اردو رباعی کے تدریجی منازل،مضمون نگار:محی الدین زور کشمیری

October 9, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص

رباعی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’چار‘ ہے۔ اصل میں رباعی چار مصرعوں پر مشتمل اس چھوٹی سی نظم کو کہتے ہیں جس کا پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ انگریزی ادب میں اس کو Quatrain کے نام سے جانا جاتا ہے اور ولیم ورڈس ورتھ، تھامس گرے جیسے شاعروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی لیکن ’رباعی‘ فارسی ادب کی ایک مقبول ترین صنف ہے جہاں رودکی، خیام اور ہشامی جیسے اس کے شاعر گزرے۔ اردو میں بھی اس کی ایک مکمل تاریخ ہے۔دکن میں ولی اور جنوبی ہند میں اس صنف کو کئی اہم شعرا نے فروغ دے دیا۔ آگے میر، غالب اور اقبال نے بھی اس صنف سخن میں ہاتھ آزمانے کی کوشش تو کرلی تھی لیکن یہ شعرا میرانیس، حالی، رواں، سیماب اکبرآبادی، امجد حیدرآبادی، فراق گورکھپوری وغیرہ جیسے شعرا کے ہم پلہ نہ ہوسکے۔
اردو میں اس صنف پر ڈاکٹر سلام سندیلوی اور فرمان فتح پوری جیسے ناقدین اور محققین نے قابل داد کام تو کیا ہے لیکن بیشتر اسکالروں کا مطالعہ فراق، جوش سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ اس مقالے میں محی الدین زور کشمیری نے اردو رباعی کے تکنیکی پہلوؤں پر نہ تو بات کی اور نہ ہمارے کہنہ مشق شعرا کو ان اصولوں پر پرکھنے کی کوشش کی، البتہ یہ شروع سے آج تک اس صنف کے تمام گوشوں کا عمومی جائزہ ہے جو کہ قارئین، ناقدین اور محققین کو اس صنف کے مختلف جہات پر کام کرنے کے لیے اکسائے گا۔


کلیدی الفاظ
ولی دکنی، میر تقی میر، نظیراکبرآبادی، مرزا دبیر، الطاف حسین حالی، اکبر الٰہ آبادی، چودھری جگت موہن لال رواں، سیماب اکبرآبادی، امجد حیدرآبادی، فراق گورکھپوری، توکل، سنگ اسود، ایسٹ انڈیا کمپنی، علی گڑھ تحریک، کلاسک، جمالیات، دنیائے فنا، اجل، بقا، سنگھار رس، بارہ ماسہ، تاریخ گوئی، یاسیت، دبستانِ جموں و کشمیر۔
———

اصل متن
“When I want to understand, what is happening today or, try to decide what will happen tomorrow, I look back”.
(Omar Khayyam)
ــ’’رباعی عربی زبان کے لفظ ’رباع‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی چار ہے۔ یعنی ایک رباعی چار مصر عوںیا دو بیتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔اسی لیے اسے’دو بیتی‘ یا ’ترانہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ عام طورپر اس کی سادہ تعریف یوں کی جاتی ہے:
’’جس کا پہلا، دوسرا اور چوتھا مصر ع ہم قافیہ ہوتا ہے اور جو مخصوص اوزان میں لکھی جاتی ہے‘‘۔ موضوع کی یہاں کوئی قید نہیں ہوتی ہے، البتہ خیال میں تسلسل ہو اور چوتھے مصرعے میں بات تکمیل تک پہنچائی جائے۔ اس کے علاوہ رباعی گو شاعر کو’’علم عروض‘‘ پردسترس ہونا لازمی ہے۔
رباعی کی ابتدا کا سہرا ’ایران‘ کے سر ہے۔ وہ لوگ اس کو مذہبی محفلوں میں گاتے تھے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ رودکی (940) اس صنف سخن کے موجد ہیں، لیکن کچھ محققین کے مطابق ان سے پہلے ہی بایزید بسطامی کی رباعیات موجود ہیں۔ رود کی نے اس صنف کے فن کو مضبوط بنا کر اس کی اپنی الگ پہچان قائم کی۔ ان کے بعد عبدالشکور بلخی، ابوسعید ابوالخیر، فریدالدین عطار، مولانا روم، عمر خیام، شیخ سعدی شیرازی، مولانا جامی، حافظ شیرازی جیسے فارسی زبان کے ایرانی شعرا کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بو علی شاہ قلندر، سرمد، داراشکوہ جیسے کئی فارسی شعرا نے اس صنف کو بام عروج تک پہنچا دیا۔
اس طرح اس صنف میں عشق حقیقی، توحید و معرفت، اخلاق اور فلسفہ کے ساتھ ساتھ خمریات اور مجازی عشقیہ موضوعات کے علاوہ دنیا وی موضوعات نے جگہ پا کر اس کی وسعت کو بڑھا لیا۔اپنی ان خوبیوں کے پیش نظر صنف رباعی نے اپنے بال و پر دوسری زبانوں میں بھی پھیلا دیے۔
اردو میں جہاں قصیدہ، مرثیہ، مثنوی وغیرہ جیسے کلاسیکی اصناف سخن نے فارسی کی ادبی ر وایت سے مستعار لے لیے گئے، وہاں رباعی بھی ہمارے پاس ان کا ہی تحفہ ہے۔ عام طور پر پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ(1611-1565) کو ہی ار دو کا پہلا رباعی گوشاعر تسلیم کیا گیا ہے۔ البتہ سیدہ جعفر کے مطابق حضرت بندہ نواز گیسو دراز(1421-1321) اردو کے پہلے رباعی گو تھے۔ ان کے بعد عبد القادر حیدر آبادی اور ملا وجہی کی رباعیات کا مقام ہے، جن کو’اردو شہ پارے ‘میں بھی نقل کیا گیا۔
دکن کے پیشرو شاعر سراج اورنگ آبادی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ انھوں نے اردو میں پہلی بار عاشقانہ اور رندانہ قسم کی ر باعیاں لکھیں ؎
تھا عین نماز میں کہ ساقی آیا
پھر ساغر نے مرے مقابل لایا
میں اس کو اشارے میں کہا تائب ہوں
بولا کہ شتاب پی پیاسوں لایا
اس طرح ولی دکنی(1720-25-1650) کی کلیات میں ہمیں 26 رباعیات ملتی ہیں، جن میں عاشقانہ اور عارفانہ دونوں طرح کے موضوعات ہیں۔ دکن کے دیگر شعرا میں غواصی، علی عادل، شاہ ثانی، نصرتی، میراںجی خدانما سے لے کر جانم تک اور بھی بہت سارے شعرا نے رباعیاں لکھیں۔
اس کے بعد ہم شمالی ہندوستان کا رخ کرتے ہیں، جہاں درد، سودا اور میر تقی میر کے کلام میں بھی رباعیاں ملتی ہیں۔ درد کی رباعیوں کی تعداد 33 بتائی جاتی ہے۔ اگر چہ ان میں مسائل تصوف کی وجہ سے تھوڑی سی خشکی پائی جاتی ہے۔ لیکن ان کا اپنا سوز و ساز یہاں ہمیں سننے کو ملتا ہے ؎
اے درد یہ درد جی سے کھلونا معلوم
جوں لالہ جگر سے داغ دھونا معلوم
گلزار جہاں ہزار پھولے لیکن
میرے دل کا شگفتہ ہونا معلوم
دلی کے دیگر رباعی گو شعرا میں قائم چاند پوری، احسن اللہ بیان عبدالحیٔ تاباں،میر سوز،میر حسن اور مرزا محمد رفیع سودا (1780-1713) کا نام سر فہرست ہے۔ سودا نے ہجویہ رباعیات لکھیں۔ان کی رباعیات کی تعدار 80 بتائی جاتی ہے۔
میر تقی میر (1810-1722) کے چھ دیوانوں میں قریب سوا سو رباعیاں ہمیں ملتی ہیں۔ان میں کچھ اہل بیت کی شان میں ہیں اور زیادہ تر رباعیات عشقیہ موضوع پر ہیں۔ ان میں ان کی غزلوں کی طرح سوز و گداز ہمیں ملتا ہے۔ کہیں زندگی کی اداسی بھی نظر آجاتی ہے۔ اسی لیے کہا’’ مرمر کے غرض تمام کی ہے ہم نے‘‘۔
اس طرح میر حسن، حسرت دہلوی،بہادر علی وحشت، عبد الحئی تاباں، عزیز بھکاری،میر محمد سوز سے لے کر احسن اللہ کی رباعیوں کا بھی کم و بیش ناقدین نے ذکر کیا ہے۔
اب یہاں سے بڑھ کر ہم دبستانِ لکھنؤ کا رخ کرتے ہیں، جہاں آتش، ناسخ انشا اور جرأت وغیرہ نے اگرچہ اس صنف کو چھونے کی کوشش کی، لیکن ان میں کوئی بھی شاعر اعلیٰ درجے تک نہ پہنچ سکا۔ کیونکہ اس صنف کے لیے سنجیدگی چاہیے اور لکھنؤ والوں نے اپنے مخصوص مزاج کے پیش نظر یہاں کچھ بے اعتنائی سے کام لے لیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انشا 40 رباعیاں لکھتے ہیں، مگر طعن و تشنیع سے یہاں بھی کام لیتے ہیں۔ البتہ لکھنوی شعرا میں جرأت (1749-1809) نے 112 رباعیاں لکھ کر بلند مقام حاصل کر لیا، جہاں اگر چہ وہ شوخی چلبلے پن سے ہی کام لیتے ہیں، لیکن غزل کی طرح یہاں وہ اپنے سچے جذبات کو دکھانے سے پیچھے نہیں رہتے ہیں ؎
دیکھا جو کل اس نے میرے جی کا کھونا
اورکھینچ کے آہ سرد ہر دم رونا
منھ پھیر کے مسکرا کے چپکے سے کہا
آسان نہیں کسی پر عاشق ہونا
ار دو کے معروف ہندوستانی شاعر نظیر اکبر آبادی (1740-1830)نے بھی 22 رباعیاں کہیں، جن میں ان کی نظموں کی طرح اخلاقی اور واعظانہ مضامین کو پیش کیا گیا۔معلم ہونے کے پیش نظر وہ یہاں بھی عام درسی باتیں کرتے ہیں۔ غالب، مومن، ذوق، ظفر اور شیفتہ جیسے چوٹی کے شاعروں نے بھی صنف رباعی کے قریب جانے کی کوشش کی، مگر کسی نے اس فن میں گہرائی پیدا کی۔ غالب (1796-1869) کے یہاں 15 رباعیاں ہیں، مگر بقول شخصے یہاں’’مونگ کی دال کی تعریف‘‘ کی گئی ہے۔ البتہ مومن اور ذوق کو اپنے دور میں بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔شیخ محمد ابراہیم ذوق (1789-1854) نے زیادہ تر اہل بیت کی شان میں رباعیاںکہیں اور مومن(1800-1852) کی رباعیاں موضوعات اور فنی محا سن کے اعتبار سے ہمہ گیر کہلاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر مومن خان مو من غزل میں غالب کی اور قصیدہ میں ذوق کی ہمسری نہ کر سکے،لیکن رباعی اور مثنوی میں وہ ان دونوں سے بھاری پڑے۔ انھوں نے رباعی میں بھی عشقیہ واردات بیان کیے اور نازک خیال، خیال آفرینی اور معاملہ بندی میں بھی کمال کر کے دکھایا ؎
بے عہدِ شباب زندگانی کامزہ
پیری میں کہاں وہ نو جوانی کامزہ
اب یہ بھی کوئی دِن میں فسانہ ہو گا
باتوں میں جو باقی ہے کہانی کامزہ
اس عہد کے شمال کے شعرا میں حسرت دہلوی،غمگین دہلوی کا نام بھی آتا ہے۔غمگین کی رباعیات کی تعداد 1800 بتائی جاتی ہے۔ مگر وہ اس بات کو چھپاتے تھے۔ مصحفی (1750-1824) کے آٹھ دیوانوں میں 164 رباعیاں ہیں اور وہ اپنے دور کے استاد مانے جاتے تھے۔ جرأت نے انگریزوں کے خلاف اپنے غصّے کا اظہار کیا۔ انشا نے بے نقطہ اور طنز یہ رباعیاں لکھیں۔ سعادت یار خان رنگین (1755-1835) نے ریختی زبان میں رباعی کا فن دکھایا اور امام بخش ناسخ (م1838) نے رباعیات میں عشق کے دریا بہا دیے۔
رباعی کے ارتقا میں صنف مرثیہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے، کیونکہ اکثر مرثیہ گو شعرا اپنا مرثیہ کسی رباعی سے ہی شروع کر تے ہیں۔ میر انیس (1801-1874) کا بھی یہی حال ہے۔ وہ بھی مجلس میں پہلے اپنی کوئی رباعی پڑھتے تھے۔ پھر کبھی کبھار کوئی دوسرا شخص اس کی تشریح بھی کرتا تھا، یا وہ دوسرے کے جواب میں بھی رباعی کہتے تھے۔
مر ثیوں کی طرح ان کی رباعیوں کی بھی کل تعداد کا فی بتائی جاتی ہے، مگر انھوں نے زیادہ تر رباعیاں ’ شہدائے کربلا‘کے موضوع پر لکھی ہیں۔ اس لیے انھیں ’رثائی رباعیاں‘ کہا گیا۔ حالانکہ ان سے پہلے بھی اس موضوع پر رباعیاں لکھی گئیں۔ چونکہ واقعہ کربلا کے متعلق لکھنے کی مہارت انیس کو تھی اور ان کا دل شہدائے کربلا کی محبت سے لبریز تھا، اس لیے مرثیوں کی طرح ان کی رباعیوں میں زور بیان اور جذبات کی شدت پائی جاتی ہے۔ انیس نے اپنی ساری زندگی اہل بیت کے ما تم میں گزاری، اس لیے لکھا ؎
پیدا ہوئے دنیا میں اسی غم کے لیے
رونا ہی جِلا ہے چشمِ پرنم کے لیے
ہم کو دو نعمتیں خدا نے دی ہیں
آنکھیں رونے کو، ہاتھ ماتم کے لیے
انھوں نے اپنی ربا عیوں میں مختلف انداز میں اپنے گہرے عقیدے کا اظہار کیا ہے اور اس سانحہ کے مختلف گوشے بیان کیے۔
واقعہ کربلا کے علاوہ بھی انیس نے حمدنعت اور منقبت اپنی رباعیوں میںکہے۔ اگر چہ یہ مفہوم اردو شاعری میں بہت پرانا ہے، مگر شاعری میں انیس کا تجربہ منفرد اور اچھوتا ہے، جہاں وہ تشبیہوں اور استعاروں کو اپنے انداز میں استعمال کرتے تھے، وہاں زور بیان میں بھی وہ یکتا تھے۔اس کے علاوہ انھوں نے موت، دنیا کی بے ثباتی،قناعت، خود داری وغیرہ کو بھی اپنی فنی اور فکری گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ رباعی کو عام موضوع کے تحت درس اور اخلاق کے طور پر بھی پیش کرتے تھے ؎
اتنا نہ غرور کرکہ مرنا ہے تجھے
آرام ابھی قبر میں کرنا ہے تجھے
رکھ خاک پر سوچ کر ذرا پاؤں انیس
اِک روز صراط سے گزرنا ہے تجھے
چونکہ انیس کودبیر کے ساتھ ہمیشہ معرکہ آرائی رہی اور وہ ایک دوسرے کے جواب میں رباعیاں بھی کہتے تھے۔ تو انیس نے دبیر پر اپنی رباعیوں میں چوٹیں بھی کیں۔صنف رباعی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کے چوتھے مصرعے میں جان پیدا کی جاتی ہے۔ یعنی پہلے کے تین مصرعوں کے بعد ہم سوچنے لگتے ہیں کہ شاعر اب کیا کہنے والا ہے۔ جب ہم چوتھا مصرع پڑھتے ہیں، تو ہم چونک جاتے ہیں۔ کیونکہ شاعر یہاں کچھ ایسی بات کہتا ہے، جو کہ اکثر ہماری سوچ سے پرے ہوتی ہے۔ انیس یہاں بھی اپنا کمال د کھاتے ہیں۔کبھی کبھار انیس اپنی رباعی کے پہلے دو مصرعے یوں ہی لکھتے ہیں، لیکن آخری دو مصرعوں میں وہ اپنی بات مکمل کر ہی جاتے ہیں مثلاً ؎
طفلی دیکھی شباب دیکھا ہم نے
ہستی کو حبابِ آب دیکھا ہم نے
جب آنکھ ہوئی بند تو عقدیہ کھلا
جو کچھ دیکھا سو خواب دیکھا ہم نے
ڈاکٹر خلیق انجم دلائل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ’’ انیس رباعی گو سے کہیں زیادہ بڑے مرثیہ گو ہیں۔‘‘کہا جاتا ہے کہ انیس کے مجموعہ کلام میں تقریباً ساڑھے پانچ سو رباعیاں موجود ہیں۔ ان کی رباعیوں کو سید محمد عباسی( مجموعہ رباعیات انیس) نے تین حصّوں میں تقسیم کیا ہے: (1) مذہبیات(حمد،نعت، منقبت، معتقدات،مراثی) (2) اخلاقیات اور (3) ذاتیات۔
مجموعی طور پر وہ مذہب سے باہر نہیں نکلتے ہیں۔ جبکہ سلام سندیلوی ان کی رباعیوں کو مذہبی، اخلاقی، فلسفیانہ، سماجی اور ذاتی رباعیات کے خانوں میں بانٹتے ہیں۔ علی جواد زیدی نے انیس کے بارے میں لکھا ہے:
’’ وہ ایک لمحے کے لیے بھی اخلاقی مقصد واقدار کا دامن چھوڑنے کے روادار نہیں ہیں۔ اس کے لیے وہ دل سے دل تک منتقل کرنے والے لہجے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
اسی طرح امداد امام اثر نے اپنی کتاب ’کا شف الحقائق‘ میںلکھا ہے:
’’ حقیقت یہ ہے کہ ہر دو بزرگوار (انیس و دبیر) رباعی نگاری کے اعتبار سے بہت قابل قدر ہیں، بلکہ اردو شعرا میں بھی یہی حضرات ہیں جِنھوں نے رباعی نگاری کی شرم رکھ لی ہے۔‘‘
مرزا سلامت علی دبیر (1803-1875) ارد و مرثیہ نگاری میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔امداد امام اثر کیا خوب فرما گئے کہ’’ انیس و دبیر نے ار دو رباعی نگاری کی شرم ر کھ لی‘‘ یوں تو مرثیہ لکھنا قدرے مشکل ہے،اس کے باوجو د بھی آج تک ان کے کمال تک اور دوسرا کوئی شاعر نہیں پہنچا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں شعرا نے کمال کی رباعیاں بھی لکھی، کیونکہ اکثر وہ لوگ مر ثیہ خوانی کی شروعات اپنی کسی رباعی سے ہی کرتے تھے۔ اسی لیے دبیر نے کثرت سے رباعیاں رقم کیں، جن کی تعداد ہزاروں بتائی جاتی ہیں۔ جن کے موضوعات مذہب کے ساتھ ساتھ عام زندگی سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ وقار عظیم نے ’رباعیات دبیر‘ میں ان موضوعات کی نشاندی کی:
’’نامو افقت زمانہ، بے اعتباری دنیا، شکایات فلک،، ناقدری اہل کمال، سفر، عصائے پیری، فرقت احباب، صحبت احباب، عفو و در گزر، خلوص، قرب الٰہی، توکّل، سفر آخرت، قبر، حیات بعد الممات، صفائے قلب، انکسار، تواضع، آفتاب، لوح و قلم، سنِگ اسود، زمزم و ستون کعبہ، لباس ماتمی، مجلس عزا، اور اہل بیت…‘‘
یہاں دبیر نہ صرف اپنے موضوعات کو ہی بیان کرتے ہیں،بلکہ معنی و بیان، الفاظ و مضامین کو بڑی اثر آفرینی سے پیش کرنے میں بھی انھیں ملکہ حاصل تھا۔ ان کے یہاں بلاغت، معانی، اخلاق پسندی،شکایت زمانہ، شاعرانہ تعلّی کا بھی بھر پور اظہار ہے۔
دبیر کی انکساری یہاں دیکھیے:
ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہے
جو خلق سے بہرہ ور ہو دریا وہ ہے
کیا خوب دلیل ہے یہ خوبی کی دبیر
سمجھے جوبرا آپ کو اچھا وہ ہے
دبیر کا فنی کمال یہ ہے کہ وہ کبھی بے نقطہ رباعی لکھتے تھے اور کبھی خالص منقوطہ رباعی لکھنے کا تجربہ بھی کرتے تھے۔ انیس و دبیر ایک دوسرے کے جواب میں بھی رباعیاں لکھتے تھے اور مرثیہ خوانی میں وہ انہی رباعیوں کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے تھے تاکہ حاضرین کی توجہ ہٹ نہ جائے۔
انیس ودبیر کے ساتھ ہی ار دو رباعی کے سلسلے میں یہاں جنوبی ہند کے چند اہم رباعی گو شعرا کا ذکر کرنا بھی لازمی ہے۔بہت سارے تذکروں میں ان کی رباعیات کو نقل کیا گیا ہے۔
ان میں پروانہ، شاہ عظیم، شہ میر، عزلت، مفتون، عشق، آزاد، عبرت، تمنا، آگاہ شاہ کمال اور داغ جیسا شاعر بھی شامل ہے۔داغ کی رباعی دیکھے ؎
دنیا میں کب انسان کی حاجت نکلی
حسرت ہی رہی کوئی نہ حسرت نکلی
جیتے تھے قیامت کی توقع پر ہم
خود وقت کی محتاج قیامت نکلی
اس ذرے کے دیگر شعرا میں میر محبوب علی خاں( داغ کے شاگرد) عبد الغفور شہباز، میر کاظم علی برق موسوی، آزاد توکلی (گورسرن بلی)، نظم طباطبائی، مہاراجہ سرکشن پر ساد شاد کا نام اہم ہے۔ شاد نے 190 رباعیاں کہیں۔ حافظ جلیل مانک پوری، دوار کا پرشاد افق، رائے منوہر لال بہار، تسلیم گلشن آبادی، رگھونندن سکینہ الہام، جلال الدین تو فیق،مرزا حبیب علی، مولانا عبد القدیر حسرت صدیقی، محمد اشرف، رشید انصاری، مہر مہدی علی، صفی اورنگ آبادی، فانی بدایونی، محمد اسمعیل ظریف حیدر آبادی، پنڈت رگھویندر در او جذب عالم پوری، عطا کلیانوی، نجم آفندی،میر ثا من علی نسیاں، صاحب حیدرآبادی کئی ایسے نام ہیں کہ جن کی رباعیوں کو آج بھی سراہنے کی ضرورت ہے۔
ان کے ساتھ ہی اردو میں ایسا بھی دور آگیا جب یہاں کی سیاست کے ساتھ ہی ثقافت کی بھی کایا ہی پلٹ گئی کیونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے جوبرسوں پہلے دستک دی تھی اب 1857 کے بعد انگریز سیدھے ہماری زندگی کے بیشتر شعبوںمیں داخل ہوگئے۔
الطاف حسین حالی (1837-1914)کی ادبی خدمات کا جائزہ ہم’سرسیّدتحریک ‘کے ہی پس منظر میں لے سکتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہندوستانی تہذیب زوال کا شکار ہو گئی اور دوسری طرف ایک نئی تہذیب کا آغاز ہو رہا تھا۔ حالی نے اپنی شاعری بشمول غزل، نظم، مثنوی کے ساتھ ساتھ ر باعیوںکے ذریعے بھی اپنی قوم کو بیدار کرنے کی سعی کی۔ اس لیے ڈاکٹر سلام سندیلوی نے کیا خوب لکھا ہے:
’’حالی کی رباعیات اس دور کی یاد گار ہیں، جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا۔ ان کی رباعیات میں انقلاب روزگار کے قدموں کی آہٹ صاف طور سے سنائی دیتی ہے۔ ان کی رباعیات میں قوم کراہتی ہوئی سسکیاں لیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس لحاظ سے حالی کی ر با عیات قوم کا مرثیہ ہیں۔‘‘
در اصل حالی اپنی قوم کی حالت پر نہ صرف روتے تھے، بلکہ وہ اس کی اصلاح کے بارے میں بھی سوچتے تھے۔ وہ قوم کے نوجوانو ں کو عملی میدان میں آنے کے لیے تلقین کرتے تھے۔ انھیں نئے نئے علوم پڑھنے کی طرف راغب کرتے تھے۔ یکجہتی پر زور دیتے تھے اورگداگری، عشق بازی، بے کاری، اورسستی سے دور رہنے کے لیے کہتے تھے۔ حالی کے یہ سبھی خیالات سرسیّد کے خیالات کا عکس معلوم ہوتے ہیں۔ حالی کی رباعیات کو مولانا سیّد وحید الدین سلیم پانی پتی(مسلم یونیورسٹی پریس علی گڑھ 1930) نے مرتب کیا اور انھوں نے اس مجموعے (رباعیات حالی) کے دیباچہ میں حالی کی نسبت اٹلی کے معروف شاعر’کارودشی‘سے قائم کی۔ مشیر علی قدوائی کو حالی کی رباعیوں میں’پندو وعظ کا دھوکا‘ ہوا، جب کہ جبکہ اصل بات یہ ہے کہ حالی (یا سرسید تحریک )کا بنیادی مقصد ہی قوم کی بہبودی وبھلائی ہے اور وہ شاعرسے زیادہ پیامبر لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک شعر و ادب کا مطلب قوم کی فلاح و بہود ہے،نہ کہ ادب کے ذریعے خیالی قصّے یا فرحت کا سامان قاری کو فراہم کر دینا۔ حالی ایک طرف اپنی رباعیوں میں کاہلی اور سستی کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ عیش وعشرت کو قوم کے لیے سم قاتل قرار دیتے ہیں اور اس عیاشی نے مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتوں کو برباد کیا۔ لکھتے ہیں ؎
عشرت کا ثمر تلخ سدا ہوتا ہے
ہر قہقہہ پیغام بکا ہوتا ہے
جس قوم کو عیش دوست پاتا ہوں میں
کہتا ہوں کہ اب دیکھیے کیا ہوتا ہے
حالی اپنے ماحول کے نبض شناس تھے اور انھیں اس بات کا پورا احساس تھا کہ قوم کی اس بیماری کا علاج علم سے ہی ہو سکتا ہے ؎
اے علم کیا ہے تو نے ملکوں کو نہال
غائب ہوا تو جہاں سے، وہاں آیا زوال
ان پر ہوئے غیب کے خزانے مفتوح
جن قوموں نے ٹھہرایا تجھے راس الحال
حالی انسان میں انسانیت پیدا کرنے اور شخصیت کو بلند تر بنانے کے لیے اس کے رازوں کا پتہ دیتے ہیں۔حالی نے اپنی دیگر شاعری کی طرح اپنی رباعیوں کے ذریعے سر سید کے مشن کو بہت دور دور تک لے گئے اور بقول سلام سندیلوی ’’حالی ایک مصلح کادل اور سیاست داں کا دماغ ہی نہیں رکھتے تھے،بلکہ ایک فلسفی کی نظر بھی رکھتے تھے ۔‘‘ یہاں’فلسفے‘ کے ضمن میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو کے بیشتر شعرا نے دنیا کی بے ثباتی کے بارے میں اپنا فلسفہ پیش کیا۔ اس سے یا تو ان کی شاعری معلوم ہوتی ہے یا ان پر قنوطیت غالب محسوس ہوتی ہے۔ تو اس طرح ان کے نظریے میں سماجی زندگی کا عمل دخل کچھ زیادہ نہیں رہا۔ حالیـ کا نظر یہ اس کے بر عکس مثبت تھا۔ وہ بے شک زندگی کو مستقل نہیں مانتے تھے، لیکن جب ہم اس زندگی میں چار ہی دن کے لیے آئے ہیں، تو ہم سے جتنا ممکن ہو سکے گا اچھے کام کریں گے۔ تاکہ ہمارے کام سے کسی کو فائدہ ملے۔
اگر چہ حالی زندگی میں کسی کی مدح سرائی نہیں کرتے تھے اور نہ قصیدہ خوانی کے وہ قائل تھے، پھر بھی نواب وقارالاامراء اقبال الدولہ بہار اور نواب محسن الدولہ محسن الملک بہار جیسے لوگوں کی شان میں ہدیہ تہنیت کے طورپر اپنی کچھ رباعیاں بھیجیں۔ حالی کے کلام کی طرح ان کی رباعیوں میں گرمی، تندرستی اور تاثیر بھی ہے، ساتھ ہی ان کا اپنا سادہ پن بھی بہ درجہ اتم موجود ہے، جس کی وجہ سے انھوں نے ناقدین سے سند حاصل کی اور ما بعد شعرا پر اپنا اثر ڈالا۔
عام طور پر حالی اور اکبر الہ آبادی (1846-1921)کورباعی کی دنیا میں ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے کیونکہ دونوں نے شیخ سعدی شیرازی کی روش پر چل کر اخلاقیات اور سماج سدھار کو اپنی رباعیات کا موضوع بنایا،البتہ دونوں کے بارے میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے کیا خوب پر مطلب بات کہی ہے:
’’حالی نے جس کام کو انتہائی سنجیدگی،متانت اور خاموشی سے انجام دیا۔ اکبر نے اسے طنز و ظرافت اور بعض وقت قہقہہ کی مدد سے پورا کیا۔‘‘
اکبر کی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فطری طبیعت کو آزاد چھوڑ کر شاعری کرتے تھے اور اس لیے ایک نیا اسلوب جنم لیتا ہے اور اس فطری بہاؤ کی وجہ سے ان کے یہاں رباعیوں میں بھی حسن و عشق، اخلاقیات اور پند و نصائح کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں، حالانکہ وہ اپنی رباعیوں میں بھی طنز و مزاح کا اپنا مخصوص اسٹائل نہیں چھوڑتے ہیں ؎
کچھ بھی نہیں چاہتے وہ چندے کے سوا
اس باغ میں کیا دھرا ہے پھندے کے سوا
گلچیںہے ہر اک نہیں ہے بلبل کوئی
اِس نکتے کو کون سمجھے بندے کے سوا
اس دور کے شاعروں میں اسمٰعیل میرٹھی(1844-1917) بھی سر فہرست ہیں جنھیں اد ب میں بچوں کے شاعر کی حیثیت سے پہچان ملی،لیکن اپنی چالیس کے قریب رباعیوںمیں وہ بھی حالی اور اکبر کا مصلحانہ انداز اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
پیارے صاحب رشید نے ’بڑھا پے‘ کے موضوع پر اور امیر مینائی نے ’نعتیہ‘ رباعیاں لکھیں۔ میر مہدی مجروح اپنی رباعیات میں اہل بیت کو یاد کرتے ہیں۔ امیر مینائی کے دیوان مراۃ الغیب میں 30 رباعیاں ہیں ؎
آتی ہے شب ہجر رلانے کے لیے
میں ایک نہیں سب کے مٹانے کے لیے
اشکوں میں مرے ڈوب رہا ہے عالم
آنکھیں مری روتی ہیں زمانے کے لیے
شاد عظیم آبادی (1846-1926)نے جدید غزل میں ایک اونچا مقام حاصل کر لیا اور ساتھ ہی وہ اردو رباعی میں بھی ایک اہم نام تصور کیے جاتے ہیں۔ معروف رباعی ناقد ڈاکٹر سلام سند یلوی نے ان کی رباعیوں کو درج ذیل سات موضوعات میں منقسم کیا ہے:
(1) عارفانہ و متصوفانہ (2) فلسفیانہ (3) پیری (4) اخلاقی و اصلاحی (5) عشقیہ(6) خمریہ اور(7) المیہ۔
شاد کے یہاں ان کی باقی شاعری کی طرح رباعیات کے موضوعات بھی مختلف ہیں، لیکن یہاں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ وہ سرسید تحریک سے کچھ زیادہ ہی متاثر لگتے ہیں، اس لیے کہا ہے ؎
سو طرح کا میرے لیے سامان کیا
پورا اک عمر کا ارمان کیا
سید سے ملا پہ مدرسہ بھی دیکھا
حالی نے عجب طرح کا احسان کیا
واجد حسین یاس یگانہ چنگیزی (1883-1956) انھیں گستاخ کہہ کر ذلیل کیا گیا،وہ غزل کے ساتھ ساتھ رباعی میں بھی طبع آزمائی کرتے رہے۔
چودھری جگت موہن لال رواں (14جنوری1889۔ 26 ستمبر1934) کا تعلق چندر شیکھر آزاد کے وطن اناؤ اتر پردیش سے تھا۔ وہ حسرت موہانی اورمنشی پریم چند کے قریبی دوست تھے۔ ان کے والد محترم چودھری گنگا پرساد بھی ادبی ذوق رکھتے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد رواں کی پرورش ان کے بڑے بھائی کنہیا لال نے کی۔ ابتدائی تعلیم مولوی ضیاء الدین کے مکتب سے حاصل کرلی۔ 1907 میں ہائی اسکول پاس کیا۔ 1909میں انٹر میڈیٹ اور1911 میں کنگ کالج لکھنو سے بی اے کیا، پھر 1913 میںلکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی— 1916میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔ 1917 سے پیشہ ورانہ طور پر وکالت سے جڑ گئے اور ساتھ ہی سماجی فلاح و بہبود کا کام بھی کرنے لگے۔ البتہ وطن کی آزادی کا جذبہ ان میں شروع سے ہی کوٹ کوٹ کر بھرا پڑا تھا۔ اس لیے قومی درد کے تئیں یہ رباعی لکھی ؎
اس وقت ہو اپنی قوم شایان نبرد
جب ایک ہی جذبے سے ہوں مضطر زن و مرد
کل قوم کے دل میں درد ہر فرد کا ہو
اور دل میں ہو فرد کے کل قوم کا درد
1928 میں رواں کا مجموعہ کلام’روح رواں‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جس کا طویل مقدمہ اپنے دور کے معروف استاد عزیز لکھنوی نے لکھا، جو کسی بڑی سند سے کم نہیں ہے۔ جس میں کچھ نظمیں انگریزی نظموں کے ترجمے اور رباعیاں شامل ہیں۔ رواں کی رباعیوں میں ہمیں فطرت کی منظر کشی اپنے عروج پر نظر آجاتی ہے، جہاں وہ تلمیحات، استعارات اور نادر تشبیہات سے فطرت کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ رواں نے دنیائے فانی کے متعلق بھی اپنی رباعیوں میں اظہار کیا ہے، لیکن ان کی فکر عام انسانی سوچ سے پرے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر دنیا فانی ہے، تو اس کو کیوں سجایا سنوار اگیا۔ حالانکہ یہاں ان کا بیان گومگو رہا۔ اس حسین دنیا میں انسان سکھ اور چین بھی ڈھونڈ لیتا ہے، جو اسے ملتا نہیں۔ اس لیے کہا ؎
اس دار فنا میں مقصد دل کیا ہے
کہیے تعبیر خواب باطل کیا ہے
جب قلب کو ایک دم بھی راحت نہ ملی
آخر اس زندگی کا حاصل کیا ہے
سیماب اکبر آبادی (1880-1951) کا اصل نام عاشق حسین تھا جن کا شمار بیسویں صدی کے اہم شعرا میں کیا جاتا ہے۔ سیماب بسیار نویس تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ انھوں نے پیمانہ، تاج اور عالمی شہرت یافتہ رسالہ’شاعر‘ نکالا۔ داغ دہلوی کی طرح سیماب کا حلقہ تلمیذ بہت وسیع تھا۔ ان کے کئی شعری مجموعوں کے ساتھ ساتھ عالم آشوب کے عنوان سے ان کی رباعیات کا مجموعہ بھی قابل ذکر ہے۔
ریاض خیر آبادی نے اگر چہ خود شراب نہیں پی مگر ان کی رباعیات پر خمریات کا اثر ہے۔ اسی طرح زندگی کے عقیدے کو رباعی کے ذریعے شمیم کرہانی بھی پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سلام سندیلوی اگر چہ رباعی کے محقق اور ناقد تھے، ساتھ ہی وہ خود بھی اس صنف میں طبع آزمائی کرتے تھے اور ان کے موضوعات بھی دوسروں سے ہٹ کر دکھائی دیتے ہیں۔
ار دو ادب کی تاریخ میںدکن کا اپنا خاص حصہ ہے، کیونکہ اگر چہ اردو زبان دہلی اور اس کے نواح میں پیدا ہوئی، لیکن دکن کی سرزمین میں ہی یہ زبان پھلی اور پھولی،وہاں کے بادشاہوں نے اس کی سرپرستی کی اور اس سر زمین نے نامور شعراو ادبا پیدا کیے، جن میں امجد حید آبادی کا نام سر فہرست ہے۔ ان کا پورا نام ابوالا عظم سید امجد حسین تھا اور ان کے والد محترم کا نام صوفی سید رحیم علی بن سیّد کریم حسین تھا، یہ لوگ بڑے پر ہیز گار تھے۔ امجد 1886 میں حیدر آباد میں پیدا ہوئے۔
امجد حیدر آبادی کی زندگی میں سب سے پہلا حادثہ یہ پیش آیا کہ 1908 میں موسیٰ ندی میں ایک زبردست سیلاب آگیا، جس نے ان کامکان، سارا اسباب ان کی بیوی، والدہ اور بیٹی سب کچھ غرقاب کیا،جس کی وجہ سے وہ بے یار و مدد گارتنہا رہ گئے۔
امجد نے اپنی ادبی زندگی کی شروعات صرف پندرہ برس کی عمر میں غزل گوئی سے کی۔ چونکہ اس دور میں پورے اردو ادب پر استاد داغ دہلوی چھائے ہوئے تھے،یہاں تک کہ وہ علامہ اقبال کے کلام کی بھی اصلاح کرتے تھے۔ تو نوجوان امجد پر بھی ان کا اثر ہونے لگا، لیکن بہت جلد امجد نے نظم نگاری کی طرف اپنی توجہ مبذول کرلی اور’دنیا اور انسان‘ جیسی نظم صرف بیس برس کی ہی عمر میں لکھی۔ اس کے بعد وہ تو اتر سے’مخزن‘ اور’زمانہ‘ جیسے رسالوں میں چھپنے لگے۔ اس طرح بہت جلد ان کی نظموں کے دو مجموعے ریاض امجد(حصہ اول و دوم) یکے بعد دیگرے شائع ہوئے۔ اتنا ہی نہیں نثر کے میدان میں بھی ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوئیں۔ لیکن انھوں نے اردو ادب کی دنیا میں رباعی کی صنف میں نام اور کمال حاصل کر لیا۔
رباعیات امجد بالترتیب حصہ اول 1925، حصہ دوم 1935، حصہ سوم 1955 میںشائع ہوئیں۔
مجمو عی طور پر دیکھا جائے گا، تو امجد حیدر آبادی کی رباعیوں پر’صوفیت‘ کا سب سے زیادہ اثر ہے اس ضمن میں۔ دیکھیے امجد وحدت الوجود کے مسئلے کو کس آسانی سے بیان کرتے ہیں ؎
ہیں مستِ مئے شہود تو بھی میں بھی
ہیں مدعیِ نمود تو بھی میں بھی
یا تو ہی نہیں جہاں میں یا میں ہی نہیں
ممکن نہیں دو وجود تو بھی میں بھی
امجد اپنی رباعیوں میں اخلاقیات پر بھی زور دیتے ہیں۔ امجد زندگی کے مختلف مسائل پر اپنی رباعیات میں بات ایسے انداز میں کرتے ہیں کہ قاری ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ہے اور وہ ہمیشہ بڑی انکساری اور عاجزی سے بات کہتے ہیں۔ تصوف کے ساتھ ساتھ وہ انسانی قدروں کے بھی شاعر ہیں۔
عمرخیام فارسی کا ایک ا ہم رباعی گو شاعر مانا جاتا ہے، پھر بھی ان کی شاعری میں رندی، سرمستی اور شراب جیسے موضوعات قارئین کے ایک و سیع طبقے کو راس نہیں آتے ہیں، لیکن امجد حیدر آبادی نے اپنی رباعیات میں اخلاق، روحانیت اور نصیحت جیسے مضامین پیش کر کے Universal Truth آفاقی سچائی کا ساتھ دے دیا۔ دوسری طرف ان کی ذاتی زندگی میں جب ہم جھانکتے ہیں، تو وہاں ہم دکھ ہی د کھ دیکھتے ہیں۔ ان کا دل ہمیں ٹوٹا ہوا لگتا ہے۔ اس لیے وہ کسی کا دل زندگی میں توڑنا نہیں چاہتے ہیں ؎
مغموم کے قلبِ مضمحل کو توڑا
یا منزل ِفیض ِمتصل کو توڑا
کعبہ ڈھاتا تو بنا بھی لیتے
افسوس یہ ہے کہ تو نے دل کو توڑا
جوش ملیح آبادی (1894-1982) نے اردو شاعری کے بہت سارے اصناف میں طبع آزمائی کی اور ساتھ ہی’یادوں کی برات‘ جیسی شاہکار کتاب نثر میں بھی دے دی۔ ان کے یہاں کلاسک اور جدید دونوں کا امتزاج ہے۔ رباعیاں اس قدر لکھیں کہ ان پر تھیسس بھی لکھا گیا۔
جوش کی رباعیات فنی اور جمالیاتی اعتبار سے قارئین کا دل جیت لیتی ہیں۔ ان کا غرور یا اپنے آپ پر ناز ان کی رباعیوں میں بھی نظر آجاتا ہے ؎
طبع رسا کی زلفِ درتا میں گندھا ہواہے
میرا تسلسل ادب خاندان میں ہے
تہذیب فکر کش دہلی کے ساتھ ساتھ
فردوسِ لکھنوی کھنکتی زبان بھی ہے
دیگر شعری اصناف کی طرح وہ اپنی رباعیات میں بھی مناظر فطرت، شراب حسن و عشق جیسے موضوعات کو چھیڑ کر ان میں توانائی بخشتے ہیں۔
جعفر علی خان اثر لکھنوی کی رباعیوں کا مجموعہ’لالہ گل‘ کے عنوان سے چھپا، جس میں عشق، فلسفہ، تصوف اور اخلاق کے موضوع پر رباعیاں ہیں۔
رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری (28 اگست1896 -3 مارچ 1982) کا شمار اردو کے چوٹی کے شاعروں میں ہوتا ہے۔ اور ان کی انفرادیت کئی جہات میں مضمر ہے۔ وہ نظیر اکبر آبادی کے بعد خالص ہندوستانی ثقافت کے شاعر ہیں۔ ان کی شخصیت اور ان کا انداز بیان دوسروں سے ہٹ کر ہے۔ وہ نثر اور نظم میں اپنا اظہار خیال تھے اور اندازے، اردو کی عشقیہ شاعری، حاشیے اور ار دو غزل (ان کی نثری تصانیف ہیں) شاعری میں روپ، روح کائنات اور گل نغمہ نے تاریخ رقم کی۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ساہتیہ اکاڈمی انعام اور1969 میں ’بھارتیہ گیان پیٹھ انعام‘ سے نوازا گیا۔
اب جہاں تک کہ ان کی رباعیات کا تعلق ہے، ان کا مجموعہ رباعیات 1946 میں ہی منظر عام پرآیا، جس پر مثبت و منفی نظریات سامنے آنے لگے۔ایک گروہ نے ان کے جنسی پہلو کو کچھ زیادہ ہی اچھالا اور انھیں نا پسند فرمایااور دوسرے گروہ نے اسے ا ردو شاعری کے لیے خوشگوار اور انوکھا اضافہ قرار دیکر فراق کی کافی ستائش کی۔دراصل فراق زندگی کا اپنا ایک الگ نظریہ رکھتے تھے بقول سیّدہ جعفر:
’’فراق کے نزدیک انسان بشری تقاضوں کو ٹھکرا کر اوتار نظر آنے کی کوشش کرے، تو اس طرح اس کی شخصیت کا صرف ایک رخ، جو پاکیزگی و طہارت سے عبارت ہے، اجاگر ہو سکتا ہے، لیکن انسان کی شخصیت جو مادی زندگی کے تجربات اور اس کے سرد و گرم سے گزرتا ہے، زیادہ پہلو دار اور توجہ طلب ہے۔ ارضی عشق اور مادی زندگی کے معر کے سر کرنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔‘‘
اگر غور سے دیکھا جائے گا، تو فراق کی شاعری میں ہمیں عشق کا یہی تصور دکھائی دیتا ہے۔ اسے سنسکرت میں’سنگھار رس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حالانکہ ایسے عناصر اردو کے دوسرے رباعی گوشعرا میں بھی ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن فراق کے ہاں ان کا بیان مخصوص ہندوستانی لب و لہجے اور لفظیات میں کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فراق کی رباعیوں میں جاذبیت، دلکشی اور سحر طرازی پائی جاتی ہے۔ فراق چونکہ انگریزی کے استاد تھے اس لیے ان کے یہاں ہمیں وہاں کے رومانی شاعروں خاص کرولیم ورڈ سورتھ کی طرح مناظر فطرت کی عکاسی بدرجہ اتم ملتی ہے،البتہ فرق صرف پس منظر کا ہے۔ یہاں کے موسم، محبوبہ کا انتظار اپنے محبوب کے لیے(بارہ ماسہ کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے) اسی طرح انگڑائیاں لیتا ہوا سرگم ساقد، پر تولتے ہوئے راج ہنس کی سی انگڑائی، میں جنسی حسن کی مختلف کیفیات ہیں، جن کو فراق نے مختلف زاویوں سے پیش کر کے ہمارے جنسی اور جمالیاتی حس کو جگانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ اس قسم کی رباعیاں دیکھیے ؎
آنسو سے بھرے بھرے وہ نینارس کے
ساجن کب اے سکھی تھے اپنے بس کے
یہ چاندنی رات یہ برہ کی پیڑا
جس طرح الٹ گئی ہونا گن ڈس کے

اٹھنے میں ہمالہ کی گھٹاؤں کا ابھار
اندازِ نشست چڑھتی ندی کا اتار
رفتار میںمد بھری ہواؤں کی سنک
گفتار میں شبنم کی رسیلی جھنکار
فراق نے عورت کو محض عیش کوشی کا سامان ہی نہیں، بلکہ ان کی نظر ’درون خانہ‘ پر بھی تھی اور اس کی ممتا پر بھی، اسی لیے کہا ؎
گل ہیں کہ رخِ گرم کے ہیں انگارے
بالک کے نین سے ٹوٹتے ہیں تارے
رحمت کا فرشتہ بن کے دیتی ہے سزا
ماں ہی کو پکارے اور ماں ہی مارے
فراق کا یہی ’روپ‘ دیکھ کر ڈاکٹر تسکینہ فاضل صاحبہ نے لکھا ہے:
’’فراق نے اردو میں اس قسم کی شاعری کے نہ ہونے پر شکایت کی ہے، اور انھوں نے اردو شاعری میں گھریلو عورت کا تصور بخش کردار اردو شاعری کو اس اعتراض سے کسی حد تک نجات دلائی۔‘‘
مجموعی طور پر فراق کی شاعری میں خاص کر ان کی رباعیوں میں محبوب کے حسن کی دل آویزی اور ہندوستانی ثقافت کی بھر پور ترجمانی ہمیں ملتی ہے۔
فانی کی رباعیاںقدیم روایتوں کی پاسداری کرتے ہوئے کبھی مذہب، ذاتی حالات اور کبھی لفظی و معنوی خوبیوں سے مالا مال نظر آ جاتی ہیں۔اسی طرح تلوک چند محروم مشرقی تمدن کی قدر کرتے ہوئے اصلاحی مقاصد کو تھامتے ہیں۔ عبد الباری آسی 1948 میں اپنی600 رباعیات کا مجموعہ نول کشور لکھنؤ سے لے کر آگئے۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، اس لیے انھوں نے یہاں بھی نا امیدی اور دردوغم کا خوب بیان کیا ہے ؎
آسان بھی یہی ہے اور یہی مشکل ہے
دریا بھی یہی ہے اور یہی سا حل ہے
جو کچھ کرنا ہے زندگی میں کرلو
غربت بھی یہی ہے اور یہی منزل ہے
یگانہ چنگیزی نے اپنے مجموعہ کلام’ گنجینہ‘ میں 163 رباعیوں کو شامل کیا اور ان میں اپنی تند مزاجی اور زندگی کی ولولوں کو پیش کیا، اثر صہبائی دوسروں کی تقلید کرکے رباعیاں لکھتے رہے اور وہ ا س طرح اپنا کوئی خاص رنگ نہیں جما سکے۔
اس دور میں خواجہ دل محمد، صفیہ شمیم ملیح آبادی، حیدر دہلوی، وحشت کلکتوی، فارغ بخاری، سیف الد ین سیف، پروفیسر جگن ناتھ آزار اور اقبال حسین شوقی، پنڈت آئند نرائن ملا نے بھی کمال کی رباعیاں لکھ کر اس صنف کو وقار بخشا۔ بیدم وارثی، اسرار الحق مجاز، فیض، شہباز امروہوی، عرش ملسیانی، گوپی ناتھ امن، اختر انصاری، پریم وار برٹنی، صبا اختر، سیلمان اریب، عبد العزیز خالد، جانثار اختر، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، شاد عارفی، صبااختر، عروج زیدی بدایونی، محمود اسرائیلی، عمر انصاری جیسے کئی لوگ ہیں کہ جنھوں نے بیسویں صدی کے آخر تک رباعی کی شمع کو جلائے رکھا۔
بات خواہ تلوک چند محروم (1885-1966) کی ہو یا ان کے بیٹے جگن ناتھ آزاد (5 دسمبر1918 – 24 جولائی 2004نئی دلی) کی۔ دونوں باپ بیٹے ہمہ گیر شخصیت کے مالک اور جب ہم ان کے ادبی کارناموں کی بات کریں گے، تو یہاں بھی وہ کثیر الجہت ادیب کے طور پر نظر آجاتے ہیں۔
محروم روایتوں اور اقدار کے پرستار تھے،اسی لیے ان کی رباعیوں کو ماہر ین نے درج ذیل عنوانات میں منقسم کیا ہے۔ حمد و مناجات، انسان، مذہب، دنیا، نصائح، فکر نظر، خدا شناسی، جذبات و غیرہ۔ مذہب کے بارے میں لکھی گئی ان کی رباعی دیکھیے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ آج کل کے لوگوں کی حالت دیکھ کر لکھ رہے ہیں ؎
مذہب کی زبان پر ہے نکوئی کا پیام
حسنِ عمل اور راست گوئی کا پیام
مذہب کے نام پر لڑائی کیسی
مذہب دیتا ہے صلح جوئی کا پیام
گنجِ معانی 1932 اوررباعیاتِ محروم1947 کے علاوہ ان کے دیگر شعری مجموعوں میںبھی ان کی رباعیات شامل ہیں۔
جگن ناتھ آزاد نے اپنے والد مکرم کے نقش قدم پر چل کر ادب اور دانشوری کے میدان میں شہسواری کی۔ انھوں نے نثر اور نظم کے شعبوں میں نئے نئے جوت جگائے ہیں، وہاں ان کی ر باعیاں بھی معیار اور مقدار کے مقابلے کم نہیں ہیں اور انھیں بھی اس ضمن میں یاد کیا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے دیگر افکار کی طرح یہاں بھی ہمیشہ مثبت سوچتے رہتے ہیں،اسی لیے کا کیا خوب کہا ہے:
اشعار پر اشعار چلے آتے ہیں
افکار پر افکار چلے آتے ہیں
یہ کس نے اٹھادیا نگاہوں سے حجاب
کھلتے ہوئے اسرار چلے آتے ہیں
1970میں اردو کے ایک بے لوث خدمت گار امیر چند بہار نے’خاند انی منصوبہ بندی‘ پر اردو ہندی میں ایک طویل نظم کچھ رباعیات کے ساتھ لکھی، جس کو ہر یانہ اور ہماچل پردیش کی حکومتوں نے مفت میں تقسیم کر دیا اور انھیں یونین ہلتھ منسٹر کی طرف سے بھی توصیفی پیغام ملا۔
2007میں انجمن ترقی اردو ہند نے امیر چند بہار کی رباعیات کا مجموعہ’اردو ہے جس کا نام‘ کے عنوان سے بڑے منظم طریقے سے منظر عام پر لایا۔ اس مجموعے میں بہار کی 150 رباعیاں ہیں اور یہ ان کی رباعیات کا چوتھا مجموعہ ہے۔ کتاب کے اندرونی صفحات کے مطالعے کے بعد اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر ان کی مطبوعہ رباعیات کی تعداد پندرہ سو کے آس پاس ہوگی اور وہ اردوہندی میں دو درجن کے قریب کتابیں شائع بھی کر چکے ہیں، جن پر انھوں نے کافی انعامات اور اعزازات بھی حاصل کر لیے۔ گو کہ اس وقت میرے پاس ان کا ایک ہی مجموعہ ہے اورکتاب میں انھوں نے سابقہ مجموعوں کے بارے میں دوسروں کی آرا اور کافی معلومات بھی فراہم کی۔ اس سے لگتا ہے کہ اردو رباعی پر بڑے پیمانے پرتاریخ مرتب کرنے یا اردورباعی پر تحقیقی و تنقیدی کام کرتے وقت ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ امیر چند بہار کو مجموعی طور پر اردو رباعی میں کون سا مقام مل سکتا ہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے بھی کیا خوب لکھا ہے:
’’رباعیات کے میدان میں وہ جگت موہن لال رواں، تلوک چند محروم، یگانہ چنگیزی اور امجد حیدر آبادی وغیرہ کے معیار سے کسی طرح کم نہیں ہے۔‘‘
یہ تو ہوئی بات ان کے’معیار‘کی۔ اب اگر معیار کے ساتھ مقدار بھی ملا یا جائے گا، تو امیر چند بہار ان سارے لوگوں سے بہت آگے ہیں۔
علیم صبانو یدی نے’کرناٹک میں نئی شاعری‘ کے عنوان سے (تمل ناڈو اردو پبلیکیشن چنئی) ایک تحقیقی و تنقیدی کتاب شائع کی۔ اس میں انھوں نے ’رباعیات‘ کے باب میں وہاں کے6 مقامی شعرا کے بارے میں مضامین شامل کیے۔ ان میں ضمیر عاقل شاہی، مظہر محی الدین، راہی قریشی، سید احمد ایثار،راہی فدائی اور اکرم نقاش جیسے شعرا کا نام سر فہرست ہے۔ ان مضامین میں انھوں نے ان شعرا کی رباعی گوئی کا جائزہ مع حوالوں اور نمونوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔
مولانا باقر آگاہ و یلوری، حامد حسن قادری، نواب عبدالرحمن شاطر مدراسی، محمد صادق الحسینی شریف مدراسی، ظہیر الدین غازی پوری، نادم بلخی، محبوب راہی، ناوک حمزہ پوری، شاہد کلیم، طاہر رزاقی،ساغر جیدی، فاروق جائسی،ندا خالدی، و قار صدیقی، قمر رعین، رشید کو ثر فاروقی، دانش فرازی آمبوری، ڈاکٹر وحید اشرف، رونق بدایونی، فراغ روہوی، مناف برتر مدراسی، قادر ظہیر مدراسی، مولانا ابوبکر نظمی، نثار بھارتی آمبوری، حبیب اللہ شاہ مدراسی، سجاد بخاری مدراسی، علامہ فدوی با توی ویلوری، مولانا رضا الحق آمری، ڈاکٹر اسلم حنیف، یوسف خواہاں، صبا اکبر آبادی، عبد مدراسی، سرور انبالوی، راہی فدائی، سیداسلم سرالا مری، طلحہ رضوی برق، سید احمد،سحر شاہ جہاں پوری۔
جن نئے شعری مجموعوں میں اردور باعیوں کی نشاندہی کی گئی،اب ان کا ذکر یہاں ان کے نام پتہ اور نمونے کے ساتھ کیا جارہا ہے۔
سریلی بانسری – سید انور این آرزو – اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ2003 رباعیات (185-187) نمونہ ؎
جب پاؤں نئے دیس میں دھرنا ہوگا
جو جو ہوگا چلن سو کرنا ہوگا
مرنے کے لیے ہے چار دن کا رونا
جینے کے لیے پھر ابھی مرنا ہوگا
صدائے فگاراں – تشنہ اعظمی – ناشر شاعر – دین دیال نگر، لکھنؤ 2017 ۔
گلستان تیرے دامن میں رہی اب نام کی خوشبو
نہ پھیلے ہر طرف یکسان، تو ہے کس کام کی خوشبو
کوئی بھی درد کا مارا نظر آہی نہیں سکتا
اگر پھیلے حقیقت میں رفاہ عام کی خوشبو
دیوان آسی- ترتیب – حضرت فانی گورکھپوری – ناشر شاہ عبد العلیم آسی فاؤنڈیشن نئی دہلی 2017 (ر باعیات صفحات 397 تا 416) نمونہ ؎
اک روز کہا میں نے کہ تو دل بر ہے
جانِ عاشق لب شکر پرور ہے
کس ناز سے ہے بولے منھ کو منھ پر رکھ کر
اب یہ کہیے کہ جانا ہونٹوں پر ہے
علیم صبا نویدی نے ادب کے مختلف اصناف پر ڈھیر ساری کتابیں تصنیف کیں۔خاص کر اپنے علاقائی اردو کو فروغ دینے کے سلسلے میں انھوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ علیم صبا نویدی کی نعتیہ رباعی ؎
طیبہ کی فضاؤں کی تجلی دل میں
اللہ کی رحمت جو ہے پھیلی دل میں
سب رحمت عالمؐ کا ہے فیضان حیات
ہر سمت ہے پر نور تسلی دل میں
موصوف کے کلام کو کو بغور دیکھنے سے اس بات کا ضرور پتہ چلے گا کہ وہاں بھی وہ اپنے معاصرین سے پیچھے نہیں ہیں۔
ساحر شیوی ایک ہمہ جہت قلم کار کو منظر عام پر لانے والا شخص نذیر فتح پوری ہے۔ انھوں نے ان کے متعدد شعری اضاف کے ساتھ ساتھ ان کی رباعیات کو بھی فن کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی اور کچھ رباعیوں کو نقل بھی کیا جیسے ؎
گھنگھور گھٹاؤں کو درخشان کردے
صحراؤں کو رنگین گلستان کردے
آنکھوں سے پلا، یا مجھے پیمانوں سے
ساقی مرے جینے کا بھی ساماں کر دے
یہاں مضمون اگر چہ روایتی ہے، مگر ساحرشیوی نے جس طرح اس میں بات اپنے استعاراتی انداز میں کہی ہے اس سے رباعی میں نئی جان پیدا ہوتی ہے۔
آنند موہن زتشی گلزار دہلوی جیسے اردو ادیب اور محب ہمیں بہت دور دور تک نظر نہیں آتے ہیں۔ ان کی اردو دوستی اور اردو دانی پر ایک ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے اور ان کی رباعیات پر ایک مقالہ لکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ جہاں وہ رندی مستی سے بات شروع کر کے تصوف کے دریا بہا دیتے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی( 20 ستمبر 1935- 25دسمبر2020) اردو کے ایک جانے مانے ادیب، نظریہ ساز نقاد ومحقق ہیں۔ انھوں نے اردو ترجمہ، تنقید، تحقیق، فکشن اور شاعری ہر صنف میں ان مٹ نقوش چھوڑ ے۔ اگر دیکھا جائے تو جہاں انھوں نے شاعری میں نئے نئے تجربات کیے، وہاں وہ کلاسیکی صنف یعنی رباعی پر بھی اپنا ہاتھ آزماتے رہے، ان کے مختلف شعری مجموعوں اور رسالہ ’شب خون‘ میں ہمیں ان کی رباعیات ملتی ہیں۔ پہلے گنج سوختہ الہ آباد1969 میں شامل ان کی چند رباعیات کو دیکھیے ؎
اک آتش سیال سے بھر دے مجھ کو
اک جشن خیالی کی خبر دے مجھ کو
اے موج فلک میں سر اٹھانے والے!
کٹ جائے تو روشن ہو اوہ سر دے مجھ کو
ہیں زخم صدا کہ جگمگاتے ہوئے باغ
کالی لمبی ندی پہ روشن ہیں چراغ
کوندی ہے منجمد فضا میں، دیکھو
الفاظ کی تلوار معطر بے داغ
اسی طرح سبزر اندر سبز(1969)آسماں محراب (1994)میںبھی کم و بیش رباعیاں شامل ہیں البتہ چار سمت کا دریا(لکھنؤکتاب گھر1977) ان کا خالص رباعیات کا مجموعے ہے جو کہ 24 بحور میں کہی گئی ہیں اور مجموعہ میں کل35 رباعیاں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں مظفر حنفی نے لکھا ہے:
’’ جانے فاروقی نے دانستہ طور پر اپنی رباعیوں کو چونکا نے، تحیر خیزی سے آلودہ کرنے اور اچانک پن سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یا ان کے لاشعور نے رباعیوں کو زیادہ سنجیدہ بنایا ہے۔ بہر حال ان کی اکثر رباعیوں میں استادانہ چابکدستی،فنکارانہ مہارت اور بڑی حد تک قادر الکلامی سے ملاقات ہوتی ہے، لیکن عام طور پر ان رباعیوں کے چاروں مصرعے یکسان رفتار سے بہتے ہیں‘‘(کاروان ادب بھو پال)۔
ہم عصر دور میں اردو رباعی میں ایک اہم نام طہور منصوری نگاہ (پیدائش 5 مئی 1947 جبل پور)کا آتا ہے۔ انھوں نے غزل جیسی مقبول عام صنف سے منہ موڑ کر اپنی ساری ادبی زندگی صنف رباعی کے لیے وقف کر دی اور اس طرح گلابوں کے چراغ (ملک بک ڈپو ترکمان گیٹ دہلی 2005) کے ساتھ ان کے کئی خالص رباعی مجموعے منظر عام پر بھی آگئے۔ یہ سفر انھوں نے صرف22 برس کی عمر میں شروع کیا اور گیارہ سو سے زیادہ رباعیاں تحریر کیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ار دو رباعی کے روایتی موضوعات اور طرز ادا سے دامن چھڑانے کی کوشش کی۔ زیر نظر مجموعے کی پہلی رباعی میں وہ اپنا تعارف یوں دیتے ہیں ؎
ہم یوں تو بڑے باپ کے بیٹے بھی نہیں
اسناد لیاقت کی لپیٹے بھی نہیں
تخلیقِ ادب، عشق و عمل، علم و ہنر
واللہ کسی بات میںہٹیے بھی نہیں
وہ ان رباعیوں میں گاندھی کے ارمانوں اور ہندوستانی ادب و ثقافت پر بھی بات کرتے ہیں۔ لڑکیوں کے ساتھ ہو رہی ظلم و زیادتیوں، دوسروں کے گھر اجاڑنے والوں کو بھی موضوع بناتے ہیں۔
طہور منصوری نگاہ اگر چہ خود کو بے استاد مانتے ہیں، مگر وہ فراق گورکھپوری کے اثرات سے اپنا دامن نہیں بچا سکے۔ اس قسم کی رباعی کا نمونہ دیکھیے ؎
آنکھوں میں کئی خواب پروتے ہوں گے
مزدور بنے بوجھ ہلا ڈھوتے ہوں گے۔
فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر ساجن
پردیس میں تھک ہار کے سوتے ہوں گے
حافظ کرناٹکی کا قلم بہت زرخیر ہے۔ وہ اردو ادب کی بے لوث خدمت کرتے ہیں،خاص کر بطور چیرمین’کرنا ٹکا اردو چلڈرنس اکیڈمی‘۔ انھوں نے بچوں کے ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ انھوں نے بہت ہی سادگی اور سلیس زبان میں اپنے اصلاحی اور تعمیری مقصد کے تحت رباعیوں کو تخلیق کیا۔
رباعی کے سلسلے کو انھوں نے اس قدر آگے بڑھایا کہ ’رباعیاتِ حافظ‘ حصہ اول 2011 اور 2015 میں دو بار فرید بک ڈپو لمٹیڈ نئی دلی کی وساطت سے منظر عام پر آگیا، جس میں تقریباً ان کی 2080 رباعیات شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی بیشتر رباعیوں میں اصلاح معاشرہ، بچوں، نوجوانوں کی ذہنی تربیت، دینی وابستگی اور افراد کی کردار سازی پر زیادہ زور دے دیا۔ چونکہ انھوں نے’اپنی بات‘ کے تحت خود اس بات کا انکشاف کیا ہے :
’’اس کتاب کی بیشتر رباعیاں رباعی کی ایک مخصوص اور مقبول عام بحر میں ہے۔ مگر رباعیات کا سلسلہ دراز تر ہوتا گیا۔ رباعیات حافظ (حصہ دوم) میں انشاء اللہ کسی اور بحر کی تخصیص نہیں ہوگی‘‘۔ چونکہ حافظ صاحب خالص دینی اور علمی قسم کے انسان ہیں، اس لیے ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عمومی باتوں اور عامیانہ کلام سے گریز کر کے حکمت اور دانائی کی ہی باتیں ہوں ؎
تم اہل وفا ہو تو وفا کرتے رہو
رحمت پہ کرو تکیہ دعا کرتے رہو
ہر حال میں ہر رنگ میں ہر صورت میں
تم خالق و مالک کی ثنا کرتے رہو
پروفیسر محمد علی اثر نے (سہ ماہی فکر و تحقیق اکتوبر- دسمبر2010، ص 10 این سی پی یو ایل نئی دہلی) اردو رباعیات کے صاحب دیوان شاعر 11 مان لیے، جن میں مرزا جعفر علی حسرت دہلوی، نساخ کلکتوی،غمگین دہلوی، ولی دہلوی عزم مدراسی غم حیدر آبادی، احمد علی عصر حیدر آبادی، کشن پرسادشاد، عبد الباری آسی، قوس حمزہ پوری، ناوک حمزہ پوری اور شاہ حسین نہری اورنگ آبادی شامل ہیں۔ چونکہ 2013 میں ڈاکٹر صابرسنبھلی کی کتاب’دواوینِ رباعیات‘ کے عنوان سے منظر عام پر آگئی،تو اس طرح اثر صاحب کی فہرست ایک درجن تک پہنچ جاتی ہے۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ پوری اردو دنیا میں رباعی گو شعرا کے صرف بارہ ہی مکمل دیوان ہوں گے۔
خیر ڈاکٹر سنبھلی کے مذکورہ دیوان جسے انھوں نے’رباعی کے چار کامل دیوا ن‘ کا ذیلی عنوان بھی دیا، میں خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے تمہید کے طور پر صفحہ5 تا صفحہ 62 ایک پرمغز مقالہ فن رباعی اور اس کے اوز ان کے بارے میں تحر یر کیا۔ جہاں وہ نہ صرف اس صنف کے فنی لوازمات کو واضح کرتے ہیں،بلکہ وہ مشق کے طور پر بھی صنف رباعی کو جاننے اور پرکھنے کا فارمولہ پیش کرتے ہیں۔
ان دو اوین میں کل 333 رباعیات شامل ہیں جنھیں موصوف مصنف نے الگ الگ دواوین کے تحت حمدیہ، نعتیہ،رثائی، متفرق، مستزاد، تاریخی، تاریخ ہائے طباعت ترتیب دے دیا۔
حسن فیاض کا تعلق تمل ناڈو بھارت سے ہے اور وہ ایک گوشہ نشین شخص ہے، 1434ھ میں اسے وہاں کے ایک بلند پایہ ناقد اور محقق مرحوم علیم صبانویدی نے اردو دنیا میں متعارف کروایا اور اس طرح ان کی رباعیات کا مجموعہ’گلزار تخیل‘ کے عنوان سے بھی منظر عام پر آگیا۔ جس کے بارے میں علیم صبا نویدی کا خیال ہے :
’’گلزار تخیل کے پہلی حمد یہ رباعی میں ان کی مایوسی، ناامیدی اور یاسیت سے معمور خیالات پر نظر پڑتی ہے، تو یقیناان کے اندر کے دلی کرب کا احساس شدید سے شد ید تر ہو جاتا ہے۔‘‘
در اصل یہ ساراکرب عصری حالات کی پیداوار ہے، جس میں آجکل کا انسان جی رہا ہے ؎
اندھیر ہے، ہنگامہ ہے، تو ہے کہ نہیں
اب ظلم بھی بے جامہ ہے، تو ہے کہ نہیں
روداد حوادث کی کہاں تک لکھیں
روتا ہوا ہر خا مہ ہے، تو ہے کہ نہیں
حسن فیاض کی اکثر رباعیوں کامحور ان کا مذہبی ذہن ہے،اسے امید قوی ہے کہ خدا ہی ہمیں اس دلدل سے نکال سکتا ہے کیونکہ وہ اندھیروں کو روشن کر سکتا ہے ؎
تو چاہے تو گونگے کو سخنور کر دے
تو چاہے تو گارے کو بھی مر مر کر دے
تو چاہے تو انسان کو بلندی دے دے
تو چاہے تو مٹی کے برابر کردے
انھوں نے نعتیہ رباعیاں بھی کہی اور اپنی دیگر رباعیوں میں وہ انسان کو حسد، بغض،ریا کاری اور فتنہ پروری سے صاف و پاک رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اپنے معاشرے میں رہنے بسنے والے لوگوں کو بڑی سلیقہ مندی اور خوش گفتاری سے نصیحت کرتے ہیں ؎
ذہنوں سے تکبرکی کدورت کو نکال
قلبوں سے دکھاوے کی ضروت کو نکال
سینوں کو رواداری کا آئینہ بنا
ہر ایک سے تو ہر بری عادت کو نکال
یہاں حسن فیاض کی رباعیوں کے حوالے سے دو باتیں اہم ہیں۔ ایک تو انھوں نے اس روایت کو زندہ رکھا، جس میں رباعی فلسفیانہ دائرے میں رہتی تھی اور دوم اس سے اخلاقی اور واعظانہ کام بھی لیا جاتا ہے۔
معاصر دور میں اردورباعی کی دنیا میں ایک اہم نام ڈاکٹر عبد الحق امام(1961 پیدائش) کا ہے، جنھوں نے 2012 میں’ آہنگ رباعی‘ کے عنوان سے اپنا مجموعہ شائع کیا۔ ان کی رباعیات سے لگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خالص رباعی کا شاعر مانتے ہیں اور اس فن پر انھیں دسترس حاصل ہے۔ اسی لیے وہ صنف رباعی کے فن کے بارے میں اپنا نظریہ بھی رباعی میں ہی پیش کرتے ہیں ؎
مانا کہ بہت خوب ہے یہ صنف غزل
پر صنف رباعی کا نہیں کوئی بدل
اوزان میں یہ وزن ہیں مرغوب مجھے
مفعول، مفاعیل، مفاعیل، فعل
اس راہ کی سختی کو نہ جانا جس نے
دو بیتی کو سمجھا من وسلویٰ جس نے
کیوں خود کو کیا پانچوں سواروں میں شمار
آہنگ رباعی کا نہ سمجھا جس نے
کشمیر یونیورسٹی کے شعبٔہ ریاضی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر قاضی غلام محمد نے اپنا اردو شعری مجموعہ’حرف شیریں‘ شائع کرکے 1960 کے آس پاس ہی ملکی سطح پر شہرت پائی۔ وہ اصل میں مزاحیہ شاعر تھے، جو اثر ان کی رباعیوں پر بھی ہے۔ البتہ کہیں وہ مزاحیہ انداز میں بھی سنجیدہ بات کہتے تھے اور کہیں اپنی زندگی کے تلخ تجربات کو بھی زندگی کی حقیقت کے آیئنے میں سنور کر دیکھتے ہیں ؎
تعبیر طلب ازل سے خواب ِحیات
ملتا ہی نہیں گوہر نایابِ حیات
اے تلخ پسند زیست حق تو یہ ہے
سیکھے ہیں تجھی سے میں نے آدابِ حیات
کشمیر میں رباعی کے میدان میں ایک اہم نام ایوب صابر کا آتا ہے۔ وہ کشمیری، انگریزی اور اردو میں کئی شعری مجموعوں کے خالق ہیں البتہ 2007 میں ان کی اردو ’رباعیات‘ کا مجموعہ منظر عام پر آگیا۔ اس میں 390 رباعیاں ہیں جو کہ زیادہ تر طالب علموں کے لیے لکھی گئی۔ ظاہر سی بات ہے کہ وہ ان میں تعلیم اور اخلاق کا درس دیتے ہیں۔ اور فنی اعتبار سے بھی ان کی رعبایاں اپنے معیار پر قائم ہیں ؎
حصول علم میں روحانیت ہو
حلال رزق کی ارزانیت ہو
دعا میری یہی ہے میرے مولا
جہاں میں عام بس انسانیت ہو
مسعود سامون کو کشمیر میں خالص رباعی گو شاعر سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی رباعیوں میں صوفیانہ مضامین پیش کرنے کے بجائے طرح طرح کے موضوعات سے انھیں ہمکنار کیا۔ اسی لیے خود اس بات کا دعویٰ بھی کیا ہے ؎
کہتا ہوں رباعیاں ہی کہتا جاؤں
بے سمت فلک کی آنکھ سیتا جاؤں
افکار کی کشتی کو نئے ساحل پر
لے جاؤں ہوا کے رخ پر بہتا جاؤں
کشمیر کے جن دیگر شاعروں نے رباعی گوئی میں طبع آزمائی کی، ان میں حکیم منظور، مظفر ایر ج اور فرید پربتی قابل ذکر ہے۔
میر غلام رسول نازکی (16 مارچ1910- 16 اپریل 1998) کشمیر کے ایک معتبر شاعر اور براڈکاسٹر تھے۔ ان کا دور کشمیر میں ترقی پسندی کا تھا، جس سے ان کا براہ راست کوئی واسطہ نہیں رہا، لیکن پھر بھی وہ اپنا دامن اس سے نہیں بچا سکے، حالانکہ وہ علامہ اقبالؒ کے زبر دست شیدائی اور مقلد تھے۔ ’رباعیات نازکی‘ کے عنوان سے غلام نبی خیال نے شیرازہ( اشاعت خصوصی بیاد میر غلام رسول نازکی جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز سرینگر جلد74 شمارہ 1تا 5، ص128-147) میں جو مضمون لکھا،اس میں انھوں نے نازکی صاحب کی اردورباعیوں کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے اور یہاں ان کا فوکس کشمیری رباعی ہی رہا۔ البتہ ان کے کلام کے مجموعی طور پر مطالعہ کرنے سے لگتا ہے کہ ان کی عقیدتی شاعری میں قطعات کے ساتھ ساتھ رباعیاں بھی مل رہی ہیں۔ جن کی تعریف حکیم منظور نے بھی کی۔ جب ہم مجموعی طور پر اردو رباعی کی بات کریں گے، چاہے جموں و کشمیر ہو یا ار دو کا کوئی دوسرا علاقہ ہو۔ ہر کہیں ادب لکھا جا رہا ہے اور ہمارے پاس شاعروں کی کمی نہیں ہے، مگر صنف رباعی کو وہی لوگ ہاتھ لگا سکتے ہیں، جو فن شاعری کے تمام تر رموز سے واقف ہوں گے۔ اسی لیے ڈاکٹر منصور عمر نے بھی کیا خوب کہا ہے:
’’فی زمانہ معتبر رباعی گو شعراکا فقدان ہے۔ اس لیے کہ نئے عہد کے فنکار سہل پسند واقع ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ فکری اظہار کے لیے آزاد اور نثری نظمیں جیسی صنفیں موجود ہیں، جہاں فنکاری کی ضرورت کم سے کم محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس رباعی گوئی فکر و فنی پختگی کے بغیر نا ممکن ہے۔ رباعی گو شعرااپنی عمر اور شاعری دونوں لحاظ سے عموماً پختہ کار ہوتے ہیں‘‘۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے بیشتر اسکالرس،نا قدیں اور اساتذہ جب رباعی پر بات کرتے ہیں، تو وہ فراق اور جوش سے آگے نہیں بڑھتے ہیں۔ ٹھیک یہی حال کہیں کہیں دوسری اصناف کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ سلام سندیلوی اور فرمان فتحپوری نے اردو رباعی پر اپنے دور میں قابل تعریف کام کیا ہے، لیکن ہمیں آج ان کے کام کو ذراExtend کر لینا چاہیے اور نئے نئے رباعی گو شعرا کو بھی ضرور discussکر لینا چاہیے۔

کتابیات
1 ار دو رباعیاں – ڈاکٹر سلام سندیلوی نسیم بکڈپو لاتوش روڑ لکھنؤ 1963
2 اردو رباعی فنی و تاریخی ارتقا۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری۔ مکتبہ عالیہ لاہورطبع1982
3 ار دو رباعی میں تصوف کی روایت(1936 تک)ڈ ا کٹر سلمہ کبری۔ عباس پبلی کیشنز کولکاتا 2007۔
4 اردو ہے جس کا نام – امیر چند بہار – انجمن ترقی ارد و نئی دلی 2007۔
5 ارد و کی بہترین رباعیاں – مرتب ڈائمنڈ پاکٹ بکس پرائیویٹ لمیٹڈ دریاگنج نئی دہلی۔
6 رباعیات حالی مرتبہ- محمد رحمت اللہ رحد- اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ1986۔
7 رباعیات انیس – مرتبہ سید محمدحسن بلگرامی۔ اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ 1995۔
8 آ ہنگ رباعی – ڈاکٹر عبد الحق امام- نوربک ڈپو نخاس چوک گورکھپور 2012 ۔
9 اردو شاعری کا فنی ارتقاء، ڈاکٹر فرمان فتحپوری ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی1994
10 تلوک چند محروم – مرتبہ جگن ناتھ آزاد – انجمن ترقی ار در ہند نئی دہلی۔ چوتھی طباعت 2002
11 تنقیدرباعی- ڈاکٹر فرید بر بتی- ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی 2011
12 دبستان جموں و کشمیر میں اردو- ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری- گلشن بکس سرینگر2012۔
13 فراق گورکھپوری۔ ذات و صفات – ارد و اکاد می دہلی 1998۔
14 عکس مطالعہ – علیم صبا نویدی۔ تمل ناڈو اردو پبلی کیشنزچینئی2019۔
15 ایوان ار دو جنوری 2014 – اردو اکادمی دہلی( مضمون نگار پروفیسر صغیر افراہیم)
16 ایوان ار دو۔ ڈسمبر 2014 – ار دو اکادمی دہلی( مضمون نگار ڈاکٹر مقبول احمد مقبول)
17 پیش رفت مارچ -اپریل 2018 – نئی دلی (امجد حیدر آبادی نمبر)
18 ریختہ ڈاٹ کام اور ٹیلی گرام سے اردوای لائبریری کا سہارا بھی لے لیا گیا۔
19 اس کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد کے بلاک پہلا پرچہ سے بھی استفادہ کیا گیا۔


Dr. Mohiudin Zore Kashmiri
Darulabad, Farashgund
Budgam- 191111 (J&K)
Mob.: 9149773980
drzoreurdu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

محمد یحیی تنہا اور سیر ا لمصنفین، مضمون نگار:ابراہیم افسر

تلخیص: میرٹھ میں تحقیقی کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں محمد یحییٰ کا شمار صفِ اوّل کے قلم کاروں میں ہوتا ہے۔محمد یحییٰ تنہا نے اُردو نثر نگاروں کا پہلا

قاضی عبدالودود اور غالبیات، مضمون نگار: شہاب ظفر اعظمی

تلخیص:  اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبد الودود ایک معتبر نام ہے جنھوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی

تنوع پسند شاعر: مرزا محمد رفیع سودا،مضمون نگار: ابوبکرعباد

تلخیص: مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر