تدوینِ متن کی روایت شمالی ہند میں ،مضمون نگار:صابر علی سیوانی

April 21, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص

تدوینِ متن کی روایت کا آغاز شمالی ہند میں آزادی سے قبل ہوچکا تھا، لیکن اصول تدوین وضع نہیں ہوئے تھے۔ متعدد متون کو محققین نے ترتیب دے کر انھیں ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش کی۔ آزادی کے بعد اس روایت کو استحکام حاصل ہوا۔ تدوین کے اصول وضع کیے گئے۔ سائنٹفک طریق کار کو تدوین کے عمل کے لیے ضروری قرار دیاگیا اور حواشی، مصادر، فرہنگ، مقدمہ، اور صحت متن کے حوالے سے بہت سی شرائط کو تدوین کے لیے لازمی قراردیا گیا۔ قاضی عبدالودود، حافظ محمود شیرانی، امتیاز علی عرشی، مالک رام، مختارالدین احمد، مسعود حسن رضوی ادیب، رشید حسن خاں، نورالحسن ہاشمی، نذیر احمد، محمود الٰہی، تنویر احمد علوی، نثار احمد فاروقی، خلیق انجم، مظفر حسین برنی، حنیف نقوی اور ظفر احمد صدیقی وغیرہ نے نہایت اہم متون کو مرتب کرکے شائع کیا۔ ان مدونین نے کلاسیکی متون خصوصاً تذکروں، دواوین، نثری تحریروں اور خطوط کے مجموعوں کو مرتب کرکے شائع کیا اور انھیں ضائع ہونے سے بچالیا۔ تدوین کا فریضہ انجام دینے والوں میں ایک اہم نام رشید حسن خاں کا آتا ہے، جنھوں نے فسانہ عجائب، باغ و بہار کے علاوہ دیگر کئی متون مرتب کیے، ان پر اعراب لگائے اور انھیں شائع کرایا جو نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ امتیاز علی عرشی نے رشید حسن خان سے قبل تدوین کے اہم کام کیے۔ دیوانِ غالب (نسخۂ عرشی) کی ترتیب کی وجہ سے انھیں شہرت حاصل ہوئی۔ اسی طرح مالک رام و مختار الدین احمد کی مرتّبہ ’ کربل کتھا‘ نذیر احمد کی مدوّنہ کتاب نورس، نورالحسن ہاشمی کی مرتبہ کلیات ولی، مسعود حسن رضوی ادیب کی مرتبہ فیض میر، قاضی عبدالودود کی تدوین کردہ کلامِ شاد، حنیف نقوی کی مرتّبہ انتخابِ کربل کتھا او رظفر احمد صدیقی کی ترتیب کردہ شرح دیوان اردوئے غالب وغیرہ نہایت اہم متون ہیں، جنھیں مدونین نے زیور تدوین سے آراستہ کرکے اشاعت کی منزل تک پہنچایا۔ علاوہ ازیں دیگر متعددکلاسیکی متون کو بھی ترتیب دیا۔ شمالی ہند میں تدوین متن کی روایت کو فروغ دینے والے مدونین کی فہرست کافی طویل ہے۔ ان کی تدوینی کاوشوں کے نتیجے میں ہمارے سامنے متعدد متون کی مستند شکلیں موجود ہیں، جن سے ہم استفادہ کررہے ہیں۔ تدوین متن کا سلسلہ شمالی ہند میں آج بھی جاری ہے، اور کلاسیکی متون کی ترتیب میں بہت سے مدونین مصروف ہیں، لیکن رشید حسن خاں جیسی تدوینی صلاحیت اور دیدہ ریزی کا فقدان نظر آتا ہے۔ ممکن ہے نئی نسل اس سلسلے کو آگے بڑھائے اور انہی میں سے کوئی دوسرا رشید حسن خاں پیدا ہو۔


کلیدی الفاظ
متن، تدوین، ترتیب متن، تدوین متن، اختلاف نسخ، نسخہ، تحقیق، زبان، تذکرہ، متروکات، صحت متن، روایت، اصول تدوین، منشائے مصنف، شمالی ہند، مدون، غالبیات، بنیادی نسخہ، مُرتب، محقق، کلاسیکی متون، پیغمبر تدوین، خدائے تدوین، موسیقی، خطوط، تذکرے، کلیات، دیوان، دریافت، بازیافت، تلاش، حواشی، ناقص نسخہ، فرہنگ، مصادر، مراجع، اساسی نسخہ، مکاتیب، مقدمہ، کتابیں، مطبوعہ کلام۔
————
متن کی تدوین اصطلاح میں تدوین متن کہلاتی ہے۔ تدوین متن سے مراد کسی بھی وجہ سے تحریف شدہ یا بگڑے ہوئے متن کو اصلی حالت میں واپس لانا ہے۔ انگریزی زبان میں تدوین متن کے لیے Textual Criticism کی اصطلاح رائج ہے۔ اردو میں تدوین متن کے علاوہ اس کے لیے ’متنی تنقید‘ اور ’ترتیب متن ‘ کی اصطلاحات بھی مستعمل ہیں، رشید حسن خاں کے مطابق ’’تدوین متن منشائے مصنف کی بازیافت کا نام ہے ۔‘‘
اردو میں تدوین متن کاباضابطہ آغاز آزادی کے بعد ہوا۔ جس طرح اردو تحقیق کو ایک نئی جہت آزادی کے بعد حاصل ہوئی، اسی طرح تدوین متن کی روایت بھی آزادی کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔ تدوین متن کا کام تحقیق کے رواج پانے کے کئی سال بعد شروع ہوا۔ 1970 کے بعد تدوینی کام سائنٹفک طریقے سے کیاجانے لگا۔ متون کی تدوین میں جن علما نے کارہائے نمایاں انجام دیے، ان میں چند نام کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی تدوینی کاوشیں قابل تقلید اور لائق تحسین ہیں۔ متون کی تدوین میں مولوی عبدالحق،حافظ محمود شیرانی، قاضی عبدالودود، امتیاز علی عرشی، مسعود حسن رضوی ادیب، مسعود حسین خان، مالک رام، مختار الدین احمد اور رشید حسن خاں وغیرہ نہایت اہمیت کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ سیکڑوں محققین اور متنی ناقدین نے تدوینی خدمات انجام دیں لیکن جس معیاری انداز کی تدوینی خدمات مذکورہ محققین نے انجام دیں، اس کی مثال اردو میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ 1947 سے اب تک متعدد کلاسیکی متون کی ترتیب عمل میں آئی ہے۔میری کوشش ہے کہ تدوین متن کی روایت کے حوالے سے اہم کلاسیکی متون کی تدوین اور چند مدونین کے متعلق اپنی کم سواد رائے کا اظہار کرسکوں۔
آزادی کے بعد محققین میں سب سے زیادہ شہرت حافظ محمود شیرانی کو حاصل ہوئی۔ حالانکہ تدوین میں ان کا کام بہت زیادہ نہیں ہے، اور نہ ہی سائنٹفک طریق تدوین کے معیار پرپورا اترتا ہے۔ ہاں تحقیق کے ضمن میں ان کی بیش بہا خدمات ضرورہیں۔ حافظ محمود شیرانی کو رشید حسن خاں ’تحقیق کا معلم ثانی‘ قرار دیتے ہیں۔ رشید حسن خاں اردو میں تدوین کی روایت، محمود شیرانی کی تحقیق اور اردو میں ان کی تحقیقی حیثیت کے متعلق رقمطراز ہیں:
’’اردو میں تدوین کی روایت کچھ دیر میں اپنے نقش کو درست کرسکی۔ اس تاخیر کے اثرات بہت دنوں تک کارفرمارہے۔ اس صدی کے نصف اول اور نصف ثانی میں ہمارے درجۂ اول کے ان محققین نے تدوین کا کوئی بڑا کام نہیں کیا جو اس کے پوری طرح اہل تھے۔ حافظ محمود شیرانی اور قاضی عبدالودود، یہ دونوں جس طرح اعلاپائے کے محقق تھے، اسی طرح تدوین کے بھی رمز شناس تھے۔ شیرانی صاحب کی حیثیت اردو میں تحقیق کی نسبت سے بنیاد گذار کی ہے۔ اردو میں ادبی تحقیق در حقیقت انھیں سے شروع ہوتی ہے اور ان کی نگارشات سے فروغ پاتی ہے۔ قاضی صاحب نے اس روایت میں اضافے کیے اور اسے استحکام بخشا۔تحقیق میں ان کی حیثیت رجحان ساز کی ہے۔ ان دونوں نے تدوین کے کام بھی کیے۔ شیرانی صاحب کے کام 1950 سے پہلے کے ہیں اور قاضی صاحب نے 1950 کے بعد کئی کام کیے ہیں۔ مگر دونوں نے تدوین کا ایسا کوئی کام نہیں کیا جو معیار ساز ہوتا اور مثال بن سکتا۔ اس طرح تدوین کی روایت، تحقیق کی روایت سے پیچھے رہ گئی۔ ‘‘1؎
رشید حسن خاں کی اس بے باک رائے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حافظ محمود شیرانی اور قاضی عبدالودود کے اندر تدوینی صلاحیتیں بدرجۂ اتم موجود تھیں، لیکن ان دونوں نے تدوین کے میدان میں ایسا کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا، جسے ہم مثالی کہہ سکیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ان دونوں نے جوبھی تدوین کے کام کیے ہیں وہ اس دور کے لحاظ سے بنیادی کام ضرور ہیں۔ چوںکہ آزادی سے قبل اور آزادی کے بہت دنوں بعد تک یہ رجحان تھا کہ جو بھی مواد اور تصانیف مختلف کتب خانوں میں موجود تھیں، انھیں منظر عام پر لانا ہی اہمیت کا حامل تھا۔ آزادی کے برسوں بعد اصول تدوین متن کا آغاز ہوا۔ تدوین متن کے طریقے، اختلافات نسخ اور منشاے مصنف کا لحاظ وغیرہ جیسے اصول وضع کیے گئے اور تدوین متن کے لیے ان شرائط کو ضروری قرار دیا گیا۔ آزادی کے بعد اور موجودہ تدوین متن کے رجحان کے متعلق ڈاکٹر جمیل جالبی کی یہ رائے ہے :
’’آزادی سے پہلے اوراس کے بہت بعد تک تدوین متن کا معیار یہ تھا کہ جو تصانیف مختلف کتب خانوں میں دبی پڑی ہیں، انھیں فوراً سامنے لایا جائے۔ اس خواہش نے متعدد مخطوطات کی اشاعت کے لیے راستہ ہموار کیا۔ یہ اس وقت کی ضرورت تھی۔ اب نیا رجحان یہ ہے کہ ان بنیادی کتابوں، تذکروں، دواوین وغیرہ کو دوبارہ مدون و مرتب کرکے شائع کیا جائے تاکہ مستند ترین متن سامنے آجائے۔‘‘2؎
تدوین متن کا معیار جو بھی رہا ہو لیکن محمود شیرانی کی دو تدوینی خدمات نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ انھوں نے معروف تذکرہ ’مجموعۂ نغز‘ کو نہایت وقیع مقدمے کے ساتھ ترتیب دیا۔ قدرت اللہ قاسم کے تذکرہ ’مجموعۂ نغز‘ کو پنجاب یونیورسٹی نے شائع کیا تھا۔لیکن ان کی اس کاوش کو اتنی شہرت حاصل نہ ہوسکی جو ان کے تحقیقی کارنامے ً ’تنقید شعرالعجم‘ اور ’فردوسی پر چار مقالے ‘ کو حاصل ہوئی۔ حافظ محمود شیرانی نے ’خالق باری‘ کی بھی تدوین کی۔ اس کتاب پر انھوںنے نہایت مبسوط اور معلوماتی مقدمہ لکھا۔ لیکن ان کے یہ دونوں کام رجحان ساز اور تدوین متن کے اصول پر پورے نہیں اُترتے۔
حافظ محمود شیرانی کے بعد اردو ادبی تحقیق کے شناوروں میں پہلا نام قاضی عبدالودود کا آتا ہے۔ یہ محقق کی حیثیت سے جتنے مشہور ہیں، مدّون کی حیثیت سے انھیں وہ مقام حاصل نہ ہوسکا۔ حالانکہ وہ تدوین پر بھی اتنا ہی دسترس رکھتے تھے جتنا کہ تحقیق پر۔ لیکن ان کی توجہ تحقیق پر زیادہ تھی تدوین پر کم۔ انھوںنے تدوین میں جو بھی نمایاں کام انجام دیے وہ 1950 کے بعد کے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا اور اہم تدوینی کارنامہ ’تذکرۂ شعرا‘ مصنفہ ابن امین اللہ طوفان ہے جسے بڑی عرق ریزی کے ساتھ مدون کیا۔ یہ تذکرۂ شعرائے اردو ہے۔ اس کا متن صرف سترہ صفحات پر مشتمل ہے۔ حالانکہ یہ کوئی مکمل تذکرہ نہیں ہے۔ قاضی عبدالودود نے یہاں تک لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی کتاب کا ضمیمہ ہے۔ اس پر مقدمہ بہت مختصر لکھا ہوا ہے لیکن اس کے حاشیے میں بہت سی تفصیلات موجود ہیں۔ قاضی عبدالودود کے ’تذکرۂ شعرا‘ مصنفہ ابن امین اللہ طوفان کے علاوہ ’قاطعِ برہان ورسائل متعلقہ ‘،’مسرت افزا‘، ’اُشتروسوزن‘ اور ’عیارستان‘ بھی وقیع کارنامے ہیں۔ ’قطعات دلدار‘ (بہار کے قدیم شاعر دلدار بیگ دلدار کا کلام) ’دیوانِ جوشش عظیم آبادی ‘ بھی قاضی صاحب کی تدوینی کاوشیں ہیں۔ رشید حسن خاں، قاضی عبدالودود کے تدوینی کارناموں میں صرف ’تذکرۂ ابن امین اللہ طوفان‘ ہی کو کچھ اہمیت دیتے ہیں۔ رشید حسن خاں کی قاضی عبدالودود کی تدوینی خدمات کے متعلق دو ٹوک رائے یہ ہے :
’’ہاں ان کا (قاضی عبدالودود کا ) ایک کام ضرور ایسا ہے جس پرکچھ دیر کے لیے نظر ٹھہر تی ہے، وہ ہے ’تذکرۂ شعرا‘ مصنفہ ابن امین اللہ طوفان‘ اس کا متن کل سترہ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کوئی مستقل تذکرہ نہیں ہے۔ اس کا مقدمہ مختصر ہے، لیکن حواشی میں بہت سی معلومات کو یکجا کردیا گیاہے۔ مگر اس میں ایک طرح کا بکھرائو ہے۔ ‘‘3؎
’کلام شاد ‘ اور مآثرِ غالب کی تدوین بھی قاضی عبدالودود کے اہم ترین علمی کارناموں میں شمارکی جاتی ہے۔ قاضی صاحب نے متعدد کتابیں لکھیں اور بہت سے تنقیدی اور تحقیقی مقالے تحریر کیے۔ ان اردو ادب پر ان کا یہ احسان ہے کہ انھوں نے اردو ادیبوں، ریسرچ اسکالرس اور ادب سے ذوق رکھنے والوں میں تحقیق کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے تحقیق کا معیار بلند کیا اور اردو تحقیق کو اصول تحقیق کے اسر اورموز سے روشناس کرایا۔
شمالی ہند میں اردوکلاسیکی متون کی تدوین کی روایت کو آگے بڑھانے میں امتیاز علی عرشی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ امتیاز علی عرشی کی شہرت غالبیات کے حوالے سے ہے۔ انھوںنے غالب پر تحقیقی کام کیا اور غالب کی تحریروں کو سلیقے سے مرتب کرکے منظر عام پر پیش کیا۔ ان کی کم و بیش 27 کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ امتیاز علی عرشی نے تدوین کی معیاری روایت قائم کی اور اصول تدوین کو فروغ دیا۔ جس طرح تحقیق کی روایت سازی میں حافظ محمود شیرانی کو اولیت حاصل ہے، اسی طرح تدوین کی روایت کو استحکام بخشنے اور معیاری تدوین کی مثال قائم کرنے میں عرشی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ عرشی نے جس طرح اور جس معیاری انداز سے تدوین کے کام کیے، اس سے ان کی علمی اور تحقیقی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ عرشی کی اہم تدوینات میں ’دستور الفصاحت‘ (سید احد علی خان یکتا) ’مکاتیب غالب‘، ’تاریخ محمدی‘ اور ’دیوانِ غالب(نسخۂ عرشی)‘ اہمیت کی حامل ہیں۔ دیوانِ غالب مرتبہ عرشی کو انجمن ترقی اردو ہند، نئی دہلی نے بھی شائع کیا۔ بعد میں اسے مجلس ترقی ادب لاہور نے 2011 میں خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا۔ان کتابوں نے روایت تدوین کو ایک خاص شکل عطا کی۔انھوں نے یہ ثابت کردیاکہ شعری متون کو کس طرح ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس سے شعری متون کی تدوین کی مثالی روایت کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کی دوسری تدوینی کاوش ’دستور الفصاحت‘ ہے۔ دستور الفصاحت، احد علی خان یکتاکی تصنیف ہے۔ جس انداز سے عرشی نے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے، اور جس تحقیق کے ساتھ مقدمہ لکھا ہے، وہ بھی ایک مثالی کارنامہ ہے۔ امتیاز علی عرشی نے ’دستور الفصاحت ‘ کے مقدمے میں اس کتاب کی دستیابی اور اس کی ادبی اہمیت کے متعلق لکھا ہے :
’’مئی 1939 میں سید احد علی یکتا لکھنوی کی ’دستورالفصاحت‘ نام کی ایک کتاب، کتاب خانۂ عالیہ، رامپور کے لیے خریدی گئی، تو اس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ انشا کی ’دریائے لطافت‘ سے پہلے اس کی تالیف کا کام شروع کردیاگیا تھا، اور غالباً اس سے قبل ہی انجام بھی پاگیا تھا۔ مگر انشا کی خوش بختی کہ اس کی کتاب شائع ہوکر ملک بھر میں پھیل گئی اور یکتا کی بدقسمتی کہ اوّلاً تو برسوں کے بعد مسودہ صاف کرنے کی مہلت ملی، ثانیاً مسودہ صاف ہوکر بھی 1939 تک گوشۂ گمنامی سے باہر نہ آسکا۔ ’دستور الفصاحت‘ انشا کی کتاب کی طرح دلچسپ تو نہیں کہی جاسکتی، مگر جہاں تک فنی افادی حیثیت کا تعلق ہے، اس سے کسی طرح کم بھی نہیں ہے۔ ‘‘4؎
امتیاز علی عرشی غالبیات کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ’مکاتیب غالب‘ پہلی بار 1937 میں شائع ہوئی تھی، جسے عرشی نے نہایت دیدہ ریزی اور محنت سے ترتیب دی تھی۔ اس مجموعے میں غالب کے وہ خطوط شامل ہیں، جو انھوںنے نواب یوسف علی خاں ناظم والی رامپور کو لکھے تھے۔ میری معلومات کے مطابق اب تک اس کے سات ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ غالبیات کے حوالے سے امتیاز علی عرشی کا مرتبہ ’انتخاب غالب‘ بھی ہے۔ علاوہ ازیں عرشی نے ’دیوانِ غالب‘ کی تدوین کی۔ 1958 میں ’دیوانِ غالب‘ کی اشاعت عمل میں آئی۔ اس کا دوسرا ایڈیشن 1982 میں منظر عام پر آیا۔ ’دیوانِ غالب‘ کی تدوین امتیاز علی عرشی کا ایک ’معرکۃ الآرا کارنامہ ہے ‘ جس میں انھوںنے تدوین کے جملہ اصول و ضوابط کا لحاظ رکھا ہے اور ایک جامع، عالمانہ اور محققانہ مقدمہ لکھ کر ’دیوانِ غالب‘ کو شائع کیا۔ اس طرح ہم ان کی جملہ تدوینی خدمات سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ امتیاز علی عرشی نے تدوین کے اعلیٰ نمونے ہمارے سامنے پیش کرکے آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا سامان فراہم کیا۔
امتیاز علی عرشی کے معاصرین میں مالک رام بھی ماہر غالبیات کی حیثیت سے ادبی دنیامیں شہرت رکھتے ہیں۔ 1950 کے بعد مالک رام کی مرتبہ کئی کتابیں شائع ہوئیں۔ ان کتابوں میں ’دیوانِ غالب کا صدی ایڈیشن‘ بھی شامل ہے۔ مالک رام نے بیک وقت تحقیق و تدوین کا کام کیا اور نہایت معیاری تحقیق پیش کی۔
مالک رام کا تدوین کے سلسلے میں اہم کام غالب اور مولانا ابوالکلام آزادکے متعلق ہے۔ ’کربل کتھا‘ بہ اشتراک مختار الدین احمد ان کا اہم تدوینی شاہکار ہے لیکن اس میں مختارالدین احمدکا رول زیادہ ہے۔ کیوں کہ مخطوطہ کی تلاش اور جرمنی سے تلاش بسیار کے بعد اس کی بازیافت میں مختار الدین احمد کی ہی کوششیں شامل ہیں۔ مالک رام نے ’ذکر غالب‘ مرتب کیا اور اس کا پہلا ایڈیشن مکتبہ جامعہ، نئی دہلی سے 1938 میں منظر عام پر آیا۔ اس کے پانچ ایڈیشن اب تک شائع ہوچکے ہیں۔ اسی طرح 1938 میں ہی مالک رام نے ’سبد چین ‘ مرتب کر کے چھاپا۔ غالب کا روزنامچہ ’دستنبو‘ بھی مالک رام نے ترتیب دے کر شائع کیا۔ حالاں کہ مرتب کی حیثیت سے اس کتاب پر مالک رام کا نام نہیں ہے۔ علاوہ ازیں انھوںنے غالب کی تصنیف ’ گل رعنا‘ کی 1970 میں تدوین کی اور ’یادگارِ غالب‘ کو 1971 میں مرتب کیا۔ چوں کہ مرزا غالب سے مالک رام کو بہت زیادہ دلچسپی تھی، اس لیے غالب کی مختلف تصنیفات اور متعدد شعری تخلیقات کو مرتب کرکے شائع کیا۔ ساتھ ہی غالب پر متعدد کتابیں اوربہت سے تحقیقی اور تنقیدی مضامین بھی لکھے۔ ان کے لکھے ہوئے مضامین ’فسانۂ غالب‘ (1977) اور’ گفتار غالب ‘(1985) کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ مرزا غالب کے علاوہ مالک رام نے مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریروں اور تقریروں پر بھی تحقیقی کام کیے ہیں۔ انھوںنے مولانا آزاد کی تصنیفات ’ترجمان القرآن‘، ’غبارِ خاطر‘، ’تذکرہ‘، ’خطبات آزاد‘،’ خطوط آزاد‘کو بھی سائنٹفک طریقے سے مرتب کیا اور اس پر مبسوط اور معلوماتی مقدمہ لکھا۔حواشی پر زور دیا اور حوالہ جات پر تحقیق کی۔ مالک رام کثیرالتصانیف شخصیت کے مالک تھے۔انھوں نے مختلف اصناف ادب پر کام کیا۔’تذکرۂ ماہ وسال‘ ان کی گراں قدر تصنیف ہے، جس میں انھوںنے مختلف ادبا و شعرا کا تحقیقی تعارف پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری، مالک رام کی ادبی خدمات کے متعلق لکھتے ہیں:
’’مالک رام کے شعورادبی نے اہم وغیر اہم میں ہمیشہ فرق کیا۔ اور انھیں موضوعات پر اپنی تحقیقی قوت صرف کی جن کی افادیت و اہمیت ہمیشہ تسلیم کی جائے گی۔ یہی بات ابوالکلام آزاد کے بارے میں ان کی تحریروں کے متعلق کہی جاسکتی ہے۔ مالک رام نے اردو نثر کے اس بھاری پتھر کو بھی اٹھایا، چوم کر رکھ نہیں دیا بلکہ اس پتھر میں جتنی چنگاریاں یا شرارے تھے ان سب کو بیرون سنگ لاکر ان کی روشنی عام کردی۔‘‘5؎
مالک رام اپنے عہد کے ایک ممتاز ناقد اور محقق تھے۔ تدوینی خدمات چاہے جس معیار کی رہی ہوں لیکن ان کی دوسری ادبی اور علمی خدمات نے اردو ادب کو ثروت مند بنانے میں نہایت اہم رول ادا کیاہے۔ مالک رام کے نظریات اور ان کے تحقیقی افکار اور خصوصاً تدوین کے تعلق سے ان کا فکری رجحان تحقیق کے طالب علم کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
مرتب متن کی حیثیت سے پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب نے کئی نمایاں کام کیے ہیں۔ مسعود حسن رضوی ادیب نے بعض اہم متون کی تدوین کی، جو نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ انھوںنے نہایت تحقیقی مقدمے بھی لکھے۔ ان کتابوں میں ایک ’فیض میر‘ ہے۔ اس کتاب کے متعلق ان کے تجسّس کو بیان کرتے ہوئے گیان چند جین لکھتے ہیں:
’’ایک زمانے میں اشپرنگر کی کٹیلاگ میں ’ذکر میر‘ کا نام دیکھ کر وہ اس کی تلاش میں تھے۔ ایک مدت کے بعد انھیں میر کی غیر مطبوعہ کمیاب تصانیف کا ایک مجموعہ مل گیا، جس میں ذکرِ میر، میر کا فارسی دیوان اور رسالۂ فیض میر تھا۔ انھوںنے سب سے پہلے ذکر میر کی اشاعت کا ارادہ کیا۔ متن کی کتابت قریب الختم تھی۔ میرے سامنے اس کا دوسرا ایڈیشن ہے، جو نسیم بک ڈپو لکھنؤ سے شائع ہوا ہے۔ اس میں کہیں سال اشاعت نہیں دیاہے۔ طویل مقدمے پر مارچ 1929 درج ہے۔ میر ے استفسار پر فاضل مرتب نے بتایا کہ پہلا ایڈیشن 1929 میں اور دوسرا 1964 میں شائع ہوا۔ ‘‘6؎
’فیضِ میر ‘ کو مسعود حسن رضوی ادیب نے ترتیب دیا۔ ادیب کے پاس ’مجالس رنگین ‘ 1264ھ کا ایک مطبوعہ نسخہ موجود تھا۔ انھوںنے اس کتاب کی معنویت کے پیش نظر اسے اپنے مبسوط مقدمے کے ساتھ شائع کردیا۔ اس کتاب پر جو مقدمے کی تاریخ درج ہے وہ 14؍اگست 1929 ہے۔ یہ کتاب نومبر 1929 میں منظر عام پر آئی۔ تیسری کتاب انھوں نے ’ شاہکار انیس‘ کے نام سے ترتیب دی۔ اس کتاب کو بہت ہی اہتمام کے ساتھ مسعود حسن رضوی ادیب نے 1943 میں شائع کیا۔ اس کتاب پر 24 صفحات پر مشتمل مقدمہ شامل کیا۔ مسعود حسن رضوی ادیب نے ’روحِ انیس‘ کے نام سے ایک اہم شاہکار ترتیب دے کر اردو ادب میں قابل قدر اضافے کا کام کیا۔ اسی طرح انھوںنے جن کتابوں کی تدوین کی ان میں ’دیوانِ فائز‘، ’رزم نامۂ انیس‘، ’تذکرۂ نادر‘، رادھا کنہیا کا قصہ ‘، ’اندر سبھا ازامانت‘ فسانۂ عبرت‘، ’ تذکرۂ گلشنِ سخن ‘، ’قواعد کلیہ بھاکا‘، ’ناٹک بزم سلیمان‘ وغیرہ نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ مسعود حسن رضوی ادیب نے بعض کتابوں کو پہلی بار ترتیب و تدوین سے آراستہ کرکے زیور طبع سے مزین کیا۔ ان میں ’دیوانِ فائز‘ اور ’فیض میر‘ بھی شامل ہیں۔ فائز کے دیوان کو مرتب کرکے اس پر جامع مقدمہ لکھ کر فائز کو متعارف کرانے کا سہرا مسعود حسن رضوی کے سر جاتا ہے۔ 1925 میں مسعود حسن رضوی نے دیوان فائز کا نسخہ دریافت کیا لیکن اس کی اشاعت 1946 میں عمل میں آئی۔ یہ انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی سے شائع ہوئی۔ اس کے اندرونی سرورق پریہ تحریر موجود ہے :
’’شمالی ہند میں اردو کا سب سے پہلا صاحب دیوان شاعر نواب صدر الدین محمد خاں فائز دہلوی اور اس کا دیوان۔‘‘
پروفیسرنورالحسن ہاشمی کی شہرت ان کی ایک اہم تصنیف ’دلی کی دبستان شاعری ‘ کی وجہ سے ہے، لیکن انھوںنے مدون متن کی حیثیت سے بھی شہرت حاصل کی۔ ترتیب متن کے سلسلے میں ان کا ایک بڑا کام ’کلیات ولی ‘ 1945 کی تدوین ہے۔ ’کلیات ولی ‘ کے ابتدائی صفحات میں نورالحسن ہاشمی نے نہایت جامع مقدمہ لکھاہے، جو ولی کو سمجھنے اور ولی کی شاعری کی تفہیم میں معاون ہے۔ ’کلیات ولی‘ کی تدوین کے علاوہ انھوں نے مثنوی سراپا سوز، تذکرۂ مشاہیر سندیلہ، بکٹ کہانی (بہ اشتراک مسعود حسین خان )اور ’نوطرز مرصع‘ کی تلاش و تحقیق کے بعد تدوین کی۔ ’کلیات حسرت‘ اور مثنوی ’ طوطی نامہ‘ کو نہایت عالمانہ مقدمے کے ساتھ ترتیب دیا۔ ان کی یہ خدمات اردو ادب میں اس قدر وقیع ہیں کہ اس کی اہمیت کے بارے میں بڑے بڑے دانشوروں نے صفحاتِ قرطاس سیاہ کیے ہیں۔
ہاشمی صاحب کی تدوینات میں ’کلیاتِ ولی ‘ ایک ایسی مثال ہے جسے دکنیات کے ماہرین نے بھی سراہا ہے۔ اسی طرح’کلیات حسرت‘، ’نوطرزِ مُرصّع‘، ’ ایک نادر روزنامچہ ‘، ’مثنوی طوطی نامہ ‘ اور ’ مثنوی سراپا سوز ‘ کے متون کی تدوین بھی انھوں نے بڑی تحقیق کے ساتھ کی جس سے ان کتابوں کی قدر و قیمت کا تعین کرنے میں مدد ملی۔ ان تصنیفات کے علاوہ نورالحسن ہاشمی نے ’بِکٹ کہانی ‘ بھی ترتیب دی۔
نصیرالدین ہاشمی کا شمار دکنی اردوکے ماہر کے طور پر ہوتا ہے۔ ہندوستان کے دیگر ماہرین دکنیات جیسے ڈاکٹر زور، ڈاکٹر نصیر الدین ہاشمی، عبدالقادرسروری، اور پروفیسر مسعود حسین خان جیسے معتبر ناموں کے ساتھ نورالحسن ہاشمی کا نام بھی نہایت احترام سے لیا جاتاہے۔ کلیات ولی کی تدوین سے ہی نورالحسن ہاشمی کو ادبی حلقوں میں شہرت حاصل ہوئی۔ پروفیسرسیدہ جعفر،نورالحسن ہاشمی کی تدوینی مہارت اور متعدد متون کی ترتیب کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’نورالحسن ہاشمی نے 1945 میں ’ کلیاتِ ولی ‘ مرتب کرکے اپنی تحقیقی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ ان سے پہلے احسن مار ہروی نے ’کلیاتِ ولی ‘ مرتب کیا تھا لیکن انھوںنے تحقیقی اضافوںکے ساتھ اس کلیات کو مدون کیا۔ ’نوطرز مرصع‘ بھی 1956 میں مرتب کرکے شائع کی۔ نورالحسن نے پہلی بار عزیزمرزا کے انگریزی مقالے (مطبوعہ اسلامک ریویو) سے استفادہ کرکے نئی معلومات اکٹھا کی تھیں۔ ’مثنوی سراپاسوز‘ 1961 ’ طوطی نامہ ‘ 1961 اور ’تذکرۂ مشاہیر سندیلہ ‘ 1976 مرتب کرکے شائع کی ہیں اور تحقیق میں اضافے کیے ہیں۔ مسعود حسین خاں کے اشتراک سے ’بکٹ کہانی‘ 1965 کو بھی مستند متن اور ضروری معلومات کے ساتھ ہدیۂ ناظرین کیاہے۔ 1988 میں ’فسانۂ اعجاز‘ (فریاد کاکوروی) کی تدوین بھی ان کا ایک علمی اور تحقیقی کارنامہ ہے۔‘‘7؎
نورالحسن ہاشمی کے عہد میں تدوینی کاموں کی طرف مدونین کی توجہ مبذول ہوئی۔ محققین نے کلاسیکی متون کو از سر نو مرتب کرنا شروع کیا اور جدید سائنٹفک اصولوں کے تحت تدوین کے کام انجام دیے جانے لگے۔ اس عہد میں کئی نام ابھر کر آئے جنھوں نے اردو کے کلاسیکی ادب کو اپنی تدوینی مہارت کے ذریعے نئی آب و تاب کے ساتھ پیش کیا۔ ان میں ایک بڑا نام جس نے تدوین میں ایک گراں قدر اضافے کا کام کیا، رشید حسن خاں کا ہے۔ رشید حسن خاں نے اپنی علمی صلاحیت اور عربی، فارسی اور اردو پر مہارت کے باعث تدوین متن کی روایت کو وسعت بخشی۔جس کلاسیکی متن کی بھی تدوین انھوںنے کی، اس کا حق ادا کردیا۔
انھوںنے جن متون کو مدون کیا، ان کی گہرائیوں میں جاکر حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی اور پھر تدوینی اصولوں کے مطابق تدوین کا فریضہ انجام دیا۔ رشید حسن خان نے جن متون کی تدوین کی، ان کی زبان، پس منظر، مصنف کے حالات زندگی اور ادب میں ان کی اہمیت بھی اپنے مقدمے میں بیان کردی۔ صحت الفاظ اور اعراب کا خاص خیال رکھا اور مشکل الفاظ پر خاص طور سے اعراب سازی کی تاکہ قاری کو تفہیمِ متن میںکسی طرح کی تشکیک کا شائبہ نہ ہو۔ اس کی بہتر مثال ان کی مدونہ ’فسانۂ عجائب‘ اور ’باغ و بہار‘ ہیں۔ فسانۂ عجائب کی زبان میں بہت سی خامیاں انھوںنے تلاش کیں۔ لفظوں کے بے جا استعمال پر حرف گیری کی اور حسنِ بیان میں جھول کی نشاندہی کی۔ فسانۂ عجائب کے مقدمے میں رشید حسن خاں لکھتے ہیں:
’’زبان کے لحاظ سے بھی اس میں بہت سے جھول تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اکھڑے اکھڑے سے جملے تو اچھی خاصی تعداد میں مل جائیں گے۔حُسنِ بیان کا رنگ بھی کئی جگہ اُڑا ہوا دکھائی دے گا۔ لفظوں کا بے محل صرف بھی ملے گا اور ایسا پیرایۂ بیان بھی ملے گا جس کو بے کمالی کی نشانی کہا جاسکتا ہے۔ یہ سب مسلّم اور برحق، مگر بات وہی ہے کہ یہ کتاب محض ایک داستان نہیں، صرف زبان کا نگارخانہ نہیں، یہ دراصل ایک اسلوب کا دوسرا نام ہے، اور اصل حیثیت اس اسلوب کی تھی اور ہے۔ آج ہم اپنے زمانے اور ذہن کے لحاظ سے جو بھی کہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ لکھنؤ کا وہ معاشرہ اسی انداز کا پرستار اور اسی اسلوب کا دل دادہ تھا۔‘‘8؎
رشید حسن خاں نے ’باغ و بہار‘، ’فسانۂ عجائب ‘، ’مثنویاتِ شوق‘، ’ مثنوی گلزار نسیم‘،’سحرالبیان‘ اور ’کلاسیکی ادب کی فرہنگ ‘ وغیرہ کو اپنے تحقیقی مقدموں کے ساتھ ترتیب دیا۔ ان تمام کتابوں کی تدوین میں انھوںنے جی جان لگا دی اور تدوین کے جدید اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مذکورہ کتابوں کو مدّون کیا۔ رشید حسن خاں تحقیق میں قاضی عبدالودود کی روایت کے پیرو کار تھے اور تدوین میں مولانا امتیاز علی عرشی کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے تھے۔ عرشی جس انداز سے مخطوطات اور تصنیفات کی تدوین میں محنت کرتے تھے، رشید حسن خاں بھی کسی طرح سے ان سے پیچھے نہیں رہے۔ دونوں بزرگ عربی فارسی اور اردو زبانوں کے ماہر تھے اور دونوں کلاسیکی ادب پر دسترس کا مل رکھتے تھے۔ رشید حسن خان کو گیان چند جین نے ’خدائے تدوین‘ کہاہے لیکن دوسری جانب گیان چند جین،رشید حسن خان کو ایک ’طیش زدہ محقق‘ بھی قرار دیتے ہیں۔ سیدہ جعفر کا خیال ہے کہ ’’رشید حسن خاں کے اس منفی رویے سے اردو تحقیق کو فائدہ پہنچا اور محققین حزم و احتیاط کی اہمیت سے واقف ہوگئے۔‘‘9؎
خان صاحب نے مذکورہ کلاسیکی متون کے علاوہ انتخاب ناسخ، انتخاب سودا، انتخاب شبلی، انتخاب نظیر اکبر آبادی، انتخاب مراثی انیس و دبیر اور انتخاب میر درد ترتیب دے کر بے مثال اور باوقار کام کیاہے۔ جس کے باعث بہتوں نے رشید حسن خاں کی علمی صلاحیت اور علمی خدمات کو سراہا ہے۔
مرزا غالب پر تحقیقی کام کرنے والوں میں خلیق انجم کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ خلیق انجم نے غالب کے خطوط کو بڑی محنت اور تلاش و جستجو کے بعد جمع کیا اور اسے ترتیب دے کر چھاپا۔ خلیق انجم کا مرتب کیا ہوا خطوطِ غالب کا مجموعہ چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کی پہلی جلد 1984 میں طبع ہوکر منظر عام پر آئی اور چوتھی جلد 1993 میں شائع ہوئی۔ جس انداز سے خلیق انجم نے غالب کے خطوط کو مرتب کرکے شائع کیا، اس سے قبل خطوط غالب کو اس تحقیقی انداز سے مرتب نہیں کیا گیا تھا۔ اس کتاب کی صوری اور معنوی حیثیت کا تنقیدی جائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ اس کی ترتیب میں مرتب نے بے پناہ محنت اور دیدہ ریزی کی ہے۔انھوں نے اس کتاب کے حواشی میں ضروری معلومات یکجا کردیے ہیں اور بعض اہم نکات او رمشکل الفاظ کی صراحت کردی ہے۔ خلیق انجم نے اس کتاب کی تدوین سے برسوں قبل یعنی 1961 میں ’غالب کی نادر تحریریں ‘ کے نام سے مرزا غالب کے بعض اردو خطوط اور تحریریں جمع کرکے شائع کردیا تھا۔ اس میں غالب کے ان اہم خطوط اور نادر تحریروں کو جمع کردیا تھا جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ تھے۔ خلیق انجم کی اہم تصنیف ’متنی تنقید‘ ہے جو 377 صفحات پر مشتمل ہے، اور جسے ترمیم و اضافے کے بعد انجمن ترقی اردو(ہند) نئی دہلی نے 2006میں نہایت عمدہ گیٹ اپ کے ساتھ شائع کیاہے۔
غالب کے ماہرین میں پروفیسر نذیر احمد کا بھی نام آتا ہے۔ پروفیسر نذیر احمد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فارسی کے پروفیسر تھے۔ انھوں نے بیک وقت فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں تحقیقی کام کیے ہیں۔ پروفیسر نذیر احمد نے تحقیق، تاریخ، زبان و ادب اور خوش نویسی جیسے موضوعات پر بڑے اہم اور تحقیقی کام کیے ہیں۔ تدوین کے سلسلے میں اردو میں ان کا ایک اہم کام ’کتابِ نورس‘ کی تدوین ہے۔ ’کتابِ نورس‘ کے مقدمے میں موسیقی اور مختلف راگوں کے متعلق طویل مقدمہ لکھا جو اس فن سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ایک عظیم سرمایے سے کم نہیں ہے۔ فارسی فرہنگوں پر نذیر احمد کو بے پناہ قدرت حاصل تھی۔ انھوںنے غالب کے ’قاطع برہان‘ کے معرکے کے سلسلے میں بہت سے مقالے لکھے۔ ان کے یہ مضامین ’نقد قاطعِ برہان‘ کے نام سے غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی سے شائع ہوچکے ہیں۔ غالب کی فارسی دانی اور فارسی شاعری کے حوالے سے پروفیسر نذیر احمد کایہ بڑا کارنامہ ہے۔
جس طرح خطوط غالب کو خلیق انجم نے مرتب کیا، اسی طرح ’کلیاتِ مکاتیب اقبال‘ کو سید مظفر حسین برنی نے بڑی محنت سے جمع کرکے مرتب کیا۔ اس کی تین ضخیم جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ پہلی جلد 1989 میں شائع ہوئی اور تیسری جلد 1993 میں چھپ کر منظر عام پر آئی۔ مرتب نے اس کتاب میں اقبال کے تمام اردو انگریزی خطوط جمع کردیے ہیں۔ اس میں حواشی مفصل اور معلوماتی ہیں۔ اپنی نوعیت کا یہ تدوینی کام نہایت عمدہ اورمعیاری ہے۔
شمالی ہند کی پہلی نثری تصنیف ’کربل کتھا‘ کا جب بھی ذکر آتا ہے، مختار الدین احمد کا نام زبان پر رقص کرنے لگتا ہے۔ڈاکٹر مختار الدین احمد اردو کے پروفیسر نہیں تھے، عربی زبان و ادب سے ان کا لگائو رہا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عربی کے استاد تھے۔ مختار الدین احمد اپنے عہد کے جید عالموں میں سے ہیں۔ ان کی ایک کتاب کی تدوین اور تلاش نے انھیں تدوین متن کے ماہرین کی صف میں لا کھڑا کردیا اور جس طرح سے انھوںنے اپنی تدوینی خدمات انجام دی ہیں، یہ انھیں کا حصہ تھا۔ گیان چند جین لکھتے ہیں:
’’تحقیق کے شعبوں میں تدوین ایک نہایت مشکل کام ہے اور ڈاکٹر مختار الدین احمد نے اسی کو اپنایا ہے۔ تنقید کے ایک انداز کو تخلیقی تنقید کہا گیا ہے۔ اگر ایک مجموعۂ ضدین قسم کی اصطلاح وضع کروں تو ڈاکٹر مختار الدین کو تخلیقی تدوین کا کارگزار قرار دے سکتا ہوں۔ انھوںنے بہت سے ایسے متون مرتب کیے ہیں، جن کی دریافت کا سہرا بھی انھیں کے سر ہے یا جنھیں انھوںنے کتابوں سے مستخرج کیاہے۔ اس سے پہلے دوسروں نے بھی یہ کام کیاہے مثلاً عرشی صاحب نے تذکرۂ دستور الفصاحت اور مسعود حسن رضوی صاحب نے تذکرۂ نادر تعمیر کیے، لیکن مختار صاحب کی یہ خصوصیت ہے کہ انھوںنے کوئی ایسا متن مرتب نہیں کیا جو عام طور پر دستیاب ہو۔‘‘10؎
مختارالدین احمد کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ ’کربل کتھا‘ کی دریافت اور تدوین ہے۔ ’کربل کتھا‘ کی تدوین اور تلاش و دریافت کے سلسلے میں انھیں کتنے پاپڑ بیلنے پڑے، یہ اہل علم و ادب سے پوشیدہ نہیں۔ تحقیق و تدوین دونوں اعتبار سے ’کربل کتھا‘ مختار الدین احمد کا شاہکار کارنامہ ہے۔ کربل کتھا کا تعارف پہلی بار مولوی کریم الدین نے اپنے تذکرے ’طبقات شعرائے ہند‘ 1848 میں کیا تھا۔ اس کے بعد محمد حسین آزاد نے ’کربل کتھا‘ کا ذکر’ آب حیات‘ میں کیا۔ 1953 میں مختار الدین احمد یورپ کے سفر پرروانہ ہوئے تو قاضی عبدالودود نے ذکر کیا کہ کہیں ذخیرۂ اشپرنگر کا پتا چل سکے تو کربل کتھا تلاش کیجیے گا۔ تلاش بسیار کے بعد کربل کتھا مختار الدین احمد کے ہاتھ لگ گئی اور وہ اسے لے کر ہندستان آئے۔ مختار الدین احمد اور مالک رام کے اشتراک سے ’کربل کتھا‘ کی ترتیب عمل میں آئی۔ ’کربل کتھا‘ کا مقدمہ جس تحقیقی انداز سے تحریر کیا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دونوں نے کتنی محنت، تلاش اور تحقیق کے بعد اسے مزین کیا ہوگا۔ ہر اعتبار سے یہ مقدمہ جامع اور مانع ہے۔ تدوین متن کا کام کرنے والوں کے لیے یہ ایک مشعل راہ سے قطعی کم نہیں ہے۔ اس کتاب پر حواشی اور ضروری تفصیلات، فٹ نوٹ میں موجود ہیں۔ کتاب کے آخری حصے میں عربی عبارتوں کی فرہنگ ہے۔ اس میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ عبارت کہا ںسے لی گئی ہے۔ حاشیے کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حاشیہ نگار، مختار نے کتنی کتابوں سے مدد لی ہوگی۔ اور کتنی تحقیق کے بعد حاشیے لکھے ہوں گے۔ بہرحال یہ بات قطعی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ مختار الدین نے ’کربل کتھا‘ کی تدوین کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ متون کی تدوین میں کتنی تحقیق اور محنت درکار ہوتی ہے اور اسے عملی طور پر پیش کرکے یہ بھی ہمیں احساس دلادیا کہ کسی بھی متن کو ترتیب دینے کے لیے مختلف نکات تدوین کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ ’کربل کتھا‘ تدوین کے اعتبار سے ایک مثالی متن ہے، جس کی پیروی تدوین کا کام کرنے والوں کو کرنا چاہیے۔
گلشن ہند یعنی تذکرۂ حیدری بھی مختار الدین احمد کا اہم تدوینی کارنامہ ہے۔ حیدر بخش حیدری، جو فورٹ ولیم کالج میں اردو کی خدمات پر مامو رتھے۔’ گلشن ہند‘ انھیں کی تصنیف ہے۔ مختار الدین احمد نے اس کتاب کی بھی دریافت کی اور اس پر مقدمہ لکھ کر اسے مرتب کیا۔ یہ کتاب بھی انھیں کی کوششوں سے منظر عام پر آئی۔
’تذکرۂ آزردہ‘ کی دریافت کا سہرا بھی مختار الدین احمد کے سرکو جاتا ہے۔ اس کتاب کی تلاش کے متعلق گیان چند جین لکھتے ہیں:
’’ان کے مرتبہ متون میں زیادہ تر ایسے ہیں جنھیں پہلے معدوم یا کم یاب سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح کا ایک کارنامہ آزردہ کے تذکرے کی دریافت اور اشاعت ہے۔ آزردہ کے تذکرے کا ذکر صرف’ گلشن بے خار‘ میں سودا کے احوال میں ملتا ہے۔ لالہ سری رام نے ’خم خانۂ جاوید‘ میں لکھا ہے کہ آزردہ کا تذکرہ نایاب ہے۔ مختار صاحب نے اس تذکرے کا ایک نا قص نسخہ کرسٹی کالج کیمبرج میں ڈھونڈ نکالا۔ اس میں ابتدائی 44 صفحات ہیں، جو قائم کے حالات کے بیچ ختم ہوجاتے ہیں۔ قائم 106 واں شاعر ہے۔ اس ناقص الآخر تذکرے کے کسی اور نسخے کا علم نہیں۔‘‘11؎
مختار الدین احمد کا ترتیب دیا ہوا ’ دیوانِ حضور‘ بھی ایک اہم تدوینی کام ہے۔ یہ دیوان بقول گیان چند جین، ’’شیخ غلام یحییٰ حضور عظیم آبادی کا ہے، جو علی ابراہیم خلیل، صاحب تذکرۂ، گلزار ابراہیم کے معاصر تھے۔ اسے مختار صاحب نے 1977 میں شائع کیا۔یہ کام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ مختار الدین احمد نے صرف چند ہی کتابیں ترتیب دی ہیں، لیکن ان میں ترتیب و تدوین کا اعلیٰ معیار اور تحقیق کا وقار برقرار رکھا ہے۔ ان کے یہ سارے تدوینی کام ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اور اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافے کا باعث ہیں، جو مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت معلوماتی اور علمی ہیں۔
دواوین، تذکرے اور دیگر نثری متون کا تعارف اور ان کی تدوین کی ایک فہرست یہاں پیش کی جارہی ہے۔
ڈاکٹر حنیف نقوی کو بینی نرائن جہاں کی حکایات کی کتاب ’تفریح طبع‘ دستیاب ہوئی۔ اس کتاب کا تعارف انھوںنے ’نوائے ادب‘،بمبئی، اکتوبر 1977میں پیش کیا۔ غلام غوث تشنہ کی غیر مطبوعہ داستان ’ہفت سیاح‘ (1822)کا مفصل تعارف گیان چند جین نے ماہنامہ ’شاعر‘ ہم عصر نمبر،بمبئی 1877 میں پیش کیا۔ اسی طرح ڈاکٹر محمود الٰہی کو ’فسانۂ عجائب‘ کا ایک سادہ نقشِ اول ملا، جسے انھوںنے ’فسانۂ عجائب کا بنیادی متن‘ کے عنوان سے اپریل 1973 میں لکھنؤ سے شائع کیا۔ اسی طرح نورالحسن ہاشمی کو یہی بنیادی متن ملا جس کے متعلق انھوںنے تفصیل سے لکھا۔ ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی نے عطا حسین تحسین کی ’نوطرز مرصع‘ متعدد نسخوں کی مدد سے ترتیب دے کر 1958میں الہ آباد سے شائع کیا۔ انصاراللہ نظر نے ’برہن کی کہانی ‘ یعنی مقصود کا بارہ ماسہ 1974 میں اور ’شعرائے اردو کے اولین تذکرے‘ 1978 میں تدوین کے بعد شائع کیا۔ مظفر حنفی نے غزلیات میر حسن ترتیب دی۔ ایک دوسرے محقق ڈاکٹر سلیمان حسین نے ’نوآئین ہندی ‘ مصنفہ مہر چند کھتری کو ترتیب دے کر 1988میں لکھنؤ سے شائع کیا۔ ڈاکٹر معین الحق نے ’اخباررنگین ‘ کو اپنے مقدمے کے ساتھ ترتیب دیا۔ خلیل الرحمن دائودی نے ’نورتن‘ مصنفہ مہجور کو 1962 میں شائع کیا۔’ فسانۂ عجائب‘ کو مختلف محققین نے اپنے اپنے مقدمات کے ساتھ شائع کیا۔ ان میں اطہر پرویز اورسلیمان حسین کا بھی نام آتا ہے۔ اطہر پرویز نے فسانۂ عجائب کو 1969 میں اور سلیمان حسین نے 1981 میں ترتیب دے کر شائع کیا۔ اس کتاب کی مختلف لوگوں نے تدوین کی لیکن جس تحقیقی اور تدوینی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے رشید حسن خاں نے اسے ترتیب دیا۔ اس کی مثال بہ مشکل مل سکے گی۔
کلام غالب اور ’دیوانِ غالب‘ کو مختلف مدونین نے ترتیب دیا اور اپنے اپنے انداز سے تفہیم غالب کی راہ ہموار کی، لیکن نسخۂ عرشی کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ بیاض غالب کے مرتبین میں پروفیسر نثار احمد فاروقی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ نثار احمد فاروقی نے’ غالب بہ خط غالب‘کو نقوش ’خاص نمبر‘ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے علاوہ ’تذکرۂ طبقات الشعرا‘،’کلیات مصحفی‘ (دو حصے)، میر تقی میر اور تلاش غالب کی تدوین ان کے اہم کارنامے ہیں۔ نثار احمد فاروقی نے متعدد تحقیقی مضامین مختلف رسالوں اور مجلوں میں شائع کیے، جن میں تحقیقی نکات اور تدوینی امور پر بڑی تفصیلی بحثیں ملتی ہیں۔ فضل الحق نے ’دیوان شاکر ناجی‘ کی تدوین کی۔ صدیق الرحمن قدوائی نے 1971ء میں ’فسانۂ مبتلا‘ کو ترتیب دے کر شائع کیا۔ اسی طرح فضل حق قریشی نے ’دیوان اثر‘ ترتیب دے کر چھاپا۔ خواجہ احمد فاروقی نے ’کربل کتھا‘ (فضل علی فضلی) کومختصر مگر معلوماتی مقدمے کے ساتھ 1961 میں شائع کیا۔ خواجہ احمد فاروقی نے ’تذکرۂ عمدۂ منتخبہ‘ کو ترتیب دے کر شائع کیا۔ شبیہ الحسن نے ’دیوانِ حسین علی تأسف‘ کی تدوین کی۔ اس کے علاوہ انھوںنے کئی تحقیقی کتابیں تحریر کیں۔ ڈاکٹر شمس الدین صدیقی نے کلیات سودا 1976 میں شائع کیا۔ ڈاکٹر اقتدار حسن نے ’کلیات قائم چاندپوری ‘ کو ترتیب دے کر شائع کیا۔
نثری کتابوں کی تدوین میںکئی اہم تدوینات ایسی ہیں، جن کے ذریعے اردو ادب کو ایک خاص نہج حاصل ہوئی۔ اردو میں متعدد شہ پارے جو گوشۂ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے، تدوین سے مزین ہوکر منظر عام پر آئے۔ اگر نثری متون کی دریافت اور تدوین کی بات کریں تو سب سے پہلے ’کربل کتھا‘ کی دریافت اور تدوین کا ذکر آتا ہے جسے 1965 میں مختارالدین اور مالک رام نے ترتیب دے کر شائع کیا، جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ ڈاکٹر نجم الاسلام نے شاہ حاتم کی نسخۂ ’مفرح الضحک‘ کو نقوش، لاہور،شمارہ 105 میں پیش کیا۔ بعد میں اس کا ذکر ڈاکٹر جمیل جالبی نے ’تاریخ ادب اردو‘ جلد دوم، حصہ اول میں کیا۔ سید رستم علی بجنوری کے’ قصۂ احوال روہیلہ ‘ (1781) کی تفصیلات نجم الاسلام نے نقوش کے شمارہ 105 میں ہی پیش کیں۔ مرزا مغل غافل کی ’زادِ آخرت‘ کی تدوین پر ڈاکٹر شبیہ الحسن کو ڈی۔ لٹ کی ڈگری حاصل ہوئی۔ مولانا امتیاز علی عرشی نے انشا کی غیر منقوط داستان ’سلک گہر‘ کو 1948 میں شائع کیا۔ فورٹ ولیم کی کئی نثری داستانوں کو ڈاکٹر عبادت بریلوی نے دریافت کیا اور انھیں مدون کیا۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے’ گلزار دانش‘ کے حصۂ اول کو اورینٹل کالج،لاہور،میگزین، شمارہ 1994-95 میں شائع کرایا۔ چوں کہ عبادت بریلوی کا سارا تحقیقی کام پاکستان سے شائع ہوا اس لیے صرف ان کی تدوین کردہ کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے۔بعد میں ان کتابوں کے ایڈیشن ہندوستان سے بھی شائع ہوئے۔ بینی نرائن جہاں کی ’چار گلشن‘ ولا کی ہفت گلشن، اشک کی ’گلزار چین ‘ وغیرہ کی تفصیلات عبادت بریلوی نے شائع کیں۔
ڈاکٹر وحید قریشی کو شاہ عالم ثانی کے عہد کے سیف اللہ کی مثنوی ’چندر بدن و مہیار‘ ملی، جس میں ایک بارہ ماسہ بھی شامل تھا۔ انھوںنے اس کا تفصیلی تعارف اپنی کتاب ’کلاسیکی ادب کا تحقیقی مطالعہ‘ لاہور 1965 میں کرایا۔’ آب حیات‘ کی روایت کے مطابق ’’میر ضاحک کا دیوان تلف کردیاگیا تھا۔ لیکن بتیا راج،بہار میں قیام الدین کو اس کا ایک نسخہ مل گیا انھوںنے سہ ماہی معاصر،پٹنہ، جولائی 1962 میں اس کا مکمل ومفصل تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹر وحید قریشی نے ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ کو نہایت عمدہ طریقے سے ترتیب دیا اور اس میں جملہ مآخذ کی نشاندہی بھی کردی۔ خواجہ احمد فاروقی نے میرامن کی ’گنج خوبی ‘ کو نہایت محنت سے ترتیب دیا۔ نورالحسن ہاشمی کے علاوہ ’کلیات ولی ‘ کو احسن مارہروی نے بھی زیورِ تدوین سے آراستہ کیا اور یہ انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی سے 1927 میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔ ان اہم تصانیف کے علاوہ ’شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوبات، کو پروفیسر خلیق احمد نظامی نے ترتیب دے کر 1969 میں شائع کرایا۔ ’فسانۂ عجائب کا بنیادی متن‘ کو محمود الٰہی نے ترتیب دیا اور یہ دانش محل، لکھنؤ سے 1972 میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔
تنویر احمد علوی نے رسالہ تذکرات (گارساںدتاسی ) ترجمہ مولوی ذکاء اللہ کو مرتب کیا۔ حبیب الرحمن خان شروانی نے کئی تذکرے مرتب کیے جس کا تذکرہ تذکروں کی تدوین کے زمرے میں آئے گا۔ انھوںنے دیوان درد کو ترتیب دے کر مطبع نظامی، بدایوں سے 1970 میں شائع کرایا۔ دیوان غالب نسخۂ حمیدیہ کو مفتی انوار الحق نے مرتب کیا اور اس پرعبدالرحمن بجنوری نے مقدمہ تحریر کیا۔ جو ’ محاسنِ کلام غالب‘ کے نام سے بعد میں علیٰحدہ کتابی شکل میں شائع ہوا۔غالب کا یہ دیوان آگرہ سے شائع ہوا۔ محمدشاکر ناجی کا ’دیوان ناجی‘ ڈاکٹر فضل الحق نے ترتیب دیا۔ دیوانِ شاکر ناجی کو ادارۂ صبح ادب، دہلی نے 1968 میں شائع کیا۔ ’دیوان یقین ‘ کو مرزا فرحت اللہ بیگ نے ترتیب دیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے یہ دیوان 1930 میں شائع ہوا۔
تذکروں کی تدوین کے ذریعے اردو ادب کی اہم خدمات انجام دی گئیں۔ کیوں کہ تذکروں میں ایک پورا عہد، پورا ماحول اور شاعر کی زندگی و شاعری کے حوالے سے تاثرات پائے جاتے ہیں۔ اولین تنقیدی اور تحقیقی مواد ہمیں تذکروں کی بدولت ہی فراہم ہوتے ہیں۔ اس کا ایک مختصر سا تعارفی خاکہ یہاں پیش کیا جارہاہے تاکہ یہ اندازہ ہوجائے کہ شعرائے اردو کے اہم تذکروں کو کن مدونین نے ترتیب دیا۔ میر حسن کے تذکرۂ شعرائے اردو کو مولوی حبیب الرحمن خان شروانی نے ترتیب دے کر 1959 میں شائع کرایا۔ تذکرۂ شورش، جو سید غلام حسین شورش کا تذکرہ ہے، اسے کلیم الدین احمد نے زیورِ تدوین سے آراستہ کیا، وجیہ الدین کے ’تذکرۂ عشقی‘ کو بھی کلیم الدین احمد نے ترتیب دیا۔ یہ تذکرہ مجلس ترقی ادب، لاہور سے 1958 میں شائع ہوا۔ ’تذکرۂ گلدستۂ نازنیناں‘ مصنفہ مولوی کریم الدین کو رشید حسن خان نے ترتیب دے کر 1945 میں شائع کرایا۔ ’تذکرۂ گلستان سخن‘ مرزا قادر بخش صابر کو ڈاکٹر وزیر الحسن عابدی نے ترتیب دیا۔ ’تذکرۂ گلشنِ بے خار‘ مصنفہ نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کو کلب علی خان فائق نے مدّون کیا اور مجلس ترقی ادب، لاہور سے 1973 میں چھاپا۔ مردان علی خان مبتلا کا ’تذکرۂ گلشنِ سخن‘ کو پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب نے ترتیب دے کر انجمن ترقی اردو(ہند)، نئی دہلی سے 1965 میں شائع کرایا۔ حیدر بخش حیدری کی’ تذکرۂ گلشن ہند‘ کو مختار الدین احمد نے مدون کیااور یہ تذکرہ علمی مجلس، دہلی سے 1966 میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔محمود خان شیرانی نے حکیم قدرت اللہ قاسم کا ’تذکرۂ مجموعۂ نغز‘ مرتب کیا اور اسے لاہور سے 1933 میں شائع کرایا۔ میر تقی میر کے فارسی تذکرہ’تذکرۂ نکات الشعرا‘ کو حبیب الرحمن خان شروانی نے بدایوں سے 1920 میں شائع کرایا۔ ’تذکرۂ نکات الشعرا‘ (نسخۂ پیرس) کی ڈاکٹر محمود الٰہی نے تدوین کی۔ یہ تذکرہ مکتبہ دانش محل، لکھنؤ سے 1972 میں شائع ہوا۔ شمیم انہونوی نے ’تذکرۂ خوش معرکۂ زیبا‘ کو ترتیب دیا۔یہ تذکرہ 1971 میں چھپ کر سامنے آیا۔اسی تذکرے کو مشفق خواجہ نے ترتیب دے کر نہایت مبسوط مقدمے کے ساتھ پاکستان سے شائع کرایا۔ مذکورہ تمام اہم تذکرے جن لوگوں نے مدّون کیے وہ تمام اہمیت کے حامل ہیں۔ مدونین نے تدوین کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے سائنٹفک طریقے سے ان تذکروں کو مدّون کیا۔ یہ تمام تذکرے اردو ادب میں تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی عربی، فارسی اور اردو کے عالم تھے۔ انھوںنے تحقیق اور تدوین کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔ شوق کی ’طبقات الشعرا‘،کمال کی ’مجمع الانتخاب‘ مبتلا کی ’طبقات سخن‘ کے علاوہ خواجہ حسن نظامی کی شخصیت اور ادبی خدمات (ماہنامہ کتاب نما، دہلی 1994) ترتیب دے کر شائع کرایا۔ اکبر حیدری نے تذکرۂ میر حسن کو لکھنؤ سے 1979 میں ترتیب دے کر چھاپا۔ ہندوستان کے بڑے نقاد کلیم الدین احمد نے دو تذکرے (شورش او رعشقی ) جلد اول 1959 میں اور جلد دوم 1963میں شائع کیے۔ شورش کا تذکرہ ’رموز الشعرا‘ کو محمود الٰہی نے 1984 میں لکھنؤ سے شائع کیا۔ قاضی عبدالودو نے ’تذکرۂ مسرت افزا‘ امراللہ ابوالحسن کو معاصر،پٹنہ 1954-55 میں شائع کیا۔ مسعود حسن رضوی ادیب نے مبتلا لکھنوی کا تذکرۂ گلشن سخن‘ کو ترتیب دے کر 1965 میں لکھنؤ سے طبع کرایا۔ اکبر حیدری نے مصحفی کے تذکرۂ ہندی گویان‘ کو ترتیب دے کر 1980میں لکھنؤ سے شائع کرایا۔ حیدری کے ’گلشن ہند‘ کو مختار الدین احمد نے رسالۂ اردو ادب میں 1966 میں شائع کیا۔ نورالحسن نقوی نے خوب چند ذکا کے ’خیارالشعرا‘ کو علی گڑھ میں ترتیب دیا لیکن یہ تذکرہ شائع نہ ہوسکا۔ رام بابو سکسینہ نے مرقع شعرا کو ترتیب دے کر 1956 میں شائع کیا۔ دیوان جہاں کو کلیم الدین احمد نے پٹنہ سے 1959 میں ترتیب دے کر شائع کیا۔ نساخ کی ’قطعۂ منتخب ‘ کو انصار اللہ نے رسالہ اردو میں 1969 میں شائع کرایا۔ ان تمام تذکروں میں بیشتر مدونین نے زیادہ تفصیلات پیش نہیں کیں۔ ان میں بعض ایسے بھی تذکرے ہیں جن پر صرف مقدمہ لکھ کر شائع کرادیا گیا ہے۔ ان میں حواشی اور حوالوں کے متعلق زیادہ جانچ پرکھ نہیں کی گئی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ مرتبین نے تدوین کا حق ادا نہیں کیاہے۔
تنویر احمد علوی نے اپنی کتاب’ اصول تحقیق و تدوین متن‘ میں سید مبارز الدین رفعت کا ایک قول نقل کیا ہے، جس میں قدیم طرز تدوین اور جدید اصول تدوین کے متعلق اشارہ کیا گیا ہے، کہ قدیم اردو ادب کی تصحیح اور اس کی معنوی حسن و قبح پر مدون متن کی نظر نہیں رہی۔ وہ لکھتے ہیں:
’’قدیم اردو ادب کے متون و نصوص کی بلند پایہ تصحیح، لسانی تحقیق یا معنیاتی تدقیق ان کے پیش نظر نہیں رہی۔ اس وقت اس کی ضرورت بھی نہ تھی۔ لیکن اب قدیم اردو کے ادب پاروں کی صرف طباعت و اشاعت چنداں ضروری نہیں۔ اب وقت آگیاہے کہ اس قدیم ڈگر کو چھوڑ کر تحقیق و تدقیق کے میدان کا رخ اختیار کیاجائے۔ ‘‘11؎
اردو ادب کی تاریخ میں جاوید وششٹ کا نام ماہر دکنیات کے طور پر آتا ہے۔ حالاں کہ ان کا تعلق شمالی ہند سے ہے لیکن انھیں جنوبی ہند کی تاریخ اور دکنی ادبیات پر دسترس حاصل تھی۔ انھوںنے کئی کتابیں لکھیں اور متعدد دکنی تصانیف کو مدون کیا۔ ان کی تدوینی خدمات میںملاوجہی کی ’سب رس کا قصۂ حسن و دل‘ ہے جس پر انھوںنے 100 صفحات کا مقدمہ لکھا اور ملاوجہی اور اس کی علمی خدمات کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کے مقدمے میں انھوںنے وجہی کی حُب الوطنی، وجہی کا مکان، وجہی کی عمر، وجہی کے مذہبی عقائد اور وجہی کی وفات سے متعلق تحقیقی بحث کی ہے۔
جاوید وششٹ نے ’غزال رعنا‘(1968)، محمد قلی قطب شاہ،’روپ رس‘(1971) قلی قطب شاہ اورروپ رس محمد قلی قطب شاہ کی ’بارہ پیاریاں‘ (1971) کو مدّون کیا۔ان تمام پر تحقیقی مقدمے نہایت شرح وبسط کے ساتھ تحریر کیے۔
’سب رس ‘ کوجاوید وششٹ کے علاوہ شمیم انہونوی نے بھی مرتب کیا۔ ان کی مرتب کردہ ’سب رس‘، ’مکتبہ کلیاں‘ بشیرت گنج، لکھنؤ سے 1971 میں لیتھو پریس کے ذریعے چھپ کر منظر عام پر آیا۔
ڈاکٹر محمد حسن نے شاہ مبارک آبرو کا دیوان مرتب کیا۔انھوں نے آبرو کے متعلق پوری تفصیل مقدمے میں درج کی ہے اور آبرو کی شاعری کے خصائص و معائب پر بھی بھر پور روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن نے’ کلیات سودا‘ کا رچرڈسن نسخہ شائع کیا۔ ترقی اردو بورڈ،نئی دہلی نے اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا۔ ڈاکٹر فضل الحق نے مرزا مظہر جان جاناں کے شاگرد مصطفیٰ خان یکرنگ کا دیوان ترتیب دیا۔ حسرت عظیم آبادی کا دیوان اسما سعیدی نے مرتب کیا۔ پروین فاطمہ نے دیوان انعام اللہ خاں یقین کو ترتیب دیا، جس پر دلّی یونیورسٹی نے پروین فاطمہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔ ڈاکٹر نعیم احمد نے جعفر زٹلی کا کلیات مرتب کرکے شائع کیا۔ ڈاکٹر خورشید الاسلام نے ’دیوان قائم‘ کو صحت متن کے ساتھ ترتیب دے کر 1963 میں دلی سے شائع کیا۔ 1967 میں حبیب خان نے ’افکار میر ‘ مرتب کرکے شائع کیا۔ پروفیسرضیا احمد بدایونی نے ’دیوان مومن ‘ شرح کے ساتھ ترتیب دے کر شائع کیا۔ بقول پروفیسر حبیب نثار اس کا چوتھا ایڈیشن 1962 میں شائع ہوا۔ 1971 میں فائق رام پوری نے ’کلیات مومن ‘ کو مدون کیا۔
نورالحسن نقوی ایک اہم مدون بھی تھے۔ انھوںنے ’کلیات مصحفی‘ ترتیب دی اور یہ کلیات، علی گڑھ سے چھپ کر منظر عام پر آئی۔ ’کلیات میر ‘ کو متعدد محققین نے ترتیب دیا، اس فہرست میں ایک نام ظل عباسی کا بھی ہے۔ ظل عباسی کوئی مشہور نام نہیں ہے لیکن انھوںنے کلیات میر ترتیب دی اور یہ کلیات دہلی سے 1983 میں شائع ہوا۔ میر امن کی ’گنج خوبی ‘ جو ملا حسین واعظ کاشفی کی تصنیف ’اخلاق محسنی ‘ کا ترجمہ ہے،کو پروفیسر خواجہ احمد فاروقی نے ترتیب دے کر دہلی سے شائع کرایا۔ اظہر راہی نے ’کلیات نظیر اکبر آبادی‘ کو ترتیب دیا اور الہ آباد سے یہ کلیات 1976 میں طبع ہو کر منظر عام پر آئی۔
خلیق انجم نے خواجہ بندہ نواز کی کتاب ’معراج العاشقین ‘ کو 1957 میں ترتیب دیا۔ ’آثارالصنادید‘ مصنفہ سید احمد خان کی دونوں جلدوں کی تدوینی خدمات خلیق انجم نے انجام دی، جو پہلی بار 2003 میں شائع ہوئی۔ابن نشاطی کی پھول بن کو پروفیسر اکبر الدین صدیقی نے مرتب کیا۔ یہ کتاب 1978 میں چھپی۔فسانۂ عجائب، رجب علی بیگ سرور کو اطہر پرویز نے 1969 میں ترتیب دے کر شائع کرایا۔آرائش محفل کو بھی اطہر پرویز نے 1972 میں مرتب کرکے دہلی سے شائع کیا۔خلیق انجم نے ابن الوقت کو ترتیب دیااور 1980 میں یہ شائع ہوا۔ افادت سلیم کو خلیق انجم نے ترتیب دیا۔امیر اللہ تسلیم کا دیوان ’خنجر عشق‘ ڈاکٹر فضل امام نے ترتیب دیا اور لکھنؤ سے یہ دیوان 1972 میں شائع ہوا۔ کامل قریشی نے دیوان اثر، میر اثر کو ترتیب دے کر 1978 میں دہلی سے چھاپا۔خواجہ احمد فاروقی نے میر سوز کا ’دیوان سوز‘ ترتیب دیا۔ دیوان عزلت، سید عبدالولی عزلت کو عبدالرزاق قریشی نے 1962 میں ترتیب دے کربمبئی سے شائع کیا۔ ناطق گلاوٹھی کے دیوان کو محمد عبدالحلیم نے 1976 میں ترتیب دے کر 1976میں ناگپور سے شائع کیا۔ انشاء اللہ خان انشا کی’ رانی کیتکی کی کہانی‘، سید سلیمان حسین نے ترتیب دے کرلکھنؤ سے 1975 میں شائع کیا۔ کلام آتش لکھنؤی کو پروفیسر اعجاز حسین نے الہ آباد سے 1972 میں اور ’کلیات آتش‘ کو پروفیسر ظہیر احمد صدیقی نے الہ آباد سے 1972 میں شائع کیا۔ ڈاکٹر مسیح الزماں نے ’کلیات مومن‘ کو ترتیب دیا اور 1971میں الہ آباد سے شائع کیا۔ڈاکٹر نسیم احمد نے ’دیوان درد‘ کو مرتب کرکے معلوماتی مقدمے کے ساتھ ترتیب دیا اور یہ دیوان قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے 2003 میں شائع ہوا۔
بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں تحقیقی و تدوینی خدمات انجام دینے والوں میں ڈاکٹر حنیف نقوی اور ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی کے کارنامے لائق ستائش اور قابلِ تقلید ہیں۔
حنیف نقوی کو تحقیقی کاموں سے دلچسپی تھی۔ انھوںنے تحقیق کی دنیا میں منفرد شناخت قائم کی۔ ایک صاحب اسلوب محقق کے طور پر حنیف نقوی نے اپنی پہچان بنائی۔ ان کی اہم تدوینی خدمات میں ’انتخاب کربل کتھا‘ کو بڑی مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی۔ حنیف نقوی نے ’ انتخاب کربل کتھا‘ مرتب کیا، جو تحقیقی طور پر ایک اہم کارنامہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کتاب پر حنیف نقوی نے 23 صفحات کا ایک مبسوط مقدمہ تحریر کیا اور اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ کے زیر اہتمام یہ کتاب پہلی بار 1983 میں شائع ہوئی۔
انتخاب کلام رجب علی سرور، تذکرۂ شعرائے سہسوان، مآثرِ غالب، تصحیح و ترتیب دیوان ناسخ نسخۂ بنارس کی تدوین کے علاوہ نقوی صاحب نے متعدد تحقیقی و تنقیدی کتابیں تحریر کیں۔
ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی اردو تحقیق و تدوین کا ایک بڑا نام ہے۔ انھوںنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ متعدد تحقیقی مقالات لکھے جنھیں پذیرائی حاصل ہوئی۔ انھوںنے متعدد متون کی تدوین کی اور اس پر مبسوط علمی مقدمے تحریر کیے۔ غالب شناسی کے میدان میں بھی انھوںنے ایک خاص مقام حاصل کیا۔ ان کے تدوینی کاموں میں اہم ترین ’شرح دیوانِ اردو ے غالب‘ ہے، جسے سید حیدر علی نظم طبا طبائی کا ایک وقیع کارنامہ تصور کیاجاتا ہے۔
ظفر احمد صدیقی کے تدوینی کارناموں میں شاہ مبارک آبرو کی مثنوی ’موعظۂ آرائش معشوق‘ کی تدوین ہے۔ 1983 میں انھوںنے انتخاب کلام آبرو مرتب کیا او راس پر محققانہ مقدمہ لکھا۔ مثنوی کی تدوین میں انھوںنے نہایت تحقیقی ژرف نگاہی کا مظاہرہ کیا۔ یہ مثنوی طویل نہیں ہے لیکن اس کو ترتیب دینے میں ظفر صاحب نے جس قدر محنت اور تحقیق کی ہے۔
تدوینِ متن ایک مشکل کام ہے، جس کے لیے دیدہ ریزی، محنت، لگن، تحقیق اور جستجو جیسی خصوصیات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ہر شخص مدون نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہر محقق و ناقد متن کی تدوین کا فریضہ بہ حسن و خوبی انجام دے سکتا ہے۔ مدّون کی علمی لیاقت اور اس کی تحقیقی ژرف نگاہی کے متعلق رشید حسن خاں نے اپنی کتاب ادبی تحقیق میں کچھ یوں وضاحت کی ہے:
’’تدوین کا کام کرنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کو آداب تحقیق سے بھی اسی قدر واقفیت ہو اور لگائو بھی ہو۔ اس کے بغیر تدوین کے تقاضوں کو پورا نہیں کیاجاسکتا۔ حواشی، مقدمہ، متن کا زمانۂ تصنیف، مصنف اور اس کے عہد سے متعلق ضروری معلومات، داخلی شواہد کا تعین، اور ایسی ہی متعلقہ باتیں ہوںگی، جن سے ایسا کوئی شخص عہدہ برآ نہیں ہوسکتا جو تحقیق سے کما حقہ آشنا نہ ہو اور طبعاً اس سے مناسبت نہ رکھتا ہو۔ جو شخص تحقیقی مزاج نہیں رکھتا، وہ تدوینی کام بھی انجام نہیں دے سکتا۔‘‘13؎
آج کل تدوین کے سلسلے میں یہ روایت بن چکی ہے کہ اگر آسانی سے تمام نسخے مل جائیں تو بہتر ہے، ورنہ گر ایک بھی نسخہ بہ آسانی مل جاتا ہے تو اسی کو بنیادی نسخہ بنا کر تدوین کا کام مکمل کرلیا جاتاہے۔ یہ کوشش ہی نہیں کی جاتی کہ دوسرے نسخوں سے مدد لی جائے۔ مقدمہ لکھنے کی بھی روایت اب سہل پسندی سے متاثر نظر آتی ہے۔ مقدمہ لکھنے میں بھی تحقیق کا دامن مضبوطی سے نہیں پکڑا جاتا ہے۔ مدون بس مصنف کی ایک مختصر سی سوانح عمری، اس کے کارنامے، اس کی اہم تخلیقات اور تحریروں کا تعارف پیش کرتاہے اور صرف چند صفحوں میں اپنے مقدمے کی تفصیلات سمیٹ دیتا ہے۔ بڑی تعداد میں مخطوطات عجائب گھروں اور ملک کے اہم کتب خانوں میں تدوین کے انتظار میں پڑے ہوئے ہیں جو نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ہماری توجہ ان مخطوطات کی جانب مبذول ہوجائے تو یہ اہم علمی ذخیرے منظر عام پرآسکتے ہیں۔


حوالہ جات حوالہ جات
1 تدوین، تحقیق روایت، ناشر: مصنف، 1999، ص 176-177
2 ادبی تحقیق، ڈاکٹر جمیل جالبی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی، 2004، ص 18
3 تدوین تحقیق، روایت، رشید حسن خان، ناشر: مصنف، 1999، ص 178
4 مقدمۂ دستورالفصاحت،احد علی خان یکتا، مرتبہ، امتیاز علی خان عرشی،ہندوستانی پریس، رامپور، 1943، ص3
5 مالک رام حیات اور کارنامے، ڈاکٹر محمد ارشد، ماڈرن بُک ڈپو، بیکن گنج، کانپور، 2010، ص 260
6 حقائق، ڈاکٹر گیان چند جین، ناشر: مصنف، 1978، ص 90
7 تاریخ ادب اردو، جلد سوم،سیدہ جعفر، گیان چند جین، حیدرآباد، 2002، ص 150-151
8 مقدمہ، فسانۂ عجائب، مرتّبہ رشید حسن خان، انجمن ترقی اردو(ہند)، نئی دہلی، 2009، ص 4-5
9 تاریخ ادب اردو،جلد سوم، سیدہ جعفر، گیان چند جین، حیدرآباد، 2002، ص 144
10 پرکھ اور پہچان، ڈاکٹرگیان چند جین، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی 1990، ص 284
11 ایضاً، ص298
12 اصول تحقیق وترتیب متن، ڈاکٹر تنویر احمد علوی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی 2009، ص 207
13 ادبی تحقیقی : مسائل اور تجزیہ: رشید حسن خاں، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 2005، ص 122


Dr. Sabir Ali Siwani
H. No. 9-4-87/C/12 First Floor
Behind Moghal Residency
Tolichowki, Hyderabad – 500008
Mobile: 9989796088
Email: mdsabirali70@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

قاضی عبدالودود اور غالبیات، مضمون نگار: شہاب ظفر اعظمی

تلخیص:  اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبد الودود ایک معتبر نام ہے جنھوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی

اردو تحقیق و تدوین اورعلی گڑھ،مضمون نگار: صبا نسیم

تلخیص اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں علی گڑھ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ویسے تو یہ ریاست اترپردیش کا ایک شہر ہے لیکن عالمی سطح پر

اردو شعر وادب کے فروغ میں بہرائچ کا حصہ،مضمون نگار:سفیان احمد انصاری

تلخیصموجودہ اترپردیش کا بہرائچ ایک بہت قدیم شہر وضلع ہے، جہاںاپنے دَور کی بہت سی اہم اور معتبر شخصیات کی تشریف آوری ہوئی، اور بہت سی نابغۂ روزگار ہستیوں نے