تلخیص
علامہ شبلی نعمانی (1857-1914)اعظم گڑھ کے ایک گائوں بندول میں پیدا ہوئے، عربی وفارسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی، وکالت کاامتحان پاس کیا، پھروہ حج بیت اللہ کے لئے گئے، واپس آکرمختلف غیرعلمی جیسے محرری، قرق امینی اوروکالت کی،سب میںجی نہیں لگااورناکام ہوئے، اس کے بعدوہ 1883 میں علی گڑھ پہنچے اورعربی وفارسی کے پہلے اسسٹنٹ پروفیسرپھر پروفیسرمنتخب ہوئے اس کے بعدوہ بہت کچھ ہوئے، مصنف ومحقق اورمورخ ومدیر،خلافت سے تمغہ مجیدیہ ملااورانگریزی حکومت سے حالی ومولوی نذیراحمدجن سے وہ بہت چھوٹے تھے ان سے پہلے شمس العلماء ہوئے۔ تقریباً 800 صفحات کی سوانح عمری شائع ہوئی مگراب تک ان کابچپن جن احباب کے درمیان گذراوہ کون لوگ تھے ،کس قدرتعلیم یافتہ تھے، ان سے شبلی کی محبت اورتعلقات کیسے تھے،اس مقالہ میںنہایت تلاش وتفحص سے ان کے احباب کے حالات اورشبلی سے ان کے تعلقات کی نوعیت وغیرہ سپردقلم کی گئی ہے۔
یہ وضاحت ضروری ہے اورمقالے سے بھی واضح ہوگاکہ ان کے بیشتراحباب مذہبی تعلیم یافتہ تھے لیکن جدیدتعلیم سے ناآشنانہ تھے، ان کاگھرانہ اگرچہ وکالت پیشہ اورقانون ومحرری سے وابستہ تھالیکن ان میںابتداسے روشن خیالی تھی ،یہی وجہ اوریہی وہ ماحول تھاجس میںعلامہ شبلی علامہ اور شمس العلماء ہوئے۔اس مقالہ میںانہی احباب کاتذکرہ ہے جس سے ان کے عوامل کااندازہ ہوتاہے جوبلندخیالی کاایک ماحول تشکیل دیتاہے۔
کلیدی الفاظ
احباب،سوانح،تفہیم شبلی،فخرالملۃ والدین،اعظم گڑھ، بندول، خاندان، مثنوی صبح امید، الہ آباد، حمیدالدین فراہی، مکاتیب شبلی، مولانا سید سلیمان ندوی، فارسی خطوط، تاریخ، کتبہ،کیفیت ، سپاس نامہ وغیرہ
————
علامہ شبلی نعمانی(1857-1914) کے بچپن کے متعدداحباب کاذکران کے مکاتیب میںجابجا مذکورہے۔ حیات شبلی میںبھی ان کے حوالہ سے بعض احوال وآثار نقل ہوئے ہیں۔ زیرنظرمقالے میں بچپن کے انہی احباب شبلی کے احوال تلاش وتفحص سے درج کیے گئے ہیں۔یقین ہے ان کے احوال سے سوانح شبلی کی تفہیم میںمددملے گی۔
ان احباب کی تعدادبیس ہے اور ان میںچندکے سوابیشتران کے خاندان اور وطن موضع بندول کے احباب شامل ہیں۔ اس مقالے کو حیات شبلی ہی کاایک باب تصورکیاجاناچاہیے۔
مولوی احمداللہ وکیل
مولوی احمداللہ ابن جان علی کاوطن موضع بندول تھا،علامہ شبلی کے معاصر اوروکیل تھے، اعظم گڑھ میں وکالت کرتے تھے، ان سے علامہ شبلی کے اس قدربے تکلفانہ مراسم تھے کہ پیسوں کا لین دین بھی ہوتا تھا۔مولوی محمد سمیع کے نام ایک خط میںعلامہ شبلی نے لکھاہے کہ:
’’ میاںاحمداللہ کے پاس میرے 8؍روپے جمع ہیں، اس کولے کر میری طرف سے مولوی محمدحسین آزاد پروفیسر لاہور گورنمنٹ کالج کوبھیج دو اور ان کو لکھ دو کہ ’’برائے مہربانی آپ سنین الاسلام کی دونوںجلدیںشاہ اسدعلی وکیل الہ آباد کے پاس بمقام خلدآبادبھیج دیں،جوخط ان کولکھناعمدہ طورسے لکھنا،نیچے میرے دستخط میںیہ عبارت رہے:
شبلی نعمانی
پروفیسرمحمڈن کالج
(مکاتیب شبلی:1؍68)
دونوںکے درمیان تعلقات کی گہرائی اوربے تکلفی کااندازہ مولوی محمدسمیع کے نام خط کے اس جملہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ’’مولوی احمداللہ صاحب فخرالملۃوالدین کہیںف اڑانہ جانا۔‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍77)
احمد علی
موضع بندول ضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے اورعلامہ شبلی کے خانوادے کے ایک فردتھے۔ایم اے اوکالج علی گڑھ میںتحصیل علم کے لیے علامہ شبلی کے ساتھ یہ بھی ان کے ساتھ مقیم رہے۔ان کے متعلق علامہ شبلی نے ایک خط میںلکھاہے :
’’میاںاحمدعلی کایہ حال ہے کہ سید صاحب کی فرمائش سے سرکہ کی بوتلیں مانگی تھیں،تین مہینے ہوچکے،ان کاجواب یہ ہے کہ ابھی تیار نہیں۔‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍36)
حافظ حبیب اللہ خاں
حافظ حبیب اللہ خاں موضع بندول ضلع اعظم گڑھ کے باشندہ اوراعظم گڑھ کے مشہور وکیل تھے۔ علامہ شبلی کے بچپن کے خاص دوستوں میں تھے۔ عمر میں ان سے کچھ بڑے رہے ہوں گے۔مکاتیب شبلی کے دونوںحصوں میںمتعددمقامات پران کاذکرآیاہے اور ہرجگہ ان کانام بڑوں کی فہرست میںشامل ہے۔ ان اندراجات سے اندازہ ہوتاہے کہ علامہ شبلی سے ان کی بڑی بے تکلفی تھی،چنانچہ علامہ شبلی مکاتیب میں انھیں دست بستہ سلام لکھتے ہیںاور جہاں بھی اپنے احباب کا ذکر کرتے ہیں انھیں نہیں بھولتے۔علامہ شبلی نے سرسیداحمدخاںکوخط لکھ کر ان کے لیے ’قانون شہادت‘ منگوائی تھی۔ ایک خط میں اس کا ذکرآیاہے۔(مکتوبات شبلی24)
1885 میںعلامہ شبلی کی مثنوی’ صبح امید‘ شائع ہوئی توعلامہ نے اپنے وطن کے احباب کے لیے چندنسخے قیمتاً اعظم گڑھ بھیجے اور مولوی محمدسمیع کولکھاکہ اس کی عام قیمت چارآنہ اورخاص قیمت ایک روپیہ ہے،جس قیمت کے خریدار ملیںان سے دام لے کرفوراً بھیجو، خریداروںکے نام بھی انھوں نے لکھ کربھیجے،جس میں اپنے والد کے ساتھ تمام احباب کے نام لکھے ہیں،ان میں ایک نام جو سرفہرست ہے وہ حافظ حبیب اللہ خاںکا ہے۔(مکاتیب شبلی:1؍78)
علامہ شبلی نے سرسیدکی سرکہ کی فرمائش پوری کرنے کے لیے پہلے احمدعلی کوخط لکھا۔ان کے جواب کے بعد حافظ حبیب اللہ خاںکولکھا،اس میںیہ بھی لکھا کہ ان کی مالی حالت اچھی ہوگی تو دریغ نہ کریں گے۔ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی :1؍36)
اعظم گڑھ کے مسلمانوںکی جانب سے تحریک ندوہ کی حمایت میںجوسپاس نامہ بھیجاگیا تھااس پرحافظ حبیب اللہ خاںکے بھی دستخط ہیں۔(رویدادجلسہ سال سوم ندوۃالعلما،اپریل 1896:8)
منشی حسن رضاخاں
علامہ شبلی کے مکاتیب میںان کااس طرح ذکرآیاہے کہ ان کے ہم وطن معلوم ہوتے ہیں۔ متعدد خطوط میںان کوبھی سلام لکھاہے۔ (مکاتیب شبلی: 1؍62,77)
لیکن اس سے زیادہ کچھ نہ معلوم ہوسکااورنہ علامہ شبلی کے خط کی کسی عبارت سے کچھ اندازہ ہی ہوسکا۔
حافظ حسن علی
حافظ حسن علی وکیل علامہ شبلی کے بچپن کے دوست اوران کے ہم وطن تھے۔ عمر میں ان سے چھوٹے تھے۔ اعظم گڑھ میںوکالت کرتے تھے۔تحریک ندوہ کے ابتدائی دورکے مددگاروں میں تھے۔ اعظم گڑھ کے مسلمانوںنے تحریک ندوہ کی حمایت کرکے جوسپاس نامہ اس کے جلسہ سال سوم میں بھیجا تھا اس پرحافظ حسن علی کے بھی دستخط ہیں۔
علامہ شبلی کے ان مکاتیب میںجوبندول کے احباب کے نام لکھے گئے ہیںاکثر خطوط میںعلامہ نے انھیں سلام لکھاہے۔سرسیداحمدخاں(1817-1898) کے سرکہ کے لیے علامہ شبلی نے انھیں بھی خط لکھاتھا، لیکن ان کے متعلق یہ مصرعہ بھی لکھاکہ
زر می طلبد سخن دریں است
(مکاتیب شبلی:1؍36)
علامہ شبلی کے مکتوبات میںایک بہت مشہورخط ہے،جس میںانھوںنے مرزاغالب کا تتبع کیا ہے، ان کے مخاطبین میںایک مخاطب حافظ حسن علی بھی ہیں،ان کی زبان سے علامہ شبلی نے اپنے لیے یہ جملہ لکھاہے کہ:
’’لواب کی ان کوخط لکھتے لکھتے رہ گیا،امتحان کا حال لکھنا تھااورجوکچھ ہوآدمی مزے کاتھا،دوگھڑی کیفیت رہتی تھی۔‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍69 )
مثنوی’ صبح امید‘کی قیمت جن احباب سے لینی تھی،ان میںایک نام حافظ حسن علی کا بھی شامل ہے۔ (مکاتیب شبلی:1؍78)
سرسیداحمدخاںنے’’علامہ شبلی سے اصرارکیاکہ تم اپنافوٹولو، یہاںکافوٹوگرافرنہایت استادہے مگر کم سے کم 18؍روپے کاخرچ ہے، جس میںبارہ تصویریںتیارہوںگی۔‘‘دو تصویریں سرسید خودخریدنے کوتیار تھے،باقی تصویروںکے لیے علامہ شبلی نے اپنے احباب کومتوجہ کیا،ان احباب میںبھی حافظ حسن علی کانام شامل ہے۔(مکاتیب شبلی:1؍85)
علامہ شبلی کوچوکی(بیڈ) کی ضرورت ہوئی تواس کے لیے انھوںنے مولوی محمدسمیع کو خط لکھا، اسی خط سے معلوم ہواکہ علامہ شبلی کے گھرکے لیے حافظ حسن علی نے چوکی تیارکرائی تھی،جو چھائونی یعنی شیخ حبیب اللہ کی دوسری اہلیہ کے گھرپرتھی۔(ایضاً:1؍97)
حافظ محمدحسنین
حافظ محمدحسنین ابن فتح علی بندول کے رہنے والے تھے۔قرآن مجیدحفظ کرنے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے وکالت کا امتحان پاس کیااور سندلے کراعظم گڑھ کی عدالت میںوکالت کرتے رہے۔ مزید حالات معلوم نہ ہوسکے۔
منشی خدابخش
موضع بندول کے رہنے والے اورعلامہ شبلی کے احباب میںتھے۔غالباًعلامہ شبلی کے والد شیخ حبیب اللہ وکیل کے محرربھی تھے۔ایک خط میںلاولدہونے کاذکرملتاہے۔ مکاتیب شبلی میں متعدد مقامات پران کاذکرآیاہے۔ مولوی محمدسمیع وغیرہ کے نام اکثرخطوط میںعلامہ شبلی نے انھیں سلام بھیجا ہے۔
اپنے وطن موضع بندول میںوفات پائی۔ ان کی قبر بندول میںعلامہ شبلی کے خاندانی قبرستان جس میں شیخ حبیب اللہ وکیل اور علامہ کی دونوںصاحبزادیاں رابعہ و فاطمہ کی قبریں ہیں وہیںمنشی خدا بخش کی بھی پختہ قبر موجودہے۔اس پرکتبہ بھی لگاہواہے،متصل ہی ان کے اہلیہ حمیدہ بی بی کی بھی پختہ قبر موجود ہے۔ مگر کتبہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے تاریخ ولات ووفات معلوم نہ ہوسکی۔ان کے مزیدحالات بھی معلوم نہ ہوسکے۔
مولوی سلیم نندانوی
مولوی سلیم نندانوی موضع نندائوںضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے علامہ شبلی کے بچپن کے دوست تھے، علامہ شبلی جب وکالت کاامتحان دینے کے لیے قانون پڑھ رہے تھے، مولوی محمد سلیم نندانوی بھی ان کے ساتھ تھے،چونکہ علامہ شبلی یہ تیاری اعظم گڑھ میںنہیںبلکہ بستی میں مولوی محمد کامل ولیدپوری کی سرپرستی میںکررہے تھے، اس لیے یہ احباب بستی میںان کے ساتھ تھے۔
1877 میںمولوی حکیم محمدعمرکے نام ایک خط میںعلامہ شبلی نے ان کے ہنی مون کا ذکر کیاہے، گویا اسی سنہ میںان کانکاح ہواتھا۔(اردوترجمہ مکاتیب شبلی21)
حافظ عبدالغفور
حافظ عبدالغفورابن امیدعلی موضع بندول کے رہنے والے اورعلامہ شبلی کے عزیزوں میں تھے، حافظ قرآن تھے، علامہ شبلی کے ساتھ رہ کر ایم اے اوکالج علی گڑھ میں تعلیم پائی تھی، فروری 1883 میں علامہ شبلی نے شہر علی گڑھ میں 5؍روپے کرائے پرجومکان لیاتھا،اس میںان کے چھوٹے بھائی محمد اسحاق، چچازادبھائی محمدعثمان اوراس کے ایک حجرے میںحافظ عبدالغفورصاحب بھی رہتے تھے،مولوی محمد سمیع کے نام ایک خط میںان کی خیریت سے مطلع کیاہے۔
علاوہ ازیں بعدمیںجب وہ علی گڑھ سے واپس اعظم گڑھ آگئے تو علامہ نے متعددخطوط میں انھیں سلام لکھا اورمولوی محمدسمیع وغیرہ سے ان کے احوال دریافت کیے ہیں،مشہورتمثیلی خط میں ان کی زبان سے اپنے لیے یہ جملہ اداکیاہے کہ ’’ارے میاںخیرمرناتو سب کے لیے ہے، ہاں ان کے خط کا جواب رہ گیامگریہ بھی کوئی زبردستی ہے،جی نہ چاہے تومفت کی محنت کون گوارا کرے۔‘‘ (مکاتیب شبلی: 1؍69)
حافظ علی احمد
حافظ علی احمدشیخ عجیب اللہ کے صاحب زادے اورعلامہ شبلی کے چچازادبھائی تھے،حافظ قرآن تھے اور گھر پررہ کرزمینداری کی دیکھ بھال کرتے تھے، ان کے ذمے موضع بندول اوردیوا بندول کی زمینداریاں تھیں،متعددخطوط میںان کاذکرملتاہے،علامہ نے مثنوی’صبح امید‘ اوراپنا فوٹو خریدنے اور دام ادا کرنے والوںمیںان کابھی نام لکھاہے، سر اقبال احمدسابق چیف جسٹس الہ آباد ہائی کورٹ انہی کے صاحبزادے تھے،علامہ شبلی نے اپنے چچا شیخ عجیب اللہ کے نام ایک خط میں انھیں علی گڑھ کی نمائش دیکھنے کے لیے بلایاتھا،معلوم نہیںجاسکے یا نہیں،ان کا سنہ ولادت و وفات معلوم نہیں ہوسکا۔
فرحت احمد
فرحت احمدکے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہ مل سکیں،حالانکہ بقول ڈاکٹر خالد ندیم وہ علامہ شبلی کے چچازادبھائی تھے۔(اردوترجمہ مکاتیب شبلی 49)
کس چچاکے صاحبزادے تھے انھوںنے صراحت نہیںکی ہے، اس بات کی تصدیق کسی اور حوالے سے بھی نہیں ہوئی، راوت رضی احمد چودھری نے ’تاریخ بندول‘ میںجوشجرہ نسب درج کیا ہے اس سے بھی تصدیق نہیںہوئی۔
علامہ شبلی نعمانی سے ان کے منجھلے بھائی حافظ محمدمہدی حسن بیرسٹرنے فرحت احمد کے بھتیجے کی پیدائش پر تاریخ کی فرمائش کی تھی، چنانچہ علامہ شبلی نے ایک خط میںدوتاریخی قطعات لکھ کر بھیجے، یہ تاریخی قطعات’مکاتیب شبلی‘ (:1؍74)میںشامل ہیں،انھیں یہاں اس لیے نقل کیا جاتا ہے کہ اس سے علامہ شبلی کے تاریخی قطعات کہنے کاایک اہم پہلو سامنے آتاہے ؎
مرحبا مرحبا لمولود
کہ بود بادہ ایاغ کمال
باز در پیش گاہ بزم وجود
گشت روشن ازو چراغ کمال
مردم دیدہ ہنر فرحت
کہ تواں یافت زو سراغ کمال
سال تاریخ را چو امر نمود
گفت شبلی بہار باغ کمال
(مکاتیب شبلی:1؍78)
فرحت احمدکے نام مکاتیب شبلی میںعلامہ شبلی نعمانی کاایک فارسی خط بھی شامل ہے، اس سے ان کے احوال کی وضاحت تونہیں ہوتی،لیکن علامہ شبلی سے قربت کااندازہ ضرور ہوتا ہے،یہ خط دلچسپ بھی بہت ہے۔ملاحظہ ہو:
مبارک ہو۔
خداکاشکرہے کہ تمہاراچھوٹا بھائی مہدی حسن ایف اے میں کامیاب ہوگیا ہے، کیاہی اچھاہوتاکہ جیسے ہی میںعلی گڑھ پہنچتا،تم وہاں پہنچ چکے ہوتے، میری آمد کی خبر سنتے ہی دوڑے چلے آتے،خوشی کے مارے تمہارے منہ سے بات نہ نکل رہی ہوتی، تمہارے دل کی حالت تمہارے تبسم سے ظاہر ہوتی اور پھر بے ساختہ تمہارے منہ سے نکلتا کہ بھائی مہدی حسن پاس ہوگیا، تم تیزی سے دو تین قدم آگے بڑھتے اور میرے سینے سے لگ جاتے اور پوچھتے کہ ہاں (مہدی کے) پاس ہونے پر میری مٹھائی کہاں ہے؟ میں کہتا کہ تمھارے ہونٹوں پر، پھر دوستوں کی مجلس آراستہ ہوتی اور خوب گپ شپ ہوتی، خدایا! ایساہی ہو۔ایک بارپھر مبارک باد۔‘‘ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی:49)
علامہ شبلی کے فارسی خط کایہ اردوترجمہ ڈاکٹرخالدندیم صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف سرگودھا کے قلم سے ہے اوردارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ نے شبلی صدی کے موقعے پر 2015 میں شائع کیاہے۔ اس خط سے مکتوب نگارعلامہ شبلی اور مکتوب الیہ فرحت احمد کے درمیان انتہائی قربت کااندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فرحت احمد کا کہیں اور ذکر نہیںملتاہے۔
حکیم مولوی فقیراللہ
حکیم مولوی فقیراللہ ابن وزیرعلی،علامہ شبلی کے ہم عمر،ہم وطن اوربے تکلف احباب میں تھے، بڑے وجیہ شخص تھے،زمینداری کے کاموںمیںزندگی بسرکی، موضع بندول، دیوابندول اور ککرہی وغیرہ میں ان کی زمینداریاں تھیں۔ (تاریخ بندول :69)مزید حالات معلوم نہ ہوسکے۔
علامہ شبلی اپنے وطنی احباب کے نام خطوط میںان کے اوران کے حالات کے بارے میں دریافت کرتے رہتے ہیں،مولوی حکیم محمدعمرکے نام ایک خط میںلکھتے ہیں:
’’نہ جانے مولوی فقیراللہ کی ناراضی کی کیاوجہ ہے؟انھوںنے دوماہ سے مجھے خط تک نہیں لکھا۔‘‘(اردوترجمہ مکاتیب شبلی21)
مولوی محمدعمرکے نام ایک خط میںلکھتے ہیںکہ:
’’مولوی فقیراللہ کونہ جانے کیاہوگیاہے، گھر بارلٹابیٹھے ہیںاوربے فائدہ قسم کے ہنرحاصل کرنے کے درپے ہیں۔دوری کی وجہ سے میری جان پر بن گئی ہے۔دیکھیے اس یگانہ روزگارکے دیدار سے کب دل شادہوتا ہے۔؟ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی29)
علی گڑھ کے ابتدائی زمانہ قیام میںعلامہ شبلی کوجب وطن سے دوری گراںگذرتی تو اس موقع پر بھی وہ مولوی حکیم فقیراللہ کویادکرتے۔مولوی محمدسمیع کوایک خط میںلکھتے ہیں:
’’ تمھارا خط پہنچا، آنکھیں بھر آئیں، جیسا کہ تم نے لکھا ہے، جوں جوں زمانۂ فراق بڑھتا جاتا ہے، دل کو صبر آتا جاتا ہے، جہاں تک میرا معاملہ ہے تم جانتے ہی ہو کہ جو دِن طلوع ہوتا ہے، درد و غم میں اضافے کا باعث بنتا ہے، لیکن کیا کِیا جا سکتا ہے کہ کام کئی ایک درپیش ہیں اور زمامِ اختیار میرے ہاتھ میں نہیں،میں جو یہاں ٹھہرا ہوا ہوں اور اس ذلت کو برداشت کر رہا ہوں، نہیں معلوم کہ قضا و قدر کو کیا منظور ہے، چونکہ یہ قصہ طویل ہے اس لیے اس ہرزہ سرائی کے بجاے اب اصل بات کی طرف آتا ہوں کہ نجدیوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے اور حیران ہوں کہ برادرِمکرم مولوی فقیر اللہ صاحب نے بھی ان کا کچھ تدارک کیوں نہیں کیا۔ ‘‘(اردوترجمہ مکاتیب شبلی42)
مولوی حکیم محمدعمرکے نام ایک اورخط میںمولوی حکیم فقیراللہ کی رنجیدگی کاذکرکرتے ہیں اوریہ بھی لکھتے ہیںکہ یاالٰہی!دوستوںکوکیاہوگیاہے کہ انھیں سب خستہ حالوںسے ہمدردی ہے اور شبلی سے بیزاری۔ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی23)
قاضی محمدسلیم
قاضی محمدسلیم غالباًموضع سرائے قاضی ضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے۔علامہ شبلی کے ایک شاگردمولوی قاضی عبدالرحمن حیرت کابھی یہی وطن ہے۔
قاضی محمدسلیم نے1299ھ میںانتقال کیا۔ علامہ شبلی نے ’کہ قاضی محمدسلیم مرد‘سے ان کی تاریخ وفات نکالی۔مولوی محمد عمر کے نام ایک خط میں ان کے متعلق علامہ شبلی نے لکھاہے کہ:
’’1299ھ کی بات ہے کہ میں ایک دِن برادر قاضی محمد سلیم کی عیادت کو گیا مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ دیر بعد وہ کہنے لگے ’آج رات میں نے خواب میں دیکھاکہ تم نے میرے متعلق چند اشعار موزوں کیے ہیں۔اگرچہ مجھے اندازہ تھا کہ یہ محض فضول سی بات ہے لیکن جب اگلے دِن ان کی تاریخ وفات کی جستجو کی تو از خود یہ بات دِل میں آ گئی، ہرچند میں نے اپنے تئیں اس سے باز رہنے کی کوشش کی، کیونکہ یہ بجاے خود ایک بدشگونی تھی تاہم نہ چاہتے ہوئے بھی مصرعِ تاریخ خود بخود موزوں ہو گیا،حالانکہ ممدوح کی کہی ہوئی بات میرے ذہن میں نہیں تھی۔ اُن کا خواب دوسرے روز بھی مجھے یاد آتا رہا اور اس واقعے نے مجھ پر عجب کیفیت طاری کر دی۔
ایک ہفتے بعد انھوںنے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ ان کے رویاے صادقہ پر مجھے سخت تعجب ہوا اور یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ کچھ ایسے ہی لوگ عالمِ قدس کے راز دار ہوتے ہیں، جہاں پر وہم و گماں کی پرواز بھی محال ہوتی ہے، جیسا کہ اس شعر میں مذکور ہے:
چون خواستم ز پیر خرد سال مرگ او
از رُوے درد گفت ’کہ قاضی سلیم مرد
(مکاتیب شبلی:2؍214)
مولوی محمدسعیدوکیل
مولوی محمدسعیدوکیل علامہ شبلی کے ہم وطن اورخاندان کے تھے۔بعدمیں اعظم گڑھ شہر کے محلہ معتبرگنج میںآباد ہوگئے تھے اوراپنامکان بھی تعمیر کرا لیا تھا، جس میںان کے ورثاآج بھی آباد ہیں۔ سپاس نامہ اعظم گڑھ پران کے بھی دستخط ہیں۔متعددخطوں میںان کاذکر آیا ہے۔ مولوی محمدسمیع کے نام علامہ شبلی کاایک دلچسپ خط جس میں اپنے بزرگوںاوربھائیوںکے ساتھ احباب کاذکرکیاہے، یہاں نقل کرنا خالی ازدلچسپی نہ ہوگا۔وہ لکھتے ہیں:
’’بھئی سب نے خط نہ لکھنے کی قسم کھالی ہے یاکسی منت پرروزئہ سکوت رکھاہے، آخربات کیاہے،مولوی عمرصاحب الگ دم بخودہیں، تم جدا خاموش ہو،مہدی نے اعظم گڑھ پہنچنے کی رسیدتک نہیںلکھی، والدقبلہ کو کام سے کہاں فرصت،اس مہنگی میںبھائی مولوی محمدسعیدصاحب کی دو سطریں اگرچہ صرف مطلب کی ہیں غنیمت معلوم ہوئیں،کیاسنسان کاعالم ہے، گویا ان تلوں میں تیل ہی نہ تھا، خیر شکایت کیوں کیجیے، دوسرے پرزور کیا،جب گھر بارچھوٹے عزیز آشناچھوٹے،تو غربت میںکوئی کیوں کسی کا ساتھ دے، لو صبرآگیا۔‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍79)
مولوی سعیدصاحب اعظم گڑھ کے ان لوگوںمیںتھے جومسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے رکن تھے اوراس کے سالانہ جلسوںمیںمالی مددبھی کرتے تھے،اسی طرح تحریک ندوہ کے ابتدائی دورمیں شیخ حبیب اللہ کے ساتھ انھوںنے بھی اس کا تعاون کیا۔
بعدمیںخاندانی ناچاقی کے ایک واقعہ سے جس میںفوج داری کامقدمہ قائم ہوگیاتھا اور جس کا ذکر مہدی حسن بیرسٹرکے مکاتیب لندن میںبھی آیاہے، اس وجہ بے تکلفی باقی نہیں رہی، اس کے بعد شاید انھوں نے نیشنل اسکول اعظم گڑھ کاتعاون بھی بندکردیاتھا،ایک خط میں علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ’’ بھائی سعیدبھی مدت سے اسکول کو کچھ نہیںدیتے۔‘‘(مکاتیب شبلی:1؍33 )
مولوی مرزامحمدسلیم
مولوی مرزا محمد سلیم (م:19فروری1923) وکیل، فاضل دیوبندتھے،موضع مسلم پٹی ضلع اعظم گڑھ کے ایک زمیندار اور بڑے با اثر شخص تھے،علامہ شبلی کودارالعلوم دیوبندمیںتحصیل علم کے لیے انہی نے آمادہ کیاتھااوروہ دیوبندگئے بھی تھے، مگرجلدہی لوٹ آئے اوردرس میں شامل نہیں ہوئے،علامہ نے انھیں ایک خط میں’مایہ فخر وناز‘ لکھاہے۔(مکاتیب شبلی:1؍77)
قومی وملی معاملات سے دلچسپی رکھتے تھے، مدرسۃالا صلاح سرائے میرکے رکن تھے اور اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے،دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعدالہ آبادیونیورسٹی سے وکالت کا امتحان پاس کیا اور اعظم گڑھ میںوکالت کا مشغلہ اختیار کیا، علامہ شبلی کے والدشیخ حبیب اللہ ہی کی طرح ان کا شمار بھی اعظم گڑھ کے بڑے کامیاب وکلا میں ہوتاتھااوریہ بھی کہا جاتا ہے کہ مرزا محمد سلیم صاحب بہت باصلاحیت شخص تھے اور یہ بھی کہ وکالت نے ان کے علم وفضل کو بہت نقصان پہنچایا، ان کے نام علامہ شبلی کے 6؍ خطوط مکاتیب شبلی کی اشاعت کے بعددستیاب ہوئے جواب ناچیزکی مرتبہ کتاب’ مکتوبات شبلی‘ میں شامل ہیں۔
مولوی مرزامحمدسلیم شبلی نیشنل کالج کی سوسائٹی ’دی اعظم گڑھ مسلم ایجوکیشن سوسائٹی‘ کے رکن اساسی تھے اورصدربھی رہے۔اپنی قیمتی جائیداد بھی انھوںنے شبلی کالج پر وقف کی اورہمیشہ اس کے خیرخواہ رہے، مرزا سلطان احمد بیگ(ایم اے،ایل ایل بی)آئی سی ایس ڈپٹی کلکٹرانہی کے صاحبزادے تھے، جوڈیشیل ممبر بورڈ آف ریونیوکے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔مولوی مرزا محمد سلیم کے دوسرے صاحبزادے نامورشاعراورادیب وانشاپرداز مرزا احسان احمدتھے۔
مثنوی’صبح امید‘کادام دینے والوںکی فہرست میںایک نام مولوی مرزامحمدسلیم کابھی ہے،اسی طرح علامہ شبلی نے اپنی تصویرکے خریدنے والوںمیںبھی ان کانام لکھاہے۔
مولوی محمدسلیم سمروی
مولوی محمدسلیم سمروی علامہ شبلی کے بچپن کے احباب میںتھے،وہ جب 1879 بستی میں وکالت کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے، جسے علامہ شبلی نے اپنی بدنصیبی سے تعبیرکیاہے،اس وقت مولوی محمدسلیم سمروی بھی ان کے ساتھ تھے،دونوںکے درمیان بے تکلفی کا اندازہ علامہ شبلی کے اس جملے سے لگایاجاسکتاہے کہ’’مولوی محمدسلیم سمروی ہنی مون منارہے ہوںگے۔‘‘(اردو ترجمہ مکاتیب شبلی21)
ایک اورخط سے معلوم ہوتاہے کہ ضلع بستی میں وکالت کی تیاری کے زمانے میں مولوی محمدسلیم نندانوی اورسلیم سمروی ان کے ساتھ ہی وکالت کے امتحان کی تیاریاںکررہے تھے۔ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی29)
مولوی محمدسلیم مرزاپوری
یہ موضع مرزاپورضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے،علامہ شبلی کے بچپن کے احباب میں ان کانام بھی ملتاہے۔لیکن تفصیلات دستیاب نہیںہوئیں۔
مولوی محمدسمیع
مولوی محمدسمیع علامہ شبلی کے ابتدائی اوربچپن کے خاص احباب میںاورتلامذہ میں تھے۔ موضع کنورہ گہنی ضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے۔رواج زمانہ کے مطابق عربی وفارسی پڑھی اور جون پورججی میںمحافظ دفتر مقررہوئے،سبکدوشی کے بعد الہ آبادچلے گئے تھے اوروہیں وفات پائی۔ ان کے ورثا اب بھی الہ آباد ہی میں آباد ہیں۔
ان کی دوشادیاں ہوئیں،پہلی بیوی کے انتقال کے بعددوسری شادی غالباًسبرہدکے ایک بزرگ، مولوی محمدکامل ولیدپوری کے مریدوخلیفہ ا لٰہی شاہ کی صاحبزادی سے ہوئی۔مولوی محمدعمر کے نام ایک خط میںعلامہ شبلی نے لکھا ہے کہ:
’’محمدسمیع نے الٰہی شاہ کی دامادی قبول کرلی ہے یانہیں؟ محمد سمیع شروع سے ہی قسمت کادھنی رہاہے،کیونکہ اسے شروع ہی سے فقراکی مکرمت حاصل ہے،اس سے اچھی بات اورکیاہوسکتی ہے کہ پہلی بیوی (کی رحلت کے بعداس ) کانعم البدل مل جائے۔
درکار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست
(اردوترجمہ مکاتیب شبلی28)
لیکن یہ نعم البدل خودعلامہ شبلی کے حصے میںبھی نہیںآیاتھا۔پہلی بیوی مجیدن بی بی کے 1895میں انتقال کے پانچ سال بعدڈاکٹرمصطفی خاںکے مشورے پردوسرانکاح کیامگروہ بھی ساتھ نہ نبھا سکیں اور1905 میںانتقال کرگئیں۔علامہ شبلی کواپنی زندگی کے آخری دس سال تجرد میں گذارنے پڑے۔
مولوی محمدسمیع کے پاس علامہ شبلی کاابتدائی دور کا کلام اورخطوط وغیرہ محفوظ تھے۔ ان کی تدوین کے وقت یہ سرمایہ انھوںنے جانشین شبلی مولانا سید سلیمان ندوی کے حوالے کیا تھا۔سید صاحب نے بھی اس کاذکرکیاہے۔
مولوی محمدسمیع کی والدہ کاجنوری1886 میںانتقال ہواتو علامہ شبلی نے تعزیت کی۔ اس سانحے کا اثرخودعلامہ شبلی کی ذات پربھی پڑا۔سیدسخی احمدہاشمی جنھوںنے مکاتیب شبلی کاانتہائی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا،وہ اس نتیجے پرپہنچے ہیںکہ:
’’مولانا(شبلی)کومولوی سمیع سے بڑی محبت تھی اورمولوی سمیع کوبھی مولاناسے بڑی عقیدت تھی،لہٰذا مولاناان کے خط نہ لکھنے پرکبھی ناراض ہوتے، کبھی طنز کرتے تھے اور کبھی چمکارتے، چنانچہ ادھرعرصے سے ان کاخط نہیںآیاتھا اس لیے پریشان تھے۔‘‘
(شبلی کاذہنی ارتقا،ص83-84)
علامہ شبلی کادوسرانکاح مولوی محمدسمیع کی ماموںزادبہن سے ہواتھا۔ان کے والدکا نام محمدنعیم تھا اوروہ موضع خاص ڈیہہ ضلع اعظم گڑھ کی رہنے والی تھیں۔ 1905 میںانہی کے انتقال کے موقع پر مولانا ابوالکلام آزاد (1888-1958) اچانک بندول پہنچے تھے اورجنازہ وتدفین میں شرکت کی تھی۔اسی حادثہ شبلی کے بارے میں مولاناابوالکلام آزاد نے لکھاہے کہ بیوی کے انتقال پر علامہ شبلی دھاڑیں مار مارکر روئے۔ بلاشبہ علامہ شبلی کی زندگی کایہ ایک بڑاسانحہ تھا۔
علامہ شبلی نے اسی عزیزانہ تعلق کے بناپر اپنے صاحبزادے حامدنعمانی کومشورہ دیاکہ تم جون پور میںمحمدسمیع کے پاس قیام کرو۔(مکتوبات شبلی277)
مولوی محمدسمیع علامہ شبلی کے قائم کردہ نیشنل اسکول اعظم گڑھ کے ایک ذمے دارتھے۔ علامہ شبلی نے انھیں متعددذمے داریاںسونپیں۔بعدازوفات بھی مختلف مناصب پرکام کیا۔ان کے بیٹے مختار احمد تھے جو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں وکالت کرتے تھے۔وہ بھی شبلی نیشنل پی جی کالج اعظم گڑھ کے مختلف عہدوں پرفائزرہے۔
علامہ شبلی نے اس مقدمہ کوبھی حل کراناچاہاجوعلامہ حمیدالدین فراہی(1864-1930) کے والدشیخ قربان قنبرانصاری وکیل اور ان کے رشتے داروںصدرالدین وغیرہ کے درمیان قائم ہوا تھااورتنازعہ کاسبب بناتھا،چونکہ فریق ثانی کا کہناتھاکہ اگرزمین اس کی ملکیت نہ ہوتووہ دست بردار ہوجائے گا۔ علامہ شبلی چاہتے تھے کہ جائے وقوع پرپہنچ کراورصحیح معلومات حاصل کرکے فیصلہ کیا جائے۔
(مکاتیب شبلی:1؍75،10 مارچ1886)
چنانچہ علامہ شبلی نعمانی اس مقدمے کے تصفیہ کے لیے مولوی محمدسمیع کے ہمراہ موضع فریہا گئے۔ (ایضاً :1؍94-96)لیکن معاملہ بن نہیں سکا۔ بالآخر علامہ حمیدالدین فراہی کی تاریخی شہادت سے ان کے والد کو شکست اورفریق ثانی جوان کے قریبی عزیزتھے کامیابی ملی۔اس سلسلے میںایک زبانی روایت راقم نے سن رکھی ہے کہ علامہ فراہی کے والدان کی شہادت سے سخت ناراض ہوئے اور گھربارچھوڑکر شہرکی مسجددلال گھاٹ میںمقیم ہوئے،چنانچہ بیٹے کی حیثیت سے والدکوگھر لانے اور منانے کے لیے علامہ فراہی ان کی خدمت میںحاضرہوئے اوروالدصاحب سے بڑی لجاجت سے کہاکہ اباجان بظاہرآپ کی اورہماری شکست ہوئی ہے، لیکن سچ تویہ ہے ہم کامیاب ہوئے ہیں اوراللہ تعالی نے مجھے اورآپ کوبلکہ آنے والی نسلوںکوبھی دوزخ کی آگ سے بچالیا ہے اورپھر والد کو راضی کرکے گھرلے آئے۔
علامہ شبلی نعمانی کے موضع فریہاکے اس سفرمیںمولوی محمدسمیع شامل تھے۔علاوہ ازیں دوسرے علاقائی اسفارمیںبھی وہ اکثرساتھ رہاکرتے تھے۔
علامہ شبلی کومولوی محمدعمراورمولوی محمدسمیع سے یہ بھی توقع ہوگئی تھی کہ’’سال بھرمیںپنشن لے لیں گے اوریہ لوگ بورڈنگ یامدرسہ کے قیام وترقی کے متعلق اپناکافی وقت دے سکیںگے۔ دراصل آخر میں علامہ کوبورڈنگ قائم کرنے کاخیال پیداہوگیاتھاتاکہ بچوںکی تربیت ہوسکے، ان کی زندگی میں گو بورڈنگ قائم نہیںہوسکا،تاہم بعدمیںکرائے پرایک عمارت لے کراسے بچوں کے لیے بورڈنگ ہائوس بنایاگیاجس میںقرب وجوارکے طلبہ رہاکرتے تھے،اس کے آخری ذمے دار مرحوم عبدالمنان ہلالی (م:2024) تھے۔
مکاتیب شبلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولوی محمدسمیع کو اردووفارسی شعرو ادب کابڑاعمدہ ذوق تھا اوروہ اس کے بڑے اداشناس تھے اور خاص طورپر علامہ شبلی کی شاعری کے بڑے مداحوں اور قدردانوں میں تھے، غالباً یہی وجہ ہے کہ انھوں نے علامہ شبلی کے کلام اور خطوط وغیرہ کو محفوظ رکھا، ان کی متعدد غزلوں کے علاوہ نامہ شبلی ایک بڑی تعدادمیںمحفوظ تھے۔کچھ بعدمیںدریافت ہوئے۔ ان کے نام علامہ شبلی کے 57 ؍ خطوط مکاتیب شبلی میںاوردو خطوط مکتوبات شبلی میں شامل ہیں۔ان سے علامہ شبلی سے ان کی قربت اورمحبت کابخوبی اندازہ ہوتا ہے اوران کی کوشوںپربھی روشنی پڑتی ہے۔
ایک خط میںعلامہ شبلی نے مولوی محمدسمیع کومشورہ دیاکہ وہ مضمون نگاری کیاکریں،اس طرح مضمون لکھنے کی مشق ہوجائے گی اوراس کوآفتاب اخبارمیںشائع بھی کرادیاکریں۔میں اصلاح دینے کے لیے تیارہوں۔اسی طرح نظیرمحمدکامضمون آفتاب ہندمیںدیکھ کر مولوی محمدسمیع کے نام خط میںاس کا ذکرچھیڑااورپھرمضمون نگاری کی طرف متوجہ کیا۔
مولوی محمدسمیع کے ایک چھوٹے بھائی ضامن علی تھے۔ ان کوعلامہ شبلی نے اپنے ساتھ رکھ کر ایم اے اوکالج علی گڑھ میں تعلیم دلائی تھی،کبھی کبھی ان کے اخراجات بھی وہ خودہی ادا کرتے تھے۔ مکاتیب شبلی میں ان کا ذکربھی متعددمقامات پرملتاہے۔
علامہ شبلی نے اعظم گڑھ کے مسلمانوںکی علمی وتعلیمی ترقی اوراس کے سالانہ جائزے کے لیے ’مجلس موازنہ ترقی قومی‘ قائم کی تھی۔اس کے سالانہ جلسے ہوتے اوررودادیںبھی تیار کی جاتی تھیں۔ علامہ شبلی نے مولوی محمدسمیع کو اس مجلس کا سکریٹری نامزدکیا تھا۔انھوںنے نہایت محنت و توجہ اور مستعدی سے یہ کام انجام دیا۔علامہ نے ایک خط میںلکھاہے کہ ’’تمھاری محنت اورتحقیق کا میں جلسہ میں خاص طرح پراظہارکروںگا۔ ‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍100)
اس کی رودادبھی مولوی محمدسمیع ہی مرتب کیاکرتے تھے۔مگرآج تک ایک رودادبھی دستیاب نہیںہوئی۔
علامہ شبلی کوان سے بے حدلگائوتھا۔خطوط شبلی بنام مولوی محمدسمیع سے بھی واضح ہوتا ہے کہ دونوں میں بڑے گہرے تعلقات تھے، وفات شبلی کے بعدبیاض شبلی اورخطوط شبلی وغیرہ کا ایک اہم ذخیرہ انھوںنے جانشین شبلی مولاناسیدسلیمان ندوی کے حوالے کیا تھا جو’ کلیات شبلی‘ اور ’مکاتیب شبلی ‘ میںشامل ہوا۔
مکاتیب شبلی کی ترتیب کے وقت یعنی 1916 میںوہ جون پورمیںمحافظ دفترتھے، اس کے بعد کے ان کے حالات بالکل معلوم نہیںکہ کب تک اس عہدے پرفائزرہے،کب سبک دوش ہوئے اورکہاں اور کب وفات پائی اورکہاںمدفون ہیں، البتہ ان کے صاحبزادے محمدمختار صاحب ہائی کورٹ الہ آبادمیں وکیل یامحررتھے،وہ الہ آبادمیںمستقل آبادہوگئے تھے،ان کے پوتے وغیرہ اب بھی وہیں سکونت پذیر ہیں، الہ آبادکے ڈاکٹرنثاراحمدانہی کے پوتے ہیں۔یہ باتیںچیدہ چیدہ لوگوںسے معلوم ہوئیں۔
مولوی محمدسمیع کے نام مکاتیب شبلی حصہ دوم میں چند فارسی خطوط بھی شامل ہیںجن کا اردو ترجمہ ڈاکٹر خالدندیم کی کتاب’اردوترجمہ مکاتیب شبلی‘ میں شامل ہے،ان خطوط میں علامہ شبلی کے ابتدائی، ذاتی اورخانگی احوال زیادہ آئے ہیں،جنھیں علامہ شبلی کے ابتدائی اور ذاتی قسم کے احوال سے دلچسپی ہو انھیں مولوی محمدسمیع اورمولوی محمدعمرکے نام کے خطوط کامطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ناچیزنے بھی ان فارسی خطوط کے مطالعے پرمشتمل ایک کتاب’علامہ شبلی کے فارسی خطوط: ایک مطالعہ‘کے عنوان سے لکھی ہے۔
علامہ شبلی نے بعض خطوط میںغالب کاتتبع کیاہے،اس سلسلے کاایک معروف خط میں انہی مولوی محمدسمیع کے نام ہے۔ علامہ شبلی لکھتے ہیں:
’’بھئی کچھ سنا ہے،( محمد سمیع )خیر تو ہے، ہاں! ایک تازہ واقعہ ہے، میاں شبلی کا انتقال ہو گیا، (محمد سمیع )ارے سچ نہیں جھوٹ ہوگا، ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا ان کا ایک خط میرے نام آیا تھا،(مولوی محمد عمر صاحب ) لو تم نے آج سنا ہے، اجی اس کوتو کئی دن ہوئے، انھوں نے جو کتابیں بھیجی تھیں اس کی رسید بھی تو میں نے اسی وجہ سے نہیں دی ( محمد سمیع ) انا للہ،افسوس ابھی مرنے کے کوئی دن نہ تھے، (حمید ) ہاں! واقعی سخت رنج ہے، مگر تقدیر سے کس کا زور چلتا ہے، (اور دبی زبان سے) ارے میاں چلو قصہ پاک ہوا،آئے دن کی حکومتوں سے ناک میں دم آگیا، بھلا روئداد خیر ایک بار کا کام تھا لکھ بھی لیا اب روز روز مدرسے میں لڑکوں کو مسودہ لکھاتے پھرو، اس پر طرہ یہ کہ ہفتہ وار مدرسہ کی رپورٹ لکھ کر ان کے پاس بھیجتے رہو، اچھی خاصی بیگاری بھگتا کرو۔ (عبدالغفور) ارے میاں! خیر مرنا تو سب کے لیے ہے، ہاں ان کے خط کا جواب رہ گیا، مگر یہ بھی کوئی زبردستی ہے، جی نہ چاہے تو مفت کی محنت کون گوارا کرے (حافظ علی حسن ) لو ا ب کی ان کو خط لکھتے لکھتے رہ گیا، امتحان کا حال لکھنا تھا اور جو کچھ ہو آدمی تو مزے کا تھا، دوگھڑی کیفیت رہتی تھی، (مولوی محمد عمر صاحب) بھئی کیا کہیے دل لگی ہی جاتی رہی اور تو کس کام کا آدمی تھا مگر ہاں ذرا جی بہل جایا کرتا تھا۔ (مولوی احمد اللہ) اجی !جی کیا بہلتا تھا، دنیا بھر کی شکایتیں ہوا کرتی تھیں، کبھی ان کی نقل کی، کبھی ان کا خاکہ اڑایا اور اس کے سوا ان کا کام ہی کیا تھا، چلو اچھا ہوا۔ ‘‘(مکاتیب شبلی :1؍62-63)
مولوی حکیم محمدعمر
مولوی حکیم محمدعمرابن حافظ حسنین وکیل :موضع بندول کے رہنے والے تھے۔مولاناسید سلیمان ندوی نے ان کے بارے میں لکھاہے کہ:
’’مولانا(شبلی) کے ہم تعلیم وہم صحبت اورعہدشباب کے دوست، اعظم گڑھ میں محافظ دفتر ہیںاورنیزمطب کرتے ہیں۔ مدرسہ دیوبند میںتعلیم پائی ہے۔‘‘ (مکاتیب شبلی :1؍54)
مولاناسیدسلیمان ندوی نے علامہ کے بچپن کے دوست کی حیثیت سے ان کاذکرکیا ہے اوران سے علامہ شبلی کے بچپن کے متعلق بعض حالات وواقعات بھی نقل کیے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:
’’مولوی محمدعمرصاحب بزرگان قدیم کی ایک عمدہ یادگارتھے، وہ مولانا مرحوم کے ہم خاندان ہونے کے علاوہ ان کے بچپن کے دوست تھے،وہ برسبیل تذکرہ ایک روز فرماتے تھے کہ مولانامیںادبی مذاق بھی بچپن ہی سے تھا، اس زمانے میںجب وہ محض مبتدی تھے،کوئی اچھی نظم دیکھتے تواس کے پڑھنے کے لیے بے تاب ہوجاتے اورکوئی اچھا شعرسنتے توان کووجد آجاتا۔
وہ خودمجھ سے فرماتے تھے کہ بچپن میں وہ فرصت کے اوقات شہرکے ایک کتب فروش کی دکان پر بسرکرتے تھے، کتابیںالٹتے پلٹتے اورشعراکے دیوان پڑھتے اورمناسبت طبع سے ان کے اچھے اشعاریادرہ جاتے تھے۔‘‘(حیات شبلی131-32)
ان کی علامہ شبلی سے بڑی بے تکلفی تھی،ایک خط میںلکھاہے کہ:
’’یاالٰہی!دوستوںکوکیا ہوگیاہے کہ انھیں سب خستہ حالوںسے ہمدردی ہے مگرشبلی کتنا بدنصیب ہے کہ مولوی محمدعمرصاحب جیسادوست بھی اس سے بیزارہے، تاہم میری زبان پریہی دعاہے کہ آپ کاشبلی رہے نہ رہے، آپ سب عافیت سے رہیں۔‘‘
(اردوترجمہ مکاتیب شبلی23)
ان کے نام علامہ شبلی کے تین اردوخطوط مکاتیب شبلی حصہ اول میںاورتین فارسی خطوط مکاتیب شبلی حصہ دوم میںشامل ہیں۔ان کے نام علامہ شبلی کادرج ذیل خط ایک یادگارخط ہے:
برادرمکرما،فخرما، مقتداے ما!
اس وقت مجھ سے نہ میری طبیعت کاحال پوچھیے، نہ کوئی اور واقعہ، آپ سنیے اور میں دل سے اٹھتے ہوئے جوش سے ایک تازہ کیفیت سناؤں، یوں تو مدرسۃ العلوم کے قواعد میں داخل ہے کہ لڑکے مغرب کی نمازجماعت سے پڑھیں مگران دنوں ہوا کا رخ ہی بدل گیاہے، لڑکوں نے خود ایک مجلس قائم کی ہے جس کو وہ لجنۃالصلوٰۃکہتے ہیں، ایک بی۔اے۔ سکریٹری ہے اور بہت سے تعلیم یافتہ اس کے ممبرہیں۔ چار بجے صبح کے بعد ایک نوجوان انگریزی خواں لوگوں کو پر اثر فقرے سے چونکادیتاہے، الصلوٰۃ خیر من النوم، پانچوں وقت کی نمازیں بجماعت ہوتی ہیں اور لطف یہ کہ محض اپنی خواہش سے، بیرونی دباؤکانام بھی نہیں۔
مغرب کی نماز سبحان اللہ!کیاشان و شوکت ہوتی ہے کہ بس دل پھٹا پڑتا ہے، خود سیدصاحب بھی شریک نماز ہوتے ہیں اور چونکہ وہ عامل بالحدیث ہیں آمین زور سے کہتے ہیں، ان کی آمین کی گونج مذہبی جوش کی رگ میں خون بڑھا دیتی ہے، میں کبھی کبھی اسلام پر لکچردیتاہوں، مسجدبننے کی تیاری ہے، سید محمود صاحب کی سرگرمی نے اس کے پیمانۂ تعمیر کو نہایت وسیع کردیا ہے، وہ مہتمم خاص ہیں اور تین ہزار چندہ خود دیںگے، میں بھی … دیے ہیں، سید محمود صاحب خود ہاتھ میں پھاوڑالیںگے اور مسجد کی نیو کھودیں گے، لاگت کا تخمینہ ساٹھ سترہزار روپیہ ہے۔مجھ کو اس بات کا فخرحاصل ہے کہ اس نئی زندگی کے پیدا ہونے میں میرا بھی حصہ ہے اور اس جوش مذہبی کا برانگیختہ کرنا میری قسمت میں بھی تھا۔ ‘‘(مکاتیب شبلی:1؍54-55)
غالباًحکیم محمدعمر نیشنل اسکول کے بھی ذمے دارتھے،اس لیے کہ ایک طالب علم محمدشریف پر کسی وجہ سے جرمانہ عائدہوا،علامہ شبلی نے مولوی محمدسمیع کے نام ایک خط میںلکھاہے کہ:
’’ہاںمحمدشریف پرجوجرمانہ ہواوہ ضروروصول ہو، ورنہ اس کومدرسے میںآنے کی اجازت نہ ہو،مکرمی مولوی محمدعمرصاحب کی خدمت میںمیری یہ عرض پیش کردینا۔‘‘
(مکاتیب شبلی:1؍58)
علی گڑھ سے مولوی محمدعمرکو کتاب بھیجتے ہیںاوروہ رسیدنہیںدیتے تولکھتے ہیں کہ:
’’جناب مولوی محمدعمرصاحب کی کوتاہ قلمی کی کیاشکایت کروں، کتابوں کی رسیدتک نہ آئی۔‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍68)
علامہ شبلی کااس زمانے کاایک بہت مشہورخط ہے، جس میںایک خیالی مجلس منعقدکی گئی ہے اور جس میںاحباب کی زبان سے اپنے متعلق خیالات اداکیے ہیں،اس میںبھی مولوی محمدعمر صاحب شامل ہیں،ان کافقرہ یہ ہے:
(مولوی محمدعمرصاحب)لوتم نے آج سناہے۔اجی اس(شبلی کے انتقال) کوتو کئی دن ہوگئے۔انھوںنے جوکتابیںبھیجی تھیںاس کی رسیدبھی تو میںنے اسی وجہ سے نہیںدی۔‘‘(مکاتیب شبلی:1؍69)
اس مجلس میںانھوںنے اوربھی حصہ لیاہے،فرماتے ہیں:بھئی کیاکہیے دل لگی ہی جاتی رہی اورتوکس کام کاآدمی تھا،مگرہاںذراجی بہل جایاکرتاتھا۔(ایضاً)
علامہ نیشنل اسکول کے معاملات بھی ان کے ذمے کرتے رہتے تھے،ایک خط میںجو مولوی محمدسمیع کے نام ہے لکھاہے کہ’’تعلیم کے متعلق جوشکایت مدرس فارسی کی ہواس کومولوی محمد عمر صاحب بآسانی مدرس فارسی سے طے کرسکتے ہیں،مولوی صاحب سے تم عرض کردینا۔‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍70)
اس خط سے یہ واضح ہوتاہے کہ مولوی محمدعمرکی استعدادفارسی اس قدرتھی کہ وہ تعلیم کے معاملات حل کرسکتے تھے۔
اس کے بعدفروری1884 کے خط میںان کے تغافل کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’جناب مولوی محمدصاحب سے اس تغافل کی امیدنہ تھی،معلوم نہیں میںنے ایسی کیاخطاکی ہے، روئدادیںوغیرہ کیوںکرمرتب ہوئیں،کچھ عقدہ ہی نہیں کھلتا۔‘‘
(مکاتیب شبلی:1؍71)
مولوی محمدسمیع ہی کے نام ایک خط میںمولوی محمدعمرکواس لیے یادکرتے ہیںکہ نیشنل اسکول کو پرائمری سے آگے بڑھاکرمڈل کرناتھااوراس کی ذمے داری مولوی محمدکے ذمے دینی تھی، چنانچہ دریافت کرتے ہیںکہ ’’مخدومی مولوی محمدعمرصاحب نے مڈل کی تیاری شروع کردی یا امروزو فرداہے۔‘‘
(مکاتیب شبلی: 1؍73)
وطن سے احباب کے خط نہ آنے کاعلامہ کودکھ ہوتا ہے۔مولوی محمدسمیع کولکھتے ہیں:
عزیزمن!
مدت سے کوئی خط نہیںآیا،ہمارے مولوی محمدعمرصاحب تو:ع
گویا کہ ان تلوں میںکبھی تیل ہی نہ تھا
(مکاتیب شبلی:1؍75)
اس کے بعدکے خط میںپھرخط نہ لکھنے کی شکایت ان الفاظ میںکرتے ہیں’’مکرمی مولوی محمد عمر صاحب کیاخطوںکاجواب نہیںدیتے تو سلام کاجواب بھی نہ دیںگے۔‘‘ (ایضاً:1 ؍77)
علامہ شبلی نعمانی نومبر1884 میںمولوی محمدسمیع کے خط میںمولوی محمدعمرسے چندہ کے متعلق مشورہ کرکے رائے مانگتے ہیںاوریہ بھی لکھتے ہیںکہ اگرضرورت ہوتومیںآسکتاہوں۔(مکاتیب شبلی : 1 ؍ 78 )
مولوی محمدسمیع کے نام ایک خط میںسلام لکھتے ہیںتودوسرے خط میںمولوی محمدعمرکے خط سے مولوی محمدسمیع کی والدہ کے انتقال کی خبرملنے پررنجیدہ ہوتے ہیںاورلکھتے ہیں:
’’برادرمکرم مولوی محمدعمرصاحب کے خط سے معلوم ہواکہ تمھاری والدہ کا انتقال ہوگیا، اناللہ واناالیہ راجعون، بھائی یہ خط لکھ کرمیں تمھاراغم تازہ کرنا نہیں چاہتا، میںاس دردسے خوب واقف ہوں،اگرتمہیںصبرآگیا ہوتو وہ بھی ایک مجبوری ہے، ورنہ آدمی کاجگراوریہ صدمہ۔ع
ایں غم آنمایہ بناشد کہ کسے برادر
مگرآخرکیاچارہ ہے ع
شاد باید زیستن ناشاد باید زیستن
اب تم پورے یتیم ہواورسچ تویہ ہے کہ سخت رحم کے قابل ہو، بھائی جو لوگ باپ ماںکااس لیے ماتم کرتے ہیںکہ وہ دنیاوی فائدوںکے مرکز تھے، ان بے دردوں کا مذکور نہیں، ان کے دل سے پوچھیے جووالدین کی جھڑکیوں میں بھی دوسروں کے مرحبا سے زیادہ مزہ پاتے ہیں،جن کووالدین کے طمانچے بھی اصلی ہمدردی کی یادگار بن کر سامنے آتے ہیں،جن کویہ خیال بے چین کردیتاہے ہائے وہ کیاہوئے جوہماری تکلیفوںمیں ہم سے زیادہ تڑپ جاتے تھے،بھائی یہ لوگ قسمت سے ساتھ رہتے ہیں اور گئے توپھر اپناقائم مقام بھی چھوڑجاتے ہیں ہائے یہ خیال اورستاتاہے کہ ان کی روحیں اب بھی چین سے نہیں، ہمارا خیال اب بھی ان کے لیے مایہ آزارہے، خیر میری طرح تمھیںبھی خدا صبر دے۔‘‘ (مکاتیب شبلی:1؍81-82)
نیشنل اسکول اعظم گڑھ کے امتحان کے متعلق لکھتے ہیںکہ پرچے مولوی محمداسحاق بھیجیں گے اور وہی چیک بھی کریںگے، مگرامتحان کی نگرانی کاکام صرف مولوی محمدعمرصاحب کریں گے۔ (مکاتیب شبلی:1؍84)
نیشنل اسکول کے ایک ایک پہلوپرعلامہ نظررکھتے ہیںاورعلی گڑھ سے ایک ایک چیز کی نگرانی کرتے ہیں،خط کے جواب میںذراسی تاخیرہوتی ہے تومتنبہ کرتے ہیں،مولوی محمدسمیع کے نام ایک خط میںلکھتے ہیں۔’’آخرمولوی محمدعمرصاحب کامیںنے کیاکرلیاہے جوضروری عریضہ کا جواب بھی بے پروائی کے حوالہ کرتے ہیں۔‘‘(مکاتیب شبلی:1؍84)
مولوی محمدعمرصاحب کی اپنے محکمہ میںترقی ہوئی تولکھاکہ’’مولوی محمدعمرصاحب کا کارڈ مجھ کو نہیں ملااورنہ توقع ہے کہ ملے،ان کوترقی کی میری طرف سے مبارک باددینی چاہیے،اگرچہ ان کی قابلیت کایہ بہت کم نرخ ہے۔‘‘(مکاتیب شبلی :1؍86)
اس کے بعدمولوی محمدسمیع کے نام کئی خطوںمیںمولوی محمدعمرکوسلام لکھاہے اورایک خط میںیہ بھی لکھاہے کہ مولوی محمدعمرکے نام ایک خط میںعلی گڑھ کی مذہبی حالت لکھی ہے، خط کاوہ حصہ کسی کونہ دکھائیں۔(مکاتیب شبلی:1؍98)
بمبئی کے سفرکامنصوبہ بنتاہے اورمولوی محمدسمیع کولکھتے ہیں:
’’اب کی تعطیل میںضرور بمبئی آئو اورشرط یہ ہے کہ مولوی عمرصاحب کو لیتے آئو، تم نے بمبئی جودیکھی وہ کچھ اورتھی اور اب اور ہے،بہرحال مولوی صاحب کو ضرورآمادہ کرو۔‘‘(مکاتیب شبلی:1؍110)
فارسی خطوط نسبتاًزیادہ معلوماتی ہیں،ان میںابتدائی دورکے احباب کے متعلق متنوع معلومات شامل ہیں،اسی میں1877میںروم وروس کی جنگ کاذکرہے،اس کے متعلق لکھاہے کہ:
’’اللہ کاشکرہے کہ نامرادروسی فوجیںجوعثمان پاشاکے ساتھ برسر پیکار تھیں ان میں سے آٹھ ہزارروسی واصل جہنم ہوئے اور چوبیس ہزارشدید مجروح۔ فتح و ظفرکی ہوائوں سے سلطانی پرچم جھوم رہاہے، اورشاہ روس کا بھائی گرینڈ ڈیوک نکلسن ترک جاں بازوں کے حملے کے ڈرسے میدان چھوڑ بھاگا ہے۔‘‘(اردوترجمہ مکاتیب شبلی21)
ایک خط میںمشاعرے کے انعقاداوراس میںغزل پیش کرنے کابھی ذکرہے۔پھر وہ غزل بھی درج کی ہے۔اس کامطلع یہ ہے ؎
ناتواں عشق نے آخرکیا ایسا ہم کو
غم اٹھانے کابھی باقی نہیں یارا ہم کو
دوسرافارسی خط وکالت کی تیاری کے زمانے کاہے،اس میںعلامہ شبلی کے بچپن کے متعدد احباب کابھی ذکرہے۔مولوی محمدعمرکے بارے میںلکھتے ہیں:
’’یاالٰہی !سب دوستوںکوکیاہوگیاہے کہ انھیںسب خستہ حالوںسے ہمدردی ہے مگرشبلی کتنابدنصیب ہے کہ مولوی محمدعمرصاحب جیسادوست بھی اس سے بیزار ہے تاہم میری زبان پریہی دعاہے کہ آپ کاشبلی رہے نہ رہے،آپ سب خیریت سے رہیں۔‘‘
(اردوترجمہ مکاتیب شبلی21)
1877 کے ایک خط میںروم وروس جنگ میںترکی کے تعاون کے لیے چندہ جمع کرنے کا ذکر ہے کہ دوہزارچھ سو روپے جمع ہوگئے ہیں،قوی امیدہے کہ یہ تین ہزارسے تجاوز کرجائیںگے۔(ایضاً) بالآخرتین ہزارجمع ہوئے اورانھیںعلامہ شبلی نے بمبئی جاکرترک سفیر حسین حسیب آفندی کے حوالے کیا۔
(حیات شبلی152)
مولوی محمدعمر
مولوی محمدعمر:مولاناسیدسلیمان ندوی کی صراحت کے مطابق یہ موضع دیناپارہ اصلاً بینا پارہ ضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے۔ علامہ شبلی کے اعظم گڑھ کے شاگردوں میں تھے۔پہلے قیام بیناپارہ میں تھا، پھرمدرس ہوکرجون پورکے کسی مدرسے میںچلے گئے۔ مزیدحالات معلوم نہ ہوسکے۔ ان کے نام ’ مکاتیب شبلی‘ حصہ دوم میں 8؍ فارسی خطوط شامل ہیں،جن کااردوترجمہ ہوچکاہے۔
علامہ شبلی مولوی محمدعمرکوبہت عزیزرکھتے تھے۔ ایک خط میںان کی دلنوازی ملاحظہ ہو:
’’یاردلنواز!
ایک مدت سے تمھاراخط نہیںآیا۔شایددوستی کارشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ میںتوپہلے ہی بہت پریشان تھا،دوستوںکی چپ نے مجھے اوربے چین کردیا ہے۔ جلدخط لکھوتاکہ معلوم ہو کہ کیاپڑھ رہے ہو اورکیسے گذررہی ہے۔ ان دنوں میںہمہ وقت درس وتدریس میںمصروف ہوں۔‘‘ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی29)
اس ابتدائی دورمیںبھی علامہ شبلی قدیم کتب کی تلاش وجستجومیںمنہمک رہتے تھے۔ دوران حج مدینہ منورہ کے کتب خانوںسے نادرکتب کی تلاش اوران کامطالعہ ان کی کتاب زندگی کاقابل رشک واقعہ ہے۔1881 میںایک خط میںلکھتے ہیں ’’جہاںتک ہوسکے نایاب کتابیں ڈھونڈتے رہنا۔ ظہیر فاریابی (کے دیوان) کامجھے شدت سے انتظارتھا،ابھی تک نہیں پہنچا۔ شاید میرے بختوںکی نارسائی ہے۔‘‘ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی29)
مولوی محمدعمرکے نام خطوط سے علامہ شبلی کی ابتدائی زندگی کے بعض اہم واقعات سامنے آئے۔ حیات شبلی کاوہ حصہ جوعلامہ کے بچپن سے متعلق ہے وہ زیادہ مولوی محمدسمیع اورانہی کے بیانات پرمشتمل ہے۔ ان کے نام ایک خط میںقرق امینی اورنیل کے گودام اوراس کے متعلقات کی نگرانی وغیرہ مذکورہے۔
علامہ نے مولوی محمدعمرکے نام مذکورہ بالاخط میںاپنی مناظراتی سرگرمیوںاوراس سے متعلق جوابی رسائل وغیرہ کی تصنیف کابھی ذکرکیا ہے۔
مولوی محمدعمرکے نام دوخط کسی نامعلوم مسئلہ کے متعلق لکھے گئے ہیں۔دونوںخطوط اتنے اشارے وکنائے میں لکھے گئے ہیںکہ قطعی طورپرکوئی بات کہنایاکوئی رائے قائم کرنامشکل ہے۔ ایک اور خط میں علامہ شبلی سے غازی پورجانے کاعندیہ ظاہرکیااورمشورہ مانگاتوعلامہ نے لکھاکہ ’’غازی پوراچھی جگہ ہے اور وہاںفائدے کی امیدہے۔‘‘
1914 میںدارالمصنّفین قائم ہوا تو یہ زندہ تھے۔اپنی بیاض جس میں علامہ شبلی کا بھی کلام درج تھا مولاناسید سلیمان ندویؒ کے حوالے کی تھی۔بعد میںوہ کیاہوئی کچھ معلوم نہیںہوسکا۔علامہ شبلی سے اس تعلق کے بعدبھی ان کا کہیں ذکر نہیں ملتا، نہ ماہنامہ معارف میںاورنہ ماہنامہ الاصلاح سرائے میر میں۔ موضع بیناپارہ کے لوگ بھی اپنے اس بزرگ سے نا واقف ہیں، ’تذکرہ علمائے اعظم گڑھ‘ میں مولاناحبیب الرحمن اعظمی مرحوم سابق استاذدارالعلوم دیوبند و مدیر ماہنامہ دارالعلوم دیوبندنے بھی ان کا تذکرہ نہیں لکھا ہے۔
علامہ شبلی کے ابتدائی دورکے خطوط مولوی محمدسمیع کے علاوہ مولوی محمد عمر نے بھی سینے سے لگاکرمحفوظ رکھے تھے اورجب اس کی تدوین واشاعت کاموقع آیاتو مدون مکاتیب مولانا سید سلیمان ندوی کے حوالہ کیا، جس سے علامہ شبلی کی ابتدائی زندگی کے احوال تو معلوم ہوتے ہی ہیں ان کی عقیدت شبلی کا بھی اظہار ہوتاہے، ان کے پاس علامہ شبلی کا ابتدائی دور کا کچھ کلام بھی تھا جو انھوں نے ’کلیات شبلی‘ میںشمولیت کے لیے سید صاحب کو فراہم کیا تھا، اس میں خود ان کے نوید شادی پر کہی گئی علامہ شبلی کی ایک نظم بھی شامل ہے۔اس کا پہلا شعریہ ہے ؎
در عیش وطرب باز است امروز
جہان را کار با ساز است امروز
اورخاتمہ اس شعرپرہواہے ؎
ز راہ لطف کار من بسازند
غریبے را باحسانے نوازند
(کلیات شبلی فارسی : 99,100)
ایک بارمولوی محمدعمرنے علامہ شبلی کوخط لکھا۔جواب میںتاخیرہوئی توپہلوتہی کی شکایت کی۔ اس کے جواب میںعلامہ شبلی نے لکھاکہ:
’’خدامیری مغفرت نہ کرے اگرمیںتمہارے معاملے میںپہلو تہی کروں،سچی بات یہ ہے کہ ان دنوںمیرے ہاں آنے کاکوئی فائدہ نہیں۔ ‘‘ (اردوترجمہ مکاتیب شبلی28)
مولوی محمدسمیع کی پہلی بیوی کاانتقال ہوگیاتھا،مولوی محمدعمرکے ایک خط سے علامہ کو معلوم ہواکہ ان کا دوسرانکاح ایک بزرگ الٰہی شاہ (ساکن سبرہد)جن سے علامہ شبلی کے والدشیخ حبیب اللہ بیعت تھے کی صاحبزادی سے ہونا قرار پایاتھا،اس پرعلامہ نے انھیں دھنی بتایاہے کہ:
’’محمدسمیع شروع سے ہی قسمت کادھنی رہا ہے کیونکہ اسے شروع ہی سے فقراکی مکرمت حاصل ہے،اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ پہلی بیوی (کی رحلت کے بعداس)کانعم البدل مل جائے:
درکار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست
(اردوترجمہ مکاتیب شبلی29)
مولوی محمدعمربیناپاروی کے نام مکاتیب شبلی میںفارسی شاعری اورقدماکے فارسی کلام اور دواوین وغیرہ کابھی ذکرآیاہے۔بہرحال اوپرکی سطورمیںعلامہ شبلی کے بچپن کے بیس احباب کا تذکرہ علامہ کے مکاتیب اوران کی سوانح عمری سے تیار کیا گیا ہے،غلطی کے امکان سے کون خود کو مبراقراردے سکتاہے تاہم اگراورمعلومات کسی ذرائع سے حاصل ہوئیںتووہ اس موضوع پر اضافہ ہوں گی۔
Mohammad Ilyas Azmi
641, Shaista Manzil
Pura Gulami (Behind Awas Vikas)
Azamgarh- 276001(UP)
Mob.: 919838573645
azmi408@gmail.com