غنائیہ ڈرامے (لوک ناٹک) کی ابتدا اور ارتقا،مضمون نگار :کنول ڈبائیوی

October 11, 2025 0 Comments 0 tags

یہ حقیقت ہے کہ کل کائنات ہی ایک اسٹیج ہے اور سبھی ذی روح اپنی جگہ پر اداکار ہیں اور کسی زبردست قوی الفطرت ہدایت کار نے ہر ایک ذی روح کا کردار متعین کرکے اُسے دنیا کے اسٹیج پر بھیج دیا ہے اور ہر ذی روح وہی کردار ادا کررہا ہے جو ہدایت کار نے اس کے لیے مقرر کیا ہے اور وہ سب کی اداکاری دیکھ رہا ہے۔
قرآن پاک کی سورہ فاتحہ اور یجر وید کے گائتری منتر کے اشلوکوں میں بھی اس قسم کے اشارے ملتے ہیں جنھیں میں طوالت کی وجہ سے پیش نہیں کررہا ہوں۔ امام غزالی ؒ کی کیمیائے سعادت میں ایک حدیث لکھی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آپ نے جنّت میں پھل کھانے کی غلطی کیوں کی جس سے قیامت تک نسل آدم کو سزا بھگتنی پڑ رہی ہے۔ حضرت آدمؑ نے فرمایا کائنات کے ڈائرکٹر کے لکھے پر میں عمل کرنے پر مجبور تھا۔
مشہور ڈرامانویس اور اداکار شیکسپیئر کے قول کے مطابق دنیا ایک اسٹیج ہے اور انسان ایک اداکار۔ اس کی پیدائش گویا اسٹیج پر آنا ہے۔ اس کی موت اسٹیج سے گزرنا ہے۔ وہ اداکاری میں رفتہ رفتہ اتنا محو ہوجاتا ہے یا اسٹیج کی کشش اس کو اس قدر جذب کرلیتی ہے کہ وہ اپنے سبز کمرے (Green Room) کو فراموش کرکے موجودہ ماحول میں کھوجاتا ہے اور انتہا یہ کہ پارٹ ختم کرنے کے بعد جب اس کو اسٹیج سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ اس کو کہاں منتقل کیا جارہا ہے۔ لطف یہ کہ جب تک وہ سبز کمرے میں تھا اسٹیج سے ناواقف تھا اور جب اسٹیج پر ہے تو سبز کمرے سے بالکل بے خبر ہے۔‘‘
ایک دوسرے محقق نورالٰہی محمدؐ عمر اس موضوع کے لیے دوسرا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنی مشہور تصنیف ’ناٹک ساگر‘ میں فرماتے ہیں:
’’تخلیق آدم کے ساتھ نقالی کی صورت پیدا ہوئی اور انسانی بالیدگی کے پہلو بہ پہلو فن نقالی نے نشو و نما حاصل کی۔ ارسطو کا قول ہے کہ نقالی انسان کی جبلت میں داخل ہے اور اس کا ظہور اس کے بچپن سے ہی ہوتا ہے۔ نقالی کی صورت اور حرکات انسان میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں جن کے ارتقاکا منتہائے کمال ڈراما ہے۔ پس عیاں ہے کہ ڈراما عین فطرت ہے۔ ڈرامے کو فناکرنے کی کوشش فطرت کو دعوت مبارزت دینا ہے۔‘‘
کسی ہندستانی نقاد نے کہا ہے کہ غنائیہ ڈراما ایک ایسی نظم ہے جو دیکھی بھی جاسکے اور سنی بھی جاسکے۔ یہ ہندستانی عوامی ڈرامے یا لوک ناٹک کی بہت جامع تعریف ہے۔ ناٹیہ شاسترکے مصنف بھرت منی نے بھی ڈرامہ نویس یا شاعر کو ناٹیہ شاستر میں ہدایت کی ہے کہ وہ منتخب اور خوش آہنگ الفاظ بلند پایہ اور مرصّع اسلوب جو خطابت اور ترنّم کی خوبیوں سے آراستہ ہو اختیار کرے، چاہے وہ سنسکرت زبان کے ہوں یا علاقائی زبان کے ‘‘ (تاریخ تمدن ہند از ڈاکٹر محمد مجیب ترقی اردو بورڈ)
ناٹیہ شاستر کے مشہور مصنف ڈرامے کے لیے فرماتے ہیں:
اشلوک
لوکو پدنش جنم ناٹیہ مے ند بھو شیتی
نہ تگیا تم نہ تچھلم نہ ساودیانہ ساکلا
نہ سہ لوگو نہ نت کرم ناٹنے امن نن نہ درشنے
باب اوّل ناٹیہ شاستر
ترجمہ: دنیا میں نصیحت پیدا کرنے والا یہی ڈراما (ناٹک) ہوگا ۔ نہ وہ اس کی واقفیت، اس کی تکنیک، نہ وہ علم، نہ وہ فنکاری، نہ وہ اسلوب، نہ وہ افعال، نہ اداکاری ہے جو دیکھی نہ جاسکے۔بھرت منی ڈرامے کے لطیف جذبات، جمالیاتی احساسات اور سکون بخش عناصر کو کافی اہمیت دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
اشلوک
دھرمو دھرم پرورتا نام کا بہہ کا موپسیے و نام
مگر موداد تیستا نام و من کریا
کلی و انام و دھاشٹریہ تسیا ہے شور ماتنا مو
پربودھا نام وبو دھتسے پے وید شیم پی
ایشور نام تسچے استھر دکھا رو و تسیہ جے
ارتھا پ جی و نامر تھو برتی رو دو گراجے تسنام
(ناٹیہ شاستر اشلوک 107-108)
ترجمہ:عمل دین میں پختگی دینے والا (عابد کو زیادہ عابد بنانے والا) عیاش کو عیش پسند بنانے والا، مغرور اور نفس پرست کو جذبات نفسانی پر قابض کردینے والا، مستی کو دبانے والا عمل بتایا ہے۔ حوادث سے ٹکر لینے والا، دلیروں کی حوصلہ افزائی کرنے والا، بیداروں کو زیادہ بیدار کرنے والا، عالموں کو اور زیادہ علمیت دینے والا، شان شوکت رکھنے والوں کو اور زیادہ عیش و مسرت دینے والا، رنجیدہ اشخاص کو سکون بخشنے والا، روزی کے متلاشی کو روزی عطا کرنے والا بتایا ہے۔ ‘‘
( بھارتیہ ناٹیہ ساہتیہ مرتبہ ڈاکٹر نگیندر ص65-67)
سنسکرت کے عظیم ڈرامہ نویس کالی داس بھی ڈرامے کی صنف کی اہمیت بتاتے ہوئے کہتے ہیں:
یہ پوتر سماتک ناٹیم پرتی مدھیا گوروم‘‘ ڈرامہ : مالویکا اگنی متر
ترجمہ: ’’ڈرامے کو ہم زندگی کا مخبر مانتے ہیں، اس پر فخر کرتے ہیں، وہ بے سبب نہیں۔ اس میں کچھ حقیقت ہے۔ اس کی پشت زندگی کی تکمیل کا طریقہ بناوٹ ہے۔ ’نقل ہے۔‘‘ (بھارتیہ ناٹیہ ساہیتہ مضمون ڈاکٹر باسدیو شرماص57-58)
اور اسی ڈرامے میں ایک مقام پر کالی داس کہتا ہے:
’’الگ الگ مزاج رکھنے والے لوگوں کے لیے شاید ناٹک ہی ایک ایسی تقریب ہے جس میں سب کو یکساں لطف ملتا ہے‘‘ (’’مالویکا اگنی متر ‘‘ مترجم عرفان صدیقی)
اور دوسری جگہ اس ڈرامے میں کالی داس ڈرامے کو دیوتائوں کی آنکھوں کو اچھا لگنے والا مقدس عمل بتاتے ہیں۔
ہندوستان میں ڈرامے کو جو کچھ سمجھا گیا ہے اس کے لیے بڑی دلچسپ اور بہت مشہور روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دیوتائوں کو اپنی ہموار اور سپاٹ، بے لطف زندگی سے ایسی اکتاہٹ پیدا ہوئی کہ وہ سب مل کر راجا اندر کے پاس گئے اور اپنی بے کیفی اور بے مزہ زندگی کے لیے کسی دلچسپ مشغلے کے طالب ہوئے۔ راجا اندر نے کہا چلو برہما کے پاس چلیں ممکن ہے کوئی صورت نکالے، چنانچہ سب برہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی عرض داشت پیش کی، برہما نے تھوڑے سے سوچ بچار کے بعد ایک ترکیب نکالی۔ انھوں نے رگ وید سے سرور، یجروید سے حرکات و سکنات، اتھروید سے اظہار جذبات کا طریقہ، سام وید سے گانے لے کر ایک پانچواں وید ترتیب دیا اور اس وید کا نام رکھا۔
لیکن یہ مثال ادبی ڈراموں پر عائد ہوتی ہے عوامی ڈراموں پر نہیں۔ عوامی ڈرامے جیسا کہ اوپر کہا جاچکا ہے کہ انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ شروع ہوئے ۔ ان کا دیومالائی روایت سے کوئی تعلق نہیں۔ زبان کی ارتقا کے ساتھ ساتھ انسان نے چرند پرند اور فطرت سب کی نقلیں اُتارنی شروع کیں اور آہستہ آہستہ ڈرامے کا ارتقا ہوا اور انسان اپنی زندگی کی دلچسپیوں کو دلچسپ تر بنانے کے لیے ڈراموں کا سہارا لینے لگا ۔ ویسے یورپ کے ٹیوٹائی قبائل اور ایشیا کے غیر مہذب قبائل اپنے وحشیانہ ناچ رنگ ڈرامائی انداز میں عہد قدیم سے پیش کرتے تھے۔ ہندستان میں دراوڑ قبائل کی موسیقی اور رقص اور ڈرامے میں سب سے قبل شو، اندر اور ویشنو وغیرہ دیوتائوں کا تصور پایا جاتا تھا۔ جیسے کہ موہن جو داڑو، ہڑپا اور دوسرے دراوڑی تہذیب کے مقامات پر پائے گئے مجسمے اور تام پتروں پر کھینچی ہوئی تصاویر دیکھنے سے پایا جاتا ہے۔ موہن جو داڑو کے کھنڈرات سے نکلی ہوئی شو اور رقاصہ کی تصاویر اور مورتیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دراوڑی دیومالائی تصور بتدریج آریائی قبائل میں دراوڑی دیومالائوں کے ساتھ آیا۔ دراوڑی قبائل اپنے دیوتائوں کے سامنے مقدس رقص اور ڈرامے پیش کرتے تھے۔ ان قدیم رقصوں اور غنائیہ ڈراموں میں کتھا کلی، کتھک، توتوبالم دیوداس رقص وغیرہ ہیں۔ بقول ڈی۔ ڈی۔ کوسمبی ہندوستان میں ڈرامے کی ابتدا یوں تو آریوں سے قبل ہوچکی تھی۔ لیکن ادبی ارتقا آریائی زبان سنسکرت کے طفیل ہوا۔ (قدیم ہندوستان کی ثقافت و تہذیب کا تاریخی پس منظر، ڈی ڈی کوسمبی ص:303)
فن ڈراما کا مشہور مبصر شیگل اپنی تصنیف ’فن ادبیات ڈراما‘ میں لکھتا ہے کہ ’’ہندوستانیوں کی جن کی معاشرتی ذہنی تہذیب قدیم زمانے سے چلی آتی ہے ڈراما اس وقت بھی موجود تھا جب کہ بیرونی ممالک پر اس کے اثر پڑنے کا گمان بھی نہیںہوسکتا۔‘‘ (شاعر بمبئی 33 شمارہ25 مضمون قمر اعظمی ص:28)
ڈاکٹر کیتھ لکھتے ہیں:’’ عوامی ڈرامے سنسکرت کے ناٹکوں سے مختلف تھے۔ سنسکرت کو سمجھنا عام آدمی کے لیے مشکل تھا اس لیے عوام کی تفریح کے ذرائع اور خواص کی تفریح کے ذرائع ہمیشہ مختلف اور جدا رہے ہیں۔ اسی لیے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ عوامی ڈرامائی روایات ہر دور میں خواص سے جدارہیں۔ ‘‘ (لکھنو کے شاہی اسٹیج از مسعود حسین رضوی ص24-25)
بھرت منی نے غنائیہ ڈرامے کو سبھی نظمیات سے اعلیٰ مانا ہے۔ غنائیہ ڈرامے کو پانچواں وید کہا گیا ہے۔ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق وید بھگوان کی آواز ہیں، وید کے برابر ڈرامے کو بتانا ہی اس کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، وید کو پڑھتے وقت بھلے ہی لوگ نہ مانیں لیکن ڈرامے میں اور خاص طور پر عوامی ڈراموں میں سب ہی حصہ لیتے ہیں۔ وہ بڑے جوش اور لگن کے ساتھ اس کی اداکاری کا لطف اٹھاتے ہیں۔ بھرت منی نے تو یہاں تک مانا ہے کہ زندگی کے تمام محاسن اور حقائق ڈرامے میں پوشیدہ ہیں۔ ڈرامے کے ذریعہ ملک کی تہذیبی روایات کی حفاظت ہوتی ہے۔ تاریخ اور تہذیب کا ارتقا سب ہی کچھ ڈرامے کے ذریعہ ہمارے سامنے پیش ہوتا رہتا ہے۔ بھرت منی نے ڈرامے کی پیدائش کو شودروں سے وابستہ کیا ہے۔ کہتے ہیںکہ ایک مرتبہ راجااندر برہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک ایسے وید کی تخلیق کے لیے درخواست کی جو ان لوگوں کی دسترس میں ہو جن کے لیے چاروں ویدوں کا مطالعہ ممنوع ہے۔برہما نے یہ درخواست منظور کرلی اور ناٹیہ وید خلق کرکے بھرت منی کو یہ خدمت سپرد کی ۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں جیودیپ کے باشندے بداطوار ہوگئے ہیں شودروں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ ویدوں کے مقدس علم تک ان کی رسائی نہیں ہے، اندر اور دوسرے دیوتا برہما کے پاس گئے کہ اب دنیا کی اصلاح کے لیے زیادہ سادہ طریقے درکار ہیں اس لیے ایک پانچواں وید بنائیے جس کو سب پڑھ سکیں۔ برہما نے یہ درخواست منظور کرلی اور موجودہ چاروں ویدوں سے مواد لے کر ’ناٹیہ وید‘ خلق کیا جس میں الفاظ رگ وید سے، موسیقی سام وید سے، عمل یجروید سے اور رس (جذبہ) اتھروید سے لیا اور پانچواں وید تیار ہوگیا ۔ بھرت منی نے ایک اشلوک میں اس پہلو پر اشارہ کیا ہے۔‘‘ (ناٹیہ ساہتیہ شرت اوجھا ص:97)
ترجمہ : یہ وید کا اشلوک نہیں جسے شودر ذات کے لوگ نہ سن سکیںایسا پانچواں وید بنائیے کہ جس کو سبھی ذاتوں کے لوگ سن سکیں
مذکورہ بیان سے مندرجہ ذیل باتیں ظاہر ہوتی ہیں:
.1 عوامی غنائیہ ڈرامے بے حد قدیم ہیں۔ان کی بنیادیں ہندوستان میں آریوں سے قبل کی ہیں۔
.2 عوامی غنائیہ ڈرامے کی ابتدا مذہب اور عقائد کے طفیل ہوئی۔
.3 ناٹیہ شاستر جو ہندوستانی ڈرامے کا صحیفہ ہے پانچواں وید کہا جاتا ہے وہ بھی شودر طبقہ کی تخلیق ہے۔
ڈراما تین فنون کا مجموعہ ہے : شاعری، نقل اور مصوری۔ شاعر اپنی آپ بیتی اور جگ بیتی سناتا ہے، ایکٹر اس کمال کو زندہ تصویر بناتا ہے، مصور کا یہ کام ہے کہ اس زندہ تصویر کو اصلیت کا روپ دیتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس فن کی کیا اہمیت ہے۔ خالص شاعری کا تعلق صرف چند جذبات سے ہے۔ رسم و رواج نے اس پر پابندیاں مقرر کی ہیں۔ مصوری بھی اسی طرح محدود ہے۔ محض نقل کرنا کوئی اعلیٰ فن نہیں رکھتا وہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم پوری دنیا اور ساری زندگی کی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔
دراوڑ اور عوامی لوک ناٹک
ڈاکٹر بنواری پرشاد کے لفظوں میں عوامی ڈراموں کی تمام اہمیت، ان کی شاعرانہ خوبی کتاب تک ہی محدود نہیں ہے، ان کا ایک بہت اہم کام ہے ۔ ایک عظیم تہذیب کے ماضی و حال کا بنیادی ارتقا جو اب تک یا تو ماضی کے گم شدہ سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی یا غلط سمجھ لی گئی تھی، جس طرح ویدوں کے ذریعہ آریہ تہذیب کا علم ہوتا ہے اسی طرح پچھڑے ہوئے طبقہ اور قبائل اور دیہات و گائوں کے ذریعے آریوں کے پہلے کی تلاش سے تہذیب کا علم ہوتا ہے۔ اینٹ پتھر کے عاشق ماضی کی تہذیب کو ان میں سرایت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سے زور دے کر کہا جاسکتا ہے کہ عوامی ادب کے نقوش کی اہمیت موہن جو داڑو سے کہیں زیادہ ہے۔ موہن جو داڑو جیسے کھنڈرات عوامی ڈرامائی ادب کی تشریح کا کام دے سکتے ہیں۔ جب آریہ قوم کے لو گ ہندوستان میں آنا شروع ہوئے اس وقت یہاں مختلف نسلوں کے لوگ آباد تھے جو آریوں سے پہلے ہندوستان میں آکر بس گئے تھے۔ ان میں افریقہ سے آئے ہوئے نگوائڈ تھے جن کے نشانات اب تک جزائر انڈمان میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد پرتواسٹر لائد آئے اور سیلون، برما، ملایا اور آسٹریلیا میں پھیل گئے۔ پھر اسٹراک آئے اور شمالی ہندوستان کے بعض حصوں میں آباد ہوگئے، یہ لوگ بحیرہ روم کے علاقے سے آئے تھے اور انھوں نے عراق کے راستہ سے یہ سفر طے کیا تھا۔ وہاں انھوں نے ایک تمدنی ڈھانچہ کھڑا کرلیا تھا۔ اس کے تھوڑے ہی دنوں بعد تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح دراوڑ نسل کے لوگ ہندوستان میں وارد ہوئے۔ یہ لوگ بھی بحیرہ روم اور ایشیائے کوچک سے آئے تھے اور ہندوستان میں پہنچ کر انھوں نے ہڑپا اور موہن جو داڑو پنجاب اور سندھ میں تقریباً تین ہزار سال قبل مسیح ایک زبردست تمدن کی بنیاد ڈالی۔ یہ لوگ شمالی ہند میں پھیل گئے اور کسی حد تک اسٹراک لوگوں سے مخلوط ہوگئے اور جب آریہ ہندوستان میں آئے تو دونوں نے ایک دوسرے کا اثر قبول کیا۔ آج ہندوستان میں ہند آریائی زبانوں کے بعد دراوڑ زبانیں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ تامل، تلگو، ملیالم، کنٹر اور تولو وغیرہ۔ان میں اعلیٰ درجے کا ادب ہے، کچھ میں آریائی زبانوں سے پہلے کا۔ ان کے علاوہ منگولی نسل کے لوگ بھی ہندوستان میں آئے۔ ان کی یادگار آسام اور نیپال کی پہاڑی بولیاں ہیں۔ یہ لوگ آریوں کے بعد آئے اور ہمالیہ کے دامن میں بس گئے۔ یہ سب مل جل کر ایک نئی وحدت میں گم ہوگئے اور چھوٹے چھوٹے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے میں گھل مل گئے۔ لیکن اختلاف کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے بعد بھی یونانی شاک سین اور دوسری قوموں کے لوگ وقتاً فوقتاً آتے رہے۔ ان میں آخرالذکر اقوام نے تو ہندوستان کی تہذیب پر بہت ہی معمولی اثر چھوڑا کیونکہ اختلاط وقتی تھا۔ اگر واقعی دیکھا جائے تو اس سلسلہ میں دراوڑوں کے بعد آریہ تمدن آریہ ورت پرچھا گیا۔ اس میں اگر کچھ تغیر ہوا تو مسلمانوں کے آنے سے ہوا جو یہاں آکر بس گئے تھے۔ اسی نظر سے دیکھیں تو پھر دراوڑ اور آریہ بھی غیر ملکی کہے جاسکتے ہیں۔ بعد میں تمدنی حیثیت سے انگریزی اثر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہر حال حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں دو تہذیبوں کے اثرات ابتدائی تہذیب سے اب تک ہر شعبہ انسانی پر چھائے ہوئے ہیں کیونکہ نگورائڈ اور اسٹراک قبائل ایک محدود تعداد میں دراوڑوں سے قبل آئے تھے اور دوسری اقوام بھی مختصر تعداد میں تھیں اس لیے یہ سب لوگ آریہ اور دراوڑ تہذیب میں مدغم ہوگئے۔‘‘
(سنسکرتی کے چار ادھیائے بحوالہ ہماری تہذیبی میراث ص86)
حقائق کی بنا پر محققین کی رائے ہے کہ غنائیہ ڈراما آریوں سے پہلے کی چیز ہے اور ناٹیہ شاستر بھی آریوں سے پہلے اسی زمانے میں تخلیق کیا گیا اور ہندستانی روایتوں کی طرح سینہ بہ سینہ زمانے کے مدوجزر دیکھتا ہوا اور اپنے میں ترمیم اور تنسیخ کراتا ہوا صدیوں بعد تحریر میں آیا۔
ڈاکٹر جاگیر دار اور کئی محققین نے ثابت کیا ہے کہ بھرت منی جو ناٹیہ شاستر کا خالق مانا جاتا ہے، دراوڑ تھا۔ اسے شمالی ہند چھوڑ کر دکن جانا پڑا، جہاں اسے نیش (غیر آریہ) نام کے راجا نے اپنایا اور وہیں انھوں نے اپنے 100 لڑکوں کے ساتھ اس پانچویں وید کو اپنایا۔ ڈرامائی صنف کو ارتقائی منزلیں دیں۔ ناٹیہ شاستر کو پانچواں وید بتانے کی بھی چند وجوہات ہیں۔ ایک تو وید آریوں کے جن کی تہذیب اور جن کا اقتدار پورے ملک میں رائج تھا مذہبی صحیفے تھے اور مستند حیثیت کے مالک تھے اس لیے ان کی روایت سے ناٹیہ شاستر کی اہمیت بڑھنا لازمی تھا۔ اس لیے ویدوں اور دیوتائوں کی روایت ضروری تھی اور اس کو اس نے پانچواں وید کہا ۔
ہندوستان کے قدیم باشندوں کا خیال تھا کہ دیوتا تنہائی کی جگہ جنگلوں میں رہتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے پیڑوں کے جھنڈ میں مورتیاں رکھ لیں۔ دکن میں درختوں کے جھنڈوں میں مورتیاں نکلی ہیں اس سے یہ خیال مضبوط ہوتا ہے کہ پہلے دراوڑوں نے اور پھر اپنا رنگ دیکھ کر ان مقامات کو منادر میں تبدیل کردیا۔ مندروں کی مورتیوں میں کئی ایسے دیوتا بھی شامل ہیں جن کا ذکر ویدوں میں نہیں ہے اس لیے وہ دیوتا دراوڑوں اور قدیم باشندوں کے ہیں۔
ہندستانی سماج مختلف اقوام ، قبائل ، طبقوں اور علاقوں میں بٹا ہوا ہے۔ یہاں بقول گریرسن آٹھ سو سے زیادہ بولیاں اور تین سو کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس لیے ہندستانی غنائیہ ڈرامے کسی نہ کسی شکل میں ہر زبان میں بنائے گئے ہیں اور اب بھی بنائے جارہے ہیں۔ آسام میں کیرتنیا بھونیا انک ناٹیہ، بنگال بہار میں جاترا دوشیا، اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں آلہا اودل ڈھولہ مارو،بھجن کیرتن، بھگت ،راس لیلا، رام لیلا، ماچ اورخیال، سوانگ، کٹھ پتلی سوانگ سپرہ وغیرہ، گجرات میں بھوانی سدا گاربی، مہاراشٹر میں للت تماشا، بنگال اڑیسہ میں جاترا، سوانگ، آندھرا میں سری کتھا، بھگوت میلہ ،کرناٹک میں مکش گان، دیوداسی گان وغیرہ۔ کیرل میں کرشنا تم کو تو یاتم کتھک، کتھاکلی وغیرہ وغیرہ۔ غرض کہ عوامی غنائیہ ڈراموں کی ایک طویل فہرست ہے۔
یہاں دوسرے عوامی ڈراموں کے علاوہ نوٹنکی یا سوانگ وغیرہ جس کا تعلق اردو کے غنائیہ ڈراموں سے ہے، مختصراً ذکر کیا جائے گا۔ عوامی غنائیہ ڈراموں سے ہماری مراد ان ڈراموں سے ہے جن کے کھیلنے کے لیے خاص اسٹیج کی تیاری نہیں کرنی پڑتی۔ یہ ڈرامے زیادہ تر کھلے اسٹیج پر کھیلے جاتے ہیں۔ مشہور ڈرامہ نگار برناڈشا اور سرجیمز ہنری نے ڈراموں کے پختہ اسٹیج کی مخالفت کی ہے۔ وہ کھلے اسٹیج کی، جیسے کہ نوٹنکی، خیال، ماچ اور سوانگوں میں ہوتی ہے کی موافقت کرتے ہیں اور انھوں نے ڈراموں میں نسواں اداکاروں کی بھی مخالفت کی ہے۔ عوام تک کھلے اسٹیج کے ذریعہ اصلاحی اور پیغاماتی ضرورت کو اس طرح آسانی سے پہنچایا جاسکتا ہے۔ ڈرامے کا جو مقصد غریب اور پست اقوام کی تفریح یا اصلاح ہے وہ کھلے اسٹیج کے ذریعہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ پردہ سین سینری وغیرہ دوسرے لوازمات سے ڈراما پست اقوام اور غریبوں کا نہ ہو کر خواص اور زرداروں کا بن جاتا ہے۔ اس کے پانچویں وید کہلانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ اہل ادب کا ایک گروپ عوامی ڈراموں کو غیرمہذب، غیر ادبی، بدوضع، سوقیانہ حقیر اور قابل ترک مانتا ہے۔ دوسرا فن سے محبت کرنے والا گروپ اس غیر ادبی ، غیر مہذب افراد کی عوامی زندگی سے متاثر ہوکر لکھتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جب ہم سنتھالوں ، بھیلوں، شودروں، قبائلیوں اور دیہاتیوں کا رہن سہن اور ان کے رقص اور نغمے وغیرہ دیکھتے ہیں اور ان کی دلکش میٹھی تانیں وغیرہ سنتے ہیں جب ہم نچلے طبقے کے افراد کا رقص دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ زیادہ مہذب اور باسلیقہ کون ہے۔ پست اقوام کے افرادیا نام نہاد ذات، خاندان اور حیثیت پر فخر کرنے والے لوگ۔ عوامی غنائیہ ڈرامے کا شاعر عوامی احساسات اور جذبات کا نباض ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ عوام کے دل میں تاثرات بھر دیتا ہے اور انھیں سحرزدہ کردیتا ہے اور عوام غنائیہ ڈراموں کے دیوانے بن جاتے ہیں۔ کیونکہ غنائیہ ڈراموں کے متن اور اس کی غنا،اس کی روایت، عوام کے عقائد احساسات اور تخیل کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ویسے بھی اگر ہم غنائیہ ڈرامائی ادب کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھتے تو ہمیں ان میں ایسے حقائق اور ادب کے پہلو نظر آتے جو ہمیں اعلیٰ ادب یا ادبی کہلانے والے ڈراموں میں بھی ملتے ہیں۔ اسی لیے مشہور ڈرامہ نگار برناڈشاہ اور سر ہنری جیمزنے منڈپوں میں بند والے ڈراموں کی مخالفت کی کیونکہ اس سے ڈرامے کی عمومیت ختم ہوجاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کھلے اسٹیج کے ڈرامے ہماری قدیم روایت ہیں۔ غیرآریہ لوگ جو کھُلے میدانوں اور اپنے دیہاتوں میں رقص یا رقصیہ ڈرامے یا رقصیہ کیرتن اور عبادات کرتے تھے۔ کیونکہ انھیں آریوں کے یگیوں اور عبادات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی اس لیے وہ کھلے میدانوں میں یہ رقص اور ڈرامے ہونے کی وجہ سے اور ان پر کوئی کلاسیکی یا روایتی پابندی نہ ہونے کے باعث یہ رقص اور رقصیہ ڈرامے بے حد دل کش اور دلآویز اور پُرکشش ہوتے تھے اسی کو دیکھ کر آریوں نے بھی اپنی مذہبی رسومات جن کو غیر آریائی نے رقصیہ اور غنائیہ اسلوبوں سے پُرکشش بنانے کی کوشش کی تھی کھلے میدانوں میں کرنا شروع کیے۔ یہ بات غیرآریوں کو اچھی نہ لگی اور انھوں نے ان کی رسومات اور یگیوں پر چھاپے مارنے شروع کردیے۔ مجبوراً آریوں نے رنگ شالائیں، ناٹیہ شالائیں بنا لیںجن میں مخصوص لوگ رقص اور ڈرامے کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام فطرت اور حقیقت اور اصلیت کے نباض ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹر رالف ولیمس نے ایک بار کہا تھا ’’عوامی ادب نہ پُرانا ہوتا ہے نہ نیا وہ تو اس جنگلی پیڑ کی طرح ہوتا ہے جس کی جڑیں ماضی کی گہرائیوں میں چھُپی ہوتی ہیں جس میں نت نئی شاخیں اور نئی پتیاں اور نئے پھل نکلتے ہیں۔‘‘ (بھارتیہ ناٹیہ ساہتیہ ص97 )
عوامی ڈرامے کسی نہ کسی شکل میں ہندوستان کے ہر علاقے میں بنائے گئے ہیں ۔ یہاں میں شمالی ہند کی ان زندہ ڈرامائی اصناف پر جن کا تعلق ہماری اردو زبان سے کچھ نہ کچھ رہا ہے بلکہ دو ایک تو ان میں سے خالص اردو کی غنائیہ ڈرامائی روایات کہی جاسکتی ہیں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کیونکہ میرا مقصود اردو کے خاص غنائیہ عوامی ڈرامے جس کا جدید نام خیال اور نوٹنکی ہے کے بارے میں تحریر کرنا ہے اور اس کی ابتدا اور ارتقا اور اردو کی صنف کی حیثیت سے اس کے رول پر بھی روشنی ڈالنا ہے۔ اس لیے اس کی ذیلی غنائیہ ڈرامائی اصناف جنھوں نے اس کے ارتقا میں امداد کی تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ ان ذیلی غنائیہ ڈرامائی اصناف کے تذکرے کے بغیر یہ موضوع تشنہ رہ جائے گا۔ مندرجہ ذیل نقشہ سے نوٹنکی ڈرامے کی ابتدا اور دوسری ذیلی اصناف کے تعلق پر روشنی پڑتی ہے:

ہندستانی غنائیہ ڈرامائی چارٹ
وحشی انسان ماقبل تہذیب کا غنائیہ ڈراما
قبائلی یا دراوڑی غنائیہ ڈراما

آریائی یا ویدک ڈراما——————————————— پراکرت غنائیہ ڈراما
سنسکرت ادبی ڈراما یا سنگیتکا

کرتن بھجن———————————————————رگ سمجھا

کوتونائم———————————————سنک چرجری راسک راسوپھاگ وغیرہ

کرشنایم———————————————————-سوانگ

دلواداس اَنم——————————————————-خیال

لاسیکا————————————————————–بھگت

یکش گان———————————————————-ماچ

بھگوت میلا——————————————————–تماشا

جاترا————————————————————-بھوائی

دس اوتار——————————————————نقل یابھانڈ

گربا————————————————————–ودیشا

راس————————————————————-اندرسبھا

راس لیلا———————————————————–نوٹنکی

رام لیلا————————————————————-رسیا

وغیرہ


نوٹنکی، لوک ناٹک یا سوانگ کے نقوش
مہابھارت اور رامائن کے عہد میں جن پاٹھکوں اور ردھارکلوں کا ذکر ملتا ہے وہ بھی عوامی ڈراموں کی شکلیں ہی کہی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح پا تنجلی نے گرنتھکوں اور اشولکوں کی اداکاری کا ذکر کیا ہے وہ بھی عوامی ڈرامے کی شکل ہے۔ ڈاکٹر شنکر لال یادو کی رائے بھی یہی ہے کہ راس لیلا رام لیلا کی پورانک کہانی والی ڈرامائی روایات اس کے علاوہ نقل کی روایات بھی اس سے پہلے جاری تھیں، ان کے الفاظ یہ ہیں:
’’پورانک اور مذہبی موضوعات اور معزز و محترم افراد کے اصلاحی کردار کے ڈراموں کے علاوہ عوامی اسٹیج پر ایک تیسری طرح کے ڈرامائی مناظر ضرور پیش کیے جاتے رہے ہوں گے۔ اس منظر کو نقل کہنا مناسب نہ ہوگا۔ یہ موجودہ سانگ بھگت نوٹنکی کی ابتدائی شکل کہی جاسکتی ہے۔ پاتنجلی کی تصنیف ’ابھنیہ‘‘ سے اتنا نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ان دنوں شری کرشن کی اداکاری کی جاتی تھی۔ دوسرے موریہ دور میں جب کہ یونانی سکندر کا حملہ ختم ہوچکا تھا اور پنجاب سے سلوکس کی حکومت بھی ختم ہوچکی تھی پھر بھی یونانی ریاستیں جاگیریں ملک کے شمالی حصہ میں متھرا تک پھیلے ہوئے اس دور میں ڈرامے کی روایات کا ثبوت ہمیں چانکیہ کے ارتھ شاستر سے ملتا ہے۔ اس میں ذکر آیا ہے کہ طوائفوں کے لڑکے اور لڑکیوں کو اداکاری سکھائی جاتی تھی، اس دور میں پیشہ ور اداکار جن کو ناچنا گانا بھی آتا تھا تیوہاروں اور رسموں میں مختلف قسم کی نقلیں کرتے تھے۔ پائننی نے اپنی سنسکرت گرامر میں جس کا زمانہ چوتھی صدی قبل مسیح تھانٹوں اور اداکاری کے قاعدوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔‘‘ (ڈاکٹر سومناتھ گپت ہندی ناٹک اتیہاس)
عرب سیّاح ابن خرد و ابن بطوطہ ، عرب جغرافیہ نویسوں نے جو جغرافیہ ہندوستان کا لکھا ہے اس میں سے قریب نویں صدی عیسوی میں ابن خرد نے جو ہندوستان کا جغرافیہ لکھا تھا اس میں اس نے بہت سے شہروں کا تذکرہ کیاہے اور سات ذاتوں کا بھی ذکر کیا ہے جن میں چار مشہور ذاتوں کے یعنی برہمن ، چھتری، ویش ، شودر کے علاوہ تین اور ذاتیں کھتری چنڈال (جو کھلاڑی اور کلانٹ ہوتے تھے) اور ڈنب یعنی ڈوم (تاریخ تمدن ہند محمد مجیب اردو ترقی بورڈ دہلی ص191) یا گانے بجانے والوں کی تھی۔ خلجی دور میں امیر خسرو موسیقی کے زبردست ماہر گزرے ہیں۔ بہت سے راگ اور ساز ان کی ایجاد ہیں۔ انھوں نے اپنی مثنوی دول رانی اور خضر خاں میں لکھا ہے:
’’اسی کے ساتھ نوبت اور شادیانے (ڈھول) ڈھماکے اور دُہل بجائے جاتے تھے ۔ نٹ ڈیوڑھیوں پر تماشہ کرتے، شعبدہ بازوں میں کوئی ہوا میں گیند اچھالتا، کوئی تلوار کو پانی کی طرح گھونٹ پی جاتا، کوئی ناک کے راستے چاقو چڑھاتا بہروپئے طرح طرح کے سوانگ بھرتے ،کبھی وہ پری اور کبھی دیو کی شکل میں نظر آتے ۔ نغمہ و سرود کی محفل ہوتی جشن کی ایک ایک لحن پر آدمی مرتا اور زندہ ہوتا، مختلف قسم کے سازوں میں چنگ، دف ،بربطہ طنبورہ کدوتین نال وغیرہ تھے۔ پری رقاصائیں بہترین لباس پہن کر رقص و نغمہ سے محظوظ کرتیں۔ ‘‘ (ہندوستان خسرو کی نظر میں، از سید صباح الدین عبدالرحمن ص26-27)
سلاطین کے دور میں موسیقی، رقص اور غنائیہ ڈراموں کا ثبوت مشہور سیّاح ابن بطوطہ کے سفر نامہ سے ملتا ہے۔ ابن بطوطہ مراقش کے شہر طنجہ کار ہنے والا تھا۔ اس نے تیرھویں صدی میں افریقہ سے لے کر چین تک کا دورہ کیا تھا اور محمد تغلق کے دور میں ہندوستان آیا تھا۔ اس نے اپنے سفر کے حالات لکھے ہیں جو سفر نامہ ابن بطوطہ کہلاتا ہے۔ وہ کافی عرصہ ہندوستان میں رہا تھا۔ محمد تغلق نے اسے دہلی کا قاضی بنا دیا تھا۔ اس نے اپنے سفر نامہ میں دولت آباد کے ایک سوانگ کے اکھاڑے کا ذکر کیا ہے، جس میں استاد مسند پر بیٹھتا تھا اور رقص موسیقی اورتماشا دیکھتا تھا۔ دولت آباد دکن میں دیوگری کو محمد تغلق نے نام دیا تھا۔ اس نے ہندوستان کے وسط کا سمجھ کر ہندوستان کا دارالسلطنت بنانے کا ارادہ کیا کیونکہ دہلی پر ہر وقت منگولوں کے حملے ہوتے رہتے تھے اور دولت آباد ہندوستان کے وسط میں تھا۔ اس نے دلی کے ہر باشندہ کو حکم دیا کہ دولت آباد جائے۔ دہلی بالکل اجڑ گئی۔ ہر قوم اور ہر طبقہ کے افراد کو مجبوراً دہلی سے دولت آباد جانا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ علماء کی 800 پالکیاں دہلی سے دولت آباد پہنچی تھیں۔ اس طرح علما سے لے کر ہر پیشہ کے لوگ دولت آباد پہنچے اور نئی ارتقائی منزلیں طے کرتی ہوئی وہ زبان بھی جو دکن میں گوجری تھی گوجری دکھنی اور زبان ہندستانی کہلائی اور بعد میں اردو زبان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اسی ہجرت کے ساتھ دکن پہنچی اور دکن میں پرورش پاکر ہندوستان گیر بنی تو دہلی محمد تغلق کے حکم سے اُجڑ چکا تھا۔ دولت آباد بے حد پُررونق بن گیا۔ بعد میں محمد تغلق دہلی واپس ہوا لیکن مکمل طور پر جنھوں نے ترک دہلی کیا تھا اور جن کے روزگار جم گئے تھے، دولت آباد میں ہی رہ گئے۔ ان میں سوانگ تماشے والے گوئیے طوائفیں وغیرہ سب ہی تھے۔ انھیں اکھاڑوں اور طوائفوں کا حال ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں تحریر کیا ہے، اس نے دولت آباد کے ناچنے گانے والوں کے ایک پورے بازار کا ذکر کیا ہے جس میں صرف ناچنے گانے والے اور تماشے والے رہتے تھے، وہ لکھتے ہیں:
’’دولت آباد میں اہل طرب (تفریح طبع دینے والے) کا ایک بازار ہے جس کو طرب آباد (خوشی دینے والا شہر) کہتے ہیں۔ یہ بازار بہت خوبصورت اور وسیع ہے دکانات بھی بہت ہیں۔ ہر ایک دکان میں ایک دروازہ گھر کی طرف کھلتا ہے اور گھر کی طرف دروازہ ہوتا ہے دکان میں مکلّف فرش ہوتا ہے۔ اس کے وسط میں ایک گہوارہ ہوتا ہے جس میں گانے والی عورت بیٹھ جاتی ہے یا لیٹ جاتی ہے۔ اس کی لونڈیاں گہوارہ کو ہلاتی ہیں۔ گہوارہ بہت آراستہ ہوتا ہے، بازار کے بیچ میں بڑا گنبد ہے جو نہایت آراستہ اور فرش پیراستہ ہوتا ہے اس میں مطربوں کا چودھری (استاد) عصر کی نماز کے بعد ہر جمعرات کے دن آبیٹھتا ہے۔ اس کے غلام اور خادم حاضر ہوتے ہیں۔ ہر ایک طوائف باری باری آکر اس کے سامنے مغرب کے وقت تک گاتی ہے اور مغرب کے بعد وہ اپنے گھر چلا جاتا ہے۔ اس بازار میں مسجدیں بھی ہیں جن میں تراویح کی جماعت بھی ہوتی ہے۔ اکثر راجہ اس بازار کی سیر کرنے آتے ہیں تو اس گنبد میں ٹھہر جاتے ہیں اور طوائف ان کے سامنے آکر گانا بجانا کرتی ہیں اور بعض مسلمان بادشاہ بھی ایسا کرتے ہیں۔ ‘‘(سفرنامہ ابن بطوطہ مترجم رئیس احمد ص:45 ص766، ص 67 جعفری ادارہ درس اسلام دیوبند یوپی)
مسلم سلاطین بھی التمش سے لے کر شیر شاہ سوری اور اُس کے خاندان تک سماع، موسیقی، رقص و اداکاری کے دلدادہ تھے۔ عادل شاہ سوری نے ایک بھگتہ رقاص اور مغنّی لڑکے کو اس کے گانے اور اداکاری پر پانچ ہزار روپیے انعام دیے تھے۔ مغلیہ دور کو ہم فن موسیقی کے عروج کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔ بابر خود موسیقی کا ماہر تھا۔ ابوالفضل نے آئین اکبری میں اکبر کے دور کی موسیقی کا مفصل حال لکھا ہے۔ وہ ایک موسیقی کے اکھاڑے کا ذکرکرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’رات کو اس اکھاڑے کا طربیہ اجتماع ہوتا ہے، جس میں اجتماع ملک کے رؤسا، امرا اور استادوں کا ہوتا ہے جن کی گھریلو نسواں ، ملازمائوں کو موسیقی اور نقل (ڈراما) سکھایا جاتا ہے چار خوبصورت عورتیں چہرے پر سنگرف ملے ہوئے رقص کرتی ہیں اور کچھ دلکش حرکات بھی کرتی ہیں اور چار دوسری خوبصورت اور حسین و جمیل ملازمائیں گانے اور ناچنے والیوں کا ساتھ دیتی ہیں اور دو دوسری ملازمائیں پکھاوج بجاتی ہیں دو اپنگ اور دکنی رباب بجاتی ہیں اور جتر بجاتی ہیں اور ہر چیز کا استعمال کرتی ہیں۔ اداکارائوں کے قریب دو عورتیں چراغ تھامے رہتی ہیں۔ یہ عورتیں کبھی زیادہ تعداد میں بھی ہوتی ہیں۔ یہ نٹوہ فرقے کے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی غلام خادمہ دوشیزائوں کو فن رقاصی و موسیقی اور اداکاری سکھاتے ہیں اور اکثر یہ اپنی لڑکیوں کو بھی سکھاتے ہیں اور انھیں تربیت دے کر سرداروں کو فروخت کردیتے ہیں۔‘‘ (آئین اکبری جلد سوم)
مشہور مورخ ضیاء الدین برنی بھی سلاطین کے دربار میں خواتین گانے والیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’دختران خوبرو باتنگ و شنگ و نازو کرشمہ و شوخ دزہ دیدہ راستر و گفتش و رباب زدن وغزل خواندن آمدہ و لطیفہ و مزدو شطرنج بافتن آموختہ بودند۔‘‘
(تاریخ شاہی بحوالہ ہندستانی تہذیب کا مسلمانوں پراثراز محمد عمر ص:382)
ابوالفضل نے اس وقت کے عوامی غنائیہ پہلوئوں پر جس تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اس تفصیل سے ہمیں اور کہیں بھی کتابی ثبوت نہیں مل سکتا۔ وہ اس کی تفصیل اس طرح لکھتا ہے:


تفصیل تذکرہ سرایان
قدیم مناجات یا بھجن گانے والے جو ملک میں ہر طرف یکساں طور پر پائے جاتے ہیں جہاں وہ ’ دیکارس‘ کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور ان کے استاد بھی انھیں تعلیم دینے والے ’سماکارس‘ کہلاتے ہیں۔
کلاونت: زیادہ تر کلاونت بھاٹ یا شاعر ہوتے ہیں اور گویّے بھی ہوتے ہیں یہ لوگ زیادہ تر دھرپد راگ گاتے ہیں۔
ڈھاڈھمی: (یہ لوگ پیشہ ور گویّے ہوتے ہیں پہلے یہ بہادرانہ شجاعانہ داستانیں بیان کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ رقاصائوں کو ناچ گانے سکھانے کا کام کرتے ہیں ۔)
یہ پنجابی موسیقار ہوتے ہیں جو ڈھاوا اور کنگرہ ساز پر نغمہ زن ہوتے ہیں۔ وہ خاص طور پر رزمیہ اور شجاعانہ نظمیں گاتے ہیں جن میں بہادر ہیرئوں کی تعریف اور ان کے شجاعانہ کارنامے جو شیلے اور اثر انگیز اور اداکارانہ انداز میں بیان کیے جاتے ہیں جو انھوں نے مختلف لڑائیوں میں کارناموں کے طور پر انجام دیے ہیں۔
قوّال: یہ لوگ بھی گویے ہوتے ہیں لیکن ان کے گانے کا مخصوص انداز ہوتا ہے اور زیادہ تر فارسی دستور پر فارسی کلام گاتے ہیں۔
ہرکیہ: اس میں مرد موسیقار ایک خاص ساز پر گاتے ہیں جسے ہرک کہتے ہیں، اس لیے اس صنف کا نام ہی ہر کیہ پڑگیا ہے۔ اس انداز کا دوسرا نام آوج بھی ہے اور تال جس پر نسواں فنکار گاتی ہے پہلے سردہرکا گانا تھا لیکن آج کل مرد صرف دھرپدراگ گاتا ہے اور اس میں بہت سی خوبصورت نسواں موسیقار شامل ہوتی ہیں۔
دف زن: اس میں دف اور تنبورہ اور ڈھول بجائے جاتے ہیں، دھرپد اورسوہلہ گاتی ہیں۔ شادی اور خوشی اور بچّے کی پیدائش کے سلسلہ میں دل کش دل آویز اور مترنم آوازوں میں خواتین کی مجلسوں میں نغمہ سرا ہوتی ہیں لیکن اب یہ دف مردوں کی محفلوں میں بھی نغمہ زن ہونے لگیں ہیں۔
سیزدہ تال: اس فرقے کے لوگ اپنے ساتھ بڑے بڑے ڈھول رکھتے ہیں اور عورتیں جب گاتی ہیں تو وہ ان پر تیرہ قسم کی تالیں یک لخت لے سکتی ہیں۔ اسی لیے انھیں سیزدہ تالی کہتے ہیں، دو تالیں اپنی کلائیوں پر دو بازئوں کے جوڑ پر دواپنے شانوں کے جوڑوں پر اور دو بازوؤں پر ایک اپنے سینہ پر اور دواپنی انگلیوں پر۔ یہ لوگ زیادہ تر گجرات اور مالوہ میں پائے جاتے ہیں۔
نٹوہ: ایک بے حد خوب صورت دل کش دلآویز پر کشش رقص اور رباب پکھاوج اور تالی کے سازوں کے ساتھ نغمہ سرا ہوتے ہیں۔ مختلف قسم کے حسین انداز کے نمونے رقص اور نغموں کے نمونے پیش کرتے ہیں۔
کیرتنہ: ابوالفضل نے کیرتنیہ میں حصہ لینے والوں کو یعنی اس کے فنکاروں کو زنار دارند (زنار پہنے ہوئے) زنار پہننے والے افراد بتایا ہے۔ فاضل مترجم نے زنار دارند کا مطلب برہمن سے لیا ہے فاضل مترجم کہتا ہے کہ کیرتنیہ برہمن ہوتے ہیں۔ ان کے گانے کے ساز بھی دیرینہ طرز کے ہوتے ہیں جنھیں وہ عہد قدیم سے استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ دلآویز اور خوبصورت لباس، نوخیز چہرے والے طفل اور دوشیزائیں شری کشن کی مدحت گاتی اور لیلائیں کرتیں ہیں۔
کیرتنیہ یعنی بھجن منڈلیاں عہد قدیم سے پائی جاتی ہیں بہت سے علما موسیقی کی ابتدا ہی بھجن اور کیرتن سے مانتے ہیں، ملک کے مختلف حصوں جیسے آسام، بہار، اڑیسہ اور دکن میں کیرتن پارٹیاں ہمیشہ سے پائی جاتی رہی ہیں اور ان میں کسی قوم اور طبقہ کی تشخیص نہ تھی۔ ہر شخص پر قوم کا شخصی اپنی کیرتن پارٹی دیوتائوں کو رجھانے کے لیے بنا سکتا تھا لیکن ابوالفضل نے جو اپنے دور کے کیرتنیہ کے لیے لکھا ہے کہ اس میں صرف برہمن حصہ لیتے ہیں اور کرشن کی لیلائیں اور حمد گاتے ہیں، تو میں رام نرائن اگروال کے اس خیال سے متفق ہوں کہ وہ کیرتنیہ نہ ہو کر راس دھاری تھے اور راس لیلا کرتے تھے۔ اس میںہمیشہ برہمن حصہ لیتے ہیں راس لیلا کی روایات کافی قدیم ہیں اور اس کا ذکر میں آگے کروں گا ، یہ بعد میں راس دھاری کہلانے لگے۔
بھانڈ: ڈھول اور تال سے تال پر گاتے ہیں طرح طرح کے جانوروں کی آوزیں نکالتے ہیں اور مردوں کی نقلیں کرتے ہیں پہلے یہ شعبدہ بازی کرتے تھے یہ زمانہ کا انقلاب ہے ۔
کنجڑی: یہ رقص اور نغمہ ڈھول پکھاوج اور تالی کی آواز سے کرتی ہیں جہاں پناہ انھیں کنچھی کہتے ہیں۔
نٹ: یہ رسّی کا رقص ہے، نٹ رسّی پر پائوں کے ذریعہ حیرت انگیز رقص کرتے ہیں۔ ان کا یہ کھیل بھی تال اور ڈھول کے ساتھ ہوتا ہے۔
بہروپیہ: یہ اپنا سوانگ دن میں دکھاتے ہیں۔ جو ان بہروپیہ ضعیف آدمی کا بھیس اس خوبی سے بھرتا ہے کہ آپ مشکل سے شناخت کرسکتے ہیں۔
بھگتیہ: ان لوگوں کا نغمہ بھی کیرتنیہ اور اداکاری بھی کیرتنیہ جیسی ہوتی ہے۔ وہ مختلف قسم کے سوانگ کرتے ہیں جو بے حد عجیب اور انوکھے ہوتے ہیں ان کی محفلیں رات بھر ہوتی ہیں۔
بھوتیہ: یہ بھی بھگت کی طرح ہوتا ہے اور رات دن کیا جاتاہے ۔ ایک پیتل کی تھالی کے کھڑے اور بیٹھ کر مختلف راگوں اور اسٹائل (اداکاری) سے مختلف نغمہ سرائی کی جاتی ہے، مختلف قسم کے سوانگ دکھائے جاتے ہیں۔ مغلوں نے موسیقی کی تورانی اور ایرانی روایتوں میں پرورش پائی تھی لیکن وہ جلد ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی کے دلدادہ ہوگئے اور ان کی سرپرستی میں اپنے پیش روئوں سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔ شاہی محلوں اور امرا سلطنت کی حویلیوں کے درو دیوار گانے بجانے کی سریلی آوازوں سے گونجنے لگے ۔ ابوالفضل موسیقی کو ’طلسم آگہی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ موسیقی کی سریلی آواز کان کے دریچوں میں ہزاروں تحفے سمیت لے کر داخل ہوتی ہے۔ سننے والے اپنے اپنے مذاق کے مطابق خوش یا اداس ہوتے ہیں۔ پس موسیقی سے دنیا دار اور دنیا بیزار دونوں ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے اکبر کو موسیقی کا بہت شوق تھا۔ جہاں پناہ نے موسیقاروں کو سات حصوں میں تقسیم کردیا تھا، اس کے دربار میں چوٹی کے ہندی ایرانی کشمیری اور تورانی موسیقار موجود رہتے تھے۔ باری باری سے ان سے گانا سنتے تھے۔ ابوالفضل نے آئین اکبری میں اکبر کے 36 موسیقاروں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سرفہرست تان سین ہے۔ ابوالفضل لکھتا ہے کہ ایسا گویّا ہزار برس میں پیدا نہیں ہوا۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو ہندوستان کے ذرے ذرے سے اس کی عمومیت عیاں ہوتی ہے۔ عوام کی ولادت سے وفات تک کی رسوم چاہے وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، سب میں عمومیت پائی جاتی ہے، موسیقی کی ہر صنف چاہے وہ ڈراما ہو یا لوک گیت سب میں عوامی پن نمایاں ہے۔ بہت سے محققین کا کہنا ہے کہ عوامی ڈرامائی روایات کا خاکہ ہمیں لوک گیتوں میں ہی ملتا ہے۔ ایک محقق کا کہنا ہے کہ ملک محمد جائسی نے پدماوت کی کہانی لوک گیتوں سے سن کر لکھی۔ لوک گیتوں میں ڈرامائی یا مکالماتی رنگ بہت پایا جاتا ہے۔ شہزادہ سلیم کی شادی جودھ پور کی راج کماری سے ہوئی۔ جس وقت راجکماری رخصت ہوتی ہے تو راجہ اکبر سے کہتا ہے مہاری بیٹی تہارے محلوں کی چیری ہم بندے گلام رے+اور شہنشاہ اکبر نے اس کا جواب دیا تھا تہاری بیٹی مہارے محلوں کی رانی تم صاحب سردار رے۔ ایسا لوک گیت کا مکالمہ ہمیں اورنگ زیب کے زمانے میں بھی ملتا ہے۔ اورنگ زیب کے اپنے عہد حکومت کا کافی زمانہ دکن میں گزرا۔ شمالی ہندوستان کی فوجیں دکن میں رہیں۔ فوجیوںکی بیویاں ان کا راستہ ہی دیکھتی تھیں۔اس احساس کو دوہے میں کہا گیا ہے۔ دہلی شہر سہاونا اور کنچن بر سے نیر + سب کے کنت (خاوند) بٹورکے لے گئے عالم گیر
بیٹھی رہو کرار (قرار) سے من میں راکھو دھیر +اب کے بچھڑے تب ملیں جب بوہریں (واپس) عالمگیر۔ غرضیکہ لوک گیتوں میں بھی جگہ جگہ ہمیں مکالمات کی شکل میں جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ جو کہیں سوانگ کا پیکر بن جاتی ہے۔ کہیں خیال کی شکل اختیار کرلیتی ہیںاور کہیں جے دیو کے گیت گوبند کے مکالماتی گیتوں کی بنا پر راس لیلا کے غنائیہ ڈرامے میں بدل جاتی ہیں اور کہیں کیرتن کے بھیس کو اتار کر بھگت کا رنگ اختیار کرلیتی ہیں اور غنائیہ ڈراموں کی بنیادیں ڈال دیتی ہیں۔ اب انھیں اصناف میں ہم غنائیہ ڈراموں کے اندرلوک ناٹک یعنی سوانگ نوٹنکی کے نقوش تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماخذ: اردو لوک ناٹک: روایت اور اسالیب (حصہ اوّل)، مصنف: کنول ڈبائیوی، ترتیب و ترمیم: ابن کنول،پہلی اشاعت: 2014، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عرب کے تنقیدی نظریات،مضمون نگار :محمدحسن

عرب میں شاعری کا رنگ و آہنگ قبائلی زندگی سے عبارت تھا۔ کسی قبیلے میں کسی شاعر کی شہرت ہوتی تو دوسرے قبیلے والے مبارک باد دیتے اور قبیلے جشن

اردو تحقیق و تدوین اورعلی گڑھ،مضمون نگار: صبا نسیم

تلخیص اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں علی گڑھ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ویسے تو یہ ریاست اترپردیش کا ایک شہر ہے لیکن عالمی سطح پر

تلامذئہ شبلی کی خدمات،مضمون نگار :اطہر حسین

تلخیص علامہ شبلی نعمانی نے نامور علم وفن کا جو کارواں اپنے پیچھے چھوڑا ان کی ایک بڑی تعداد ہے۔بیشتر شاگرد اپنے زمانے کے نامور معلم،مصنف اور شاعر ہیں۔ان شاگردوں