات سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ خود نوشت کا بیان صیغہ واحد متکلم میں ہوتا ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی خودنوشت نگار خودنوشت کے اسلوب میں چاشنی اور سرور کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے صیغہ واحد غائب یا صیغہ مجہول کا استعمال کرے، مگر یہ شاذ و نادر ہے۔
خودنوشت نگاری، خودنوشت کے دائرۂ مقصود تک ہی ہو یعنی یہ کہ صاحب خودنوشت کی سوانح اور ان کے حالات پر مشتمل ہو، ایسا نہ ہو کہ سوانح حیات کی آڑ میں پندو موعظت اور وعظ و نصیحت کرنے لگے۔ خودنوشت میں نہ تو تلقین و احکام اور نہ ہی فلسفہ ہو بلکہ خودنوشت نگار کو حکمت آمیز گفتگو کرنی چاہیے۔ اسلوب شگفتہ، دلنشیں اور موضوع کے مناسب ہو، اور صداقت بیان بہر صورت لازم ہے۔ دروغ گوئی سے خودنوشت، خودنوشت نہیں رہے گی۔ اسی ضمن میں سید ابوالحسن علی ندوی کی یہ تحریر ملاحظہ کیجیے:
’’ یہ داستان (داستان حیات) اپنی صداقت اور دیانت کے ساتھ بامزہ، سبق آموز اور مفید ہو، اور یہیں ایک عامی اور عالم، کم سواد اور دانشور، اور ادیب وغیر ادیب کافرق ظاہر ہوتا ہے، لیکن یہ بہرحال ضروری ہے کہ پندوموعظت اور حکمت آموزی کا تناسب اتنا ہی ہوجتنا کھانے میں نمک کا ہوتا ہے، اور نہ اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا، جو پند ناموں اور فلسفہ کی کتابوں کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے، اور اس سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا، جو ’آپ بیتی‘ لکھنے والے کے عام طور پر پیش نظر ہوتا ہے۔‘‘ (آپ بیتی: ص7)
اب سوانح نگاری سے متعلق ایک اہم بحث پر گفتگو کرنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ کیا خودنوشت سوانح براہ راست لکھنا ممکن ہے یا نہیں؟ اس بارے میں ڈاکٹر سید عبداللہ فرماتے ہیں کہ ’براہ راست سوانح نگاری یا خودنوشت لکھنا ممکن نہیں، وہ لکھتے ہیں:
’’میرا خیال یہ ہے کہ براہِ راست آپ بیتی ممکن نہیں۔ البتہ بالواسطہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ اپنے احساسات کی سرگزشت لکھنے کا بہترین ذریعہ ناول ہے جس میں ’سردلبراں‘ کو ’حدیث دیگراں‘ بنا کر پیش کرنا ممکن ہے۔ غم دل پردے میں بیان ہو جاتا ہے اور بسا اوقات نقادوں کو معلوم بھی ہو جاتا ہے کہ ناول نگار دوسروں کی زبانی اپنی ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔
…آپ بیتی کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ اس میں مصنف یا تو سب کچھ چھپا جاتا ہے یا بہت بننے کی کوشش کرتا ہے اور مبالغہ سے کام لیتا ہے۔‘‘
(نقوش،آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص61)
ڈاکٹرسید عبداللہ کے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جو کہ خود نوشت لکھتا ہے اس کے اندر ایسے عیوب ہوں جنھیں وہ لکھنے سے قاصر ہو۔ دوسرے یہ کہ خودنوشت اکثر عمر کے آخری پڑاؤ میں لکھی جاتی ہے، اور اس وقت اکثر وبیشتر انسان اپنے بہت سے گناہوں اور خطاؤں پر نادم وشرمندہ ہو چکا ہوتا ہے اور اکثر حقوق العباد کا کفارہ کر چکا ہوتا ہے، یا یہ کہ صلح کر چکا ہوتا ہے یا اس کا خواہاں ہوتا ہے۔رہی بات حقوق اللہ کی تو دیکھا گیا ہے کہ اکثر بڑے سے بڑا شدید اور بد کردار بھی اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ میں تو بہ و استغفار کرکے دینی شغل اور کارخیر میں حصہ لینے لگتا ہے۔ اس لیے سرے سے اس بات سے کہ ’’براہ راست خودنوشت نہیں لکھی جا سکتی‘‘ اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر عبداللہ صاحب کے، براہ راست خودنوشت لکھنے سے انکار کی دو وجہیں تھیں۔ ایک دوسروں کا خوف اور دوسرے اپنی کج خلقی وغیرہ پر شرمندگی ، لیکن یہ محال نہیں جیسا کہ میں نے مندرجہ بالا سطور میں لکھا ہے کہ کوئی ضروری نہیں کہ ان دونوں ہی باتوں کی پردہ داری کرناہر ایک شخص کے لیے بہت دشوار کن ہوگا، مثلاً علامہ فضل حق خیرآبادی ہی کو لے لیجیے کہ ایک طرف جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور دوسری طرف انگریز مجسٹریٹ علامہ کو جان کی امان دینے کو تیار تھا۔ بات صرف یہ تھی کہ علامہ کو انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتوے پر اپنے دستخط کے ہونے سے انکار کرنا تھا، مگر ایسا نہ ہو سکا اور مجسٹریٹ کی گزارش کے باوجود کہ آپ اپنے دستخط کے ہونے سے انکار کر دیں مگر علامہ کی غیرت صداقت کو گوارا نہیں ہوا اور جھوٹ بولنے کے بجائے بعبوردریائے ثور (کالا پانی) کے عمر قید کی سزا بہ اطمینانِ قلب قبول کر لی۔
علیم الدین سالک ’نقوش :آپ بیتی نمبر‘میں لکھتے ہیں:
’’علامہ فضل حق خیرآبادی نے 1857کی جنگ آزادی اور اس کے پس منظر کو اسی طرح مرتب کیا۔ ان کے استقلال کی یہ حالت تھی کہ جس انگریز کے سامنے ان کا مقدمہ پیش ہوا وہ علامہ کا شاگرد تھا۔ وہ انھیں رہا کرنا چاہتا تھا۔ گواہوں نے مجسٹریٹ کی مددکی اور مولانا کو پہچاننے سے انکار کر دیا مگر آپ یہی فرماتے رہے کہ میں نے فتوے پر دستخط کیے ہیں اور یہ میرے ہی ہیں اس لیے اس نے مجبور ہو کر آپ کو عمر قید کی سزا دی۔‘‘ (نقوش،آپ بیتی نمبر: ص54)
اس لیے ان جیسے لوگ جنھیں جان و مال اور جاہ و حشم کا کوئی خوف نہ ہوگا جب تک دنیا میں موجود ہوں گے’ خود نوشت نگاری‘ بھی براہ راست ممکن ہوگی۔ ہاں سید عبداللہ صاحب کی یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ خودنوشت لکھتے وقت اس بات کا زیادہ احتمال ہے کہ خودنوشت نگار واقعہ نگاری میں کذب بیانی، مبالغہ آرائی اور اخفائے حقیقت سے کام لے۔ چونکہ انسان کی جبلت ہے کہ وہ اپنے کو بے عیب، محترم، باوقار، خیرخواہ، ہمدرد قوم، انصاف پسند، اطاعت کیش، فرمانبردار، اولولعزم، صاحب الرائے اور شجاع وبہادر سمجھتا ہے۔
خودنوشت کی ہیئت
یوسف جمال نے خودنوشت نگاری کے لیے نثر کی شرط رکھی ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’آپ بیتی عام طور پر اپنے حالات کا نثر میں لکھنا ہے یعنی بنیادی شرائط دوہیں۔ اوّل یہ کہ مصنف خود لکھے اور دوسرے یہ کہ وہ حالات نثر میں ہوں۔‘‘
(نقوش،آپ بیتی نمبر: ص80)
لیکن وہاج الدین علوی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’میرے خیال میں نثر کی شرط ضروری نہیں…. خودنوشت کا مصنف ہیئت کا پابند نہیں ہوتا، اسے ہیئت کے انتخاب کا اختیار ہے۔ اردو میں خودنوشت سوانح نظم کی ہیئت میں بھی پائی جاتی ہے۔ مثلاً واجد علی شاہ کی ’حزن اختر‘ منیر شکوہ آبادی کی منظوم داستان حیات اور خودنوشت کے ارتقائی دور میں سوانحی مثنویوں کا پایا جانا اس بات کا ثبو ت ہے کہ خودنوشت صرف نثری ہیئت کی پابند نہیں۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اچھی خودنوشت کے لیے نثرکا جامہ ہی زیب دیتا ہے۔ نثر کی وضاحت اور وسعت خودنوشت کے مواد کے لیے زیادہ موزوں اور مناسب ہے۔‘‘ (اردو خودنوشت : فن و تجزیہ، ص39)
یہ بات بھی ہمیں معلوم ہے کہ ہر کلیے کے چند مستثنیات ہوتے ہیں۔ مثلاً ہر انسان قوت فہم وادراک کا حامل ہوتا ہے، بعض نہیں، ہر شب تار یک ہوتی ہے بعض نہیں، ہر سانپ زہریلا ہوتا ہے بعض نہیں، ہر ہوا صحت مند ہوتی ہے بعض زہر آلود ہوتی ہے، تمام بھائی ہمدرد و غم گسار ہوتے ہیں مگر بعض جانی دشمن ہوتے ہیں، پانی میں زندگی کی نمو اور میٹھاس پائی جاتی ہیں مگر بعض اس قابل نہیں ہوتے وغیرہ وغیرہ۔ ٹھیک اسی طرح اگر بعض خود نوشت منظوم ہیں تو اس سے یہ نتیجہ قطعاً اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ خودنوشت کی ہیئت منظوم ہوتی ہے۔ ہونے اور ہو سکنے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ سکنے میں ممکنات کے معنی پائے جاتے ہیں اور ممکنات کا اطلاق محالات کو چھوڑ کر سب پر ہوگا۔ پس اس طرح تو پھر مفروضہ اور مروجہ بہت سے اصناف کی تعریفیں منہدم ہو جائیں گی۔ مثلاً ناول کے اجزائے ترکیبی قصہ، پلاٹ،کردار نگاری، مکالمہ نگاری، منظر کشی اور نقطہ نظر ہیں اور افسانے کے اجزا کردار، نقطۂ نظر، ماحول وفضا، اسلوب، آغاز و اختتام اور وحدت تاثر ہیں، تو کیا ممکن نہیں کہ ان اجزا کو منظوم ہیئت میں پرودیا جائے؟ میرے خیال میں ضرور ممکن ہے، کیوں کہ ایسے ایسے قادر الکلام اور برجستہ گو شعرا گزرے ہیں جنھوں نے ایک ایک دن میں ہزار ہزار اشعار منظوم کیے ہیں، یعنی ان کے اشعار گوئی کی روانی اس حد تک تھی کہ بعض نثر نگار بھی ان کی رفتار سے نثر نہیں لکھ سکتے، پس ایسے شعرا سے کیا ممکن نہیں تھا کہ ناول اور افسانے کے اجزائے ترکیبی کو منظوم کر دیتے؟ اور اگر کر دیں تو کیا ہم انھیں منظوم ناول اور منظوم افسانہ کہہ سکتے ہیں؟ تو جواب ملے گا کہ جی نہیں کہہ سکتے کیوں کہ کسی بھی تعریف یا کلیے میں مستثنیات کا اعتبار نہیں ہوتا۔
حاصل کلام یہ کہ جس طرح ناول اور افسانے کو ہم ممکنات سے الگ ہو کر ان کی ہیئت کے لیے نثر کا انتخاب کرتے ہیں، ٹھیک اسی طرح خود نوشت کی بھی ہیئت نثر کی ہیئت ہوتی ہے، اگر چہ بعض خودنوشتیں منظوم ہیں، مگر لا اعتبار لہٗ۔ خودنوشت کی ہیئت پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صبیحہ انور رقمطراز ہیں:
’’آپ بیتی کے فن کے لیے ضروری نہیں کہ مقدار صفحات کی کوئی قید ہو یا کوئی خاص طریقہ کار ہو جس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہو… البتہ آپ بیتی (خودنوشت) عام طور پر نثر میں اپنے خیالات کا لکھنا ہے۔ یعنی بنیادی طور پر مصنف کے خود لکھے ہوئے اپنے حالات جو کہ نثر میں ہوں’ خودنوشت سوانح حیات‘ کہلاتے ہیں۔ جب آپ بیتی کا ذکر آتا ہے تو خیال نثر کی طرف ہی جاتا ہے، یہ کوئی بنیادی شرط نہیں بلکہ رواج سا بن گیا ہے۔ نثر میں عموماً سہولت بھی ہے۔ نظم کی اپنی بندشیں ہوتی ہیں… بہرحال ہر کلیے کے ساتھ مستثنیات بھی ہوتے ہیں چنانچہ اردو میں بھی اس استثنی کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر واجد علی شاہ، منیر شکوہ آبادی کی منظوم آپ بیتیاں۔‘‘(اردو میں خودنوشت سوانح حیات: ص19)
اب رہی بات آپ بیتی کے فن کی کہ اس کے اصول وضوابط کیا کیا ہیں اور خودنوشت نگار کن اصولوں پر کاربند ہونا ضروری ہے اور طریقہ کار کیا ہو، تو اس کے متعلق اکثر علمائے ادب اردو اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ’ خودنوشت نگاری‘ کے فن کے لیے کوئی باضابطہ اصول یا طریقۂ کار طے شدہ نہیں ہیں۔ پس شرط کی بحث گزشتہ سطور میں ہو چکی کہ وہاج الدین علوی صاحب نثر کو غیر ضروری اور یوسف جمال صاحب اسے آپ بیتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں اور میں نے بھی یوسف جمال کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے اپنے دلائل پیش کیے ہیں۔ لہٰذا اب صرف اصول وضوابط کے متعلق یوسف جمال کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’آپ بیتی کا فن ابھی تک کوئی منضبط فن نہیں ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ تعدادصفحات کی کوئی قید ہو۔ یا کوئی خاص طریقۂ کار ہو۔ جس پر لکھنے والے کے لیے عمل پیرا ہونا ضروری ہو۔ آپ بیتی خواہ چند سطروں پر مشتمل ہو خواہ سیکڑوں صفحات پر محیط، بہر حال آپ بیتی ہی ہوتی ہے۔‘‘ (نقوش، آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص80)
یوسف جمال کے مندرجہ بالا الفاظ کو ہو بہو نقل کرتے ہوئے صبیحہ انور بھی خودنوشت کے فن اور اس کے اصول و ضوابط پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’آپ بیتی کے فن کے لیے ضروری نہیں کہ تعداد صفحات کی کوئی قید ہو یا کوئی خاص طریقۂ کار ہو جس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہو۔ آپ بیتی خواہ چند سطروں پر مشتمل ہو یا سیکڑوں صفحات پر محیط ہو، بہر حال آپ بیتی ہوتی ہے۔‘‘ (اردو میں خودنوشت سوانح حیات:ص19)
مندرجہ بالا ا قتباسات سے بالکل واضح ہو گیا کہ خودنوشت کے لیے ضخامت و اختصار اور طریقۂ کار کے اصول متعین نہیں ہیں، بس صرف یہ ہے کہ آپ بیتی صاحب سوانح کے قلم کی خود پیداوار ہو اور نثر میں ہو۔ آپ بیتی کے فن کے متعلق اگر چہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کا کوئی باضابطہ اصول مقرر نہیں ہے، مگر چند ایسے اصول ہیں جن سے آپ بیتی نگار کے لیے مفر کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے، جیسا کہ مندرجہ بالا اقتباسات سے ظاہر ہوا۔
آل احمد سرور ایک نامور ادیب و ناقد ہیں اور ہر فن کو وہ فن کی کسوٹی پر نہایت معتدل طریقے سے دیکھتے ہیں۔ انھوں نے بھی اپنی خودنوشت بنام ’خواب باقی ہیں‘ میں آپ بیتی کے فن پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے تین چیزوں کو خودنوشت کے فن کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ (1) خودنوشت تاریخ نہیں مگر اس میں تاریخی حقائق ضروری ہیں۔ (2)آپ بیتی جگ بیتی بھی ہو۔ (3)لکھنے والا اپنے ساتھ ایمانداری برتے۔ سرور صاحب لکھتے ہیں:
’’خودنوشت سوانح عمری کا فن چونکہ محض نظارے نہیں نظر کا بھی فن ہے۔ اس لیے سائنسی صحت اور واقعیت کے بجائے ایک مخصوص زاویۂ نگاہ کی اہمیت شاید یہاں زیادہ ہے۔ خودنوشت تاریخ نہیں مگر اس میں تاریخی حقائق ضروری ہیں۔ یہ واقعات کا خشک بیان بھی نہیں ہے۔ ان واقعات کے ساتھ جو کیفیات وابستہ ہیں ان کی داستان بھی ہے۔ واقعات اس لیے اہم ہیں کہ ان واقعات نے کیا ثاثر اور کیفیات عطا کی ہیں یعنی ان سے دل پر کیا گزری ہے۔ آپ بیتی جگ بیتی بھی ہے کیوں کہ اپنی زندگی میں ایک فرد اپنے خاندان، ماحول، علمی اداروں، تحریکوں، شخصیات، تہذیبی، ادبی، معاشرتی اور سیاسی حالات سے دو چار ہوتا ہے۔ ان سے بہت کچھ لیتا ہے اور شاید تھوڑا بہت ان کو دیتا بھی ہے۔ بہر حال کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لکھنے والا اپنے ساتھ ایمانداری برتے۔ وہ نہ تو یہ کوشش کرے کہ اپنی تلخیوں، محرومیوں اور ناکامیوں کی داستان بیان کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالے، نہ اپنے کو خلاصۂ کا ئنات سمجھ کر ہرشخص اور واقعہ پر ہمالہ کی بلندی سے تنقید کرے،نہ اپنا کوئی بت بناکر پیش کرے تاکہ لوگ اس کی پرستش کریں اور نہ واقعات کو توڑ مروڑ کر اپنے کسی نظریے کے شکنجے میں دم بدم بدلتی ہوئی متضاد، رنگارنگ، حیرت انگیز جلوہ ہائے نوبہ نوسے معمور زندگی کو کسی اشتہار بازی کی سرخیوں سے آلودہ کرے۔‘‘(خواب باقی ہیں:ص7)
ایک اچھی خودنوشت کے لیے واقعات کی صداقت، شخصیت، اسلوب اور ہیئت کے ساتھ ساتھ بلا تکلف اور سادہ وغیر پرکاری واقعات زندگی بھی ضروری ہے۔ سیدعبداللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’سب سے اچھی آپ بیتی وہ ہوتی ہے جو کسی بڑے دعوے کے بغیر بے تکلف اور سادہ احوال زندگی پر مشتمل ہو۔‘‘ ( نقوش: آپ بیتی نمبر،ص63)
سید عبداللہ کے مندرجہ بالا اقتباس کا حاصل یہ ہے کہ صاحب خودنوشت اپنی زندگی کے احوال وواقعات کے متعلق بلند و بالا محیر العقول دعوی نہ کرے، جو بھی بات کرے اس میں صداقت ہو اور تصنع و بناوٹ سے پاک ہو،اور پڑھنے سے ایسا محسوس ہوکہ صاحب خودنوشت کی تمام زندگی قاری کے سامنے متحرک اور فعال تھی۔
آپ بیتی کا آغاز و ارتقا
آپ بیتی کا فن اتنا ہی قدیم اور پرانا ہے جتنا کہ انسانی زندگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ سے انسان کی یہ فطرت رہی ہے کہ وہ اپنی کہانی یا اپنے اہم اور خاص حالات سے دوسروں کو بھی ہمراز بناتا رہا ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنے علاوہ دوسروں کے حالات کو بھی دلچسپی سے سننے اور معلوم کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ زبانی آپ بیتی کا رواج پڑا اور جب قرطاس و قلم وجود میں آئے اور رسم الخط ایجاد ہوا تب آپ بیتی لکھنے کا بھی رواج پڑا۔ علیم الدین سالک صاحب، آپ بیتی کے آغاز و ارتقا کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
’’آپ بیتی اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان خود۔ اس کا آغاز انسان کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ زمانے کی گردش نے آ پ بیتیوں کے نام و نشان مٹا دیے تاہم بعض زبانوں میں آج بھی ہزار ہا سال پہلے کی لکھی ہوئی آپ بیتیاں موجود ہیں۔‘‘
(نقوش، آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص40)
رہی بات اردو میں’ آپ بیتی‘ کے آغاز و ارتقا کی تو اردو میں’ آپ بیتی‘ کا باقاعدہ آغاز و ارتقا ناول اور افسانے کے آغاز و ارتقا سے بھی پہلے خودنوشت کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ اس لیے کہ متحدہ ہندوستان کے 1857 کی جنگ آزادی کے فوراً بعد ہی اردو میں خودنوشت کا باقاعدہ آغاز ہوچکا تھا۔ جعفر تھانیسری نے ’کالا پانی‘ کے عنوان سے اردو کی پہلی خودنوشت لکھ کر باضابطہ اردو زبان میں ’خودنوشت نگاری‘ کی داغ بیل ڈالی۔
اردو میں خودنوشت نگاری کی ایجاد و آغاز کے متعلق علیم الدین سالک لکھتے ہیں:
’’ہمارے یہاں آپ بیتیوں کا رواج 1857 کی جنگ آزادی کے بعد شروع ہوا۔ جس قدر ملک ترقی کرتا گیا اسی قدر زیادہ آپ بیتیاں لکھی جاتی رہیں۔ چنانچہ سب سے پہلی آپ بیتی جو اردو زبان میں لکھی گئی وہ مولانا جعفر کی ’کالا پانی‘ ہے۔ اس میں مولانا محمد جعفر تھانیسری نے اپنی زندگی کے اس دور کا پورا نقشہ کھینچا ہے جو انھیں جلاوطنی میں بسر کرنا پڑا۔‘‘ (نقوش،آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص54)
شرائط
جس طرح انسان کی زندگی میں تنوع، رنگارنگی، بوقلمونی اور نشیب وفراز ہے، ٹھیک اسی طرح کسی شخص کی ’خودنوشت‘ میں بھی مذکورہ کیفیات پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ خونوشت بھی ایک انسان کے ہی حالات و واقعات زندگی پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے لیے بندھے ٹکے اصول نہیں ہیں۔ تا ہم خود نوشت کو بروئے کار لانے کے لیے اس میں چند شرائط کا اہتمام ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی خودنوشت کا قاری خودنوشت میں مندرجہ ذیل شرائط کوضرور تلاش کرتا ہے اور اس سے توقع بھی رکھتا ہے۔
(1) صداقت (2)شخصیت (3)خودنوشت میں فرد واحد کی داستان ہو جسے موضوع نے بقلم خود تحریر کیا ہو۔ (4) خودنوشت صاحب سوانح کی زندگی کے اہم ادوارو واقعات کو محیط ہو۔
صداقت
خود نوشت میں صداقت بیانی بہت اہمیت کی حامل ہے، بلکہ اگر یہ کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ صداقت بیانی خودنوشت کی جان و روح ہے۔ خود نوشت میں مبالغہ آرائی، بلند خیالی اور کذب بیانی کی گنجائش نہیں ہے۔ کذب بیانی توخود نوشت اور اس کے موضوع کے لیے سم قاتل ہے۔ اس سے شخصیت تو مجروح ہوتی ہی ہے مزید یہ کہ قاری کو غلط اطلاعات فراہم ہوتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کبھی صاحب سوانح پر تحقیق کی غرض سے اس کی خود نوشت کو ماخذ بنایا جائے گا تو تحقیق کی بنیاد ہی غلط ماخذ پر پڑجائے گی اور تمام تحقیقیں اسی بنا پر غلط ہو جائیں گی۔
صداقت بیانی اپنے آپ میں نہایت مشکل امر ہے، ہر شخص میں کچھ نہ کچھ نقص ہوتے ہیں، خواہ وہ عیاں ہو یا مخفی، اور شخص اپنے ظاہر و پوشیدہ دونوں عیوب سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ انسان کی یہ جبلت رہی ہے کہ وہ دوسروں کے خوف اور معاشرے میں شرمندگی سے بچنے کے لیے اپنے عیوب کی پردہ پوشی کرتا رہا ہے، اسی لیے یہ بہت یہ دشوار عمل ہے کہ وہ خود اپنی ناپسندیدہ کہانی اور واقعات کی پردہ کشائی کرے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اگر کوئی خود نوشت لکھنے کا حوصلہ کرے تو پہلے اسے اس بات کا بھی حوصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنی زندگی کے تمام اہم واقعات کو پوری صداقت کے ساتھ قلم بند کرے گا۔
ڈاکٹر یوسف حسین خان نے بھی خود نوشت میں صداقت و سچائی اور حقیقت بیانی کو ضروری شرط قرار دیاہے۔ وہ اپنی آپ بیتی ’یادوں کی دنیا‘ کے دیباچے میں خود نوشت کے فن پر اظہار خیال کرتے ہوئے آپ بیتی میں ’صداقت‘ کے قائل نظر آتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’آپ بیتی زندگی کی تاریخ بھی ہے اور ماورائے تاریخ بھی۔ حافظے کو کھنگالنے سے زندگی کی جو تصویر سامنے آتی ہے اس میں ایک طرح کی طلسمی خاصیت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے بشرطیکہ کہانی کہنے والا اپنے فن کے آداب کو برتنا جانتا ہو۔ خیالی نقوش جب صفحۂ قرطاس پر اتارے جاتے ہیں تو جذبے کی رنگ آمیزی بھی کسی نہ کسی صورت میں راہ پاجاتی ہے اور خیالی پیکروںمیں ایسی تحلیل ہوجاتی ہے کہ ان سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ تخلیقی مسرت میں اس سے اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ادیب کے ہاتھ سے صداقت اور حقیقت کا دامن کبھی نہیں چھوٹنا چاہیے۔اس کا سر نیاز سوائے ان کے اور کسی کے آگے خم نہیں ہوسکتا۔ جذبہ اور تخیل صداقت سے بیگا نہ ہیں تو وہ غیر متوازن ہوجائیں گے اور ان سے جو نقوش ابھریں گے وہ دھوکے میں ڈالنے والے ہوں گے۔ ان سے حقیقت تک پہنچنے میں رہنمائی نہیں ہوسکتی۔ ادیب کا فرض ہے کہ واقعات کے انتخاب اور ان کی توجیہ میں اس بات کا پورا لحاظ رکھے۔‘‘ ( یادوں کی دنیا :دیباچہ، ص۔ ب،ج )
اس اقتباس میں یوسف حسین خان نے جن چند اہم امور کی طرف توجہ مبذول کی ہے وہ یہ ہیں کہ خود نوشت نگار ہمیشہ اس بات کو ملحوظ نظر رکھے کہ اس کے ہاتھ سے صداقت اور حقیقت نگاری کا دامن نہ چھوٹنے پائے او ر دوسرے یہ کہ اگر کسی واقعہ کو جذبہ اور تخیل آمیزی سے بھی بیان کرے تب بھی یہ امر لازم ہے کہ اس میں صد فیصد صداقت کا دخل ہو، تیسری بات انھوں نے یہ فرمائی کہ واقعات کی تر تیب اور انتخاب کا بھی پورا پورا خیال رہے، اس کا مطلب ظاہر ہے کہ زندگی کے تمام عمومی واقعات اس میں شامل کرکے خود نوشت کو بوجھل اور ضخیم نہ بنایا جائے بلکہ انھیں خاص واقعات کو درج کیا جائے جو صاحب سوانح کی زندگی میں خصوصیت کا درجہ رکھتے یوں۔
معروف نقاد و ادیب آل احمد سرور نے تو اپنی سوانحی خود نوشت ’خواب باقی ہیں‘ میں تحریر فرماتے ہوئے خود نوشت کو پل صراط کی طرح بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز کہا ہے۔ آل ا حمد سرور لکھتے ہیں:
’’ جینا ایک فن ہے اور آپ بیتی ایک فن لطیف۔ اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے سچائی، بڑے ریاض اور بڑے کھرے پن کی ضرورت ہے۔ اس کا راستہ بھی پل صراط کی طرح بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہے۔ ‘‘( خواب باقی ہیں، ص7,8)
یوسف حسین خان لکھتے ہیں کہ خود نوشت میں معمولی قسم کی کہانی لکھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی صداقت کے بغیر خود نوشت نگار ایک قدم آگے بڑھا سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
’’آپ بیتی میں تاریخ کے بر خلاف فرد کی کہانی موضوع ہوتا ہے۔ اس کے دل کی، اس کے دماغ کی، عمل کی کہانی۔ لیکن یہ کہانی معمولی قسم کی کہانی سے الگ ہوتی ہے اس واسطے کہ اس میں جوکچھ پیش کیا جاتا ہے وہ حقیقت بر مبنی ہوتا ہے…آپ بیتی لکھنے والے اور مؤرخ میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں صداقت کی روشنی میں اپنا قدم آگے بڑھاتے ہیں۔‘‘ ( یادوں کی دنیا، دیباچہ،ص7)
ڈاکٹر ریحانہ خانم خود نوشت نگاری میں حقیقت نگاری پر اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’ آپ بیتی لکھنے والے کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کی تمام وہ خصوصیات (خوبیاں اور کمزوریاں ) دکھائے جو ایک فرد کی واضح صورت بنانے کے لیے اور زندگی کو سامنے لانے کے لیے ضروری ہیں۔ سوانح نگار اور اپنی زندگی کو مرتب کرنے والے دونوں کے لیے لازم ہے کہ انسانی زندگی کے تمام اوصاف و خصائل دکھائیں تاکہ شخصیت بھرپور انداز میں نظر آسکے۔‘‘ (نقوش، آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص89)
ڈاکٹر سید عبد اللہ بھی ’آپ بیتی‘ میں صداقت کے لزوم کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’آپ بیتی میں صداقت خصوصی کی جستجو لازمی ہے۔ اس کے علاوہ اسے ( خود نوشت نگار کو ) جج بھی بننا پڑتا ہے۔ اور یوں جج بننے میں کوئی خاص دقت نہیں لیکن اپنا جج خود بننا ایک مشکل امر ہے۔ خود اپنی اصلاح کرتے رہنا ممکن بلکہ اکثر ہوتا ہے مگر جج بن کر اپنے کو اشتہاری مجرم بنانے والے بہت کم دیکھے گئے ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص 62)
خود نوشت میں داستانوی اور افسانوی انداز کے کردار کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ واقعات و کردار، رہن سہن، خصوصیات و کمالات اور اسفار و مقامات سب کے سب حقیقی ہوں۔ ان میں ذرہ برابربھی کذب بیانی نہیں ہونی چاہیے، ورنہ خود نوشت کو اس کے درجے سے گرا دے گی۔ ڈاکٹر صبیحہ انور’ آپ بیتی‘ میں صداقت کی ضرورت و لزوم پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’ آپ بیتی میں اس کی گنجائش نہیں ہے کہ لکھنے والا شاعر اور افسانہ نگار کی طرح تخیل اور تصور پراپنی دنیا آباد کرے۔ کیوں کہ خود نوشت میں صداقت خصوصی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے خود نوشت سوانح حیات، سوانح حیات سے بھی زیادہ دلچسپ چیز ہے۔ اس میں ہمیں شخصیت کے ایسے مظاہر ملتے ہیں جن سے مصنف کے علاوہ اور کوئی واقف نہیں ہوتا، اس میں فنکار کی داخلی اور خارجی زندگی یکجا ہوتی ہے۔ سچائی اور حقیقت نگاری شخصی تحریر کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ دراصل سچائی ہی وہ روح ہے جس کی بدولت خود نوشت کے صفحات میں ہماری زندگی دوبارہ متحرک اور جاندار ہوکر سامنے آتی ہے۔اور جس سے عہدہ برا ٓ ہوناخود نوشت کی دوسری شرائط کے مقابلے میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ‘‘ (اردو میںخود نوشت سوانح حیات، ص22,23)
شخصیت
خود نوشت کی کامیابی کا دارو مدار اس کے موضوع پر بھی ہے۔ یعنی خود نوشت کا موضوع یا ہیرو جتنی اہمیت کا حامل ہوگا خود نوشت بھی اتنی ہی مقبول ہوگی۔ اگر کوئی غیر معروف یا زندگی کے کسی شعبے مثلاً تعلیم، سیاست، کھیل، شجاعت وبہادری اور مذہب میں نمایاں کار کردگی کا حامل شخص نہ ہو اور اس نے اپنی خودنوشت لکھی ہو تو قاری اس خود نوشت کو دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔ ہاں اگر وہ شخصیت شعبہ ہائے زندگی کے کسی شعبے میں نمایاں کار کردگی کا حامل ہو تو اس کی خود نوشت بہت مقبول ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس شخص کی کامیابی کے رازہائے سربستہ کو جاننا چاہتے ہیں تاکہ ان سے سبق لے کر خود بھی کامیاب ہوسکیں۔ دوسرے یہ کہ وہ معروف ہستیاں بہت سارے لوگوں کے لیے رہنمائے عمل (Ideal) ہوتی ہیں اور ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ’Ideal‘ کی زندگی کے متعلق معلومات حاصل کرے اور اگر وہ معلومات خود آئیڈیل کی لکھی ہوئی ہوں تو کیا کہنے۔ ڈاکٹر صبیحہ انور خود نوشت کے موضوع کی شخصیت کے متعلق لکھتی ہیں :
’’ اظہار ذات کے لیے دفتر کے دفتر سیاہ کیے جاسکتے ہیں۔ شخصیت کے اظہار کے لیے اشہب قلم پر کوئی بندش اس کے سوا نہیں ہوتی جو مصنف خود عائد کرلے۔کوئی پابندی اس بارے میں نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے کہ آپ بیتی کی ضخامت کیا ہو ؟ طوالت کی کیا حدیں رکھی جائیں۔، البتہ لکھنے والے کی ایک عوامی شخصیت ہونی چاہیے۔ شاعر اور نثار کے عوامی ہونے کا ایک ایسا خاص مفہوم ہوتا ہے جس کی صراحت اور وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح صحافی، فوجی افسر، مصور، نقاش، سیاست داں، ماہر تعمیر، سائنس داں، مجاہد آزادی، سرکاری افسر اور ماہر تعلیم بہت ہوتے ہیںلیکن خود نوشت کے مصنف وہی ہوتے ہیں جن کی اپنی ذات اور شخصیت خاصی عوامی اور نمایاں رہی ہو۔‘‘ (اردو میں خود نوشت سوانح حیات: ص33)
حاصل کلام یہ کہ ہمہ شما کو خود نوشت نگاری کا حق حاصل نہیں ہے، بلکہ وہی شخص اپنی آپ بیتی تحریر کرے جس نے زندگی کے کسی شعبے میں ممیز و ممتاز کارنامے انجام دیے ہوں، تاکہ اس کے تجربات، حوصلے، زندگی کے نشیب و فراز اور رنگا رنگی سے قاری لطف اندوز ہو اور استفادہ کرسکے۔
خود نوشت فرد واحد کی داستان حیات ہو جسے اس نے بقلم خود قلم بند کیا ہو
خود نوشت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں صرف ایک شخص کی سوانح حیات لکھی ہو، تاہم ضمناً بعض اشخاص کا ذکر آسکتا ہے۔ مثلاً خود نوشت نگار اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ تحریر کر رہا ہے جس واقعے میں کوئی دوسرا شخص بھی اہم کردار ہے اور اس کا ذکر کرنا بھی ناگزیر ہوگا، اگر کوئی ایسا واقعہ ہے جس میں موضوع کی حیثیت ثانوی ہے اور دیگر کی حیثیت اولی تو ایسے واقعے کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ خود نوشت میں خودنوشت نگار کو اپنی آڑ میں اپنے خاندان، اعزہ و اقارب، استاد یا شاگرد کو اس طرح نمایاں کرناکہ وہ خود نوشت کے موضوع سے بھی نمایاں نظر آنے لگے اور موضوع کی حیثیت ثانوی اور شخصیت مدھم اور مندمل ہوجائے اس کی اجازت نہیں۔ بعض خود نوشت نگار خود تو بہت اہمیت کے حامل نہیں ہوتے مگر ان کے آبا، اساتذہ یا شاگرد بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور سماجی، سیاسی اورتعلیمی میدان میں نمایاں مقام و مرتبے کے مالک ہوتے ہیں، تو اس صورت میں وہ اپنی خود نوشت میں اپنی ذات و شخصیت سے زیادہ اپنے آبا، اساتذہ یا شاگردوں کی زندگی کے واقعات، ان کے کردار اور افکار و خیالات پر زیادہ روشنی ڈالتے ہیں یہ بھی خود نوشت کا نقص اور عیب ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ انور لکھتی ہیں :
’’ یہ بات مسلم ہے کہ سوانح حیات میں اپنی ذات اور شخصیت ہی وہ محور ہوتی ہے جس کے گرد تصنیف کا تانا بانا بنا جاتا ہے۔ ‘‘ (اردو میں خود نوشت سوانح حیات : ص30 )
صبیحہ انور خود نوشت میں ’ فرد واحد کی داستان حیات ‘ پر اپنے خیالات کا اظہاراس طرح کرتی ہیں:
’’ خود نوشت سوانح حیات لکھتے وقت مصنف کی اپنی شخصیت ایک ایسا محور ہوتی ہے جس کے گرد پوری تصنیف گھومتی ہے۔ خود نوشت سوانح حیات میں اپنی ذات سے متعلق خود ہی بیان دیے جاتے ہیں۔‘ ‘ ( اردو میں خود نوشت سوانح حیات: ص34 )
مندرجہ بالا اقتباسات سے بھی واضح ہوگیا کہ خود نوشت کا اصل موضوع خود اس کا مصنف ہوتا ہے اور خود نوشت کی تمام کہانیوں کا محور و مرکز بھی صاحب سوانح ہی ہوتا ہے، دیگر اشخاص کا ذکر محض ضمناً اور ثانوی طور پر آتا ہے۔
خود نوشت ‘ صاحب سوانح کی زندگی کے اہم ادوار اور واقعات پر محیط ہو
خود نوشت نگار کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اہم واقعات کو اپنی آپ بیتی میں نظر انداز کردے، بلکہ وہ اپنی یاد داشت سے اپنی زندگی کے ان تمام واقعات و حالات کا ذکر کرے جو اس کی زندگی میں اہم رہے ہوں، کیونکہ خود نوشت صاحب سوانح کی زندگی کے اہم واقعات کا مرقع ہوتی ہے۔ صاحب سوانح کی زندگی سے اگر کوئی اہم واقعہ ذکر کرنے سے رہ جائے تو خود نوشت تام نہیں تسلیم کی جاسکتی اور تادم تحریر تشنہ ہی رہے گی۔ ڈاکٹر وہاج الدین علوی تحریر فرماتے ہیں :
’’ خود نوشت سوانح حیات ادب کی وہ تخلیقی صنف ہے جو کسی فرد واحد کی زندگی کے اہم ادوار پر محیط ہوتی ہے اور اسی کے قلم کی رہین منت ہوتی ہے، جس کے آئینے میں اس فرد کی داخلی اور خارجی زندگی کا عکس براہ راست نظر آتا ہے اور اس کا عہد بھی جلوہ گر ہوتا ہے۔‘‘ (اردو میں خود نوشت سوانح : فن و تجزیہ، ص41)
خود نوشت میں نہ ہی صاحب خود نوشت اپنی زندگی کے تمام واقعات و حالات کو تفصیل وار پیش کرے اور نہ غیر اہم واقعات کو بیان کرے، اس لیے کہ ان غیر اہم اور معمولی واقعات سے قاری کو دلچسپی رہتی ہے اور نہ ہی خود نوشت کے مطالعے کا مقصود۔ دوسری خرابی خود نوشت میں واقعات و حالات کی بہتات اور ہجوم لاحاصل سے یہ درآتی ہے کہ خود نوشت بے جا طور پر ضخیم اور طویل ہوجاتی ہے، جس سے قاری کو واقعات کے انتخاب میں دشواری ہوتی ہے اور اکتساب و استفادے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ انور کی تحریر ملاحظہ کیجیے:
’’اگر چہ ہماری زندگی اپنے تنوع کے باعث اتنی رنگا رنگ اور طولانی واقع ہوئی ہے کہ پوری زندگی کو صفحات پر سمیٹنا بڑا مشکل کام ہے۔ ایک اچھا فنکار ہمیشہ یہ خیال رکھتا ہے کہ تصنیف نہ تو قارئین کے لیے بارہو اور نہ ہی کوئی ضروری بات لکھنے سے رہ جائے کہ پڑھنے والے کو واقعات کے درمیان خلا کا احساس ہو۔ ‘‘(اردو میں خود نوشت سوانح حیات، ص31)
خود نوشت میں زندگی کے تمام اہم ادوار اور اہم واقعات کا ذکر ازحد ضروری ہے۔ ایک بھی اہم واقعہ اور زندگی کا اہم دور ذکر سے خالی نہ رہے۔ اور دوسری بات یہ کہ تمام اہم واقعات کو اس طرح ترتیب دیں کہ ان کے درمیان خلا کا احساس نہ ہو اور نہ ہی بے جوڑ واقعات کا سلسلہ معلوم ہو۔ خود نوشت نگار کے فن کا کمال یہ ہے کہ وہ واقعات کی ترتیب اور زندگی کے اہم ادوار کا ذکراس چابکدستی اور فنکاری سے کرے کہ خود نوشت میں صاحب خود نوشت کی پوری زندگی رواں دواں اور جیتی جاگتی نظر آئے اور قاری کی ان واقعات سے لطائف و چاشنی میں بھی کمی نہ آئے۔ ڈاکٹر ریحانہ خانم ’خود نوشت‘ میں زندگی کے اہم ادوار اور واقعات کی ترتیب اور تراش و خراش کے متعلق تحریر فرماتی ہیں :
’’ بڑا فنکارانہ انداز جو دونوں (خود نوشت نگار اور سوانح نگار) کے لیے ضروری ہے کہ زندگی بھر کے چھوٹے بڑے واقعات اور حالتوں میں سے مناسب چیزیں تحریر کی جائیں۔ زندگی جتنی طویل ہے اگر ہر طرح کی باتیں اور اتنی ہی زیادہ ویسی کی ویسی دکھائی جائیں تو تصنیف بھی زندگی کی طرح طویل ہوجائے گی اور یہ طوالت بار کی حد تک پہنچے گی، اس کے لیے نہایت فنکاری اور ہوشمندی کی ضرورت ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ باتیں جن کا تعلق زندگی کے روز مرہ معمولات سے ہے اور جو عام طور پر ہر زندگی میں ہوا ہی کرتی ہیں نکال دی جائیں۔ اس قسم کی باتوں سے کسی کی شخصیت کو سمجھنے اور پرکھنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی یا جو کسی خاص شخص کی شبیہ کو بنانے میں کوئی درجہ نہیں رکھتیں۔ اس کام میں یہ خیال بھی رہنا لازمی ہے کہ کوئی ایسی بات نہ رہ جائے جو انسانی زندگی کے کسی خاص پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہو اور اس کاٹ چھانٹ کے قاعدے میں لکھنے والا وہ کچھ تو بیان کردے جو اس کی پسند اور مطلب کی خاص چیز ہے اور بنیادی باتیں رہ جائیں…بعض باریک جزئیات انسان کی بعض خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ یہ در جۂ فنکاری اور دقت نظر کا کام ہے کہ تصنیف نہ تو قارئین کے لیے بار بن جائے اور نہ اس میں سے کوئی ضروری بات رہ جائے۔ ‘‘(نقوش۔آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص89 )
خود نوشت میں زندگی کے اہم ادوار سے مراد یہ ہے کہ پیدائش سے لے کر تادم تحریر ’ آپ بیتی ‘ میں تمام ادوار کا ذکر نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے مندی سے ہونا چاہیے، یعنی پیدائش، بچپن، جوانی، بزرگی، پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت کے اہم ادوار اور حالات کا ذکر۔
خود نوشت کا اسلوب
خود نوشت اسلوب کی نثری صنف ہے۔ ( یہ اور بات ہے کہ بعض حضرات نے اسے نظم کے پیرائے میں بھی قلم بند کرنے کی سعی کی ہے ) خود نوشت میں عام بول چال کی زبان کا استعمال بکثرت ہوتا ہے مگر اس کی وافر مقدار ادبی اور معیاری زبان پر مشتمل ہوتی ہے۔ ادبی زبان کی دو شکلیں ہیں۔ ایک علمی زبان جیسے مضامین و مقالات کی زبان اور دوسرے تخلیقی زبان جیسے ناول، افسانے، انشائیے اور خاکے وغیرہ کی زبان۔
جہاں تک خود نوشت کے اسلوب کی خصوصیت کی بات ہے تو خود نوشت کا اسلوب اپنے موضوع کے تابع ہوتا ہے، یعنی یہ کہ موضوع حیوان ظریف بھی ہوسکتا ہے،سنجیدہ اور سادہ مزاج بھی ہوسکتا ہے، شوخ و سلیم الطبع بھی ہوسکتا ہے، اعلی اور ادنی بھی ہوسکتا ہے۔ پس موضوع مندرجہ بالا جن صفات سے متصف ہوگا خود نوشت کا اسلوب بھی موضوع کے مطابق ہوجائے۔
جیساکہ ہمیں معلوم ہے کہ خود نوشت لکھنے والا حیات انسانی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا ہوسکتا ہے، وہ علمی، ادبی، سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی اور مذہبی کسی بھی شعبے سے ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آ پ بیتی کے لیے کسی خاص اسلوب کی قید لگانا ممکن نہیں۔ ہاں اس بات کا کامل لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ خود نوشت میں جو واقعات ہوتے ہیں ان میں بتدریج ارتقا ہوتا ہے اور ساتھ ہی خوشی اور غم کے حالات،تلخ وشیریں تجربات کا بھی ذکر ہوتا ہے، چنانچہ خود نوشت نگار کو چاہیے کہ زبان و اسلوب کا استعمال واقعات و حالات اور کیفیات کے تناسب سے کرے، لیکن خود نوشت کے اسلوب میں اس بات کا خیال ازحد ضروری ہے کہ وہ مائل بہ کذب بیانی اور ثقیل و گنجلک نہ ہونے پائے۔
خود نوشت میں اسلوب وزبان کا رشتہ واقعات و کیفیات سے بہت مضبوط ہے، اسی وجہ سے اس میں شعری صنائع جیسے رعایت لفظی، تخیل کی بلند پروازی،حسن تعلیل، ابہام و کنایہ وغیرہ کے بجائے اسلوب بمطابق رعایت واقعہ، سادگی، شگفتگی، شوخی وظرافت، ایجاز واطناب وغیرہ سے مملو اسلوب نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے اسلوب میں جو سب سے ضروری نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ اسلوب و زبان واقعہ اور موضوع کے مطابق ہو، یعنی خود نوشت کا اسلوب واقعہ اور موضوع کی کیفیات پر منحصر ہے۔ جس واقعہ میں شوخی وظرافت کا محل ہوگا اس کا اسلوب بھی ظریفانہ ہوگا، اور اگر واقعہ غم و اندوہ کو بیان کر رہا ہوگا اور موضوع علمی ہوگا تو اسلوب بھی غم واندوہ کا حامل اور علمی ہوگا،اسی طرح اگر واقعے میں مسرت و شادمانی کا عنصرہوگا تو اسلوب بھی مائل بہ مسرت و شادماں ہوگا۔
خود نوشت میں غم و اندوہ اور خوشی ومسرت کے موقعے پر لکھے ہوئے دو اقتباسات میں اسلوب کا تفاوت اور اسلوب کا تناسب واقعہ ملاحظہ کیجیے۔عبد الماجد دریا بادی اپنی بیوی کی وفات کی خبر پر اپنی اور اہل خانہ کی دلی کیفیات کا نقشہ اپنی خود نوشت سوانح عمری ’آپ بیتی ‘میں اس طرح کھینچتے ہیں :
’’ وقت کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ کا ہوگا کہ یک بیک موٹر کے آنے اور رکنے کی آواز آئی، دل میں معاً آیا کہ خدا خیر رکھے یہ بلا اطلاع و اجازت مجھ سے ملنے موٹر پر کون آسکتا ہے؟ اور سکنڈوں کے اندر اپنے چھوٹے داماد عبدالعلیم سلمہ کی روتی ہوئی آواز کان میں پڑی، اب شک یقین میں بدل گیا، اور دل نے کہا کہ کوئی ایساہی سخت حادثہ ہوگیاہے اور یہ مجھے لینے موٹر پر آئے ہیں، سوچنے کی دیر تھی کہ وہ روتے روتے کمرے میں داخل ہوگئے، اور اتنا کہہ سکے کہ جو خبر لے کے آئے ہیں وہ آپ سے کس طرح بیان کریں ‘‘ دل پر جو کچھ گزری، اس کا علم تو بس عالم الغیب ہی کو ہے، یہ معلوم ہوا کہ جیسے بجلی گر پڑی ۔۔۔۔۔ ساتھ میں منجھلی لڑکی زہیرا بھی آئی، دم بھر کے بعد اندر مکان سے حمیرا روتی پیٹتی آئی اور میرے گھٹنہ پر جھک گئی۔ دل پر صبر کا پتھر رکھ کر اس سے یہی کہا کہ بس صبر کرو۔‘‘ (آپ بیتی، ص383)
عبد الماجد دریابادی اپنی شادی اور اس کی طرب وشادیانے کا ذکر کرتے ہوئے اپنی آپ بیتی میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ جون کا سارا مہینہ ٹیٹھ ہندوستانی قسم کے ’ ہنی مون ‘ میں گزرا، چوتھی چالوں کا چکر چلتا رہا، قدم آج گھر میں ہے، تو کل سسرال میں۔ لیکن قیام زیادہ تر ہر حال میں لکھنؤ ہی میں رہا۔ البتہ بجائے اپنے مکان خاتون منزل کے، اپنے عارضی سسرال منزل ہیوٹ روڈ میں… نئے داماد کی خاطرداریوں کا پوچھنا ہی کیا، اور پھر یہ سسرال تو خاصی خوش حال بھی تھی۔ ایک عامیانہ کہاوت میں دن عید، رات شب برات۔ بے فکری پن اور غفلت کی عمر ہی کتنی، بات بات کہتے پورا مہینہ گزر گیا۔ ادھر یہ ہوا کہ میری انگریزی کتاب سائیکلوجی آف لیڈر شب لندن میں ایک مشہور پبلشر کے یہاں چھپ گئی تھی، اور اسے دیکھ علی گڑھ کانفرنس کے کرتا دھرتا صاحبزادہ آفتاب احمد خاں صاحب مجھ پر بڑے مہربان ہوگئے اور کانفرنس میں بطور لٹریری اسسٹنٹ کے مجھے لے لیا، طے یہ شروع مئی میں ہوگیا تھا، باقی اجازت میں نے جون بھر کی لے لی تھی، اور اب یکم جولائی کو علی گڑھ کو پہنچ جاناتھا، اور چارج لے لی، لیکن نئی اور پھر اس درجہ محبوب بیوی کو چھوڑ کر بھلا جانا کچھ آسان نہ تھا؟ جی نہ لگتا تھا، نہ لگا۔اور ایک ہفتہ کے اندر ہی لکھنؤ آنے کا چکر شروع ہوگیا، اوروہ بھی صاحبزادہ صاحب کی اجازت کے بغیر ۔۔۔۔ نوجوانی کا ـسن یوں ہی حماقت اور ناعاقبت اندیشی کا ہوتا ہے، اور پھر جب محبت کا جنون شامل ہوجائے ! صاحبزادہ صاحب نے جب اس فوری سفر کی خبر سنی تو بڑا بلیغ فقرہ کہا کہ ’’ بس یہ حضرت ملازمت کر چکے۔ ‘‘( آپ بیتی، ص180,181)
خود نوشت کب لکھنی چاہیے؟
خود نوشت کی تعریف سے جیسا کہ واضح ہوا کہ خود نوشت کا لکھنے والا چونکہ خود اس کا موضوع ہوتا ہے، تو ظاہر سی بات ہے کہ موضوع یعنی خود نوشت نویس ابھی بقید حیات ہوتاہے اور بقید حیات ہوتے ہوئے اپنی زندگی کے واقعات ابتدا تا انتہا لکھنا محال ہے، اس لیے کوئی بھی خود نوشت اپنے موضوع کی ابتدا تا حال (آپ بیتی لکھتے وقت تک) کی زندگی پر مشتمل ہوتی ہے، اسی وجہ سے خود نوشت کو مکمل سوانح حیات نہیں کہا جاتا ہے۔ یعنی خود نوشت اپنے موضوع کی زندگی کی نامکمل داستان ہوتی ہے۔
اب رہی بات یہ کہ کس عمر میں خود نوشت لکھنی چاہیے تاکہ صاحب خود نوشت کی زندگی کے زیادہ سے زیادہ حصے کا ذکر اس میں مرقوم ہوسکے، تو اس کے متعلق ایک بات بہت ہی اہم ہے اور یہی ہوتی آئی ہے کہ خود نوشت نگاری زندگی کے اس پڑائو میں شروع کرنی چاہیے جب زندگی کے کچھ امکان مع ہوش و ہواس باقی ہوں، یعنی جب انسان اپنی دانست میں زندگی کے تمام نشیب و فراز دیکھ چکا ہو اور حتی الامکان سعی حاصل و لاحاصل انجام دے چکا ہو اور مزید امکان نہ ہو تب اپنی آپ بیتی (خود نوشت) لکھے۔ ایسی خود نوشتوں میں زندگی کے تمام اونچ نیچ اور تجربات تلخ و شیریں قلم بند ہوتے ہیں اور قاری کا مقصود بھی انھیں تجربات زندگی اور جد و جہد حیات سے استفادہ کرنا ہوتاہے۔
بطور استدلال و مثال چند معروف ادیبوںاور نقادوں کے سنین اشاعت خود نوشت اور سنین وفات لکھتا ہوں:
خودنوشت………..اشاعت اوّل……..خودنوشت نگار……..سنہ وفات
1.سرگزشت……………….1955……..عبدالمجید سالک…………1959
2.یادوں کی برات……..1970……..جوش ملیح آبادی…………1982
3.اپنی تلاش میں……..1975……..کلیم الدین احمد…………..1983
4.آپ بیتی………………..1978……..عبدالماجد دریابادی……..1977
5.خوب باقی ہیں……..1991……….آل احمد سرور…………….2002
مذکورہ بالا خود نوشتوں کا سنہ تصنیف اور خود نوشت نگار کے سنہ وفات کے درمیانی عرصے سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ خود نوشت لکھنے کا صحیح وقت عمر کا آخری پڑائو ہے، جس پر بالفصیل گفتگو ہوچکی ہے۔ عبدالماجددریابادی کی خودنوشت 1977 میں مکمل ہوچکی تھی، شائع ان کے انتقال کے بعد ہوئی۔
ایک بات اور عرض کرتا چلوں کہ خود نوشت کے لیے بقلم خود لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ موضوع اپنی زندگی کے تمام واقعات کا خود راوی ہو خواہ اس نے خود لکھا ہو یا کسی اور سے لکھوایا ہو۔ یہاں لکھنا اور لکھوانا دونوں تصنیف و تحریر کے معنی میں ہیں، کیوں کی اکثر آخری عمر میں آدمی کے قویٰ کمزور و مضمحل ہوجاتے ہیں اور بینائی دھندلی، ہاتھ میں جنبش ہونے لگتی ہے، بسا اوقات دست و پا کے قویٰ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، تو اس صورت میں وہ اپنی یادداشتوں کے ذریعے اپنی زندگی کے واقعات بیانیہ طور پر درج کرواتا ہے۔ یہ بھی خود نوشت ہی ہے اور اسے بھی صیغۂ واحد متکلم میں ہی لکھاجاتاہے۔ گویا خود نوشت فرد واحد کی ایسی سوانح حیات ہے جس کا موضوع خود راوی ہو خواہ اس نے خود لکھی ہو یا کسی اور سے لکھوائی ہو۔
خود نوشت کی اہمیت و افادیت
خود نوشت کی اہمیت و افادیت ازہر من الشمس ہے۔کوئی بھی شخص کسی کے متعلق داخلی اور خارجی حالات سے مکمل واقفیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا، خواہ مدعی اس شخص کے کتنا ہی قریب تر ہو۔ خود نوشت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جوصاحب خود نوشت کے بارے میں معلومات کا اصل ماخذہے۔ ایک ہی شخص کے کسی واقعے کے متعلق اسی کی سوانح عمری اور خود نوشت میں اگر تضاد ہو تو خودنوشت کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ خود نوشت کا موضوع خود کی لکھی ہوئی داستان حیات ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں:
’’ آپ بیتی میں اپنی ملامت یا اپنی تحسین کی طرف بے توازن جھکاؤ بھی ہو تب بھی آپ بیتی دوسرے سوانح نگاروں کے لیے اولین اور مستند ترین ماخذ ثابت ہوتی ہے۔ اگر چہ یہ بھی درست ہے کہ آپ بیتی کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی کو دور کرنا سوانح نگار کے لیے قریباً محال ہوجاتا ہے۔ ‘‘ (نقوش، آپ بیتی نمبر،جون1964، ص63 )
خود نوشت کی ایک بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ تصنع اور بناوٹ سے پرے صاحب سوانح کی زندگی کے معلومات اور تجربات کا دفتر ہوتی ہے، جس سے قاری استفادہ کرتا ہے۔خودنوشت کے چاہنے والے بہت ہوتے ہیں،اگر چاہنے والا نہ بھی ہو لیکن ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس شخص کی کامیابی اور زندگی کی جد وجہدکے بارے میں معلومات حاصل کرے۔ اس صورت میں صاحب سوانح کی خود کی لکھی ہوئی سوانح حیات اگر عوام کو مل جائے تو اس سے بہتر معلومات بہم پہنچانے کا ذریعہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایجادات میں ٹرین کے موجد رچرڈ ٹریویٹک (Richard Trevitck)، بلب کے موجد تھومس الوا ایڈیسن (Thomas Alva Edison)، ٹیلیفون کے موجدا لیکژنڈر گراہم بیل Alexander Grahan Bel))، اور اسی طرح سیاست میں سکندر اعظم،عمر فاروق اعظم، تیمور لنگ، اور اکبر اعظم۔ سپہ سالاروں میں خالد ابن ولید، طارق ابن زیاد، محمد بن قاسم، اور مذہب میں رام جی، کرشن جی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت محمد مصطفیؐ ، گوتم بدھ، اور مہاویر جین وغیرہ۔ ادب و فلسفہ میں افلاطون، ارسطو، شیکسپیئر، میتھو آرنلڈ، کالی داس، بالمیکی، وردھن، ابن رشد، ابن العربی، ابن سینا، الفارابی، فخرالدین رازی، کبیرداس، مولانا روم، امیر خسرو، امرؤ القیس، قدامہ ابن جعفر، جاحظ، نظامی عروضی سمرقندی، فردوسی، سعدی، حافظ شیرازی، قلی قطب شاہ، وجہی، ولی دکنی، نظیر اکبرآبادی، وغیرہ۔ یہ ایسی شخصیات ہیں جنھوں نے حیات انسانی پر اپنی ایسی چھاپ چھوڑی ہے کہ دنیائے انسانیت مذکورہ بالاشخصیات کی حیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہاں نظر آتی ہے۔ پس ان کی خود کی لکھی ہوئی سوانح حیات اگر متلاشی کے ہاتھ لگ جائے تو اس سے بہتر معلومات کا ذریعہ کیا ہوسکتا ہے۔ غلام رسول مہر ’ آپ بیتی ‘ کی اہمیت و افادیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’ انسان کے لیے دوسروںکے حالات سے براہ راست اس پیمانے پر آگاہی ممکن نہیں جس پیمانے پر وہ اپنے حالات سے آگاہ ہوتا ہے۔دوسروں کے حالات لکھے گا تو گوناگوں اسباب کی بناپر مختلف واقعات کے متعلق اسے شبہات پیدا ہوں گے۔ایسی روایتیں سامنے آئیں گی جن میں تناقص یا کم و بیش اختلاف موجود ہوگا۔ ممکن ہے اس طرح صحیح حالات میں نادانستہ غلط باتوں کی آمیزش ہوجائے مگر اپنے حالات میں تخلیط یا تشبیہ کا کوئی امکان ہی نہیں۔
’’وجود کے ا حوال و کوائف کو خود اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا اور اس کی حرکات و سکنات کی محرکات کا صحیح ترین اندازہ خود اس کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ کیا یہ معلوم نہیں کہ جب تاریخوں یا انفرادی سرگزشتوں میں کسی بیان کی توثیق خود متعلقہ افراد کے اقوال و ملفوظات سے کردی جاتی ہے تو اسے درست تسلیم کرلیتے ہیں کسی کے لیے تأمل کی گنجائش باقی نہیں رہتی ؟ جب تمام سوانح خود صاحب سوانح کے قلم سے ہوں گے تو انھیں اہم و اقدم ماننے میں اختلاف کی کون سی وجہ ہوسکتی ہے۔ ‘‘(نقوش:آپ بیتی نمبر،جون 1964،ص36,37)
غلام رسول مہر صاحب کی عبارت سے دوباتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ کسی شخصیت کے معلومات کے حصول میں خودنوشت کواولیت حاصل ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اگر کسی واقعے میں تناقص و تنازع کی صورت پیدا ہوجائے تو اس صورت میں بھی خودنوشت ہی کو قابل اعتبار مانا جاتا ہے۔ خودنوشت کے متعلق ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ براہ راست خودنوشت نگاری ممکن نہیں،اس لیے کہ کوئی ایسا ہے ہی نہیں کہ وہ اپنی تمام سرگزشت بغیر کسی ردوبدل اور کم و بیشی کے لکھ سکے۔ کیونکہ اسے ایک طرف اپنی عزت نفس کا خیال ہوتا ہے تو دوسری طرف مخالفین کا خوف دامن گیر ہوتاہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ کیا کوئی شخص مکمل اور باریکیوں کی حد تک صحیح آپ بیتی لکھ سکتاہے؟ اس کا جواب اگر نفی میں نہیں تو شک میں ضرور ہوگا۔کسی فرد پر جوکچھ بیتی ہے اس کا صحیح بیان تبھی ممکن ہوگا جب دنیا کے و ہ سارے باسی (جن کی نظر سے آپ بیتی گزرے گی) یا تو فرشتے بن جائیں گے جو تسبیح و تہلیل کے لیے مخلوق ہوئے ہیں، یا تب جب لکھنے والا اس چٹان کی طرح ہوجائے گا جس کے سینے سے بے ساختہ چشمہ ابل پڑتے ہیں اور وہ اپنی سنگ دلی کے باوجود بے بس ہوجاتا ہے اور جوکچھ اس کے اندر ہوتاہے اگل دیتاہے یا جب پڑھنے والا شاہ بلوط کی اس خشک ٹہنی کی مانند ہوجائے جس میں رس پہنچ بھی جائے تو اسے محسوس بھی نہ ہوکہ کیا ہورہاہے۔ کسی شاعر (سعدی)نے بلاوجہ نہیں کہا تھا ؎
مرادرد است اندر دل اگر گویم زباں سوزد
وگردم در کشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد
(نقوش، آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص60 )
ڈاکٹر سید عبداللہ کے مندرجہ بالا تینوں دلائل کہ قاری یا تو فرشتہ ہوجائے، یا وہ پتھر ہوجائے جس سے چشمے ابل پرتے ہیں یا شاہ بلوط کی ٹہنی کی طرح ہوجائے تبھی کامل درستگی سے خودنوشت لکھنا ممکن ہے بالکل درست اور قرین قیاس ہے، مگر اس میں کلام یہ ہے کہ تمام خودنوشت نگاروں کے حالات یکساں ہی ہوں، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر شخص کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ بھی پیش آیا کہ جس کو منظر عام پر لانے میں خوف و دشنام کا سامنا کرنا پڑے۔ اس لیے خودنوشت نگاری بہت ہی جگر اور حوصلے کاکام ہے اور مشکل بھی ہے مگر محال اور ناممکن نہیں ہے۔
مذکورہ بالا مباحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر سید عبد اللہ مزید تحریر فرماتے ہیں:
’’اپنی سوانح عمری اس حد تک ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات لکھ دے یا زیادہ سے زیادہ تھوڑی دور ان کے باطنی محرکات کابیان کردے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص وہ سب کچھ لکھ دے جو اس پر اور اس کے دل پر گزری ہے۔ ایک لحاظ سے آپ بیتی یا خودنوشت سوانح عمری کی صنف دوسروں کی لکھی ہوئی سوانح عمریوں کے مقابلے میں خاصی نارسا اور ناقص چیز ہوتی ہے۔ اس کے راستے میں دو بڑی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔دوسروں کا خوف اور اپنے سے محبت۔ ایک اچھا سوانح نگار اپنے فن کی لاج رکھنے کے لیے بہت سی ایسی باتیں بھی بیان کردیتا ہے جو خودنوشت نویس کے لیے ممکن نہیں ہوتی ‘‘ (نقوش، آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص61)
اس عبارت میں بھی سید عبداللہ نے اپنے گزشتہ موقف ہی کا اعادہ بہ طرزدیگر کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے تمام واقعات کو دانستہ طور پر نہیں لکھ سکتا، دوسرے یہ کہ دوسروں کی لکھی ہوئی سوانح عمری کے مقابلے خود نوشت یا آپ بیتی نہایت ناقص و نارسا ہے اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ بہت سی ایسی باتیں جو ایک خود نوشت نویس چھپاجاتا ہے اسے سوانح نویس فن کی لاج رکھنے کے لیے لکھ دیتا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہنا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے تمام واقعات نہیں لکھ سکتا کیونکہ اسے خوف و خجالت دامن گیر ہوتے ہیں۔ان کی یہ بات ایک حد تک قابل قبول ہے مگر یہ قول علی الاطلاق سب کے لیے صادق نہیں آئے گا، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے اہل قلم اور اہل جگر اشخاص ہیں جو حکومت وقت اور دشمنان جاں کی پروا کیے بغیر بھی اپنی نطق لسانی اور خامہ فرسائی پر کسی طرح کا دبائو نہیں آنے دیتے اور نہ ہی قد غن لگانے دیتے ہیں اور بڑے سے بڑے خفیہ رازوں اور سازشوں کا پردہ فاش کردیتے ہیں۔
ڈاکٹر سیدعبداللہ کی دوسری بات کہ خودنوشت دوسروں کی لکھی ہوئی سوانح عمری کے مقابلے نہایت نارسا اور ناقص ہوتی ہے، یہ بات بھی کلی طور پر صادق نہیں آتی۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ اگر کسی شخص کے متعلق کسی واقعے میں اختلاف ہوجائے تو خود صاحب واقعہ کے قول یا تحریر کو ترجیح دی جاتی ہے اور دوسرے یہ کہ ہر شخص اپنے بارے میں جتناجانتا ہے اتنا اس کے بارے میں کوئی دوسرا جان ہی نہیں سکتا، اپنے بارے میں جاننے کے لیے اسے کسی اور کی ضرورت نہیں ہے جب کہ سوانح نگار کو سوانح لکھنے کے لیے صاحب سوانح کی تحریر، اس کی اولاد، شاگرد، اعزہ و اقارب وغیرہ سے مواد حاصل کرنے ہوتے ہیں اور تیسرے یہ کہ کیا ضروری ہے کہ دوسرے اشخاص سے حاصل شدہ مواد صد فیصد درست ہی ہو، اور یہ بھی ممکن نہیں کہ سوانح نگار جس واقعے کو تحریر کررہاہے اس کی باطنی کیفیت اور محرکات سے بھی واقف ہو۔ اسی وجہ سے خودنوشت نویسی گرچہ مشکل ضرور ہے کہ اس میں صاحب خودنوشت اپنی ہی زندگی کے تمام اہم سیاہ و سفید واقعات کو لکھنے کی سعی کرتا ہے مگر ممکن ہے محال نہیں۔ ایک اور بات یہ ہے کہ خودنوشت نگاری بلاواسطہ لکھی جاتی ہے یعنی کسی سے کسی واقعہ یااپنی زندگی کے حالات دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ سوانح نگاری بلاواسطہ نہیں بلکہ بالواسطہ نگاری کافن ہے کہ اس میں سوانح نگار دوسروں سے مددلیتاہے اور ظاہر سی بات ہے کہ بلاواسطہ کو بالواسطہ پر فوقیت حاصل ہے۔
آپ بیتی میں چند نقائص جو نہ چاہتے ہوئے بھی درآتے ہیں ان کی طرف سیدعبداللہ اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’آپ بیتی میں ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ اس میں مصنف یاتو سب کچھ چھپاجاتاہے یا بہت بننے کی کوشش کرتاہے اور مبالغے سے کام لیتاہے۔ اسی لیے’ Autobiography ‘ کی مصنفہ Burr نے لکھا ہے کہ ’ ارادے سے لکھی ہوئی آپ بیتی بڑی ناکام صنف ہے۔ اس میں ملمع زیادہ ہوتا ہے۔ اظہار کے نام سے اخفائے حا ل کیا جاتاہے اور لوگوں کو باور کیاجاتاہے کہ میں پرلے درجے کا صاف گو اور راست باز ہوں۔‘‘
(نقوش، آپ بیتی نمبر،جون 1964، ص61 )
باکل یہ خیال درست ہے کہ ہر انسان اپنی تعریف کا خواہاں ہوتا ہے اور وہ چاہتاہے کہ میرا اور میرے آباواجداد کا نام نیک نامی سے لیا جائے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ اس کا نام ذلیل و خوار کی حیثیت سے ہو۔
آپ بیتی میں صاحب سوانح اپنے متعلق جو معلومات فراہم کرتا ہے ان معلومات کو دیگر معلومات کے ذرائع مثلاً سوانح عمری، تاریخ اور تذکرہ وغیرہ پر ترجیح حاصل ہے۔ ہاں ایک بات کا قوی امکان ہے کہ آپ بیتی میں خودنوشت نگار نے مبالغہ اور کذب بیانی سے کام لیا ہومگر وہ بھی عوام الناس سے بہت دنوں تک پردئہ خفا میں نہیں رہ سکتے کیو نکہ آپ بیتی کے واقعات کے تحقیق و تنقید کے میزان نگار پر آنے کے بعد قاری کے سامنے غلط اور صحیح کا پتہ لگالینا مشکل کام نہیں۔
حوالہ جات
1 آپ بیتی: عبدالماجد دریابادی،مجلس نشریات اسلام،کراچی،پاکستان1978
2 ادبی اصناف: گیان چند جین، گجرات اردو اکادمی، گجرات1989
3 اردو خودنوشت: فن وتجزیہ؍ وہاج الدین علوی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،دہلی1989
4 اردو میں خودنوشت سوانح حیات: صبیحہ انور، نامی پریس،خواجہ قطب الدین روڈ لکھنؤ1982
5 اس آباد خرابے میں: اخترالایمان، اردو اکادمی،دہلی1996
6 اکسفورڈ انگلش ڈکشنری،جلد اول؍ آکسفورڈ
7 انسائیکلوپیڈیابریٹانکا،جلد دوم، شکاگو1974
8 خواب باقی ہیں: آل احمد سرور، ایجوکیشنل بک ہاؤس،علی گڑھ1991
9 نقوش(آپ بیتی نمبر) محمد طفیل(مدیر) ادارہ فروغ اردو،لاہور، جون1964
10 یادوں کی برات: جوش ملیح آبادی: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی2003
11 یادو کی دنیا: یوسف حسین خان، معارف پریس :دارالمصنّفین،اعظم گڑھ1967
Dr. Md Shamsher Ali
Vill. Mohan Barhiyam, Post- Sakri
Distt- Madhubani-847239 (Bihar)
Mob.: 9760845513
mdshamsheralig@gmail.com