شاعری اور موسیقی فنکارانہ اظہار کے وہ ابتدائی طریقے ہیں جن سے زمانہ قدیم کے انسان نے اپنے جذبات کے نکاس اور ان کی بازیابی کا کام لیا۔ یہ دونوں فنون اپنی تخلیقی نوعیت میں بنیادی طور پر اصوات سے تعلق رکھتے اور حسن سماعت کو متوجہ کرتے ہیں۔ تحریر کی ایجاد اور موجودہ زمانے میں طباعت کی سہولتوں نے شاعری کو مطالعہ کی چیز بنا دیا ہے۔ اب شعر کے محاسن اور معائب میں اس کی بعض صوری خصوصیات بھی شامل ہوگئی ہیں۔ اردو اور فارسی شاعری میں بعض ایسی صفتیں ملتی ہیں جن کا تعلق صرف رسم خط سے ہے۔ مثلاً ایک صنعت جسے ’عاطلہ‘ کہتے ہیں یہ ہے کہ شعر یا عبارت میں کوئی نقطہ دار حرف نہ آنے پائے۔ اس طرح صنعت ’تحتانیہ‘ اور صنعت ’فوقیانہ‘ بھی ہیں۔ ان صنعتوں میں علی الترتیب صرف نیچے اور صرف اوپر نقطے رکھنے والے حروف لائے جاتے ہیں۔ ایک اور صنعت موصل ہے جس میں تمام الفاظ ایسے لائے جاتے ہیں جن کے حروف تحریر میں متصل رہتے ہیں۔ شعر کے نظری مطالعے سے بعض ایسی خو بیاں (بالخصوص اس کا آہنگ اور نغمگی) نظرانداز ہوجاتی ہیں جن کو بلند آواز سے پڑھ کر یا سن کر ہی محسوس کیا جاسکتا ہے اور لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کل یورپ اور امریکہ کے مدارس میں شعرخوانی کے صحیح طور پر زور دیا جارہا ہے۔ اور اس سلسلے میں علمی صوتیات سے مدد لی جارہی ہے۔ چند نقاد شاعری کے صوتی اور سماعی پہلو پر یہاں تک زور دیتے ہیں کہ ان کے نقطۂ نظر سے شاعری مسلسل اصوات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ بعض نفسیات دانوں کے نزدیک شاعری الفاظ کے ذریعے باطنی یا حسی نکاس ہے جس میں خوش آہنگ الفاظ منہ میں گھولے اور چوسے جاتے ہیں۔ بچہ ابتدائی جنسی لذت ماں کی چھاتی سے حاصل کرتا ہے بعض میں ایسی ہی لذت کی تلاش دوسرے مفروضات میں جاری رہتی ہے۔ شاعری کے بارے میں ایک خیال یہ ہے کہ وہ قاری کا اپنا ذہنی تجربہ ہے۔ آئی اے رچرڈ نے اس تعریف سے پیدا ہونے والے التباس سے بچنے کے لیے ’صحیح قسم کے‘ قاری کی تخصیص کردی ہے۔ اس کے برخلاف یہ نقطۂ نظر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ہم جو شعر سنتے ہیں وہ خود شاعر کا اپنا تجربہ ہوتا ہے Warren اور Wellek نے اپنی کتاب Theory of literature میں ان مختلف نظریوں سے تفصیلی بحث کی ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حقیقی نظم نہ تو چھپے ہوئے کاغذ پر ہوتی ہے اور نہ قاری کی زبان پر۔ وہ نہ تو انفرادی تجربہ ہے اور نہ تجربات کا مجموعہ۔ بلکہ وہ تجربات کا ایک امکانی سبب ہے۔ حقیقی نظم (Norms) سے مرکب ہوتی ہے جو بے شمار قاریوں کے اپنے تجربے میں محض جزوی طور پر گرفت میںا ٓتے ہیں۔ شعر کی صوتی کیفیت اور سماعی تاثر کو انھیں حدود میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔
شعر کو محض مسلسل اصوات کا مجموعہ قرار دینا ایک مہمل سی بات ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ شعر کی ہیئت میں اصوات کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ شعر کی خارجی موسیقی اصوات ہی کی مخصوص ترتیب سے تشکیل پاتی ہے۔ شاعر اصوات کے بامعنی مجموعوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور ہم ان آوازوں کو سن کر شعر سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا اطلاق لکھے ہوئے شعر پر بھی ہوتا ہے۔ حروف محض اصوات کی علامتیں ہیں۔ جب ہماری نظر لکھے ہوئے لفظ پر پڑتی ہے تو وہ ہمارے کانوں میں بج اٹھتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کسی فن پارے کا جائزہ موضوع کو علاحدہ کرکے نہیں لیا جاسکتا۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شعر و ادب میں موضوع کا اس کے لسانی طبق زیریں (Substratum) سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے جمالیاتی نقطۂ نظر سے ضروری ہوجاتا ہے کہ شاعری کا مطالعہ صرف موضوع اور مفہوم تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے ساتھ اس کے ناقابل علاحدگی اجزا ’ہیئت‘ اور آہنگ کا جائزہ بھی لیا جائے۔ ’’ہر ادب پارہ سب سے پہلے اصوات کا سلسلہ ہوتا ہے۔ جن سے معنی ابھرتے ہیں۔ شعر میں جہاں غنائیت اور معانی ایک ہوجاتے ہیں، زبان اپنی غایت تکمیل کو پالیتی ہے۔ زبان کا شعری حسن بڑی حد تک اس کی غنائی خصوصیت پر مبنی ہوتا ہے۔ شعر کی غنائیت کی تشکیل میں صوتی کیفیات تکرار اصوات، بحر کا آہنگ اور ردیف و قوافی اجتماعی طور پر حصہ لیتے ہیں۔ اس طرح ’’شاعری زبان ہی میں اپنی جڑیں رکھتی ہے جس طرح سے کہ پھل ،پھول میں اپنا وجود رکھتا ہے۔‘‘ زبان کے غنائی وصف اور شاعری سے اس کے گہرے تعلق کے پیش نظر شاعری کے صوتی آہنگ کا مطالعہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔
صوتیاتی نقطۂ نظر سے مطالعۂ شعر کوئی نیا میلان نہیں ہے۔ ہر زبان کی کتب بلاغت میں ایسے اشارے مل جاتے ہیں جن سے اس نقطۂ نظر کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ بہت سی لفظی اور معنوی صنعتوں کی بنیاد اصوات کی تکرار اور ترتیب پر قائم ہے۔ محاسن اور معائب شعر کے ضمن میں بھی صوتی آہنگ اور صوتی تنافر کی بحثیں ملتی ہیں۔ جدید لسانیاتی اور معنیاتی نقطۂ نظر انھیں مشاہدات پر مبنی ہے لیکن چونکہ صوت، مخارجِ صوت، آلۂ صوت کے بارے میں اب علم زیادہ ہوگیا ہے اس لیے ان مشاہدات کی نئی اور زیادہ آسان توجیہات کی جاسکتی ہیں۔
ہم اس نقطۂ نظر کی حدود سے واقف ہیں۔ اس لیے تخلیق شعر ایک عمل ہے جس میں صوت کے علاوہ زبان کی دوسری مسلمات جو صرف، نحو، اسلوبیات اور معنیات سے عبارت ہیں، بہت گہرے انداز میں پیوست ہوتی ہیں اور شعر میں جہاں ’چیزے دگر ہست‘ کا عنصر شامل رہتا ہے محض لسانی توجیہات اس کی ترجمانی نہیں کرسکتیں۔ شعر صرف اصوات کی بازیگری نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ قدما کے مشاہدات ’حرف‘ کے تصور پر مبنی ہیں۔ جب کہ شعر میں ’صوت‘ مقدم ہے۔
اردو شاعری کے آہنگ کا صوتیاتی نقطۂ نظر سے مطالعے کے لیے اردو زبان کے صوتی نظام کو نظر میں رکھنا ضروری ہوگا۔ اردو ایک ریختہ زبان ہے جس کی بنیاد میں ہند آریائی اصوات کا نظام ہے، لیکن اس پر عربی فارسی کے لسانی اثرات اتنے شدید ہیں کہ ان کا نفوذ اصوات تک پہنچ گیا ہے۔ لیکن خالص عربی صوت ’ق‘ اور خالص فارسی صوت ’ژ‘ کے علاوہ عربی فارسی کی مشترک اصوات؍ ف؍ز؍، خ؍اور؍غ؍ بھی اس کے صوتی نظام میں شامل ہوگئی ہیں۔ اس وجہ سے اردو کا صوتی نظام ہندوستان کی دوسری بڑی زبانوں کے صوتی نظام سے قدرے مختلف ہے۔ کسی زبان کا نظامِ اصوات دو اجزا پر مشتمل ہوتا ہے:
1 مصمتے 2 مصوتے
اردو زبان کے رسم خط میں مصمتوں کی جملہ 49 شکلیں ملتی ہیں۔ (ہکار مصمتوں کو ملا کر) لیکن صوتی نقطۂ نظر سے ان کی تعداد صرف 41ہے۔ اردو میں صوتی اعتبار سے:
1 ؍ت؍اور؍ط؍ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگرچہ عربی میں ان کے مخارج الگ ہیں۔ اور ادائیگی کے طریقوں میں بھی فرق ہے۔
2 ؍ث؍،؍ص؍اور؍س؍
3 ؍ذ؍،ز؍،؍ض؍اور ؍ظ؍ کی بھی یہی صورت ہے۔ مصوتہ ؍ع؍ کا تلفظ ؍ء؍ کی طرح کیا جاتا ہے۔ چونکہ بعض علاقوں میں ؍خ؍ اور ؍ق؍ کا فرق ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اس لیے یہ دو علاحدہ مصمتے قرار دیے جاسکتے ہیں۔
مصمتوں کی گروہ بندی دو طرح سے کی جاسکتی ہے:
1 بہ اعتبار مخارج
2 بہ اعتبار ادائیگی۔ مخارج کے اعتبار سے اردو مصمتوں کی دس اقسام ہیں۔
1 دولبی (Bi-Labial) ؍پ؍پھ؍ب؍بھ؍م؍ اور ؍مھ؍۔ ان کے ادا کرنے میں دونوں ہونٹ ہلتے ہیں۔
2 لب دندانی (Labrio-Dental) ؍ف؍،؍د؍اور؍دھ؍،۔ یہ اوپر کے دانتوں اور نیچے کے ہونٹ کی مدد سے ادا ہوتے ہیں۔
3 دندانی (Dental) ؍پ؍،؍تھ؍،؍د؍،؍دھ؍،۔ ان کی ادائیگی میں زبان کی نوک اوپر کے دانتوں سے ٹکراتی ہے۔
4 لثوی (Alveoral) ؍ن؍،؍نھ؍،؍ل؍،؍لھ؍،؍ر؍،؍س؍،ز؍، ان کے ادا کرنے میں زبان کی نوک اوپر کے مسوڑھوں یا دانتوں کے پیچھے لگتی ہے۔
5 کوز (Retroflex) ؍ٹ؍،؍ٹھ؍،؍ڈ؍،؍ڈھ؍،؍ڑ؍،؍ ڑھ؍ ان آوازوں کو نکالنے میں زبان کی نوک تالو کی طرف مڑتی ہے۔ ؍ڑ؍اور؍ڑھ؍ کی ادائیگی میں زبان کی نوک تالو سے مس کھاکر نیچے گر جاتی ہے۔
6 حنکی (Palatal) ؍چ؍،؍چھ؍،؍ج؍،؍جھ؍،؍ش؍،؍ژ؍،؍ی؍۔ ان کی اصوات کے نکالنے میں زبان کا اگلا حصہ تالو سے ملتا ہے۔
7 غشائی (Velar) ؍ک؍،؍کھ؍،؍گ؍،؍گھ؍ ان کے ادا کرنے میں زبان کا پچھلا حصہ تالو کے پیچھے لگتا ہے۔
8 لہاتی (Uvular) ؍ق؍یہ صوت کوئے یا لہات کے پاس سے نکلتی ہے۔
9 حنجروی (Pheryngeal) ؍ خ؍،؍غ؍ یہ آوازیں حنجرے سے نکلتی ہیں۔
10 حلقی (Glottal) ؍ہ؍ یہ حلق سے ادا ہوتی ہے۔
ادائیگی کے اعتبار سے اردو مصمتوں کی گروہ بندی بطور ذیل کی جاسکتی ہے۔
1 بندشی (Plosive) ؍پ؍،؍پھ؍،؍ب؍،؍بھ؍ت؍،؍تھ؍،؍ د؍،؍دھ؍،؍ٹ؍،؍ٹھ؍،؍ڈ؍،؍ ڈھ؍،؍ چ؍،؍چھ؍،؍ج؍،؍جھ؍،؍ک؍،؍کھ؍،؍گ؍،؍گھ؍،؍ق۔
ان مصمتوں کو ادا کرنے میں ہوا منہ سے اس انداز سے خارج ہوتی ہے کہ صوت تنتریوں (Vocal cords) یا زبان یا بولیوں کے عمل سے ہوا کسی ایک مقام پر روک لی جاتی ہے اور پھر فوراً رکاوٹ دور کی جاتی ہے اور آواز ہلکے سے دھماکے کے ساتھ نکلتی ہے۔ ان آوازوں کے ادا کرنے میں ایک طرح کی رکاوٹ اور شکست نفس ہوتی ہے۔ یا صوتی جھٹکا پیدا ہوتا ہے اور اس کا اثر شعر کے مجموعی صوتی آہنگ پر پڑتا ہے۔ بندشی مصوتوں کی صوتی کیفیت اور موسیقیت مخارج کی تبدیلی کے ساتھ بدلتی گئی ہے۔ وہ آوازیں زیادہ سبک ہوتی ہیں جو منہ کے اگلے حصے سے نکلتی ہیں یا جن کی ادائیگی میں زبان کی نوک آزادانہ جنبش کرتی ہے۔ بندشی اصوات ٹھوس اور بجتی آوازیں ہیں۔ اور اپنی اس خصوصیت کی بنا پر اردگرد کی اصوات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان اصوات کی بندشی کیفیت سے شاعروں نے ایمائی اور محاکاتی تاثرات پیدا کرنے میں مدد لی ہے۔ مثلاً ؎
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
صغیری آوازوں کی ’چیخ‘ میں اس شعر کا کلیدی لفظ ’سنگ‘ ہے۔ شاعر نے مصمتہ ؍گ؍ کی بند شیث سے کس طرح فائدہ اٹھایا ہے۔ اس کی توضیح اثر لکھنوی کی زبانی سنیے :
’’اس شعر میں لفظ ’سنگ‘ ایسی جگہ واقع ہوا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک پا بہ زنجیر دیوانے نے جو ہاتھ میں پتھر لیے ہوئے ہے پہلا مصرعہ پڑھا اور دانت بھینچ کر، آنکھیں بند کرکے پتھر سے سر پھوڑ لیا ہے اور لہو میں نہا گیا۔ حالانکہ شعر میں ان امور کا ذکر نہیں ہے۔‘‘
انفی مصمتے= ؍م؍،؍مھ؍،؍ن؍ اور ؍نھ؍ ان کے ادا کرنے میں ہوا کا کچھ حصہ ناک سے بھی خارج کیا جاتا ہے۔ یہ غنائی آوازیں نغمگی اور کبھی غم و اندوہ کی کیفیاتِ صوت پیدا کرنے میں ممد ہوتی ہیں۔ تقریباً تمام اچھے شاعروں نے ان سے یہ کام لیا ہے۔ اس کی عمدہ مثال اقبال کے یہ اشعار ہیں ؎
من کی دنیا، من کی دنیا، سوز و مستی، جذب و شوق
تن کی دنیا، تن کی دنیا، سود و سودا مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن
پانی پانی کرگئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
3 پہلوی مصمتہ (Lateral) ؍ل؍ کی ادائیگی میں زبان کی نوک اوپر کے مسوڑھوں (دانتوں کے پچھلے حصے) سے پیوست ہوکر جھٹکے کے ساتھ جدا ہوتی ہے اور ہوا سامنے کے علاوہ پہلوؤں سے بھی خارج ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں بند شیت کے ساتھ کسی قدر صفیریت بھی جاتی ہے اور اس کا نغمہ جو کبھی پانی کی آواز سے مشابہ ہوتا ہے۔ ایک خاص نشاطیہ کیفیت رکھتا ہے ؎
دل کہ یک قطرہ خوں نہیں ہے بیش
ایک عالم کے سر بلا لایا
(میر)
3 تھپک دار (کوز) مصمتے (flapped) ؍ڑ؍،؍ڑھ؍ کے مخارج کے سلسلے میں ان مصمتوں کی ادائیگی کا طریقہ بھی بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ آوازیں زور، جوش، سختی، تشدد اور بعض کیفیات کے اظہار میں معاون ہوتی ہیں۔ نظیر، انیس، دبیر، حالی، اکبر، بعض متاخرین اور جدید شعرا نے ان اصوات کی رمزیت سے خاص طور سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انیس کی شاعری کے صوتی آہنگ میں ان اصوات کی تکرار کافی نمایاں ہے اور ان سے انیس نے رزم نگاری اور ڈرامائی کیفیات پیدا کرنے میں مدد لی ہے۔ مثال کے طور پریہ بند ملاحظہ ہوں ؎
گھوڑا کبھی نہ پھول کی جس پر چھڑی پڑی
کھولی گرہ وہ تیغ نے جب گل چھڑی پڑی
ضرب اس کی جو پڑی وہ زرہ پر کڑی پڑی
فوجوں میں شور تھا کہ لڑائی بڑی پڑی
قوت علی کے ہاتھ کی تھی اس دلیر کی
کیوں کر بچائیں صید کو پنجے سے شیر کی
گرنے لگی صفوں پہ جھڑا جھڑ اِدھر اُدھر
ہر قصرِ تن گرا ہے دھڑا دھڑ اِدھر اُدھر
بے سرطیاں ہر ایک کا تھا دھڑ اِدھر اُدھر
ہلچل تھی قلبِ فوج میں بھاگڑ اِدھر اُدھر
برپا تھا حشر چار طرف رزم گاہ میں
تھی ابتری یزید کی جنگی سپاہ میں
اب حالی کی شاعری میں ان اصوات کی رزم آفرینی دیکھتے جائیے ؎
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
ہوگئی اک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
بس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیں
گڑ گڑ کے علم لاکھوں اکھڑ جاتے ہیں
آج اس کی ہے نوبت تو کل اس کی باری
بن بن کے یونہی کھیل بگڑ جاتے ہیں
4 ارتعاشی مصمتہ (Rolled) ؍ر؍ کی ادائیگی میں زبان کی نوک ہوا میں تھرتھراتی ہے۔ یہ آواز عام طور پر تسلسل، حرکت اور تکرار کے اظہار میں معاون ہوتی ہے۔ اس صوتی رمزیت سے اقبال نے بیش از بیش فائدہ اٹھایا ہے ؎
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آبسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگا
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگا
5 صفیری مصمتے (Fricative) ؍ف؍،؍س؍،؍ز؍،؍ش؍،؍ژ؍،؍خ؍،؍غ؍،؍ہ؍
ان کی ادائیگی کے وقت ہوا رگڑ کے ساتھ باہر نکلتی ہے۔ بندشی مصمتوں کے برخلاف ان میں ایک صوتی تسلسل پایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ اصوات شعر کے آہنگ پر جداگانہ اثر ڈالتی ہیں اور شاعری میں مخصوص قسم کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً تسلسل (جذباتی یا صوتی) جذبات کی شدت اور ان کا صوتی نکاس وغیرہ مناظر فطرت کی بعض کیفیات بھی ان اصوات کے آئینے میں منعکس ہوتی ہے۔ جیسے ؍س؍ اور ؍ش؍ کی تکرار سے اقبال نے اپنی ایک نظم ’ایک شام دریائے نیکر کے کنارے‘ میں خاموشی کا سماں باندھا ہے ؎
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوافروش خاموش
کہسار کے سبزہ پوش خاموش
صفیری اور حلقی مصمتے؍ہ؍ کی نفسی کیفیت سے اکثر شاعروںنے حزن و یاس اور آہ کے اظہار میں مدد لی ہے۔ جیسے ؎
مصائب اور تھے پر جی کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہوگیا ہے
ادائیگی کے اعتبار سے مصمتوں کو مسموع اور غیرمسموع میں بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ مصمتے تنتریوں یا پردوں کے ارتعاش کی کیفیت سے بنتے ہیں۔ مسموع مصمتوں کی ادائیگی میں صوتی تنتریوں یا پردوں میں ارتعاش زیادہ ہوتا ہے اور غیرمسموع میں بہت کم۔ بیشتر زبانوں کے مصوتے مسموع ہوتے ہیں۔ اس طرح اس زبان میں مسموع آوازوں کی تعداد غیرمسموع کے مقابلے میں بہت زیادہ اور عام طور پر جملہ اصوات کاتقریباً 2/3 حصہ ہوتی ہے۔ اردو میں بھی یہی صورت پائی جاتی ہے۔ اردو میں جملہ مسموع اصوات 16 ہیں۔ اور صرف ان مصمتوں پر مشتمل ہیں:
پ؍،؍ پھ؍،؍ ت؍،؍ تھ؍،؍ٹ؍،؍ ٹھ؍،؍چ؍،؍چھ؍،ک؍،؍کھ؍،؍ق؍،؍ف؍،؍ س؍،؍ ش؍،؍ خ؍،؍ ہ؍،؍مسموع اور غیرمسموع اصوات کا رشتہ پہاڑ کی چوٹیوں اور وادیوں کا سا ہے۔ اگر کسی زبان میں غیرمسموع (وادیاں) زیادہ ہوں تو بیشتر اوقات جملے کی سماعت میں دقتیں ہوں گی۔ لیکن شاعری میں اکثر اوقات جب شاعر کا ناپھوسی یا خودکلامی یا دھیمی آواز اور تاسفی لہجے کا اظہار چاہتا ہے تو غیرمسموع آوازوں کی تعداد لاشعوری طور پر بڑھا دیتا ہے۔
اردو چونکہ بنیادی طور پر ایک ہند آریائی زبان ہے۔ اس لیے عام ہند آریائی زبانوں (بمقابلہ دراوڑی) کی طرح مسموع اور غیرمسموع دونوں قسم کی ہکاری اصوات پائی جاتی ہیں۔ کوز آوازوں کی طرح یہ بھی عربی اور فارسی پڑھنے والوں کے لیے مکمل اجنبیت رکھتی ہیں۔ لیکن ان کا تکرر (Frequency) بمقابلہ کوز آوازوں کے بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ زیادہ بہتر طور پر اردو شاعری کے صوتی نظام میں ہم آہنگ ہوچکی ہیں۔ چونکہ ان کا مجموعی تاثر ایک قسم کی کشیدگی تنفس یا نفس کی جانب ہوتا ہے۔ اس لیے حزن و یاس اور آہ وزاری کی کیفیات کے ساتھ یہ مدغم کی جاسکتی ہیں۔ ان کا ایک اور میلان بے ساختگی، جذبات کی جانب بھی ہوتا ہے اور یہ آہ کے علاوہ ’واہ‘ کی بھی ترجمانی کرتی ہے۔ ہکار مصوتوں میں ؍ڈھ؍ کی صوت اردو الفاظ کے آخر میں ہکار مصمتہ ؍پھ؍ کبھی نہیںا ٓتا۔ یہ مشاہدہ بھی قابل توجہ ہے کہ اردو میں بہت کم الفاظ ایسے ہیں جو غیرمسموع بندشی مصمتے سے شروع اور غیرمسموع ہنکار بندشی مصمتے پر ختم ہوتے ہیں۔
مصمتوں کی طرح مصوتے بھی اپنے مخارج اور ادائیگی کے طرز کے فرق کے ساتھ جداگانہ کیفیات کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی رمزی کیفیت، جذبات و احساسات کے اظہار و ابلاغ میں معاون ہوتی ہے۔ مصوتوں کی ادائیگی کے وقت منہ کے کھلنے اور زبان کے نیچے رہنے یا اوپر اٹھنے کی حالتیں مختلف رہتی ہیں۔ اس اختلاف کے ساتھ مصوتوں کی کیفیت بدلتی جاتی ہے۔ زبان کے اگلے اور پچھلے حصوں کے اوپر اٹھنے اور منہ کے کھلنے کے مدارج کو ملحوظ رکھتے ہوئے اردو مصوتوں کی گروہ بندی ذیل کے طریقوں پر کی جاسکتی ہے:
1 اگلے مصوتے۔ پست، اونچا (iِ) اونچا ( ِ ی= أ) متوسط (یے = e)
جڑوان ( َ یے = ai)
2 درمیانی مصوتہ :۔ متوسط ( ً a=)
3 پچھلے مصوتے:۔ پست اونچا گول (و=ں) اونچا گول (وَ= :ں)
متوسط۔گول _ و=ہ
پست ( =i)، جڑواں _ و۔ u
مخرج کے علاوہ صوتی نقطۂ نظر سے ان مصوتوں کا طول یا اختصار شعری آہنگ کے تار و پود میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے اردو کے دس مصوتوں کو حسب ذیل اندازمیں ترتیب دیا جاسکتا ہے۔
چھوٹے مصمتے: ۔ ِ(i) َ ( ) ُ (uٓ)
اس سلسلے میں اردو عروضیوں کے یہ مشاہدات بھی قابل غور ہیں جن پر ہمارے اساتذہ نے عمل کیا ہے:
1 چھوٹے مصوتوں کا حذف جائز ہے۔
.2 لانبے مصوتوں والے الفاظ میں
الف: ہندی الفاظ کی الف۔ واؤ اور ’یا‘ کا گرا دینا جائز ہے۔ مثلاً ؎
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کرلے
اپنَ (مومن)
مجھ کو دیکھو تو ہوں بقیدِ حیات
تُ ہندی
اور چھ ماہی ہو سال میں دوبار
اَر (غالب)
کلکتہ کا جو ذکر کیا تونے ہم نشیں
تِ نِ
اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے
نِ (غالب)
زخم نصیب تھا جگر زخم جگر سے کیا کہیں
ان کی نظر نے کیا کیا ان کی نظر سے کیا کہیں
کِ کِ (فانی)
ب: عربی فارسی الفاظ میں ان اصوات کا حذف جائز نہیں ہے۔ صرف ایسے مستثنیات میں جائز ہے جو اساتذۂ فارسی کرتے آئے ہیں۔ اس کی وجہ صوتیاتی نہیں ہے بلکہ سماجی ہے۔ یعنی عربی اور فارسی الفاظ کی پاسداری اور لحاظ اردو کے دکنی دور کو چھوڑ کر ہر زمانے میں کیا گیا۔ اردو کی ساری تحریکات اصلاح زبان (مظہر جان جاناں اور امام بخش ناسخ کی تحریکات) اسی رجحان کی غماز ہیں۔
ج: عربی فارسی الفاظ کے آخر میں ہائے مختفی ہو تو اس کا گرانا جائز ہے کیونکہ اردو میں یہ مصوتہ آ (a) کے برابر ہے اور ’الف‘ کے قاعدے کا اطلاق اس کے ہائے مختفی پر بھی کیا جائے گا ؎
اے دیدہ! شرط گریہ ہے ابر بہار ہے
(مصحفی)
رخصت اے زنداں جنوں زنجیر در کھڑکائے ہے
مژدہ خارِ دشت پھر تلوا مرا کھجلائے ہے
(ذوق)
شعر میں جہاں حروف اس طرح دبتے یا گرتے ہیں تو ہوتا دراصل یہ ہے کہ لانبے مصوتے کی جگہ ہم مخرج یا قریب المخرج یا ادائیگی میں مماثلت رکھنے والا چھوٹا مصوتہ لے لیتا ہے۔
.3 کسرے کو کھینچ کر پڑھنا جائز ہے جس سے یائے تحتانی پیدا ہوتا ہے ؎
کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
(غالب)
اس ضمن میں ِ یے (e) کی صوتی لمبائی کے بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کی مختصر آواز کو ظاہر کرنے کے لیے حرکت زیر ( ِ) سے کام لیا جاتا ہے۔ جیسے ایک = اک جب کہ یہی حرکت چھوٹے مصوتے (iِ) کی نمائندہ ہے = مل، دل)
مصوتوں کے طول اور اختصار کے سلسلے میں یہ مشاہدہ اہمیت رکھتا ہے کہ مسموع مصوتوں کے بعد مصوتہ کسی قدر طویل ہوجاتا ہے اور غیرمسموع مصمتوں کے بعد نسبتاً مختصر ہوجاتا ہے۔ مثلاً ب، پا، جا، چا، گا، کاکی ادائیگی میں ؍ب؍ چ؍ اور ؍گ؍ کے ساتھ مصوتہ ؍آ؍ کی لمبائی بڑھ جاتی ہے۔
اردو کا عروض عربی الاصل ہے جسے فارسی والوں نے اپنایا۔ فارسی عربی کے لسانی اثرات کے ساتھ اردو شاعری نے اس عروضی نظام کو بھی قبول کرلیا۔ عربی فارسی عروض کے بعض قاعدے اردو زبان کے لہجے میں موسیقیت کے مطابق نہیں تھے۔ اس لیے ہمارے شاعروں کو ان میں مناسب رد و بدل کی ضرورت محسوس ہوئی اور زحافات کا اضافہ کردیا گیا۔
صوتی رمزیت اور موسیقیت
زبان کی صوتی رمزیت نقادوں، شاعروں اور ماہرین لسانیات کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ زبان کے آغاز کا ایک نظریہ یہ ہے کہ الفاظ فطری اصوات کی نقلیں ہیں۔ (Bou-Bau Theory)
بچے مختلف جانوروں اور پرندوں کی آوازیں سنتے ہیں تو ان کی طرف اشارہ کرنے کے لیے انھیں آوازوں کی نقل کرتے ہیں۔ اس مشاہدے سے یہ قیاس کیا گیا کہ زبانوں کا آغاز بھی اسی طریقے سے ہوا ہوگا۔ لفظ سازی کے اس طریقے سے آج بھی کام لیا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہر زبان میں چند الفاظ ایسے مل جاتے ہیں جنھیں اس نظریے کے ثبوت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایک اور نظریہ ہے کہ خارجی مظاہر سے انسان کے دل میں جو جذبات اور احساسات پیدا ہوتے ہیں انھیں وہ موزوں آوازوں کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ اس کی مثال ہر زبان کے فجائیے ہیں۔ (Poahpoah Theory)
ان نظریات کے خلاف بہت کچھ کہا جاسکتا ہے، لیکن اس حد تک قبول کرنے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ اکثر زبانوں میںا یسے الفاظ موجود ہیں جو تقلید صوت کے طریقے سے فجائی اظہار کے طور پر وجود میںا ٓئے۔ یہ نظریے ہماری توجہ زبان کی صوتی رمزیت کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر سے جب ہم زبان کی اصوات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ بعض الفاظ کا سماعی تاثر معانی سے پیدا ہونے والی کیفیات سے مطابقت رکھتا ہے۔ چنانچہ بلوم فیلڈ (Bloomfield) کا خیال ہے کہ انگریزی میں لاحقہ ‘ash’ کی آواز ایک سریع اور پرتشدد حرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ اردو میں مماثل کیفیت بعض ہندی الفاظ میں ؍ڑ؍ کی مختتم صورت سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے توڑ، پھوڑ، اکھاڑ پچھار، مور، دوڑ، ماردھاڑ، چیر پھار، وغیرہ۔ فرانسیسی شاعر Rimbaud نے اپنی ایک نظم ‘Lesvoylles’ میں ہر مصوتے کو ایک الگ رنگ سے تعبیر کیا ہے:
You vowels. ‘A’ The Black white ‘E’, Grean ‘u’ Blue ‘o’ some Day will i Reveal your Hid Nativities.
یہ بہرحال ایک حقیقت ہے کہ مختلف مصوتوں کا سماعی تاثر باہم ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور ان میں جداگانہ صوتی رمزیت ہوتی ہے جس سے شعوری یا غیرشعوری طور پر شاعر استفادہ کرتے ہیں۔ Reme Etimble کے خیال میں سماعی تجربات سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ مصوتے /e/ (اے) اور /i/ ( ِی) بنیادی طور پر لطیف، تیز، واضح اور روشن معروضات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس بیان کو کلیے کے طور پر قبول کرنا مشکل ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ پچھلے گول مصوتوں کے مقابلے میں یہ مصوتے ْخوشی اور مسرت کے اظہار میں منہ سے نکلنے والی آوازوں کا تاثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ان مصوتوں کے ادا کرتے وقت عضویاتی حالت ہنسی یا ہلکے قہقہے کے وقت کی عضویاتی حالت کے مشابہ ہوتی ہے۔ پچھلے گول مصوتوں (بالخصوص ان کی انفیائی ہوئی آوازوں کے ادا کرنے میں عضویاتی حالت مختلف ہوتی ہے اور کسی حد تک رونے اور منہ بسونے کی عضویاتی حالت سے مماثلت رکھتی ہے۔
صوتی رمزیت کا انحصار ایک طرف کسی زبان کے بولنے والوں کی تہذیبی روایات، ان کے ماحول، معاشرت، مزاج اور عادات و اطوار پر ہوتا ہے جن کی متابعت میں الفاظ کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی اصوات سے خاص کیفیات کی باز آفرینی کریں۔ دوسری طرف ان کیفیات سے اثر قبول کرنے کا دار و مدار شاعر اور قاری کی شخصیت پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوتی رموز عالم گیر زبان نہیں بن سکتے۔ مثال کے طور پر اردو کو کوز آوازوں کا آہنگ فارسی یا عربی (جن کی اصوات سے پیوندکاری کی گئی ہے) بنیادی طور پر مختلف ہے۔ کئی صدیوں کے تجربات کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب کہیں جاکر یہ اصوات اردو شاعری میں رچ بس گئے ہیں اور ان کی موجودگی اردو بولنے والوں کی نفسیات کو کسی طرح کا دھکا نہیں پہنچاتی، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کا تکرر اردو شاعری میں اب بھی بہت کم ہے۔ فطری ہوتے ہوئے بھی اردو شاعر ان سے اجتناب کرتا ہے اور یہیں سے انتخاب فرہنگ شعر کی بحث آجاتی ہے۔
کسی زبان کی صوتیاتی ہیئت اس کی غنائی صلاحیت کے مطابق ہوتی ہے۔ اصواتِ شعر میں بنیادی ربط مفہوم کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ وہی ان کے جتماع سے خاص آہنگ تشکیل پاتا ہے۔ جو شاعر کے جذباتی آہنگ کا صوتی عکس ہوتا ہے۔ بہترین الفاظ کے بہترین استعمال کا نام شاعری ہے۔
اس تعریف میں بہترین کا اطلاق صوتی ہیئت پر بھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنا کہ لفظ کے مفہوم پر۔ اسی وجہ سے فن شعر میں صوتی اعتبار سے الفاظ کے انتخاب اور ان کی تنظیم کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ہر زبان کی شاعری میںا یسی بہت سی صفتیں ملتی ہیں جن کا مقصد صوتی ہیئت کو بہتر بنانا اور غنائیت پیدا کرنا ہے۔ انگریزی میں سہ حرفی صنعت Allitration اور تجنیس صوتی Assonemce ایسی ہی صنعتیں ہیں۔ سہ حرفی صنعت میں مختلف الفاظ ایک ہی صوت سے شروع ہوتے ہیں۔ تجنیس صوتی کی بنیاد ہم آوازاور قافیہ بندی پر ہے۔ ان صنائع سے شعر میں اصوات کی تکرار ہوتی ہے اور شعر کی غنائیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ خاص خاص اصوات کی تکرار سے کبھی صوتی رمزیت اور ایمائیت پیدا ہوجاتی ہے۔ انگریزی میں ٹینسن Tenniyson اور کیٹس Keats نے اپنے شعری آہنگ میں تکرار اصوات سے خاص طور پر کام لیا ہے۔ اردو میں بہت سی لفظی اور معنوی صنعتوں کا تعلق اصوات کی تکار اور تنظیم سے ہے مثلاً زد العجز علی الصدر تجنیس، عکس، قلب، تکریر وغیرہ۔
بحور و اوزان
مصوتوں اور مصمتوں کی باہم ترتیب و تنظیم سے بحور و اوزان وجود میں آتے ہیں۔ ہر بحر کی اپنی ایک موسیقی ہوتی ہے۔ جو جذبے کی موسیقی سے ہم آہنگ ہوکر شعر کی تاثیر کو دوبالا کردیتی ہے۔ مخصوص جذبات کے اظہار کے لیے مناسب بحریں اختیار نہ کی جائیں تو گا کر بین کرنے یا منہ بسور کر ہنسنے کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض بحروں میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ متضاد قسم کے جذبات سے مطابقت پیدا کرلیتی ہیں۔ دیکھا جائے تو ہر بڑے شاعر کی کامیاب اور مشہور غزلیں چند خاص بحروں ہی میں ملیں گی جو اس شاعر کے جذباتی مزاج سے توافق رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے کبھی یہ بحریں یا اوزان ان شاعروں کے نام سے منسوب ہوجاتے ہیں، مثلاً :
متقارب مثمن اثرم دو چند میں ’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘ والی غزل کی مقبولیت کی بنا پر یہ بحر میر کے نام کا مضاف بن گئی۔ اور ہم جب بحر کامل، مثمن سالم میں کسی شاعر کی غزل پڑھتے یا سنتے ہیں تو سراج کی یہ غزل یاد آجاتی ہے۔ ’خبرِ تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘ بعض بحور اور اوزان مخصوص جذبات و کیفیات سے زیادہ موانست رکھنے کی بنا پر چند خاص خاص مضامین اور خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنا لیے جاتے ہیں۔ تو آگے چل کر یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ ان اوزان میں شعر کہتے ہوئے ازخود ویسے ہی خیالات وارد ہونے لگتے ہیں۔ اس خیال کی تصدیق اقبال کی غزل ’کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباس مجاز میں‘ سے ہوتی ہے جو سراج کی متذکرہ غزل کی بحر میں کہی گئی ہے۔
شاعر کے اسلوب اور لہجہ پر بحور اور اوزان کا ایک بالواسطہ اثر یوں پڑتا ہے کہ وہ کبھی شاعر کے انتخاب الفاظ کی آزادی میں مانع ہوجاتے ہیں۔ بحر شعر میں لفظ کا تعین کرتی ہے لیکن بعض اوقات جملے کی ساخت یا کبھی محاورہ یا مرکب کا جزو ہونے کی بنا پر فصاحت کلام کا اقتضا یہ ہوتا ہے کہ شعر میں لفظ کی نشست کسی اور مقام پر ہو اور تعقید، تنافر یا دوسرے عیوب سے بچنے کے لیے شاعر اس لفظ کو ترک کرکے کسی اور لفظ کا انتخاب کرتا ہے اور چونکہ اکثر صورتوں میں متبدلہ لفظ کی صوتی مقدار مختلف ہوتی ہے اس لیے وزن کی کمی یا بیشی کو دور کرنے کے لیے دوسرے الفاظ بھی بدل دیے جاتے ہیں۔ مثلاً میر کے اس شعر میں ؎
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
’شراب‘ کی جگہ مئے باندھنا چاہیں تو شعر کو ازسر نو لکھنا ہوگا۔ نہ صرف وزن کی تکمیل بلکہ فصاحتِ کلام باقی رکھنے کے لیے بھی دوسرے الفاظ میں رد و بدل کرنا ہوگا۔ ایسی تبدیلیاں شعر کے صوتی آہنگ پر لازماً اثر انداز ہوتی ہیں۔
صوتی نقطۂ نظر سے فارسی اور اردو، بحور کی موسیقی ان چار اجزا پر مشتمل ہوتی ہے:
.1 لانبے مصوتوں کی زیادہ سے زیادہ گنجائش
.2 چھوٹے مصوتوں کی ناگزیر کم سے کم تعداد
.3 چھوٹے اور لانبے مصوتوں کی ترتیب
.4 مصوتوں اور مصمتوں کا تناسب
شاعر کسی بحر میں شعر کہتے ہوئے لمبے مصوتوں کی جگہ چھوٹے مصوتے لاسکتا ہے ، ایسی صورت میں جتنے لمبے مصوتے کم ہوں گے مصمتوںکی تعداد اتنی ہی بڑھ جائے گی لیکن مصوتوں اور مصمتوں کی مجموعی تعداد بحر کی فراہم کردہ گنجائش سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ صوتی مقدار ہر صورت میں یکساں رہے گی۔ اس اصول کو ریاضی کی زبان میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ بحر کی صوتی مقدار 2= (لمبے مصوتے + جڑواں مصوتے) + (چھوٹے مصوتے + مصمتے+ (بطور حرف صحیح) 1؎
1؎ صوتیاتی اعتبار سے مصوتہ ہے۔ یہاں صرف صوتی مقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے لفظ کے آغاز میں اسے بطور حرف صحیح شمار کرنا ہوگا۔ جیسے ’اب‘، ’جب‘ کا ہم وزن ہے۔ ’اب‘ میں ایک چھوٹا سا مصوتہ اور ایک مصمتہ ہے۔ جب کہ ’جب‘ میں ایک چھوٹا سا مصوتہ اور مصمتے ہیں۔ اس لیے مساوات کو برقرار رکھنے کے لیے اس کو ایک بار بطور مصوتہ اور ایک بار بطور حرف صحیح گننا ہوگا۔
ہر بحر کا ایک معیاری صوتی آہنگ ہوتا ہے جو ارکان کی تکرار سے تشکیل پاتا ہے لیکن بہت کم اشعار میں یہ معیاری صوتی آہنگ برقرار رہ سکتا ہے۔ شاعر کے انتخاب الفاظ کی وجہ سے مصوتوں اور مصمتوں کا تناسب بدل جاتا ہے۔ کسی شعر کے الفاظ کی نوعیت کا دار و مدار کسی حد تک ردیف اور قافیہ پر بھی ہوتا ہے۔ جن سے شاعر کے ذہن میں خیال کے مختلف تلازمے ابھارے جاتے ہیں۔ غزل میں ردیف اور روی کی تکرار مقررہ صوتی وقفوں کے ساتھ واقع ہوتی ہے اور وہ ایک طرف بحر کے صوتی آہنگ میں اپنی لے بڑھا دیتے ہیں تو دوسری طرف مصمتوں اور مصوتوں کی فراہم کردہ گنجائش کو محدود کردیتے ہیں۔ بحر اور ردیف و قوافی کا مجموعی صوتی انضباط شاعر کے لہجے اور انتخاب الفاظ پر کس طرح اثر ڈالتا ہے، اس کا اندازہ مختلف شاعروں کے چند ہم زمیں اشعار کے تقابلی مطالعہ سے ہوسکتا ہے۔ ناسخ کی ایک غزل بحر ہزج مثمن سالم میں ہے ؎
مرا سینہ ہے مشرق آفتابِ داغ ہجراں کا
طلوع صبحِ محشر چاک ہے میرے گریباں کا
اس زمین میں آتش، غالب، ذوق، امیر، تسلیم اور بعض دوسرے شاعروں نے بھی غزلیں کہی ہیں ؎
خدا سردے تو سودا دے تری زلفِ پریشاں کا
جو آنکھیں ہوں تو نظارہ ہو ایسے سنبلستاں کا
(آتش)
ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاق نسیاں کا
(غالب)
لگا ہے تیر دل پر آہ کس کافر کے مژگاں کا
نشاں سوفار کا معلوم ہوتا ہے نہ پیکاں کا
(ذوق)
نہیں سودا فقط یوسف کو اس کے درد ودرماں کا
……………… چاکِ گریباں کا
(امیر)
لکھا ہے یک قلم مضمون صفت ہائے یزداں کا
جوابِ دفتر کن ہر ورق ہے اپنے دیواں کا
(تسلیم)
عیاں ہر حرف سے ہے دائرہ مہر درخشاں کا
ہے رشکِ مطلع خورشید مطلع میرے دیواں کا
(فانی)
یہ بحر ہر مصرعے میں چار چھوٹے اور بارہ لمبے مصوتوں، اس طرح جملہ سولہ کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔ یہ سولہ مصوتے تمام چھوٹے بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن لمبے مصوتے کسی مصرع میں بارہ سے زیادہ نہیں لائے جاسکتے۔ مصمتوں کی تعداد کم سے کم سو اور زیادہ سے زیادہ اٹھائیس ہوگی۔ اس بحر میں جو بھی شعر کہا جائے گا ہر مصرع کا صوتی اتار چڑھاؤ ان حدود کے تابع رہے گا۔
مندرجہ بالا مطلعوں میں ردیف اور قافیہ کی وجہ سے دو لمبے انفی اور دو لمبے غیرانفی مصوتوں کا اندراج لازمی ہوگیا ہے۔ اس طرح چھوٹے مصوتے مجموعی طور پر کسی مطلع میں اٹھائیس سے زیادہ نہیں لائے جاسکتے۔ ناسخ، آتش، غالب، ذوق، امیر، تسلیم اور فانی کے مطلعوں میں لمبے جڑواں اور چھوٹے مصوتوں کا تناسب بہ صراحت ذیل ہے:
لمبے اور جڑواں مصوتے چھوٹے مصوتے مصمتے بطور حرف صحیح
ناسخ 18 14 36 2
آتش 17 15 38 1
غالب 12 20 41 3
ذوق 19 13 36 1
امیر 20 12 33 3
تسلیم 13 19 40 3
فانی 16 16 37 3
اس جدول پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ لمبے مصوتے سب سے زیادہ امیر اور ذوق نے اور سب سے کم غالب اور تسلیم نے استعمال کیے ہیں۔ اس طرح مصمتوں کی تعداد سب سے زیادہ غالب اور تسلیم کے پاس اور سب سے کم امیر اور ذوق کے مطلعوں میں ہے۔ تسلیم کے مطلعے میں مسموع مصمتے غیرمسموع مصمتوں کے دو چند سے بھی زیادہ ہیں۔ دوسرے شاعروں کے پاس ان کا تناسب قریب قریب مساوی ہے۔ ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے اپنے ایک مقالے میں غالب کے صوتی آہنگ کی یہ خصوصیت بیان کی ہے کہ وہ فارسی صوتیاتی آہنگ کے جلتے سروں میں گاتے ہیں۔ جلتے سروں کی صوتیاتی توجیہ یہ ہے کہ وہ عربی و فارسی صفیری آوازوں (رگڑ کے ساتھ پیدا ہونے والی آوازیں مثلاً ؍خ؍، ؍ش؍، ؍ف؍، ؍ز؍،؍ وغیرہ) سے اپنا صوتیاتی آہنگ تیار کرتے ہیں اور بیشتر انھیں ؍ن؍،؍م؍،؍ کی انفی موسیقی کا پس منظر عطا کرتے ہیں۔‘‘ غالب کے آہنگ کی یہ خصوصیت ان کے زیرنظر مطلع میں نمایاں ہے۔ سب سے زیادہ صفیری آواز ؍ہ؍ اور ارتعاشی آواز ؍ر؍ کا اندراج ایک قدر مشترک ہے۔ غشائی آوازیں؍ک؍، ؍ گ؍،؍ گھ؍،؍ اور ؍خ؍ آتش کے مطلع میں زیادہ ہیں۔ اس طرح ذوق اور تسلیم اور امیر کے مطلعوںمیں علی الترتیب ؍ک؍،؍،ن؍ اور ؍ہ؍ کی آوازیں الگ الگ صوتی تاثر پیدا کررہی ہیں، لیکن تمام مطلعے چونکہ ایک ہی زمین میں ہیں۔ اسی لیے ان کا آہنگ کچھ تو تال کی یکسانیت کی وجہ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہے اور اس کے علاوہ ہر مطلع کی صوتی مقدار ہمارے اخذ کردہ ضابطے کے مطابق بحر کی صوتی مقدار کے مساوی ہے۔ بحر ہزج مثمن سالم کی صوتی مقدار 88 ہوتی ہے اور یہی مقدار ہر مطلع کی ہے:
ناسخ
(1+17)2+=(2+36+14)88
آتش
(2+15)2+=(1+38+15)88
غالب
(1+11)2+=(3+41+20)88
ذوق
((3+16)2+=(1+36+13)88
تسلیم
(2+11)2+=(3+40+19)88
امیر
3+17)2+=(3+33+12)88
فانی
1+15)2+=(3+37+16)88
اس تجزیے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شاعر کا لہجہ بحرا ور ردیف و قوافی کے فراہم کردہ صوتی آہنگ کے نظام کے تابع ہوتا ہے۔ شاعر کو اس قدر آزادی رہتی ہے کہ اگر وہ چاہے تو لمبے مصوتے کی جگہ ایک چھوٹا مصوتہ اور ایک مصمتہ یا دو چھٹے مصوتے استعمال کرے۔ اس طرح بحر کے صوتی نظام میں شاعر کو اپنا لہجہ شامل کرنے کی گنجائش نکل آتی ہے۔ اس طرح شعر میں ایک نیا آہنگ ابھرتا ہے جو بحر کا آہنگ نہیں ہوتا۔
شعر میں لمبے مصوتوں کی زیادتی ہی روانی پیدا کرنے کی ضامن نہیں ہوتی بلکہ الفاظ کا صوتی اعتبار سے انتخاب اور مناسب مقام پران کا استعمال بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اس کا لحاظ نہ رکھا جائے ۔ لمبے مصوتوں کی جگہ چھوٹے اور چھوٹے مصوتوں کی جگہ لمبے مصوتے لائے جائیں یا ساکن مصوتوں کو متحرک اور متحرک کو اس طرح ساکن کردیں کہ شعر کا مفہوم لفظ کی ادائیگی میں جس لہجہ کا طالب ہو وہ لہجہ قائم نہ رہ سکے تو مذاق سلیم اسے گوارا نہ کرے گاا ور شعر کی حقیقی موسیقیت بھی مجروح ہوگی۔ لمبے مصوتے کے مقام پر چھوٹا مصوتہ یا چھوٹے مصوتے کی جگہ ساکن مصمتہ آئے اور اس کے ماقبل یا مابعد کو لمبا مصوتہ یا صفیری مصمتہ ہو تو زیادہ مضائقہ نہیں۔ کیونکہ قرأت میں ماقبل کے مصوتے کو کسی قدر زیادہ کھینچ کر پڑھنے سے چھوٹے مصوتے کو زیادہ کھینچ کر پڑھنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ یا ساکن مصمتہ ساکن ہی رہے گا۔ مثال کے طور پر اقبال کے مصرع ؎
اے ہمالہ! اے فصیلِ کشور ہندوستاں!
میں ’فصیل‘ اور ’کشور‘ ’فصیلے‘ اور ’کشورے‘ پڑھے جائیں گے، لیکن ’فصی‘ اور ’کش‘ کو ادا کرنے میں زیادہ وقت لیں تو ان اضافتوں کو کھینچ کر پڑھنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔
ہم دیکھ آئے ہیں کہ ردیف اور قوافی بحر میں مصوتوں اور مصمتوں کی گنجائش سے اپنا حصہ پہلے ہی لے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بالواسطہ طور پر بھی شعر کے صوتی آہنگ کو متاثر کرتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ردیف و قوافی نہ صرف انتخاب الفاظ میں شاعر کی رہنمائی کرتے ہیں بلکہ اس کے انتخاب کو مشروط اور محدود بھی بنا دیتے ہیں۔ شعر میں دوسرے کلموں کی صرفی حیثیت اور نحوی اعتبار سے جملوں کی ساخت کا انحصار بڑی حد تک ردیف و قوافی پر ہوتا ہے۔ ناسخ کے ہم زمین مطلعوں کی متذکرہ مثالوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ ردیف حروفِ اضافت سے ہونے کی وجہ سے تمام قافیے مضاف الیہ ہیں اور ہر شعر میں ان کے مضاف اسما واحد مذکر آئے ہیں۔ ان مطلعوں میں اسماء صفات کی کثرت، فعلِ ناقص کا استعمال اور بیانیہ انداز ردیف و قوافی کے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ ردیف و قافیے بحرکے آہنگ کو زیادہ متعین کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب دو مختلف مزاج شاعر ایک ہی زمین میں طبع آزمائی کرتے ہیں تو ان کے اشعار کے آہنگ اور اندازِ بیان میں کسی قدر مشابہت پیدا ہوجاتی ہے۔
شعر میں لے، نغمگی، روانی اور خاص سماعی کیفیات پیدا کرنے میں مصوتے اہم حصہ لیتے ہیں۔ شعر کی روانی اور غنائیت کا انحصار بڑی حد تک مصمتوں کے مقابلے میں مصوتوں (بالخصوص لمبے مصوتوں) کی کثرت پر ہوتا ہے۔ اردو میں جو بحریں رائج ہیں۔ ان میں بہت سی بحروں میں اس کی گنجائش ہے کہ مصوتے مصمتوں سے زیادہ لائے جائیں اور طویل مصوتوں کا تناسب بھی چھوٹے مصدوتوں کے مقابلے میں لمبے مصوتوں کے اندراج کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ بحروں میں لمبے مصوتوں کی گنجائش ارکان کی نوعیت اور تعداد کے ساتھ کم یا زیادہ ہوتی گئی ہے۔ مثلاً بحر رحمل کے آٹھ رکنی سالم (فاعلاتن)، فاعلاتن، فاعلاتن، فاعلاتن، دوبار) میں جو بیس لمبے مصوتے لائے جاسکتے ہیں۔ اب وزن متدارک مجنون مضاعف (فعلن، فعلن،فعلن، فعلن دوبار) کو لیجیے۔ اس وزن میں صرف آٹھ لمبے مصوتے لائے جاسکتے ہیں، جب کہ چھوٹے مصوتوں کی تعداد کم سے کم سولہ ہوگی۔ اس وزن میں اگر کہا جائے تو اس کا آہنگ بہت ہی مرتعش ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ بعض مخصوص جذبات و کیفیات کے اظہار کے لیے یہ آہنگ مفید اور موزوں ثابت ہوسکتا ہے اور شعر کا سماعی تاثر بھی خوشگوار ہوسکتا ہے لیکن یہ وزن ہر طرح کے جذبات اور لہجوں کو سہار نہیں سکتا۔
ردیف و قوافی
پابند شاعری بالخصوص غزل کی موسیقیت کو بڑھانے میں ردیف و قوافی اہم حصہ لیتے ہیں۔ ردیف و قوافی میں مسموع اصوات جتنی زیادہ ہوں گی غزل کا نغمہ اتنا ہی خوشگوار ہوگا۔ نغمگی کے اعتبار سے شعر کی صوتِ آخر بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ عام طور پر جو ردیفیں لمبے مصوتوں پر ختم ہوتی ہیں ان میں زیادہ غنائیت ہوتی ہے۔ غزل اگر غیرمعروف ہو تو قافیہ کی مختتم صوت پر اس اصول کا اطلاق ہوگا۔ قافیہ یا ردیف کی مختتم صوت ؍م؍،؍ ن؍،؍ ر؍،؍ یا ؍ل؍ جیسے بجتے ہوئے مصمتے وں تو ردیف و قوافی زیادہ خوش آہنگ ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف غیرمسموع مصمتوں سے ردیف و قوافی کی غنائیت مجروح ہوجاتی ہے، ہکار مصمتے، کو ز مصمتے اور بعض بندشی مصمتے صوتِ مختتم کے طور پرا ٓکر ردیف و قوافی میں غنائیت پیدا کرنے کی بجائے انھیں بدآہنگ بنا دیتے ہیں۔ قدما نے تختی کے حروف کی ترتیب کے ساتھ ردیف واردیوان کی تکمیل کے لیے ان اصوات پر ختم ہونے والی ردیفیں بھی باندھی ہے، لیکن ایسی غزلیں صرف دیوان کی زینت بن کر رہ گئیں اور مقبول نہ ہوسکیں۔
ردیف و قوافی کاا ٓہنگ جو اندرونی صوتی تنظیم سے ترتیب پاتا ہے، بحر کے آہنگ کا جزو ہوتا ہے۔ بحر کی صوتی مقدار میں سے کچھ حصے پر ردیف و قوافی متصرف رہتے ہیں، اور ان کا کچھ حصہ ان اصوات کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جن کی تکرار نہیں ہوتی اور جو کسی خیال کو متواتر نہیں دوہراتیں۔ شعر کی تاثیر کے لیے جو معنویت اور نغمگی کے امتزاج سے ابھرتی ہے اس کے دونوں اجزا میں توازن ضروری ہے۔ اسی لیے ردیف و قوافی کے آہنگ کا جائزہ لیتے ہوئے ان بحروں اور اوزان کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جن میں وہ مندرج ہوتے ہیں۔
ردیف و قوافی کے تعین اور ان کے صوتی آہنگ کے تجزیے میں مروجہ علم قافیہ ہماری مدد نہیں کرتا۔ قدیم علم قافیہ کی بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس میں لانبے غیر انفی اور انفی مصوتوں کو حروف صحیح کا مقام دیا جاتا ہے اور ان کے ماقبل حرکت متصور کرکے مختلف ساعدوں کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مثلاً جس طرح قافیوں ’یار‘ اور ’بار‘ میں مصمتے ؍ر؍ کو حرف روی اور ماقبل کے مصوتے اَ = (aَ)کو ردیف مانا جاتا ہے۔ اسی طرح قافیوں ’انسان‘ اور ’شیطان‘ میں بھی غنہ کی علامت ’ں‘ کو حرف روی قرار دے کر ان کے ماقبل غیرانفی مصوتہ اَ = a ٓ متصور کیا جاتا ہے اور اسے ردیف ٹھہراتے ہیں۔ اسی طرح ’شناخت اور ’تاخت‘ کی ؍خ؍ کے مقابل ’چاند‘ اور ’ماند‘ میں غنہ کی علامت کو بھی ردیف اور روی کے درمیان مستقل حرف مان کر اسے ’ردفِ زائد‘ کہا جاتا ہے۔ قافیے کی بحث میں حرف اصلی اور حرف زائد کا فرق ملحوظ رکھنا اور ایطائے خفی اور تضمین وغیرہ کو عیوب قافیہ قرار دینا بھی نامناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ قافیہ مستقل کلمہ نہیں ہوتا، اس کی بنیاد محض تکرارِ اصوات پر قائم ہے۔
قدیم علم قافیہ میں قافیہ دو ساکن پر منحصر سمجھا جاتا ہے اور ان کے درمیان متحرک حروف کی تعداد کی تبدیلی سے قافیہ کی مختلف صورتیں قرار دی جاتی ہیں جیسے مترادف = جس میں دو ساکن فصل کے بغیر آئیں۔ مثلاً خان، جان، دور، طور، متواتر جس میں دو حروف ساکن کے درمیان ایک متحرک حرف ہو۔ جیسے نشتر، دلبر، اسی طور پر درمیانی حرف متحرک کے اضافے سے قافیے کی دیگر قسمیں، متدارک، متراکب، متکاوس وغیرہ وجود میں آئی ہیں۔ دراصل یہاں بھی لانبے مصوتوں کے تعلق سے وہی مغالطہ ہوا ہے کہ وہ مصمتوں کی طرف ساکن یا متحرک ہوتے ہیں۔ قافیے کے لیے دو ساکن کا لزوم رکھنے پر ’ملا‘، ’اٹھا‘، ’سنا‘ جیسے الفاظ ہم قافیہ نہیں رہیں گے۔ اس لیے قافیے کا تعین صوتی نقطۂ نظر سے کیا جانا چاہیے۔ صوتی اعتبار سے قافیے کی اکائی ایک طویل مصوتہ ہوگا۔ جو کسی مصمتے کے بعد آئے جیسے ’برا‘ اور ’بھلا‘ کا افتتاحی مصوتہ اَ = س یا ایک چھوٹا مصوتہ + ساکن مصوتہ جیسے منصب، غضب میں، ( َ + ِ) مصوتوں اور مصمتوں کی کمی، زیادتی اور باہمی ترکیب ہے، مختلف آہنگ کے قافیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ مصوتوں اور مصمتوں کی تکرار و ترکیب کے اعتبار سے قافیوں کے چند نمونے ملاحظہ ہوں :
مص
مکیں، کہیں
مص مصم
مل، دل
مص مصم مص
سفینہ، مہینہ
مص مصم مص مصم
چمن، دمن
مص مصم مصم
غرق، فرق
مص مصم مصم مص
سوختہ، دوختہ
مص مص
کئی، گئی
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری زبان کی اصوات ان کی ترتیب اور تکرر کو ملحوظ رکھتے ہوئے صوتی نقطۂ نظر سے علم بلاغت، علم بدیع، عروض اور علم قافیہ کو ازسر نو مدون کیا جائے۔ اس کی وجہ سے فن اور بیان کے بہت سے جھگڑے ازخود رفع ہوجائیں گے۔ ہمارا فن شاعری جو تقلیدی اور روایتی ہونے کی وجہ سے ازکار رفتہ ہوتا جارہا ہے، ا گر سائنٹفک بنایا جائے تو وہ ہیئت اور آہنگ کے نئے تجربوں میں بھی ہماری رہ نمائی کرسکے گا۔
ماخذ: اردو میں لسانی تحقیق، مرتب: پروفیسر عبدالستار دلوی، سنہ اشاعت: 2015، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی