تلامذئہ شبلی کی خدمات،مضمون نگار :اطہر حسین

October 11, 2025 0 Comments 0 tags

تلخیص


علامہ شبلی نعمانی نے نامور علم وفن کا جو کارواں اپنے پیچھے چھوڑا ان کی ایک بڑی تعداد ہے۔بیشتر شاگرد اپنے زمانے کے نامور معلم،مصنف اور شاعر ہیں۔ان شاگردوں نے شبلی نعمانی کے علمی وادبی کارواں کو آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ان کے ادھورے کاموں کو مکمل کیا بلکہ ان کے طرز تصنیف کو بھی عام کیا۔ان کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض نئے کام بھی انجام دیے۔
سید سلیمان ندوی شبلی کے پروردہ اور سچے جانشینوں میں سے تھے۔انھوں نے نہ صرف یہ کہ علمی وادبی موضوعات پر درجنوں کتابیں تحریر کیں بلکہ شبلی کے ادھورے کاموں کی تکمیل اور ان کے خوابوں کو بھی شرمندہ تعبیر کیا۔دارالمصنفین کا خاکہ خود شبلی نے تیار کیا تھا 1914 میں قائم کیا۔ دارالمصنفین کے قیام کے بعد 1916میں ماہنامہ معارف کا اجرا کیا۔ شبلی نعمانی نے عبد السلام ندوی کی تربیت خاص انداز سے کی تھی۔وہ علامہ شبلی کے معاونین میں سے تھے۔دارالمصنفین کے علمی منصوبوں کی تکمیل میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔
اقبال سہیل شبلی کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔وہ ایک قوم پرورشاعر،کامیاب وکیل اور ادیب وانشا پرداز تھے۔ضیاء الحسن علوی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلما کے ابتدائی طالب علموں میں سے تھے۔ شبلی کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے متعدد علمی واصلاحی کام کیے۔شبلی کے اہم شاگردوں میں ایک نام مولانا حمید الدین فراہی کا ہے۔اعظم گڑھ میں قیام کے دوران شبلی نے انھیں عربی اور اسلامی علوم کی بنیادی تعلیم مکمل کرائی تھی۔شبلی اپنے شاگردوں میں مولانا حمید الدین فراہی کی بڑی قدر کرتے تھے۔


کلیدی الفاظ
علامہ شبلی نعمانی،سید سلیمان ندوی،عبد السلام ندوی،مولانا حمید الدین فراہی،مولانا محمد علی جوہر،اقبال سہیل، ضیاء الحسن ندوی علوی،مولانا عبد الباری ندوی،مولانا مسعود علی ندوی،سید ابو ظفر ندوی،مولانا شبلی متکلم، دارالمصنفین اعظم گڑھ،ماہنامہ معارف،دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اصلاح نصاب،اداروں کا استحکام،حیات شبلی۔تحریک ندوۃ العلما،
————
دارالمصنفین کے بانی علامہ شبلی نعمانی (1857-1914) ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صرف مصنف ہی نہیں بلکہ انھیں مصنف گر بھی کہا گیا۔تصنیف وتالیف کے میدان میں ان کی خدمات بہت متنوع ہیں۔انھوں نے تحقیق وتنقید کے ساتھ ساتھ سوانح وسیرت اور تاریخ پر بلند پایہ کتابیں تحریر کیں۔ بطور شاعر بھی شبلی نعمانی کو ممتاز مقام حاصل ہے۔تاریخی نظموں کے ساتھ ساتھ ہنگامی اور وقتی مسائل پر ان کی نظمیں بہت اہم ہیں۔علمی وادبی موضوعات پر ان کی تنہا خدمات ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مختلف اداروں کا قیام واستحکام اور اصلاح میں اہم کردار ادا کیا۔تصنیف وتالیف کے علاوہ درس وتدریس کے فرائض بھی انجام دیے،طلبا کی ذہن سازی کی۔ علامہ شبلی نے نامور علما وادبا سے تعلیم حاصل کی اور ان کے تدریسی طریق کار کو بھی سمجھا۔ شبلی ایک بہترین شاگرد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مربی استاد بھی تھے۔اپنی علمی لیاقت اور تجربات کوشاگردوں کی تربیت میں صرف کیا۔ تصنیف وتالیف کے علاوہ طلبا کی ایک جماعت تیار کی جنھوں نے ان کے علمی وادبی کارواں کو آگے بڑھایا۔ انھیں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں سولہ سال اور دارالعلوم ندوۃ العلما میں تقریباً نو سال پڑھانے کا تجربہ تھا۔اس مدت میں انھوں نے سیکڑوں طلبا کی تربیت اور ذہن سازی کی۔ علامہ شبلی کے شاگردوں میں سید سلیمان ندوی،مولانا عبدالسلام ندوی،مولانا حمید الدین فراہی،اقبال سہیل،مولانا عبد العزیز ندوی،مولانا محمد علی جوہر،مولانا مسعود علی ندوی،مولانا عبد الباری ندوی،ضیاء الحسن علوی،سید ابوظفر ندوی اور شبلی متکلم وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔اس کے علاوہ اعظم گڑھ میں بھی چند طلبا کی ذہن سازی کا کام کیا۔ ان شاگروں نے نہ صرف یہ کہ ان کے نامکمل اور ادھورے کاموں کو مکمل کیا بلکہ ان کی طرز تصنیف وتالیف کو بھی آگے بڑھایا۔شبلی نعمانی کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد نمایاں کارنامے انجام دیے اور ان کی فکر وخواہش کو بھی پورا کرنے کی مکمل کوشش کی۔
سید سلیمان ندوی، مولانا عبد السلام ندوی اور مولانا ضیاء الحسن علوی ندوی ان کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔شبلی نے دارالعلوم ندوۃ العلما میں باضابطہ ان کی تعلیم و تربیت کی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد سید سلیمان ندوی نے سیرت النبیؐ کی تکمیل کی۔دارالمصنفین اور ماہنامہ معارف جس کا خاکہ خود شبلی نے تیار کیا تھا اس کو قائم کرکے حق شاگردی عطا کیا۔مولانا عبدالسلام ندوی نے شعر العجم کی طرز پر شعر الہند لکھ کر شبلی کے طرز تصنیف کو آگے بڑھانے کی بہترین کوشش کی۔اصلاح نصاب کا کام شبلی نعمانی نے جو دارالعلوم ندوۃ العلما میں کیا تھا،مولانا ضیاء الحسن علوی ندوی نے مدارس کے انسپکٹر بننے کے بعد ریاستی سطح پر مدارس کی اصلاح اورترقی میں اہم رول ادا کیا۔ اقبال سہیل جن کی تربیت اعظم گڑھ میں قیام کے دوران کی تھی۔انھیں نہ صرف علوم القرآن،فلسفہ اور معقولات کی تعلیم دی بلکہ نثر ونظم لکھنے کی مشق بھی کرائی۔اقبال سہیل کی تحریروں میں شبلی نعمانی کا عکس نظر آتا ہے جس کا اعتراف خود شبلی نے کیا تھا۔مولانا حمید الدین فراہی جنھیں شبلی نعمانی نے عربی اور اسلامی علوم کی خاص طور سے تعلیم دی تھی، علامہ کی اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ انھوں عربی اور قرآنی علوم پر کئی اہم کتابیں تصنیف کیں۔یہاں انھیں شاگردوں کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔


سید سلیمان ندوی
سید سلیمان ندوی کا شمار ممتاز علمی وادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔وہ ایک عظیم المرتبت عالم دین،محقق،مؤرخ،صحافی،ادیب وشاعر،ماہر تعلیم اور سیاست داںتھے۔سید سلیمان ندوی علامہ شبلی کے جانشینوں میں سے تھے۔انھوں نے نہ صرف علمی وتحقیقی موضوعات پر کتابیں تحریر کیں بلکہ شبلی کے ادھورے کاموں کی تکمیل اور ان کے خوابوں کو شرمندئہ تعبیر بھی کیا۔سیرت النبیؐ (آخری جلدیں)، حیات شبلی، خیام، یادرفتگاں، سیرت عائشہ،ارض القرآن،خطبات مدراس،نقوش سلیمانی،مقالات سلیمان، عربوں کی جہاز رانی،اسلام اور مستشرقین،جیسی قابل ذکر کتابیں ان کی یادگار ہیں۔
سید سلیمان ندوی22 نومبر 1884 میں دسنہ ضلع پٹنہ (بہار)میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم مولوی مقصود اکھدوی اور خلیفہ انوار علی سے حاصل کی۔ 1901 میں دارالعلوم ندوۃ العلما میں داخلہ لیا جہاں پانچ سال تک مفتی عبد اللطیف سنبھلی،مولانا شبلی فقیہ جے راجپوری،مولانا حفیظ اللہ اعظمی،مولانا فاروق چڑیا کوٹی اور سید علی صاحب سے فیض یاب ہوئے۔1905میں علامہ شبلی نعمانی ندوۃ العلما کے معتمدتعلیم ہوکر لکھنؤ آئے تو سید سلیمان ندوی کو اپنی تربیت خاص میں لے لیا۔علامہ نے انھیں تصنیف وتایف کے لیے تیار کیا۔ 1906میں ندوۃ العلما سے فراغت کے بعد الندوہ کے سب ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ 1910میں شبلی نے جب سیرت النبیؐ کی تدوین کے لیے ایک شعبہ قائم کیا تو سید سلیمان ندوی کو لٹریری اسسٹنٹ مقرر کیا۔1912تک’ الندوہ‘ کی سب ایڈیٹری کے فرائض انجام دیتے رہے۔کچھ وقت تک ’الہلال‘ کی مجلس ادارت میں بھی رہے۔ 1913کے اواخر میں علامہ شبلی کے ایما پر دکن کالج پونا میں عربی فارسی کی پروفیسری قبول کرلی۔ علامہ شبلی کے انتقال کے چند روز قبل 1914میں اعظم گڑھ آ گئے جہاں انھوں نے نہ صرف یہ کہ سیرت النبیؐ کی تکمیل کی بلکہ دارالمصنفین جس کا خاکہ خود شبلی نے تیار کیا تھا اس کو عملی جامہ پہنایا۔ 1916میں ماہنامہ معارف جاری کیا۔ دارالمصنفین اور شبلی کی وصیت کی تکمیل میں جد وجہد اور جانفشانی کرتے رہے۔ سید سلیمان ندوی کی اولین حیثیت ایک عالم دین کی ہے۔ان کے علمی ودینی کارناموں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔سید سلیمان ندوی کی تحقیقی خدمات کا ایک بڑا حصہ سیرت وسوانح پر مشتمل ہے۔
خیام(1933) سید سلیمان ندوی کا اہم تحقیقی کارنامہ ہے۔عمر خیام شاعر،علم ہیئت،علم نجوم،ریاضی اور فلسفہ کا ماہرتھا البتہ ان کی عالمی شہرت کا باعث ان کی رباعیاں ہیں۔’خیام‘ فارسی شاعر عمر خیام کی سوانح حیات ہے۔ مختلف عنوانات قائم کر کے عمر خیام کے حالات، تصانیف، تلامذہ، فارسی رباعی،خیام کا مذہب،خیام کا مشرب ومسلک،بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔خیام پر دنیا کی مختلف زبانوں میں بہت کام ہوچکے ہیں البتہ ان پر لکھی جانے والی زیادہ تر کتابیں مستشرقین کی ہیں۔عربی فارسی میں بھی خیام پر خوب تحقیق ہوئی ہے۔پھربھی خیام کی زندگی کے بعض پہلووں اور تصانیف پر اختلافات پائے جاتے تھے۔ سید سلیمان ندوی کی تحقیق سے قبل اکیس کتابوں کو خیام سے منسوب کیا جاتا رہا ہے جبکہ انھوںنے صرف تیرہ کتابوں کو خیام کی تصنیف مانا ہے۔خیام کی زندگی کے بعض نئے پہلووں کا بھی انکشاف کیا ہے۔ان غلط روایتوں کا ازالہ بھی کیا ہے جو ایک مدت سے رائج تھیں۔ سید سلیمان ندوی نے عربی،فارسی اور دیگر یورپی محققین کی 63 کتابوں اور خود خیام کی 13 کتابوں کو ماخذ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ کتاب کے شروع میں ’سوانح خیام کے ماخذ ومصادر پر ناقدانہ تبصرہ ‘لکھ کر محققین کی کتابوں کا تنقیدی مطالعہ کیا ہے اور ان کے نقائص بھی بیان کیے ہیں۔
سیدسلیمان ندوی نے ان کی رباعیوں پر سب سے زیادہ محنت کی ہے۔قدیم سے قدیم ماخذ دریافت کیے ہیں۔یورپ میں خیام ایک شرابی کی حیثیت سے مشہور تھا۔سید سلیمان ندوی نے تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ خیام شراب نوشی تو دور وہ شراب کو پسند تک نہیں کرتا تھا۔کسی معتبر ماخذ میں اس کا ذکر بھی نہیںہے۔بعض مستشرقین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ خیام الحادی تھا سید صاحب نے دلائل سے اس کو بھی غلط ثابت کیا ہے۔اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ فردوسی کے ہزار سالہ جشن کے موقع پرافغانستان نے ایران کو جو تحائف دیے اس میں سید سلیمان ندوی کی یہ کتاب’ خیام‘ بھی شامل تھی۔
سید سلیمان ندوی علامہ شبلی کے نہ صرف شاگرد بلکہ جانشین بھی تھے۔ ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور قلم کو نکھارنے میں علامہ شبلی کا اہم رول رہا ہے۔ہیروز آف اسلام کا جو سلسلہ شبلی نے شروع کیا تھا اس میں سید سلیمان ندوی کو اسسٹنٹ مقرر کیا تھا۔انتقال کے وقت سیرت کی تکمیل کی وصیت بھی سید سلیمان ندوی کو کی۔سیرت النبیؐکی تکمیل سید سلیمان ندوی کا قابل قدر کارنامہ ہے۔ سیرت النبیؐ سات جلدوں پر مشتمل ہے۔ابتدائی دو جلدیں جس میں اللہ کے رسولؐ کی سیرت وسوانح پر روشنی ڈالی گئی ہے علامہ شبلی نے لکھی ہیں جبکہ بقیہ پانچ جلدیں جو شریعت محمدیہؐ پر مشتمل ہیں علامہ شبلی کے ایما پر سید سلیمان ندوی نے تالیف کیں۔سیرت عائشہؓ،حیات مالک اور رحمت عالم سوانح اور سیرت کے اہم کارنامے کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ان کتابوں میںسوانح کے جدید اصولوں اور سائنٹفک طریق کار کو اختیار کیا گیا ہے۔سید سلیمان ندوی جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں، پہلے تمام ذرائع سے مواد اکٹھاکرتے ہیں اور پھر تحقیق وتنقید کے بعد نہایت سلیقے سے مواد کی تسوید کرتے۔کسی بھی موضوع پر بغیر تحقیق کے وہ کوئی رائے قائم نہیں کرتے۔ان کی سوانحی کتابیں ادبی تحقیق کا عمدہ نمونہ ہیں۔ ارض القرآن سیرت البنیؐ کے دیباچہ کے طور پر لکھی گئی تھی، البتہ ضخامت کی وجہ سے کچھ حصے کو دیباچے میں شامل کیا گیا اور بقیہ کتابی شکل میں ارض القرآن کے نام سے شائع ہوا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دارالمصنفین کے قیام کے بعد سب سے پہلے یہی کتاب شائع ہوئی۔ارض القرآن سید سلیمان ندوی کا منفرد اور اہم کارنامہ ہونے کے ساتھ علمی تحقیق کا گراں قدر سرمایہ بھی ہے۔یہ کتاب قرآن مجید کی تاریخی اور جغرافیائی تفسیر ہے۔ قرآن مجید میں جن تاریخی مقامات اور قبائل کا ذکرہے ارض قرآن میں اس کی جغرفیائی تحقیق کی گئی ہے۔مستشرقین کی غلط بیانیوں کاازالہ بھی کیا گیا ہے۔سید سلیمان ندوی نے اس کتاب کی تالیف کے لیے عربی،عبرانی،فرانسیسی اور جرمنی میں ترجمہ شدہ مواد سے استفادہ کیا۔ تورا ت، زبوراور قرآن کے علاوہ عرب کی قدیم ترین تواریخ کا بھی بطور خاص مطالعہ کیا۔ارض القرآن موضوعی حیثیت سے کافی منفرد اور اہم تحقیقی کارنامہ ہے۔
سید سلیمان ندوی کو علامہ شبلی سے بڑی قربت تھی۔ 1905ندوۃ العلماء کے زمانے سے لے کر 1914تک کا ساتھ رہا۔اس درمیان دونوں شخصیتوں کو ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کا خوب موقع ملا۔ شبلی کے بیشتر حالات بالخصوص ابتدائی اور تعلیمی زندگی انہی کی زبانی سن رکھی تھی اور بقیہ ان کے رشتہ داروں اور شاگردوں سے معلوم ہوئی۔ علامہ شبلی کے احباب اور ان کے معاصرین سے بھی سید سلیمان ندوی کے روابط تھے البتہ حیات شبلی کی تالیف میں زیادہ استفادہ شبلی کے مکاتیب سے کیا۔شبلی کے بیشتر حالات ان کے خطوط میں کسی نہ کسی صورت سے موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سید سلیمان ندوی نے حیات شبلی کے دیباچے میں اسے سوانح کے بجائے خودنوشت سوانح لکھا ہے۔سید سلیمان ندوی نے شبلی کے حالا ت بڑی تلاش وتحقیق کے بعد لکھے ہیں۔ پیدا ئش سے لے کرآخر ایام تک کے حالات اور ان کے علمی وادبی کارناموں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔مولانا کی حیا ت وخدمات پر یہ ایک مستند کتاب ہے اور سید سلیمان ندوی کا بہترین تحقیقی کارنامہ بھی۔عربوں کی جہاز رانی سید سلیمان ندوی کی نہ صرف اہم تحقیقی کاوش ہے بلکہ جہاز رانی کے فن اور اس کی تاریخ پر اردو میں پہلی کتاب ہے۔یہ دراصل چار اہم خطبات کا مجموعہ ہے۔ سید سلیمان ندوی نے جہاز رانی کے فن،جہازسازی کے کارخانوں،عربوں کی جہازوں کے خصائص،جہاز رانوں کی تحقیقات،ایجادات ومشاہدات کو بڑی تفصیل سے تاریخی حوالوں سے بیان کیا ہے۔ جہاز رانی اردو تحقیق کا نہ صرف قابل قدر کارنامہ ہے بلکہ اردو میں اس فن پر پہلی کتاب ہے۔سید سلیمان ندوی نے بڑی تعداد میں تحقیقی مضامین اور مقالات بھی لکھے، و تین جلدوں میں مقالات سلیمانی کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔


مولانا عبد السلام ندوی
مولانا عبدالسلام ندوی کی شخصیت کسی خاص تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی وادبی حیثیت مسلم ہے۔ وہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ نقاد، سوانح نگار، مؤرخ، شاعر اور مترجم بھی تھے۔تاریخی وسوانحی کتابوں میں انقلاب امم،اسوۂ صحابہ،سیرۃ عمر بن عبد العزیز، تاریخ فقہ اسلامی اور فقرائے اسلام اہم ہیں۔اس کے علاوہ ان کی کتاب اقبال، کامل اقبال کے فکر وفن پر آزاد ہندستان میں لکھی جانے والی پہلی کتاب شمار کی جاتی ہے۔شبلی کے نمایاں شاگردوں میں ایک اہم نام مولانا عبد السلام ندوی کا ہے۔شبلی نے ان کی تربیت خاص انداز میں کی تھی۔ دونوں شخصیت کے درمیان لکھے گئے خطوط کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی نہ صرف یہ کہ ان پر بھروسہ کرتے تھے بلکہ ان کی علمی استعداد کے معترف اور قدرداں بھی تھے۔ مشورے کے ساتھ ساتھ نصیحتیں اور تنبیہ بھی کیا کرتے تھے۔ انھوں نے شبلی کی تربیت سے فیض حاصل کرتے ہوئے ’شعرالعجم‘ کی طرز پر ’شعرالہند‘ لکھی۔ علامہ شبلی نعمانی کے انتقال کے بعد نہ صرف یہ کہ دارالمصنفین کے اہم رکن رہے بلکہ سید سلیمان ندوی کے اہم منصوبوں کی تکمیل میں ہم قدم بھی رہے۔دارالمصنفین کے لیے متعدد کتابوں کے علاوہ ایک مدت تک معارف کے شذرات بھی تحریر کیے۔اپنی علمی وتحقیقی کاوشوں سے دارالمصنفین کی عظمت میں اضافہ کیا۔
مولانا عبدالسلام ندوی موضع علاؤ الدین پٹی 16فروری 1883کو پیدا ہوئے۔مولانا کے والد شیخ دین محمد تعلیم یافتہ اور فارسی زبان وادب پر کافی دسترس رکھتے تھے۔عبدالسلام ندوی کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی البتہ اعلی تعلیم کے لیے کانپور،آگرہ اور مدرسۂ چشمہ رحمت غازی کا رخ کیا۔ ان کے اساتذہ میں مولوی سید امداد علی،عبد اللہ چاندپاروی،میاں صاحب،مولوی بخش احمد،مولوی محمد رمضان، مولوی شبلی جیراج پوری اور علامہ شبلی کا نام قابل ذکر ہے۔1906میں ندوۃ العلما میں داخلہ لیا۔ 1910 میں فراغت کے بعد ندوۃالعلما لکھنؤ میں عربی ادب کے استاد مقرر ہوئے۔سیرۃ النبیؐ کی تصنیف میں لٹریری اسسٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں،مارچ1910سے جولائی1911تک الندوہ کے ایڈیٹر بھی رہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کی دعوت پر کلکتہ گئے جہاں ایک مدت تک الہلال کی ذمے داری سنبھالی۔علامہ شبلی عبدالسلام ندوی کے اشتراک سے کوئی رسالہ نکالنا چاہتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب انھوں نے الہلال جوائن کرنے کا فیصلہ کیا تو شبلی نعمانی نے مارچ 1914کو ایک خط میں لکھا کہ تم جاتے ہو تو رسالے کا کیا حشر ہوگا۔الہلال میں جاؤ مضائقہ نہیں لیکن یہ شرط کرلو کہ تم الہلال میں جذب نہ ہوجاؤ یعنی جو لکھو اپنے نام سے لکھو ورنہ تمھاری زندگی پر بالکل پردہ پڑجائے گا اور آئندہ ترقیوں کے لیے مضر ہوگا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی انھیں کس قدر عزیر رکھتے تھے۔ ان کے جانے کا دکھ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے۔علامہ شبلی نے ایک خط میں آگے چل کر انھیں اچھے مصنف ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔پروفیسر محمود الٰہی نے لکھا ہے :
’’علامہ شبلی کی رفاقت جن دانشوروں کو نصیب ہوئی ان میں مولانا عبدالسلام ندوی کوکئی جہتوں سے اہمیت حاصل ہے۔انھوں نے دارالمصنفین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ وہ فنا فی العلم تھے۔انھیں مذہبیات پر بڑی حد تک عبور حاصل تھا اور اردو زبان وادب کو پروان چڑھانے کا سلیقہ انھیں آتا تھا۔‘‘
علامہ شبلی کے انتقال کے بعد جب دارالمصنفین کا قیام عمل میں آیا تو سید سلیمان ندوی کی دعوت پر اعظم گڑھ آگئے۔یہاں آنے کے بعد انھوں نے پوری زندگی دارالمصنفین کے لیے وقف کردی۔ دارالمصنفین کے قیام اور شبلی کے ادھورے کاموں اور ان کے خواب کی تکمیل کے لیے اخوان الصفا کے نام سے جو کمیٹی بنائی گئی اس کے ارکان میں ان کا نام شامل کیا گیا۔دارالمصنفین کے علمی منصوبوں کی تکمیل میں مولانا عبد السلام ندوی کا اہم کردار رہا ہے۔انھوں نے دارالمصنفین کی متعدد کتابیں اور سیکڑوں مقالات تحریر کیے۔معارف میں مقالات کے علاوہ نومبر1918،جنوری1925تا جون 1926کے شذرات بھی تحریر کیے۔اکتوبر1956کو ان کا انتقال ہوا۔دارالمصنفین میں اپنے استاد علامہ شبلی سے متصل مدفون ہیں۔
مذہبی تصنیفات کے علاوہ ادب وتاریخ ان کا خاص دائرہ تھا۔ تاریخ اسلام کی مایہ ناز شخصیتوں اور ملت اسلامیہ کی ماضی کی عظمتوں کے نقوش کو تازہ کیا۔مسلمانوں کی عظیم تاریخ کو واضح کرنے اور اس سلسلے میں جو غلط فہمیاں پیدا کی گئیں ا ن کو دور کرنے کی قابل قدر کوشش کی۔ ان کی تصانیف میں اسوہ صحابہ،اسوۂ صحابیات،سیرۃ عمر بن عبد العزیز،تاریخ اخلاق اسلامی،امام رازی اورحکمائے اسلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ترجمے کے فن پر بھی انھیں ماہرانہ قدرت تھی۔انھوں نے متعدد اہم کتابوں کے عربی سے اردو میں نہایت سلیس اور شگفتہ ترجمے کیے۔تخلیقی ترجمے پر انھیں خاص ملکہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعض ترجمے طبع زاد نظر آتے ہیں۔ان ترجمہ کردہ کارناموں میں ابن خلدون،انقلاب امم،ابن یمین، تاریخ فقہ اسلامی،اسلامی قانون فوجداری،تاریخ الحرمین،التربیۃ الاستقلالیہ،فقرائے اسلام، فطرت انسانی اور ابن یمین قابل ذکر ہیں۔
مولانا عبدالسلام ندوی کے ادبی وتنقیدی کارناموں میں شعر الہند اور اقبال کامل کو بے حد مقبولیت حاصل ہے۔شعر الہند اردو شاعری اور شاعروں کادو جلدوں پر مشتمل تذکرہ ہے۔شعر الہند کو ادبی تاریخ بھی کہا گیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں قدیم شعرا کے تذکروں کی حیثیت اور کیفیت کے ساتھ ساتھ اردومیں فن تنقید پر مبسوط مقدمہ لکھا ہے۔اردو شعرا کے حالات اور اردو کی تمام شعری اصناف کا تاریخی وادبی جائزہ پیش کیا ہے۔اقبال کامل 1948میں ان کے انتقال کے بعد شائع ہوئی، جس میں علامہ اقبال کی مفصل سوانح،تصنیفات،فلسفہ اور کلام پر تنقیدی جائزہ شامل ہے۔اقبال کا نظریۂ خودی،بے خودی،نظریہ ملت،تعلیم،سیاست اورنظام اخلاق وغیرہ کے بارے میں اقبال کے خیالات کی ادبی پیرائے میں تشریح کی ہے۔آخر میں ان کے نعتیہ کلام پر بھی مختصر اظہار خیال کیا ہے۔واضح رہے کہ شعر الہند اور اقبال کامل مختلف یونیورسٹوں میں شامل نصاب ہے۔عبد السلام ندوی کی ایک حیثیت شاعر کی ہے۔ انھوں نے مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کی البتہ انھوں نے اپنی شاعری کو کوئی اہمیت نہ دی۔ واضح رہے کہ وہ اردو اور فارسی دونوں زبان میں شاعری کرتے تھے۔ان کی ایک کاپی تھی جس پر وہ اشعار لکھا کرتے تھے البتہ وہ کاپی بھی تلف ہوگئی۔شاعری کا یہ سلسلہ زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا۔ انتقال کے بعد ان کی جیب سے ایک غزل برآمد ہوئی تھی جو فانی بدایونی کی زمین میں کہی گئی تھی۔ یہ غزل بھی ایک مدت کے بعد معدوم ہوگئی۔آخری غزل کا ایک شعر اور چند اشعار نقل کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی شعری لیاقت کا اندازہ لگایا جا سکے ؎
مر کے ہے ٹوٹا کہیں سلسلہ قید حیات
مگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے
پریشانی بھی تھی وصل صنم میں وجہ دل جمعی
سکون قلب تھا اس بت کی زلفوں کا بکھر جانا
لاکھوں مصیبتیں ہیں مگر پھر بھی روز حشر
محبوب ہے کہ دن ہے ترے انتظار کا
مولانا عبدالسلام ندوی نے معارف،الہلال،الندوہ،وکیل،ظل سلطانی وغیرہ رسائل میں سیکڑوں تنقیدی وتحقیقی مقالات تحریر کیے۔ان کے مقالات کا مجموعہ 1968میں دارالمصنفین سے شائع ہوچکا ہے۔ معارف میں شائع ہونے والے بعض مقالات ایسے ہیں جو تحقیقی اعتبار سے بہت اہم ہیں،جس میں پہلی بار علم وادب کے بعض اہم پہلووں کی بازیابی ہوئی ہے۔اشرف علی فغاں کا دیوان ایک مدت سے نایاب تھا۔فغان کے دیوان سے نہ صرف یہ کہ عوام بلکہ خواص بھی نا آشنا تھے۔ معارف اپریل 1922 کو عبد السلام ندوی کا ایک مضمون اشرف علی فغان کے نام سے شائع ہوا جس میں پہلی بار فغان قلمی دیوان کی دسنہ میں بازیابی کی خبر دی گئی۔اسی طرح ایک مختصر مضمون ایک قدیم دکنی شعر کے عنوان سے معارف جولائی1932میں شائع ہوا۔انھوں نے جس طرح اس شعرکے انداز واسلوب پر بحث کی ہے اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو میں پہلی بار اسلوبیاتی تنقید کو موضوع بنایا گیا ہے۔


اقبال احمد خاں سہیل
اقبال سہیل کا شمار شبلی نعمانی کے خاص شاگردوں میں ہوتا ہے۔شبلی نعمانی کے نظم ونثر کا رنگ اقبال سہیل کی تحریروںمیں بخوبی نظر آتا ہے۔اقبال سہیل قوم پرور شاعر، اعظم گڑھ کے کامیاب وکیل، ادیب اور انشاپرداز تھے۔انھوں نے نہ صرف یہ کہ نامور اساتذہ سے تعلیم حاصل کی بلکہ رشید احمد صدیقی، ذاکر حسین،مولانا حالی،وحید الدین سلیم،حسرت موہانی اور مرزا احسان احمد جیسے اہل کمال کی صحبت نے ان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔انھیں اردو،عربی اور فارسی تینوں زبانوں پر یکساں دسترس حاصل تھی۔وہ اپنی شاعری،انشاپردازی اور پر مغز تقریروں کی وجہ سے طالب علمی کے زمانے سے ہی علم وادب کی ہر محفل میں پسند کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے،جس کا اظہار نہ صرف یہ کہ ان کے استاد شبلی نعمانی اور حمید الدین فراہی نے مختلف موقوں پر کیا ہے بلکہ متعدد اہل قلم نے بھی اپنی تحریروں میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔علی گڑھ کالج میں وہ اپنی شاعرانہ عظمت کی وجہ سے مشہور تھے۔وہ مختلف محفلوں میں شریک ہوتے اور اپنی ذہانت اور علمیت کے جوہر دکھاتے تھے۔1918میں علی گڑھ میں خواجہ کمال الدین کے اعزاز میں ایک جلسہ ہوا جس میں اقبال سہیل نے ام السنہ عربی پر تقریر کی۔ ان کا طرز خطابت اس قدر دلنشیں تھا کہ خواجہ کمال الدین نے انھیں گلے لگا کر دادی۔
اقبال سہیل کے جد امجد مولوی ضیاء الدین کا آبائی وطن جونپور تھا۔ترک سکونت کرکے اعظم گڑھ میں پیشہ مختاری کرلی تھی۔ اقبال سہیل جدید تحقیق کے مطابق جنوری1886کو موضع برہرہ ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کے ایک زمیندارگھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد عزیزاللہ خان نے ان کا نام ابوظفرحامد خان رکھا تھاالبتہ دادا امانت اللہ خان ان کو اقبال کہہ کر پکارتے تھے،بعد کو یہی نام مشہور ہوا۔واضح رہے کہ اقبال سہیل اردو اور فارسی دونوں زبان میں شاعری کرتے تھے۔دونوں میں کبھی اقبال تو کبھی سہیل تخلص اختیار کیا ہے۔ابتدائی فارسی شاعری میں حامد بھی تخلص ملتا ہے۔ابتدائی تعلیم مولانا محمد شفیع اور مولانا یعقوب سے حاصل کی۔والد عزیز اللہ فارسی کا نہایت ستھرا ذوق رکھتے تھے، فارسی کی تعلیم میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا۔وہ ان سے خط لکھواتے اور اصلاح کے بعد اسے یادکرنے اور لکھنے کی سخت تلقین کرتے۔والدہ کلثوم تعلیم یافتہ صوم وصلوۃ کی پابند نہایت دین دار خاتون تھیں۔گلستان سعدی اور بوستان سعدی کی تعلیم والدہ سے پائی۔کم عمری میں ہی فارسی زبان وادب میں دسترس حاصل کرلی تھی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے عربی ادب کی طرف توجہ کی۔ اپنے نانا شیخ عبد الرحیم کے پاس جو محرر تھے اعظم گڑھ چلے گئے۔1898میں علامہ شبلی علی گڑھ سے مستعفی ہوکر تشریف لائے تو انھوں نے ایک مدت تک اپنے عزیزوںکو ادب کی کتابوں کا درس دیا جس میں ایک نام اقبال سہیل کا بھی ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب اقبال سہیل کو شبلی سے فیض یاب ہونے کا بھر پور موقع ملا۔اقبال سہیل کے ماموں ان کو شبلی کے پاس پڑھنے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔درس کے بعد بھی وہ شبلی کی خدمت میں برابر حاضر رہتے۔ماموں کے انتقال پر اقبال سہیل نے ایک تعزیتی مرثیہ لکھا تھا جس کی شبلی نے نہ صرف یہ کہ تعریف کی تھی بلکہ یہ کہا کہ تیری شاعری پر مجھ کو خود اپنے کلام کا دھوکا ہوتا ہے۔ آخر یہ رنگ سخن تو نے کب اور کیوں کر سیکھا۔مولانا نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وہ اپنا کلام اصلاح کی غرض سے کسی کو نہ دکھائیں۔شبلی سے انھوں نے دیوان حماسہ،بحر العلوم،شرح مسلم وغیرہ کتابیں پڑھیں۔بعد ازاں مولانا حمید الدین فراہی سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ انھوں نے ان کے ساتھ علی گڑھ کا سفر کیا جہاں انھوں نے حمید الدین فراہی سے تفسیر، حدیث کے علاوہ سبعہ معلقات اور دیوان متنبی پڑھی۔ مولانا حمید الدین فراہی کی تربیت میں انھیں فارسی استعداد کو بڑھانے کا خوب موقع ملا۔علی گڑھ میں انھیں حسرت موہانی، وحید الدین سلیم، رشیداحمد انصاری سے بھی اکتساب فیض کا موقع ملا۔تعلیم کا یہ سلسلہ 1909 تک جاری رہا۔1909میں ان کی شادی عمدۃ النسا سے ہوئی۔ان کے خسر حفیظ اللہ بنارس میں وکیل تھے۔خسر اور گھر والوں کے اصرار پر Queen Collageمیں انھوں نے داخلہ لیا جہاں سے انھوں نے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور پھر علی گڑھ سے بی اے،ایم اے اور ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کی۔
علی گڑھ سے فراغت کے بعد انھوں نے اعظم گڑھ واپس آکر وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور بہت جلد انھیں شہرت بھی حاصل ہوگئی۔ اعظم گڑھ کے کامیاب وکیلوں میں ان شمار ہونے لگا۔ 1919 سے 1954 تک دور وکالت جاری رہا،لیکن انھوں نے علم وادب کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ اکثر دارالمصنفین جاتے کتابوں کا مطالعہ کرتے اور علمی نکات پر بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری رہتا۔شبلی کالج اور مدرسہ سرائے میر کے ممبر بھی تھے۔سیاست سے بھی انھیں دلچسپی تھی۔دوران تعلیم علی گڑھ یونین کے الیکشن میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔حریت پسندی اور وطن دوستی کا جذبہ خاندانی تھا البتہ علی گڑھ کی فضا نے ان کے سیاسی شعور کو تقویت بخشی۔علی گڑھ میں حسرت موہانی اور مولانا محمد علی جوہر سے گہرے مراسم تھے۔ 69سال کی عمر میں فالج کا حملہ ہونے کی وجہ سے ایک لمبی علالت کے بعد 1955میں انتقال کیا۔
اقبال سہیل کی اولین حیثیت بطور شاعر کی ہے۔انھیں غزل،قصیدہ،مثنوی،مرثیہ اور نعت ومنقبت پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ان کے معاصرین شعرا میں اقبال،حسرت موہانی، فانی، اصغر گونڈوی، یگانہ چنگیزی، جگر، فراق اور جوش ملیح آبادی قابل ذکر ہیں۔واضح رہے کہ وہ اردو کلام کو اپنے فارسی کلام سے کم تر درجہ کا سمجھتے تھے۔ان کی طبیعت کی بے نیازی کی وجہ سے ان کے کلام کا ایک بڑا حصہ تلف ہوگیا۔ ان کی پیامی شاعری،سیاسی شعور،قومی جذبات،دردمند دل اور انسان دوستی کی عمدہ مثال ہے۔ ان کی فطری اور فی البدیہہ شاعری اور علمی لیاقت کے معترف سید سلیمان ندوی،ڈاکٹر ذاکر حسین، آل احمد سرور، نیازاحمد صدیقی اور مرزا احسان بیگ ہمیشہ سے رہے ہیں۔نظم شان بندگی سید سلیمان ندوی کی فرمائش پر مدرسہ اصلاح 1936کے جلسہ میں پندرہ منٹ میں لکھ کر پڑھی تھی۔ مختلف اہل سخن کی کوششوں سے ان کی متعدد کاوشیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔اقبال سہیل کا کلیات ’کلیات سہیل‘معارف پریس سے شائع ہوچکا ہے۔’موج کوثر ‘اقبال سہیل کا نعتیہ قصیدہ ہے۔90اشعار پر مشتمل ہے۔واضح رہے کہ یہ قصیدہ بغیر تشبیب کے ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہر شعر میں ردیف درود شریف ہے۔ ’ارمغان سہیل‘ نعت ومنقبت کا مجموعہ ہے جو 1960میں شائع ہوا۔سلک ’لالٓی‘نظموں کا مجموعہ ہے۔ ’انتخاب سہیل‘ غزلوں اور نظموں کا انتخاب ہے۔اقبال سہیل کے چند شعریہاں نقل کیے جاتے ہیں تاکہ قارئین یہ اندازہ کرسکیں کہ انھوں نے تغزل کے پیرایے میں ہماری زندگی کی کشمکش کے ہر پہلو کو کس خوبی سے بیان کردیا ہے ؎
کرم مہماں کا ہے یا حسن خلق ناتواں میرا
میرے گھر کو گھر اپنا جانتا ہے میرا
خیال ان کے،سخن میرا،زباں ان کی،دہن میرا
بہار ان کی چمن میرا،گل ان کے گلستاں میرا
اسی میں خیر ہے ساقی مئے رنگیں پلائے جا
یہ میکش ہوش میں آئیں تو سمجھوتا نہ ہوجائے
خدا سمجھے بت آفریں سے
گریباں کو لڑایا آستیں سے
الہی خیر کے صیاد لے کے دستہ گل
چلا ہے آج سجانے کو آشیاں اپنا
تجھ کو آنکھوں میں جگہ دی تھی سمجھ کر خانہ ژاد
اے نظر تو بھی صف مژگاں کی حامی ہوگئی
’ربا کیاہے‘یہ کتاب اردو،ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں شائع ہوئی۔یہ کتاب بہت اختلافی رہی ہے۔ اس کتاب کے بعض باتوں سے ان کے استاد مولانا حمید الدین فراہی نے اختلاف کیا تھا اور ناراضگی کا بھی اظہار کیا تھا۔’سیرۃشبلی‘علامہ شبلی کی سوانح حیات ہے، جو 15قسطوں میں اکتوبر 1936 سے جنوری1939تک الاصلاح کے مختلف شماروں میں شائع ہوئی۔جسے کتابی شکل میں فضل الرحمن اصلاحی نے شائع کیا۔اقبال سہیل کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خواجہ کمال الدین،سرورخاں گویا،علامہ اقبال،نیاز فتح پوری اور مسز نائیڈو نے ان تعریف کی تھی۔افغانستان کے ملک الشعرا سرورخاں گویا نے ان کے قصیدہ کو سن کر یہ کہا تھا کہ جب کبھی افغانستان ہندستان پر حملہ کرے گا میں اقبال سہیل کو لوٹ کر لے جاؤںگا۔


مولانا ضیاء الحسن علوی ندوی
علامہ شبلی نعمانی نے نامور علم وفن کا جو کارواں اپنے پیچھے چھوڑا ان میں ایک اہم نام مولانا ضیاء الحسن علوی ندوی کا ہے۔ان کا شمار علمی وادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔وہ نہ صرف شبلی کے شاگرد خاص بلکہ دارالمصنفین کے رکن بھی رہے۔ سید سلیمان ندوی کے ہم جماعت اور رفیق تھے۔ اردو، عربی، فارسی کے علاوہ انھیں عبرانی اور جرمن زبان پر بھی دسترس تھی۔شبلی کے ایما پر نہ صرف یہ کہ متعدد مضامین لکھے بلکہ مختلف زبانوں سے ترجمے بھی کیے۔مدارس کے استحکام اور نصاب کی اصلاح میں اہم کردار ادا کیا۔وہ اچھے مترجم کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔انھوں نے علمی وادبی مضامین کے علاوہ درجنوں اصلاحی مضامین تحریرکیے۔
ضیاء الحسن علوی کی پیدائش 1888کاکوری ضلع لکھنؤ میں ہوئی۔ان کا تعلق کاکوری کے علوی خاندان سے تھا۔ضیاء الحسن علوی کے چچا منشی اطہر علی صاحب کا شمار ندوۃ العلما کے بانیوں میں ہوتا ہے۔وہ جب تک باحیات رہے ندوۃ العلما لکھنؤ کی ہر ممکنہ مدد کی۔وہ نہ صرف یہ خود تعلیم یافتہ بلکہ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ان کے نعتیہ قصائد علمی وادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مولانا ضیاء الحسن علوی ندوۃ العلما لکھنؤ کے ابتدائی طالب علموں میں سے تھے۔سید سلیمان ندوی یادرفتگاں میں لکھتے ہیں :
’’1898میں لکھنؤ میں ندوہ کا دارالعلوم کھلا تو منشی صاحب مرحوم نے اس درسگاہ کو اپنے سب سے چھوٹے بچے اور ایک ننھے بھتیجے کو نذر کیا،یہی ننھا بھتیجا مولوی ضیاء الحسن صاحب علوی ندوی تھے۔دارالعلوم کے طلبا کے داخلے میں ان کا نمبر شاید دوسرا یا تیسرا تھا۔عربی کی پوری تعلیم یہیں سے حاصل کی اور یہیں سے فراغت پائی۔‘‘
(سید سلیمان ندوی،یادرفتگاں، ص 322)
دارالعلوم ندوۃ العلما میں انھوں نے علامہ شبلی نعمانی،مولانا حفیظ اللہ،مولانا عبد الشکور صاحب، مفتی عبد اللطیف وغیرہ سے تعلیم حاصل کی،البتہ جس استاد نے ان کی علمی لیاقت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی اور مولانا محمد فاروق چریاکوٹی ہیں۔شبلی 1904میں جب حیدرآباد سے ندوۃ العلما تشریف لائے تو انھیں اکتساب فیض کا بھر پور موقع ملا۔شبلی بڑے جوہر شناس تھے۔ انھوں نے بہت جلدان کے علمی ذوق واستعداد کو بھانپ لیا تھا۔علامہ شبلی نے انھیں معقولات اور اعجاز قرآن کی نہ صرف یہ کہ تعلیم دی بلکہ ان شخصیت کو نکھارنے میں اہم رول ادا کیا۔مولانا جب حیدرآباد واپس ہوئے تو ضیاء الحسن علوی کو ایک خط میں لکھا :
’’میں چاہتا ہوں کہ چند روز تک آپ کا اور میرا ساتھ رہتا،تاکہ میں ادب اور فلسفہ کی بعض کتابیں آپ کو پڑھاتا اور مضمون نگاری کی بھی تعلیم دیتا۔دیکھئے کب خدا موقع لاتا ہے۔‘‘ (مکاتیب شبلی جلد دوم 4جنوری1904)
1905میں ندوہ العلما واپس تشریف لائے تو فلسفہ،معقولات اور مضمون نگاری کی تعلیم دی۔ دارالعلوم ندوۃ العلما میں قیام کے دوران مولانا آزاد،مولانا حمید الدین فراہی،مولانا عبد اللہ عمادی اور خواجہ غلام الثقلین شبلی نعمانی کے پاس اکثر آیا کرتے اور ہفتوں قیام کیا کرتے تھے۔ضیاء الحسن علوی اکثر ان کی مجلسوں میں شریک ہوکر فیض یاب ہوا کرتے تھے۔1905میں دارالعلوم سے فارغ ہوئے۔ 1906 کے جلسہ دستار بندی میں انھوں نے اعجاز قرآن کے موضوع پر تقریر کی جس کی شبلی نے نہ صرف یہ کہ تعریف کی بلکہ الندوہ میں شائع بھی کیا تھا۔مشہور ناول نگار مرزا ہادی رسوا کی صحبتوں کی وجہ سے عصری علوم کی طرف مائل ہوئے۔1909میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تو شبلی نے ان کو خط لکھ کر مبارکباد دی تھی:
’’مبارک،تمہارے پاس ہونے سے بے حد خوشی ہوئی اور تمہاری نسبت حسن ظن بڑھ گیا،اب تم کالج میں ضرور پڑھو گے،الندوہ میں تم پر نوٹ لکھوں گا۔‘‘
(مکاتیب شبلی،جلد دوم،ص328)
لکھنؤ کے بعد انھوں نے علی گڑھ کا سفر کیا جہاں سے انھوں نے ایم اے(1916)تک کی تعلیم حاصل کی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ علی گڑھ میں جرمنی کے پروفیسر یوسف ہارویز سے نہ صرف یہ مستشرقین کے بارے میں معلومات حاصل کی بلکہ ان سے جرمن اور عبرانی زبان بھی سیکھی۔واضح رہے کہ پروفیسر ہارویز اور شبلی کے درمیان تعلقات کا واسطہ ضیاء الحسن علوی تھے۔1917میں عربی مدارس کے سب انسپکٹر مقرر ہوئے۔نصاب کی تجدید اور مدارس کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔سید سلیمان ندوی یادرفتگاں میں لکھتے ہیں :
’’اصلاح نصاب کا وہ خاکہ جو استاد مرحوم (علامہ شبلی )نہ صرف ندوہ کی حد تک کھینچ سکے تھے ان کے لائق شاگرد کے ہاتھوں میں وہ پورے صوبے کے دائرہ میں وسیع ہوگیا۔‘‘(یادرفتگاں،ص328)
ضیاء الحسن علوی نے چند سالوں کے اندر مدارس کے نظام کو بڑی حد تک ٹھیک کردیا۔شبلی نے جو کام ندوۃ العلما کی حد تک کیا تھا، ان کے شاگرد نے پورے اترپردیش میں کیا۔سبکدوش ہونے سے قبل جون 1945کو الہ آباد میں انتقال کیا۔انھیں کتب بینی کا بڑا شوق تھا۔اردو،عربی اور انگریزی کی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کیا کرتے تھے۔ان کی قلمی نگارشات میں علمی وادبی،اصلاحی مضامین کے علاوہ تراجم بھی شامل ہیں۔ان کا پہلا مضمون ’صحت اور عمر کی درازی ‘المقتطف مصر کے ایک مضمون کا ترجمہ ہے جو الندوہ میں 1905میں شائع ہوا۔اسی طرح اسلامی جنگی جہازوں پر ان کا مضمون علی گڑھ منتھلی میگزین میں 1910میں چھپا جس کو نہ صرف یہ کہ شبلی نے بہت پسند کیا بلکہ انعام سے بھی نوازا تھا۔ اس کے علاوہ انھوں بڑی تعداد میں مضامین لکھے جو الندوہ،عصر جدید،اردوئے معلی وغیرہ کی زینت بنے۔ واضح رہے کہ ان کے اصلاحی مضامین سب سے زیادہ عصر جدید میں شائع ہوئے۔الندوہ جب دوبارہ جاری ہوا تو ان کا ایک طویل مضمون یاد ایام کے نام سے 1941میں آٹھ قسطوں میں شائع ہوا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ان کی آپ بیتی ہے۔ان کے انتقال ہوجانے کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکی البتہ 1959میں ادارہ انیس اردو الہ آباد نے اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔اس آپ بیتی میں ان کے حالات سے کہیں زیادہ ندوۃ العلما کی تاریخ،اس عہد کی علمی وادبی سرگرمیوں کے علاوہ علما کے تذکرے ملتے ہیں۔ ادب سے انھیں فطری لگاؤ تھا الف لیلی جو عربی زبان کی بے مثال داستان ہے، اس کا اردو ترجمہ کیا البتہ شائع نہ ہوسکا۔سبعہ معلقات میں سے امراء القیس کے قصائد کا ترجمہ اردو نظم میں کیا تھا۔ حواس خمسہ باطنی پر الندوہ میں ایک مضمون لکھا جو بہت مقبول ہوا۔
مولانا حمید الدین فراہی
مولانا حمید الدین فراہی (1863-1930) مختلف علوم وفنون کے ماہر ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ان کا شمار برصغیر کے ممتاز مفسروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے علوم القرآن،ترجمہ وتفسیر،علم الکلام اور فلسفہ وغیرہ میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔مولانا حمید الدین فراہی 18نومبر1863کو اعظم گڑھ کے ایک معروف گاؤں پھرہیا میں پیدا ہوئے۔واضح رہے کہ ان کے نام کے ساتھ فراہی کا لاحقہ کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہ پھریہا کو عربی شکل دے کر بنایا گیا ہے۔اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ افغانستان کا ایک مقام ’فراہ‘کی طرف منسوب ہے۔جہاں سے منتقل ہوکر ان کے اجداد ہندوستان آئے تھے۔(ششماہی علوم القرآن 1985)۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مولانا حمید الدین فراہی نے اپنے زمانے کے ماہر علم وفن سے تعلیم حاصل کی تھی۔انھوں نے مولانا فاروق چریاکوٹی جیسی عظیم شخصیت سے بھی فیض حاصل کیا تھا۔لکھنؤ جا کر مولانا عبد الحئی فرنگی محلی سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔دینی تعلیم سے فراغت سے بعدگریجویشن کیااور انگزیزی و فلسفہ جدید کی باریکیوں کو سمجھا۔درس وتدریس کے علاوہ انھوں نے مختلف موضوعات پر درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔مولانا کی کتابوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک مصنف ہی نہیں بلکہ بڑے مفکر اور مصلح بھی تھے۔ مولانا حمید الدین فراہی کی کتابوں میں اسالیب القرآن،حکمت قرآن،اقسام القرآن،اسباق النحو، تحفۃ الاعراب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے متعدد صورتوں کے ترجمے بھی کیے۔
علامہ شبلی مولانا فراہی کے رشتے میں ماموں تھے۔ان کی شخصیت کی تعمیر میں شبلی کا نمایاں کردار رہا ہے۔اعظم گڑھ میں قیام کے دوران شبلی نے انھیں عربی،فارسی اور اسلامی علوم کی تعلیم دی تھی۔شبلی مولانا فراہی کے بہت قدرداں تھے،جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ شبلی نے اپنے آخری ایام میں سیرۃ النبیؐ کے مسودے کو مولانا حمید الدین فراہی کے حوالے کرنے کی وصیت کی تھی۔ واضح رہے کہ شبلی کے انتقال کے بعد مولانا فراہی نے ’اخوان الصفا‘کے نام سے ایک مجلس کی بنیاد ڈالی، جس کا اولین مقصد سیرۃ النبیؐ اور علامہ کے وصیت کردہ کاموں کی تکمیل تھا۔ اس مجلس کے پہلے صدر مولانا فراہی منتخب ہوئے۔ انھوں نے نواب سلطان جہاں بیگم کی خدمت میں حاضر ہوکر سیرۃ النبیؐ کے لیے ملنے والے وظائف کو دارالمصنفین کے حق میں منظور کرایا اور سیرۃ النبیؐ کی تکمیل کے لیے سید سلیمان ندوی کو مقرر کیا۔


حواشی
1 اقبال سہیل حیات اور شاعری،ڈاکٹر منور انجم،نصرت پبلشرز لکھنؤ1995
2 آثار شبلی،ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی،دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ2013
3 حیات سلیمان،معین الدین احمد ندوی،مطبع معارف اعظم گڑھ،1973
4 حیات شبلی،سید سلیمان ندوی،دارالمصنفین اعظم گڑھ 1999
5 ذکر فراہی،ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی،دائرہ حمیدیہ اعظم گڑھ2001
6 عبد السلام ندوی کی ادبی خدمات،ڈاکٹر شباب الدین،لیتھو کلر پرنٹرس علی گڑھ1999
7 مکاتیب شبلی،سید سلیمان ندوی،دارالمصنفین اعظم گڑھ،2010
8 یاد ایام ضیا الحسن علوی،ادارہ انیس اردو الہ آباد 1959
9 یادرفتگاں،سید سلیمان ندوی،مطبع معارف اعظم گڑھ،1986


Dr. Athar Husain
Northern Regional Language Center
Punjabi University Campus
Patiala- 147002 (Punjab)
Mob.: 8074378735
atharhusainmanuu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو تحقیق و تدوین اورعلی گڑھ،مضمون نگار: صبا نسیم

تلخیص اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں علی گڑھ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ویسے تو یہ ریاست اترپردیش کا ایک شہر ہے لیکن عالمی سطح پر

غنائیہ ڈرامے (لوک ناٹک) کی ابتدا اور ارتقا،مضمون نگار :کنول ڈبائیوی

یہ حقیقت ہے کہ کل کائنات ہی ایک اسٹیج ہے اور سبھی ذی روح اپنی جگہ پر اداکار ہیں اور کسی زبردست قوی الفطرت ہدایت کار نے ہر ایک ذی

عرب کے تنقیدی نظریات،مضمون نگار :محمدحسن

عرب میں شاعری کا رنگ و آہنگ قبائلی زندگی سے عبارت تھا۔ کسی قبیلے میں کسی شاعر کی شہرت ہوتی تو دوسرے قبیلے والے مبارک باد دیتے اور قبیلے جشن