لسانیاتی مطالعہ شعر اور اصل شعریات کا جدید ہیئتی نقطۂ نظر ہے، لیکن یہ اس سے کہیں زیادہ جامع ہے۔ اس لیے کہ یہ شعری حقیقت کا کلی تصور پیش کرتا ہے۔ ہیئت اور موضوع کی قدیم بحث اس نقطۂ نظر سے بے معنی ہوجاتی ہے۔ یہ کلاسیکی نقد ادب کے اصولوں کی تجدید کرتا ہے اور قدما کے مشاہدات اور اصطلاحات ادب کو سائنسی بنیاد عطا کرتا ہے۔ لسانیاتی مطالعۂ شعر صوتیات کی سطح سے ابھرتا ہے اور ارتقائی صوتیات، تشکیلیات، صرف و نحو اور معنیات کی پرپیچ وادیوں سے گزرتا ہوا ’اسلوبیات‘ پر ختم ہوتا ہے۔ ’اسلوبیات‘ کو ابھی تک ماہرین لسانیات علم اللسان کا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ گو فرانسیسی زبان کا مطالعہ اس نقطۂ نظر سے بھی ہوچکا ہے اور اس کے جمالیاتی استعمال کو لسانیات کی اصطلاحات میں پیش کرنے کی کامیاب کوششیں ہوچکی ہیں۔ ان ذہنی کاوشوں نے تنقید شعر کا ایک نیا لسانیاتی (سائنسی) رخ متعین کردیا ہے اور اس کے ساتھ یہ توقع بھی ہے کہ زبان کے تخلیقی استعمال کو علم بہت جلد اپنی گرفت میں لاسکے گا۔
جدید تنقید، بوجوہ سماجی علوم کا بہت زیادہ سہارا لیے ہوئے ہے، اس سے مکمل چھٹکارا تو کسی خیال پرست کا محض تصور ہوگا لیکن جہاں تک فن شعر کا تعلق ہے، بہتیرے نابلد فن بھی سماجی علوم کے فارمولوں کے ذریعے نقاد شعر ہونے کا دم بھرنے لگے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ زبان ایک سماجی مظہر ہے لیکن بحیثیت ایک مظہر کے یہ سماج کی اقتصادی اور معاشرتی تبدیلیوں کے تابع اس طور پر نہیں ہوتی جیسا کہ انقلابِ روس کے بعد کے روسی ماہرین لسانیات نے ثابت کرنا چاہا تھا۔ سماج کے دیگر نظاموں اور اداروں کی طرح زبان اس کے اقتصادی اساس کی اوپری پرت نہیں ہوتی کہ طبقاتی انقلاب اس کی نوعیت کو یک لخت بدل دے۔ یہ سماج کا ایک محکم اور پائدار نظام ہوتی ہے۔ اسی طرح شعر انفرادی ذہن کی تخلیق ہونے کی حیثیت سے حرف صوت کی تہہ میں انفرادیت کی توانائی کو محفوظ رکھتا ہے اس لیے مارکس بھی اس مشاہدے پر مجبور تھا کہ فنونِ لطیفہ کی اعلیٰ ترقی کے بعض ادوار کا سماج کے عام ارتقا یا اس کی مادی اساس اور تنظیمی ساخت سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ انفرادی زندگی قطعی طور پر سماجی زندگی سے مربوط ہے۔ بعینہٖ جس طرح ہم سماجی زندگی کو طبیعی ماحول سے مربوط دیکھتے ہیں لیکن حیات اپنے ارتقا کی ہر سطح پر نئی ترکیب اور نئی ٹیکنک ڈھالتی ہے۔ یہی ترکیب وہ محکم قدر ہوئی ہے جس کو سمجھنا اور سمجھانا اس سطح کے محقق کا اصل کام ہے۔
شعر انفرادی ذہن کے طلسم کا گنجینۂ معنی ہوتا ہے اور اس نوعیت میں معاشرہ کی مخصوص جمالیاتی قدر اور سطح بھی۔ اس سطح پر کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نقاد شعراسے خود اسی کے معیار پر پرکھے۔ یہ معیار جمالیاتی عمل کے ان دائروں سے بنتا ہے جو ذہن شاعر اور لسانیاتی مواد کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ سماجی علوم کے تصورات نے ادبی تنقید کو اس کے اصل محور سے دور کردیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عمرانی تنقید سے اس کو ایک فلسفیانہ پس منظر ملتا ہے لیکن اس پس منظر میں فن پارہ اکثر غائب ہوجاتا ہے۔ لسانیاتی مطالعۂ شعر میں نہ تو فن کار کا اصول اہم ہوتا ہے اور نہ خود اس کی ذات۔ اہمیت دراصل ہوتی ہے اس فن پارے کی جس کی راہ ہم اس کے خالق کی ذات اور ماحول میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔
صوتیات، لسانیات کی پہلی سطح ہے جس پر نقدشعر کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ اس کا احساس قدیم زمانہ سے ناقدین شعر کو رہا ہے۔ مفرد آوازو ں کے خوش آہنگ ، یا بد آہنگ ہونے کا تذکرہ بارہا ملتا ہے۔ صوت اور معنی میں جو باہمی رشتہ ہوتا ہے اس کا ذکر مغربی تنقیدا ور اس کی پیروی میں کبھی کبھی اردو تنقید میں بھی مل جاتا ہے لیکن یہ تمام تنقیدی کاوشیں کسی مربوط نقطۂ نظر کے تحت نہیں ملتیں، اس کی نوعیت عام طور پر تاثراتی یا ذوقی ہے اس لیے کے ناقدین کو اپنے مشاہدات کی علمی بنیاد کا علم نہیں۔
اس علمی بنیاد کے لیے آوازوں کے مخرج، ان کی ادائیگی اور باہمی ربط پر نظر رکھنی پڑے گی۔ زبان کی بنیادی آوازوں کے باہمی آہنگ ہی سے شعر و نغمہ کے تار و پود تیار ہوتے ہیں اس لیے موسیقی کی طرح کسی زبان کی غنائی شاعری کا بھی ایک قومی مزاج ہوتا ہے۔ یہ قومی مزاج ہم آہنگ یا متضاد یا متوازی آوازوں اور اس زبان کے مخصوص نظامِ صوت سے ملتا ہے۔ اس لیے جب ہم ایک غیرزبان کی شاعری سنتے ہیں تو اپنی صوتیاتی عادتیں یا پسند اور ناپسند کو اس زبان کے نظام صوت میں منتقل کردیتے ہیں اور اس کے اسی حصے کو لائق تحسین سمجھتے ہیں جس کا آہنگ ہمارے کانوں میں پہلے ہی سے رچا ہوا ہے۔
ادب کی دوسری اصناف کے مقابلے میں شعر کا صوتی مطالعہ تاثراتی اور ذوقی تنقید کی اکثر اصطلاحوں کو ایک علمی اساس بخشتا ہے۔ اس لیے کہ شعر نہ صرف پڑھنے کی چیز ہے بلکہ سننے اور گانے کی بھی، تنقید شعر میں اکثر ’لہجہ‘ کا (بلکہ لب و لہجہ کا) ذکر ملتا ہے، مدھم یا ’پنچم‘ سرو ں کا تذکرہ ملتا ہے۔ ’لے‘ اور ’نغمگی‘، ’روانی‘ اور ’ربط‘ پر زور دیا جاتا ہے۔ تاثراتی تنقید کے یہ احساسات عام طور پر صحیح ہوتے ہیں۔ لسانی مطالعۂ شعر ان کلمات کی سائنسی بنیاد تلاش کرتا ہے اور اس کوشش میں کل زبان کے صوتیاتی نظام کا تجزیہ کرتا ہے۔
اردو کے نظام صوت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
1 حروفِ علت: جو تعداد میں دس ہیں۔
2 حروف صحیح: صوتی (نہ کہ تحریری) نقطۂ نظر سے جن کی تعداد 37 ہے
چونکہ حروف صحیح آواز کے بہاؤ میں وہ چوٹیاں ہیں جن پر حروفِ علت کا نغمہ رقص کرتا ہوا برآمد ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی ادائیگی اور مخرج کے بارے میں تفصیل سے جاننا ضروری ہے۔ صوتیاتی نقطۂ نظر سے ان آوازوں کو حسب ذیل طریقے پر ترتیب دیا جاسکتا ہے۔
حروف صحیحق
ک چ ٹ ت
۔
پ کھ چھ ٹھ تھ
۔
پھ گ ج ڈ
۔
ب گھ جھ ڈھ مجھ
غنہ مسموع
ن م
غیرمسموع
ہ خ ش س
مسموع
غ ژ ز ف
تھپک دار
ر
تھپک دار (کوز)
ڑھ ڑ بغلی ل
نیم حروف علت
ی و
مذکورہ بالا جدول میں افقی تقسیم مخرج کے نقطۂ نظر سے کی گئی ہے اور عمودی تقسیم انداز ادائیگی کے نقطۂ نظر سے۔ اردو کے حروف صحیح کا تجزیہ کیجیے گا تو معلوم ہوگا کہ خالص ہندی آوازوں کے ساتھ ساتھ اس میں خالص عربی، فارسی آوازیں بھی شامل ہیں۔ چونکہ ہماری شاعری کی صوتی روایت فارسی اور عربی سے بہت زیادہ متاثر ہے۔ اس لیے اردو کے حروف صحیح کا حسب ذیل تجزیہ لائق توجہ ہے:
1 خالص ہندی آوازیں: ٹ، ڈ، ڑ
کھ، چھ، تھ، ٹھ، پھ، گھ، جھ، ڈھ، دھ، بھ، ڑھ
2 خالص عربی آواز: ق
3 خالص فارسی آواز: ژ
4 عربی فارسی مشترک آوازیں: خ، غ، ف، ز
5 فارسی ہندی مشترک آوازیں: ک، چ، ت، پ، گ، ج، د، ب، ن، م، ش، س، ر، ل، و، ہ، ی
6 عربی ہندی مشترک آوازیں: ب، ت، ج، د، ر، س، ش، ک، ل، و، ہ، ی
7 ہندی، عربی، فارسی مشترک آوازیں: ب، ت، ج، د، س، ش، ک، ل، م، ن، و، ہ، ی
اردو شاعری کا تمام تر صوتی نظام مذکورہ بالا آوازوں کے تار و پود پر قائم ہے۔ حروفِ صحیح کے ان سنگ پاروں کو اردو کے دس حروفِ علت اَ، آ، اِ، ای ں سے جوڑا جاتا ہے جن میں سے چار ( ِ،ی، اِ ے، اَے) منہ کے اگلے حصے سے برآمد ہوتے ہیں۔ اور پانچ (اَ، اُ، اُو، اُو، اُو، اَو) منہ کے پچھلے حصے سے اور ایک ( َ) درمیانی حصہ ہے۔
اردو، خالص صوتیاتی نقطۂ نظر سے بھی ایک ہندوستانی زبان ہے لیکن ہمارا شعری آہنگ بہت کچھ فارسی شعرگوئی کی روایات پر مبنی ہے۔ اردو شاعری کا سابقہ خاص طور پر ہندی کی کوز (ٹ، ڈ، ڑ) اور ہائے مخلوط والی آوازوں (کھ، چھ، دھ، وغیرہ) سے پڑا۔ تاریخ صوتیاتی شعر تمام تر ان آوازوں کو ہضم کرنے کی داستان ہے۔ یہ داستان مرزا معز موسوی خان فطر کی ؎
از زلفِ سیاہ توبدل دوم پری ہے
درخانۂ آئینہ گتا جوم پری ہے
سے شروع ہوتی ہے اور میر و نظیر کے کوز آوازیں رکھنے والے الفاظ (ڈاگ) ڈانس، ڈول، ڈھنڈ، ڈھیر، ڈھینڈس، لنڈھا، ڈھب، بھڑک اور رنگامٹ) سے گزرتی ہوئی غالب و اقبال کے فارسی صوتی آہنگ پر ختم ہوتی ہے۔ جب کبھی ہندیت اور ہندی لہجہ غالب آجاتا ہے تو اس کا یہ ٹھاٹھ ہوتا ہے ع
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا
اور جب غالب اردو کے لہجے پر چھا جاتے ہیں تو یہ فردوسِ گوش بن جاتا ہے۔ صفحے کے صفحے الٹتے چلے جائیے ٹ، ڈ، ڑ کی ا ٓوازیںا ردو شاعری کے مقدس یعنی دیوان غالب میں نہیں ملتیں۔ یہی حال اقبال کا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ٹ، ڈ، ڑ (کوز آوازیں) بذات خود ناہنجار اور بدآہنگ ہوتی ہیں۔ ہمیں اس سے اختلاف ہے۔ یہ تصور ایرانی، عربی، فرانسیسی یا اطالوی ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کی آریائی زبان کا شعری ادب ان آوازوں سے مملو ہے اور اس کی جڑیں ہندوستانی موسیقی میں طبلے اور ڈھول کے رشتے سے پیوست ہیں۔ ان کے ناہنجار ہونے کا تصور دراصل پیدا ہوتا ہے اس ایرانی شعری روایت کی بدولت جو آج بھی ہماری شاعری پر سایہ فگن ہے اور جو کوز آوازوں کو حسب ذیل اندازمیں ملائم بناتی ہے ؎
کروڑ کا کردار
ساڑی کا ساری
پھلواڑی کا پھلواری
لیکن اس اساس اور غالب اور اقبال کے باوجود، کوز آوازوں کو اردو شاعری کے نازک ترین دماغوں (میر) نے قبول کیا ہے اور فارسی کی روایت کے ساتھ اس طرح گل، گلاب، بنا دیا ہے کہ کوز آوازوں کی کوزیت ہمارے شعری آہنگ کا جزو لاینفک بن گئی ہے ع
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
کوز آوازوں کے صوتی آہنگ ہی میں میر نے اپنے پھوڑوں کا ذکر کیا ہے۔ نظیر نے عوامی زبان کا ٹھاٹھ باندھا ہے۔ اور سودا اور انشا نے ظرافت کی کلیاں چٹکائی ہیں۔ مزاح کی یہ روایت جعفر زٹلی کی زٹلیات سے شروع ہوتی ہے اور سودا کی شعری ’بھیڑبھاڑ‘ سے ہوتی ’ڈھرام‘ سے انشا تک پہنچتی ہے اور پھر وہاں سے اکبر کی ’ڈانٹ ڈپٹ‘ اور ’رپٹ‘ میں نمودار ہوتی ہے۔ کوز آوازوں سے مرکب الفاظ جب قافیہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں تو ان سے عام طور پر کسی نہ کسی مضحک پہلو کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ چکبست کی حضرت کرزن سے جھپٹ کسے ازبر نہیں ۔
آپ اگر منھ کے کڑے ہیں تو ہوں میں بھی منہ پھٹ!
ہندی کی ہائے مخلوط رکھنے والی آوازیں (کھ، دھ، بھ وغیرہ) کوز آوازوں کی بہ نسبت اردو، شعری روایت میں زیادہ بہتر طریقے پر کھپ سکتی ہیں۔ اس کی صوتیاتی وجہ یہ ہے کہ یہ آوازیں بذات خود زیادہ دقت طلب نہیں۔ دوسرے یہ کہ ان سے مرکب الفاظ کی تعداد اردو زبان میں بہت زیادہ بھی ہے۔ یہ آوازیں نہ صرف درمیان شعرمیں واقع ہوئی ہیں بلکہ قوافی اور ردیف میں بھی زیادہ کامیابی کے ساتھ لائی گئی ہیں۔ گو ان میں وہ روانی نہیں ملتی جو حروفِ علت (اَ) یا (ی) (ں) یا (م) سے مرکب قوافی او ر ردیف میں ملتی ہیں۔ تاہم دیکھیے میر کے مدھم لہجہ میں اس سے کیا نغمہ برآمد ہوتا ہے ؎
ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ
تو بھی ہم غافلوں نے آکے کیا کیا کیا کچھ
دل گیا، ہوش گیا، صبر گیا، جی بھی گیا
شغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ
حسرتِ وصل و غمِ ہجر و خیالِ رخ دوست
مرگیا میں پہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ
میر توتائے ہندی (ٹ) کی ردیف تک میں غزل لکھتے ہیں اور مزاح سے پہلو بچا کر ایسا جلا بھنا شعر کہہ لیتے ہیں ؎
دل ہے جدھر کو اودھر کچھ آگ سی لگی ہے
اُس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ
لیکن غالب اور اقبال ہائے مخلوط والی آوازوں کو بھی ردیف کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔ میر کی آہ وزاری کی واردات کھ، چھ، تھ، پھ کے صوتی آہنگ میں کامیابی کے ساتھ آہیں بھرتی ابھرتی ہے۔ کبھی کبھی ان کی کثرت ان کے اشعار کی روانی کو کم بھی کردیتی ہے لیکن جذبہ کا لہو اس کی رنگینی کو سنبھالتا ہے۔ اقبال کی فکر پرستی اور غالب کی حیات پرستی کا آہنگ ان سے بالکل مختلف حروف صحیح کا سہارا لیتا ہے۔ نہ وہ اس قدر منھ پھٹ ہے۔ جیسے کہ نظیر یا انشا کا اور نہ اس قدر ہائے بھرا جس قدر کہ میر یافانی کا ؎
دل فانی کی تباہی کو نہ پوچھ
المِ لامتناہی کو نہ پوچھ
زندگی جادۂ بے منزل ہے
مسلک رہرو و راہی کو نہ پوچھ
غلط انداز نگاہوں کو سنبھال
میری گستاخ نگاہی کو نہ پوچھ
منع ہے لذت غم بھی فانی
ہمہ گیری نواحی کو نہ پوچھ
اردو حروف صحیح، مسموع اور غیرمسموع آوازوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ تمام حروف علت مسموع آوازیں ہیںا ور موسیقی کی جان ہیں۔ ان کے علاوہ گ، گھ، ح، جھ، ڈ، ڈھ، د، دھ، ب، بھ، ن، م، ع، ں، ز، ر، ڑھ، ر، ق، ی، ل، و۔ مسموع حروف صحیح ہیں، یعنی اردو شاعری کے تانوں بانوں میں کل دس حروف علت + بائیس حروف صحیح، کل بتیس مسموع آوازیں ہیں۔ غیرمسموع آوازیں تعداد میں کل پندرہ ہیں۔ ک، کھ، چ، چھ، ٹ، ٹھ، ت، تھ، پ، پھ، خ، ش، س، ف، ہ۔
ان آوازوں سے ہماری شاعری میں صوتی وادیاں بنتی ہیں کیونکہ موسیقی کی بنیاد مسموع آوازو ں بالخصوص حروف علت پر ہوتی ہے۔ گلے کے پردوں کے زیر و بم میں تمام راگوں کے امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ غنائی شاعری کی حیثیت سے غزل موسیقی سے قریب ترین ہے۔ اس لیے منزل میں جس قدر غنائیت ہوگی اسی قدر اس کے الفاظ میں حروف علت کی بہتات ہوگی۔ حروف علت کے بعد ترجیح مسموع حروف صحیح کو دی جائے گی اور وہ غیرمسموع آوازوں کا تناسب عام طور پر 1/3 سے زیادہ نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر میر یا غالب کی مشہور نغمہ ریز غزلوں کا جائزہ لیجیے:
.1 ع: الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
.2 ع: نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے
تو حسب ذیل نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ ہر صورت میں حروف علت کی تعداد سب سے زیادہ ملتی ہے۔ اس کے بعد مسموع حروف صحیح آتے ہیں اور سب سے آخر میں غیرمسموع دو غیرمسموع آوازوں کا اتصال بہ مشکل ملے گا، جب کہ مسموع مرکب بھی آتے ہیں۔ عام طور پر غنائی ردیفیں ۱۔و۔ ی سے مرکب ہوتی ہیں۔ یا ’ز‘ اور ’ل‘ سے غیرمسموع حروف صحیح کی ردیفوں میں اساتذہ نے کہا ضرور ہے، مثلاً ؎
نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
اگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ
مگر ’ر‘ کے ارتقا ’س‘ کی عدم موجودگی کی وجہ سے رواں نہیں ہوتیں۔ حروفِ علت والی ردیفوں میں یہ بھی خصوصیت ہوتی ہے کہ انھیں موسیقی کی ضرورت کے مطابق کھینچ کر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ چنانچہ عام طور سے ہمارے اساتذۂ غزل نے اچھا اور زیادہ ۱۔و۔ اور ی کی ردیفوں ہی میں کہا ہے۔
حروفِ علت کی کمی بیشی شعر کی کیفیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ چھوٹی یا طویل بحروں میں حزن و یاس کی کامیابی ترجمانی کا انحصار بہت کچھ حروفِ علت کی کثرت پر ہوتا ہے۔ غالب کی دونوں مشہور غزلوں میں ؎
1
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
2
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
حروفِ علت اور صحیح کا تناسب 50 فیصد کا ہے۔ اس کے برعکس ان کی فکریہ غزل ؎
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
میں حروف کا تناسب گھٹ کر 40 فیصدی رہ جاتا ہے۔ مذکورہ بالا غزلوں کا صوتیاتی تجزیہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جب جذبہ دل کی آنچ بن کر برآمد ہوتا ہے تو وہ حروف صحیح کی رکاوٹوں کو کم سے کم قبول کرتا ہے اور حروفِ علت کی گزرگاہوں کو پسند کرتا ہے۔ موجودہ تنقید میں اس قسم کی تاثراتی اصطلاحات اور تراکیب کا جواز کہ میر کی شاعری کا لہجہ مدھم ہے یا غالب بلند بانگ اندازمیں نغمہ سرا ہوتے ہیں۔ صرف یہی ہوسکتا ہے کہ میر طویل حروفِ علت (ا۔و۔ی) بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ اس درجہ کے کوز آوازوں کے روڑے تک ان کے آہنگ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس غالب کو ز آوازوں سے زیادہ سروکار نہیں رکھتے۔ وہ فارسی صوتیاتی آہنگ کے چلتے سروں میں گاتے ہیں۔ چلتے سروں کی صوتیاتی توجیہ یہ ہے کہ وہ عربی و فارسی چستانی آوازوں (رگڑ کے ساتھ پیدا ہونے والی آوازیں، مثلاً خ،ش،ف، ز وغیرہ) سے اپنا صوتی آہنگ تیار کرتے ہیں اور بیشتر انھیں ن، م، کی انفی موسیقی کا پس منظر عطا کرتے ہیں۔ یہی آہنگ اقبال کا ہے۔ صوتیاتی نقطۂ نظر سے میر کے انداز کی ناتمام توسیع فراق کے کلام میں ملتی ہے۔ جو صوتیات اور آہنگ دونوں کی سطح پر بے شمار ’پیوند‘ پیش کرتی ہے۔
اردو شاعری کے صوتی تار و پود میں ق، خ اور غ بہت کم اثرانداز ہوئے ہیں۔ ق کی صوتی قدر سے اردو داں طبقہ کا بڑا حصہ (مغربی پاکستان بہ استثنیٰ سرحد) بے بہرہ ہے۔ خ اور غ بھی لہاتی یا غشائی چستانی آوازیں ہونے کی حیثیت سے ہندی آوازوں سے بہت زیادہ ہم آہنگ نہیں۔ میر کے دل کی تپش اور اقبال کے فکر کی روشنی بھی صوت کی ان اکائیوں کو فردوسِ گوشہ نہ بنا سکیں۔
ہم اور تیری گلی سے سفر دروغ دروغ
کہاں دماغ ہمیں اس قدر دروغ دروغ
تم اور ہم سے محبت تمھیں خلاف خلاف
ہم اور الفتِ خوبِ دگر دروغ دروغ
کسو کے کہنے سے مت بدگماں ہو میر سے تو
وہ اور اس کو کسو پر نظر دروغ دروغ
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
ہجوم کیوں ہو زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
(اقبال)
ان غزلوں پر اعتراض معنوی حیثیت سے صرف صوتی حیثیت سے عائد ہوتا ہے بلکہ جب یہ خیال آتا ہے کہ خود اقبال کے کانوں میں ’ق‘ کا نغمہ ’ک‘ کی شکل میں نمودار ہوا ہوگا تو لہاتی منہ بند آواز (ق) کی حلقیت ختم ہوجاتی ہے اور اس کی بجائے غشائی منہ بند آواز ’ک‘ کا نغمہ سنائی دیتا ہے جس سے ہمارے کان آشنا ہیں۔
اردو شاعری کے صوتیاتی تجزیے سے تنقید شعر کی بعض اصطلاحوں کا بھی علمی جواز مل جاتا ہے جنھیں اساتذہ نے قدیم زمانے سے استعمال کیا ہے، ان میں قابل ذکر تنافر لفظی اور نقص روانی ہیں۔ عیب تنافر کے زیرعنوان حسرت موہانی ’معائب سخن‘ میں لکھتے ہیں:
’’جب کسی شعر میں دو ایسے لفظ متصل آجاتے ہیں جن میں سے پہلے لفظ کا حرف آخر وہی ہوتا ہے جو دوسرے لفظ کا حرفِ اول ہوتا ہے تو ان دونوں حرفوں کے ایک ساتھ تلفظ میں ایک خاص قسم کا ثقل اور ناگواری پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا نام عیب تنافر ہے۔‘‘
مثالیں: ع
آنکھوں میں عالم سارا سیاہ ہے اب
(سیاہ ہے) میر ع
اس کی چشم سیہ ہے وہ جس نے
(سیہ ہے) میر ع
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
(خلق کو) غالب ع
اشک کو بے سروپا باندھتے ہیں
(اشک کو) ع
اب عشق کو درکار ہے اک عالم حیرت
(عشق کو) ع
اے ذوق دیکھ! دختر رز کو نہ منہ لگا
(دختر رز) ع
اس کی تمکینِ ناز سے مجروح
(تمکینِ ناز) ع
مخمور مجھے بادۂ سرخوش سے چھکایا
(سرخوش سے)
قدیم تنقید میں حرف اور لفظ دونوں کا تصور غلط ہے اس لیے کہ عیب تنافر صوتیات کا مسئلہ ہے، نہ کہ رسم الخط اور صرف کا۔ اوپر تنافر کی جس قدر مثالیں دی گئی ہیں ان کے صوتیاتی اصول ذیل میں مرتب کیے جاتے ہیں:
.1 ایک ہی آواز، بالخصوص منہ بند آوازوں کی علی الترتیب ادائیگی مشکل ہوتی ہے ع
اشک کو بے سروپا باندھتے ہیں (ک۔ک) اس کی عضویاتی وجہ ظاہر ہے۔
.2 ہم مخرج آوازوں مثلاً، ک، گ، س، ز، وغیرہ کی علی الترتیب ادائیگی میں دشواری ہوتی ہے۔ ان میں سے پہلی غیرمسموع ہیں اوردوسری (گ۔ز) مسموع ہیں۔ا یسی صورت میں لازماً ادغام کا عمل پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے پہلی غیرمسموع آواز آنے والی مسموع آواز کے زیراثر مسموع بن جاتی ہے۔ یہ تبدیلیاں عام طور پر حسب ذیل اندازمیں ہوتی ہیں اور ان کا قدیم سنسکرت کے قواعد نویسوں نے بالتفصیل ’سندھی‘ کے نام سے مطالعہ کیا۔
غیرمسموع
مسموع
تبدیل شدہ شکل
پ ب ب ت د
د۔ع۔ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی (غالب)
تھ د
د۔ع۔ خونے تیری افسردہ کیا وحشتِ دل کو (غالب)
ٹ ڈ ڈ ٹھ ڈ ڈ ک گ گ چ ج ج ف و د س ز ز خ غ غ
یہ عمل الٹا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر لفظ میں آواز پہلے اور غیرمسموع بعد کو واقع ہو۔ مثلاً :
غیرمسموع
مسموع
تبدیل شدہ شکل
ب پ پ د ت ت ز س
س۔ع۔ اس کی تمکین ناز (س) سے مجروح
گ ک
ک۔ع۔ مدد اے مرگ (ک)! کہ گھیرا ہے قصا نے ہم کو
غ خ
خ۔ع۔ اے داغ (خ)! خاک پائے رسولِ خدا ہیں ہم
.3 قریب المخرج آوازوں میں تنافر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ادائیگی کے وقت روانی میں مخرج قریب ہونے کی وجہ سے وہی عضویاتی دقت پڑتی ہے جو ایک ہی آواز کو علی الترتیب ادا کرنے میں ہوتی ہے۔ ع
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
یہاں ’ق‘ حلقی ہے اور ’ک‘ غشائی ع
مخمور مجھے بادۂ سرخوش سے چھکایا
یہاں ’ش‘ اور ’س‘ قریب المخرج چستانی تلفظ کی آوازیں ہیں۔ ’ش‘ تالو کی آواز ہے اور ’س‘ دانتوں کے پیچھے سے برآمد ہوتا ہے۔ ’س‘ کی ’ش‘ میں تبدیلی تاریخی صوتیات کا ایک دلچسپ مظہر بھی ہے۔
ماخذ: اردو میں لسانی تحقیق، مرتب: پروفیسر عبدالستار دلوی، سنہ اشاعت: 2015، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی