نسلی لسانیات یا بشریاتی لسانیات اور سماجی لسانیات،مضمون نگار:گیان چند جین

April 22, 2025 0 Comments 0 tags

بشریات (Anthropology) کا موضوع انسان ہے۔ نام کے مطابق تو اس علم میں انسان سے متعلق جملہ علوم کو شامل ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے ہو بھی نہیں سکتا۔ یہ قبل تاریخ انسان کا اور موجودہ پس ماندہ انسانوں ہی کا مطالعہ کرتی ہے۔ نسلی لسانیات بشریاتی نقطۂ نظر سے لسانیات کا مطالعہ ہے جس میں کسی نسل کی زبان کو اس کی ثقافت کے پس منظر میں دیکھا جاتا ہے۔ بشریات کے دو خاص شعبے بشریات اور ثقافتی نشریات ہیں۔ طبعی بشریات میں انسانی نسل اور نسلی تقسیم کو دیکھا جاتا ہے۔ ثقافتی بشریات میں پچھڑے ہوئے قبیلوں کی معاشرت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
طبیعی بشریات کا لسانیات سے کوئی تعلق نہیں بجز یہ تسلیم کرنے کے کہ نسل اور وراثت کا زبان سے کوئی پیدائشی رشتہ نہیں ہوتا یعنی نسل وراثت کسی شخص کی زبان کے ڈھانچے کو متعین نہیں کرتی۔ ثقاقتی بشریات اہل لسانیات کے نقطۂ نظر کو وسیع کرتی ہے۔ یورپ میں لسانیات کا ارتقا فائلالوجی سے ہوا جہاں لسانیات کو ادب کی توسیع سمجھا گیا۔ امریکہ میں لسانیات نے بشریات سے نشو و نما پائی جہاں مختلف ریڈ انڈین قبائل کی زبان کا مطالعہ کیا گیا۔
ساخت کے اعتبار سے پس ماندہ زبانوں میں بڑے اختلافات ملتے ہیں۔ ترقی یافتہ زبانوں میں اسم و ضمیر کی جنس، تعداد اور حالت اور فعل کے زمانے اور تعداد کو جتنی قطعیت سے ادا کیا جاتا ہے ابتدائی زبانوں میں کہاں تھا۔ ملائے جیسی ترقی یافتہ زبان ان امورمیں کتنی پچھڑی ہوئی ہے۔ بہت سی قبائلی زبانوں میں قواعدی رشتوں کو ادا کرنے کے لیے چسپیے نہیں ہوتے بلکہ محض مقام سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ کون سا لفظ فاعل ہے کون سا مفعول، قواعد کی بنا پر زبانوں کی مرکبی اور تحلیلی تقسیم مشہور ہے۔ بعد میںا نھیں غیرترکیبی، شمولی، امتزاجی اور تصریفی میں تقسیم کردیا گیا۔ قبائلی زبانوں میں زیادہ تر شمولی ہے اور کچھ امتزاجی ہیں۔ تصریفی تو کوئی ہے ہی نہیں۔
پچھڑی ہوئی زبانوں میں مفاہیم کو ادا کرنے میں تعمیم ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں مثلاً:
ریڈ انڈین زبان میں توڑنے، پھاڑنے، کاٹنے، دانتوں سے کترنے کے لیے الگ الگ الفاظ نہیں ایک ہی لفظ ہے جس کے معنی ’کاٹا جانا‘ ہے ’توڑنے‘ کو وہ دباؤ سے ’کاٹا جانا‘ پھاڑنے کو کھینچنے سے ’کاٹا جانا‘۔ کاٹنے کو ’کاٹنے سے کاٹا جانا‘ کہتے ہیں۔ ریڈ انڈین Haidov زبان میں بیانی الفاظ کا اور زیادہ اضافہ کیا جاتا ہے۔ ان زبانوں میں فعل کے مقابلے میںا سما کو ظاہر کرنے والے الفاظ میں نسبتاً زیادہ تخصیص ہوتی ہے اور اگر نہیں ہوتی تو ان میں بھی تخصیصی فقروں کا اضافہ کرلیا جاتا ہے مثلاً ہماری زبان میں دیکھیے چیز، بات کتنے عمومی اسم ہیں۔ ان میں فقروں کے اضافے سے مفہوم کو محدود کرلیا جاتا ہے کھانے کی چیز؟ پینے کی چیز وغیرہ۔
لیکن یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ ابتدائی زبانوں میں مفاہیم ترقی یافتہ زبانوں کی نسبت عمومی ہی ہوتے ہیں۔ ان کی تہذیب میں جن اشیا کی اہمیت ہوتی ہے ان کے بارے میں طرح طرح کی تفصیلات ملتی ہیں مثلاً ہمارے میدانی علاقوں میں آسمان سے برف نہیں گرتی۔ اس لیے ہم نے قیاس کرلیا کہ مشینی برف اور بارانی برف یکساں ہیں اس لیے دونوں کو ایک لفظ ’برف‘ سے ادا کیا۔ انگریزی میں ان دونوں کی تخصیص ہے لیکن اسکیمو زبانوں میں برسنے والا برف، زمین پر نرم برف، پھسلنے والا برف، بہنے والا برف، میٹھے پانی کا برف، نمکین پانی کا برف، یہ سب علیحدہ تصورات ہیں اور سب کے لیے علیحدہ الفاظ ہیں۔ ہندوستانی زبان میں گھوڑے کے لیے ایک لفظ ہے لیکن جن اقوام میں گھوڑے کی سواری میں خاص دلچسپی لی جاتی ہے، ان کی زبانوں میں گھوڑے کے رنگ، جنس اور چال وغیرہ کے اعتبار سے مختلف الفاظ ہوتے ہیں۔ شمالی امریکہ کی چک چی زبان میں رین ڈیر کی مختلف اقسام کے لیے مختلف الفاظ ہیں۔ جس طرح حیوانات کی ہر آواز کئی تصورات و جذبات کو ادا کرتی ہے اسی طرح ابتدائی زبانوں میں ایک ایک لفظ بہت سے عمومی اور پھیلے ہوئے تصورات کو ادا کرتا تھا لیکن جن شعبوں میں ان کے کلچر کو دلچسپی ہوتی ہے ان میں تخصیص سے کام لیا جاتا تھا۔
مفاہیم کے زمروں سے اس زبان کی تہذیبی صورت حال کا اندازہ ہوجاتا ہے مثلاً رشتوں کے الفاظ کو دیکھیے کہ ان میں عمر، جنس، پشت کے لحاظ سے تفریق کی گئی ہے یا نہیں کی گئی۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس معاشرے میں کسی رشتے کی اہمیت ہے، کسی کی نہیں۔ انگریزی کے Aunt، Uncle اور Cousin کے مقابلے میں دیکھے ہماری زبانوں میں کس قدر تفصیل ہے۔ وہاں سالے اور بہنوئی دونوں کے لیے ایک لفظ ہے۔ ہمارے یہاں بہن کے دینے اور لینے میں بڑا فرق ہے اس لیے دونوں کے لیے علیحدہ الفاظ ہیں۔ بہن اور بیٹی کو دینا اتنی سبکی کی بات ہے کہ سالا اور سسرا جو رشتے کے الفاظ ہیں گالی کے مترادف ہوگئے ہیں۔ ہماری زبان میں باپ کے بڑے اور چھوٹے بھائی کے لیے مختلف الفاظ ہیں لیکن اپنے بڑے یا چھوٹے بھائی کے لیے نہیں۔ بعض زبانوں میں ان دونوں میںبھی فرق کیا جاتا ہے مثلاً سنسکرت ہندی کا لفظ انج دیکھیے جس کے معنی چھوٹے بھائی ہیں۔ مامو اور چچا میں فرق کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ فرق سماجی اعتبار سے اہم ہے۔ جن قوموں میں رشتے داروں سے کم سروکار رہتا ہو وہاں بہتوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا رجحان ہوگا۔
کلچر اور زبان کے گہرے تعلق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی قبیلہ جدید تمدن سے ارتباط میں آتا ہے اور نئے تصورات حاصل کرتا ہے تو اس کی زبان بھی انھیں ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے۔ یہ راز مشنریوں کو بخوبی معلوم ہوتا ہے عموماً قبائلی لوگ واقعی تجربوں اور دکھائی دینے والے افعال سے تو آشنا ہوتے ہیں لیکن غیرمرئی تصورات بالخصوص اخلاقی قدروں مثلاً نیک، بد، خیر، شر وغیرہ کے بارے میں نہیں سوچتے۔ مشنریوں نے ان کی زبان سیکھ کر انھیں کے محاورے میں یہ تصورات ادا کرکے دکھا دیے اور اب یہ ان کی زبان کا جزو ہوگئے۔ پچھڑی ہوئی زبانوں میں صفات بھی کمی کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اسم ہی سے صفت کا تصور ادا کرنے میں مدد لی جاتی ہے مثلاً مفلس یا بیمار کی جگہ کہیں گے ’وہ شخص جس کے پاس افلاس ہے، یا ’وہ شخص جس کو بیماری ہے‘ اسکیمو زبانوں میں بڑے اور چھوٹے کا تصور مندرجۂ سابق طریقے ہی سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح زبان تہذیب کی حالت کی عکاس ہوتی ہے اور تہذیبی ضرورتوں کے ساتھ ارتقا کرتی رہتی ہے۔
زبان اور کلچر کے تعلق سے سپیرنے ایک فلسفیانہ نظریہ پیش کیا جسے اس کے شاگرد بنجامن وھورف نے اپنی کتاب Language, Thought, and Reality میں تفصیل سے پیش کیا۔ اسے سپیر وھورف ادعا (Spire Whorf Hypothesis) کہتے ہیں۔ اس کے مطابق کسی زبان کی جیسی ساخت ہوگی اس کے بولنے والے اسی کے مطابق اپنے اطراف کی دنیا کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں مثلاً ہند یورپی زبانوں میں فعل کے تین زمانے ماضی، حال، مستقبل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں وقت کا احساس بڑی وضاحت سے ہوتا ہے۔ لیکن ایک ریڈانڈین زبان ہوپی (Hopi) میں فعل میں صرف یہ پہلو اہم ہوتا ہے کہ کوئی کام ایک بار میں واقع ہوا یا بار بار دائروں یا ارتعاش کی شکل میں۔ یہ بعض زبانوں سے مماثل چیز ہے جس میں کسی فعل کی تکمیل یا عدم تکمیل ہی دیکھی جاتی ہے۔ اس طرح ہوپی شخص کو زمانے کا وہ شعور نہیں ہوتا جو ہمیں ہوتا ہے۔
ایک اور مثال دیکھیے۔ ہند یورپی زبانوں میں تین بنیادی اجزائے کلام اسم، صفت اور فعل ہیں۔ اسم و صفت کی وجہ سے ارسطوئی فلسفے میں شے اور وصف (عرض اور جوہر) کا تصور نمایاں ہوگیا۔ اگر یونانی زبان میں یہ زمرے نہ ہوتے تو ارسطو دنیا کو اس نقطۂ نظر ہی سے نہ دیکھتا۔ سپسیر کا خیال ہے کہ تمام زبانوں میں مضمر تجربات یکساں ہیں لیکن قائل اپنی زبان کی عینک سے ان کی تشکیل کرتا ہے۔
ذخیرۂ الفاظ اور مفاہیم سے تہذیب کی تاریخ بھی معلوم ہوتی ہے۔ مستعار الفاظ پر نظر کرنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس لسانی گروہ نے کس دوسرے لسانی گروہ سے ارتباط پیدا کیا، اس سے کیا لیا اور اسے کیا دیا۔ انگریزی نے ہندوستانی زبان سے پنڈت، ٹھگ، ڈکیت، جنگل، لوٹ جیسے الفاظ اور جرمن زبان سے غذا کی موٹی چیزوں کے نام اور سائنسی اصطلاحات لیں۔ دوسری طرف انگریزی نے فرنچ اور دوسری یورپی زبانوں کو کھیل کود کے الفاظ مثلاً میچ، گولف، فٹ بال، رگبی، بیس بال نیز نفسی ماندو بود کے الفاظ مثلاً کلب، فیشن ایبل وغیرہ دیے۔ قبائلی زبانوں میں فوقِ فطرت کو ظاہر کرنے والے الفاظ بہت اہم ہیں۔ Mana، Taboo اور Totem جیسے الفاظ ان قوموں کے مذہبی اور فوق فطری تصورات کے خزینے ہیں۔ ہماری زبان میں ان الفاظ کا بے کم و کاست ترجمہ نہیں ہوسکتا۔
بعض الفاظ و محاورات کے معنی اس زبان کی تہذیب ہی سے معلوم ہوتے ہیں مثلاً قدیم اطالوی میں حاضر کو خطاب کرنے کے لیے دو الفاظ Tu (واحد) اور Vas( جمع) تھے۔ بعدمیں تعظیم کے مراتب کے اعتبار سے چار الفاظ ہوگئے، tu، voi، lei اور loro۔ ان میں سے lei کے استعمال کی ایک دلچسپ تاریخ ہے اصلاً یہ لفظ your lordship کے معنی دیتا ہے۔ اب تعظیمی خطابیہ کے لیے عام طور سے استعمال ہونے لگا ہے۔ مسولینی کے عہد میں فاسسٹ حکومت نے فرمان جاری کیا کہ lei کا استعمال متروک قرار دیا گیا اس کی جگہ محض voi بولنا چاہیے۔ لوگوں کے ٹیلی فون چھپ کر سنے جاتے تھے کہ کہیں وہ leiکا استعمال تو نہیں کررہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہماری زبان میں ’آپ‘ کے استعمال پر پابندی لگا کر ’تم‘ بولنا ضروری قرار دے دیا جائے۔حکومت کی یہ کوشش ناکام ہوگئی اور lei کا ضمیر حاضر برقرار رہا۔
زبانوں میں زماں اور مکاں میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا نام ارتقا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھڑی ہوئی زبانوں میں تغیر اور ارتقا کی رفتار مہذب زبانوں کے مقابلے میں بہت دھیمی رہی ہے۔ ہر قبائلی زبان کے پیچھے تاریخی ارتقا کی اتنی ہی طویل مدت ہے جتنی کسی ترقی یافتہ زبان کے پیچھے لیکن قبائلی زبانوں کا حاضران کے ماضی بعید سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔ میکسکو کے ریڈ انڈینوں کی نہوا (Nahua) زبان سولہویں صدی میں جیسی تھی ذخیرۂ الفاظ کے علاوہ اب بھی تقریباً ویسی ہی ہے۔ گرین لینڈ کی اسکیموں بولیوں اور کناڈا کے دور افتادہ میکنزی ندی کے اسکیموں کی بولیوں میں کوئی خاص فرق نہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ صدیوں کے امداد میںیہ بولیاں زیادہ نہیں بدلیں۔ ان کے مقابلے میں مہذب زبانیں اتنی سرعت سے بدلتی رہتی ہیں کہ پانسو سے لے کر ہزارسال میں بالکل دوسری زبان کہلانے لگتی ہیں۔
اس تغیر کے سبب زبانوں کے بہت سے خاندان اور شجرے قائم ہوجاتے ہیں۔ بعض خاندان یا زبانیں بہت بڑے علاقے پر پھیلی ہوتی ہیں۔ بعض بہت مختصر قطعے ہیں۔ بعض لسانی خاندانوں کا پھیلاؤ تاریخی دور میں ہوا ہے مثلاً ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آریہ کب ایران گئے کب ہندوستان، کب یورپ۔ عربی زبان تاریخی دور میں شمالی افریقہ میں پھیلی ہے۔ ان لسانی فرقوں کی توسیع اور غلبے کے ساتھ ان علاقوں کی بعض زبانیں مرگئیں۔ دورِ حاضر میں بعض زبانیں ایسی ہیں جو کسی خاندان سے وابستہ نہیں کی جاسکتیں مثلاً کوریائی۔ قدیم زمانے میں اس طرح کی منفرد زبانوں کی تعداد اور زیادہ رہی ہوگی۔ اس پس منظر میں زبان اور نسل کے بٹوارے کا تقابلی مطالعہ دلچسپ ہوگا۔
زبانوں میں کچھ واضح اور قابل شناخت خاصے ہوتے ہیں۔ اصوات، قواعدی چسپیے، بنیادی الفاظ ایسے قطعی عناصر ہیں جن کے اشتراک یا مماثلت کی بنا پر زبانوں اور بولیوں کی آزاد یا تابع حیثیت کا تعین کیا جاسکتا ہے لیکن نسل کے خاصے یعنی طبیعی خصوصیات اتنی واضح اور جامع و مانع نہیں ہوتیں کہ ان کی بنا پر ہر فرد کی نسل قطعیت سے طے کی جاسکے مثلاً یوپی کے باشندوں کو دیکھیے طبیعی اعتبار سے کتنے مختلف قسم کے ٹائپ دکھائی دیتے ہیں۔ اسی لیے نسل یا طبیعی ٹائپ کے مقابلے میں زبانوں کا پھیلاؤ اور بٹوارہ انسانی تاریخ کو زیادہ وضاحت سے پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ملیشیا اور جزیرہ مدغاسکر کی زبان یکساں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی قبل تاریخی زمانے میں ملایا انڈونیشیا کے لوگ مدغاسکر گئے ہوں گے۔ گلگت اور شنا علاقے کی دردی زبانوں سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہاں آریوں کی ایک علیحدہ شاخ وارد ہوئی۔
عہدقدیم میںا یسی زبانوں کی تعداد وافر تھی جو کسی خاندان سے وابستہ نہ تھیں جن کی وجہ سے کل ملا کر زبانوں کی تعداد بہت کافی رہی ہوگی، انسانی نسلوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں۔ اس لیے یہ ماننا ہوگا کہ ایک ہی نسل کی مختلف اقوام مختلف زبانیں بولتی ہوں گی۔ عہد عتیق کے بارے میں ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں:
ا: ایک زبان کے تمام بولنے والے ایک نسل کے تھے۔
ب: دو یا کئی مختلف زبانوں کے بولنے والے بھی ایک ہی نسل کے ہوسکتے ہیں۔
دورِ حاضر میں پہلی صورتِ حال باقی نہیں رہی مثلاً امریکہ میں گورے اور حبشی دونوں انگریزی بولتے ہیں۔ ہندوستان کے پارسی ہند آریائی زبان گجراتی بولتے ہیں۔ شمالی ہند میں آسٹرک نسل والے ہند آریائی کی لسانی برادری میں ضم ہوگئے۔
عہدِ عتیق میں زبانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ بعد میں عاریت اور مماثلت کے سبب ان کے اختلافات کم ہوتے گئے۔ بڑے بڑے علاقوں میں مختلف خاندانوں کی زبانوں میں یکساں صوتی خصوصیات دیکھنے میں آتی ہیں۔ یہ صورت قدیم زمانے میں ان سب کے ایک دوسرے کے زیراثر آنے ہی سے پیدا ہوئی ہوگی مثلاً شمالی اور شمال مغربی امریکہ میں غشائی آوازوں کی کثرت ہے جب کہ مشرقی امریکہ میں ان کی کمی ہے یا مغربی یو ایس اے کے ریڈ انڈینوں میں (te)، (dl) (غیرمصیتی) جیسی آوازیں پائی جاتی ہیں۔ افریقہ کی بانتو زبانوں کی درکشیدہ چٹکار اصوات بش مین خاندان السنہ کے زیراثر در آئی ہوں گی۔ لیکن یکساں لسانی خاصے ہمیشہ ایک ہی منبع سے رونما نہیں ہوتے۔ بعض مثالوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دور دراز کی غیرمتعلق زبانوں میںا یسے یکساں خاصے پائے جاتے ہیں جو یقینا ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر ابھرے ہوں گے مثلاً سنسکرت اور عربی میں تثنیے کا صیغہ، دور دور کی زبانوں میں شمولی اور اخراجی ضمیر متکلم کا وجود جمع کے لیے تکرار سے کم لینا۔
مندرجہ بالا دو مختلف بلکہ مخالف صورتوں کی وجہ سے زبانوں کے گروہ نسلی گروہوں سے بہت مختلف ہوگئے ہیں۔
لسانیاتی طریقے نے نظریاتی طور پر بشریات بلکہ سماجیات کو بھی راہ دکھائی۔ صوتیات میں غیرضروری جزئیات اور فونیمیات میں مفید خصائص کا احساس پایا جاتا ہے۔ اسی طریق کی مماثلت پر غذا، ملبوس، تعمیر وغیرہ میں مفید (Functional) اور غیرضروری کا تصور لیا گیا ۔ بشریات میں ایک بحث ہے کہ کلچر گروہ کی دین ہوتی ہے کہ فرد کی لسانیات میں فرد بولی اور بولی کا تعلق موج و دریا کے رشتے کی طرح ہے۔ بولی بہت سی فرد بولیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ یہی حال کلچر کا ہے کہ وہ فرد میں بھی ہے اور مختلف افراد کے کلچر مل کر گروہ کے کلچر کی تشکیل کرتا ہے۔
علاقائی جائزے کے طریقے
یہ لسانیات کی علیحدہ شاخ نہیں بلکہ لسانی طریقۂ کار ہے جو بشریاتی لسانیات کی دین ہے۔ امریکہ میں لسانیات بشریات کے شاخسانے کے طور پر ابھری ہے۔ وہاں ریڈانڈینوں کی سیکڑوں زبانیں ماہرین لسانیات کے لیے ایک چیلنج تھیں۔ بو آس، سپیر اور بلوم فیلڈ وغیرہ نے ان کی طرف توجہ کی۔ ان کے سامنے مسئلہ تھا ایسی زبانوں سے واقفیت حاصل کرنا جنھیں اب تک کوئی گورا شخص نہ جانتا تھا اور ریڈ انڈین کسی دوسرے کی زبان نہیں جانتے تھے۔ ان ماہرین کی کوششوں سے انجان زبان کا اکتساب کرنے کے جو طریقے ابھرے ذیل میں ان کو مختصراً بیان کیا جاتا ہے۔
جو شخص کسی زبان یا بولی کا علم حاصل کرنے جاتا ہے اسے جائزہ کار (Surveyos) یا علاقائی کارکن (Field Work) کہتے ہیں۔ اس میں کچھ اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔
1 اس کو لسانیات بالخصوص صوتیات کا اچھا علم ہونا چاہیے۔
2 اس کا سامعہ صوتیاتی اعتبار سے ذکی الحس ہونا چاہیے یعنی وہ توجہ سے سن کر مختلف مصوتوں، مصمتوں، بل، صوت درجہ اور سُر لہر وغیرہ کا ادراک کرسکے۔
3 اسے تیزی سے لکھنے کی مشق ہونی چاہیے اور حتی الامکان صوتی تحریر میں نوٹ لینے چاہئیں۔
4 اس کا مزاج اور برتاؤ شگفتہ، ملنسار اور حلیم ہونا چاہیے تاکہ وہ اجنبیوں سے گھل مل کر انھیں مطلوبہ معلومات دینے پر آمادہ کرسکے۔
جس زبان یا بولی کے بارے میں اسے واقفیت حاصل کرنی ہے اسے چاہیے کہ اس زبان کے مقام اور باشندوں کے بارے میں کتابوں اور دوسرے ذرائع سے جو کچھ معلومات بہم پہنچ سکیں حاصل کرلے، بالخصوص وہاں کی معاشرت اور لسانی کیفیت کے بارے میں جو کچھ بھی معلوم ہوسکے وہ مفید ہوگا۔
جس اہل زبان فرد سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں اسے اطلاعی (Informent) کہتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اطلاعی کو اپنے یہاں بلا کر اس سے پوچھ پاچھ کر ریکارڈ کرلیا جائے لیکن یہ غیرفطری طریقہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ زبان کے اپنے خطے میں جاکر جائزہ لیا جائے کیونکہ وہاں اطلاعی اپنے فطری ماحول میںزیادہ فطری طریقے سے بولے گا نیز اس کی فراہم کردہ کسی معلومات کے بارے میں تذبذب ہو تو دوسرے اطلاعیوں سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر زبان یا بولی میں بعض الفاظ وہاں کی مخصوص اشیا کو ظاہر کرتے ہیں مثلاً کشمیر کی مخصوص انگیٹھی کانگڑی یا ہاؤس بوٹ کشمیر ہی میں جاکر دیکھی جاسکتی ہیں دور دراز کے علاقے میں ان کا ناقص تصور ہی دیا جاسکتا ہے۔
جائزے کے دو طریقے ہیں۔ ایک میںا یسے اطلاعیوں سے سابقہ پڑتا ہے جو اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان نہیں جانتے، اس طرح اطلاعی اور جائزہ کار کے بیچ کوئی مشترک زبان نہیں ہوتی۔ اس صورت میں جائزہ کار کو پوری قابلیت کے ساتھ اشاروں کے ذریعے سب کچھ پوچھنا پڑتا ہے۔ اس صورت حال کو ایک زبانی طریقہ (Mono-lingual method) کہتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اطلاعی اپنی زبان کے علاوہ ایسی کوئی زبان جانتا ہو جس سے جائزہ کار بھی واقف ہو۔ یہ طریقہ دو زبانی کہلائے گا۔ اگر دو زبانی اطلاعی میسر آسکے تو اسے یک زبانی اطلاعی پر ترجیح دی جائے گی کیونکہ مشترک زبان کے ذریعے پوچھنا آسان ہوجاتا ہے اور بہت کچھ پوچھا جاسکتا ہے۔ یک زبانی طریقے میں بہت سی دقتیں ہیں۔ یہاں یک زبانی طریقے کو پیش نظر رکھ کر ہی غور کیا جاتا ہے۔
اطلاعی کے انتخاب میں بہت چابک دستی کی ضرورت ہے۔ اطلاعی ایک سے زیادہ ہونے چاہئیں۔ اگر سوئِ اتفاق سے ایک ہی ہو تو وہ بچہ یا بوڑھا نہ ہوکر جوان یا ادھیڑ عمر کا ہو تو بہتر ہے۔ بچے کو زبان پر پورا قابو نہیں ہوتا اور وہ دیر تک بتانا بھی نہ چاہے گا۔ بوڑھے سے بھی تعاون کی اس قدر توقع نہیں۔ دو اطلاعی ہوں تو ایک نوجوان اور دوسرا سال خوردہ ہو تو بہتر ہے تاکہ دو نسلوں کی نمائندگی ہوسکے۔ ایسے اطلاعی زیادہ بہتر ہوتے ہیں جو باہر گھومنے پھرنے نہ گئے ہوں یا کم گئے ہوں۔ ان کی زبان زیادہ خالص اور محفوظ ہوگی۔ مرد کے علاوہ عورت اطلاعی بھی مل سکے تو اور بہتر ہے کیونکہ عورتوںکی زبان بیرونی اثرات سے نسبتاً مبرا ہوتی ہے۔ اطلاعی سمجھ دار اور شگفتہ مزاج ہو تو زیادہ مفید رہے گا۔ یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ اس کے اعضائے نطق معمول پر ہیں۔ اگر ان میں کوئی سقم یا فرق ہو تو وہ آوازوں کو صحت سے ادا نہ کرسکے گا۔ جذباتی یا بھڑبھڑ یا قسم کا اطلاعی بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ ایسا شخص بہتر ہوتا ہے جو صبر و سکون کے ساتھ گفتگو کرتا ہو۔ اچھا ہو کہ جائزہ کار اپنے ساتھ کچھ اشیا لے جائے اور وہ اطلاعی کو دکھائے۔ انھیں دیکھنے پر اطلاعی جو جملہ کسے گا اس کا مفہوم کچھ اس قسم کا ہونا چاہیے۔
اس کا کیا نام ہے؟
یہ کیا چیز ہے؟
اسے کیا کہتے ہیں؟
یہ جملہ دھیان سے سن کر لکھ لیجیے اور یاد کرلیجیے۔ آپ بھی اس کی اشیا کے بارے میں یہی جملہ کہہ کر پوچھ تاچھ کیجیے۔ مختلف اشیا کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے یا چھوکر دریافت کیا جاسکتا ہے۔ افعال کے بارے میں پوچھنے کی صورت یہ ہے کہ انھیں واقعی عمل میں لاکر دکھائیے مثلاً دوڑ کر، چل کر، لیٹ کر، بیٹھ کر، کھڑے ہوکر، کھاکر، پی کر وغیرہ۔ آہستہ آہستہ بہت سے الفاظ معلوم ہوجائیں گے۔
جائزہ کار کو چاہیے کہ زبان کے خطے میں جانے سے قبل ایک سوال نامہ تیار کرلے تاکہ اطلاعی کے سامنے سوچنا نہ پڑے کہ کیا کیا سوال کرنے ہیں نیز کوئی ضروری بات ذہن سے اتر نہ جائے۔ سوال نامے میں حسب ضرورت اندراج کیے جاسکتے ہیں لیکن یہ یاد رہے کہ پہلے قد کے طور پر ٹھوس چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا بہتر ہے، غیرمرئی تصورات بعد میں لیے جاسکتے ہیں۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بیشتر بنیادی الفاظ کے بارے میں علم حاصل کرلیا جائے تاکہ زبان یا بولی کا صحیح رشتہ قائم کرنے میں سہولت ہو۔
اول اسما کو لیجیے۔ اعضائے جسم کے بارے میں دریافت کرنا بہت سہل ہے۔ اس کے بعد خانگی سامان، فرنیچر، ظروف، ماکولات، ملبوسات وغیرہ کے بارے میں پوچھیے۔ ان کے علاوہ بیرون خانہ کے مشاغل، کاشتکاری، اناج،فصلیں،پھل پھول، ماہی گیری وغیرہ کے متعلقات پوچھے جاسکتے ہیں۔ مظاہرِ فطرت مثلاً چاند، سورج، زمین، آسمان، بادل، بجلی، ندی نالے پہاڑ، درخت، سبزہ نیز پالتو جانوروں وغیرہ کے بارے میں دریافت کرنا بھی مشکل نہیں۔ کسی طرح رشتے داریوں مثلاً ماں باپ، شوہر بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی بہن وغیرہ کے الفاظ معلوم کیجیے۔ غرضیکہ ان کی تہذیب کے جتنے اہم اسما کے الفاظ حاصل کیے جاسکیں وہ کرنے چاہئیں۔اس کے ساتھ ساتھ بنیادی افعال مثلاً چلنا، کھڑے ہونا، بیٹھنا، لیٹنا، سونا، کھانا، پینا وغیرہ بھی نہایت اہم ہیں۔ افعال کے بعد صفات کی منزل آتی ہے۔ اچھا، برا، چھوٹا، بڑا، لمبا،موٹا، پتلا وغیرہ۔ چونکہ یہ غیرمرئی تصورات ہیں اس لیے ان کو آسانی سے نہیں پوچھا جاسکتا۔ جب ایک لسانی برادری میں رہتے رہتے کچھ عرصہ گزر جائے گا تب ان کا عرفان حاصل کرنا ممکن ہوگا۔ صفات سے زیادہ اہم اور زیادہ آسان اعداد ہیں۔ زبان کا اعدادی نظام کلچر کے بنیادی عناصر میںہوتا ہے۔ زبان کو کسی قدر جان لینے کے بعد جملوں، محاوروں ، کہاوتوں، لوک گیتو ںاور لوک کہانیوں وغیرہ کو پوچھ کر ضبط تحریر میںلانا ہوتا ہے۔
جائزہ کار کو انسانی نفسیات، انسانی تعلقات اور برتاؤ کا ماہر ہونا چاہیے۔ اس میں اور اطلاعی میں تہذیبی،ذہنی اور علمی حیثیت سے بہت تفاوت ہوتا ہے۔ اطلاعی کو زیادہ باتیں کرنے اور بتانے میں پس و پیش ہوسکتا ہے۔ وہ جائزہ کار کو شبہ کی نظر سے بھی دیکھ سکتا ہے کہ کہیں وہ کسی معاندانہ مقصد سے تو نہیں آیا۔ جائزہ کار کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے تمام شبہات کا ازالہ کرکے خود کو اطلاعی کی سطح پر لے آئے اور اس کا اعتماد حاصل کرلے۔ اس سے سب کچھ اس طرح دریافت کرے جیسے ایک شاگرد استاد سے کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمام استفسارات کے جواب صوتی تحریر میں لکھ لینے چاہئیں۔ ساتھ ہی ہر بات کا مطلب یا اس پر تبصرہ لکھ لینا چاہیے۔ جس بات میں کچھ شبہ ہو اسے اسی اطلاعی سے یا کسی دوسرے سے دوبارہ پوچھ لینا چاہیے۔
جملہ معلومات حاصل کرنے کے بعد دریافتنی زبان کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے اس کی آوازوں اور فونیموں کا تعین کیا جاتا ہے تاکہ اسے ایک رسم الخط دیا جاسکے۔ یہ خط بسااوقات رومن رسم الخط کی ترمیم شدہ شکل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ زبان کا قواعدی اور معنوی جائزہ لیا جاتا ہے جس کی روشنی میں اس زبان کی قواعد اور فرہنگ مرتب کی جاتی ہے۔ یہ قواعد اور فرہنگ روایتی انداز کی بجائے لسانیاتی نہج کی ہوں تو زیادہ کارآمد ہوتی ہیں۔
نئی زبانوں کی پہلی جانکاری حاصل کرنے کے سلسلے میں مشنریوں نے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے امریکہ، افریقہ، آسام وغیرہ کے قبیلوں میں سرایت کرکے وہاں کی زبانوں سے واقفیت بہم پہنچائی۔ لیکن ابھی متعدد قبائلی زبانوں کے بارے میں کتابیں تیار نہیں ہوئیں۔ ان پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔
سماجی لسانیات (Socio-linguistics)
یہ لسانیات کی ایک نئی شاخ ہے۔ اس میں زبان کا مطالعہ سماجی سیاق میں کیا جاتا ہے۔ Fishermant نے اسے زبان کی سماجیات کہا ہے اس کی مرتبہ کتاب کا نام Readings in the Sociology of Language ہے۔ نسلی لسانیات اور سماجی لسانیاتی میں وہی تعلق ہے جو ثقافتی بشریات (Cultural anthropology) اور سماجیات میں ہوتا ہے۔ ثقافتی بشریات میں پچھڑے ہوئے قبیلوں یا عہد عتیق کے معاشروں کے کلچر کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ سماجیات میں بالعموم عصری سماج کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ سماجی لسانیات،سماجیات اور لسانیات کو ملانے والا عبوری مطالعہ ہے۔ سماج میں جتنی وسعت، تنوع، پیچیدگیاں اور مسائل ہوتے ہیں سماجی لسانیات کے موضوع بھی اسی قدر متنوع ہوتے ہیں۔
ایک ترقی یافتہ اور مکمل زبان کئی بولیوں او راسالیب کا وفاق ہوتی ہے اس میں کچھ اس قسم کے بٹوارے پائے جاتے ہیں:
1 علاقائی بولیاں اور معیاری زبان۔
2 سماجی طبقوں اور معاشی گروہوں کی روزمرہ بابو لیاں۔
3 ایک شخص کی زندگی مختلف مشاغل یا حلقوں میں بٹی ہوتی ہے مثلاً خاندان، اسکول، کلب، سرکاری کام کاج، معاشی حلقہ وغیرہ۔ یہ اس زبان کے اسلوب اور موضوع کا انتخاب کرتے ہیں۔
یہ تو ایک زبان کی کیفیت تھی لیکن موجودہ معاشروں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک لسانی نہیں دو لسانی یا کثیر لسانی ہیں۔ ان میں متعدد افراد ایسے ہوتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں بولتے یا سمجھتے ہیں۔ انھیں ان زبانوں پر کتنا عبور ہے یہ ان کی سماجی زندگی پراثرانداز ہوتا ہے۔ سماجی لسانیات ان سب پہلوؤں کا مطالعہ کرتی ہے۔ ہم ان پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔
جو زبان بہت چھوٹے علاقے میں مرکوز ہو ممکن ہے اس میں ایک ہی بولی ہو ورنہ بیشتر زبانوں میں علاقائی اعتبار سے ایک سے زیادہ بولیا ںہوتی ہیں۔ ان بولیوں میںایک بولی معیاری زبان یا معیاری بولی بن جاتی ہے۔ یہی زبان کی مرکزی نمائندہ ہوتی ہے۔ کسی بولی کا معیاری قرار پانا غیرلسانی وجوہ سے ہوتا ہے مثلاً وہ دارالسلطنت یا کسی مقدس مقام کی بولی ہے۔ بالفاظ دیگر اس کے بولنے والے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ اس طرح معیاری زبان کا تعین سماجی عوامل کی بنا پر ہوتا ہے۔
خود معیاری زبان میں بھی کئی سطحیں ہوتی ہیں نیز وہ اپنے علاقے سے باہر بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس طرح اس کا پست معیار، دیہاتی بولی اور صوبائی معیار بھی ہوتا ہے۔ یہ تمام قسمیں ساخت کی بنا پر ہوتی ہیں۔ معیاری بولی اور دوسری بولیوں کا فرق سبھی لسانی بنیادوں پر ہوتا ہے لیکن ان سب کے پیچھے کچھ سماجی اور نفسیاتی عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ معیاری زبان کے ساتھ ایک برتری اور وقار کا احساس وابستہ ہوتا ہے جب کہ پست معیار اور صوبائی معیار کو ساقط از معیار مانا جاتا ہے۔ مثلاً دلی اور لکھنؤ کے شرفا کی اردو کا جو منصب تھا وہ عوام کی اردو یا پنجابی اردو، بھوپالی اردو یا حیدرآبادی اردو کا نہیں۔ اہل لکھنؤ فیض آباد اور ہردوئی وغیرہ کے باشندوں کو بھی لسانی اعتبار سے دیہاتی کہتے ہیں۔
معیاری زبان اور علاقائی بولیوں کا تعلق بھی محض علاقائی نہیں ہوتا بلکہ سماجی بھی ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ ہندی کی معیاری زبان کھڑی بولی مغربی یوپی اور دلی میں محدود ہے اور ہریانی برج یا اودھی وغیرہ اپنے اپنے علاقوں میں۔ ہوتا یہ ہے کہ معیاری زبان دوسری بولیوں کے علاقے میں درانداز ہوکر توقیر کی مسند پر قبضہ کرلیتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بولی وہ زبان ہے جو نفیس سوساٹی ہے بدر کردی گئی ہو یعنی ہر مہذب موقع پر معیاری زبان کا استعمال ہوتا ہے بے تکلفی کے موقعوں پر بولی کا۔
اگر ایک ملک میں کئی معیاری زبانیں ہوتی ہیں تو ان میں سے ایک قوی زبان بن جاتی ہے۔ مثلاً ہندوستان میں ہندی اور اگر ایک سے زیادہ قوی زبانیں ہوتی ہیں تو ان میں ایک زیادہ اہمیت اختیار کرلیتی ہے مثلاً پرانے پاکستان کی دو قومی زبانوں اردو اور بنگالی میں اردو زیادہ اہم تھی یا سوئٹرزلینڈکی تین قومی زبانوں میںجرمن زیادہ اہم ہے۔ کثیر لسانی اقوام میں مرکزی قومی زبان کے ساتھ اسی طرح کی وقعت وابستہ ہوتی ہے جس طرح بولیوں کے بیچ معیاری زبان کو۔ یہ قومی زبان دوسری معیاری زبانوں کے دائرے میں گھس کر ان پر غلبہ پانے کی کوشش کرتی ہے مثلاً ہندوستان میں دوسری زبانوں کے علاقے میں بھی ہندی کا استعمال ہوتا ہے یا پاکستان میں بلوچستان اور پنجاب جیسے صوبوں نے اپنی زبان اردو قرار دی ہے۔ بعض قومی زبانیں تو دوسری قومی زبانوں کی سرحد میں گھس کر ان کو دبانے لگتی ہیں جس طرح انگریزی نے ہندوستان میں ہندی کو اور پاکستان میں اردو کو دبایا ہوا ہے یعنی قومی زبانیں بین الاقوامی زبان بن جاتی ہیں اور دوسری زبانوں کے مقابلے میں برتری کا دعویٰ کرنے لگتی ہیں۔ امریکیو ںکے لیے ہندی اسی طرح کم رتبہ زبان ہے جس طرح ہندی والوں کے لیے اڑیہ یا آسامی۔ امریکہ کے رسالے News Week میں ہندی کے لیے ذیل کا توصیفی فقرہ لکھا تھا:
A relativity primitic & language sadly deficient in scientific and technical.
علاقائی اعتبار سے زبانوں اور بولیو ںکا بٹوارہ عمودی تقسیم ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک زبان کے اندر افقی اعتبار سے بھی تقسیم ہوتی ہے۔ ایک لسانی قوم میں طرح طرح کے طبقے اور گروہ ہوتے ہیں جن کا روزمرہ (Jargon) کسی حد تک مختص ہوتا ہے۔ ایسے گروہ ذیل کی بناؤں پر قائم کیے جاسکتے ہیں:
1 سماجی طبقے یعنی طبقۂ بالا، طبقۂ متوسط، طبقۂ زیریں۔
2 تعلیم کی بنا پر یعنی زیادہ پڑھے لکھے، اوسط یا کم پڑھے لکھے، بے پڑھے لکھے۔ جدید علوم پڑھے ہوئے یا کلاسکی طرز پر پڑھے ہوئے۔
3 پیشہ ورانہ طبقے یعنی انجینئر، ڈاکٹر، معلم، وکیل، منیم اور آڑھتی، مستری، شہری، مزدور، کسان وغیرہ۔
4 مذہبی بنا پر ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی، یہودی وغیرہ۔
5 ایک ہی زبان کے بولنے والو ںمیں قومیت کی بنا پر مثلاً امریکہ کے انگریزی بولنے والوں میں جرمن الاصل، ہندوستانی الاصل، انگریزی الاصل یا ہندی بولنے والوں میں بنگالی نژاد، پنجابی نژاد، مراٹھی نژاد، گجراتی نژاد۔
6 عمر کی بنا پر بوڑھے، جوان، بچے۔
ان سماجی زمروں کو انگریزی میں Social Variables کہا گیا ہے۔ ان کے زیراثر زبان کی مختلف سطحوں یعنی صوتیات، صرف، نحو، معنیات اور ذخیرۂ الفاظ سب میں کم و بیش کچھ فرق آجاتا ہے۔ طبقاتی یا گروہی فرق صوتیات اور ذخیرۂ الفاظ میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ اول اصوات کو لیجیے۔ کسی قسم کی بولی کی تعین میں یہ سب سے نمایاں نشاں گر ہوتی ہیں۔ اہل اردو میں ایک محاورہ رائج ہے، شین قاف درست ہونا، یہ درستی محض سماجی اسباب سے ہوتی ہے۔ ہندوستانی بولنے والے علاقے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی زبان کا خاص فرق یہی ہوتا ہے کہ مسلمان عموماً ش، ق، ز، ف وغیرہ کو صحیح ادا کرتے ہیں اورہندوان میں صوتی تبدیلی کرکے انھیں مماثل دیسی تہہ داروں یعنی س، ک، ج، پھ وغیرہ میں بدل لیتے ہیں۔ خواندہ اور ناخواندہ شہری اور دیہاتی میں بھی یہی فرق ہوتا ہے۔ مصمتی خوشوں کی یہ کیفیت ہے کہ لفظ کی ابتدا یا انتہا کے خوشوں کو اہلِ ہندی درست بولتے ہیں اور اردو والے بالخصوص مسلمان انھیں توڑنے پر مائل ہوتے ہیں وہ پریمی، کلب، رجیندر، کرشن چندر کو بالترتیب پ، ک، د، د مفتوح سے بولنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اسی طرح اہل اردو پنڈت، امرت کو پنڈت، امرت بولتے ہیں۔ ہندوؤں میں چاچا، تاؤ، ماما کہا جاتا ہے اور مسلمانوں میں چچا، تایا، ماموں۔ یہ سب سماجی فرق ہیں۔ بے پڑھوں کا لائن، سگنل، لکھنؤ کولین، سنگل، لکھنؤ کہتا بھی ان کے سماجی زمرے کا اثر ہے۔
صرف میں خالص سماجی اسباب سے فرق کم دیکھنے میں آتا ہے مگر پھر بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ خود ہمارے ہندوستانی علاقے میں کیا، کرا۔ کی، کری۔مجھے، میرے کو۔ مجھ پر، میرے پر۔ اسی، اسی ہی۔ انھیں، ان ہی۔ لو، لیو۔ لیجیو، لیجو۔ ہے، ہے گا جیسے اختلافی صرف استعمال دیکھنے میں آتے ہیں۔ کرا، کری، ہے گا جیسے روپ کم پڑھے لکھے ہی استعمال کرتے ہیں۔ وہ مرکب افعال کو اکثر مختصر کردیتے ہیں مثلاً ’دیکھتے ہیں‘ کو دیکھتیں۔ تو کیا کرتا ہے، کو’تو کیا کرے‘ بولتے ہیں۔ ذیل کے استعمال اردو پڑھے لکھوں تک محدود ہیں ہندی پس منظر والوں کے بس کے نہیں۔
دیکھا لیے۔ بجا چاہتے ہیں۔ مستی پابندِ حامل نہیں ہونے کی۔
نحو میں بھی سماجی اثرات دیکھنے میں آتے ہیں۔ اردو میں تعظیمی ضمیر اور فعل کا استعمال (مثلاً آپ آئیے، آپ کھانا کھائیے) طبقۂ بالا، شہریوں یا اردو پڑھے لکھوں میں زیادہ رائج ہے۔ کم پڑھے ان کو اس طرح مسخ کرتے ہیں۔
آپ آؤ، آپ کھانا کھاؤ
جملے کے مختلف اجزا میں جنس اور عدد کی جو مطابقت ہوتی ہے وہ بعض صورتوں میں مختلف سماجی طبقوں میں بدل جاتی ہے۔ لفظوں کی تذکیر و تانیث کا فرق نحو ہی کے تحت آتا ہے ذیل کے استعمال بھی اردو پس منظر میں رونما ہوسکتے ہیں۔
غالب کے خصوصیات لکھیے:
مجھے اتنی پریشانی اٹھانا پڑی
(بہ مقابلہ
اٹھانی پڑی)
آپ کو یہ آم کھانا ہوں گے
(بہ مقابلہ
کھانے ہوں گے)
اور انگریزی زدہ حضرات اپنے ہندوستانی جملوں میں نحوکو انگریزی طرز پر ڈھال دیتے ہیں۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ نحو زبان کے زیادہ مضبوط اور قائم عناصر میں ہوتا ہے۔ طبقاتی اثرات سے نحو میں فرق کی مثالیں کم دیکھنے میں آتی ہیں۔ اسی طرح معنیات میں اصطلاحوں سے قطع نظرزیادہ اختلاف نہیں ملتا۔
اصطلاح کی صورت یہ ہے کہ بھوپال میں معمار اور ٹھیکیدار سیمنٹ کے مسالے کو مال کہتے ہیں یا کرکٹ کے میدان میں duch اور eatih کے مخصوص معنی ہوجاتے ہیں۔ یہ طبقاتی بولی کے استعمال ہیں لیکن معنی کی یہ تبدیلی سماجی اسباب سے کم تکنیکی اسباب سے زیادہ ہے اس لیے ہم اس سے قطع نظر کرسکتے ہیں۔ ہاں بعض اوقات خالص سماجی اعتبار سے بھی معنی بدل جاتے ہیں۔ کم پڑھے لکھے لوگ عالمانہ لفظوں کو غلط معنی میں بول جاتے ہیں مثلاً میں نے اردو سے ناواقف ایک شخص کو ’کوئی ہرج نہیں‘ کے مفہوم میں کوئی حرکت نہیں، بولتے سنا ہے۔ اسی طرح عوام پریشانی کے مفہوم میں حیرانی کا لفظ بولتے ہیں مثلاً:
مجھے بے کار اسٹیشن تک بھیج کر حیران کیا
سماجی وجوہ سے سب سے زیادہ فرق لفظیات اور محاوروں پر پڑتا ہے۔ معاشی، علمی، مذہبی، تہذیبی اعتبار سے مختلف گروہو ںکا مرغوب ذخیرۂ الفاظ ہوتا ہے جو دوسرا گروہ اتنی کثرت سے استعمال نہیں کرتا۔ مولوی اور پنڈت، ایکٹر اور منیم کا ذخیرۂ الفاظ یکساں نہیں ہوتا۔ ہندوؤں میں رسوئی، بھگوان، ایشور، موسا؟؟ جیسے الفاظ کا استعمال کیا جائے گا تو مسلمانوں میں اس کے مقابل باورچی خانہ، خدا،اللہ، خالہ، خالو وغیرہ کا۔ جنسیات اور فطری حاجات سے متعلق الفاظ اور محاوروں کو دیکھیے مختلف طبقوں حتی کہ مردوں اور عورتوں تک میں کتنا اختلاف ہوتا ہے۔ کچھ گالیاں مردوں سے مخصوص ہیں تو کچھ کوسنے عورتوں سے۔
موجودہ سماجی لسانیات کے مطالعے کا ایک دلچسپ موضوع ہے، لسانی آداب جس میں خطاب کے طریقے بہت اہم ہیں۔ ہم کس کو پہلے نام سے پکارتے ہیں کس کو آخری نام سے کس کے نام کے پہلے یا بعد میں کون سا تعظیمی لفظ لگاتے ہیں اس کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ ایک عوامی کہاوت ہے ؎
مایا تیرے تین نام پرسی، پرسا، پَرَس رام
دراصل دولت یا سماج کے اعتبار سے تین نام ہی نہیں کئی نام ہوتے ہیں۔ بہتوں کو ہم نام سے بلا ہی نہیں سکتے، ان کے عہدے یا رشتے ہی سے کام چلاتے ہیں۔ لسانی آداب کے باب میں دو زبانیں بہت متمول ہیں۔ اردو اور جاپانی۔ اردو میں لسانی تکلفات کی جو بھرمار ہے وہ انیسویں صدی کے لکھنؤ میں اور بھی زیادہ تھی۔ جن الفاظ سے والیانِ ملک کو مخاطب کیا جانا چاہیے ان سے عام رؤسا کو خطاب کیا جاتا تھا، حضور، سرکار، خداوند۔ بادشاہوں کو جہاں پناہ، دولت مآب، ان کے کھانے کو خاصہ اور پانی کو آب حیات کہنا یہ سب سماجی اثرات ہیں۔ جاگیردارانہ نظام اور ہر نظام کے طبقۂ بالا میں تکلفات کی زبان زیادہ عام ہوتی ہے مثلاً اردو میں: دولت خانہ، غریب خانہ، عرض کرنا، فرمانا، تشریف رکھیے، سماعت فرمائیے، پان نوش کیجیے، پان ملاحظہ کیجیے وغیرہ۔
جاپانی زبان میں ضمیر حاضر کے لیے چھ سات روپ ہیں جو مختلف طبقوں کے لیے مخصوص ہیں چنانچہ ان میں سے بعض بادشاہوں ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شاہی خاندان اور طبقۂ رؤسا کے لیے متعدد الفاظ عوام سے مختلف ہیں لیکن اب ان میں کمی آتی جارہی ہے۔
ایک شخص کی زندگی مشاغل کے اعتبار سے مختلف حصاروں میں بٹی ہوئی ہے۔ یہ لسانی موضوع اور الفاظ کا انتخاب متعین کرتے ہیں۔ 1932 میں Schmidt-Rolar نے جرمنوں کے لیے ذیل کے نو لسانی حلقے (Linguistic domain) قرار دیے۔
خان دان، کھیل کا میدان اور کوچہ۔ اسکول۔ کلیسا۔ ادب۔ پریس۔ فوج۔ عدالت۔ سرکاری ادارے۔
بعد میں دوسروں نے انھیں کم زیادہ کیا۔ ہندوستانی معاشرے کے اعتبار سے ہم حسب ضرورت لسانی برتاؤ کے حلقے قائم کرسکتے ہیں۔ بعض نے زبان کے رسمی (Formal) اور بے تکلفی استعمال کی قسمیں کیں جو اہم ہیں۔
پڑھا لکھا شخص مختلف موقعوں پر مختلف قسم کی زبان کا استعمال کرتا ہے۔ اس کی بآسانی دو قسمیں کی جاسکتی ہیں۔ تحریری اور بول چال کی یا پرتکلف اور بے تکلف یا اونچی اور نیچی۔ اسٹیج اور کلاس میں بولنے کا اسلوب گھر میں اور دوستوں سے بولنے کے اسلوب سے مختلف ہوتا ہے۔ فرگسن نے 1959 میں اونیچ اور نیچے اسلوب کو Dig lossial کی اصطلاح دی۔ 1967 میں Fishman نے اس تصور کو اور ترقی دی Aiatype اور گریگوری (1967) انھیں Hangen کہنا پسند کرتے ہیں اور Denism انگریزی کی حد تک انھیں Schizoglossia کہتا ہے اردومیں ہم اسے لسانی ثنویت کہہ سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ کتابوں میں جو مکالمے دیے ہوتے ہیں وہ بول چال کی زبان کو ہوبہو پیش نہیں کرتے بلکہ اسے صحیح اور فصیح بنا کر درج کرتے ہیں۔
اسی سے ملتی جلتی چیز لسانی خلط ہے جو ہمارے ملک میں بہت رائج ہے۔ ایک زبان میں دوسری زبان کے الفاظ کو شامل کردینا منجملہ دوسری وجوہ کے بعض اوقات سماجی توقیر کے سبب بھی ہوتا ہے مثلاً آج کل ہندوستان میں اپنی زبان میں انگریزی الفاظ حتیٰ کہ افعال تک کو شامل کرلینا سماجی اعتبار سے موجب افتخار سمجھا جاتا ہے جب کہ انھیں معنوں کے مشرقی الفاظ لانا دقیانوسی ہے مثلاً تین جملے دیکھیے:
میں اس ریزولوشن میں ایک امنڈمنٹ Submit Amendment کرتا ہوں۔
میں اس قرار داد میں ایک ترمیم پیش کرتا ہوں۔
میں اس پرستاؤ میں ایک سنشودھن رکھنا چاہتا ہوں۔
کسی سوسائٹی کی میٹنگ میں پہلا جملہ سب سے زیادہ قبولِ عام پائے گا۔ باقی دو کو مولویانہ اور پنڈتانہ سمجھا جائے گا۔ یہ سماجی لسانی قدریں ہیں۔ آج جسے دیکھیے ہندی اور اردو میں ماں باپ بیوی کو ممی ڈیڈی (یا ماما پاپا) وائف کہتا ہے۔ پتا جی، ابا، ماتا جی، والدہ وغیرہ کہنا غیرشستہ زبان سمجھا جاتا ہے۔ ہم یوں بولتے ہیں:
میرے فادر آنے والے ہیں
میری وائف بیمار ہے
ہم میںسے کتنے فادر کی جگہ والد اور وائف کی جگہ بیوی کہنے کی جرأت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے سماجی تابو اور پسند و ناپسند دراصل لسانی تابو ہیں۔ ان کا جائزہ سماجی لسانیات کے حیطۂ کار میں آتا ہے۔ نفسیاتی بیماری Schizophrenia میں ایک شخصیت دو حصوں میں شق ہوجاتی ہے۔ اردو اور انگریزی کی یہ ملاوٹ ایک قسم کا لسانی شق ہے۔
سماجی لسانیات کے مطالعے کا ایک اہم موضوع دو لسانیت (Bilingualism) اور کثیر لسانیت ہے۔ چونکہ مختلف وجوہ سے اب لوگ بڑی تعداد میں دور دراز کے علاقوںمیں جاکر عارضی یا مستقل طور پر جا بستے ہیں۔ اس لیے کثیر لسانیت موجودہ سوسائٹی کی نمایاں خصوصیت ہوگئی ہے۔ اس مسئلے کو دو نقطہ ہائے نظر سے دیکھا جاسکتا ہے:
.1 ایک علاقے یا معاشرے کا جائزہ لیا جائے جس میں ایک سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں مثلاً جموں میں ڈوگری، پنجابی، ہندوستانی اور کشمیری چار زبانیں استعمال میں آتی ہیں۔ زبانوں کی کثرت سے سماجی طور پر جو اثرات ہوتے ہیں وہ دریافت کیے جائیں۔
.2 ایسے فرد یا افراد کو لیا جائے جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے دیکھا جائے کہ انھیں مختلف زبانوں پر کتنا عبور ہے۔ اس بات کو اعدادیات کے بقول سے ناپا جاسکتا ہے۔ بسااوقات یہ ہوتا ہے کہ ایک فرد کی مادری زبان کچھ ہوتی ہے اور وہ کسی دوسری زبان کے علاقے میں رہتا ہوتا ہے۔ وہ اپنے نئے ماحول کی زبان کا اکتساب کرتا ہے۔ امریکہ میں یہ مسئلہ نہایت عام ہے۔ غیرانگریزی ممالک سے جانے والوں کی پہلی نسل انگریزی کو اس قدرت سے نہیں بول سکتی جیسے امریکی باشندے۔ اس کی وجہ سے انھیں بعض سماجی دشواریوں اور نفسیاتی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری نسل نئی زبان کو بہتر طریقے سے حاصل کرلیتی ہے۔
ہندوستان میں جہاں مختلف ریاستوں کی زبانیں مختلف ہیں اور جہاں رفتہ رفتہ اپنی علاقائی زبان میں کام کاج کی رفتار بڑھتی جارہی ہے وہاں لسانی اقلیتوں کو تعلیمی، انتظامی اور دوسری حیثیتوں سے گوناگوں مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حیدرآباد کے اردو بولنے والے مسلمان تیلگو پڑھنے اور بولنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کراچی کے اردو پناہ گزینوں کے بچے کسی حد تک سندھی بولنے لگے ہیں۔ یہ لوگ کس حد تک نئی زبان کو حاصل کرلیتے ہیں اور اس میں کس قسم کی ترمیمیں کرتے ہیں۔ ان کی نئی زبان ان کی مادری زبان پر کس حد تک اثرانداز ہوتی ہے۔ یہ سب سماجی لسانیات کے مطالعے کے موضوع ہیں۔ ہندوستان جیسے کثیر لسانیاتی ملک میں اہلِ لسانیات کو لسانیات کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے۔

ماخذ: عام لسانیات، مصنف: پروفیسر گیان چند جین، دوسرا ایڈیشن: 2003 ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

تنوع پسند شاعر: مرزا محمد رفیع سودا،مضمون نگار: ابوبکرعباد

تلخیص: مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر

اردو لغت نویسی کا تاریخی پس منظر،مضمون نگار:مسعود ہاشمی

لغت نویسی، یعنی الفاظ کے تحفظ اور ان کی تشریح و توضیح کے پس پشت کبھی مذہب کار فرما رہا ہے تو کبھی سیاست! اس سلسلے میں کبھی کبھی ادب

اردو فکشن کی مابعد جدید تکنیکیں ، مضمون نگار:محمد نہال افروز

تلخیص عصر حاضر میں دنیا کی بیشتر زبانوں کا ادب بالخصوص نثر اورنثر میں بھی بطور خاص فکشن،انسان کے افکارو خیالات اور احساسات و جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ