امیر خسرو کی پہیلیاں: لسانی حسن اور فکری رنگ، مضمون نگار: انور ہادی جنیدی

January 14, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،نومبر 2025

 

امیر خسرو کوبرصغیر کی ادبی و تہذیبی تاریخ میں ’ہندوستان کی زبانوں اور ثقافتوں کا سفیر‘ کہا جا تا ہے۔ ان کا اصل نام ابوالحسن یمین الدین محمد خسرو تھا اور وہ 1253 میں پٹیالی (ضلع ایٹہ، اتر پردیش، ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ والد ترک النسل امیر سیف الدین محمودتھے جب کہ والدہ ہندوستانی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہی امتزاج آگے چل کر امیر خسرو کی شاعری اور فکر میں ہندوستانی و ایرانی تہذیب کے حسین ملاپ کی بنیاد بنا۔امیر خسرو کو بچپن ہی سے عربی، فارسی، ہندی اور مقامی بولیوں سے شغف تھا۔ ان کے والد کسی جنگ میں شہید ہوگئے تو ان کے نانا عماد الملک نے خسرو کو ابتدائی تعلیم دی۔ قدرتی ذہانت اور شعری صلاحیت نے انھیں کم عمری میں ہی شعر گوئی کی طرف مائل کر دیا۔
1275 میں خسرو کے نانا عماد الملک بھی اس جہان سے کوچ کر گئے۔نانا کی وفات کے بعد خسرو کتلو خان عرف چھجو کے یہاں ملازمت اختیار کی بعد میں بغراخان اور سلطان محمد کے پاس بھی ملازمت کی اور ان کے ساتھ ملتان بھی گئے تھے۔عادل اسیر دہلوی لکھتے ہیں:
’’امیر خسرو امن و سکون کے ساتھ ملتان میں تھے کہ ایک ناگہانی مصیبت میں گرفتار ہوگئے۔ہوا یہ کہ مغلوں نے ملتان پر حملہ کر دیا۔ بدقسمتی سے شہزادہ سلطان محمداس حملہ میں ہلاک ہوگیا امیر خسرو گرفتار کر لیے گئے۔کچھ عرصہ بعد امیر خسرو مغلوں کے شکنجے سے نکلنے میں کا میاب ہوگئے۔جہاں سے وہ سیدھے اپنی والدہ کے پاس پٹیالی پہنچے۔بعد ازاں دہلی آئے اور بلبن کے دربار میں سلطان محمد کا مرثیہ پڑھا جو انھوں نے ملتان میں شہزادے کی شہادت اور مغلوں کی غارت گری کے متعلق لکھا تھا۔مرثیہ سن کر بلبن بہت رویا اور آخرکار اسی صدمے کی وجہ سے تیسرے دن انتقال کرگیا۔‘‘1
خسرو نے زندگی کا بڑا حصہ دہلی سلطنت کے مختلف سلاطین کے دربار سے وابستہ ہو کر گزارا۔ وہ بیک وقت شاعر، موسیقار، سپاہی اور درباری مورخ بھی تھے۔ انھوں نے التمش کے بعد آنے والے کئی بادشاہوں کے عہد دیکھے، مگر خاص طور پر علاء الدین خلجی کے دور میں ان کا مقام بہت بلند ہوا۔ خلجی نے انھیں دربار کا لازمی رکن بنایا۔ وہ اپنے کلام اور ذہانت کی بدولت بادشاہ کے نہ صرف قریبی مصاحب تھے بلکہ فتوحات اور اہم واقعات کے شعری مرقع نگار بھی تھے۔ اسی ملازمت کے نتیجے میں امیر خسرو نے تاریخ کو منظوم انداز میں محفوظ کرنے کی روایت ڈالی۔امیر خسرو موسیقی کے بھی عظیم فنکار تھے۔ ہندوستانی موسیقی میں کئی نئے راگوں کی تخلیق اور سازوں (خصوصاً طبلہ و ستار) کی ایجاد کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔ قوالی کو باقاعدہ صنفِ موسیقی بنانے میں بھی ان کا بڑا کردار ہے۔امیر خسرو کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کی روحانی وابستگی ہے۔ وہ سلسلہ چشتیہ کے بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کے مریدِ خاص تھے۔ ان کا عشق بہت ہی گہرا تھا کہ حضرت کی وفات کے صرف چھ ماہ بعد ہی وہ بھی اپنے مالک حقیقی سے جا ملے (1325)۔امیر خسرو نے تقریباً بہتر برس کی عمر پائی اور 1325 میں دہلی میں انتقال کیا۔ ان کا مزار دہلی حضرت نظام الدین اولیاء کے آستانے کے پہلو میں واقع ہے۔خسرو برصغیر کی مشترکہ تہذیب، فنونِ لطیفہ اور صوفیانہ محبت کی علامت کی شکل میں آج بھی زندہ ہیں۔
اردو اور ہندوی ادب کی تاریخ میں امیر خسرو کی حیثیت ایک ایسے نابغہ روزگار شاعر کی ہے جس نے صرف غزل، قصیدہ، رباعی یا مثنوی ہی نہیں کہی بلکہ اپنی تخلیقی توانائی سے عوامی ادب کو بھی نئی جان بخشی۔ ان کے کلام میں جہاں فارسی کی لطافت اور دربار کی نزاکت ہے وہیں عوامی بولیوں کی مٹھاس اور دہلی کے کوچوں کی زبان بھی شامل ہے۔ اسی امتزاج نے ان کی پہیلیوں کو ایسا رنگ دیا ہے کہ وہ صدیوں بعد بھی زبان کا زندہ اور جیتا جاگتا نمونہ معلوم ہوتی ہیں۔ یہ پہیلیاں نہ صرف تفریح کا ذریعہ تھیں بلکہ زبان کے حسن، فکر کی وسعت اور مشاہدے کی گہرائی کی تربیت بھی کرتی تھیں۔برصغیر میں پہیلی صدیوں سے عوامی ادب کا حصہ رہی ہے۔ یہ خواتین کے بیچ گھریلو کھیل کی صورت بھی رکھتی تھی اور میلوں ٹھیلوں میں بچوں کے لیے تفریح کا سامان بھی بنتی تھی۔ پہیلی ہمیشہ سے زبان کی چالاکی اور انسانی عقل کی آزمائش کا ذریعہ رہی ہے۔ مگر خسرو کی پہیلیوں میں ایک خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے اسے محض تفریح تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس میں فکر، فلسفہ اور زندگی کی باریکیوں کو سمو دیا۔ خسرو کی پہیلیوں میں روزمرہ کی عام چیزیں بھی ایک نئے تناظر کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی اشیا جیسے کنگھی، چکی، آئینہ، کان، جوتا یا بیل وغیرہ کو اپنی پہیلیوں کا موضوع بناتے ہیں، انھیں ایسے پرکشش اور دلچسپ پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ سننے والا حیرت و مسرت کی کیفیت میں آ جاتا ہے۔ پہیلیوں کے متعلق سید یوسف بخاری دہلوی لکھتے ہیں:
’’نظم اور نثر کے ان منظم اور غیر منظم موتیوں میں آپ کو جا بجا توریہ اور ایہام سے واسطہ پڑے گا۔کبھی آپ استعاروں کنایوں اور اشاروں کے ذریعے دل کی باتیں اورمن کے بھید سنیں گے’تل اوٹ پہاڑاوٹ‘ کے مصداق آپ ہر پہیلی کی اوٹ میں ایک پہاڑ کھڑا دیکھیں گے لیکن بوجھ کے اتے پیتے کا نازک اورننھا ساتیشہ اپنی ایک ہلکی سی ضرب سے اس پربت کو رائی سے کائی کرے مسمار کر دے گا۔ آن کی آن میں دل کے عقدے اورمن کے بھید ظاہر ہو جائیں گے۔پہیلی کے بول ایسے انمول ہیں جو جیون کا رس بن کر امرت کی صورت کانوں میں ٹپکتے اور دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ ان کی دلکش گونجیں جیون کا روپ دھارتی اور بڑھاتی ہیں۔ دکھتے دلوں کا دار و بنتی ہیں۔ یہ ہماری خانگی اور بیرونی معاشرت اور قومی تہذیب کی سچی تصویریں ہیں شاعری کی روح اور آرٹ کی جان ہیں۔‘‘2
امیر خسرو کی پہیلیوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی سادگی اور مقبولِ عام زبان ہے۔ وہ مشکل یا ثقیل الفاظ کے بجائے عوامی بولی کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ہر طبقے کے لوگ انھیں سمجھ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پہیلیاں دہلی سے لے کر دکن تک اور عوامی محفلوں سے لے کر تعلیمی درسگاہوں تک زبان زدِ خاص و عام رہیں۔ ان میں ایک طرح کی لوک سچائی اور ہندوستانی تہذیبی زندگی کی عکاسی ملتی ہے۔ گویا یہ پہیلیاں صرف ادبی فن پارے نہیں بلکہ اپنے عہد کے معاشرتی و ثقافتی حالات کی جھلک بھی ہیں۔یہ کہنا بجا ہے کہ امیر خسرو کی پہیلیاں اردو عوامی ادب کا بنیادی سرمایہ ہیں۔ ان میں زبان کی شگفتگی، فطری پن اور دلکشی پائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ان کے ذریعے امیر خسرو نے عوام اور خواص کے درمیان ایک فکری و لسانی رشتہ قائم کیا۔ ان پہیلیوں نے زبان کو نہ صرف مٹھاس عطا کی بلکہ ذہنی تفریح اور فکری بالیدگی کا بھی سامان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ پہیلیاں زندہ ہیں اور بچوں سے لے کر بڑوں تک ہر طبقے کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔امیر خسرو کی پہیلیاں محض دل لگی یا ذہنی کھیل نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب و زبان کی آئینہ دار ہیں۔ خسرو نے اپنی تخلیقات میں نہ صرف صوفیانہ رموز و اشارات کو برتا بلکہ عوامی زندگی کے روزمرہ اشیا، مشاغل اور محاورات کو بھی شعری رنگ میں ڈھالا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پہیلیاں آج بھی زبان و بیان کے حسن اور تہذیبی شعور کا گہرا حوالہ ہیں۔ان کی پہیلیوں پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ خسرو نے کس طرح سادہ اور عام فہم اشیا کو رمزیت اور تخیل کے پردے میں چھپا کر ذہنی آزمائش کی صورت پیدا کی۔ مثال کے طور پر، آئینہ، آکھ، انار،بایا کا گھونسلا، کاجل، پتنگ، نعت رسول، جگنو، ڈگڈگی،قینچی جیسی منتخب پہیلیاں ملاحظہ فرمائیں ؎
منتخب پہیلیاں:
ایک ناری پیا کو بھانی
تن وا کو سگرا جوں پانی
آب رکھے پر پانی نا نہہ
پیا کو راکھے ہر دے مانہہ
جب پی کو وہ منہ دکھلاوے
آپ ہی سگری پی ہوجائے
آئینہ3
’ایک ناری پیا کو بھانی، تن وا کو سگرا جوں پانی‘ ان اشعار میں آئینہ کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ خسرو نے شفافیت اور عکس کے کھیل کو اس طرح پیش کیا کہ آئینہ ایک زندہ کردار بن گیا۔ محبوب کا عکس اس میں پڑتا ہے تو گویا وہ پوری طرح اسی کا ہو جاتا ہے۔ یہاں سادہ سی چیز کو دیکھنے کا زاویہ بالکل نیا ہے۔ زبان میں’پیا، پی، پانی‘ کی تکرار اور صوتی ہم آہنگی پہیلی کو نغمہ بنا دیتی ہے۔ فکر کے اعتبار سے یہ پہیلی انسان کو اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ آئینہ دراصل ہماری اپنی شبیہ لوٹاتا ہے، گویا ہم ہی اپنے محبوب کو اپنے اندر دیکھ رہے ہیں ؎
ایک پیڑ ریتی میں ہوئے
بن پانی دئے ہرا وہرہوے
پانی دیے سے وہ جل جائے
آنکھ لگے اندھا ہوجائے
آکھ کی پہیلی3
ریت میں ہرا رہنے والا اور پانی ملتے ہی جل جانے والا پودا۔یہ ہے آکھ۔ اس پہیلی میں فطرت کا باریک مشاہدہ جھلکتا ہے۔ کسانوں اور دیہات کے لوگوں کے تجربے کو خسرو نے شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ آکھ کے دودھیا رس کا نقصان اور آنکھ میں پڑنے پر اندھاپن پیدا کرنا سبھی دیہی زندگی کے علم کا حصہ ہیں۔ اس پہیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خسرو صرف دربار یا خانقاہ کی دنیا تک محدود نہیں تھے بلکہ دیہی فطرت اور اس کے اسرار پر بھی نظر رکھتے تھے۔ زبان کی مٹھاس، جیسے ریتی، بن پانی، جل جائے، ایک موسیقی پیدا کرتی ہے جو پہیلی کو گیت کی صورت دے دیتی ہے ؎
آگ لگے پھولے پھلے سینچت جاوے سوکھ
میں توئے پونچوں اے سکھی پھول کے بھیتر روکھ
انار کی پہیلی(آتش بازی کا)4
’آگ لگے پھولے پھلے، سینچت جاوے سوکھ،یہ انار کی آتش بازی پر مبنی پہیلی ہے۔ یہاں زرعی منطق الٹ دی گئی ہے۔ عام پودا پانی سے تر و تازہ اور آگ سے خشک ہوتا ہے مگر آتش بازی کے انار کو آگ ملے تو وہ کھل اٹھتا ہے اور پانی ملے تو بجھ جاتا ہے۔ یہی تضاد ذہن کو چونکا دیتا ہے۔ خسرو نے چنگاریوں کے بکھرنے کو’پھول کے بھیتر روکھ،یعنی پھول کے اندر درخت قرار دیا، جو سراسر تخیل کا کمال ہے۔ اس میں فکری پہلو یہ ہے کہ ہر شے اپنی حقیقت کے مطابق پھلتی پھولتی ہے، ظاہری منطق سے نہیں ؎
اچرج بنگلا ایک بنایا
اوپر نیو تلے کھر چھایا
بانس نہ بلی بندھن گھنے
کہو خسرو گھر کیسے بنے
بایا کے گھونسلے کی پہیلی5
بایا کا گھونسلا قدرتی انجینئرنگ کی حیرت ہے۔ خسرو نے اس پہیلی میں دکھایا کہ نہ بانس ہے نہ بلی اور نہ کوئی بندھن، مگر گھونسلا اتنا پیچیدہ اور مضبوط ہے کہ انسانی ہنر بھی حیران رہ جائے۔ یہاں فکری رنگ یہ ہے کہ فطرت کا ہر جاندار اپنی بقا کے لیے کمال کی صنعت گری رکھتا ہے۔ لسانی سطح پر’اچرج بنگلا‘جیسا فقرہ گھونسلے کو ایک شاندار محل کی طرح پیش کرتا ہے ؎
آدھ کٹے سے سب کو پالے
مدھ کٹے سے سب کو مارے
انت کٹے سے سب کو میٹھا
خسرو وا کو آنکھوں دیکھا
کاجل کی پہیلی6
’آدھ کٹے سے سب کو پالے، مدھ کٹے سے سب کو مارے‘ اس پہیلی کے مختلف جوابات روایت میں ملتے ہیں۔ آپ کے بیان کے مطابق اس کا جواب کاجل ہے۔ آنکھ کا حوالہ آتے ہی جواب واضح ہو جاتا ہے۔ خسرو نے’آدھ، مدھ، انت‘کی تکرار سے پہیلی کو کھیل بنا دیا ہے۔ یہ پہیلی بتاتی ہے کہ لفظوں کی ترتیب کس طرح معنی بدل دیتی ہے۔ فکری پہلو یہ ہے کہ کاجل ایک ہی وقت میں حسن اور زینت بخش بھی ہے اور نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے، اس طرح یہ انسانی زندگی کی دوہری حقیقت کی علامت بن جاتا ہے ؎
ایک کہانی میں کہوں تو سن لے میرے پوت
بنا پروں وہ اڑ گیا باندھ گلے میں سوت
پتنگ کی پہیلی7
’بنا پروں وہ اڑ گیا، باندھ گلے میں سوت‘ یہ پہیلی پرواز کی ضدی منطق پیش کرتی ہے۔ پر کے بغیر اڑان ممکن نہیں لگتی مگر پتنگ ڈور کے سہارے فضا میں بلند ہو جاتی ہے۔ یہ فکری اشارہ ہے کہ ہر پرواز صرف جسمانی قوت سے نہیں ہوتی بلکہ کوئی اور سہارا بھی درکار ہوتا ہے۔ زبان میں’کہانی،اور’پوت،کے الفاظ اس کو گھریلو رنگ دیتے ہیں، گویا دادا پوتے کو قصہ سنا رہا ہے ؎
ایک پُرکھ ہے دئی سنورا
دنیا کا نستارن ہارا
وا کے چرنوں لاگ رہو
زیادہ بچن نہ منہ سے کہو
نعت کی پہیلی8
’ایک پُرکھ دئی سنورا، دنیا کا نستارن ہارا‘یہ پہیلی سراسر روحانی عقیدت سے لبریز ہے۔ اس کا جواب نعت ہے یا پھر براہ راست حضور اکرمؐ کی ذات۔ یہاں پہیلی کھیل نہیںعقیدت کا بیان بن جاتی ہے۔ خسرو نے اپنے زمانے کی روحانی فضا کو پہیلی کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔ یہ پہیلی بتاتی ہے کہ ان کا فن دنیاوی اور روحانی دونوں جہتوں پر محیط تھا ؎
اپنے سمے سے اک پنچھی آئے
ٹک دیکھے اور پھر چھپ جائے
بوجھ کر اٹھیو قسم ہے تم پر
آگ بنا اجیارا دم پر
جگنو کی پہیلی8
جگنو کی روشنی لمحاتی ہے۔ خسرو نے اس کو اس طرح بیان کیا کہ’اپنے سمے سے آئے، آگ بنا اجیارا دم پر‘۔ اس میں وقت کی پابندی اور روشنی کا لمحہ بھر کا ہونا واضح ہوتا ہے۔ فکری طور پر یہ پہیلی ناپائیداری اور لمحاتی جمال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ زبان کی سادگی اور ’ٹک دیکھے، جیسے الفاظ اس کو لوک گیت کی طرح بنادیتے ہیں ؎
ایک منڈھی جوگی کے ہاتھ
فکر پھریں ہیں بالک ساتھ
کھود بدن پر کاڑھے ہے
اپنے آپ کو مارے ہے
کھود دیہی پر اپنی کھائے
گاوے جوگی منڈھی بجائے
ڈگڈگی کی پہیلی9
جوگی کے ہاتھ میں بجنے والی ڈگڈگی کو خسرو نے نہایت تصویری انداز میں بیان کیا۔’کھود بدن پر کاڑھے ہے، اپنے آپ کو مارے ہے‘جیسی تراکیب کھیل تماشے کا منظر سامنے لے آتی ہیں۔ اس میں فکری پہلو یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی چیز کس طرح مجمع کو محظوظ کرتی ہے۔ لسانی سطح پر’ڈگڈگی،خود ہی ایک صوتی نقل ہے، جو سننے میں بجنے کی آواز پیدا کرتی ہے ؎
اندر چلمن باہر چلمن بیچ کلیجہ دھڑکے
امیر خسرو یوں کہیں وہ دودو انگل سرکے
قینچی کی پہیلی10
’اندر چلمن، باہر چلمن، بیچ کلیجہ دھڑکے‘ یہ پہیلی قینچی کو دو پردوں کی طرح بیان کرتی ہے۔ بیچ میں کلیجہ یعنی جڑ کا ذکر قینچی کے ڈھانچے کو انسانی جسم سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ محض ایک گھریلو آلے کا بیان نہیں بلکہ ایک بصری تصویر ہے جو قاری کے سامنے قینچی کو نیا روپ دے دیتی ہے۔
ان تمام پہیلیوں کو دیکھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خسرو نے عام چیزوں کو غیر معمولی نظر سے دیکھا۔ ان کی زبان میں دہلی کی بولی کی مٹھاس، عوامی محاورے کی برجستگی اور صوتی تکرار کی خوشبو ہے۔ پہیلیاں کبھی کھیل معلوم ہوتی ہیں، کبھی سبق دیتی ہیں اور کبھی روحانی واردات کا پتہ دیتی ہیں۔ لسانی اعتبار سے ان پہیلیوں میں اختصار، محاورہ بندی، تکرار اور صوتی ہم آہنگی نمایاں ہے۔ کہیں استعارہ ہے، کہیں تمثیل ہے اور کہیں تجسیم۔ فکری سطح پر ان میں مشاہدہ، فطرت کا علم، انسانی تجربہ اور روحانی بصیرت سب کچھ جمع ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پہیلیاں صرف کھیل یا مشغلہ نہیں بلکہ لسانی حسن اور فکر کی بلندی کا عمدہ نمونہ ہیں۔

https://www.urducouncil.nic.in/flipbook/viewer/3975

حواشی
.1 عادل اسیر دہلوی، خسرو کی پہیلیاں، دہلی: ملک بک ڈپو، 2009، ص 7-8-
.2 سید یوسف بخاری دہلوی، ہماری پہیلیاں، پاکستان: ایچ،ایم،سعید کمپنی،1978، ص 20-
.3 عادل اسیر دہلوی، خسرو کی پہیلیاں، دہلی: ملک بک ڈپو، 2009، ص 13-
.4 ایضاً، ص 14-
.5 ایضاً، ص 15-
.6 ایضاً، ص 19-
.7 ایضاً، ص 20-
.8 ایضاً، ص 23-
.9 ایضاً، ص 25-
.10 ایضاً، ص 28-
ماخذات
.1 سید یوسف بخاری دہلوی، ہماری پہیلیاں، پاکستان: ایچ،ایم،سعید کمپنی،1978
.2 ڈاکٹر وحید مرزا،امیر خسرو سوانح عمری،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی 2006
.3 گوپی چند نارنگ،امیر خسرو کا ہندوی کلام مع نسخہ برلن ذخیرہ اشپر نگر۔ سنگ میل پبلی کیشنز،: لاہور 2008-
.4 عادل اسیر دہلوی، خسرو کی پہیلیاں، دہلی: ملک بک ڈپو، 2009

S Anwar Hussain (Anwar Hadi Junaidi)
Research Scholar
Dept. of Arabic, Persian & Urdu
Sri Venkateshwara University
Tirupati- (Andhra Pradesh)
Cell: 7013282616
anwar.hadi786@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *