اردو دنیا،نومبر 2025

شمس الرحمن فاروقی نے ادبی دنیا میں نقاد اور جدیدیت کے بنیاد گزار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ افسانے اور ناول کی شکل میں جب ان کی تخلیقات منظر عام پر آئیں تو قارئین اور ناقدین نے یہ تسلیم کیا کہ تنقید نگار فاروقی ایک بہترین تخلیق کار بھی ہیں۔تنقید کی طرح تخلیق میں بھی انھوں نے عام روایت سے ہٹ کر الگ موضوعات و اسالیب کا انتخاب کیا۔ اہل ادب اس امرسے واقف ہیں کہ شمس الرحمن فاروقی کی ادبی زندگی کا آغاز تخلیق سے ہوتا ہے۔ باضابطہ تنقید کی طرف آنے سے قبل، بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں انھوں نے کئی افسانے لکھے جو الہ آباد یونیورسٹی میگزین اور بعض مقامی رسائل میں شائع بھی ہوئے۔ایک ناولٹ ’دلدل سے باہر‘ 1950یا 1951 میں رسالہ ’معیار‘میرٹھ کے چار شماروں میں قسط وار شائع ہوا۔اسی زمانے میں انھوں نے’سرخ آندھی ‘کے نام سے بھی ایک افسانہ لکھا جو سویت روس میں مذہب پر استبداد کے موضوع پر تھا۔ ان کے مربی، غلام مصطفی خان رشیدی نے وہ افسانہ بہت پسند کیااور اردو کے ان کے ایک استاد شمس الآفاق شمس گورکھپوری نے اسے پڑھ کر فرمایا تھا کہ یہ تو کسی بہت بڑے افسانہ نگار کا افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ فاروقی نے افسانہ’ سرخ آندھی‘ کا انگریزی ترجمہ ‘ ‘The Scarlet Tempestکے نام سے کیا جو اس وقت الہ آباد یونیورسٹی کی میگزین میں شائع ہوا۔اس کے متعلق وہ خود تحریر کرتے ہیں:
’’جب میں الہ آباد یونیورسٹی میں ایم اے کے آخری سال میں تھا(1954/55) تو ایک دن میرے جی میں آئی کہ اگر افسانہ ’سرخ آندھی‘اتنا ہی عمدہ ہے جتنا شمس الآفاق صاحب کہتے تھے تو اسے انگریزی میں ترجمہ کرکے یونیورسٹی میگزین میں کیوں نہ دے دوں؟ ایک بات یہ بھی تھی کہ میگزیزین کے ایڈیٹر میرے استاد،کے۔کے ملہوترا صاحب تھے،میں جن کے مداحوں میں تھا۔میں نے جھٹ پٹ ترجمہ کرکے افسانے کا انگریزی عنوان ‘The Scarlet Tempest’ رکھا۔ ٹائپ وغیرہ کرنے کا تو سوال ہی نہ تھا،ہاتھ سے لکھ لکھا کر میں نے افسانہ ان کے حوالے کیااور میری توقع کے بالکل خلاف انھوں نے بھی اسے پسند کیااور اسی عنوان سے چھاپ دیا۔بعد میں مجھے شیکسپیئرکے ایک ڈرامے میں’ ‘CrimsonTempestکا فقرہ نظر آیاتو مجھے افسوس ہوا کہ میں نے یہ عنوان کیوں نہ رکھا۔ بہرحال! اب میرے پاس اس افسانے کا اردو مسودہ ہے نہ انگریزی اور نہ الہ آباد یونیورسٹی میگزین کا وہ شمارہ جس میں ‘The Scarlet Tempest’ چھپا تھا۔‘‘ 1شمس الرحمن فاروقی کی افسانہ نگاری کا یہ دور آغاز تھا۔ اس زمانے میں جوبھی افسانے ان کے قلم سے وجود میں آئے وہ ان سے مطمئن نہیں تھے۔بات دراصل یہ تھی کہ جس طرزکاافسانہ وہ لکھنا چاہ رہے تھے اس کاسرا ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ انھوں نے جب ’شب خون ‘ کا سلسلہ شروع کیا، یعنی تقریباًدو دہائی کے بعد تو وہ ایک بار پھرافسانے کی طرف مائل ہوئے۔اب انھوں نے’ ہند اسلامی تہذیب کی بازیافت‘ کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔شروع میں فرضی ناموں سے کچھ افسانے لکھے اور پھر متواتر کئی اور افسانے منظر عام پر آئے جو مذکورہ موضوع کو محیط تھے۔قارئین کو شک گزراکہ بینی مادھو رسوا، عمر شیخ مرزااور جاوید جمیل جیسے فرضی ناموں کے پیچھے شاید شمس الرحمن فاروقی ہیں کہ اس نوعیت کے افسانے وہی لکھ سکتے ہیں۔2001میںان کے افسانوں کا مجموعہ ’سوار اور دوسرے افسانے ‘جب شائع ہوا تو شک پر یقین کی مہر ثبت ہوگئی کہ ان افسانوں کے خالق فاروقی ہی ہیں۔انھوں نے مذکورہ مجموعہ کے دیباچے میں ان اسرارورموز کی وضاحت کی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان افسانوں کی تخلیق کے کیا محرکات تھے۔
’سوار اور دوسرے افسانے‘کی اشاعت کے بعد ان کے دوناول ’کئی چاند تھے سر آسماں اور قبض زماں‘ منظر عام پر آئے جن میں اول الذکر نے ادبی دنیا میں خاصی ہلچل پیدا کی۔اس کی ادبی قدر وقیمت کیا ہے، یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے لیکن ان ناولوں میں بھی ادبی تاریخ اور ہند اسلامی تہذیب کی بازیافت ہی محور و مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہاںفاروقی کی ناول نگاری پر بات نہ کرکے’سوار اور دوسرے افسانے ‘کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی۔
زیرنظر مضمون میں شمس الرحمن فاروقی کی افسانہ نگاری کا جائزہ ہنداسلامی تہذیب کی روشنی میں لیا جائے گا اس لیے ضروری ہے پہلے یہ جان لیا جائے کہ ’ہند اسلامی تہذیب‘کیا ہے ؟ بقول عمادالحسن آزاد فاروقی ’’1206 میں دہلی سلطنت کے قیام کے ساتھ ہندوستان کے دروازے جس اسلامی تہذیب و تمدن کے استقبال کے لیے کھلے وہ اپنے آپ میں مختلف تہذیبوں کے خمیر اور مختلف الاصل عناصر کی ترکیب سے تیار ہوئی تھی،اس میں عرب کا سوز دروں اور عجم کا حسن دونوں شامل تھا۔ خود ہندوستان میں جس تہذیب سے اس کا ساتھ ہواوہ اس سے کہیں زیادہ قدیم تھی اور اسی نوع کے ارتقائی عمل سے گزر کر اپنی پختہ عمر کو پہنچ چکی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب دونوں تہذیبوں یعنی ہندی اور ایرانی میں اخذ وقبول اور تہذیبی لین دین کا سلسلہ شروع ہوا تو اس مخصوص تمدن کی بنیاد پڑی جو بعد میں ہند ایرانی تہذیب کی صور ت میں اس ملک کے لیے مایہ افتخار بنا۔ سیاسی سطح پر ہندوستان کے مقامی باشندوں کا بیرونی حکومت کے ساتھ اشتراک و تعاون بعد کی سماجی، ادبی، علمی وفنی زندگی میں دونوں قوموں کے ایک دوسرے کے اثرات قبول کرنے اور ایک ملی جلی تہذیب کے فروغ دینے کی تمہید تھی۔ ایرانی تہذیب کے ہمہ جہتی بنائو میں دونوں تہذیبوں کے ملاپ سے ہندوستان میں جو تمدنی ترقی ہورہی تھی،اس میں اس تمدنی رنگا رنگی کے علاوہ تہذیبوں کے اس سنگم سے فنون لطیفہ کو جیسا فروغ اور فن کی جیسی بلندیاں حاصل ہوئیں وہ تہذیب و تمدن کے کسی اور گو شے کے حصے میں نہیںآئیں۔‘‘2
شمس الرحمن فاروقی اٹھارہویں اور انیسویں صدی کو ہند ایرانی تہذیب کا زریں باب سمجھتے ہیں۔اس عہد میں فارسی، اردو، تصوف، ادب، موسیقی، فنون حرب و ضرب اور علوم عقلیہ ونقلیہ کا جو فروغ ہوا ہے اس کی مثال پہلے ملتی ہے اور نہ بعد میں۔اس دور کی دِلّی کو محض بد امنی، طوائف الملوکی، زوال اور انتشار کا استعارہ سمجھاجاتا ہے مگرفاروقی اس سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ان کا خیال ہے کہ اردو کی ادبی تہذیب صحیح معنوں میں اپنا رنگ اور طور طریق محمد شاہ، احمد شاہ اور پھر شاہ عالم ثانی کے زمانے میں حاصل کرتی ہے۔سیاسی قوت اس شہر کی بھلے ہی زوال کا شکار ہو گئی ہو لیکن اس کی تہذیب زوال آمادہ اور انحطاط آلود نہ تھی اور کئی بار اجڑنے کے بعد بھی دِلّی کی گلیوں میں اس زمانے کی حسین ترین رقاصائیں ناچتی تھیں۔دِلّی کا چھوٹا سا نمونہ آصف الدولہ کے وقت سے لے کر واجد علی شاہ کا لکھنؤتھا۔اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ وہ صدی ادبی اور تہذیبی زوال کی صدی تھی۔شمس الرحمن فاروقی نے اپنے افسانوں کے توسط سے اس مخصوص عہد کی تہذیب و ثقافت اور زبان و اسلوب کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔ان کے افسانوں میں بطور خاص اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی پوری ادبی تاریخ اور تہذیب جلوہ گر نظر آتی ہے جسے فاروقی ہند ایرانی تہذیب سے موسوم کرتے ہیں۔ادبی تایخ اور سماجی ثقافت کے باقیات کی بازیافت ا ن کے افسانوں کا مرکزی نقطہ ہے۔
شمس الرحمن فاروقی کی افسانہ نگاری کے متعلق یہ سوالات بھی قائم کیے گئے کہ علامتی اور تجریدی اسلوب کی حوصلہ افزائی کرنے والے جدیدیت کے نقیب نے بھی بیانیہ اسلوب کا ہی سہارا لیا اور کلاسیکیت میں ہی پناہ لینی پڑی۔ ایسا کیوں؟ فاروقی کے یہاں اس کی توجیہہ یہ ملتی ہے کہ افسانے کا کوئی ایک متعینہ اسلوب نہیں ہے کہ اسی پر اصرار کیا جائے۔افسانہ نگار کو آزادی ہونی چاہیے۔ ایسا نہیں کہ جو نمونہ پریم چند اور سعادت حسن منٹو نے بنادیا اسی کے پابند ہوکر رہ جائیں۔کئی طرح کے اسلوب ہیں، بس افسانہ نگار کو انھیں استعمال کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ہر موضوع کو ایک ہی ہئیت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔موضوع کے اعتبار سے اسلوب میں تبدیلی کوئی عیب نہیں ہے۔ فاروقی اپنے بیانیہ کے ذریعے جس ہند ایرانی تہذیب کی بازیافت کی سعی کررہے ہیں اور عہد ماضی کو اس کے تمام حقیقی رنگوں کے ساتھ دکھانا چاہ رہے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ تجریدی اور علامتی افسانے اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔اس حوالے سے وہ ر قم طر از ہیں:
’’میں اس تہذیب کے بارے میں لکھ رہا ہوں جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے وہ ہے ہی نہیں، اکثر لوگوں کے خیال میں وہ کبھی تھی ہی نہیں، اس کو میں کسی صورت سامنے لانا چاہتا ہوں۔بتا رہا ہوں کہ وہ تہذیب اس طرح سے تھی، لوگوں کی داخلی زندگی تھی، وہ عقل و شعور رکھتے تھے، عشق کے بارے میں ان کے تصورات تھے، یہ نہیں کہ ہمارا کوئی ماضی ہی نہیں تھا۔ہم بالکل جاہل، اجڈاور غیر ترقی یافتہ تھے۔ہم نے تو دنیا دیکھی نہیں تھی، جب نیا زمانہ آیا تو ہماری آنکھ کھلی۔میں نے بتایا کہ نہیں، ہماری بھی ایک زندہ تہذیب تھی۔اگر ان باتوں کے لیے انور سجاد یا سریندر پرکاش کا اسلوب اختیار کروں تو سامنے ہی کچھ نہیں آئے گا۔وہ جس تہذیب کے افسانے ہیں وہ اپنی جگہ درست اور معتبر اور میں جس تہذیب کے بارے میں لکھ رہا ہوں وہ بھی درست اور معتبر لیکن فرق یہ ہے کہ وہ تہذیب زندہ ہے اور میں جس تہذیب پر لکھ رہا ہوں وہ زندہ نہیں ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں اس کا کوئی نقش نہیں ہے۔‘‘3
شمس الرحمن فاروقی جہاں ہند ایرانی تہذیب کو فکشن کے بیانیہ میں بڑی خوبی کے ساتھ سمیٹتے ہوئے نظر آتے وہیں فن کی اس باریکی کا خیال بھی رکھتے ہیں کہ طبع زاد فکشن کے برعکس تاریخی فکشن میں تخیل کو بے لگام نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ بیانیہ تاریخ کے علم کے تابع رہے۔اس لیے وہ تخیل کو حسب ضرورت بروئے کار لاتے ہیں۔ فاروقی کی اس فنکاری کے متعلق معروف ناول نگار رحمن عباس لکھتے ہیں:
’’فاروقی کے افسانوی تخیل نے ادبی ثقافت کے ٹھوس اور جامد حقائق کو تاریخی مآخذات کی چھان بین کے ساتھ فارسی وعربی الفاظ کی سحر کاری اور اس کے متصوفانہ رجحانات وسیاسی اتار چڑھائو کے سہارے بیان کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس ادبی ثقافتی تاریخ کے لسانی اسالیب اور عربی وفارسی آمیز اردو سے تو بے شمار لوگ واقف تھے اور ان پر علیحدہ کا م بھی کیے گئے مگر تخلیقی شعور کے تجزیے اور ثقافتی تاریخ کوفکشن کے روپ میں اس جامعیت سے پہلے پیش نہیں کیا گیا تھا۔‘‘4
سوار اور دوسرے افسانے میں اردو ادب کے معروف شعرا مرزا غالب، غلام ہمدانی مصحفی، میر تقی میر اور علامہ اقبال زندہ کردار کی صورت میں نظر آتے ہیں اور ہم ان کرداروں کے سہارے اس عہد کی ادبی، تہذیبی اور تاریخی صورتحال سے روبرو ہوتے ہیں۔ زمان و مکان اور زبان و اسلوب میں جو ہم آہنگی ہے اس نے بیانیہ کو دلکش اور موثر کن بنادیا ہے۔دوران قرأت یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اسی عہد میں جی رہے ہیں۔ وہی لوگ، وہی زبان اور وہی لب و لہجہ۔فاروقی نے فارسی آمیز اردو اور اس عہد زریں کے اسلوب ولہجے کو اپنے فکشن میں حیات نوعطا کردی ہے۔ان کے افسانوں کے تمام کردار اپنے عہد کی قابل رشک تہذیب کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ان کا طرز گفتگو، نشست و برخاست، رہن سہن، وضع قطع اور لباس و پوشاک ہر ایک شے میں ان کی تہذیبی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ یہاں صرف دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
’’شام ڈھلنے کے ذرا پہلے میں نے لباس تبدیل کیا۔ مچھلی کے چھلکوں کی ٹوپی سر پر جمائی اس پر رنگین پگڑی باندھی، کانوں میں موتی کے بالے ڈالے، ریشمی دھوتی کے نیچے پاؤں میں بانے پہنے، جودھپوری جوتیاں پہنی۔ پھر ساز سینگڑا لگا کر اپنے دادا مرحوم کی بنائی ہوئی لمچھڑ کاندھے سے لٹکائی۔میں اپنے قریبی قصبہ مبارک پور سے مرزا صاحب قبلہ کے لیے دو ریشمی لنگیاں اور دو ہی ریشمی پگڑیاں بطور خاص بنوا لایا تھا۔میرے وطن نظام آباد کی مٹی کے کچھ برتن، مثلا چلمیں اور فرشیاں بھی تھیں۔ ان کو خوان پر رکھوایا، اسی پر کتاب بھی رکھ کر سائیس کے حوالے کیں۔مشالچی کو آگے کیا اور خود گھوڑے پر سوار ہو کر چلا۔‘‘5
’’میرے لیے تو آپ مسیحائے شوق ہیں اور آپ کا بلاوا جنبش داماں ہے جس نے میری خاکستر کو پھر سے روشن کردیا۔ بندہ آپ کی کرم گستری کے لیے دل سے ثنا خواں ہے۔
خوب! انشاء اللہ بشرط وفاداری تم ہمیں بھی اپنا پشتی بان پاؤگے۔کہو ادھر کچھ کہا؟ جی چاہے تو سناؤ۔
عالی جاہا! اس دربار میں طلبی کے انبساط نے کل رات دل گرفتہ کو وا کردیا تو یہ رباعی موزوں ہوئی۔پھر میر نے انوکھے، سادہ اور دلکش انداز میں، کچھ متبسم لبوں کے ساتھ رباعی پڑھی۔‘‘6
فاروقی نے منظر کشی اور مکالمہ نگاری میں بھی فنکاری کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ گذری ہوئی دو صدیاں پورے رنگ و روپ کے ساتھ قاری کے سامنے جلوہ گر ہوتی ہیں۔افسانہ ’غالب‘ میں، غالب کا سراپا اور ان کے فکر وفن کو کلاسیکی زبان و بیان اور فکشن کے اسلوب میں اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسے جسد غالب میں روح پھونک دی گئی ہو۔افسانے میں جہاں اس عہد کی ادبی تہذیب اور سیاسی ماحول کی منظر کشی کی گئی ہے وہیں غالب کے ساتھ بینی مادھو رسوا کا کردار اس عہد کی ثقافتی ہم آہنگی کو بھی پیش کرتا ہے۔بینی مادھو کے بجائے یہاں کوئی مسلم کردار ہوتا تو شاید ثقافتی یکجہتی کی تصویر اتنی نمایاں نہیں ہوتی۔یہ رنگ ’آفتاب زمیں‘ میں بھی نظر آتا ہے جہاں مصحفی کے ساتھ بھورا بیگم اور درباری مل وفا جیسے حقیقی کردار پیش کیے گئے ہیں جو مشترکہ تہذیب کی علامت ہیں اور اس عہد کے ادبی اقدار وروایات کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بدھ سنگھ قلندر اور رائے کشن چند اخلاص جیسے کرداروں کی پیشکش کے ذریعے ہندوستان کے معاشرتی، لسانی اور تہذیبی میل جول کی عکاسی بڑے فنکارانہ انداز میں کی گئی ہے۔
’’سارا شہر ہلکے پستئی زردرنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔کیا ہندو کیا مسلمان،بسنت کا ذوق سب کو تھا۔سلطان جی کی بارگاہ پر بسنتی کپڑے پہنے عورتوں مردوں کے جھنڈ شام وسحر نظر آتے تھے۔پہلے مسلمانوں کو اس موسم اور اس کے میلوں سے رغبت نہ تھی۔لیکن حضرت سلطان جی اور امیر خسرو کا تعلق بسنت کے تہوار سے قائم ہواتو چیت کے مہینے کا وسط ہوتے ہوتے دہلی کے سارے مسلمان بسنتی رنگ میں رنگ جاتے تھے۔چاند رات ہی سے بسنت چڑھانے کی تقاریب کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔‘‘7
افسانہ ’غالب‘،’سوار‘، ’ان صحبتوں میں آخر‘ اور ’آفتاب زمیں‘ میں پوری دِلّی اور کسی قدر لکھنؤ پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے۔غالب، میر، مصحفی اور خود شہر دِلّی اس کے حقیقی اور مرکزی کردار ہیں۔ ان افسانوں کے حوالے سے فاروقی کہتے ہیں:
’’ دِلّی کا حق تھوڑا بہت ادا کرنے کے لیے میں نے پہلے میر کے بارے میں افسانہ نہیں لکھا، بلکہ’ سوار‘ لکھا۔میرے اپنے حساب سے اس افسانے کا مرکزی کردار خود شہر دہلی ہے جس کے بغیر نہ وہ پراسرار سوار ہوتا، نہ بدھ سنگھ قلندر، نہ عصمت جہاں اور نہ افسانے کا راوی مولوی خیر الدین۔ان سب کی شخصیتیں دِلّی کی شخصیت کا ذرا ذرا سا ٹکڑا ہیں۔پھر’ سوار‘ کے بعد مجھے ’ان صحبتوں میں آخر‘ لکھنا ہی تھا اور وہاں بھی جیسا کہ بہت سے پڑھنے والوں نے محسوس کیا صرف میر نہیں ہیں۔ اس کے بعد ’آفتاب زمیں ‘آتا ہے جس میں دہلی کی جھلک بھی ہے اور دہلی کی اولاد معنوی یا اس کے جانشین کے طور پر لکھنؤ دھیرے دھیرے خود کو قائم کر رہا ہے۔ لیکن اس کے لیے شجاع الدولہ اور سعادت علی خان کا خون گرم برق خرمن بن گیا۔اس کی طرف کچھ اشارے غالب افسانہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔‘‘8
’لاہور کا ایک واقعہ‘ یہ افسانہ دیگر تمام افسانوں سے اسلوب اور موضوع ہر لحاظ سے مختلف ہے۔گوکہ اس میں ہند ایرانی تہذیب کی وہ فضا نہیں پائی جاتی مگر بدلتی ہوئی تہذیبی صورتحال اور بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے ادبی ماحول کو تخلیقی مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس افسانے میں وجودی اور علامتی رنگ جھلکتا ہے جو جدیدیت کے اہم عناصر ہیں۔ افسانے کے مرکزی کردار کا علامہ اقبال سے ملاقات کے لیے جانا، کچھ شریر لڑکوں کا راستہ روکنا، گاڑی کا اسٹارٹ نہ ہونا، ملگجی قمیض والے کا پستول دکھانا اور راوی کا گھر میں چھپنا، کسی سیاہ چیز کے کمرے میں داخل ہونے پر خواتین کا بے ہوش ہونا اور آخر میں اپنی کار چھوڑ کر تانگہ سے واپس شہر لوٹنا۔یہ انسان کی اپنی شناخت کے چھن جانے کی طرف اشارہ ہے اور اپنے وجود کے تحفظ کی فکر کو بھی نمایاں کرتا ہے۔یہ افسانہ ایک خواب پر مبنی ہے جو مصنف نے دیکھا اور اس میں بغیر کسی حذف و اضافے کے مگر ایک انجام متصور کرکے فکشن کے قالب میں ڈھال دیا۔فاروقی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ’ لاہور کا ایک واقعہ‘ ، ’افسانہ غالب‘ کی طرح کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ دیگر افسانوں کے بالمقابل اس میں ادبی تاریخ اور ہند ایرانی تہذیب کی گونج مدھم تھی مگر یہ افسانہ بھی اسی ادبی اور تہذیبی سلسلے سے مربوط ہے۔
افسانوں کی ترتیب میں بھی مصنف کا تنقیدی اور تحقیقی ذہن کارفرما نظر آتا ہے۔شب خون میں اشاعت کی ترتیب کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو پہلے افسانہ غالب، لاہور کا ایک واقعہ، سوار، ان صحبتوں میں آخر اور پھر آفتاب زمیں ہونا چاہیے۔زمانی اعتبار سے (ماضی سے حال) اگر ترتیب دیا جائے تو درست ترتیب یہ ہوگی۔ سوار، ان صحبتوں میں آخر، آفتاب زمیں، افسانہ غالب اور لاہور کا ایک واقعہ۔مگر مجموعے میں اس ترتیب کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ پہلے ’افسانہ غالب ‘میں ادبی تہذیب کے اس زمانے کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو زوال پذیر ہے۔’سوار‘ اور’ ان صحبتوں میں آخر‘ کے ذریعے اس عہد زریں کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں جب شہر دِلّی میں ہند ایرانی تہذیب پورے شباب پر تھی۔’آفتاب زمیں ‘میں دِلّی کے ساتھ لکھنؤ کی ادبی اور تہذیبی فضا کو پیش کیا گیا ہے اور لاہور کا ایک واقعہ، اس میں تہذیبی رنگ قدرے مختلف ہے کیونکہ اب اقدار و روایات تبدیل ہورہے ہیں۔ نو آبادیاتی نظام کا دائرہ کار بڑھ رہا ہے اور پرانی تہذیبیں اپنی شناخت کھو رہی ہیں۔شاید اس وجہ سے اس افسانہ کو آخر میں جگہ ملی ہے۔فکشن میں تاریخی اور تہذیبی بیانیہ کو پیش کرنے کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ اس ضمن میں شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’’میں کئی برس سے اردو کی قدیم ادبی تاریخ اور تہذیب پر بیک وقت اردو اور انگریزی میں کتاب لکھ رہا تھا۔مجھے اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ ہماری پرانی ادبی تہذیب ہمارے حافظے اور علم سے تقریبا غائب ہو چکی ہے۔اگر یہ وقت کی سطح کے نیچے اتر کر ڈوب گئی تو ہمارا نقصان عظیم ہوگا اور اس کی بازیافت تو خیر ممکن ہی نہ ہوگی۔جن تہذیبوں کا ماضی نہیں ان کا مستقبل بھی نہیں۔اردو ادب و تہذیب کو فراموش کر دینے، اسے پائے اعتبار سے ساقط تصور کرنے یا ساقط قرار دلوانے کی جو کوشش ملک میں جگہ جگہ ہو رہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ اور بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے تاریخی حافظے کو زندہ رکھیں اور اپنی ادبی تہذیب کو جاندار، قائم رہنے والی اور آج بھی بامعنی حقیقت کے طور پر پیش کریں۔‘‘9
فاروقی نے ہر افسانے کے آغاز سے قبل جو اشعار یا مغربی دانشوروں کے جو اقوال نقل کیے ہیں وہ نہ صرف افسانے سے گہرا ربط رکھتے ہیں بلکہ معنوی سطح پر بھی بیانیہ کی وسعت میں اضافہ کرتے ہیں۔انھوں نے اسلوب کا وہ رنگ اختیار کیا ہے کہ مجموعے کا ہر افسانہ اپنے پچھلے افسانے، بیان اور معنویت کا تسلسل معلوم ہوتا ہے جہاں تاریخ اور تہذیب گلے ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فاروقی کا اسلوب ایسا ہے کہ ان کے افسانوں میں صرف کرداروں سے ہی نہیں بلکہ شہر کے گلی کوچوں سے بھی تہذیبی نقوش ابھرتے ہیں۔انھوں نے ہند ایرانی تہذیب کو مکمل جزئیات کے ساتھ اپنے افسانوں میں سمو دیا ہے۔یہ شمس الرحمن فاروقی کا ناقابل فراموش تخلیقی کارنامہ ہے۔
https://www.urducouncil.nic.in/flipbook/viewer/3975
حوالہ جات
.1 شمس الرحمن فاروقی:سوار اور دوسرے افسانے، عرشیہ پبلی کیشنز،نئی دہلی 2022، ص16
.2 ہند اسلامی تہذیب کا ارتقا،مرتب،عمادالحسن آزاد فاروقی،مکتبہ جامعہ نئی دہلی1985، ص5
.3 وہ جو چاند تھا سر آسماں، مرتبین،اشعرنجمی ورضوان الدین فاروقی،اثبات پبلی کیشنز،ممبئی 2024، ص 270
.4 اردو چینل،شمس الرحمن فاروقی نمبر،مدیران،عبید اعظم اعظمی، قمر صدیقی،ستمبرتا دسمبر 2003، ص161
.5 افسانہ غالب،شمس الرحمن فاروقی،افسانوی مجموعہ، سوار اور دوسرے افسانے،عرشیہ پبلی کیشنز،نئی دہلی 2022،ص52
.6 افسانہ،ان صحبتوں میں آخر،ص208
.7 افسانہ،سوار،ص122
.8 شمس الرحمن فاروقی،سوار اور دوسرے افسانے، عرشیہ پبلی کیشنز،نئی دہلی 2022، ص32
.9 ایضاً،ص 23
Md Arshad
Research Scholar,Department of Urdu
Maulana Azad National Urdu University
Gachibowli
Hyderabad – 500032 (Telangana)
Mob: 9536236908
mdarshad01995@gmail.com