عرب کے تنقیدی نظریات،مضمون نگار :محمدحسن

October 11, 2025 0 Comments 0 tags

عرب میں شاعری کا رنگ و آہنگ قبائلی زندگی سے عبارت تھا۔ کسی قبیلے میں کسی شاعر کی شہرت ہوتی تو دوسرے قبیلے والے مبارک باد دیتے اور قبیلے جشن مناتے کہ اب ان کے قبیلے کا جنگ میں دل بڑھانے والا پیدا ہو گیا۔ کوئی قبیلے کے کارناموں کو گیتوں میں محفوظ کر کے جاوداں بنانے والا میسر آیا۔ کوئی اجتماعی دکھ درد میں شریک ہونے والا اور ڈھارس بندھانے والا آ گیا۔ ایام جاہلیت سے قصیدہ ہی شاعری کی غالب صنف تھی اور عکاظ کے میلوں سے لے کر قبیلوں کے جشن تک ان ہی قصیدوں کے اشعار لحن داؤدی سے پڑھے اور سازوں پر گائے جاتے تھے۔ ’قبیلے والے اس کی تمنا کیا کرتے (تھے) کہ ان کے یہاں بھی کوئی ایسا شاعر پیدا ہو جو ان کے کارنامے بیان کرے اور مخالفین کو ذلیل ٹھہرائے۔ ظاہر ہے کہ خود بینی اور خودستائی کے ماحول میں شاعر کو اپنے قبیلے کی فضیلت اور برتری جتانے کے لیے مبالغے کی مدد لینا لازمی ہوگا اور جب رفتہ رفتہ مدح اور ہجو کے پیش پا افتادہ پہلو ختم ہو جائیں گے تو ان میں تازگی پیدا کر نا صرف طرز بیان کی جدت پرمنحصر1؎ ہوگا۔‘
بقول و کنسر2؎ قبائلی سماج میں شاعر محض تخلیقی فن کار نہ تھا بلکہ بہ یک وقت موجودہ دور کی اصطلاحوں کے مطابق صحافی بھی تھا مبلغ اور امور تعلیمات عامہ کا سربراہ بھی۔ یہ صورت عرب قبیلوں تک محدود نہ تھی بلکہ ابتدائی دور میں جب کاموں کی تقسیم نہ ہوئی تھی اور سماج کے مختلفارکان ایک دوسرے سے زیادہ قریب تھے اس قسم کی ہمہ گیری عام تھی۔
البتہ اس مرحلے پر دوا ہم اصطلاحات پر غور کرنا ضروری ہے۔ ایک شاعر کی اصطلاح اور دوسرے شاعر کے لیے مبالغے کی اہمیت اور معنویت۔ میلے کی عالمی ادب کی لغت میں شاعر کو شعور سے مشتق قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
The etymology of the shair, a poet. The knower points to the religious or magic origin of his art.” ؎3
اس اصطلاح کا دوسرا پہلو وہ بھی ہے جس کی طرف اکثر نحوی نثر و نظم کی تعریف کرتے ہوئے اشارہ کرتے ہیں مثلا ’قواعد فارسی‘ میں نثر و نظم کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:
’نثر : اس کلام کو کہتے ہیں جو موزوں نہ ہو اور اگر ہو تو بلا قصد موزوں ہو گیا ہو۔
نظم : وہ کلام موزوں جو علم عروضی کے مقررہ اوزان میں سے کسی وزن پر ہو اور اس میں
قافیہ بھی ہو اور بالقصد نظم کیا گیا ہو۔
اسی کو شعر بھی کہتے ہیں اور شعر کے نصف حصے کو مصرعہ کہتے ہیں۔
ظاہر ہے یہاں مراد عرفان اور آگہی سے نہیں بلکہ ارادے سے ہے گویا شاعری قصد و ارادے سے مقررہ اسالیب و اوزان میں اظہار کا نام ہے یعنی خود لفظ شاعر دو جہتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک عرفان و آگہی کی طرف جس سے شاعر کو دوسروں پر فضیلت اور ایک ما بعد الطبیعیاتی برتری حاصل ہوتی ہے دوسرے شعوری طور پر مقررہ اور متعینہ سانچوں اور اسالیب کی طرف جن میں اپنے احساسات و جذبات کو ظاہر کرنے کو شاعر کی پہچان قرار دیا گیا۔ گویا ایک پہلو معنوی ہے اور دوسرا ہیئتی۔ یہ خیال کہ شاعر کے اندر کوئی ایسی الہامی قوت یا ماورائی طاقت حلول کر جاتی ہے جو اسے شعور سے بے نیاز اور ارادے سے مستغنی کردے۔ شاعر کی افضلیت یہ ہے کہ اس بات میں کہ وہ دوسروں کے ریزہ ریز ہ جذبات کی تعمیم تک پہنچ کر انھیں ایک عمومی پیکر بخشتا ہے اور کیفیت اور جوش کے ساتھ اسے دوسروں کے لیے تجر بہ بنادیتا ہے۔
مشرقی تنقید کی ایک خصوصیت جو چین اور جاپان کے تنقیدی نظریات میں خاص طور پر دیکھی جاچکی ہے، تعمیم کا یہی ہمہ گیر تصور ہے جیسے انسان کائنات اور اس سے اپنے رشتوں کے بارے میں کسی حتمی بصیرت تک پہنچ چکا ہو اور یہی حتمی اور اجتماعی بصیرت فن کا متعین موضوع ہو اور اس کے لیے اظہار کے سانچے بھی متعین ہوں، فنکار کا کام صرف اتنا تھا کہ وہ ان متعینہ تعمیمات کو متعینہ سانچوں میں ڈھالتے ہوئے اپنی انفرادی امیج اور ذہانت کی جھلکیوں سے تھوڑا بہت تنوع اور ندرت پیدا کرتار ہے۔ اس کی شاید سب سے واضح مثال کلاسیکی ہندوستانی موسیقی سے پیش کی جاسکتی ہے جس میں راگ اور راگنیوں کے سانچے ان کے سر اور آہنگ ، موڈ اور فضاحتی کہ راگ مالا کے ذریعے ہر راگنی کی اپنی تصویر، اس کی مفروضہ پوشاک اور اس پوشاک کا رنگ تک متعین ہے۔ اچھے موسیقار کا کام ہے تو صرف اتنا کہ وہ متعینہ سروں کو پوری کامیابی کے ساتھ ادا کر سکے اور اگر اس میں وہ کوئی ندرت پیدا کر سکتا ہے تو وہ اس کی اپنی آواز کی منفر د دلکشی اور سروں میں مرکیوں کے اضافے کی مددہی سے ممکن ہے، کیونکہ جیت کی گرفت اتنی سخت ہے کہ فنکار کے لیے انفرادی اظہار کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے اور یہاں ہیئت سے مراد صرف ساخت یا بیرونی شکل نہیں معنوی پیکر بھی ہے جس طرح بھیرویں عشقیہ جذبات کے لیے مخصوص ہے اسی طرح عرب شاعروں نے قصیدے کو بھی اخلاق ، محبت اور رزمیہ مضامین تک محدود کر دیا اور شاعری کی ساخت اور معنویت دونوں سطح پر ضابطہ بندی کردی۔ ضابطہ بندی ایشیائی مزاج کی ایک خصوصیت قراردی جاسکتی ہے لہٰذا اس کی تکرار جابجا ملے گی۔
اس بحث کا بالواسطہ تعلق نظریہ علم سے بھی ہے۔ مشرق اور مغرب دونوں میں ایک مدت تک منطق کا استقرائی دبستان فروغ پذیر رہا جو علم کو محسوسات کی گواہی اور ہر دور کے بدلتے ہوئے مادی حقائق کے تجزیے اور ان سے حاصل کردہ نتائج کے بجائے ایک مستقل بالذات جامد اور حتمی حقیقت کی شکل میں قبول کرتا رہا تھا۔ اسی بنا پر روایت اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے علم کو صحیح علم اور اصل عرفان قرار دیا جاتا رہا۔ یورپ پر بھی یہ دور گزراگوان کا علم مشرق کے علم سینہ سیکسی قدر مختلف تھا کیونکہ روحانیت کا وہ گہرا ہمہ اوستی رنگ وہاں چھایا ہوا نہ تھا۔ پھر نشاۃ ثانیہ کے دور میں یورپ نے استقرائی دبستان کے بجائے استخراجی نظریہ علم کو اپنا کر سائنسی تجزیہ اور حقائق سے براہ راست استخراج نتائج کے آزادانہ طریقے کو اختیار کر لیا جس نے مغرب کے تصور حیات میں انقلاب آفرین تبدیلیاں پیدا کیں ان ہی تبدیلیوں کا ایک اثر مصوری میں پس منظر کی دریافت ، ادب میں رومانویت کا فروغ ، علوم و فنون میں سائنسی طریق کار کی مقبولیت اور سیاست میں جمہوریت کے نشوونما میں ظاہر ہوا۔
لہٰذا عرب شاعری حقیقت کو ایک ایسی ترشی تر شائی ہوئی اکائی کی شکل میں دیکھنے کی عادی رہی ہے جسے شاعر کی بصیرت اپنی گرفت میں لے سکتی ہے اور اس حقیقت کا ایک اجتماعی بلکہ قبائلی روپ رہا ہے شاعر اسے اپنی بصیرت سے اپنی گرفت میں لیتا ہے اور اسے نغمہ اور آہنگ میں ڈھالتا ہے۔ قبیلے کے شاندار ماضی کے گیت گاتا ہے اور جنگ میں قبیلے کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور اس طرح حقیقت کو قبیلے کے حق میں ڈھالتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ تاریخ نویس بھی ہے اور تاریخ ساز بھی۔
جس ہیئتی پیکر میں وہ اپنے نغمے اور آہنگ کو ڈھالتا ہے، اس کے سانچے بھی پہلے ہی سے متعین ہیں۔ قصیدہ الہامی نہیں ، قصد و ارادے کا نتیجہ ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی اور ان مختلف اجزا کی معنوی نوعیت بھی متعین تھی۔ قصیدہ تشبیب ، گریز ، مدح ، خاتمہ اور دعا سے عبارت تھا اور اس کا عروضی ڈھانچہ بھی متعین اور مقرر تھا۔4؎
جہاں تک معنوی پیکر کا سوال ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر محمود الہی نے اس دور کی تشبیب کے بارے میں لکھا ہے:
’’پسندیدہ اسلوب یہ تھا کہ شعر اتشبیبی اشعار کی ابتدا محبوبہ کی قیام گاہ کے آثار و نشانات کو یاد کرنے اور ان پر رونے دھونے سے کرتے تھے۔ اس کے بعد اپنی سواریوںکا ذکر کرتے اور اس کی تعریف کرتے۔‘‘
امرؤ القیس اپنا معلقہ اس طرح شروع کرتا ہے:
’’میرے ساتھیو! ذرا ٹھہر جاؤ۔ آؤ محبوبہ اور اس کی قیام گاہ کی یاد میں دو آنسو بہا لیں۔ قیام گاہ جو دخول اور وصل کے درمیان ایک ریت کے تودے پر واقع تھی۔‘‘5؎
…عمرو بن کلثوم محبوبہ کو خطاب کرتا ہے:
’’اٹھ جاگ، مجھے اپنے بڑے پیالے سے صبوحی پلا دے۔ اندرین کی بنی ہوئی شراب
اور کسی کے لیے باقی مت رکھنا ۔‘‘6؎
تشبیہی اشعار میں شعرا ان سواریوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ محبوبہ کے پاس پہنچے۔ طرفہ نے اپنی اونٹنی کا ذکر جن الفاظ میں کیا ہے عربی شاعری اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے:
’’وہ اس طرح اٹھلاتی جارہی تھی جیسے رقص کی حالت میں کوئی کنیز رقاصہ اپنی لمبی اور سفید چادر کا دامن اٹھا اٹھا کر اپنے مالک کو دکھارہی ہو۔‘‘7؎
جاہلیت کے شعر تشبیہ و استعارے میں مادی اشیا کے حدود سے آگے نہیں بڑھتے۔ طرفہ نے اپنی محبوبہ کے دانتوں کو گل بابونہ کی شاداب کلیوں سے، امرؤ القیس نے عورتوں کو ہرنیوں، نیل گایوں اور شتر مرغ کے انڈوں سے تشبیہ دی۔ امرؤ القیس نے ایک جگہ محبوبہ کے چہرے کو راہب کا روشن چہرہ بتایا۔ لبید نے کھنڈروں پر مسلسل بارش کے اثرات کو اس طرح بیان کیا ہے:
’’مسلسل بارش نے کھنڈروں کو پھر نمایاں کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتا بیں تھیں جن کے حروف مٹ گئے تھے لیکن قلم نے انھیں دوبارہ ابھار دیا۔‘‘
عمرو بن کلثوم کی ایک تشبیہ قابل تحسین ہے:
’’محبوبہ کی دونوں پنڈلیاں سنگ مرمر یا ہاتھی دانت کے دوستون کی طرح ہیں ان میں جو پازیب پہنائے گئے ہیں ان سے ہلکی ہلکی آواز آرہی ہے۔‘‘
امرؤ القیس اپنے متعلقہ میں نشانہ بازی، بہادری اور شہ سواری پر فخر کرتا ہے۔ طرفہ اپنے قصیدے میں اپنوں کے مظالم اور اپنی شراب نوشی کا حال اس طرح بیان کرتا ہے:
’’ میں ہمیشہ طرح طرح کی شراب پیتا رہا۔ آبا و اجداد کی اور اپنی کمائی لٹاتا رہا، یہاں تک کہ میری ساری قوم مجھ سے اجتناب کرنے لگی اور میں خارش کے مارے ہوئے اونٹ کی طرح تنہا چھوڑ دیا گیا۔‘‘
اگر یہ تین چیزیں میری زندگی میں داخل نہ ہو تیں تو مجھے موت کا کوئی غم نہ ہوتا۔ ایک تو سیاہی مائل سرخ شراب کی جرعہ کشی، ایسی شراب کہ اگر اس میں پانی ملا دیا جائے تو جھاگ اٹھنے لگے۔ یہ شراب مجھے ملامت گردوں کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ دوسرے کسی ایسے بے یارو مددگار شخص کی فریاد پر میری صدائے لبیک جو دشمنوں میں گھر گیا ہو میں اس کی مدد کے لیے اس گھوڑے پر جاتا ہوں جو غضا کے درخت کے نیچے رہنے والے بھیڑیے کی طرح تیز رفتار ہے۔‘‘
تیسرے ایسے وقت میں کسی گداز جسم حسینہ کی صحبت جب کہ گھٹا ئیں چھائی ہوئی ہوں۔ ‘‘8؎
مسیح الزماں نے بجا طور پر لکھا ہے کہ:
’’عربی ادب میں اگر چہ مواد اور اسلوب دونوں کی اہمیت مسلم ہے لیکن بیت کو موضوع پر فوقیت اس لیے حاصل ہے کہ شاعر کا تصور ان کے ذہن میں فنکا رArtist کا نہیں بلکہ مرصع کار یا دست کار Artist کا ہے فن کار اپنے موضوع کے انتخاب اور مواد کی فراہمی میں آزاد ہوتا ہے اس کی تخلیقات زیادہ تر تخیل پر بنی ہوتی ہیں اور اس کے فن کی قدر و قیمت کا دارو مدار مواد کے انتخاب پر بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ اس کے طرز اظہار پر لیکن دست کار کو مواد کے انتخاب میں اتنی آزادی نہیں ہوتی۔ ہاتھ کی صفائی اور فنی مہارت کا اظہار اس کا مقصود ہے۔‘‘
غرض عرب تنقید کے نزدیک کم سے کم ایام جاہلیت میں ایک اجتماعی معنویت اور ایک ضابطہ بند ہیئت کی قائل ہے اور شاعر اور فنکار کا کام قصد و ارادے سے متعینہ موضوع (یا عصری معنویت یا اجتماعی حسیت یا بالفاظ دیگر حقیقت) کو متعین اسلوب کے ساتھ جوش اور ندرت کے ساتھ بیان کرنا قرار دیتی ہے۔
حقیقت اور فن کا رشتہ
اگر حقیقت یا عصری حسیت اجتماعی اور متعین ہے اور اس کو ادا کرنے والے شعری اور فنی سانچے مقرر ہیں تو پھر فنکار کی فنکاری اور شاعر کی ساحری اور تخلیقی اپج کی شناخت کیا ہے؟ کیا فنکار محض ضابطے کا غلام عکاس ہے جس کی حیثیت آج کے دور کے کیمرے سے زیادہ نہیں۔ کیا یہاں بھی افلاطون کا تصور نقل ہی کار فرما ہے اور فنکار کا حقیقت سے رشتہ محض مجہول اور میکانیکی ہے کیا وہ محض گنبد کی آواز ہے۔
ان سوالوں کا جواب عرب تنقید کی ایک اور اصطلاح سے ملتا ہے۔ مبالغہ، جسے عرب تنقیدنے فن کی پہچان بلکہ اس کی اصل قرار دیا ہے۔ ’عقد السحر‘ کے اقتباس کا یہ ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’…اصمعی سے دریافت کیا کہ اشعر الناس کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ جو معمولی اور مبتذل مضمون کو اپنے لفظوں میں مہتم بالشان اور وقیع بنادے یا بلند سے بلند مطلب کو اپنے الفاظ کے زور سے پست کر دکھائے یا یہ کہ کلام تو اس کا قافیہ سے پہلے ہی ختم ہو چکا ہو مگر جب اس کو قافیے کی ضرورت پڑے تو وہ اسے بطور مجبوری نہ لائے بلکہ اس کے ذریعے معنوں میں ایک خوبی پیدا کر دے۔ ‘‘9؎
اس سے زیادہ ابوالفرج قدامہ کا بیان ہے:
بہترین مذہب غلو مبالغہ ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس کی طرف ہمیشہ سے سخن شناس اور بافہم شعرا کا میلان رہا ہے اور بعضوں کا خیال تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ ان کا قول یہ ہے کہ سب سے بہتر وہ شعر ہے جس میں سب سے زیادہ کذب کا استعمال ہو۔
مبالغہ کرنا حد اوسط پر اکتفا کرنے کے بہ نسبت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ 10؎
اس قسم کے تنقیدی بیانات ہر دور کی عرب تنقید سے نقل کیے جاسکتے ہیں۔ مبالغہ فن کی تخلیقی آزادی کا اعتراف ہے جس کے ذریعے اس کا اختیار اور اس کی خود مختاری اظہار پاتی ہے۔ مبالغہ حقیقت کی گرفت اور بیان واقعہ کی حد بندی سے نجات کا وسیلہ ہے اور اسی کے سہارے فنکار اپنی شخصیت کا اظہار کرتا ہے اور احساس اور اسلوب دونوں پر اپنی انفرادیت کے نشان ثبت کرتا ہے۔
نقل اور ترجمانی کی جو بحث افلاطون اور ارسطو کے تنقیدی نظریات کے ضمن میں اٹھتی ہے اس کو عرب تنقید نے اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش کی ہے، وہ افلاطون اور ارسطو کی حقیقت توسل سے نہیں بلکہ ان دونوں سے زیادہ اس حقیقت کی اجتماعی حد بندی اور اجتماعی تشخص کی قائل معلوم ہوتی ہے اور اسے ہیئتی ضابطے کا پابند کر دیتی ہے مگر ان دونوں مفکرین کے برخلاف مبالغے کی اصطلاح کے ذریعے سے فنکار کو حقیقت کو توڑنے مروڑنے اور اس کو گھٹا نے بڑھانے کا اختیار ضرور دیتی ہے اور یہ اختیار اس حد تک دیتی ہے کہ فن حقیقت کی معروضی گرفت سے تقریباً آزاد ہو جاتا ہے ایک ہی حقیقت کو جب دوفنکار اپنے اپنے طور پر دیکھتے محسوس کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں اور ہیئتی مماثلت کے باوجود ان کے بیان اور اسلوب میں جو اصطلاح فرق پیدا کرتی ہے اسے عرب تنقید نے مبالغے کے لفظ سے ظاہر کیا کہ اس کے ذریعے فنکار معمولی اور مبتذل مضمون کو مہتم بالشان اور وقیع اور بلند سے بلند مطلب کو پست کر کے دکھانے پر قادر ہوتا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ مبالغے کا استعمال فن کارانہ حسن کی جگہ مضحکہ خیز حد تک بناؤٹی ہو گیا اور غلو کے غلط استعمال نے فن کے استناد ہی کومسخ کر ڈالا۔12؎
ظہور اسلام کے بعد
ظہور اسلام کے بعد جہاں علوم و فنون کے کئی شعبوں میں انقلاب آیا، وہاں قرآن مجید اور احادیث میں شاعروں کی طرف دو متضاد رویے ملتے ہیں۔ ایک طرف اس قسم کے بیانات ہیں جن میں انھیں گمراہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف وہ بیانات ہیں جن میں شاعر کو تلمیذ الرحمن کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی جمالیات سے بحث کرنا مقصود نہیں ہے لیکن قرآن مجید کو فصاحت کا اعلیٰ ترین معیار تسلیم کیا جاتارہا ہے اور اسے ادب کا مثالی نمونہ مانا گیا ہے۔ فصاحت اور بلاغت کے قوانین اور ضابطے اس کی روشنی میں طے کیے جاتے رہے ہیں گوادبی نقطہ نظر سے قرآن مجید کا مطالعہ غالبا اب تک مصر کے ایک عالم قطب کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے۔
جن لوگوں نے قرآن مجید کو مثالی نمونہ قراردے کر ادبی تنقید کے اصول وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے عام طور پر معیناتی سطح پر معاشرے کے لیے صالح اقدار کی ترسیل اور اظہار اور فن کی اخلاقی قدرو قیمت پر زور دیا ہے۔ مبالغے اور جھوٹ کی مخالفت کی ہے۔ جنس اور تلذذ کے جذبات بھڑکانے والے مضامین سے گریز کی تلقین کی۔ گویا ادب کی اخلاقی ذمہ داری پر زور دیا ہے۔
ہیئتی سطح پر انھوں نے قرآن مجید کی سلاست، بلاغت اور توازن پر زور دیا ہے۔ تو ازن اور اعتدال ان کے نزدیک حسن کی اصل ہے۔ اس کا استدلال قرآن مجید کی ان آیات سے فراہم کیا گیا ہے جو انسان کے متوازن قد و قامت کے بارے میں ہیں مثلا :
وَصَوَّرَکُمْ فَاحْسَنَ صُوَرَکُمْ۔
(اور تمھاری صورتیں بنا ئیں تو کیا ہی حسین صورتیں بنائیں)
یا:
اَلَذِّیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ، فِیْ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَا شَائَ رَکَّبَکْ۔
’’اس (باری تعالیٰ) نے تیری تخلیق کی، پھر تیرے عناصر میں مناسبت اور ہم آہنگی حد کمال تک پیدا کی، پھر ان میں تناسب اور اعتدال پیدا کیا۔ اس کے بعد جیسی شکل وصورت بنانا چاہی اس کے مطابق ترکیب دی۔‘‘13؎
ان کی مدد سے مجیب الرحمن نے ابن رشد کا ’فلسفہ جمالیات‘ میں چار اصول وضع کرنے کی کوشش کی ہے:
اول: تخلیق کو ارسطو نے محاکات یا تشبیہ قرار دیا ہے اور اسلامی نظریات کے مطابق اس سے مراد وجود انسانی کا نحو (خاکہ) تیار کرنا ہے۔
دوم: تسویہ جس کو ارسطو نے ایقاع قرار دیا ہے لیکن اسلامی فلسفے کی رو سے کسی کے عناصر ترکیبی میں مطلق اور اضافی ہیں اس طرح مناسبت اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے کہ وہ ہر حیثیت سے موزونی و کمال کا مظہر بن جائے۔
سوم: تعدیل، انفرادی اور مجموعی ، جزوی ، کلی، مطلق اور اضافی ہر لحاظ سے تخلیق کے مختلف اجزا میں تناسب اور اعتدال روا رکھنا جس کو ارسطو کلیات، شمار کرتا ہے۔
چہارم: ترکیب صوری، شکل وصورت بننا جس میں صوری اجزا شامل ہیں اور اس وحدت کلی کا شاہکار انسان ہے جس کا ثبوت اس آیت سے ملتا ہے: اذ قال ربک للملٰئکۃ انی خالق بشرا من طین۔ فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ ساجدین۔‘
’’جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان پیدا کرنے والا ہوں تو جب اس کے (عناصر ترکیبی ) میں مناسبت و ہم آہنگی حد کمال تک پیدا کر دوں اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اس کے سامنے سجدے میں گر جانا ۔‘‘
تعدیل اور تناسب کو اسلامی فکر اور اسلامی تنقید دونوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس حد تک کہ بعد کے ادوار میں اخلاق کی جتنی کتابیں لکھی گئیں ان میں عدل کا موضوع غالب ہے اور عدل کو دوسری تمام اقدام کے سلسلے میں بھی بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اخلاق محسنی، اخلاق جلالی، گلستان سعدی، غرض اسلامی دنیا کی سبھی اہم تصانیف میں عدل پر توازن اور تناسب فراہم کرنے والی قوت کے طور پر بحث کی گئی ہے جس کی تفصیل یہاں بے محل ہوگی۔
عدل کا ایک پہلو فصاحت اور بلاغت میں لفظ اور معنی کے درمیان اعتدال و توازن اور حقیقت اور مبالغے کے درمیان اعتدال و توازن اور ضابطہ بندی اور انفرادی اپج کے درمیان اعتدال و توازن، تفاعل اور معاشرے سے اخلاقی کمٹ منٹ کے درمیان اعتدال و توازن کی شکل میں موجود ہے۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ اپنے مقالے ’تنقید کا دور قدیم‘ میں لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید نے اظہار میں تین چار چیزوں پر خاص زور دیا ہے:
.1 قول حسین
.2 قول متین
.3 قول سدید
.4 حکمت و موعظت
ادبی اظہار میں حسن متانت لفظی اور معنوی پختگی محکمیت علم افروزی اور اخلاق رموزی کے عناصر کے سرچشمے یہی ہیں اور اسی پر ہمارے علم بلاغت کی بنیاد ہے۔14؎
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں :
’’بایں ہمہ قرآن مجید نے جن جمالیاتی قدروں کو ابھارنا چاہا، ان میں تناسب، موزونیت اور کثرت میں وحدت ( کائنات کا اعتراف اور توحید پر اصرار ) خاص اقدار ہیں۔ ہاں یہ ضرور ماننا چاہیے کہ اسلام میں شامل ہونے والی مختلف اقوام نے نسلی خصائص اور ذوق کا اس میں اضافہ کیا۔ ‘‘15؎
بلاغت کے سلسلے میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے دو اہم نکتے پیدا کیے ہیں یونانی اور رومن ریطورک کی بنیادی غرض فن تقریر یا خطابت کی ترتیب تھی۔ اس میں ادب و شعر شامل نہ تھے۔ اسی ریطورک (فن تقریر) کے اندر سے انشا پردازی کے اصول مدون ہوئے۔ مسلمانوں میں علم معانی کا ایک حصہ تو اس سے متعلق ہے مگر معانی ( بلاغت ) کا علم محدود ہے اور اس کے ڈانڈے منطق اور نحو اور اسلوبیات سے زیادہ ملتے ہیں۔ مسلمانوں میں بلاغت کا علم عبد القادر جرجانی نے مدون کیا ہو یا کسی اور نے یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ جاہلی عربوں میں شاعری کے علاوہ خطابت بھی بدرجہ اتم موجود تھی۔ خود شاعری بھی کتابت کی قلت کی وجہ سے عموماً ایک تقریری شے تھی اور اس میں بھی خطیبانہ عناصر موجود تھے اس لیے مسلمانوں کا علم بلاغت ابتدا ہی سے تقریر یا نثر تک محدود نہ رہا بلکہ شاعری اور انشا پردازی پر حاوی ہوا اور ہوتا گیا۔ 16؎
بلاغت کے مفہوم سے بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عبداللہ نے اظہار کامل بغرض ابلاغ کامل کو کلیدی تصور قرار دیا ہے۔ بلاغت کلام کے مقتضائے حال کے مطابق ہونے کا نام ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ موضوع کی کیفیت جیسے کہ وہ ہے کامیابی سے بیان ہو جائے اور اس کے لیے مختلف پیمانے اور اصول وضع کیے گئے۔
شعر کے ظاہری پہلوؤں پر زور دینے کی مثالوں سے بحث کرتے ہوئے مسیح الزماں نے الفاظ کی خوبیوں کا تذکرہ کیا ہے اور انھیں تین حصوں میں تقسیم کیا ہے: ایک لفظ کے مطابق معنی ہونا ، دوسرے لفظ کا مطابق وزن ہونا اور تیسرے قافیے کا حسن۔
لفظ کے مطابق معنی ہونے کی چار قسمیں ہیں:
مساوات : جس میں لفظ معنی کے بالکل مساوی ہوں جن میں نہ مقصود کی کمی ہونہ زیادتی۔ اشارہ مختصر الفاظ کا معانی کثیر پر بطور اشارہ وایما، اس طرح شامل ہونا جس سے مقصود
اچھی طرح واضح ہو جائے۔
ارداف : شاعر اپنے مقصد کے لیے براہ راست الفاظ استعمال نہ کرے مثلاً کہنا ہو کہ اس کی گردن لمبی ہے تو یوں کہے کہ اس کے گوشوارے جس جگہ جھلکتے ہیں وہ اس کے کانوں سے دور ہے۔
تمثیل: شاعر ایک مضمون کا قصد کرے لیکن اس کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے جو دوسرے معنی پر دال ہوں اور یہی الفاظ و معانی مل کر اس مضمون مقصود کی توضیح کر دیں۔ لفظ کے مطابق وزن ہونے سے مراد یہ ہے کہ تمام اہم وفعل اپنی جگہ پر صحیح و سالم ہوں اور وزن کی رعایت سے ان میں تبدیلی نہ کی گئی ہو۔
قافیے کے لیے ضروری ہے کہ شعر کے معنی سے بالکل مربوط ہو، اس کی دو قسمیں بیان
کی گئی ہیں:
.1توشیح: معنی اور قافیے میں اتنا ارتباط ہو کہ ایک مصرعہ سننے کے بعد آدمی سمجھ جائے کہ
دوسرے مصرعے میں کون سا قافیہ استعمال کیا گیا ہے۔
.2 ایفال : شعر کا مفہوم قافیے سے پہلے کے الفاظ ہی سے ادا ہو جائے پھر بھی قافیہ بے
تکا یا حشو ہونے کے بجائے شعر کے حسن میں اضافہ کرے۔
شعر کے عیوب بھی محاسن کی طرح دو بڑی سرخیوں کے تحت میں آتے ہیں۔ (1) عیوب لفظ (2) عیب معانی۔ عیوب لفظ کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں:
.1 الفاظ غیر مانوس، وحشی اور غریب ہوں کہ بھدے اور کانوں کو برے معلوم ہوں۔ .2 معاظلت کسی چیز کا دوسرے سے بیان کرنا جیسے آدمی کے پیر کو کھر کہنا۔
بہر حال اس طویل اقتباس سے ظاہر ہے کہ فصاحت اور بلاغت ، موزونی الفاظ ، لفظ و معنی کا باہمی ربط ایک ایسے اعتدال اور توازن کی نشانی ہے جو فن کی پہچان ہے اور فن میں حسن پیداکرتا ہے۔
اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو قرآن مجید کی جمالیات شاعر کو تلمیذ الرحمن قرار دے کر اسے اس عدل و اعتدال کے شعور کا راز داں مانتی ہے، جو فطرت اور کائنات کی اصل ہے۔ یہی نہیں بلکہ خدا کے شاگرد کی حیثیت سے وہ بھی اسی عدل و اعتدال کے ساتھ اس کائنات کا ایک متوازن پیکر اپنے پیرایہ اظہار کے ذریعے تخلیق کرتا ہے اور اسے عملی شکل دیتا ہے اس اعتبار سے وہ خالق بھی ہے اور کار دیگر بھی صاحب شعور بھی ہے اور پیکر تراش بھی۔
ابن سینا اور دیگر مفکرین
قرآن مجید کے ان ابتدائی تصورات میں نئی کونپلیں اس وقت پھوٹیں جب اسلامی مفکرین یونان کے فلسفیانہ افکار سے دو چار ہوئے۔ افلاطون اور ارسطو کی تصانیف کے عربی میں ترجمے ہوئے اور ان کے افکار و تصورات کی نئی تشریح اور توجیہ ہونے لگی۔ دیگر اصل عرب مفکرین اور مترجمین ہی نے یونانی علوم وفنون کا بڑا ذخیرہ باقی دنیا تک پہنچایا اور اسے تاریخ عالم کے لیے محفوظ کر دیا۔ ان میں خاص طور پر ابن سینا کا نام قابل ذکر ہے۔
مرز امحمد ہادی رسوا نے (1857 تا 1931) اپنے تنقیدی مراسلات میں آغاز بحث ہی ابن سینا کے تذکرے سے کیا ہے۔ وہ لکھتے18؎ ہیں:
’’…سخت مشکل یہ ہے کہ ان امور کو سمجھنے کے لیے جنھیں میں ذکر کیا چاہتا ہوں مبادی اور مسائل علم نفس سے واقف ہونا بہت ضروری ہے اور اس علم کی کوئی کتاب یا زبان اردومیں نہیں ہے۔ شیخ بوعلی سینا کا ایک رسالہ زبان فارسی میں میرے پاس تھا اور اس کاترجمہ بھی میں نے اردو میں لکھا تھا اور تحقیقات جدید کے موافق19؎ بعضے حواشی و تعلیمات اس پر زیادہ کر دیے تھے وہ گم ہو گیا۔ شیخ کی کتاب شفا جملہ طبیعات میں بھی اس علم کا بیان موافق تحقیقات قدیم کے لیے مگر وہ عام نظروں سے دور ہے۔ میں نے ایک رسالہ خاص اس علم میں تصنیف کیا ہے مگر وہ چھپا نہیں20؎ اور اگر چھپے بھی تو اصطلاحات علمی کی فہم سے اکثر اذہان قاصر ہیں اس لیے وہ بھی اس مطلب کے لیے مفید نہیں۔‘‘
شیخ بوعلی سینا(980 تا 1037ء) مشہور عالم فلسفی اور حکیم کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ان کی کتاب شفا نہایت ضخیم ہے۔ یہاں کتاب شفا کے جن حصوں کا ذکر ہے غالباً وہ حصہ منطقیات ہے جو کتاب شفا کا دوسرا حصہ ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی مولانا ابوالکلام آزاد لائبریری میں ہے۔ اس کا عنوان عربی میں المنطقیات من کتاب الشفا لابن سینا ہے۔ تالیف 769ھ … یہ فرنگی محل سیکشن میں ہے اور نسبتاً صاف لکھا۔ اس کے صفحہ 603 سے 615 تک شعر و شاعری کا بیان ہے۔ شروع میں ان عنوانات کو درج کر دیا گیا ہے جو اس حصے میں زیر بحث آئے ہیں۔ یہ عنوانات درج ذیل ہیں :
.1 فی الشعرمطلقاً واصناف الصنعات الشعریہ واصناف الاشفا الیونانیہ۔
.2 فی اصناف الاعراض الکلیۃ والمحاکیات الکلیۃ التی الشعرا۔
.3 فی الاخبار عن کیفیۃ ابتداء نشر الشعر واصنافہ۔
.4 فی مناسبۃ مقادیر الابیات مع الاعراض وخصوصاً فی اطراغودیا وبیان اجزا اطراغودیا۔
.5 فی حسن الترتیب الشعری وخصوصاً اطراغودیا فی آخر الکلام المخیل الجرانی فی اطراغودیا۔
.6 فی اجزا اطراغودیا مجسب الترتیب والافساد لا یحسب المعانی ووجودہ من القسمت الاولیٰ اجزا ہو من التدبیر کل جزو خصوصاً ما یتعلق بالمعنی۔
عنوانات میں سے ظاہر ہے کہ ابن سینا نے یونانیوں کے اور خاص طور پر ارسطو کی بوطیقا کے زیر اثر شاعری پر غور کیا ہے اور ٹریجڈی (اطر اغودیا) کے اصول وضوابط وضع کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس سلسلے میں بعض بنیادی اختلافات نے ان سبھی تصورات کی شکل بدل دی ہے۔ عرب ڈرامے سے واقف نہ تھے اور ٹریجڈی کا یونانی تصور عرب تو کیا پورے ایشیا کے لیے بالکل اجنبی تھا اس لیے افلاطون اور ارسطو کی اطر اغودیا کے متعلق خیالات کا ابن سینا نے شاعری پر اطلاق کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس ضمن میں جو بات خاص طور پر اہمیت رکھتی ہے کہ عرب فطرت اور انسان کی نبرد آزمائی کے تصور سے واقف نہ تھے۔ انھوں نے مشیت کو کبھی فتح کی جانے والی طاقت نہیں جانا اور اسی لیے ٹریجڈی کا ڈرامائی مفہوم ان کے آرٹ اور تنقید دونوں میں نہیں ابھرا البتہ وہ جس تصور پر زور دیتے رہے وہ تخیل اور محاکات کے تصورات تھے اور ان دونوں کو انھوں نے اپنے طور پرفن اور اس کے لوازم سے متعلق کر لیا تھا۔
ان کا استدلال یہ تھا کہ مختلف فنون لطیفہ مختلف ذرائع سے اور مختلف حواس کے واسطے سے سنے اور دیکھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں اور دیکھی اور محسوس کی ہوئی اشیا اور مناظر کی کیفیات ان میں بیدار کرتے ہیں اور ان دیکھی اور غیر محسوس حقیقتوں اشیا اور مناظر کو تخلیق و ترتیب کرتے ہیں۔ موسیقی آواز سے مصوری رنگ سے اس طرح ادب تخیل کے ذریعے یہ کام کرتا ہے اور اس کے ذریعے پڑھنے والے کے ذہن کو نئی کیفیات سے دو چار کرتا ہے۔ کائنات کی نقل ہی نہیں کرتا بلکہ اسے نئی ترتیب اور نئی معنویت دیتا ہے اور اس کے ذریعے پڑھنے والوں میں قبض اور بسط کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ قبض الم کے مشابہ ہے اور بسط لذت کے مشابہ21؎ ہے۔ محاکات واقعہ نویس اور مورخ کا حصہ ہے اور اختراع شاعر اور فن کا اور محاکات کو اختراع کے درجے تک بلند کرنے والی خصوصیت تخیل ہے جو مبالغے کی بھی بنیاد ہے اسی لیے ادب کے لیے کلام کی اصطلاح ابن سینا نے استعمال کی ہے۔
محاکات کی وہ صورت جس میں اختراع بھی شامل ہے تمثیل کے نام سے یاد کی گئی اور اس تمثیل کی تین شکلیں متعین ہوئیں وہ جن کا تعلق شعور سے ہے یا وہ جن کا تعلق وجدان سے ہے یا وہ جن کا تعلق ارادے سے ہے۔ یعنی شاعری یا فکر اور آگہی بخشتی ہے یا پھر کیفیت اور وجدان عطا کرتی ہے یا عمل کے لیے حوصلہ دیتی ہے اس لحاظ سے اس کا تعلق بہ یک وقت حق سے بھی ہے جمال سے بھی ہے اور غایت سے بھی، کیونکہ وہ ذات مقدس جو ان تینوں کا سنگم ہے وہ حق الحق غیر مطلق اور غایت الغایات ہے۔122؎
مختصر اًعرب تنقید نے :
.1 کائنات اور ادب کا رشتہ محاکات کے ذریعے استوار تو کیا لیکن اسے محض نقل حقیقت قرار دینے کے بجائے محاکات محض اور اختراع محاکات یا تخیل کے ذریعے فن کی آزادی کو تسلیم کیا گویا فن حقیقت سے مربوط تو ہے مگر وہ جوں کی توں نقل نہیں کرتا جو مورخ یا واقعہ نویس کی خصوصیت ہے بلکہ حقیقت کو اپنے تخیل کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے لیے محض ان واقعات کے بیان پر اکتفا نہیں کرتا جو واقع ہو چکے ہیں بلکہ ان واقعات کا بیان بھی کرتا ہے جو واقعے نہیں ہوئے ہیں اور واقع ہونے والے حادثات کی ترتیب نو کے ذریعے انھیں بیان کرتا ہے۔ ( تخیل پر زوردینے کا نتیجہ مبالغے کی اہمیت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے)
.2 شاعر کا معاملہ محض واقعات یا حقائق سے نہیں ہوتا بلکہ ان سے پیدا ہونے والی کیفیات سے ہوتا ہے کیونکہ اس کا مقصد قبض یا بسط کی کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے اس لیے وہ ایسے حقائق بیان کرتا ہے اور ان کے بیان کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ ان سے قبض یا بسط الم یا نشاط کی یہ کیفیات پیدا ہو سکیں (واقعات کے بجائے کیفیات پر زور دینے کا نتیجہ عربی قصائد میں تشبیب کے اشعار میں محبوبہ کی پرانی گزرگاہوں کے ذکر کی شکل میں ظاہر ہوا اور بعد کو غزل کی بیانیہ کے بجائے کیفیاتی شاعری کی شکل اختیار کر گیا)
.3 اس کیفیت آفرینی کے سلسلے میں سب سے اہم منصب لفظ و معنی کے رشتے کا ہے اس بنا پر یہ مسئلہ عرب تنقید کا اہم ترین مسئلہ بن گیا جنھیں ابو الفرج قدامہ بن جعفر نے نقد الشعر میں :
’’جودۃ الشعر فیہ کما لا یعیب جودۃ النجارۃ فی الخشب کردائتہ فی ذاتہ۔‘‘ 23؎
’’شاعر ایک بڑھتی ہے لکڑی کی اچھائی برائی اس کے فن پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔‘‘
اور ابن رشیق نے کتاب العمدۃ میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’ادائے معنی کے لیے نئے نئے انداز نکالنا اور ایک ایک بات کو کئی کئی طرح ادا کرنا شاعرانہ کمال ہے گو یا معانی پانی ہیں اور الفاظ کی ترکیب یہ منزلہ گلاس۔ گلاسوں میں کوئی سیمیں ہے کوئی طلائی ، کوئی خزف کا ہے ، کوئی صدف کا۔ کوئی پتھر کا ہے، کوئی کانچ کا، پانی یعنی معانی بہر حال وہی ایک ہیں جو مختلف ترکیبوں اور اندازوں میں کانوں کے واسطے سے نفس کے سامنے آتے ہیں اور اگر چہ تشنگی طلب کو بجھاتے ہیں لیکن گلاسوں کی رنگارنگی ایک لطف مزید دے جاتی ہے۔‘‘24؎ ( ترجمہ )
لفظ و معنی کے رشتے کی یہ بحث مشرقی تصورفن کے پس منظر میں اور زیادہ اہم ہوجاتی ہے… مشرق نے فطرت اور انسان کے درمیان کشاکش کے تصور کو رد کر کے فطرت اور انسان کی ایک مکمل اکائی تک پہنچنے کی کوشش کی اور اس کے ساتھ قبائلی زندگی کی اجتماعیت اور معاشرے کی منضبط زندگی نے حقیقت کے جو پیکر متعین کر دیے تھے، انھوں نے انفرادی اُپج کی راہیں مسدود کر دی تھیں اور شاعر کے لیے اپنی تخلیقی قوت کے اظہار کا صرف یہی ایک راستہ رہ گیا تھا کہ وہ اپنی ذہانت اور خلاقی انداز بیان کی ندرت اور جدت ادا کے ذریعے ظاہر کرے۔
ابن رشد اور ابن خلدون
ابن رشد نے (1126تا1198) ارسطو کی بوطیقا کا عربی میں ترجمہ کرنے اور عربی ادب پر اس کے اصول منطبق کرنے کا کام کیا۔ ڈراما اور ٹریجڈی کو سامنے رکھ کر وضع کردہ اصول ابن رشد کے لیے بھی دشواریاں پیدا کرتے ہیں اور انھیں شاعری کے اس تصور پر منطبق کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو عربوں کے سامنے تھا۔ البتہ ابن رشد نے کتھارسس کی اصطلاح کو فلسفیانہ یا طبی معنوں میں استعمال کرنے کے بجائے اخلاقی معنوں میں استعمال کیا ہے اور اس کا ترجمہ پاکیزگی کیا ہے جو ان کے نزدیک اعتدال یا توازن کے مترادف ہے۔ وہ لکھتا ہے:
ان امور فاضلہ میں سے ہر ایک میں پائی جانے والی جزوی قوت سے … اس محاکات سے نفوس میں معتدل اثر پیدا ہو کیونکہ وہ اثر ان میں رحمت اور خوف پیدا کرتا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ صاحب فضیلت لوگوں میں پاکیزگی و طہارت اور شرافت کا پایا جانا مقصود ہے۔‘‘25؎
اس بیان میں پاکیزگی سے مراد اعتدال ہے اور اس کے لیے ’صاحب فضیلت‘ لوگوں کی شرط عائد کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں ’صاحب فضیلت‘ سے مراد محض قبائلی معیار یا مصلحت نہیں ہے بلکہ اعلیٰ تر اور وسیع تر تہذیبی ترفع اور تربیت مراد ہے۔
ابن رشد نے ارسطو کے تصورات کو کس حد تک اختیار کیا ہے اور کس حد تک اس کو اپنے طور پر عرب کے ادبی نمونوں کے مطابق ڈھالا ہے اور کس حد تک ان میں ترمیم اور اضافہ کیا ہے۔ ان موضوعات پر بحث کا یہ موقع نہیں۔ اس بحث سے تنقید کا کوئی نیا تصور ابھرتا نظر نہیں آتا بلکہ فصاحت اور بلاغت کے وہی معیار اور مقاصد ایک بار پھر واضح ہوتے ہیں جن پر عرب اور ایرانمیں مختلف انداز سے زور دیا جاتا رہا ہے۔
ابن خلدون (وفات 1406) بنیادی طور پر مورخ کی حیثیت سے جانا مانا جاتا ہے۔
مورخ کی حیثیت سے اس نے پہلی بار فلسفہ تاریخ مدون کرنے کی کوشش کی اور اسی فلسفے کے مطابق فنون لطیفہ اور ادب کو بھی پرکھنا اور سمجھنا چاہا۔ ابن خلدون کے نزدیک تاریخ قبل تہذیب کی زندگی اور26؎ متمدن مدنی تہذیب کے درمیانی مراحل و منازل کی داستان ہے اور سلطنتوں کا عروج و زوال سیاست و مذہب، فکر و فلسفہ، فنون لطیفہ اور ادبیات سب اسی سفر کے مختلف مراحل سے اثر پذیر ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے ادب اور شعر اس کے نزدیک قبائلی اور خانہ بدوش زندگی سے شروع ہو کر متمدن مدنی تہذیب پہنچنے کا وسیلہ بھی ہیں اور ان مراحل کا نشان بھی اس اعتبار سے بقول جی ایم و کنس ’تاریخ کے بارے میں ابن خلدون کے نظریے کے ذریعے مارکسی نظریہ تاریخ کو دوسرے نام سے پیش کیا جارہا ہے‘ یعنی قبیلے یا طبقے کا تصور اور ادب کے تاریخی شعور کا تصور یا ادب کی تاریخیت کا تصور ہمیں ابن خلدون نے بہت پہلے دیا تھا، جس پر عرب تنقید نے بد قسمتی سے زیادہ توجہ نہیں کی۔
تصوف
اسلامی فکر ابتدائی دور ہی سے علما، صوفیا اور فلاسفہ کی کشمکش سے دو چار رہی ہے۔ علما کے نزد یک اسلام قانون تھا، صوفیا کے نزدیک وجدان اور فلاسفہ کے نزدیک علم کلام۔ یہاں ان تینوں گروہوں کے باہمی اختلاف سے بحث کرنا مقصود نہیں لیکن صوفیا نے جس طرح یونانی اور ہندوستانی فکر کا مطالعہ کیا اور اسلامی تصوف کو ہمہ اوست کی جو شکل دی اس نے ادبی تنقید پر بھی گہرااثر ڈالا۔ بالخصوص ابن عربی (وفات 1240) کے افکار نے معنی اور صورت دونوں حیثیتوں سے ادب کو متاثر کیا اور یہ اثر محض اسلامی دنیا تک محدود نہیں رہا بلکہ بعد کے سوفسطائی مفکرین اور ارسطو و افلاطون کے ان پیروؤں تک بھی پھیلا جو ان کے افکار سے اسلامی مصنفین کے ترجموں کے ذریعے پہنچے تھے۔
ابن عربی وحدت الوجود کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک پوری کائنات میں صرف ایک ہی وجود جاری وساری ہے گو اس کی ظاہری شکلیں الگ الگ ہیں وہ ایک ہی نور ہے جس نے ہزار شکلوں میں خود کو بکھیر دیا ہے اور حسن کا مشاہدہ کرنے والا، حسین شے اور خود مشاہدہ، یہ تینوں گویا ایک ہی وحدت کے مختلف ٹکڑے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان ( یا کسی اور شے میں) حسن کا احساس در اصل اسی روحانی وحدت کا نتیجہ ہے کیونکہ سماوی نور کا ایک شمہ دیکھنے والے میں ہے اور دوسرا شمہ دیکھی جانے والی شے میں اور ایک شمہ دوسرے شے کو کھینچتا ہے اور اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اس سے کشش پیدا ہوتی ہے اور جمالیاتی کیفیت کا ظہور ہوتا ہے۔
اس نقطۂ نظر سے حسن مطلق اور خیر مطلق دونوں ایک ہیں اور جو معرفت سے جتنا قریب ہے اْتنا ہی وہ نہ صرف حق سے قریب ہے بلکہ حسن سے بھی اسی قدر قریب ہے۔ حسن مطلق اور خیر مطلق کی اس یک جائی نے شاعری کا ایک ایسا تصور پیدا کر دیا جو وجدانی اور الہامی ہونے کے علاوہ معرفت کا وسیلہ اور علم و آگہی ہی نہیں، تہذیب کا ایک طریق کاربن گیا۔ چونکہ ابن عربی کے نزدیک تمام گوناگوں ظاہری اشیا ایک ہی نور باطن کی مختلف مجازی شکلیں تھیں۔ اس لیے تمثیل اور علامت کا رواج ایسا بڑھا کہ پوری شاعری مرموز ہوگئی اور ایک طویل سمبل کی شکل اختیار کر گئی۔ معنوی اعتبار سے معرفت کا وسیلہ دل ٹھہرا جو وجدان کا مرکز ہے اور دل اتنا مشاہدے کا مطیع نہیں جتنا کیفیت اور تاثر کا بندہ ہے، اس لیے پوری شاعری کا مزاج معروضی کے بجائے تاثراتی ہو گیا جس کے نتیجے کے طور پر طویل رزمیوں کی جگہ فلسفیانہ رموز اور عشقیہ اور دیگر باطنی کیفیات نے شاعری پر غلبہ حاصل کر لیا مگر یہ داستان عرب سے شروع ہو کر ایران میں عروج تک پہنچی اس لیے اس کا تذکرہ اسی ضمن میں زیادہ مناسب ہوگا۔
حواشی
.1 تنقید کی تاریخ، از مسیح الزماں ص 10
.2 G.N. Wickens: Arabic Literature in Literatures of the East، محولہ بالا، ص 34
.3 بسلسلہ Arabic Poetry، ص 28
.4 عرب قصیدوں کی بیتی ترکیب کے بارے میں ڈاکٹر محمود الٰہی لکھتے ہیں:
(الف) زیادہ تر ( تقریبا تمام تر) قصیدے… آخری مصرعے میں ہم قافیہ ہوتے ہیں اور شروع میں مطلع ہوتا ہے ۔
(ب) بعض قصیدے آخری مصرعوں میں ہم قافیہ تو ہیں لیکن مطلع سے خالی ہیں۔
(ج) بعض قصیدوں کے شروع میں دو دو اور تین تین مطلعے ہوتے ہیں۔
(د) بعض قصیدوں میں مطلع پہلے شعر کے بجائے دوسرے شعروں میں یا کئی کئی شعر کے بعد ہے۔
(ہ) بعض قصیدے مسمط کی شکل میں بھی ہیں جس کی متعدد شکلیں ہیں۔
(و) مزدوج (مثنوی) کی شکل میں بھی کچھ قصیدے ملتے ہیں۔
(ارد و قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ، مکتبہ جامعہ، دہلی، 1973 ص44)
.5 ایضاً، ص 723
.6 اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ محولہ بالا، ص 74
.7 ایضاً، ص76
.8 ایضاً، ص 79 تا 81
.9 اردو تنقید کی تاریخ، الہ آباد، ص 22
.10 ایضاً، ص 12
.11 اس ضمن میں مولوی نذیر احمد کی رائے نقل کرنا بے محل نہ ہو گا جو انھوں نے اپنے ایک خطبے میں ظاہر کی ہے۔ انھوں نے اشارہ کیا ہے کہ اردو شاعری نے عرب شاعری کے بجائے فارسی شاعری کے اثرات قبول کیے جس کی بنا پر واقعیت اور جوش بیان کی جگہ تصنع اور مضمون آفرینی کا غلبہ ہو گیا اور اردو شاعری تیکھے پن اور براہ راست اظہار کی قوت سے محروم ہوگئی۔
.12 یہ بات یادر کھنے کی ہے کہ مبالغہ عرب تنقید میں وہی درجہ رکھتا ہے جو رومانوی تنقید میں تخیل کو حاصل ہے۔ شاعری حقیقت کی دریافت کا وسیلہ ہے اور اس کے بغیر فرد اپنے ماحول سے رابطہ پیدا نہیں کر سکتا۔ فرداسی کے ذریعے حقیقت کا ادراک کر سکتا ہے۔ تخیل صرف احساس نہیں ہے بلکہ تمام محسوسات یا عام خیال اور حواس خمسہ کے ذریعے حاصل کردہ احساسات کی مدد سے استخراج نتائج اور ان احساسات کی فکر کی مدد سے Concept میں ڈھالنے والی قوت ہے اور یہی قوت تخلیقی سطح پر جب اپنا اظہار کرتی ہے تو محسوسات اور تصورات تراشتی اور تبدیل کرتی ہے اور اس کے اظہار کے لیے الفاظ کا انتخاب بھی کرتی ہے اور الفاظ کو نئی معنوی اور کیفیاتی سطحیں عطا کرتی ہے اور نئے طریق کار ایجاد کرتی اور نئی تراکیب تمثال اور صورت گری بناتی ہے۔ اس لحاظ سے جو چیز تخلیقی فن پارے کو حقیقت کی مجہول عکاسی کے تابع ہونے سے بچاتی ہے اسے تخلیقی سرگرمی میں ڈھالتی ہے وہ تخیل یامبالغہ ہے اسی بنا پر عرب تنقید نے مبالغے کو تخلیقی فن قرار دیا۔
.13 ابن رشد کا فلسفۂ جمالیات و شرح کتاب الشعر، ناشر مطبع فلسفہ و ادب شرقیہ، لاہور، 1975، ص 28 و 30
.14 مطبوعہ’ اوراق‘ لاہور
.15 مطبوعہ اوراق، لاہور
.16 مطبوعہ اوراق، لاہور
.17 اردو تنقید کی تاریخ محولہ بالا ص 17 تا 19
.18 مرزا رسوا کے تنقیدی مراسلات، مرتبہ محمدحسن، ادارہ تصنیف علی گڑھ 1961۔ یہ مراسلات رسالہ معیار میں شائع ہوئے۔
.19 یہ ترجمہ دستیاب نہیں ہوا۔
.20 غالباً مراد ہے مرزا رسوا کے رسالے ’استشہاد فی توجیہ الاشعار‘ سے جو غالباً چھپا ہی نہیں۔
.21 مرزا رسوا کے تنقیدی مراسلات، ص 47
.22 ایضاً، ص 47
.23 اردو تنقید کی تاریخ، ص 10
.24 مرأۃ الشعر، مجیب الرحمن ( پہلا ایڈیشن ) ، ص 101
.25 ابن رشد کا فلسفہ جمالیات اور کتاب الشعر، از مجیب الرحمن، مطبع فلسفہ وادب، لاہور ، 1975
.26 Literature of the East، محولہ بالا، ص 40

ماخذ: مشرق و مغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ، مصنف: محمد حسن، دوسری طباعت: 2016، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

تنوع پسند شاعر: مرزا محمد رفیع سودا،مضمون نگار: ابوبکرعباد

تلخیص: مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر

غنائیہ ڈرامے (لوک ناٹک) کی ابتدا اور ارتقا،مضمون نگار :کنول ڈبائیوی

یہ حقیقت ہے کہ کل کائنات ہی ایک اسٹیج ہے اور سبھی ذی روح اپنی جگہ پر اداکار ہیں اور کسی زبردست قوی الفطرت ہدایت کار نے ہر ایک ذی

اردو تحقیق و تدوین اورعلی گڑھ،مضمون نگار: صبا نسیم

تلخیص اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں علی گڑھ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ویسے تو یہ ریاست اترپردیش کا ایک شہر ہے لیکن عالمی سطح پر