
نئی دہلی: عالمی کتاب میلے کے پانچویں دن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے اسٹال پر دو اہم ادبی مذاکرے منعقد ہوئے۔ دونوں مذاکروں میں اہلِ علم و دانش نے شرکت کی اور موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی خیالات کا اظہار کیا۔ پہلا مذاکرہ ‘کتاب میلوں کی علمی و ثقافتی اہمیت’ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈاکٹر حفیظ الرحمن، جناب وجیہ الدین اور ڈاکٹر سفینہ بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض عذرا انجم نے انجام دیے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتاب میلوں میں مختلف موضوعات پر بیش قیمت اور اہم کتابیں ایک ہی جگہ دستیاب ہوتی ہیں۔ اگر کوئی قاری کتاب نہ بھی خریدے تو کم از کم اسے دیکھنے اور چھونے کا موقع ضرور ملتا ہے، جو کتاب سے ربط قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج مختلف شہروں میں کتاب میلے منعقد ہو رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگوں میں آج بھی کتاب سے محبت باقی ہے۔ انھوں نے مصنوعی ذہانت (AI) پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے ممکنہ خطرات اور نقصانات کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نوجوان سہل پسندی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنی تہذیب، ثقافت اور ادبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر غور کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کتاب کبھی بھی مطبوعہ کتاب کا مکمل نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کے مذاکروں سے آگے بڑھنے اور عملی اقدام کی ترغیب ملتی ہے۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ کتاب میلوں کی علمی و تعلیمی اہمیت مسلم ہے۔ یہاں ادب، مذہب، سائنس، ٹیکنالوجی اور بچوں کے ادب سے متعلق اہم کتابیں بآسانی دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ایک ہی جگہ اتنی متنوع اور معیاری کتابوں کا مل جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مطالعہ انسان کی فکری صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ عالمی کتاب میلوں میں بین الاقوامی اسٹالز بھی ہوتے ہیں، جہاں دنیا بھر کے موضوعات پر لکھی گئی کتابیں دستیاب ہوتی ہیں۔ جناب وجیہ الدین نے کہا کہ ٹیکنالوجی اگر مثبت انداز میں استعمال کی جائے تو بے حد فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے منفی استعمال نے نوجوانوں کو کتابوں سے دور کر دیا ہے۔ انھوں نے گھروں میں ذاتی لائبریری قائم کرنے اور بچوں کے لیے الگ گوشہ مخصوص کرنے کی تلقین کی، تاکہ بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہو۔ انھوں نے کہا کہ اے آئی ایک کہانی تو لکھ سکتی ہے، لیکن اس میں وہ روح اور جذبہ نہیں ڈال سکتی جو ایک تخلیق کار اپنی محنت اور احساس سے پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر سفینہ نے کہا کہ کتاب میلے میں لوگ عموماً دو وجوہات سے کتابیں خریدتے ہیں، ایک ضرورت کے تحت اور دوسرے شوقیہ۔ مختلف اسٹالز پر گھومتے ہوئے قاری کو کبھی کبھار ایسی نایاب اور معیاری کتابیں بھی مل جاتی ہیں جو اس کی علمی تشنگی کو دور کرتی ہیں۔

دوسرا مذاکرہ ‘ادبِ اطفال کی تخلیق: مسائل اور امکانات’ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں جناب فیروز بخت احمد، جناب انیس اعظمی اور جناب طٰہٰ نسیم بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض محترمہ نہاں نے انجام دیے۔ جناب فیروز بخت احمد نے کہا کہ ادب کو آگے بڑھانے کے لیے اس کی جڑوں کو مضبوط کرنا بے حد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ادبِ اطفال کی صورتِ حال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اگرچہ ماضی کی کہانیاں آج کے بچوں کے ذہنی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں رہیں، اس کے باوجود ان ادبی سرمایوں کو زندہ اور محفوظ رکھنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہی کہانیاں ہماری تہذیبی اور لسانی شناخت کی بنیاد ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو زبان مر نہیں رہی بلکہ مسلسل پنپ رہی ہے، تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قارئین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے جدید اسلوب اور عصری موضوعات کے ساتھ معیاری ادب تخلیق کیا جانا چاہیے تاکہ مطالعے کا ذوق فروغ پا سکے اور اردو زبان و ادب کا مستقبل مزید مستحکم ہو۔ انیس اعظمی نے کہا کہ ادبِ اطفال بچوں کو پڑھنے، لکھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اردو کتابیں اور رسائل پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ ان کی ذہنی نشوونما بہتر ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ گھریلو سطح پر اردو زبان کے استعمال سے بچے اپنی زبان اور تہذیب سے واقف ہو سکتے ہیں۔طٰہٰ نسیم نے کہا کہ ادبِ اطفال کی مانگ آج بھی برقرار ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بچوں کے ادب میں سائنسی اور جدید موضوعات کو شامل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کی کتابوں کو رنگین کاغذ، خوب صورت طباعت اور دلکش تصاویر سے مزین کیا جائے تو بچے خود بخود ان کی طرف راغب ہوں گے-
اردو زبان و ادب کی ترویج اور ترقی میں ایک اہم قدم کتابی میلہ بھی ہے